| 111.
وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ
الْمَلَآئِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَى وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ
شَيْءٍ قُبُلاً مَّا كَانُواْ لِيُؤْمِنُواْ إِلاَّ أَن يَشَاءَ اللّهُ
وَلَـكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَO |
| 111. اور
اگر ہم ان کی طرف فرشتے اتار دیتے اور ان سے مُردے باتیں کرنے لگتے اور ہم
ان پر ہر چیز (آنکھوں کے سامنے) گروہ در گروہ جمع کر دیتے وہ تب بھی ایمان
نہ لاتے سوائے اس کے جو اﷲ چاہتا اور ان میں سے اکثر لوگ جہالت سے کام لیتے
ہیںo |
| 112.
وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا
شَيَاطِينَ الْإِنسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ زُخْرُفَ
الْقَوْلِ غُرُورًا وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَمَا
يَفْتَرُونَO |
| 112. اور
اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لئے انسانوں اور جِنّوں میں سے شیطانوں کو دشمن
بنا دیا جو ایک دوسرے کے دل میں ملمع کی ہوئی (چکنی چپڑی) باتیں (وسوسہ کے
طور پر) دھوکہ دینے کے لئے ڈالتے رہتے ہیں، اور اگر آپ کا ربّ (انہیں جبراً
روکنا) چاہتا (تو) وہ ایسا نہ کر پاتے، سو آپ انہیں (بھی) چھوڑ دیں اور جو
کچھ وہ بہتان باندھ رہے ہیں (اسے بھی)o |
| 113.
وَلِتَصْغَى إِلَيْهِ أَفْئِدَةُ الَّذِينَ لاَ
يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ وَلِيَرْضَوْهُ وَلِيَقْتَرِفُواْ مَا هُم
مُّقْتَرِفُونَO |
| 113. اور
(یہ) اس لئے کہ ان لوگوں کے دل اس (فریب) کی طرف مائل ہو جائیں جو آخرت پر
ایمان نہیں رکھتے اور (یہ) کہ وہ اسے پسند کرنے لگیں اور (یہ بھی) کہ وہ
(انہی اعمالِ بد کا) ارتکاب کرنے لگیں جن کے وہ خود (مرتکب) ہو رہے ہیںo |
| 114.
أَفَغَيْرَ اللّهِ أَبْتَغِي حَكَمًا وَهُوَ
الَّذِي أَنْزَلَ إِلَيْكُمُ الْكِتَابَ مُفَصَّلاً وَالَّذِينَ
آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْلَمُونَ أَنَّهُ مُنَزَّلٌ مِّن رَّبِّكَ
بِالْحَقِّ فَلاَ تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَO |
| 114. (فرما
دیجئے:) کیا میں اﷲ کے سوا کسی اور کو حاکم (و فیصل) تلاش کروں حالانکہ وہ
(اﷲ) ہی ہے جس نے تمہاری طرف مفصّل (یعنی واضح لائحہ عمل پر مشتمل) کتاب
نازل فرمائی ہے، اور وہ لوگ جن کو ہم نے (پہلے) کتاب دی تھی (دل سے) جانتے
ہیں کہ یہ (قرآن) آپ کے رب کی طرف سے (مبنی) برحق اتارا ہوا ہے پس آپ (ان
اہلِ کتاب کی نسبت) شک کرنے والوں میں نہ ہوں (کہ یہ لوگ قرآن کا وحی ہونا
جانتے ہیں یا نہیں)o |
| 115.
وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلاً
لاَّ مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُO |
| 115. اور
آپ کے رب کی بات سچائی اور عدل کی رُو سے پوری ہو چکی، اس کی باتوں کو کوئی
بدلنے والا نہیں، اور وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہےo |
| 116.
وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الْأَرْضِ
يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللّهِ إِن يَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَإِنْ
هُمْ إِلاَّ يَخْرُصُونَO |
| 116. اور
اگر تو زمین میں (موجود) لوگوں کی اکثریت کا کہنا مان لے تو وہ تجھے اﷲ کی
راہ سے بھٹکا دیں گے۔ وہ (حق و یقین کی بجائے) صرف وہم و گمان کی پیروی
کرتے ہیں اور محض غلط قیاس آرائی (اور دروغ گوئی) کرتے رہتے ہیںo |
| 117.
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ مَن يَضِلُّ عَن
سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَO |
| 117. بیشک
آپ کا رب ہی اسے خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکا ہے اور وہی ہدایت یافتہ
لوگوں سے (بھی) خوب واقف ہےo |
| 118.
فَكُلُواْ مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّهِ عَلَيْهِ
إِن كُنتُمْ بِآيَاتِهِ مُؤْمِنِينَO |
| 118. سو تم
اس (ذبیحہ) سے کھایا کرو جس پر (ذبح کے وقت) اﷲ کا نام لیا گیا ہو اگر تم
اس کی آیتوں پر ایمان رکھنے والے ہوo |
| 119.
وَمَا لَكُمْ أَلاَّ تَأْكُلُواْ مِمَّا ذُكِرَ
اسْمُ اللّهِ عَلَيْهِ وَقَدْ فَصَّلَ لَكُم مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ
إِلاَّ مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ وَإِنَّ كَثِيرًا لَّيُضِلُّونَ
بِأَهْوَائِهِم بِغَيْرِ عِلْمٍ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ
بِالْمُعْتَدِينَO |
| 119. اور
تمہیں کیا ہے کہ تم اس (ذبیحہ) سے نہیں کھاتے جس پر (ذبح کے وقت) اﷲ کا نام
لیا گیا ہے (تم ان حلال جانوروں کو بلاوجہ حرام ٹھہراتے ہو)؟ حالانکہ اس نے
تمہارے لئے ان (تمام) چیزوں کو تفصیلاً بیان کر دیا ہے جو اس نے تم پر حرام
کی ہیں، سوائے اس (صورت) کے کہ تم (محض جان بچانے کے لئے) ان (کے بقدرِ
حاجت کھانے) کی طرف انتہائی مجبور ہو جاؤ (سو اب تم اپنی طرف سے اور چیزوں
کو مزید حرام نہ ٹھہرایا کرو)۔ بیشک بہت سے لوگ بغیر (پختہ) علم کے اپنی
خواہشات (اور من گھڑت تصورات) کے ذریعے (لوگوں کو) بہکاتے رہتے ہیں، اور
یقینا آپ کا ربّ حد سے تجاوز کرنے والوں کو خوب جانتا ہےo |
| 120.
وَذَرُواْ ظَاهِرَ الْإِثْمِ وَبَاطِنَهُ إِنَّ
الَّذِينَ يَكْسِبُونَ الْإِثْمَ سَيُجْزَوْنَ بِمَا كَانُواْ
يَقْتَرِفُونَO |
| 120. اور
تم ظاہری اور باطنی (یعنی آشکار و پنہاں دونوں قسم کے) گناہ چھوڑ دو۔ بیشک
جو لوگ گناہ کما رہے ہیں انہیں عنقریب سزا دی جائے گی ان (اَعمالِ بد) کے
باعث جن کا وہ ارتکاب کرتے تھےo |
| 121.
وَلاَ تَأْكُلُواْ مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ
اللّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ
إِلَى أَوْلِيَآئِهِمْ لِيُجَادِلُوكُمْ وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ
لَمُشْرِكُونَO |
| 121. اور
تم اس (جانور کے گوشت) سے نہ کھایا کرو جس پر (ذبح کے وقت) اﷲ کا نام نہ
لیا گیا ہو اور بیشک وہ (گوشت کھانا) گناہ ہے، اور بیشک شیاطین اپنے دوستوں
کے دلوں میں (وسوسے) ڈالتے رہتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم
ان کے کہنے پر چل پڑے (تو) تم بھی مشرک ہو جاؤ گےo |
| 122.
أَوَ مَن كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ
وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَن مَّثَلُهُ فِي
الظُّلُمَاتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا كَذَلِكَ زُيِّنَ لِلْكَافِرِينَ
مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَO |
| 122. بھلا
وہ شخص جو مُردہ (یعنی ایمان سے محروم) تھا پھر ہم نے اسے (ہدایت کی بدولت)
زندہ کیا اور ہم نے اس کے لئے (ایمان و معرفت کا) نور پیدا فرما دیا (اب)
وہ اس کے ذریعے (بقیہ) لوگوں میں (بھی روشنی پھیلانے کے لئے) چلتا ہے اس
شخص کی مانند ہو سکتا ہے جس کا حال یہ ہو کہ (وہ جہالت اور گمراہی کے)
اندھیروں میں (اس طرح گھِرا) پڑا ہے کہ اس سے نکل ہی نہیں سکتا۔ اسی طرح
کافروں کے لئے ان کے وہ اعمال (ان کی نظروں میں) خوش نما دکھائے جاتے ہیں
جو وہ انجام دیتے رہتے ہیںo |
| 123.
وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا فِي كُلِّ قَرْيَةٍ
أَكَابِرَ مُجْرِمِيهَا لِيَمْكُرُواْ فِيهَا وَمَا يَمْكُرُونَ إِلاَّ
بِأَنفُسِهِمْ وَمَا يَشْعُرُونَO |
| 123. اور
اسی طرح ہم نے ہر بستی میں وڈیروں (اور رئیسوں) کو وہاں کے جرائم کا سرغنہ
بنایا تاکہ وہ اس (بستی) میں مکاریاں کریں، اور وہ (حقیقت میں) اپنی جانوں
کے سوا کسی (اور) سے فریب نہیں کر رہے اور وہ (اس کے انجامِ بد کا) شعور
نہیں رکھتےo |
| 124.
وَإِذَا جَاءَتْهُمْ آيَةٌ قَالُواْ لَن
نُّؤْمِنَ حَتَّى نُؤْتَى مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللّهِ اللّهُ
أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ سَيُصِيبُ الَّذِينَ أَجْرَمُواْ
صَغَارٌ عِندَ اللّهِ وَعَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا كَانُواْ يَمْكُرُونَO |
| 124. اور
جب ان کے پاس کوئی نشانی آتی ہے (تو) کہتے ہیں: ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں
گے یہاں تک کہ ہمیں بھی ویسی ہی (نشانی) دی جائے جیسی اﷲ کے رسولوں کو دی
گئی ہے۔ اﷲ خوب جانتا ہے کہ اسے اپنی رسالت کا محل کسے بنانا ہے۔ عنقریب
مجرموں کو اﷲ کے حضور ذلت رسید ہوگی اور سخت عذاب بھی (ملے گا) اس وجہ سے
کہ وہ مکر (اور دھوکہ دہی) کرتے تھےo |
| 125.
فَمَن يُرِدِ اللّهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ
صَدْرَهُ لِلْإِسْلاَمِ وَمَن يُرِدْ أَن يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ
ضَيِّقًا حَرَجًا كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاءِ كَذَلِكَ يَجْعَلُ
اللّهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَO |
| 125. پس اﷲ
جس کسی کو (فضلاً) ہدایت دینے کا ارادہ فرماتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لئے
کشادہ فرما دیتا ہے اور جس کسی کو (عدلاً اس کی اپنی خرید کردہ) گمراہی پر
ہی رکھنے کا ارادہ فرماتا ہے اس کا سینہ (ایسی) شدید گھٹن کے ساتھ تنگ کر
دیتا ہے گویا وہ بمشکل آسمان (یعنی بلندی) پر چڑھ رہا ہو، اسی طرح اﷲ ان
لوگوں پر عذابِ (ذّلت) واقع فرماتا ہے جو ایمان نہیں لاتےo |
| 126.
وَهَـذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِيمًا قَدْ
فَصَّلْنَا الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَذَّكَّرُونَO |
| 126. اور
یہ (اسلام ہی) آپ کے رب کا سیدھا راستہ ہے، بیشک ہم نے نصیحت قبول کرنے
والے لوگوں کے لئے آیتیں تفصیل سے بیان کر دی ہیںo |
| 127.
لَهُمْ دَارُ السَّلاَمِ عِندَ رَبِّهِمْ وَهُوَ
وَلِيُّهُمْ بِمَا كَانُواْ يَعْمَلُونَO |
| 127. انہی
کے لئے ان کے رب کے حضور سلامتی کا گھر ہے اور وہی ان کا مولٰی ہے ان
اعمالِ (صالحہ) کے باعث جو وہ انجام دیا کرتے تھےo |
| 128.
وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا يَا مَعْشَرَ
الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُم مِّنَ الْإِنسِ وَقَالَ أَوْلِيَآؤُهُم مِّنَ
الْإِنسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَبَلَغْنَا أَجَلَنَا
الَّذِي أَجَّلْتَ لَنَا قَالَ النَّارُ مَثْوَاكُمْ خَالِدِينَ فِيهَا
إِلاَّ مَا شَاءَ اللّهُ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَليمٌO |
| 128. اور
جس دن وہ ان سب کو جمع فرمائے گا (تو ارشاد ہوگا:) اے گروہِ جنّات (یعنی
شیاطین!) بیشک تم نے بہت سے انسانوں کو (گمراہ) کر لیا، اور انسانوں میں سے
ان کے دوست کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم نے ایک دوسرے سے (خوب) فائدے حاصل کئے
اور (اسی غفلت اور مفاد پرستی کے عالم میں) ہم اپنی اس میعاد کو پہنچ گئے
جو تو نے ہمارے لئے مقرر فرمائی تھی (مگر ہم اس کے لئے کچھ تیاری نہ کر
سکے)۔ اﷲ فرمائے گا کہ (اب) دوزخ ہی تمہارا ٹھکانا ہے ہمیشہ اسی میں رہو گے
مگر جو اﷲ چاہے۔ بیشک آپ کا رب بڑی حکمت والا خوب جاننے والا ہےo |
| 129.
وَكَذَلِكَ نُوَلِّي بَعْضَ الظَّالِمِينَ
بَعْضًا بِمَا كَانُواْ يَكْسِبُونَO |
| 129. اسی
طرح ہم ظالموں میں سے بعض کو بعض پر مسلط کرتے رہتے ہیں ان اعمالِ(بد) کے
باعث جو وہ کمایا کرتے ہیںo |
| 130.
يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ أَلَمْ
يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِي
وَيُنذِرُونَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَـذَا قَالُواْ شَهِدْنَا عَلَى
أَنفُسِنَا وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَشَهِدُواْ عَلَى
أَنفُسِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُواْ كَافِرِينَO |
| 130. اے
گروہِ جن و انس! کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول نہیں آئے تھے جو تم پر
میری آیتیں بیان کرتے تھے اور تمہاری اس دن کی پیشی سے تمہیں ڈراتے تھے؟
(تو) وہ کہیں گے: ہم اپنی جانوں کے خلاف گواہی دیتے ہیں، اور انہیں دنیا کی
زندگی نے دھوکہ میں ڈال رکھا تھا اور وہ اپنی جانوں کے خلاف اس (بات) کی
گواہی دیں گے کہ وہ (دنیا میں) کافر (یعنی حق کے انکاری) تھےo |
| 131.
ذَلِكَ أَن لَّمْ يَكُن رَّبُّكَ مُهْلِكَ
الْقُرَى بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا غَافِلُونَO |
| 131. یہ
(رسولوں کا بھیجنا) اس لئے تھا کہ آپ کا رب بستیوں کو ظلم کے باعث ایسی
حالت میں تباہ کرنے والا نہیں ہے کہ وہاں کے رہنے والے (حق کی تعلیمات سے
بالکل) بے خبر ہوں (یعنی انہیں کسی نے حق سے آگاہ ہی نہ کیا ہو)o |
| 132.
وَلِكُلٍّ دَرَجَاتٌ مِّمَّا عَمِلُواْ وَمَا
رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَO |
| 132. اور
ہر ایک کے لئے ان کے اعمال کے لحاظ سے درجات (مقرر) ہیں، اور آپ کا رب ان
کاموں سے بے خبر نہیں جو وہ انجام دیتے ہیںo |
| 133.
وَرَبُّكَ الْغَنِيُّ ذُو الرَّحْمَةِ إِن
يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَسْتَخْلِفْ مِن بَعْدِكُم مَّا يَشَاءُ كَمَآ
أَنشَأَكُم مِّن ذُرِّيَّةِ قَوْمٍ آخَرِينَO |
| 133. اور
آپ کا رب بے نیاز ہے، (بڑی) رحمت والا ہے، اگر چاہے تو تمہیں نابود کر دے
اور تمہارے بعد جسے چاہے (تمہارا) جانشین بنا دے جیسا کہ اس نے دوسرے لوگوں
کی اولاد سے تم کو پیدا فرمایا ہےo |
| 134.
إِنَّ مَا تُوعَدُونَ لَآتٍ وَمَا أَنتُم
بِمُعْجِزِينَO |
| 134. بیشک
جس (عذاب) کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ ضرور آنے والا ہے اور تم (اﷲ کو)
عاجز نہیں کر سکتےo |
| 135.
قُلْ يَا قَوْمِ اعْمَلُواْ عَلَى مَكَانَتِكُمْ
إِنِّي عَامِلٌ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن تَكُونُ لَهُ عَاقِبَةُ الدِّارِ
إِنَّهُ لاَ يُفْلِحُ الظَّالِمُونَO |
| 135. فرما
دیجئے: اے (میری) قوم! تم اپنی جگہ پر عمل کرتے رہو بیشک میں (اپنی جگہ)
عمل کئے جا رہا ہوں۔ پھر تم عنقریب جان لو گے کہ آخرت کا انجام کس کے لئے
(بہتر ہے)۔ بیشک ظالم لوگ نجات نہیں پائیں گےo |
| 136.
وَجَعَلُواْ لِلّهِ مِمِّا ذَرَأَ مِنَ
الْحَرْثِ وَالْأَنْعَامِ نَصِيبًا فَقَالُواْ هَـذَا لِلّهِ بِزَعْمِهِمْ
وَهَـذَا لِشُرَكَآئِنَا فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ فَلاَ يَصِلُ إِلَى
اللّهِ وَمَا كَانَ لِلّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَى شُرَكَآئِهِمْ سَاءَ مَا
يَحْكُمُونَO |
| 136. انہوں
نے اﷲ کے لئے انہی (چیزوں) میں سے ایک حصہ مقرر کر لیا ہے جنہیں اس نے
کھیتی اور مویشیوں میں سے پیدا فرمایا ہے پھر اپنے گمانِ (باطل) سے کہتے
ہیں کہ یہ (حصہ) اﷲ کے لئے ہے اور یہ ہمارے (خود ساختہ) شریکوں کے لئے ہے،
پھر جو (حصہ) ان کے شریکوں کے لئے ہے سو وہ تو اﷲ تک نہیں پہنچتا اور جو
(حصہ) اﷲ کے لئے ہے تو وہ ان کے شریکوں تک پہنچ جاتا ہے، (وہ) کیا ہی برا
فیصلہ کر رہے ہیںo |
| 137.
وَكَذَلِكَ زَيَّنَ لِكَثِيرٍ مِّنَ
الْمُشْرِكِينَ قَتْلَ أَوْلاَدِهِمْ شُرَكَآؤُهُمْ لِيُرْدُوهُمْ
وَلِيَلْبِسُواْ عَلَيْهِمْ دِينَهُمْ وَلَوْ شَاءَ اللّهُ مَا فَعَلُوهُ
فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَO |
| 137. اور
اسی طرح بہت سے مشرکوں کے لئے ان کے شریکوں نے اپنی اولاد کو مار ڈالنا (ان
کی نگاہ میں) خوش نما کر دکھایا ہے تاکہ وہ انہیں برباد کر ڈالیں اور ان کے
(بچے کھچے) دین کو (بھی) ان پر مشتبہ کر دیں، اور اگر اﷲ (انہیں جبراً
روکنا) چاہتا تو وہ ایسا نہ کر پاتے پس آپ انہیں اور جو افترا پردازی وہ کر
رہے ہیں (اسے نظرانداز کرتے ہوئے) چھوڑ دیجئےo |
| 138.
وَقَالُواْ هَـذِهِ أَنْعَامٌ وَحَرْثٌ حِجْرٌ
لاَّ يَطْعَمُهَا إِلاَّ مَن نَّشَاءُ بِزَعْمِهِمْ وَأَنْعَامٌ حُرِّمَتْ
ظُهُورُهَا وَأَنْعَامٌ لاَّ يَذْكُرُونَ اسْمَ اللّهِ عَلَيْهَا
افْتِرَاءً عَلَيْهِ سَيَجْزِيهِم بِمَا كَانُواْ يَفْتَرُونَO |
| 138. اور
اپنے خیالِ (باطل) سے (یہ بھی) کہتے ہیں کہ یہ (مخصوص) مویشی اور کھیتی
ممنوع ہے، اسے کوئی نہیں کھا سکتا سوائے اس کے جسے ہم چاہیں اور (یہ کہ
بعض) چوپائے ایسے ہیں جن کی پیٹھ (پر سواری) کو حرام کیا گیا ہے اور (بعض)
مویشی ایسے ہیں کہ جن پر (ذبح کے وقت) یہ لوگ اﷲ کا نام نہیں لیتے (یہ سب)
اﷲ پر بہتان باندھنا ہے، عنقریب وہ انہیں (اس بات کی) سزا دے گا جو وہ
بہتان باندھتے تھےo |
| 139.
وَقَالُواْ مَا فِي بُطُونِ هَـذِهِ
الْأَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُورِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلَى أَزْوَاجِنَا
وَإِن يَكُن مَّيْتَةً فَهُمْ فِيهِ شُرَكَاءَ سَيَجْزِيهِمْ وَصْفَهُمْ
إِنَّهُ حِكِيمٌ عَلِيمٌO |
| 139. اور
(یہ بھی) کہتے ہیں کہ جو (بچہ) ان چوپایوں کے پیٹ میں ہے وہ ہمارے مَردوں
کے لئے مخصوص ہے اور ہماری عورتوں پر حرام کر دیا گیا ہے، اور اگر وہ (بچہ)
مرا ہوا (پیدا) ہو تو وہ (مرد اور عورتیں) سب اس میں شریک ہوتے ہیں، عنقریب
وہ انہیں ان کی (من گھڑت) باتوں کی سزا دے گا، بیشک وہ بڑی حکمت والا خوب
جاننے والا ہےo |
| 140.
قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ قَتَلُواْ أَوْلاَدَهُمْ
سَفَهًا بِغَيْرِ عِلْمٍ وَحَرَّمُواْ مَا رَزَقَهُمُ اللّهُ افْتِرَاءً
عَلَى اللّهِ قَدْ ضَلُّواْ وَمَا كَانُواْ مُهْتَدِينَO |
| 140. واقعی
ایسے لوگ برباد ہوگئے جنہوں نے اپنی اولاد کو بغیر علمِ (صحیح) کے (محض)
بیوقوفی سے قتل کر ڈالا اور ان (چیزوں) کو جو اﷲ نے انہیں (روزی کے طور پر)
بخشی تھیں اﷲ پر بہتان باندھتے ہوئے حرام کر ڈالا، بیشک وہ گمراہ ہو گئے
اور ہدایت یافتہ نہ ہو سکےo |
| 141.
وَهُوَ الَّذِي أَنشَأَ جَنَّاتٍ مَّعْرُوشَاتٍ
وَغَيْرَ مَعْرُوشَاتٍ وَالنَّخْلَ وَالزَّرْعَ مُخْتَلِفًا أُكُلُهُ
وَالزَّيْتُونَ وَالرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَغَيْرَ مُتَشَابِهٍ كُلُواْ
مِن ثَمَرِهِ إِذَا أَثْمَرَ وَآتُواْ حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ وَلاَ
تُسْرِفُواْ إِنَّهُ لاَ يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَO |
| 141. اور
وہی ہے جس نے برداشتہ اور غیر برداشتہ (یعنی بیلوں کے ذریعے اوپر چڑھائے
گئے اور بغیر اوپر چڑھائے گئے) باغات پیدا فرمائے اور کھجور (کے درخت) اور
زراعت جس کے پھل گوناگوں ہیں اور زیتون اور انار (جو شکل میں) ایک دوسرے سے
ملتے جلتے ہیں اور (ذائقہ میں) جداگانہ ہیں (بھی پیدا کئے)۔ جب (یہ درخت)
پھل لائیں تو تم ان کے پھل کھایا (بھی) کرو اور اس (کھیتی اور پھل) کے کٹنے
کے دن اس کا (اﷲ کی طرف سے مقرر کردہ) حق (بھی) ادا کر دیا کرو اور فضول
خرچی نہ کیا کرو، بیشک وہ بے جا خرچ کرنے والوں کو پسند نہیں کرتاo |
| 142.
وَمِنَ الْأَنْعَامِ حَمُولَةً وَفَرْشًا
كُلُواْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّهُ وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ
الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌO |
| 142. اور
(اس نے) بار برداری کرنے والے (بلند قامت) چوپائے اور زمین پر (ذبح کے لئے
یا چھوٹے قد کے باعث) بچھنے والے (مویشی پیدا فرمائے)، تم اس (رزق) میں سے
(بھی بطریقِ ذبح) کھایا کرو جو اﷲ نے تمہیں بخشا ہے اور شیطان کے راستوں پر
نہ چلا کرو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہےo |
| 143.
ثَمَانِيَةَ أَزْوَاجٍ مِّنَ الضَّأْنِ
اثْنَيْنِ وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَيْنِ قُلْ آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ
الْأُنْثَيَيْنِ أَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ الْأُنْثَيَيْنِ
نَبِّؤُونِي بِعِلْمٍ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَO |
| 143. (اﷲ
نے) آٹھ جوڑے پیدا کئے دو (نر و مادہ) بھیڑ سے اور دو (نر و مادہ) بکری سے۔
(آپ ان سے) فرما دیجئے: کیا اس نے دونوں نر حرام کئے ہیں یا دونوں مادہ یا
وہ (بچہ) جو دونوں ماداؤں کے رحموں میں موجود ہے؟ مجھے علم و دانش کے ساتھ
بتاؤ اگر تم سچے ہوo |
| 144.
وَمِنَ الْإِبْلِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْبَقَرِ
اثْنَيْنِ قُلْ آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ أَمَّا
اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ الْأُنْثَيَيْنِ أَمْ كُنتُمْ شُهَدَاءَ
إِذْ وَصَّاكُمُ اللّهُ بِهَـذَا فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى
اللّهِ كَذِبًا لِيُضِلَّ النَّاسَ بِغَيْرِ عِلْمٍ إِنَّ اللّهَ لاَ
يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَO |
| 144. اور
دو (نر و مادہ) اونٹ سے اور دو (نر و مادہ) گائے سے۔ (آپ ان سے) فرما
دیجئے: کیا اس نے دونوں نر حرام کئے ہیں یا دونوں مادہ یا وہ (بچہ) جو
دونوں ماداؤں کے رحموں میں موجود ہے؟ کیا تم اس وقت موجود تھے جب اﷲ نے
تمہیں اس (حرمت) کا حکم دیا تھا؟ پھر اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو
اﷲ پر جھوٹا بہتان باندھتا ہے تاکہ لوگوں کو بغیر جانے گمراہ کرتا پھرے۔
بیشک اﷲ ظالم قوم کو ہدایت نہیں فرماتاo |
| 145.
قُل لاَّ أَجِدُ فِي مَا أُوْحِيَ إِلَيَّ
مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلاَّ أَن يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ
دَمًا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْـزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا
أُهِلَّ لِغَيْرِ اللّهِ بِهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلاَ عَادٍ
فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌO |
| 145. آپ
فرما دیں کہ میری طرف جو وحی بھیجی گئی ہے اس میں تو میں کسی (بھی) کھانے
والے پر (ایسی چیز کو) جسے وہ کھاتا ہو حرام نہیں پاتا سوائے اس کے کہ وہ
مُردار ہو یا بہتا ہوا خون ہو یا سؤر کا گوشت ہو کیو نکہ یہ ناپاک ہے یا
نافرمانی کا جانور جس پر ذبح کے وقت غیر اﷲ کا نام بلند کیا گیا ہو۔ پھر جو
شخص (بھوک کے باعث) سخت لاچار ہو جائے نہ تو نافرمانی کر رہا ہو اور نہ حد
سے تجاوز کر رہا ہو تو بیشک آپ کا رب بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہےo |
| 146.
وَعَلَى الَّذِينَ هَادُواْ حَرَّمْنَا كُلَّ
ذِي ظُفُرٍ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ
شُحُومَهُمَا إِلاَّ مَا حَمَلَتْ ظُهُورُهُمَا أَوِ الْحَوَايَا أَوْ مَا
اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ذَلِكَ جَزَيْنَاهُم بِبَغْيِهِمْ وِإِنَّا
لَصَادِقُونَO |
| 146. اور
یہودیوں پر ہم نے ہر ناخن والا (جانور) حرام کر دیا تھا اور گائے اور بکری
میں سے ہم نے ان پر دونوں کی چربی حرام کر دی تھی سوائے اس (چربی) کے جو
دونوں کی پیٹھ میں ہو یا اوجھڑی میں لگی ہو یا جو ہڈی کے ساتھ ملی ہو۔ یہ
ہم نے ان کی سرکشی کے باعث انہیں سزا دی تھی اور یقینا ہم سچے ہیںo |
| 147.
فَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل رَّبُّكُمْ ذُو رَحْمَةٍ
وَاسِعَةٍ وَلاَ يُرَدُّ بَأْسُهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَO |
| 147. پھر
اگر وہ آپ کو جھٹلائیں تو فرما دیجئے کہ تمہارا رب وسیع رحمت والا ہے اور
اس کا عذاب مجرم قوم سے نہیں ٹالا جائے گاo |
| 148.
سَيَقُولُ الَّذِينَ أَشْرَكُواْ لَوْ شَاءَ
اللّهُ مَا أَشْرَكْنَا وَلاَ آبَاؤُنَا وَلاَ حَرَّمْنَا مِن شَيْءٍ
كَذَلِكَ كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِم حَتَّى ذَاقُواْ بَأْسَنَا قُلْ
هَلْ عِندَكُم مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوهُ لَنَا إِن تَتَّبِعُونَ إِلاَّ
الظَّنَّ وَإِنْ أَنتُمْ إِلاَّ تَخْرُصُونَO |
| 148. جلد
ہی مشرک لوگ کہیں گے کہ اگر اﷲ چاہتا تو نہ (ہی) ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے
آباء و اجداد اور نہ کسی چیز کو (بلا سند) حرام قرار دیتے۔ اسی طرح ان
لوگوں نے بھی جھٹلایا تھا جو ان سے پہلے تھے حتٰی کہ انہوں نے ہمارا عذاب
چکھ لیا۔ فرما دیجئے: کیا تمہارے پاس کوئی (قابلِ حجت) علم ہے کہ تم اسے
ہمارے لئے نکال لاؤ (تو اسے پیش کرو)، تم (علمِ یقینی کو چھوڑ کر) صرف گمان
ہی کی پیروی کرتے ہو اور تم محض (تخمینہ کی بنیاد پر) دروغ گوئی کرتے ہوo |
| 149.
قُلْ فَلِلّهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ فَلَوْ
شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَO |
| 149. فرما
دیجئے کہ دلیلِ محکم تو اﷲ ہی کی ہے، پس اگر وہ (تمہیں مجبور کرنا) چاہتا
تو یقیناً تم سب کو (پابندِ) ہدایت فرما دیتا٭o |
| ٭ وہ حق و باطل
کا فرق اور دونوں کا انجام سمجھانے کے بعد ہر ایک کو آزادی سے اپنا راستہ
اختیار کرنے کا موقع دیتا ہے، تاکہ ہر شخص اپنے کئے کا خود ذمہ دار ٹھہرے
اور اس پر جزا و سزا کا حق دار قرار پائے۔ |
| 150.
قُلْ هَلُمَّ شُهَدَاءَكُمُ الَّذِينَ
يَشْهَدُونَ أَنَّ اللّهَ حَرَّمَ هَـذَا فَإِن شَهِدُواْ فَلاَ تَشْهَدْ
مَعَهُمْ وَلاَ تَتَّبِعْ أَهْوَاءَ الَّذِينَ كَذَّبُواْ بِآيَاتِنَا
وَالَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ وَهُم بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَO |
| 150. (ان
مشرکوں سے) فرما دیجئے کہ تم اپنے ان گواہوں کو پیش کرو جو (آکر) اس بات کی
گواہی دیں کہ اﷲ نے اسے حرام کیا ہے، پھر اگر وہ (جھوٹی) گواہی دے ہی دیں
تو ان کی گواہی کو تسلیم نہ کرنا (بلکہ ان کا جھوٹا ہونا ان پر آشکار کر
دینا)، اور نہ ایسے لوگوں کی خواہشات کی پیروی کرنا جو ہماری آیتوں کو
جھٹلاتے ہیں اور جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور وہ (معبودانِ باطلہ کو)
اپنے رب کے برابر ٹھہراتے ہیںo |
| 151.
قُلْ تَعَالَوْاْ أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ
عَلَيْكُمْ أَلاَّ تُشْرِكُواْ بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا
وَلاَ تَقْتُلُواْ أَوْلاَدَكُم مِّنْ إمْلاَقٍ نَّحْنُ نَرْزُقُكُمْ
وَإِيَّاهُمْ وَلاَ تَقْرَبُواْ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا
بَطَنَ وَلاَ تَقْتُلُواْ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللّهُ إِلاَّ
بِالْحَقِّ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَO |
| 151. فرما
دیجئے: آؤ میں وہ چیزیں پڑھ کر سنا دوں جو تمہارے رب نے تم پر حرام کی ہیں
(وہ) یہ کہ تم اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ
اچھا سلوک کرو، اور مفلسی کے باعث اپنی اولاد کو قتل مت کرو۔ ہم ہی تمہیں
رزق دیتے ہیں اور انہیں بھی (دیں گے)، اور بے حیائی کے کاموں کے قریب نہ
جاؤ (خواہ) وہ ظاہر ہوں اور (خواہ) وہ پوشیدہ ہوں، اور اس جان کو قتل نہ
کرو جسے (قتل کرنا) اﷲ نے حرام کیا ہے بجز حقِ (شرعی) کے، یہی وہ (امور)
ہیں جن کا اس نے تمہیں تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم عقل سے کام لوo |
| 152.
وَلاَ تَقْرَبُواْ مَالَ الْيَتِيمِ إِلاَّ
بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ حَتَّى يَبْلُغَ أَشُدَّهُ وَأَوْفُواْ الْكَيْلَ
وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ لاَ نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلاَّ وُسْعَهَا وَإِذَا
قُلْتُمْ فَاعْدِلُواْ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى وَبِعَهْدِ اللّهِ
أَوْفُواْ ذَلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَO |
| 152. اور
یتیم کے مال کے قریب مت جانا مگر ایسے طریق سے جو بہت ہی پسندیدہ ہو یہاں
تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے، اور پیمانے اور ترازو (یعنی ناپ اور
تول) کو انصاف کے ساتھ پورا کیا کرو۔ ہم کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ
تکلیف نہیں دیتے، اور جب تم (کسی کی نسبت کچھ) کہو تو عدل کرو اگرچہ وہ
(تمہارا) قرابت دار ہی ہو، اور اﷲ کے عہد کو پورا کیا کرو، یہی (باتیں) ہیں
جن کا اس نے تمہیں تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم نصیحت قبول کروo |
| 153.
وَأَنَّ هَـذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا
فَاتَّبِعُوهُ وَلاَ تَتَّبِعُواْ السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن
سَبِيلِهِ ذَلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَO |
| 153. اور
یہ کہ یہی (شریعت) میرا سیدھا راستہ ہے سو تم اس کی پیروی کرو، اور (دوسرے)
راستوں پر نہ چلو پھر وہ (راستے) تمہیں اﷲ کی راہ سے جدا کر دیں گے، یہی وہ
بات ہے جس کا اس نے تمہیں تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤo |
| 154.
ثُمَّ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ تَمَامًا
عَلَى الَّذِي أَحْسَنَ وَتَفْصِيلاً لِّكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً
لَّعَلَّهُم بِلِقَاءِ رَبِّهِمْ يُؤْمِنُونَO |
| 154. پھر
ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو کتاب عطا کی اس شخص پر (نعمت) پوری کرنے کے
لئے جو نیکو کار بنے اور (اسے) ہر چیز کی تفصیل اور ہدایت اور رحمت بنا کر
(اتارا) تاکہ وہ (لوگ قیامت کے دن) اپنے رب سے ملاقات پر ایمان لائیںo |
| 155.
وَهَـذَا كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ
فَاتَّبِعُوهُ وَاتَّقُواْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَO |
| 155. اور
یہ (قرآن) برکت والی کتاب ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے سو (اب) تم اس کی
پیروی کیا کرو اور (اﷲ سے) ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائےo |
| 156.
أَن تَقُولُواْ إِنَّمَا أُنزِلَ الْكِتَابُ
عَلَى طَآئِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا وَإِن كُنَّا عَن دِرَاسَتِهِمْ
لَغَافِلِينَO |
| 156. (قرآن
اس لئے نازل کیا ہے) کہ تم کہیں یہ (نہ) کہو کہ بس (آسمانی) کتاب تو ہم سے
پہلے صرف دو گروہوں (یہود و نصارٰی) پر اتاری گئی تھی اور بیشک ہم ان کے
پڑھنے پڑھانے سے بے خبر تھےo |
| 157.
أَوْ تَقُولُواْ لَوْ أَنَّا أُنزِلَ عَلَيْنَا
الْكِتَابُ لَكُنَّا أَهْدَى مِنْهُمْ فَقَدْ جَاءَكُم بَيِّنَةٌ مِّن
رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَذَّبَ بِآيَاتِ
اللّهِ وَصَدَفَ عَنْهَا سَنَجْزِي الَّذِينَ يَصْدِفُونَ عَنْ آيَاتِنَا
سُوءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُواْ يَصْدِفُونَO |
| 157. یا یہ
(نہ) کہو کہ اگر ہم پر کتاب اتاری جاتی تو ہم یقیناً ان سے زیادہ ہدایت
یافتہ ہوتے، سو اب تمہارے رب کی طرف تمہارے پاس واضح دلیل اور ہدایت اور
رحمت آچکی ہے، پھر اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو اﷲ کی آیتوں کو
جھٹلائے اور ان سے کترائے۔ ہم عنقریب ان لوگوں کو جو ہماری آیتوں سے گریز
کرتے ہیں برے عذاب کی سزا دیں گے اس وجہ سے کہ وہ (آیاتِ ربّانی سے) اِعراض
کرتے تھےo |
| 158.
هَلْ يَنظُرُونَ إِلاَّ أَن تَأْتِيهُمُ
الْمَلَآئِكَةُ أَوْ يَأْتِيَ رَبُّكَ أَوْ يَأْتِيَ بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ
يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لاَ يَنفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا
لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِن قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا
قُلِ انتَظِرُواْ إِنَّا مُنتَظِرُونَO |
| 158. وہ
فقط اسی انتظار میں ہیں کہ ان کے پاس (عذاب کے) فرشتے آپہنچیں یا آپ کا رب
(خود) آجائے یا آپ کے رب کی کچھ (مخصوص) نشانیاں (عیاناً) آجائیں۔ (انہیں
بتا دیجئے کہ) جس دن آپ کے رب کی بعض نشانیاں (یوں ظاہراً) آپہنچیں گی (تو
اس وقت) کسی (ایسے) شخص کا ایمان اسے فائدہ نہیں پہنچائے گا جو پہلے سے
ایمان نہیں لایا تھا یا اس نے اپنے ایمان (کی حالت) میں کوئی نیکی نہیں
کمائی تھی، فرما دیجئے: تم انتظار کرو ہم (بھی) منتظر ہیںo |
| 159.
إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُواْ دِينَهُمْ
وَكَانُواْ شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى
اللّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُواْ يَفْعَلُونَO |
| 159. بیشک
جن لوگوں نے (جدا جدا راہیں نکال کر) اپنے دین کو پارہ پارہ کر دیا اور وہ
(مختلف) فرقوں میں بٹ گئے، آپ کسی چیز میں ان کے (تعلق دار اور ذمہ دار)
نہیں ہیں، بس ان کا معاملہ اﷲ ہی کے حوالے ہے پھر وہ انہیں ان کاموں سے
آگاہ فرما دے گا جو وہ کیا کرتے تھےo |
| 160.
مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ
أَمْثَالِهَا وَمَن جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلاَ يُجْزَى إِلاَّ مِثْلَهَا
وَهُمْ لاَ يُظْلَمُونَO |
| 160. جو
کوئی ایک نیکی لائے گا تو اس کے لئے (بطورِ اجر) اس جیسی دس نیکیاں ہیں،
اور جو کوئی ایک گناہ لائے گا تو اس کو اس جیسے ایک (گناہ) کے سوا سزا نہیں
دی جائے گی اور وہ ظلم نہیں کئے جائیں گےo |
| 161.
قُلْ إِنَّنِي هَدَانِي رَبِّي إِلَى صِرَاطٍ
مُّسْتَقِيمٍ دِينًا قِيَمًا مِّلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ
مِنَ الْمُشْرِكِينَO |
| 161. فرما
دیجئے: بیشک مجھے میرے رب نے سیدھے راستے کی ہدایت فرما دی ہے، (یہ) مضبوط
دین (کی راہ ہے اور یہی) اﷲ کی طرف یک سو اور ہر باطل سے جدا ابراہیم (علیہ
السلام) کی ملت ہے، اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھےo |
| 162.
قُلْ إِنَّ صَلاَتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ
وَمَمَاتِي لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَO |
| 162. فرما
دیجئے کہ بیشک میری نماز اور میرا حج اور قربانی (سمیت سب بندگی) اور میری
زندگی اور میری موت اﷲ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہےo |
| 163.
لاَ شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَاْ
أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَO |
| 163. اس کا
کوئی شریک نہیں اور اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں (جمیع مخلوقات میں)
سب سے پہلا مسلمان ہوںo |
| 164.
قُلْ أَغَيْرَ اللّهِ أَبْغِي رَبًّا وَهُوَ
رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ وَلاَ تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ إِلاَّ عَلَيْهَا وَلاَ
تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى ثُمَّ إِلَى رَبِّكُم مَّرْجِعُكُمْ
فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَO |
| 164. فرما
دیجئے: کیا میں اﷲ کے سوا کوئی دوسرا رب تلاش کروں حالانکہ وہی ہر شے کا
پروردگار ہے، اور ہر شخص جو بھی (گناہ) کرتا ہے (اس کا وبال) اسی پر ہوتا
ہے اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ پھر تمہیں
اپنے رب ہی کی طرف لوٹنا ہے پھر وہ تمہیں ان (باتوں کی حقیقت) سے آگاہ فرما
دے گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھےo |
| 165.
وَهُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَلاَئِفَ الْأَرْضِ
وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِّيَبْلُوَكُمْ فِي مَا
آتَاكُمْ إِنَّ رَبَّكَ سَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌO |
| 165. اور
وہی ہے جس نے تم کو زمین میں نائب بنایا اور تم میں سے بعض کو بعض پر درجات
میں بلند کیا تاکہ وہ ان (چیزوں) میں تمہیں آزمائے جو اس نے تمہیں
(امانتاً) عطا کر رکھی ہیں۔ بیشک آپ کا رب (عذاب کے حق داروں کو) جلد سزا
دینے والا ہے اور بیشک وہ (مغفرت کے امیدواروں کو) بڑا بخشنے والا اور بے
حد رحم فرمانے والا ہےo |
سُورة
الْأَعْرَاف
|
|
سورت : مکي |
ترتيب تلاوت : 7 |
ترتيب نزولي : 39 |
رکوع : 24 |
آيات : 206 |
پارہ نمبر : 8, 9 |
|
 |
| 1.
المصO |
| 1. الف،
لام، میم، صاد (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر
جانتے ہیں)o |
| 2.
كِتَابٌ أُنزِلَ إِلَيْكَ فَلاَ يَكُن فِي
صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنذِرَ بِهِ وَذِكْرَى لِلْمُؤْمِنِينَO |
| 2. (اے
حبیبِ مکرّم!) یہ کتاب ہے (جو) آپ کی طرف اتاری گئی ہے سو آپ کے سینۂ
(انور) میں اس (کی تبلیغ پر کفار کے انکار و تکذیب کے خیال) سے کوئی تنگی
نہ ہو (یہ تو اتاری ہی اس لئے گئی ہے) کہ آپ اس کے ذریعے (منکرین کو) ڈر
سنا سکیں اور یہ مومنین کے لئے نصیحت (ہے)o |
| 3.
اتَّبِعُواْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن
رَّبِّكُمْ وَلاَ تَتَّبِعُواْ مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ قَلِيلاً مَّا
تَذَكَّرُونَO |
| 3. (اے
لوگو!) تم اس (قرآن) کی پیروی کرو جو تمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف اتارا
گیا ہے اور اس کے غیروں میں سے (باطل حاکموں اور) دوستوں کے پیچھے مت چلو،
تم بہت ہی کم نصیحت قبول کرتے ہوo |
| 4.
وَكَم مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا فَجَاءَهَا
بَأْسُنَا بَيَاتًا أَوْ هُمْ قَآئِلُونَO |
| 4. اور
کتنی ہی بستیاں (ایسی) ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کر ڈالا سو ان پر ہمارا عذاب
رات کے وقت آیا یا (جبکہ) وہ دوپہر کو سو رہے تھےo |
| 5.
فَمَا كَانَ دَعْوَاهُمْ إِذْ جَاءَهُمْ
بَأْسُنَا إِلاَّ أَن قَالُواْ إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَO |
| 5. پھر جب
ان پر ہمارا عذاب آگیا تو ان کی پکار سوائے اس کے (کچھ) نہ تھی کہ وہ کہنے
لگے کہ بیشک ہم ظالم تھےo |
| 6.
فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ
وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِينَO |
| 6. پھر ہم
ان لوگوں سے ضرور پرسش کریں گے جن کی طرف رسول بھیجے گئے اور ہم یقیناً
رسولوں سے بھی (ان کی دعوت و تبلیغ کے ردِّ عمل کی نسبت) دریافت کریں گےo |
| 7.
فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيْهِم بِعِلْمٍ وَمَا كُنَّا
غَآئِبِينَO |
| 7. پھر ہم
ان پر (اپنے) علم سے (ان کے سب) حالات بیان کریں گے اور ہم (کہیں) غائب نہ
تھے (کہ انہیں دیکھتے نہ ہوں)o |
| 8.
وَالْوَزْنُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ فَمَن ثَقُلَتْ
مَوَازِينُهُ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَO |
| 8. اور اس
دن (اعمال کا) تولا جانا حق ہے، سو جن کے (نیکیوں کے) پلڑے بھاری ہوں گے تو
وہی لوگ کامیاب ہوں گےo |
| 9.
وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ فَأُوْلَـئِكَ
الَّذِينَ خَسِرُواْ أَنفُسَهُم بِمَا كَانُواْ بِآيَاتِنَا يَظْلِمُونَO |
| 9. اور جن
کے (نیکیوں کے) پلڑے ہلکے ہوں گے تو یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کو
نقصان پہنچایا، اس وجہ سے کہ وہ ہماری آیتوں کے ساتھ ظلم کرتے تھےo |
| 10.
وَلَقَدْ مَكَّنَّاكُمْ فِي الْأَرْضِ
وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيهَا مَعَايِشَ قَلِيلاً مَّا تَشْكُرُونَO |
| 10. اور
بیشک ہم نے تم کو زمین میں تمکّن و تصرّف عطا کیا اور ہم نے اس میں تمہارے
لئے اسبابِ معیشت پیدا کئے، تم بہت ہی کم شکر بجا لاتے ہوo |
| 11.
وَلَقَدْ خَلَقْنَاكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاكُمْ
ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلَآئِكَةِ اسْجُدُواْ لِآدَمَ فَسَجَدُواْ إِلاَّ
إِبْلِيسَ لَمْ يَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَO |
| 11. اور
بیشک ہم نے تمہیں (یعنی تمہاری اصل کو) پیدا کیا پھر تمہاری صورت گری کی
(یعنی تمہاری زندگی کی کیمیائی اور حیاتیاتی ابتداء و ارتقاء کے مراحل کو
آدم (علیہ السلام) کے وجود کی تشکیل تک مکمل کیا)، پھر ہم نے فرشتوں سے
فرمایا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس
کے۔ وہ سجدہ کرنے والوں میں سے نہ ہواo |
| 12.
قَالَ مَا مَنَعَكَ أَلاَّ تَسْجُدَ إِذْ
أَمَرْتُكَ قَالَ أَنَاْ خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ
وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍO |
| 12. ارشاد
ہوا: (اے ابلیس!) تجھے کس (بات) نے روکا تھا کہ تو نے سجدہ نہ کیا جبکہ میں
نے تجھے حکم دیا تھا، اس نے کہا: میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے
پیدا کیا ہے اور اس کو تو نے مٹی سے بنایا ہےo |
| 13.
قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا يَكُونُ لَكَ أَن
تَتَكَبَّرَ فِيهَا فَاخْرُجْ إِنَّكَ مِنَ الصَّاغِرِينَO |
| 13. ارشاد
ہوا: پس تو یہاں سے اتر جا تجھے کوئی حق نہیں پہنچتا کہ تو یہاں تکّبر کرے
پس (میری بارگاہ سے) نکل جا بیشک تو ذلیل و خوار لوگوں میں سے ہےo |
| 14.
قَالَ أَنظِرْنِي إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَO |
| 14. اس نے
کہا: مجھے اس دن تک (زندگی کی) مہلت دے جس دن لوگ (قبروں سے) اٹھائے جائیں
گےo |
| 15.
قَالَ إِنَّكَ مِنَ المُنظَرِينَO |
| 15. ارشاد
ہوا: بیشک تو مہلت دیئے جانے والوں میں سے ہےo |
| 16.
قَالَ فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأَقْعُدَنَّ
لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَO |
| 16. اس
(ابلیس) نے کہا: پس اس وجہ سے کہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے (مجھے قَسم ہے
کہ) میں (بھی) ان (افرادِ بنی آدم کو گمراہ کرنے) کے لئے تیری سیدھی راہ پر
ضرور بیٹھوں گا (تآنکہ انہیں راہِ حق سے ہٹا دوں)
o |
| 17.
ثُمَّ لَآتِيَنَّهُم مِّن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ
وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وَعَن شَمَآئِلِهِمْ وَلاَ تَجِدُ
أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَO |
| 17. پھر
میں یقیناً ان کے آگے سے اور ان کے پیچھے سے اور ان کے دائیں سے اور ان کے
بائیں سے ان کے پاس آؤں گا، اور (نتیجتاً) تو ان میں سے اکثر لوگوں کو شکر
گزار نہ پائے گاo |
| 18.
قَالَ اخْرُجْ مِنْهَا مَذْؤُومًا مَّدْحُورًا
لَّمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَأَمْلأَنَّ جَهَنَّمَ مِنكُمْ أَجْمَعِينَO |
| 18. ارشاد
باری ہوا: (اے ابلیس!) تو یہاں سے ذلیل و مردود ہو کر نکل جا، ان میں سے جو
کوئی تیری پیروی کرے گا تو میں ضرور تم سب سے دوزخ بھر دوں گاo |
| 19.
وَيَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ
الْجَنَّةَ فَكُلاَ مِنْ حَيْثُ شِئْتُمَا وَلاَ تَقْرَبَا هَـذِهِ
الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَO |
| 19. اور اے
آدم! تم اور تمہاری زوجہ (دونوں) جنت میں سکونت اختیار کرو سو جہاں سے تم
دونوں چاہو کھایا کرو اور (بس) اس درخت کے قریب مت جانا ورنہ تم دونوں حد
سے تجاوز کرنے والوں میں سے ہو جاؤ گےo |
| 20.
فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطَانُ لِيُبْدِيَ
لَهُمَا مَا وُورِيَ عَنْهُمَا مِن سَوْءَاتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهَاكُمَا
رَبُّكُمَا عَنْ هَـذِهِ الشَّجَرَةِ إِلاَّ أَن تَكُونَا مَلَكَيْنِ أَوْ
تَكُونَا مِنَ الْخَالِدِينَO |
| 20. پھر
شیطان نے دونوں کے دل میں وسوسہ ڈالا تاکہ ان کی شرم گاہیں جو ان (کی
نظروں) سے پوشیدہ تھیں ان پر ظاہر کر دے اور کہنے لگا: (اے آدم و حوا!)
تمہارے رب نے تمہیں اس درخت (کا پھل کھانے) سے نہیں روکا مگر (صرف اس لئے
کہ اسے کھانے سے) تم دونوں فرشتے بن جاؤ گے (یعنی علائقِ بشری سے پاک ہو
جاؤ گے) یا تم دونوں (اس میں) ہمیشہ رہنے والے بن جاؤ گے (یعنی اس مقامِ
قرب سے کبھی محروم نہیں کئے جاؤ گے)o |
| 21.
وَقَاسَمَهُمَا إِنِّي لَكُمَا لَمِنَ
النَّاصِحِينَO |
| 21. اور ان
دونوں سے قَسم کھا کر کہا کہ بیشک میں تمہارے خیرخواہوں میں سے ہوںo |
| 22.
فَدَلاَّهُمَا بِغُرُورٍ فَلَمَّا ذَاقَا
الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْءَاتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ
عَلَيْهِمَا مِن وَرَقِ الْجَنَّةِ وَنَادَاهُمَا رَبُّهُمَا أَلَمْ
أَنْهَكُمَا عَن تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَأَقُل لَّكُمَا إِنَّ
الشَّيْطَانَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِينٌO |
| 22. پس وہ
فریب کے ذریعے دونوں کو (درخت کا پھل کھانے تک) اتار لایا، سو جب دونوں نے
درخت (کے پھل) کو چکھ لیا تو دونوں کی شرم گاہیں ان کے لئے ظاہر ہوگئیں اور
دونوں اپنے (بدن کے) اوپر جنت کے پتے چپکانے لگے، تو ان کے رب نے انہیں ندا
فرمائی کہ کیا میں نے تم دونوں کو اس درخت (کے قریب جانے) سے روکا نہ تھا
اور تم سے یہ (نہ) فرمایا تھا کہ بیشک شیطان تم دونوں کا کھلا دشمن ہےo |
| 23.
قَالاَ رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن
لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَO |
| 23. دونوں
نے عرض کیا: اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر زیادتی کی؛ اور اگر تو نے ہم
کو نہ بخشا اور ہم پر رحم (نہ) فرمایا تو ہم یقیناً نقصان اٹھانے والوں میں
سے ہو جائیں گےo |
| 24.
قَالَ اهْبِطُواْ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ
وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍO |
| 24. ارشادِ
باری ہوا: تم (سب) نیچے اتر جاؤ تم میں سے بعض بعض کے دشمن ہیں، اور تمہارے
لئے زمین میں معیّن مدت تک جائے سکونت اور متاعِ حیات (مقرر کر دیئے گئے
ہیں گویا تمہیں زمین میں قیام و معاش کے دو بنیادی حق دے کر اتارا جا رہا
ہے، اس پر اپنا نظامِ زندگی استوار کرنا)o |
| 25.
قَالَ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ
وَمِنْهَا تُخْرَجُونَO |
| 25. ارشاد
فرمایا: تم اسی (زمین) میں زندگی گزارو گے اور اسی میں مَرو گے اور (قیامت
کے روز) اسی میں سے نکالے جاؤ گےo |
| 26.
يَا بَنِي آدَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَيْكُمْ
لِبَاسًا يُوَارِي سَوْءَاتِكُمْ وَرِيشًا وَلِبَاسُ التَّقْوَى ذَلِكَ
خَيْرٌ ذَلِكَ مِنْ آيَاتِ اللّهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَO |
| 26. اے
اولادِ آدم! بیشک ہم نے تمہارے لئے (ایسا) لباس اتارا ہے جو تمہاری شرم
گاہوں کو چھپائے اور (تمہیں) زینت بخشے اور (اس ظاہری لباس کے ساتھ ایک
باطنی لباس بھی اتارا ہے اور وہی) تقوٰی کا لباس ہی بہتر ہے۔ یہ (ظاہر و
باطن کے لباس سب) اﷲ کی نشانیاں ہیں تاکہ وہ نصیحت قبول کریںo |
| 27.
يَا بَنِي آدَمَ لاَ يَفْتِنَنَّكُمُ
الشَّيْطَانُ كَمَا أَخْرَجَ أَبَوَيْكُم مِّنَ الْجَنَّةِ يَـنْـزِعُ
عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوْءَاتِهِمَا إِنَّهُ يَرَاكُمْ
هُوَ وَقَبِيلُهُ مِنْ حَيْثُ لاَ تَرَوْنَهُمْ إِنَّا جَعَلْنَا
الشَّيَاطِينَ أَوْلِيَاءَ لِلَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَO |
| 27. اے
اولادِ آدم! (کہیں) تمہیں شیطان فتنہ میں نہ ڈال دے جس طرح اس نے تمہارے
ماں باپ کو جنت سے نکال دیا، ان سے ان کا لباس اتروا دیا تاکہ انہیں ان کی
شرم گاہیں دکھا دے۔ بیشک وہ (خود) اور اس کا قبیلہ تمہیں (ایسی ایسی جگہوں
سے) دیکھتا (رہتا) ہے جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے۔ بیشک ہم نے شیطانوں
کو ایسے لوگوں کا دوست بنا دیا ہے جو ایمان نہیں رکھتےo |
| 28.
وَإِذَا فَعَلُواْ فَاحِشَةً قَالُواْ وَجَدْنَا
عَلَيْهَا آبَاءَنَا وَاللّهُ أَمَرَنَا بِهَا قُلْ إِنَّ اللّهَ لاَ
يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ أَتَقُولُونَ عَلَى اللّهِ مَا لاَ تَعْلَمُونَO |
| 28. اور جب
وہ کوئی بے حیائی کا کام کرتے ہیں (تو) کہتے ہیں: ہم نے اپنے باپ دادا کو
اسی (طریقہ) پر پایا اور اﷲ نے ہمیں اسی کا حکم دیا ہے۔ فرما دیجئے کہ اﷲ
بے حیائی کے کاموں کا حکم نہیں دیتا۔ کیا تم اﷲ (کی ذات) پر ایسی باتیں
کرتے ہو جو تم خود (بھی) نہیں جانتےo |
| 29.
قُلْ أَمَرَ رَبِّي بِالْقِسْطِ وَأَقِيمُواْ
وُجُوهَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ
كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَO |
| 29. فرما
دیجئے: میرے رب نے انصاف کا حکم دیا ہے، اور تم ہر سجدہ کے وقت و مقام پر
اپنے رُخ (کعبہ کی طرف) سیدھے کر لیا کرو اور تمام تر فرمانبرداری اس کے
لئے خالص کرتے ہوئے اس کی عبادت کیا کرو۔ جس طرح اس نے تمہاری (خلق و حیات
کی) ابتداء کی تم اسی طرح (اس کی طرف) پلٹو گےo |
| 30.
فَرِيقًا هَدَى وَفَرِيقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ
الضَّلاَلَةُ إِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّيَاطِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ
اللّهِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَO |
| 30. ایک
گروہ کو اس نے ہدایت فرمائی اور ایک گروہ پر (اس کے اپنے کسب و عمل کے
نتیجے میں) گمراہی ثابت ہو گئی۔ بیشک انہوں نے اﷲ کو چھوڑ کر شیطانوں کو
دوست بنا لیا تھا اور وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیںo |
| 31.
يَا بَنِي آدَمَ خُذُواْ زِينَتَكُمْ عِندَ
كُلِّ مَسْجِدٍ وَّكُلُواْ وَاشْرَبُواْ وَلاَ تُسْرِفُواْ إِنَّهُ لاَ
يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَO |
| 31. اے
اولادِ آدم! تم ہر نماز کے وقت اپنا لباسِ زینت (پہن) لیا کرو اور کھاؤ اور
پیو اور حد سے زیادہ خرچ نہ کرو کہ بیشک وہ بے جا خرچ کرنے والوں کو پسند
نہیں فرماتاo |
| 32.
قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللّهِ الَّتِي
أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالْطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ قُلْ هِيَ
لِلَّذِينَ آمَنُواْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَوْمَ
الْقِيَامَةِ كَذَلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَO |
| 32. فرما
دیجئے: اﷲ کی اس زینت (و آرائش) کو کس نے حرام کیا ہے جو اس نے اپنے بندوں
کے لئے پیدا فرمائی ہے اور کھانے کی پاک ستھری چیزوں کو (بھی کس نے حرام
کیا ہے)؟ فرما دیجئے: یہ (سب نعمتیں جو) اہلِ ایمان کی دنیا کی زندگی میں
(بالعموم روا) ہیں قیامت کے دن بالخصوص (انہی کے لئے) ہوں گی۔ اس طرح ہم
جاننے والوں کے لئے آیتیں تفصیل سے بیان کرتے ہیںo |
| 33.
قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا
ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ
وَأَن تُشْرِكُواْ بِاللّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَأَن
تَقُولُواْ عَلَى اللّهِ مَا لاَ تَعْلَمُونَO |
| 33. فرما
دیجئے کہ میرے ربّ نے (تو) صرف بے حیائی کی باتوں کو حرام کیا ہے جو ان میں
سے ظاہر ہوں اور جو پوشیدہ ہوں (سب کو) اور گناہ کو اور ناحق زیادتی کو اور
اس بات کو کہ تم اﷲ کا شریک ٹھہراؤ جس کی اس نے کوئی سند نہیں اتاری اور
(مزید) یہ کہ تم اﷲ (کی ذات) پر ایسی باتیں کہو جو تم خود بھی نہیں جانتےo |
| 34.
وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ فَإِذَا جَاءَ
أَجَلُهُمْ لاَ يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلاَ يَسْتَقْدِمُونَO |
| 34. اور ہر
گروہ کے لئے ایک میعاد (مقرر) ہے پھر جب ان کا (مقررہ) وقت آجاتا ہے تو وہ
ایک گھڑی (بھی) پیچھے نہیں ہٹ سکتے اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیںo |
| 35.
يَا بَنِي آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ
مِّنكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِي فَمَنِ اتَّقَى وَأَصْلَحَ فَلاَ
خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَO |
| 35. اے
اولادِ آدم! اگر تمہارے پاس تم میں سے رسول آئیں جو تم پر میری آیتیں بیان
کریں پس جو پرہیزگار بن گیا اور اس نے (اپنی) اصلاح کر لی تو ان پر نہ کوئی
خوف ہوگا اور نہ (ہی) وہ رنجیدہ ہوں گےo |
| 36.
وَالَّذِينَ كَذَّبُواْ بِآيَاتِنَا
وَاسْتَكْبَرُواْ عَنْهَا أُوْلَـَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا
خَالِدُونَO |
| 36. اور جن
لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان (پر ایمان لانے) سے سرکشی کی، وہی
اہلِ جہنم ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیںo |
| 37.
فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللّهِ
كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِآيَاتِهِ أُوْلَـئِكَ يَنَالُهُمْ نَصِيبُهُم مِّنَ
الْكِتَابِ حَتَّى إِذَا جَاءَتْهُمْ رُسُلُنَا يَتَوَفَّوْنَهُمْ قَالُواْ
أَيْنَ مَا كُنتُمْ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللّهِ قَالُواْ ضَلُّواْ عَنَّا
وَشَهِدُواْ عَلَى أَنفُسِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُواْ كَافِرِينَO |
| 37. پھر اس
شخص سے زیادہ ظالم کون ہو سکتا ہے جو اﷲ پر جھوٹا بہتان باندھے یا اس کی
آیتوں کو جھٹلائے؟ ان لوگوں کو ان کا (وہ) حصہ پہنچ جائے گا (جو) نوشۃٔ
کتاب ہے، یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) آئیں گے کہ ان
کی روحیں قبض کر لیں (تو ان سے) کہیں گے: اب وہ (جھوٹے معبود) کہاں ہیں جن
کی تم اﷲ کے سوا عبادت کرتے تھے؟ وہ (جواباً) کہیں گے کہ وہ ہم سے گم ہوگئے
(یعنی اب کہاں نظر آتے ہیں) اور وہ اپنی جانوں کے خلاف (خود یہ) گواہی دیں
گے کہ بیشک وہ کافر تھےo |
| 38.
قَالَ ادْخُلُواْ فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن
قَبْلِكُم مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ فِي النَّارِ كُلَّمَا دَخَلَتْ
أُمَّةٌ لَّعَنَتْ أُخْتَهَا حَتَّى إِذَا ادَّارَكُواْ فِيهَا جَمِيعًا
قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لِأُولاَهُمْ رَبَّنَا هَـؤُلاَءِ أَضَلُّونَا
فَآتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَـكِن
لاَّ تَعْلَمُونَO |
| 38. اﷲ
فرمائے گا: تم جنوں اور انسانوں کی ان (جہنّمی) جماعتوں میں شامل ہو کر جو
تم سے پہلے گزر چکی ہیں دوزخ میں داخل ہو جاؤ۔ جب بھی کوئی جماعت (دوزخ
میں) داخل ہوگی وہ اپنے جیسی دوسری جماعت پر لعنت بھیجے گی، یہاں تک کہ جب
اس میں سارے (گروہ) جمع ہو جائیں گے تو ان کے پچھلے اپنے اگلوں کے حق میں
کہیں گے کہ اے ہمارے ربّ! انہی لوگوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا سو ان کو دوزخ
کا دوگنا عذاب دے۔ ارشاد ہوگا: ہر ایک کے لئے دوگنا ہے مگر تم جانتے نہیں
ہوo |
| 39.
وَقَالَتْ أُولاَهُمْ لِأُخْرَاهُمْ فَمَا كَانَ
لَكُمْ عَلَيْنَا مِن فَضْلٍ فَذُوقُواْ الْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ
تَكْسِبُونَO |
| 39. اور ان
کے اگلے اپنے پچھلوں سے کہیں گے: سو تمہیں ہم پر کچھ فضیلت نہ ہوئی پس (اب)
تم (بھی) عذاب (کا مزہ) چکھو اس کے سبب جو کچھ تم کماتے تھےo |
| 40.
إِنَّ الَّذِينَ كَذَّبُواْ بِآيَاتِنَا
وَاسْتَكْبَرُواْ عَنْهَا لاَ تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلاَ
يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ
وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُجْرِمِينَO |
| 40. بیشک
جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے سرکشی کی ان کے لئے آسمانِ
(رحمت و قبولیت) کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور نہ ہی وہ جنت میں داخل
ہو سکیں گے یہاں تک کہ سوئی کے سوراخ میں اونٹ داخل ہو جائے (یعنی جیسے یہ
ناممکن ہے اسی طرح ان کا جنت میں داخل ہونا بھی ناممکن ہے)، اور ہم مجرموں
کو اسی طرح سزا دیتے ہیںo |
| 41.
لَهُم مِّن جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَمِن فَوْقِهِمْ
غَوَاشٍ وَكَذَلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَO |
| 41. اور ان
کے لئے (آتشِ) دوزخ کا بچھونا اور ان کے اوپر (اسی کا) اوڑھنا ہوگا، اور ہم
ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیںo |
| 42.
وَالَّذِينَ آمَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ
لاَ نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلاَّ وُسْعَهَا أُوْلَـئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ
هُمْ فِيهَا خَالِدُونَO |
| 42. اور جو
لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے، ہم کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ
مکلّف نہیں کرتے، یہی لوگ اہلِ جنت ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گےo |
| 43.
وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّ
تَجْرِي مِن تَحْتِهِمُ الْأَنْهَارُ وَقَالُواْ الْحَمْدُ لِلّهِ الَّذِي
هَدَانَا لِهَـذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلاَ أَنْ هَدَانَا اللّهُ
لَقَدْ جَاءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ وَنُودُواْ أَن تِلْكُمُ
الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَO |
| 43. اور ہم
وہ (رنجش و) کینہ جو ان کے سینوں میں (دنیا کے اندر ایک دوسرے کے لئے) تھا
نکال (کے دور کر) دیں گے ان کے (محلوں کے) نیچے نہریں جاری ہوں گی، اور وہ
کہیں گے: سب تعریفیں اﷲ ہی کے لئے ہیں جس نے ہمیں یہاں تک پہنچا دیا، اور
ہم (اس مقام تک کبھی) راہ نہ پا سکتے تھے اگر اﷲ ہمیں ہدایت نہ فرماتا،
بیشک ہمارے رب کے رسول حق (کا پیغام) لائے تھے، اور (اس دن) ندا دی جائے گی
کہ تم لوگ اس جنت کے وارث بنا دیئے گئے ہو ان (نیک) اعمال کے باعث جو تم
انجام دیتے تھےo |
| 44.
وَنَادَى أَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابَ
النَّارِ أَن قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ
وَجَدتُّم مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا قَالُواْ نَعَمْ فَأَذَّنَ
مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ أَن لَّعْنَةُ اللّهِ عَلَى الظَّالِمِينَO |
| 44. اور
اہلِ جنت دوزخ والوں کو پکار کر کہیں گے: ہم نے تو واقعتاً اسے سچّا پالیا
جو وعدہ ہمارے رب نے ہم سے فرمایا تھا، سو کیا تم نے (بھی) اسے سچّا پایا
جو وعدہ تمہارے ربّ نے (تم سے) کیا تھا؟ وہ کہیں گے: ہاں۔ پھر ان کے درمیان
ایک آواز دینے والا آواز دے گا کہ ظالموں پر اﷲ کی لعنت ہےo |
| 45.
الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللّهِ
وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا وَهُم بِالْآخِرَةِ كَافِرُونَO |
| 45. (یہ
وہی ہیں) جو (لوگوں کو) اﷲ کی راہ سے روکتے تھے اور اس میں کجی تلاش کرتے
تھے اور وہ آخرت کا انکار کرنے والے تھےo |
| 46.
وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ وَعَلَى الْأَعْرَافِ
رِجَالٌ يَعْرِفُونَ كُلاًّ بِسِيمَاهُمْ وَنَادَوْاْ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ
أَن سَلاَمٌ عَلَيْكُمْ لَمْ يَدْخُلُوهَا وَهُمْ يَطْمَعُونَO |
| 46. اور
(ان) دونوں (یعنی جنتیوں اور دوزخیوں) کے درمیان ایک حجاب (یعنی فصیل) ہے،
اور اَعراف (یعنی اسی فصیل) پر کچھ مرد ہوں گے جو سب کو ان کی نشانیوں سے
پہچان لیں گے۔ اور وہ اہلِ جنت کو پکار کر کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ وہ
(اہلِ اَعراف خود ابھی) جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے حالانکہ وہ (اس کے)
امیدوار ہوں گےo |
| 47.
وَإِذَا صُرِفَتْ أَبْصَارُهُمْ تِلْقَاءَ
أَصْحَابِ النَّارِ قَالُواْ رَبَّنَا لاَ تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ
الظَّالِمِينَO |
| 47. اور جب
ان کی نگاہیں دوزخ والوں کی طرف پھیری جائیں گی تو وہ کہیں گے: اے ہمارے
ربّ! ہمیں ظالم گروہ کے ساتھ (جمع) نہ کرo |
| 48.
وَنَادَى أَصْحَابُ الْأَعْرَافِ رِجَالاً
يَعْرِفُونَهُمْ بِسِيمَاهُمْ قَالُواْ مَا أَغْنَى عَنكُمْ جَمْعُكُمْ
وَمَا كُنتُمْ تَسْتَكْبِرُونَO |
| 48. اور
اہلِ اعراف (ان دوزخی) مردوں کو پکاریں گے جنہیں وہ ان کی نشانیوں سے پہچان
رہے ہوں گے (ان سے) کہیں گے: تمہاری جماعتیں تمہارے کام نہ آسکیں اور نہ
(وہ) تکبّر (تمہیں بچا سکا) جو تم کیا کرتے تھےo |
| 49.
أَهَـؤُلاَءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لاَ
يَنَالُهُمُ اللّهُ بِرَحْمَةٍ ادْخُلُواْ الْجَنَّةَ لاَ خَوْفٌ
عَلَيْكُمْ وَلاَ أَنتُمْ تَحْزَنُونَO |
| 49. کیا
یہی وہ لوگ ہیں (جن کی خستہ حالت دیکھ کر) تم قَسمیں کھایا کرتے تھے کہ اﷲ
انہیں اپنی رحمت سے (کبھی) نہیں نوازے گا؟ (سن لو! اب انہی کو کہا جا رہا
ہے:) تم جنت میں داخل ہو جاؤ نہ تم پر کوئی خوف ہوگا اور نہ تم غمگین ہوگےo |
| 50.
وَنَادَى أَصْحَابُ النَّارِ أَصْحَابَ
الْجَنَّةِ أَنْ أَفِيضُواْ عَلَيْنَا مِنَ الْمَاءِ أَوْ مِمَّا
رَزَقَكُمُ اللّهُ قَالُواْ إِنَّ اللّهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكَافِرِينَO |
| 50. اور
دوزخ والے اہلِ جنت کو پکار کر کہیں گے کہ ہمیں (جنّتی) پانی سے کچھ فیض
یاب کر دو یا اس (رزق) میں سے جو اﷲ نے تمہیں بخشا ہے۔ وہ کہیں گے: بیشک اﷲ
نے یہ دونوں (نعمتیں) کافروں پر حرام کر دی ہیںo |
| 51.
الَّذِينَ اتَّخَذُواْ دِينَهُمْ لَهْوًا
وَلَعِبًا وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا فَالْيَوْمَ نَنسَاهُمْ
كَمَا نَسُواْ لِقَاءَ يَوْمِهِمْ هَـذَا وَمَا كَانُواْ بِآيَاتِنَا
يَجْحَدُونَO |
| 51. جنہوں
نے اپنے دین کو تماشا اور کھیل بنا لیا اور جنہیں دنیوی زندگی نے فریب دے
رکھا تھا، آج ہم انہیں اسی طرح بھلا دیں گے جیسے وہ (ہم سے) اپنے اس دن کی
ملاقات کو بھولے ہوئے تھے اور جیسے وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھےo |
| 52.
وَلَقَدْ جِئْنَاهُم بِكِتَابٍ فَصَّلْنَاهُ
عَلَى عِلْمٍ هُدًى وَرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَO |
| 52. اور
بیشک ہم ان کے پاس ایسی کتاب (قرآن) لائے جسے ہم نے (اپنے) علم (کی بنا) پر
مفصّل (یعنی واضح) کیا، وہ ایمان والوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہےo |
| 53.
هَلْ يَنظُرُونَ إِلاَّ تَأْوِيلَهُ يَوْمَ
يَأْتِي تَأْوِيلُهُ يَقُولُ الَّذِينَ نَسُوهُ مِن قَبْلُ قَدْ جَاءَتْ
رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ فَهَل لَّنَا مِن شُفَعَاءَ فَيَشْفَعُواْ
لَنَا أَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَيْرَ الَّذِي كُنَّا نَعْمَلُ قَدْ
خَسِرُواْ أَنفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُواْ يَفْتَرُونَO |
| 53. وہ صرف
اس (کہی ہوئی بات) کے انجام کے منتظر ہیں، جس دن اس (بات) کا انجام سامنے
آجائے گا وہ لوگ جو اس سے قبل اسے بھلا چکے تھے کہیں گے: بیشک ہمارے رب کے
رسول حق (بات) لے کر آئے تھے، سو کیا (آج) ہمارے کوئی سفارشی ہیں جو ہمارے
لئے سفارش کر دیں یا ہم (پھر دنیا میں) لوٹا دیئے جائیں تاکہ ہم (اس مرتبہ)
ان (اعمال) سے مختلف عمل کریں جو (پہلے) کرتے رہے تھے۔ بیشک انہوں نے اپنے
آپ کو نقصان پہنچایا اور وہ (بہتان و افتراء) ان سے جاتا رہا جو وہ گھڑا
کرتے تھےo |
| 54.
إِنَّ رَبَّكُمُ اللّهُ الَّذِي خَلَقَ
السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى
الْعَرْشِ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ
وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ أَلاَ لَهُ الْخَلْقُ
وَالْأَمْرُ تَبَارَكَ اللّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَO |
| 54. بیشک
تمہارا رب اﷲ ہے جس نے آسمانوں اور زمین (کی کائنات) کو چھ مدتوں (یعنی چھ
اَدوار) میں پیدا فرمایا پھر (اپنی شان کے مطابق) عرش پر استواء (یعنی اس
کائنات میں اپنے حکم و اقتدار کے نظام کا اجراء) فرمایا۔ وہی رات سے دن کو
ڈھانک دیتا ہے (درآنحالیکہ دن رات میں سے) ہر ایک دوسرے کے تعاقب میں تیزی
سے لگا رہتا ہے اور سورج اور چاند اور ستارے (سب) اسی کے حکم (سے ایک نظام)
کے پابند بنا دیئے گئے ہیں۔ خبردار! (ہر چیز کی) تخلیق اور حکم و تدبیر کا
نظام چلانا اسی کا کام ہے۔ اﷲ بڑی برکت والا ہے جو تمام جہانوں کی
(تدریجاً) پرورش فرمانے والا ہےo |
| 55.
ادْعُواْ رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً
إِنَّهُ لاَ يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَO |
| 55. تم
اپنے رب سے گڑگڑا کر اور آہستہ (دونوں طریقوں سے) دعا کیا کرو، بیشک وہ حد
سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتاo |
| 56.
وَلاَ تُفْسِدُواْ فِي الْأَرْضِ بَعْدَ
إِصْلاَحِهَا وَادْعُوهُ خَوْفًا وَطَمَعًا إِنَّ رَحْمَتَ اللّهِ قَرِيبٌ
مِّنَ الْمُحْسِنِينَO |
| 56. اور
زمین میں اس کے سنور جانے (یعنی ملک کا ماحولِ حیات درست ہو جانے) کے بعد
فساد انگیزی نہ کرو اور (اس کے عذاب سے) ڈرتے ہوئے اور (اس کی رحمت کی)
امید رکھتے ہوئے اس سے دعا کرتے رہا کرو، بیشک اﷲ کی رحمت احسان شعار لوگوں
(یعنی نیکوکاروں) کے قریب ہوتی ہےo |
| 57.
وَهُوَ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ بُشْرًا
بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهِ حَتَّى إِذَا أَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالاً
سُقْنَاهُ لِبَلَدٍ مَّيِّتٍ فَأَنزَلْنَا بِهِ الْمَاءَ فَأَخْرَجْنَا
بِهِ مِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ كَذَلِكَ نُخْرِجُ الْموْتَى لَعَلَّكُمْ
تَذَكَّرُونَO |
| 57. اور
وہی ہے جو اپنی رحمت (یعنی بارش) سے پہلے ہواؤں کو خوشخبری بنا کر بھیجتا
ہے، یہاں تک کہ جب وہ (ہوائیں) بھاری بھاری بادلوں کو اٹھا لاتی ہیں تو ہم
ان (بادلوں) کو کسی مردہ (یعنی بے آب و گیاہ) شہر کی طرف ہانک دیتے ہیں پھر
ہم اس (بادل) سے پانی برساتے ہیں پھر ہم اس (پانی) کے ذریعے (زمین سے) ہر
قسم کے پھل نکالتے ہیں۔ اسی طرح ہم (روزِ قیامت) مُردوں کو (قبروں سے)
نکالیں گے تاکہ تم نصیحت قبول کروo |
| 58.
وَالْبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُهُ
بِإِذْنِ رَبِّهِ وَالَّذِي خَبُثَ لاَ يَخْرُجُ إِلاَّ نَكِدًا كَذَلِكَ
نُصَرِّفُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَشْكُرُونَO |
| 58. اور جو
اچھی (یعنی زرخیز) زمین ہے اس کا سبزہ اﷲ کے حکم سے (خوب) نکلتا ہے اور جو
(زمین) خراب ہے (اس سے) تھوڑی سی بے فائدہ چیز کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔ اسی
طرح ہم (اپنی) آیتیں (یعنی دلائل اور نشانیاں) ان لوگوں کے لئے بار بار
بیان کرتے ہیں جو شکرگزار ہیںo |
| 59.
لَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ
فَقَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُواْ اللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـهٍ غَيْرُهُ
إِنِّيَ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍO |
| 59. بیشک
ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا سو انہوں نے کہا: اے
میری قوم (کے لوگو!) تم اﷲ کی عبادت کیا کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود
نہیں، یقیناً مجھے تمہارے اوپر ایک بڑے دن کے عذاب کا خوف آتا ہےo |
| 60.
قَالَ الْمَلَأُ مِن قَوْمِهِ إِنَّا لَنَرَاكَ
فِي ضَلاَلٍ مُّبِينٍO |
| 60. ان کی
قوم کے سرداروں اور رئیسوں نے کہا: (اے نوح!) بیشک ہم تمہیں کھلی گمراہی
میں (مبتلا) دیکھتے ہیںo |
| 61.
قَالَ يَا قَوْمِ لَيْسَ بِي ضَلاَلَةٌ
وَلَكِنِّي رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَO |
| 61. انہوں
نے کہا: اے میری قوم! مجھ میں کوئی گمراہی نہیں لیکن (یہ حقیقت ہے کہ) میں
تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول (مبعوث ہوا) ہوںo |
| 62.
أُبَلِّغُكُمْ رِسَالاَتِ رَبِّي وَأَنصَحُ
لَكُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللّهِ مَا لاَ تَعْلَمُونَO |
| 62. میں
تمہیں اپنے رب کے پیغامات پہنچا رہا ہوں اور تمہیں نصیحت کر رہا ہوں اور اﷲ
کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتےo |
| 63.
أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَاءَكُمْ ذِكْرٌ مِّن
رَّبِّكُمْ عَلَى رَجُلٍ مِّنكُمْ لِيُنذِرَكُمْ وَلِتَتَّقُواْ
وَلَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَO |
| 63. کیا
تمہیں اس بات پر تعجب ہے کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے تم ہی میں سے
ایک مرد (کی زبان) پر نصیحت آئی تاکہ وہ تمہیں (عذابِ الٰہی سے) ڈرائے اور
تم پرہیزگار بن جاؤ اور یہ اس لئے ہے کہ تم پر رحم کیا جائےo |
| 64.
فَكَذَّبُوهُ فَأَنجَيْنَاهُ وَالَّذِينَ مَعَهُ
فِي الْفُلْكِ وَأَغْرَقْنَا الَّذِينَ كَذَّبُواْ بِآيَاتِنَا إِنَّهُمْ
كَانُواْ قَوْماً عَمِينَO |
| 64. پھر ان
لوگوں نے انہیں جھٹلایا سو ہم نے انہیں اور ان لوگوں کو جو کَشتی میں ان کی
معیّت میں تھے نجات دی اور ہم نے ان لوگوں کو غرق کر دیا جنہوں نے ہماری
آیتوں کو جھٹلایا تھا، بیشک وہ اندھے (یعنی بے بصیرت) لوگ تھےo |
| 65.
وَإِلَى عَادٍ أَخَاهُمْ هُوداً قَالَ يَا
قَوْمِ اعْبُدُواْ اللّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـهٍ غَيْرُهُ أَفَلاَ
تَتَّقُونَO |
| 65. اور ہم
نے (قومِ) عاد کی طرف ان کے (قومی) بھائی ہُود (علیہ السلام) کو (بھیجا)،
انہوں نے کہا: اے میری قوم! تم اﷲ کی عبادت کیا کرو اس کے سوا کوئی تمہارا
معبود نہیں، کیا تم پرہیزگار نہیں بنتےo |
| 66.
قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ كَفَرُواْ مِن
قَوْمِهِ إِنَّا لَنَرَاكَ فِي سَفَاهَةٍ وَإِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ
الْكَاذِبِينَO |
| 66. ان کی
قوم کے سرداروں اور رئیسوں نے جو کفر (یعنی دعوتِ حق کی مخالفت و مزاحمت)
کر رہے تھے کہا: (اے ہود!) بیشک ہم تمہیں حماقت (میں مبتلا) دیکھتے ہیں اور
بیشک ہم تمہیں جھوٹے لوگوں میں گمان کرتے ہیںo |
| 67.
قَالَ يَا قَوْمِ لَيْسَ بِي سَفَاهَةٌ
وَلَكِنِّي رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَO |
| 67. انہوں
نے کہا: اے میری قوم! مجھ میں کوئی حماقت نہیں لیکن (یہ حقیقت ہے کہ) میں
تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول (مبعوث ہوا) ہوںo |
| 68.
أُبَلِّغُكُمْ رِسَالاَتِ رَبِّي وَأَنَا لَكُمْ
نَاصِحٌ أَمِينٌO |
| 68. میں
تمہیں اپنے رب کے پیغامات پہنچا رہا ہوں اور میں تمہارا امانت دار خیرخواہ
ہوںo |
| 69.
أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَاءَكُمْ ذِكْرٌ مِّن
رَّبِّكُمْ عَلَى رَجُلٍ مِّنكُمْ لِيُنذِرَكُمْ وَاذكُرُواْ إِذْ
جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِن بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ
بَسْطَةً فَاذْكُرُواْ آلاَءَ اللّهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَO |
| 69. کیا
تمہیں اس بات پر تعجب ہے کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے تم ہی میں سے
ایک مرد (کی زبان) پر نصیحت آئی تاکہ وہ تمہیں (عذابِ الٰہی سے) ڈرائے، اور
یاد کرو جب اس نے تمہیں قومِ نوح کے بعد (زمین پر) جانشین بنایا اور تمہاری
خلقت میں (قد و قامت اور) قوت کو مزید بڑھا دے، سو تم اﷲ کی نعمتوں کو یاد
کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤo |
| 70.
قَالُواْ أَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّهَ
وَحْدَهُ وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُنَا فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا
إِن كُنتَ مِنَ الصَّادِقِينَO |
| 70. وہ
کہنے لگے: کیا تم ہمارے پاس (اس لئے) آئے ہو کہ ہم صرف ایک اﷲ کی عبادت
کریں اور ان (سب خداؤں) کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کیا کرتے
تھے؟ سو تم ہمارے پاس وہ (عذاب) لے آؤ جس کی تم ہمیں وعید سناتے ہو اگر تم
سچے لوگوں میں سے ہوo |
| 71.
قَالَ قَدْ وَقَعَ عَلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ
رِجْسٌ وَغَضَبٌ أَتُجَادِلُونَنِي فِي أَسْمَاءٍ سَمَّيْتُمُوهَا أَنتُمْ
وَآبَآؤُكُم مَّا نَزَّلَ اللّهُ بِهَا مِن سُلْطَانٍ فَانتَظِرُواْ إِنِّي
مَعَكُم مِّنَ الْمُنتَظِرِينَO |
| 71. انہوں
نے کہا: یقیناً تم پر تمہارے رب کی طرف سے عذاب اور غضب واجب ہو گیا۔ کیا
تم مجھ سے ان (بتوں کے) ناموں کے بارے میں جھگڑ رہے ہو جو تم نے اور تمہارے
باپ دادا نے (خود ہی فرضی طور پر) رکھ لئے ہیں جن کی اﷲ نے کوئی سند نہیں
اتاری؟ سو تم (عذاب کا) انتظار کرو میں (بھی) تمہارے ساتھ انتظار کرنے
والوں میں سے ہوںo |
| 72.
فَأَنجَيْنَاهُ وَالَّذِينَ مَعَهُ بِرَحْمَةٍ
مِّنَّا وَقَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِينَ كَذَّبُواْ بِآيَاتِنَا وَمَا
كَانُواْ مُؤْمِنِينَO |
| 72. پھر ہم
نے ان کو اور جو لوگ ان کے ساتھ تھے اپنی رحمت کے باعث نجات بخشی اور ان
لوگوں کی جڑ کاٹ دی جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا اور وہ ایمان لانے
والے نہ تھےo |
| 73.
وَإِلَى ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا قَالَ يَا
قَوْمِ اعْبُدُواْ اللّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـهٍ غَيْرُهُ قَدْ
جَاءَتْكُم بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ هَـذِهِ نَاقَةُ اللّهِ لَكُمْ آيَةً
فَذَرُوهَا تَأْكُلْ فِي أَرْضِ اللّهِ وَلاَ تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ
فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌO |
| 73. اور
(قومِ) ثمود کی طرف ان کے (قومی) بھائی صالح (علیہ السلام) کو (بھیجا)،
انہوں نے کہا: اے میری قوم! اﷲ کی عبادت کیا کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی
معبود نہیں، بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل آگئی ہے۔
یہ اﷲ کی اونٹنی تمہارے لئے نشانی ہے، سو تم اسے (آزاد) چھوڑے رکھنا کہ اﷲ
کی زمین میں چَرتی رہے اور اسے برائی (کے ارادے) سے ہاتھ نہ لگانا ورنہ
تمہیں دردناک عذاب آپکڑے گاo |
| 74.
وَاذْكُرُواْ إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِن
بَعْدِ عَادٍ وَبَوَّأَكُمْ فِي الْأَرْضِ تَتَّخِذُونَ مِن سُهُولِهَا
قُصُورًا وَتَنْحِتُونَ الْجِبَالَ بُيُوتًا فَاذْكُرُواْ آلاَءَ اللّهِ
وَلاَ تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَO |
| 74. اور
یاد کرو جب اس نے تمہیں (قومِ) عاد کے بعد (زمین میں) جانشین بنایا اور
تمہیں زمین میں سکونت بخشی کہ تم اس کے نرم (میدانی) علاقوں میں محلات
بناتے ہو اور پہاڑوں کو تراش کر (ان میں) گھر بناتے ہو، سو تم اﷲ کی (ان)
نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فساد انگیزی نہ کرتے پھروo |
| 75.
قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُواْ مِن
قَوْمِهِ لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُواْ لِمَنْ آمَنَ مِنْهُمْ أَتَعْلَمُونَ
أَنَّ صَالِحًا مُّرْسَلٌ مِّن رَّبِّهِ قَالُواْ إِنَّا بِمَا أُرْسِلَ
بِهِ مُؤْمِنُونَO |
| 75. ان کی
قوم کے ان سرداروں اور رئیسوں نے جو متکّبر و سرکش تھے ان غریب پسے ہوئے
لوگوں سے کہا جو ان میں سے ایمان لے آئے تھے: کیا تمہیں یقین ہے کہ واقعی
صالح (علیہ السلام) اپنے ربّ کی طرف سے رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں؟ انہوں
نے کہا: جو کچھ انہیں دے کر بھیجا گیا ہے بیشک ہم اس پر ایمان رکھنے والے
ہیںo |
| 76.
قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُواْ إِنَّا
بِالَّذِي آمَنتُمْ بِهِ كَافِرُونَO |
| 76. متکبّر
لوگ کہنے لگے: بیشک جس (چیز) پر تم ایمان لائے ہو ہم اس کے سخت منکر ہیںo |
| 77.
فَعَقَرُواْ النَّاقَةَ وَعَتَوْاْ عَنْ أَمْرِ
رَبِّهِمْ وَقَالُواْ يَا صَالِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِن كُنتَ مِنَ
الْمُرْسَلِينَO |
| 77. پس
انہوں نے اونٹنی کو (کاٹ کر) مار ڈالا اور اپنے ربّ کے حکم سے سرکشی کی اور
کہنے لگے: اے صالح! تم وہ (عذاب) ہمارے پاس لے آؤ جس کی تم ہمیں وعید سناتے
تھے اگر تم (واقعی) رسولوں میں سے ہوo |
| 78.
فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُواْ فِي
دَارِهِمْ جَاثِمِينَO |
| 78. سو
انہیں سخت زلزلہ (کے عذاب) نے آپکڑا پس وہ (ہلاک ہو کر) صبح اپنے گھروں میں
اوندھے پڑے رہ گئےo |
| 79.
فَتَوَلَّى عَنْهُمْ وَقَالَ يَا قَوْمِ لَقَدْ
أَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّي وَنَصَحْتُ لَكُمْ وَلَكِن لاَّ
تُحِبُّونَ النَّاصِحِينَO |
| 79. پھر
(صالح علیہ السلام نے) ان سے منہ پھیر لیا اور کہا: اے میری قوم! بیشک میں
نے تمہیں اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا تھا اور نصیحت (بھی) کر دی تھی لیکن
تم نصیحت کرنے والوں کو پسند (ہی) نہیں کرتےo |
| 80.
وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ أَتَأْتُونَ
الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِّنَ الْعَالَمِينَO |
| 80. اور
لوط(علیہ السلام) کو (بھی ہم نے اسی طرح بھیجا) جب انہوں نے اپنی قوم سے
کہا: کیا تم (ایسی) بے حیائی کا ارتکاب کرتے ہو جسے تم سے پہلے اہلِ جہاں
میں سے کسی نے نہیں کیا تھاo |
| 81.
إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّن
دُونِ النِّسَاءِ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُونَO |
| 81. بیشک
تم نفسانی خواہش کے لئے عورتوں کو چھوڑ کر مَردوں کے پاس آتے ہو بلکہ تم حد
سے گزر جانے والے ہوo |
| 82.
وَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلاَّ أَن
قَالُواْ أَخْرِجُوهُم مِّن قَرْيَتِكُمْ إِنَّهُمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَO |
| 82. اور ان
کی قوم کا سوائے اس کے کوئی جواب نہ تھا کہ وہ کہنے لگے: ان کو بستی سے
نکال دو بیشک یہ لوگ بڑے پاکیزگی کے طلب گار ہیںo |
| 83.
فَأَنْجَيْنَاهُ وَأَهْلَهُ إِلاَّ امْرَأَتَهُ
كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَO |
| 83. پس ہم
نے ان کو (یعنی لوط علیہ السلام کو) اور ان کے اہلِ خانہ کو نجات دے دی
سوائے ان کی بیوی کے، وہ عذاب میں پڑے رہنے والوں میں سے تھیo |
| 84.
وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًا فَانظُرْ
كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِينَO |
| 84. اور ہم
نے ان پر (پتھروں کی) بارش کر دی سو آپ دیکھئے کہ مجرموں کا انجام کیسا ہواo |
| 85.
وَإِلَى مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا قَالَ يَا
قَوْمِ اعْبُدُواْ اللّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـهٍ غَيْرُهُ قَدْ
جَاءَتْكُم بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ فَأَوْفُواْ الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ
وَلاَ تَبْخَسُواْ النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ وَلاَ تُفْسِدُواْ فِي الْأَرْضِ
بَعْدَ إِصْلاَحِهَا ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَO |
| 85. اور
مدین کی طرف (ہم نے) ان کے (قومی) بھائی شعیب (علیہ السلام) کو (بھیجا)،
انہوں نے کہا: اے میری قوم! تم اﷲ کی عبادت کیا کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی
معبود نہیں، بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے روشن دلیل آچکی ہے سو تم
ماپ اور تول پورے کیا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دیا کرو اور
زمین میں اس (کے ماحولِ حیات) کی اصلاح کے بعد فساد بپا نہ کیا کرو، یہ
تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم (اس الُوہی پیغام کو) ماننے والے ہوo |
| 86.
وَلاَ تَقْعُدُواْ بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوعِدُونَ
وَتَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللّهِ مَنْ آمَنَ بِهِ وَتَبْغُونَهَا عِوَجًا
وَاذْكُرُواْ إِذْ كُنتُمْ قَلِيلاً فَكَثَّرَكُمْ وَانظُرُواْ كَيْفَ
كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَO |
| 86. اور تم
ہر راستہ پر اس لئے نہ بیٹھا کرو کہ تم ہر اس شخص کو جو اس (دعوت) پر ایمان
لے آیا ہے خوفزدہ کرو اور (اسے) اﷲ کی راہ سے روکو اور اس (دعوت) میں کجی
تلاش کرو (تاکہ اسے دینِ حق سے برگشتہ اور متنفر کر سکو) اور (اﷲ کا احسان)
یاد کرو جب تم تھوڑے تھے تو اس نے تمہیں کثرت بخشی، اور دیکھو فساد پھیلانے
والوں کا انجام کیسا ہواo |
| 87.
وَإِن كَانَ طَآئِفَةٌ مِّنكُمْ آمَنُواْ
بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ وَطَآئِفَةٌ لَّمْ يُؤْمِنُواْ فَاصْبِرُواْ
حَتَّى يَحْكُمَ اللّهُ بَيْنَنَا وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَO |
| 87. اور
اگر تم میں سے کوئی ایک گروہ اس (دین) پر جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں
ایمان لے آیا ہے اور دوسرا گروہ ایمان نہیں لایا تو (اے ایمان والو!) صبر
کرو یہاں تک کہ اﷲ ہمارے درمیان فیصلہ فرما دے، اور وہ سب سے بہتر فیصلہ
فرمانے والا ہےo |