| 94.
يَعْتَذِرُونَ إِلَيْكُمْ إِذَا رَجَعْتُمْ
إِلَيْهِمْ قُل لاَّ تَعْتَذِرُواْ لَن نُّؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّأَنَا
اللّهُ مِنْ أَخْبَارِكُمْ وَسَيَرَى اللّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ ثُمَّ
تُرَدُّونَ إِلَى عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا
كُنتُمْ تَعْمَلُونَO |
| 94. (اے
مسلمانو!) وہ تم سے عذر خواہی کریں گے جب تم ان کی طرف (اس سفرِ تبوک سے)
پلٹ کر جاؤ گے، (اے حبیب!) آپ فرما دیجئے: بہانے مت بناؤ ہم ہرگز تمہاری
بات پر یقین نہیں کریں گے، ہمیں اﷲ نے تمہارے حالات سے باخبر کردیا ہے، اور
اب (آئندہ) تمہارا عمل (دنیا میں بھی) اﷲ دیکھے گا اور اس کا رسول (صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی (دیکھے گا) پھر تم (آخرت میں بھی) ہر پوشیدہ اور
ظاہر کو جاننے والے (رب) کی طرف لوٹائے جاؤ گے تو وہ تمہیں ان تمام (اعمال)
سے خبردار فرما دے گا جو تم کیا کرتے تھےo |
| 95.
سَيَحْلِفُونَ بِاللّهِ لَكُمْ إِذَا
انقَلَبْتُمْ إِلَيْهِمْ لِتُعْرِضُواْ عَنْهُمْ فَأَعْرِضُواْ عَنْهُمْ
إِنَّهُمْ رِجْسٌ وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ جَزَاءً بِمَا كَانُواْ
يَكْسِبُونَO |
| 95. اب وہ
تمہارے لئے اﷲ کی قََسمیں کھائیں گے جب تم ان کی طرف پلٹ کر جاؤ گے تاکہ تم
ان سے درگزر کرو، پس تم ان کی طرف التفات ہی نہ کرو بیشک وہ پلید ہیں اور
ان کا ٹھکانا جہنم ہے یہ اس کا بدلہ ہے جو وہ کمایا کرتے تھےo |
| 96.
يَحْلِفُونَ لَكُمْ لِتَرْضَوْاْ عَنْهُمْ فَإِن
تَرْضَوْاْ عَنْهُمْ فَإِنَّ اللّهَ لاَ يَرْضَى عَنِ الْقَوْمِ
الْفَاسِقِينَO |
| 96. یہ
تمہارے لئے قَسمیں کھاتے ہیں تاکہ تم ان سے راضی ہو جاؤ، سو (اے مسلمانو!)
اگرتم ان سے راضی بھی ہوجاؤ تو (بھی) اﷲ نافرمان قو م سے راضی نہیں ہوگاo |
| 97.
الأَعْرَابُ أَشَدُّ كُفْرًا وَنِفَاقًا
وَأَجْدَرُ أَلاَّ يَعْلَمُواْ حُدُودَ مَا أَنزَلَ اللّهُ عَلَى رَسُولِهِ
وَاللّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌO |
| 97. (یہ)
دیہاتی لوگ سخت کافر اور سخت منافق ہیں اور (اپنے کفر و نفاق کی شدت کے
باعث) اسی قابل ہیں کہ وہ ان حدود و احکام سے جاہل رہیں جو اللہ نے اپنے
رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل فرمائے ہیں، اور اﷲ خوب جاننے
والا، بڑی حکمت والا ہےo |
| 98.
وَمِنَ الأَعْرَابِ مَن يَتَّخِذُ مَا يُنفِقُ
مَغْرَمًا وَيَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَائِرَ عَلَيْهِمْ دَآئِرَةُ
السَّوْءِ وَاللّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌO |
| 98. اور ان
دیہاتی گنواروں میں سے وہ شخص (بھی) ہے جو اس (مال) کو تاوان قرار دیتا ہے
جسے وہ (راہِ خدا میں) خرچ کرتا ہے اور تم پر زمانہ کی گردشوں (یعنی مصائب
و آلام) کا انتظار کرتا رہتا ہے، (بَلا و مصیبت کی) بری گردش انہی پر ہے،
اور اﷲ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہےo |
| 99.
وَمِنَ الأَعْرَابِ مَن يُؤْمِنُ بِاللّهِ
وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَيَتَّخِذُ مَا يُنفِقُ قُرُبَاتٍ عِندَ اللّهِ
وَصَلَوَاتِ الرَّسُولِ أَلاَ إِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّهُمْ سَيُدْخِلُهُمُ
اللّهُ فِي رَحْمَتِهِ إِنَّ اللّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌO |
| 99. اور
بادیہ نشینوں میں (ہی) وہ شخص (بھی) ہے جو اﷲ پر اور یومِ آخرت پر ایمان
رکھتا ہے اور جو کچھ (راہِ خدا میں) خرچ کرتاہے اسے اﷲ کے حضور تقرب اور
رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی (رحمت بھری) دعائیں لینے کا ذریعہ
سمجھتا ہے، سن لو! بیشک وہ ان کے لئے باعثِ قربِ الٰہی ہے، جلد ہی اﷲ انہیں
اپنی رحمت میں داخل فرما دے گا۔ بیشک اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہےo |
| 100.
وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ
الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ
رَّضِيَ اللّهُ عَنْهُمْ وَرَضُواْ عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ
تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ
الْفَوْزُ الْعَظِيمُO |
| 100. اور
مہاجرین اور ان کے مددگار (انصار) میں سے سبقت لے جانے والے، سب سے پہلے
ایمان لانے والے اور درجۂ احسان کے ساتھ اُن کی پیروی کرنے والے، اللہ ان
(سب) سے راضی ہوگیا اور وہ (سب) اس سے راضی ہوگئے اور اس نے ان کے لئے
جنتیں تیار فرما رکھی ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ
ہمیشہ رہنے والے ہیں، یہی زبردست کامیابی ہےo |
| 101.
وَمِمَّنْ حَوْلَكُم مِّنَ الْأَعْرَابِ
مُنَافِقُونَ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُواْ عَلَى النِّفَاقِ لاَ
تَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ سَنُعَذِّبُهُم مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ
يُرَدُّونَ إِلَى عَذَابٍ عَظِيمٍO |
| 101. اور
(مسلمانو!) تمہارے گرد و نواح کے دیہاتی گنواروں میں بعض منافق ہیں اور بعض
باشندگانِ مدینہ بھی، یہ لوگ نفاق پر اڑے ہوئے ہیں، آپ انہیں (اب تک) نہیں
جانتے، ہم انہیں جانتے ہیں (بعد میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی
جملہ منافقین کا علم اور معرفت عطا کر دی گئی)۔ عنقریب ہم انہیں دو مرتبہ
(دنیا ہی میں) عذاب دیں گے٭ پھر وہ (قیامت میں) بڑے عذاب کی طرف پلٹائے
جائیں گےo |
| ٭ ایک بار جب
ان کی پہچان کرا دی گئی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبۂ جمعہ کے
دوران ان منافقین کو نام لے لے کر مسجد سے نکال دیا، یہ پہلا عذاب بصورتِ
ذلت و رسوائی تھا؛ اور دوسرا عذاب بصورتِ ہلاکت و مُقاتلہ ہوا جس کا حکم
بعد میں آیا۔ |
| 102.
وَآخَرُونَ اعْتَرَفُواْ بِذُنُوبِهِمْ
خَلَطُواْ عَمَلاً صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا عَسَى اللّهُ أَن يَتُوبَ
عَلَيْهِمْ إِنَّ اللّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌO |
| 102. اور
دوسرے وہ لو گ کہ (جنہوں نے) اپنے گناہوں کا اعتراف کر لیا ہے انہوں نے کچھ
نیک عمل اور دوسرے برے کاموں کو (غلطی سے) ملا جلا دیا ہے، قریب ہے کہ اﷲ
ان کی توبہ قبول فرمالے، بیشک اﷲ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہےo |
| 103.
خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ
وَتُزَكِّيهِم بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاَتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ
وَاللّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌO |
| 103. آپ ان
کے اموال میں سے صدقہ (زکوٰۃ) وصول کیجئے کہ آپ اس (صدقہ) کے باعث انہیں
(گناہوں سے) پاک فرما دیں اور انہیں (ایمان و مال کی پاکیزگی سے) برکت بخش
دیں اور ان کے حق میں دعا فرمائیں، بیشک آپ کی دعا ان کے لئے (باعثِ) تسکین
ہے، اور اﷲ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہےo |
| 104.
أَلَمْ يَعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ هُوَ يَقْبَلُ
التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ وَأَنَّ اللّهَ هُوَ
التَّوَّابُ الرَّحِيمُO |
| 104. کیا
وہ نہیں جانتے کہ بیشک اﷲ ہی تو اپنے بندوں سے (ان کی) توبہ قبول فرماتا ہے
اور صدقات (یعنی زکوٰۃ و خیرات اپنے دستِ قدرت سے) وصول فرماتا ہے اور یہ
کہ اﷲ ہی بڑا توبہ قبول فرمانے والا نہایت مہربان ہے؟o |
| 105.
وَقُلِ اعْمَلُواْ فَسَيَرَى اللّهُ عَمَلَكُمْ
وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ وَسَتُرَدُّونَ إِلَى عَالِمِ الْغَيْبِ
وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَO |
| 105. اور
فرما دیجئے: تم عمل کرو، سو عنقریب تمہارے عمل کو اﷲ (بھی) دیکھ لے گا اور
اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی) اور اہلِ ایمان (بھی)، اور تم
عنقریب ہر پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والے (رب) کی طرف لوٹائے جاؤ گے، سو وہ
تمہیں ان اعمال سے خبردار فرما دے گا جو تم کرتے رہتے تھےo |
| 106.
وَآخَرُونَ مُرْجَوْنَ لِأَمْرِ اللّهِ إِمَّا
يُعَذِّبُهُمْ وَإِمَّا يَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَاللّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌO |
| 106. اور
کچھ دوسرے (بھی) ہیں جو اللہ کے (آئندہ) حکم کے لئے مؤخر رکھے گئے ہیں وہ
یا تو انہیں عذاب دے گا یا ان کی توبہ قبول فرمالے گا، اور اﷲ خوب جاننے
والا بڑی حکمت والا ہےo |
| 107.
وَالَّذِينَ اتَّخَذُواْ مَسْجِدًا ضِرَارًا
وَكُفْرًا وَتَفْرِيقًا بَيْنَ الْمُؤْمِنِينَ وَإِرْصَادًا لِّمَنْ
حَارَبَ اللّهَ وَرَسُولَهُ مِن قَبْلُ وَلَيَحْلِفُنَّ إِنْ أَرَدْنَا
إِلاَّ الْحُسْنَى وَاللّهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَO |
| 107. اور
(منافقین میں سے وہ بھی ہیں) جنہوں نے ایک مسجد تیار کی ہے (مسلمانوں کو)
نقصان پہنچانے اور کفر (کو تقویت دینے) اور اہلِ ایمان کے درمیان تفرقہ
پیدا کرنے اور اس شخص کی گھات کی جگہ بنانے کی غرض سے جو اﷲ اور اس کے رسول
(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے ہی سے جنگ کر رہا ہے، اور وہ ضرور
قَسمیں کھائیں گے کہ ہم نے (اس مسجد کے بنانے سے) سوائے بھلائی کے اور کوئی
ارادہ نہیں کیا، اور اﷲ گواہی دیتا ہے کہ وہ یقیناً جھوٹے ہیںo |
| 108.
لاَ تَقُمْ فِيهِ أَبَدًا لَّمَسْجِدٌ أُسِّسَ
عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِ فِيهِ
رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُواْ وَاللّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَO |
| 108. (اے
حبیب!) آپ اس (مسجد کے نام پر بنائی گئی عمارت) میں کبھی بھی کھڑے نہ ہوں۔
البتہ وہ مسجد، جس کی بنیاد پہلے ہی دن سے تقوٰی پر رکھی گئی ہے، حق دار ہے
کہ آپ اس میں قیام فرما ہوں۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو (ظاہراً و باطناً) پاک
رہنے کو پسند کرتے ہیں، اور اﷲ طہارت شعار لوگوں سے محبت فرماتا ہےo |
| 109.
أَفَمَنْ أَسَّسَ بُنْيَانَهُ عَلَى تَقْوَى
مِنَ اللّهِ وَرِضْوَانٍ خَيْرٌ أَم مَّنْ أَسَّسَ بُنْيَانَهُ عَلَىَ
شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ وَاللّهُ لاَ
يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَO |
| 109. بھلا
وہ شخص جس نے اپنی عمارت (یعنی مسجد) کی بنیاد اللہ سے ڈرنے او ر (اس کی)
رضا و خوشنودی پر رکھی، بہتر ہے یا وہ شخص جس نے اپنی عمارت کی بنیاد ایسے
گڑھے کے کنارے پر رکھی جو گرنے والا ہے۔ سو وہ (عمارت) اس معمار کے ساتھ ہی
آتشِ دوزخ میں گر پڑی، اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں فرماتاo |
| 110.
لاَ يَزَالُ بُنْيَانُهُمُ الَّذِي بَنَوْاْ
رِيبَةً فِي قُلُوبِهِمْ إِلاَّ أَن تَقَطَّعَ قُلُوبُهُمْ وَاللّهُ
عَلِيمٌ حَكِيمٌO |
| 110. ان کی
عمارت جسے انہوں نے (مسجد کے نام پر) بنا رکھا ہے ہمیشہ ان کے دلوں میں (شک
اور نفاق کے باعث) کھٹکتی رہے گی سوائے اس کے کہ ان کے دل (مسلسل خراش کی
وجہ سے) پارہ پارہ ہو جائیں، اور اﷲ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہےo |
| 111.
إِنَّ اللّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي
سَبِيلِ اللّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي
التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ مِنَ
اللّهِ فَاسْتَبْشِرُواْ بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُم بِهِ وَذَلِكَ
هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُO |
| 111. بیشک
اﷲ نے اہلِ ایمان سے ان کی جانیں اور ان کے مال، ان کے لئے جنت کے عوض خرید
لئے ہیں، (اب) وہ اللہ کی راہ میں قتال کرتے ہیں، سو وہ (حق کی خاطر) قتل
کرتے ہیں اور (خود بھی) قتل کئے جاتے ہیں۔ (اﷲ نے) اپنے ذمۂ کرم پر پختہ
وعدہ (لیا) ہے، تَورات میں (بھی) انجیل میں (بھی) اور قرآن میں (بھی)، اور
کون اپنے وعدہ کو اﷲ سے زیادہ پورا کرنے والا ہے، سو (ایمان والو!) تم اپنے
سودے پر خوشیاں مناؤ جس کے عوض تم نے (جان و مال کو) بیچا ہے، اور یہی تو
زبردست کامیابی ہےo |
| 112.
التَّائِبُونَ الْعَابِدُونَ الْحَامِدُونَ
السَّائِحُونَ الرَّاكِعُونَ السَّاجِدونَ الْآمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ
وَالنَّاهُونَ عَنِ الْمُنكَرِ وَالْحَافِظُونَ لِحُدُودِ اللّهِ وَبَشِّرِ
الْمُؤْمِنِينَO |
| 112. (یہ
مومنین جنہوں نے اللہ سے اُخروی سودا کر لیا ہے) توبہ کرنے والے، عبادت
گذار، (اللہ کی) حمد و ثنا کرنے والے، دنیوی لذتوں سے کنارہ کش روزہ دار،
(خشوع و خضوع سے) رکوع کرنے والے، (قربِ الٰہی کی خاطر) سجود کرنے والے،
نیکی کاحکم کرنے والے اور برائی سے روکنے والے اور اللہ کی (مقرر کردہ)
حدود کی حفاظت کرنے والے ہیں، اور ان اہلِ ایمان کو خوشخبری سنا دیجئےo |
| 113.
مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُواْ أَن
يَسْتَغْفِرُواْ لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُواْ أُوْلِي قُرْبَى مِن
بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِO |
| 113. نبی
(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ایمان والوں کی شان کے لائق نہیں کہ مشرکوں
کے لئے دعائے مغفرت کریں اگرچہ وہ قرابت دار ہی ہوں اس کے بعد کہ ان کے لئے
واضح ہو چکا کہ وہ (مشرکین) اہلِ جہنم ہیںo |
| 114.
وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ
لِأَبِيهِ إِلاَّ عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ
لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ
لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌO |
| 114. اور
ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے باپ (یعنی چچا آزر، جس نے آپ کو پالا تھا)
کے لئے دعائے مغفرت کرنا صرف اس وعدہ کی غرض سے تھا جو وہ اس سے کر چکے
تھے، پھر جب ان پر یہ ظاہر ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے بے زار
ہوگئے (اس سے لاتعلق ہوگئے اور پھر کبھی اس کے حق میں دعا نہ کی)۔ بیشک
ابراہیم (علیہ السلام) بڑے دردمند (گریہ و زاری کرنے والے اور) نہایت
بردبار تھےo |
| 115.
وَمَا كَانَ اللّهُ لِيُضِلَّ قَوْمًا بَعْدَ
إِذْ هَدَاهُمْ حَتَّى يُبَيِّنَ لَهُم مَّا يَتَّقُونَ إِنَّ اللّهَ
بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌO |
| 115. اور
اللہ کی شان نہیں کہ وہ کسی قوم کو گمراہ کر دے اس کے بعد کہ اس نے انہیں
ہدایت سے نواز دیا ہو، یہاں تک کہ وہ ان کے لئے وہ چیزیں واضح فرما دے جن
سے انہیں پرہیزکرنا چاہئے، بیشک اﷲ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہےo |
| 116.
إِنَّ اللّهَ لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ
وَالْأَرْضِ يُحْيِـي وَيُمِيتُ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ اللّهِ مِن وَلِيٍّ
وَلاَ نَصِيرٍO |
| 116. بیشک
اللہ ہی کے لئے آسمانوں اور زمین کی ساری بادشاہی ہے، (وہی) جِلاتا اور
مارتا ہے، اور تمہارے لئے اﷲ کے سوا نہ کوئی دوست ہے اور نہ کوئی مددگار
(جو اَمرِ الہٰی کے خلاف تمہاری حمایت کر سکےo |
| 117.
لَقَد تَّابَ الله عَلَى النَّبِيِّ
وَالْمُهَاجِرِينَ وَالأَنصَارِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ
الْعُسْرَةِ مِن بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ
تَابَ عَلَيْهِمْ إِنَّهُ بِهِمْ رَؤُوفٌ رَّحِيمٌO |
| 117.
یقیناً اﷲ نے نبی (معظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر رحمت سے توجہ فرمائی
اور ان مہاجرین اور انصار پر (بھی) جنہوں نے (غزوۂ تبوک کی) مشکل گھڑی میں
(بھی) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی کی اس (صورتِ حال) کے بعد کہ
قریب تھا کہ ان میں سے ایک گروہ کے دل پھر جاتے، پھر وہ ان پر لطف و رحمت
سے متوجہ ہوا، بیشک وہ ان پر نہایت شفیق، نہایت مہربان ہےo |
| 118.
وَعَلَى الثَّلاَثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُواْ
حَتَّى إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ
عَلَيْهِمْ أَنفُسُهُمْ وَظَنُّواْ أَن لاَّ مَلْجَأَ مِنَ اللّهِ إِلاَّ
إِلَيْهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوبُواْ إِنَّ اللّهَ هُوَ
التَّوَّابُ الرَّحِيمُO |
| 118. اور
ان تینوں شخصوں پر (بھی نظرِ رحمت فرما دی) جن (کے فیصلہ) کو مؤخر کیا گیا
تھا یہاں تک کہ جب زمین باوجود کشادگی کے ان پر تنگ ہوگئی اور (خود) ان کی
جانیں (بھی) ان پر دوبھر ہوگئیں اور انہیں یقین ہوگیا کہ اﷲ (کے عذاب) سے
پناہ کا کوئی ٹھکانا نہیں بجز اس کی طرف (رجوع کے)، تب اﷲ ان پر لطف وکرم
سے مائل ہوا تاکہ وہ (بھی) توبہ و رجوع پر قائم رہیں، بیشک اﷲ ہی بڑا توبہ
قبول فرمانے والا، نہایت مہربان ہےo |
| 119.
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اتَّقُواْ
اللّهَ وَكُونُواْ مَعَ الصَّادِقِينَO |
| 119. اے
ایمان والو! اﷲ سے ڈرتے رہو اور اہلِ صدق (کی معیت) میں شامل رہوo |
| 120.
مَا كَانَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ
حَوْلَهُم مِّنَ الْأَعْرَابِ أَن يَتَخَلَّفُواْ عَن رَّسُولِ اللّهِ
وَلاَ يَرْغَبُواْ بِأَنفُسِهِمْ عَن نَّفْسِهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ لاَ
يُصِيبُهُمْ ظَمَأٌ وَلاَ نَصَبٌ وَلاَ مَخْمَصَةٌ فِي سَبِيلِ اللّهِ
وَلاَ يَطَؤُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلاَ يَنَالُونَ مِنْ
عَدُوٍّ نَّيْلاً إِلاَّ كُتِبَ لَهُم بِهِ عَمَلٌ صَالِحٌ إِنَّ اللّهَ
لاَ يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَO |
| 120. اہلِ
مدینہ اور ان کے گرد و نواح کے (رہنے والے) دیہاتی لوگوں کے لئے مناسب نہ
تھا کہ وہ رسول اﷲ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے (الگ ہو کر) پیچھے رہ
جائیں اور نہ یہ کہ ان کی جانِ (مبارک) سے زیادہ اپنی جانوں سے رغبت رکھیں،
یہ (حکم) اس لئے ہے کہ انہیں اﷲ کی راہ میں جو پیاس (بھی) لگتی ہے اور جو
مشقت (بھی) پہنچتی ہے اور جو بھوک (بھی) لگتی ہے اور جو کسی ایسی جگہ پر
چلتے ہیں جہاں کاچلنا کافروں کو غضبناک کرتا ہے اور دشمن سے جو کچھ بھی
پاتے ہیں (خواہ قتل اور زخم ہو یا مالِ غنیمت وغیرہ) مگر یہ کہ ہر ایک بات
کے بدلہ میں ان کے لئے ایک نیک عمل لکھا جاتا ہے۔ بیشک اللہ نیکوکاروں کا
اَجر ضائع نہیں فرماتاo |
| 121.
وَلاَ يُنفِقُونَ نَفَقَةً صَغِيرَةً وَلاَ
كَبِيرَةً وَلاَ يَقْطَعُونَ وَادِيًا إِلاَّ كُتِبَ لَهُمْ لِيَجْزِيَهُمُ
اللّهُ أَحْسَنَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَO |
| 121. اور
نہ یہ کہ وہ (مجاہدین) تھوڑا خرچہ کرتے ہیں اور نہ بڑا اور نہ (ہی) کسی
میدان کو (راہِ خدا میں) طے کرتے ہیں مگر ان کے لئے (یہ سب صرف و سفر) لکھ
دیا جاتا ہے تاکہ اللہ انہیں (ہر اس عمل کی) بہتر جزا دے جو وہ کیا کرتے
تھےo |
| 122.
وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنفِرُواْ
كَآفَّةً فَلَوْلاَ نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآئِفَةٌ
لِّيَتَفَقَّهُواْ فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُواْ قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُواْ
إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَO |
| 122. اور
یہ تو ہو نہیں سکتا کہ سارے کے سارے مسلمان (ایک ساتھ) نکل کھڑے ہوں، تو ان
میں سے ہر ایک گروہ (یا قبیلہ) کی ایک جماعت کیوں نہ نکلے کہ وہ لوگ دین
میں تفقہ (یعنی خوب فہم و بصیرت) حاصل کریں اور وہ اپنی قوم کو ڈرائیں جب
وہ ان کی طرف پلٹ کر آئیں تاکہ وہ (گناہوں اور نافرمانی کی زندگی سے) بچیںo |
| 123.
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ قَاتِلُواْ
الَّذِينَ يَلُونَكُم مِّنَ الْكُفَّارِ وَلْيَجِدُواْ فِيكُمْ غِلْظَةً
وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَO |
| 123. اے
ایمان والو! تم کافروں میں سے ایسے لوگوں سے جنگ کرو جو تمہارے قریب ہیں
(یعنی جو تمہیں اور تمہارے دین کو براہِ راست نقصان پہنچا رہے ہیں) اور
(جہاد ایسا اور اس وقت ہو کہ) وہ تمہارے اندر (طاقت و شجاعت کی) سختی
پائیں، اورجان لو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہےo |
| 124.
وَإِذَا مَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ فَمِنْهُم مَّن
يَقُولُ أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَـذِهِ إِيمَانًا فَأَمَّا الَّذِينَ
آمَنُواْ فَزَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَهُمْ يَسْتَبْشِرُونَO |
| 124. اور
جب بھی کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو ان (منافقوں) میں سے بعض (شرارتاً) یہ
کہتے ہیں کہ تم میں سے کون ہے جسے اس (سورت) نے ایمان میں زیادتی بخشی ہے،
پس جو لوگ ایمان لے آئے ہیں سو اس (سورت) نے ان کے ایمان کو زیادہ کردیا
اور وہ (اس کیفیتِ ایمانی پر) خوشیاں مناتے ہیںo |
| 125.
وَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ
فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا إِلَى رِجْسِهِمْ وَمَاتُواْ وَهُمْ كَافِرُونَO |
| 125. اور
جن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے تو اس (سورت) نے ان کی خباثتِ (کفر و نفاق)
پر مزید پلیدی (اور خباثت) بڑھا دی اور وہ اس حالت میں مرے کہ کافر ہی تھےo |
| 126.
أَوَلاَ يَرَوْنَ أَنَّهُمْ يُفْتَنُونَ فِي
كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ لاَ يَتُوبُونَ وَلاَ هُمْ
يَذَّكَّرُونَO |
| 126. کیا
وہ نہیں دیکھتے کہ وہ ہر سال میں ایک بار یا دو بار مصیبت میں مبتلا کئے
جاتے ہیں پھر (بھی) وہ توبہ نہیں کرتے اور نہ ہی وہ نصیحت پکڑتے ہیںo |
| 127.
وَإِذَا مَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ نَّظَرَ
بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ هَلْ يَرَاكُم مِّنْ أَحَدٍ ثُمَّ انصَرَفُواْ
صَرَفَ اللّهُ قُلُوبَهُم بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لاَّ يَفْقَهُونO |
| 127. اورجب
بھی کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں، (اور
اشاروں سے پوچھتے ہیں) کہ کیا تمہیں کوئی دیکھ تو نہیں رہا پھر وہ پلٹ جاتے
ہیں۔ اللہ نے ان کے دلوں کو پلٹ دیا ہے کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو سمجھ نہیں
رکھتےo |
| 128.
لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ
عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ
رَؤُوفٌ رَّحِيمٌO |
| 128. بیشک
تمہارے پاس تم میں سے (ایک باعظمت) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف
لائے۔ تمہارا تکلیف و مشقت میں پڑنا ان پر سخت گراں (گزرتا) ہے۔ (اے لوگو!)
وہ تمہارے لئے (بھلائی اور ہدایت کے) بڑے طالب و آرزو مند رہتے ہیں (اور)
مومنوں کے لئے نہایت (ہی) شفیق بے حد رحم فرمانے والے ہیںo |
| 129.
فَإِن تَوَلَّوْاْ فَقُلْ حَسْبِيَ اللّهُ لاَ
إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ
الْعَظِيمِO |
| 129. اگر
(ان بے پناہ کرم نوازیوں کے باوجود) پھر (بھی) وہ روگردانی کریں تو فرما
دیجئے: مجھے اللہ کافی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں اسی پر بھروسہ
کئے ہوئے ہوں اور وہ عرشِ عظیم کا مالک ہےo |
سُورة
يُوْنـُس
|
|
سورت : مکي |
ترتيب تلاوت : 10 |
ترتيب نزولي : 51 |
رکوع : 11 |
آيات : 109 |
پارہ نمبر : 11 |
|
 |
| 1.
الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْحَكِيمِO |
| 1. الف،
لام، را (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے
ہیں)، یہ حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیںo |
| 2.
أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَا
إِلَى رَجُلٍ مِّنْهُمْ أَنْ أَنذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ
آمَنُواْ أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِندَ رَبِّهِمْ قَالَ الْكَافِرُونَ
إِنَّ هَـذَا لَسَاحِرٌ مُّبِينٌO |
| 2. کیا یہ
بات لوگوں کے لئے تعجب خیز ہے کہ ہم نے انہی میں سے ایک مردِ (کامل) کی طرف
وحی بھیجی کہ آپ (بھولے بھٹکے ہوئے) لوگوں کو (عذابِ الٰہی کا) ڈر سنائیں
اور ایمان والوں کو خوشخبری سنائیں کہ ان کے لئے ان کے رب کی بارگاہ میں
بلند پایہ (یعنی اونچا مرتبہ) ہے، کافر کہنے لگے: بیشک یہ شخص تو کھلا
جادوگر ہےo |
| 3.
إِنَّ رَبَّكُمُ اللّهُ الَّذِي خَلَقَ
السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى
الْعَرْشِ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مَا مِن شَفِيعٍ إِلاَّ مِن بَعْدِ إِذْنِهِ
ذَلِكُمُ اللّهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ أَفَلاَ تَذَكَّرُونَO |
| 3. یقیناً
تمہارا رب اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین (کی بالائی و زیریں کائنات) کو
چھ دنوں (یعنی چھ مدتوں یا مرحلوں) میں (تدریجاً) پیدا فرمایا پھر وہ عرش
پر (اپنی شان کے مطابق اپنے اقتدار کے ساتھ) جلوہ افروز ہوا (یعنی تخلیقِ
کائنات کے بعد اس کے تمام عوالم اور اَجرام میں اپنے قانون اور نظام کے
اجراء کی صورت میں متمکن ہوا) وہی ہر کام کی تدبیر فرماتا ہے (یعنی ہر چیز
کو ایک نظام کے تحت چلاتا ہے۔ اس کے حضور) اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش
کرنے والا نہیں، یہی (عظمت و قدرت والا) اللہ تمہارا رب ہے، سو تم اسی کی
عبادت کرو، پس کیا تم (قبولِ نصیحت کے لئے) غور نہیں کرتےo |
| 4.
إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا وَعْدَ اللّهِ
حَقًّا إِنَّهُ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ
آمَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ بِالْقِسْطِ وَالَّذِينَ كَفَرُواْ
لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِيمٍ وَعَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُواْ
يَكْفُرُونَO |
| 4. (لوگو!)
تم سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (یہ) اللہ کا سچا وعدہ ہے۔ بیشک وہی
پیدائش کی ابتداء کرتا ہے پھر وہی اسے دہرائے گا تاکہ ان لوگوں کو جو ایمان
لائے اور نیک عمل کئے، انصاف کے ساتھ جزا دے، اور جن لوگوں نے کفر کیا ان
کے لئے پینے کو کھولتا ہوا پانی اور دردناک عذاب ہے، اس کا بدلہ جو وہ کفر
کیا کرتے تھےo |
| 5.
هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً
وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُواْ عَدَدَ السِّنِينَ
وَالْحِسَابَ مَا خَلَقَ اللّهُ ذَلِكَ إِلاَّ بِالْحَقِّ يُفَصِّلُ
الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَO |
| 5. وہی ہے
جس نے سورج کو روشنی (کا منبع) بنایا اور چاند کو (اس سے) روشن (کیا) اور
اس کے لئے (کم و بیش دکھائی دینے کی) منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کا
شمار اور (اوقات کا) حساب معلوم کر سکو، اور اللہ نے یہ (سب کچھ) نہیں پیدا
فرمایا مگر درست تدبیر کے ساتھ، وہ (ان کائناتی حقیقتوں کے ذریعے اپنی
خالقیت، وحدانیت اور قدرت کی) نشانیاں ان لوگوں کے لئے تفصیل سے واضح
فرماتا ہے جو علم رکھتے ہیںo |
| 6.
إِنَّ فِي اخْتِلاَفِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ
وَمَا خَلَقَ اللّهُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ
يَتَّقُونَO |
| 6. بیشک
رات اور دن کے بدلتے رہنے میں اور ان (جملہ) چیزوں میں جو اللہ نے آسمانوں
اور زمین میں پیدا فرمائی ہیں (اسی طرح) ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو
تقوٰی رکھتے ہیںo |
| 7.
إِنَّ الَّذِينَ لاَ يَرْجُونَ لِقَاءَنَا
وَرَضُواْ بِالْحَياةِ الدُّنْيَا وَاطْمَأَنُّواْ بِهَا وَالَّذِينَ هُمْ
عَنْ آيَاتِنَا غَافِلُونَO |
| 7. بیشک جو
لوگ ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے اور دنیوی زندگی سے خوش ہیں اور اسی سے
مطمئن ہوگئے ہیں اور جو ہماری نشانیوں سے غافل ہیںo |
| 8.
أُوْلَـئِكَ مَأْوَاهُمُ النَّارُ بِمَا
كَانُواْ يَكْسِبُونَO |
| 8. انہی
لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے ان اعمال کے بدلہ میں جو وہ کماتے رہےo |
| 9.
إِنَّ الَّذِينَ آمَنُواْ وَعَمِلُواْ
الصَّالِحَاتِ يَهْدِيهِمْ رَبُّهُمْ بِإِيمَانِهِمْ تَجْرِي مِن
تَحْتِهِمُ الْأَنْهَارُ فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِO |
| 9. بیشک جو
لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے انہیں ان کا رب ان کے ایمان کے باعث
(جنتوں تک) پہنچا دے گا، جہاں ان (کی رہائش گاہوں) کے نیچے سے نہریں بہہ
رہی ہوں گی (یہ ٹھکانے) اُخروی نعمت کے باغات میں (ہوں گے)o |
| 10.
دَعْوَاهُمْ فِيهَا سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ
وَتَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلاَمٌ وَآخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلّهِ
رَبِّ الْعَالَمِينَO |
| 10.
(نعمتوں اور بہاروں کو دیکھ کر) ان (جنتوں) میں ان کی دعا (یہ) ہوگی: ”اے
اللہ! تو پاک ہے“ اور اس میں ان کی آپس میں دعائے خیر (کا کلمہ) ”سلام“
ہوگا (یا اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کی طرف سے ان کے لئے کلمۂ استقبال ”سلام“
ہوگا) اور ان کی دعا (ان کلمات پر) ختم ہوگی کہ ”تمام تعریفیں اللہ کے لئے
ہیں جو سب جہانوں کا پروردگار ہے“o |
| 11.
وَلَوْ يُعَجِّلُ اللّهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ
اسْتِعْجَالَهُم بِالْخَيْرِ لَقُضِيَ إِلَيْهِمْ أَجَلُهُمْ فَنَذَرُ
الَّذِينَ لاَ يَرْجُونَ لِقَاءَنَا فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَO |
| 11. اور
اگر اللہ (ان کافر) لوگوں کو برائی (یعنی عذاب) پہنچانے میں جلدبازی کرتا،
جیسے وہ طلبِ نعمت میں جلدبازی کرتے ہیں تو یقیناً ان کی میعادِ (عمر) ان
کے حق میں (جلد) پوری کردی گئی ہوتی (تاکہ وہ مَر کے جلد دوزخ میں پہنچیں)،
بلکہ ہم ایسے لوگوں کو جو ہم سے ملاقات کی توقع نہیں رکھتے ان کی سرکشی میں
چھوڑے رکھتے ہیں کہ وہ بھٹکتے رہیںo |
| 12.
وَإِذَا مَسَّ الْإِنسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا
لِجَنبِهِ أَوْ قَاعِدًا أَوْ قَآئِمًا فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهُ
مَرَّ كَأَن لَّمْ يَدْعُنَا إِلَى ضُرٍّ مَّسَّهُ كَذَلِكَ زُيِّنَ
لِلْمُسْرِفِينَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَO |
| 12. اور جب
(ایسے) انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ہمیں اپنے پہلو پر لیٹے یا
بیٹھے یا کھڑے پکارتا ہے، پھر جب ہم اس سے اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں تو
وہ (ہمیں بھلا کر اس طرح) چل دیتا ہے گویا اس نے کسی تکلیف میں جو اسے
پہنچی تھی ہمیں (کبھی) پکارا ہی نہیں تھا۔ اسی طرح حد سے بڑھنے والوں کے
لئے ان کے (غلط) اَعمال آراستہ کر کے دکھائے گئے ہیں جو وہ کرتے رہے تھےo |
| 13.
وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ مِن قَبْلِكُمْ
لَمَّا ظَلَمُواْ وَجَاءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ وَمَا كَانُواْ
لِيُؤْمِنُواْ كَذَلِكَ نَجْزِي الْقَوْمَ الْمُجْرِمِينَO |
| 13. اور
بیشک ہم نے تم سے پہلے (بھی بہت سی) قوموں کو ہلاک کر دیا جب انہوں نے ظلم
کیا، اور ان کے رسول ان کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے مگر وہ ایمان لاتے
ہی نہ تھے، اسی طرح ہم مجرم قوم کو (ان کے عمل کی) سزا دیتے ہیںo |
| 14.
ثُمَّ جَعَلْنَاكُمْ خَلاَئِفَ فِي الْأَرْضِ
مِن بَعْدِهِم لِنَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَO |
| 14. پھر ہم
نے ان کے بعد تمہیں زمین میں (ان کا) جانشین بنایا تاکہ ہم دیکھیں کہ (اب)
تم کیسے عمل کرتے ہوo |
| 15.
وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا
بَيِّنَاتٍ قَالَ الَّذِينَ لاَ يَرْجُونَ لِقَاءَنَا ائْتِ بِقُرْآنٍ
غَيْرِ هَـذَا أَوْ بَدِّلْهُ قُلْ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أُبَدِّلَهُ مِن
تِلْقَاءِ نَفْسِي إِنْ أَتَّبِعُ إِلاَّ مَا يُوحَى إِلَيَّ إِنِّي
أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍO |
| 15. اور جب
ان پر ہماری روشن آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ لوگ جو ہم سے ملاقات کی
توقع نہیں رکھتے، کہتے ہیں کہ اس (قرآن) کے سوا کوئی اور قرآن لے آئیے یا
اسے بدل دیجئے، (اے نبیِ مکرّم!) فرما دیں: مجھے حق نہیں کہ میں اسے اپنی
طرف سے بدل دوں، میں تو فقط جو میری طرف وحی کی جاتی ہے (اس کی) پیروی کرتا
ہوں، اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو بیشک میں بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا
ہوںo |
| 16.
قُل لَّوْ شَاءَ اللّهُ مَا تَلَوْتُهُ
عَلَيْكُمْ وَلاَ أَدْرَاكُم بِهِ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِّن
قَبْلِهِ أَفَلاَ تَعْقِلُونَO |
| 16. فرما
دیجئے: اگر اللہ چاہتا تو نہ ہی میں اس (قرآن) کو تمہارے اوپر تلاوت کرتا
اور نہ وہ (خود) تمہیں اس سے باخبر فرماتا، بیشک میں اس (قرآن کے اترنے) سے
قبل (بھی) تمہارے اندر عمر (کا ایک حصہ) بسر کرچکا ہوں، سو کیا تم عقل نہیں
رکھتےo |
| 17.
فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللّهِ
كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِآيَاتِهِ إِنَّهُ لاَ يُفْلِحُ الْمُجْرِمُونَO |
| 17. پس اس
شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھے یا اس کی آیتوں
کو جھٹلا دے۔ بیشک مجرم لوگ فلاح نہیں پائیں گےo |
| 18.
وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللّهِ مَا لاَ
يَضُرُّهُمْ وَلاَ يَنفَعُهُمْ وَيَقُولُونَ هَـؤُلاَءِ شُفَعَاؤُنَا عِندَ
اللّهِ قُلْ أَتُنَبِّئُونَ اللّهَ بِمَا لاَ يَعْلَمُ فِي السَّمَاوَاتِ
وَلاَ فِي الْأَرْضِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَO |
| 18. اور
(مشرکین) اللہ کے سوا ان (بتوں) کو پوجتے ہیں جو نہ انہیں نقصان پہنچا سکتے
ہیں اور نہ انہیں نفع پہنچا سکتے ہیں اور (اپنی باطل پوجا کے جواز میں)
کہتے ہیں کہ یہ (بت) اللہ کے حضور ہمارے سفارشی ہیں، فرما دیجئے: کیا تم
اللہ کو اس (شفاعتِ اَصنام کے من گھڑت) مفروضہ سے آگاہ کر رہے ہو جس (کے
وجود) کو وہ نہ آسمانوں میں جانتا ہے اور نہ زمین میں (یعنی اس کی بارگاہ
میں کسی بت کا سفارش کرنا اس کے علم میں نہیں ہے)۔ اس کی ذات پاک ہے اور وہ
ان سب چیزوں سے بلند و بالا ہے جنہیں یہ (اس کا) شریک گردانتے ہیںo |
| 19.
وَمَا كَانَ النَّاسُ إِلاَّ أُمَّةً وَاحِدَةً
فَاخْتَلَفُواْ وَلَوْلاَ كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَقُضِيَ
بَيْنَهُمْ فِيمَا فِيهِ يَخْتَلِفُونَO |
| 19. اور
سارے لوگ (ابتداء) میں ایک ہی جماعت تھے پھر(باہم اختلاف کر کے) جدا جدا ہو
گئے، اور اگر آپ کے رب کی طرف سے ایک بات پہلے سے طے نہ ہوچکی ہوتی (کہ
عذاب میں جلد بازی نہیں ہوگی) تو ان کے درمیان ان باتوں کے بارے میں فیصلہ
کیا جا چکا ہوتا جن میں وہ اختلاف کرتے ہیںo |
| 20.
وَيَقُولُونَ لَوْلاَ أُنزِلَ عَلَيْهِ آيَةٌ
مِّن رَّبِّهِ فَقُلْ إِنَّمَا الْغَيْبُ لِلّهِ فَانْتَظِرُواْ إِنِّي
مَعَكُم مِّنَ الْمُنتَظِرِينَO |
| 20. اور وہ
(اب اسی مہلت کی وجہ سے) کہتے ہیں کہ اس (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر
ان کے رب کی طرف سے کوئی (فیصلہ کن) نشانی کیوں نازل نہیں کی گئی، آپ فرما
دیجئے: غیب تو محض اللہ ہی کے لئے ہے، سو تم انتظار کرو میں بھی تمہارے
ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوںo |
| 21.
وَإِذَا أَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِّن
بَعْدِ ضَرَّاءَ مَسَّتْهُمْ إِذَا لَهُم مَّكْرٌ فِي آيَاتِنَا قُلِ
اللّهُ أَسْرَعُ مَكْرًا إِنَّ رُسُلَنَا يَكْتُبُونَ مَا تَمْكُرُونَO |
| 21. اور جب
ہم لوگوں کو تکلیف پہنچنے کے بعد (اپنی) رحمت سے لذت آشنا کرتے ہیں تو
فوراً (ہمارے احسان کو بھول کر) ہماری نشانیوں میں ان کا مکر و فریب (شروع)
ہو جاتا ہے۔ فرما دیجئے: اللہ مکر کی سزا جلد دینے والا ہے۔ بیشک ہمارے
بھیجے ہوئے فرشتے، جو بھی فریب تم کر رہے ہو (اسے) لکھتے رہتے ہیںo |
| 22.
هُوَ الَّذِي يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ
وَالْبَحْرِ حَتَّى إِذَا كُنتُمْ فِي الْفُلْكِ وَجَرَيْنَ بِهِم بِرِيحٍ
طَيِّبَةٍ وَفَرِحُواْ بِهَا جَاءَتْهَا رِيحٌ عَاصِفٌ وَجَاءَهُمُ
الْمَوْجُ مِن كُلِّ مَكَانٍ وَظَنُّواْ أَنَّهُمْ أُحِيطَ بِهِمْ دَعَوُاْ
اللّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ لَئِنْ أَنجَيْتَنَا مِنْ هَـذِهِ
لَنَكُونَنِّ مِنَ الشَّاكِرِينَO |
| 22. وہی ہے
جو تمہیں خشک زمین اور سمندر میں چلنے پھرنے (کی توفیق) دیتا ہے، یہاں تک
کہ جب تم کشتیوں میں (سوار) ہوتے ہو اور وہ (کشتیاں) لوگوں کو لے کر موافق
ہوا کے جھونکوں سے چلتی ہیں اور وہ اس سے خوش ہوتے ہیں تو (ناگہاں) ان
(کشتیوں) کو تیز و تند ہوا کا جھونکا آلیتا ہے اور ہر طرف سے ان (سواروں)
کو (جوش مارتی ہوئی) موجیں آگھیرتی ہیں اور وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ (اب) وہ
ان (لہروں) سے گھر گئے (تو اس وقت) وہ اللہ کو پکارتے ہیں (اس حال میں) کہ
اپنے دین کو اسی کے لئے خالص کرنے والے ہیں (اور کہتے ہیں: اے اللہ!) اگر
تو نے ہمیں اس (بَلا) سے نجات بخش دی تو ہم ضرور (تیرے) شکر گزار بندوں میں
سے ہوجائیں گےo |
| 23.
فَلَمَّا أَنجَاهُمْ إِذَا هُمْ يَبْغُونَ فِي
الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا بَغْيُكُمْ
عَلَى أَنفُسِكُم مَّتَاعَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَينَا
مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَO |
| 23. پھر جب
اللہ نے انہیں نجات دے دی تو وہ فوراً ہی ملک میں (حسبِ سابق) ناحق سرکشی
کرنے لگتے ہیں۔ اے (اللہ سے بغاوت کرنے والے) لوگو! بس تمہاری سرکشی و
بغاوت (کا نقصان) تمہاری ہی جانوں پر ہے۔ دنیا کی زندگی کا کچھ فائدہ
(اٹھالو)، بالآخر تمہیں ہماری ہی طرف پلٹنا ہے، اُس وقت ہم تمہیں ان اَعمال
سے خوب آگاہ کر دیں گے جو تم کرتے رہے تھےo |
| 24.
إِنَّمَا مَثَلُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا كَمَاءٍ
أَنزَلْنَاهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الْأَرْضِ مِمَّا
يَأْكُلُ النَّاسُ وَالْأَنْعَامُ حَتَّىَ إِذَا أَخَذَتِ الْأَرْضُ
زُخْرُفَهَا وَازَّيَّنَتْ وَظَنَّ أَهْلُهَا أَنَّهُمْ قَادِرُونَ
عَلَيْهَآ أَتَاهَا أَمْرُنَا لَيْلاً أَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنَاهَا
حَصِيدًا كَأَن لَّمْ تَغْنَ بِالْأَمْسِ كَذَلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ
لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَO |
| 24. بس
دنیا کی زندگی کی مثال تو اس پانی جیسی ہے جسے ہم نے آسمان سے اتارا پھر اس
کی وجہ سے زمین کی پیداوار خوب گھنی ہو کر اُگی، جس میں سے انسان بھی کھاتے
ہیں اور چوپائے بھی، یہاں تک کہ جب زمین نے اپنی (پوری پوری) رونق اور حسن
لے لیا اور خوب آراستہ ہوگئی اور اس کے باشندوں نے سمجھ لیا کہ (اب) وہ اس
پر پوری قدرت رکھتے ہیں تو (دفعۃً) اسے رات یا دن میں ہمارا حکمِ (عذاب)
آپہنچا تو ہم نے اسے (یوں) جڑ سے کٹا ہوا بنا دیا گویا وہ کل یہاں تھی ہی
نہیں، اسی طرح ہم ان لوگوں کے لئے نشانیاں کھول کر بیان کرتے ہیں جو تفکر
سے کام لیتے ہیںo |
| 25.
وَاللّهُ يَدْعُو إِلَى دَارِ السَّلاَمِ
وَيَهْدِي مَن يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍO |
| 25. اور
اللہ سلامتی کے گھر (جنت) کی طرف بلاتا ہے، اور جسے چاہتا ہے سیدھی راہ کی
طرف ہدایت فرماتا ہےo |
| 26.
لِّلَّذِينَ أَحْسَنُواْ الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ
وَلاَ يَرْهَقُ وُجُوهَهُمْ قَتَرٌ وَلاَ ذِلَّةٌ أُوْلَـئِكَ أَصْحَابُ
الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَO |
| 26. ایسے
لوگوں کے لئے جو نیک کام کرتے ہیں نیک جزا ہے بلکہ (اس پر) اضافہ بھی ہے،
اور نہ ان کے چہروں پر (غبار اور) سیاہی چھائے گی اور نہ ذلت و رسوائی، یہی
اہلِ جنت ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیںo |
| 27.
وَالَّذِينَ كَسَبُواْ السَّيِّئَاتِ جَزَاءُ
سَيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا وَتَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ مَّا لَهُم مِّنَ اللّهِ
مِنْ عَاصِمٍ كَأَنَّمَا أُغْشِيَتْ وُجُوهُهُمْ قِطَعًا مِّنَ اللَّيْلِ
مُظْلِمًا أُوْلَـئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَO |
| 27. اور
جنہوں نے برائیاں کما رکھی ہیں (ان کے لئے) برائی کا بدلہ اسی کی مثل ہوگا،
اور ان پر ذلت و رسوائی چھا جائے گی ان کے لئے اللہ (کے عذاب) سے کوئی بھی
بچانے والا نہیں ہوگا (یوں لگے گا) گویا ان کے چہرے اندھیری رات کے ٹکڑوں
سے ڈھانپ دیئے گئے ہیں۔ یہی اہلِ جہنم ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیںo |
| 28.
وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ نَقُولُ
لِلَّذِينَ أَشْرَكُواْ مَكَانَكُمْ أَنتُمْ وَشُرَكَآؤُكُمْ فَزَيَّلْنَا
بَيْنَهُمْ وَقَالَ شُرَكَآؤُهُم مَّا كُنتُمْ إِيَّانَا تَعْبُدُونَO |
| 28. اورجس
دن ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر ہم مشرکوں سے کہیں گے: تم اور تمہارے شریک
(بتانِ باطل) اپنی اپنی جگہ ٹھہرو۔ پھر ہم ان کے درمیان پھوٹ ڈال دیں گے۔
اور ان کے (اپنے گھڑے ہوئے) شریک (ان سے) کہیں گے کہ تم ہماری عبادت تو
نہیں کرتے تھےo |
| 29.
فَكَفَى بِاللّهِ شَهِيدًا بَيْنَنَا
وَبَيْنَكُمْ إِن كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغَافِلِينَO |
| 29. پس
ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ ہی گواہ کافی ہے کہ ہم تمہاری پرستش سے
(یقیناً) بے خبر تھےo |
| 30.
هُنَالِكَ تَبْلُو كُلُّ نَفْسٍ مَّا أَسْلَفَتْ
وَرُدُّواْ إِلَى اللّهِ مَوْلاَهُمُ الْحَقِّ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا
كَانُواْ يَفْتَرُونَO |
| 30. اس
(دہشت ناک) مقام پر ہر شخص ان (اعمال کی حقیقت) کو جانچ لے گا جو اس نے آگے
بھیجے تھے اور وہ اللہ کی جانب لوٹائے جائیں گے جو ان کا مالکِ حقیقی ہے
اور ان سے وہ بہتان تراشی جاتی رہے گی جو وہ کیا کرتے تھےo |
| 31.
قُلْ مَن يَرْزُقُكُم مِّنَ السَّمَاءِ
وَالْأَرْضِ أَمَّن يَمْلِكُ السَّمْعَ والْأَبْصَارَ وَمَن يُخْرِجُ
الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيَّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَن
يُدَبِّرُ الْأَمْرَ فَسَيَقُولُونَ اللّهُ فَقُلْ أَفَلاَ تَتَّقُونَO |
| 31. آپ (ان
سے) فرما دیجئے: تمہیں آسمان اور زمین (یعنی اوپر اور نیچے) سے رزق کون
دیتا ہے، یا (تمہارے) کان اور آنکھوں (یعنی سماعت و بصارت) کا مالک کون ہے،
اور زندہ کو مُردہ (یعنی جاندار کو بے جان) سے کون نکالتا ہے اور مُردہ کو
زندہ (یعنی بے جان کو جاندار) سے کون نکالتا ہے، اور (نظام ہائے کائنات کی)
تدبیر کون فرماتا ہے؟ سو وہ کہہ اٹھیں گے کہ اللہ، تو آپ فرمائیے: پھرکیا
تم (اس سے) ڈرتے نہیںo |
| 32.
فَذَلِكُمُ اللّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَمَاذَا
بَعْدَ الْحَقِّ إِلاَّ الضَّلاَلُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَO |
| 32. پس یہی
(عظمت و قدرت والا) اللہ ہی تو تمہارا سچا رب ہے، پس (اس) حق کے بعد سوائے
گمراہی کے اور کیا ہوسکتا ہے، سو تم کہاں پھرے جارہے ہوo |
| 33.
كَذَلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى
الَّذِينَ فَسَقُواْ أَنَّهُمْ لاَ يُؤْمِنُونَO |
| 33. اسی
طرح آپ کے رب کا حکم نافرمانوں پر ثابت ہوکر رہا کہ وہ ایمان نہیں لائیں گےo |
| 34.
قُلْ هَلْ مِن شُرَكَآئِكُم مَّن يَبْدَأُ
الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ قُلِ اللّهُ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ
فَأَنَّى تُؤْفَكُونَO |
| 34. آپ (ان
سے دریافت) فرمائیے کہ کیا تمہارے (بنائے ہوئے) شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے
جو تخلیق کی ابتداء کرے پھر (زندگی کے معدوم ہوجانے کے بعد) اسے دوبارہ
لوٹائے؟ آپ فرما دیجئے کہ اللہ ہی (حیات کو عدم سے وجود میں لاتے ہوئے)
آفرینش کا آغاز فرماتا ہے پھر وہی اس کا اعادہ (بھی) فرمائے گا، پھر تم
کہاں بھٹکتے پھرتے ہوo |
| 35.
قُلْ هَلْ مِن شُرَكَآئِكُم مَّن يَهْدِي إِلَى
الْحَقِّ قُلِ اللّهُ يَهْدِي لِلْحَقِّ أَفَمَن يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ
أَحَقُّ أَن يُتَّبَعَ أَمَّن لاَّ يَهِدِّيَ إِلاَّ أَن يُهْدَى فَمَا
لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَO |
| 35. آپ (ان
سے دریافت) فرمائیے: کیا تمہارے (بنائے ہوئے) شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے
جو حق کی طرف رہنمائی کرسکے، آپ فرما دیجئے کہ اللہ ہی (دینِ) حق کی ہدایت
فرماتا ہے، تو کیا جو کوئی حق کی طرف ہدایت کرے وہ زیادہ حق دار ہے کہ اس
کی فرمانبرداری کی جائے یا وہ جو خود ہی راستہ نہیں پاتا مگر یہ کہ اسے
راستہ دکھایا جائے (یعنی اسے اٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچایا جائے
جیسے کفار اپنے بتوں کو حسبِ ضرورت اٹھا کر لے جاتے)، سو تمہیں کیا ہو گیا
ہے، تم کیسے فیصلے کرتے ہوo |
| 36.
وَمَا يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلاَّ ظَنًّا
إِنَّ الظَّنَّ لاَ يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا إِنَّ اللّهَ عَلَيمٌ
بِمَا يَفْعَلُونَO |
| 36. ان میں
سے اکثر لوگ صرف گمان کی پیروی کرتے ہیں، بیشک گمان حق سے معمولی سا بھی بے
نیاز نہیں کرسکتا، یقیناً اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیںo |
| 37.
وَمَا كَانَ هَـذَا الْقُرْآنُ أَن يُفْتَرَى
مِن دُونِ اللّهِ وَلَـكِن تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ
الْكِتَابِ لاَ رَيْبَ فِيهِ مِن رَّبِّ الْعَالَمِينَO |
| 37. یہ
قرآن ایسا نہیں ہے کہ اسے اللہ (کی وحی) کے بغیر گھڑ لیا گیا ہو لیکن (یہ)
ان (کتابوں) کی تصدیق (کرنے والا) ہے جو اس سے پہلے (نازل ہوچکی) ہیں اور
جو کچھ (اللہ نے لوح میں یا احکامِ شریعت میں) لکھا ہے اس کی تفصیل ہے، اس
(کی حقانیت) میں ذرا بھی شک نہیں (یہ) تمام جہانوں کے رب کی طرف سے ہےo |
| 38.
أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ قُلْ فَأْتُواْ
بِسُورَةٍ مِّثْلِهِ وَادْعُواْ مَنِ اسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ اللّهِ إِن
كُنتُمْ صَادِقِينَO |
| 38. کیا وہ
کہتے ہیں کہ اسے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود گھڑ لیا ہے، آپ
فرما دیجئے: پھر تم اس کی مثل کوئی (ایک) سورت لے آؤ (اور اپنی مدد کے لئے)
اللہ کے سوا جنہیں تم بلاسکتے ہو بلا لو اگر تم سچے ہوo |
| 39.
بَلْ كَذَّبُواْ بِمَا لَمْ يُحِيطُواْ
بِعِلْمِهِ وَلَمَّا يَأْتِهِمْ تَأْوِيلُهُ كَذَلِكَ كَذَّبَ الَّذِينَ
مِن قَبْلِهِمْ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظَّالِمِينَO |
| 39. بلکہ
یہ اس (کلامِ الٰہی) کو جھٹلا رہے ہیں جس کے علم کا وہ احاطہ بھی نہیں
کرسکے تھے اور ابھی اس کی حقیقت (بھی) ان کے سامنے کھل کر نہ آئی تھی۔ اسی
طرح ان لوگوں نے بھی (حق کو) جھٹلایا تھا جو ان سے پہلے ہو گزرے ہیں سو آپ
دیکھیں کہ ظالموں کا انجام کیسا ہواo |
| 40.
وَمِنهُم مَّن يُؤْمِنُ بِهِ وَمِنْهُم مَّن
لاَّ يُؤْمِنُ بِهِ وَرَبُّكَ أَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِينَO |
| 40. ان میں
سے کوئی تو اس پر ایمان لائے گا اور انہی میں سے کوئی اس پر ایمان نہ لائے
گا، اور آپ کا رب فساد انگیزی کرنے والوں کو خوب جانتا ہےo |
| 41.
وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّي عَمَلِي وَلَكُمْ
عَمَلُكُمْ أَنتُمْ بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَاْ بَرِيءٌ مِّمَّا
تَعْمَلُونَO |
| 41. اور
اگر وہ آپ کو جھٹلائیں تو فرما دیجئے کہ میرا عمل میرے لئے ہے اور تمہارا
عمل تمہارے لئے، تم اس عمل سے بری الذمہ ہو جو میں کرتا ہوں اور میں ان
اَعمال سے بری الذمہ ہوں جو تم کرتے ہوo |
| 42.
وَمِنْهُم مَّن يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ
أَفَأَنتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَلَوْ كَانُواْ لاَ يَعْقِلُونَO |
| 42. اور ان
میں سے بعض وہ ہیں جو (ظاہراً) آپ کی طرف کان لگاتے ہیں، تو کیا آپ بہروں
کو سنا دیں گے خواہ وہ کچھ عقل بھی نہ رکھتے ہوںo |
| 43.
وَمِنهُم مَّن يَنظُرُ إِلَيْكَ أَفَأَنتَ
تَهْدِي الْعُمْيَ وَلَوْ كَانُواْ لاَ يُبْصِرُونَO |
| 43. ان میں
سے بعض وہ ہیں جو (ظاہراً) آپ کی طرف دیکھتے ہیں، کیا آپ اندھوں کو راہ
دکھا دیں گے خواہ وہ کچھ بصارت بھی نہ رکھتے ہوںo |
| 44.
إِنَّ اللّهَ لاَ يَظْلِمُ النَّاسَ شَيْئًا
وَلَـكِنَّ النَّاسَ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَO |
| 44. بیشک
اللہ لوگوں پر ذرّہ برابر ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ (خود ہی) اپنی جانوں پر
ظلم کرتے ہیںo |
| 45.
وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ كَأَن لَّمْ يَلْبَثُواْ
إِلاَّ سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ يَتَعَارَفُونَ بَيْنَهُمْ قَدْ خَسِرَ
الَّذِينَ كَذَّبُواْ بِلِقَاءِ اللّهِ وَمَا كَانُواْ مُهْتَدِينَO |
| 45. اور جس
دن وہ انہیں جمع کرے گا (وہ محسوس کریں گے) گویا وہ دن کی ایک گھڑی کے سوا
دنیا میں ٹھہرے ہی نہ تھے، وہ ایک دوسرے کو پہچانیں گے۔ بیشک وہ لوگ خسارے
میں رہے جنہوں نے اللہ سے ملاقات کو جھٹلایا تھا اور وہ ہدایت یافتہ نہ
ہوئےo |
| 46.
وَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ
أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ اللّهُ شَهِيدٌ
عَلَى مَا يَفْعَلُونَO |
| 46. اور
خواہ ہم آپ کو اس (عذاب) کا کچھ حصہ (دنیا میں ہی) دکھا دیں جس کا ہم ان سے
وعدہ کر رہے ہیں (اور ہم آپ کی حیاتِ مبارکہ میں ایسا کریں گے) یا (اس سے
پہلے) ہم آپ کو وفات بخش دیں، تو انہیں (بہر صورت) ہماری ہی طرف لوٹنا ہے،
پھر اللہ (خود) اس پر گواہ ہے جو کچھ وہ کر رہے ہیںo |
| 47.
وَلِكُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولٌ فَإِذَا جَاءَ
رَسُولُهُمْ قُضِيَ بَيْنَهُم بِالْقِسْطِ وَهُمْ لاَ يُظْلَمُونَO |
| 47. اور ہر
امت کے لئے ایک رسول آتا رہا ہے۔ پھر جب ان کا رسول (واضح نشانیوں کے ساتھ)
آچکا (اور وہ پھر بھی نہ مانے) تو ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا گیا،
اور (قیامت کے دن بھی اسی طرح ہوگا) ان پر ظلم نہیں کیا جائے گاo |
| 48.
وَيَقُولُونَ مَتَى هَـذَا الْوَعْدُ إِن
كُنتُمْ صَادِقِينَO |
| 48. اور وہ
(طعنہ زنی کے طور پر) کہتے ہیں کہ یہ وعدۂ (عذاب) کب (پورا) ہوگا
(مسلمانو! بتاؤ) اگر تم سچے ہوo |
| 49.
قُل لاَّ أَمْلِكُ لِنَفْسِي ضَرًّا وَلاَ
نَفْعًا إِلاَّ مَا شَاءَ اللّهُ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ إِذَا جَاءَ
أَجَلُهُمْ فَلاَ يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلاَ يَسْتَقْدِمُونَO |
| 49. فرما
دیجئے: میں اپنی ذات کے لئے نہ کسی نقصان کا مالک ہوں اور نہ نفع کا، مگر
جس قدر اللہ چاہے۔ ہر امت کے لئے ایک میعاد (مقرر) ہے، جب ان کی (مقررہ)
میعاد آپہنچتی ہے تو وہ نہ ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ آگے بڑھ سکتے
ہیںo |
| 50.
قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُهُ
بَيَاتًا أَوْ نَهَارًا مَّاذَا يَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُونَO |
| 50. آپ
فرما دیجئے: (اے کافرو!) ذرا غور تو کرو اگر تم پر اس کا عذاب (ناگہاں)
راتوں رات یا دن دہاڑے آپہنچے (تو تم کیا کرلوگے؟) وہ کیا چیز ہے کہ مجرم
لوگ اس سے جلدی چاہتے ہیں؟o |
| 51.
أَثُمَّ إِذَا مَا وَقَعَ آمَنْتُم بِهِ آلْآنَ
وَقَدْ كُنتُم بِهِ تَسْتَعْجِلُونَO |
| 51. کیا جس
وقت وہ (عذاب) واقع ہوجائے گا تو تم اس پر ایمان لے آؤ گے، (اس وقت تم سے
کہا جائے گا:) اب (ایمان لا رہے ہو؟ اس وقت کوئی فائدہ نہیں) حالانکہ تم
(استہزاءً) اسی (عذاب) میں جلدی چاہتے تھےo |
| 52.
ثُمَّ قِيلَ لِلَّذِينَ ظَلَمُواْ ذُوقُواْ
عَذَابَ الْخُلْدِ هَلْ تُجْزَوْنَ إِلاَّ بِمَا كُنتُمْ تَكْسِبُونَO |
| 52. پھر
(ان) ظالموں سے کہا جائے گا: تم دائمی عذاب کا مزہ چکھو، تمہیں (کچھ بھی
اور) بدلہ نہیں دیا جائے گا، مگر انہی اعمال کا جو تم کماتے رہے تھےo |
| 53.
وَيَسْتَنبِئُونَكَ أَحَقٌّ هُوَ قُلْ إِي
وَرَبِّي إِنَّهُ لَحَقٌّ وَمَا أَنتُمْ بِمُعْجِزِينَO |
| 53. اور وہ
آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا (دائمی عذاب کی) وہ بات (واقعی) سچ ہے؟ فرما
دیجئے: ہاں میرے رب کی قسم یقیناً وہ بالکل حق ہے۔ اور تم (اپنے انکار سے
اللہ کو) عاجز نہیں کرسکتےo |
| 54.
وَلَوْ أَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِي
الْأَرْضِ لاَفْتَدَتْ بِهِ وَأَسَرُّواْ النَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُاْ
الْعَذَابَ وَقُضِيَ بَيْنَهُم بِالْقِسْطِ وَهُمْ لاَ يُظْلَمُونَO |
| 54. اگر ہر
ظالم شخص کی ملکیت میں وہ (ساری دولت) ہو جو زمین میں ہے تو وہ یقیناً اسے
(اپنی جان چھڑانے کے لئے) عذاب کے بدلہ میں دے ڈالے، اور (ایسے لوگ) جب
عذاب کو دیکھیں گے تو اپنی ندامت چھپائے پھریں گے اور ان کے درمیان انصاف
کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں ہوگاo |
| 55.
أَلاَ إِنَّ لِلّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ
وَالْأَرْضِ أَلاَ إِنَّ وَعْدَ اللّهِ حَقٌّ وَلَـكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لاَ
يَعْلَمُونَO |
| 55. جان
لو! جو کچھ بھی آسمانوں اور زمین میں ہے (سب) اللہ ہی کا ہے۔ خبردار ہو
جاؤ! بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتےo |
| 56.
هُوَ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَO |
| 56. وہی
جِلاتا اور مارتا ہے اور تم اسی کی طرف پلٹائے جاؤ گےo |
| 57.
يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَتْكُم
مَّوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَشِفَاءٌ لِّمَا فِي الصُّدُورِ وَهُدًى
وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَO |
| 57. اے
لوگو! بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت اور ان (بیماریوں) کی
شفاء آگئی ہے جو سینوں میں (پوشیدہ) ہیں اور ہدایت اور اہلِ ایمان کے لئے
رحمت (بھی)o |
| 58.
قُلْ بِفَضْلِ اللّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ
فَلْيَفْرَحُواْ هُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَO |
| 58. فرما
دیجئے: (یہ سب کچھ) اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کے باعث ہے (جو بعثتِ محمدی
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے تم پر ہوا ہے) پس مسلمانوں کو چاہئے کہ
اس پر خوشیاں منائیں، یہ اس (سارے مال و دولت) سے کہیں بہتر ہے جسے وہ جمع
کرتے ہیںo |
| 59.
قُلْ أَرَأَيْتُم مَّا أَنزَلَ اللّهُ لَكُم
مِّن رِّزْقٍ فَجَعَلْتُم مِّنْهُ حَرَامًا وَحَلاَلاً قُلْ آللّهُ أَذِنَ
لَكُمْ أَمْ عَلَى اللّهِ تَفْتَرُونَO |
| 59. فرما
دیجئے: ذرا بتاؤ تو سہی اللہ نے جو (پاکیزہ) رزق تمہارے لئے اتارا سو تم نے
اس میں سے بعض (چیزوں) کو حرام اور (بعض کو) حلال قرار دے دیا۔ فرما دیں:
کیا اللہ نے تمہیں (اس کی) اجازت دی تھی یا تم اللہ پر بہتان باندھ رہے ہوo |
| 60.
وَمَا ظَنُّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللّهِ
الْكَذِبَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّ اللّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ
وَلَـكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لاَ يَشْكُرُونَO |
| 60. اور
ایسے لوگوں کا روزِ قیامت کے بارے میں کیا خیال ہے جو اللہ پر جھوٹا بہتان
باندھتے ہیں، بیشک اللہ لوگوں پر فضل فرمانے والا ہے لیکن ان میں سے اکثر
(لوگ) شکر گزار نہیں ہیںo |
| 61.
وَمَا تَكُونُ فِي شَأْنٍ وَمَا تَتْلُو مِنْهُ
مِن قُرْآنٍ وَلاَ تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلاَّ كُنَّا عَلَيْكُمْ
شُهُودًا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ وَمَا يَعْزُبُ عَن رَّبِّكَ مِن
مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلاَ فِي السَّمَاءِ وَلاَ أَصْغَرَ مِن
ذَلِكَ وَلا أَكْبَرَ إِلاَّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍO |
| 61. اور
(اے حبیبِ مکرّم!) آپ جس حال میں بھی ہوں اور آپ اس کی طرف سے جس قدر بھی
قرآن پڑھ کر سناتے ہیں اور (اے امتِ محمدیہ!) تم جو عمل بھی کرتے ہو مگر ہم
(اس وقت) تم سب پر گواہ و نگہبان ہوتے ہیں جب تم اس میں مشغول ہوتے ہو، اور
آپ کے رب (کے علم) سے ایک ذرّہ برابر بھی (کوئی چیز) نہ زمین میں پوشیدہ ہے
اور نہ آسمان میں اور نہ اس (ذرہ) سے کوئی چھوٹی چیز ہے اور نہ بڑی مگر
واضح کتاب (یعنی لوحِ محفوظ) میں (درج) ہےo |
| 62.
أَلاَ إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللّهِ لاَ خَوْفٌ
عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَO |
| 62.
خبردار! بیشک اولیاء اللہ پر نہ کوئی خوف ہے اورنہ وہ رنجیدہ و غمگین ہوں
گےo |
| 63.
الَّذِينَ آمَنُواْ وَكَانُواْ يَتَّقُونَO |
| 63. (وہ)
ایسے لوگ ہیں جو ایمان لائے اور (ہمیشہ) تقوٰی شعار رہےo |
| 64.
لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَياةِ الدُّنْيَا
وَفِي الْآخِرَةِ لاَ تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللّهِ ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ
الْعَظِيمُO |
| 64. ان کے
لئے دنیا کی زندگی میں (بھی عزت و مقبولیت کی) بشارت ہے اور آخرت میں (بھی
مغفرت و شفاعت کی/ یا دنیا میں بھی نیک خوابوں کی صورت میں پاکیزہ روحانی
مشاہدات ہیں اور آخرت میں بھی حُسنِ مطلق کے جلوے اور دیدار)، اللہ کے
فرمان بدلا نہیں کرتے، یہی وہ عظیم کامیابی ہےo |
| 65.
وَلاَ يَحْزُنكَ قَوْلُهُمْ إِنَّ الْعِزَّةَ
لِلّهِ جَمِيعًا هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُO |
| 65. (اے
حبیبِ مکرّم!) ان کی (عناد و عداوت پر مبنی) گفتگو آپ کو غمگین نہ کرے۔
بیشک ساری عزت و غلبہ اللہ ہی کے لئے ہے (جو جسے چاہتا ہے دیتا ہے)، وہ خوب
سننے والا جاننے والا ہےo |
| 66.
أَلاَ إِنَّ لِلّهِ مَن فِي السَّمَاوَات وَمَن
فِي الْأَرْضِ وَمَا يَتَّبِعُ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللّهِ
شُرَكَاءَ إِن يَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلاَّ
يَخْرُصُونَO |
| 66. جان لو
جو کوئی آسمانوں میں ہے اور جو کوئی زمین میں ہے سب اللہ ہی کے (مملوک)
ہیں، اور جو لوگ اللہ کے سوا (بتوں) کی پرستش کرتے ہیں (درحقیقت اپنے گھڑے
ہوئے) شریکوں کی پیروی (بھی) نہیں کرتے، بلکہ وہ صرف (اپنے) وہم و گمان کی
پیروی کرتے ہیں اور وہ محض غلط اندازے لگاتے رہتے ہیںo |
| 67.
هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ
لِتَسْكُنُواْ فِيهِ وَالنَّهَارَ مُبْصِرًا إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ
لِّقَوْمٍ يَسْمَعُونَO |
| 67. وہی ہے
جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام کرو اور دن کو روشن بنایا
(تاکہ تم اس میں کام کاج کر سکو)۔ بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں
جو (غور سے) سنتے ہیںo |
| 68.
قَالُواْ اتَّخَذَ اللّهُ وَلَدًا سُبْحَانَهُ
هُوَ الْغَنِيُّ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَات وَمَا فِي الْأَرْضِ إِنْ
عِندَكُم مِّن سُلْطَانٍ بِهَـذَا أَتقُولُونَ عَلَى اللّهِ مَا لاَ
تَعْلَمُونَO |
| 68. وہ
کہتے ہیں: اللہ نے (اپنے لئے) بیٹا بنا لیا ہے (حالانکہ) وہ اس سے پاک ہے،
وہ بے نیاز ہے۔ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کی مِلک
ہے، تمہارے پاس اس (قولِ باطل) کی کوئی دلیل نہیں، کیا تم اللہ پر وہ (بات)
کہتے ہو جسے تم (خود بھی) نہیں جانتے؟o |
| 69.
قُلْ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللّهِ
الْكَذِبَ لاَ يُفْلِحُونَO |
| 69. فرما
دیجئے: بیشک جو لوگ اللہ پرجھوٹا بہتان باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پائیں گےo |
| 70.
مَتَاعٌ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا
مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِيقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِيدَ بِمَا كَانُواْ
يَكْفُرُونَO |
| 70. دنیا
میں (چند روزہ) لطف اندوزی ہے پھر انہیں ہماری ہی طرف پلٹنا ہے پھر ہم
انہیں سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے اس کے بدلے میں جو وہ کفر کیا کرتے تھےo |
| 71.
وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ نُوحٍ إِذْ قَالَ
لِقَوْمِهِ يَا قَوْمِ إِن كَانَ كَبُرَ عَلَيْكُم مَّقَامِي وَتَذْكِيرِي
بِآيَاتِ اللّهِ فَعَلَى اللّهِ تَوَكَّلْتُ فَأَجْمِعُواْ أَمْرَكُمْ
وَشُرَكَاءَكُمْ ثُمَّ لاَ يَكُنْ أَمْرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ
اقْضُواْ إِلَيَّ وَلاَ تُنظِرُونِO |
| 71. اور ان
پر نوح (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمائیے، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا:
اے میری قوم (اولادِ قابیل!) اگر تم پر میرا قیام اور میرا اللہ کی آیتوں
کے ساتھ نصیحت کرنا گراں گزر رہا ہے تو (جان لو کہ) میں نے تو صرف اللہ ہی
پر توکل کرلیا ہے (اور تمہارا کوئی ڈر نہیں) سو تم اکٹھے ہوکر (میری مخالفت
میں) اپنی تدبیر کو پختہ کرلو اور اپنے (گھڑے ہوئے) شریکوں کو بھی (ساتھ
ملا لو اور اس قدر سوچ لو کہ) پھر تمہاری تدبیر (کا کوئی پہلو) تم پر مخفی
نہ رہے، پھر میرے ساتھ (جو جی میں آئے) کر گزرو اور (مجھے) کوئی مہلت نہ دوo |
| 72.
فَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَمَا سَأَلْتُكُم مِّنْ
أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلاَّ عَلَى اللّهِ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ
الْمُسْلِمِينَO |
| 72. سو اگر
تم نے (میری نصیحت سے) منہ پھیر لیا ہے تو میں نے تم سے کوئی معاوضہ تو
نہیں مانگا، میرا اجر تو صرف اللہ (کے ذمۂ کرم) پر ہے اور مجھے یہ حکم دیا
گیا ہے کہ میں (اس کے حکم کے سامنے) سرِ تسلیم خم کئے رکھوںo |
| 73.
فَكَذَّبُوهُ فَنَجَّيْنَاهُ وَمَن مَّعَهُ فِي
الْفُلْكِ وَجَعَلْنَاهُمْ خَلاَئِفَ وَأَغْرَقْنَا الَّذِينَ كَذَّبُواْ
بِآيَاتِنَا فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنذَرِينَO |
| 73. پھر آپ
کی قوم نے آپ کو جھٹلایا پس ہم نے انہیں اور جو ان کے ساتھ کشتی میں تھے
(عذابِ طوفان سے) نجات دی اور ہم نے انہیں (زمین میں) جانشین بنادیا اور ان
لوگوں کو غرق کردیا جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا، سو آپ دیکھئے کہ
ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ڈرائے گئے تھےo |
| 74.
ثُمَّ بَعَثْنَا مِن بَعْدِهِ رُسُلاً إِلَى
قَوْمِهِمْ فَجَآؤُوهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا كَانُواْ لِيُؤْمِنُواْ
بِمَا كَذَّبُواْ بِهِ مِن قَبْلُ كَذَلِكَ نَطْبَعُ عَلَى قُلوبِ
الْمُعْتَدِينَO |
| 74. پھر ہم
نے ان کے بعد (کتنے ہی) رسولوں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا سو وہ ان کے
پاس واضح نشانیاں لے کر آئے پس وہ لوگ (بھی) ایسے نہ ہوئے کہ اس (بات) پر
ایمان لے آتے جسے وہ پہلے جھٹلا چکے تھے۔ اسی طرح ہم سرکشی کرنے والوں کے
دلوں پر مُہر لگا دیا کرتے ہیںo |
| 75.
ثُمَّ بَعَثْنَا مِن بَعْدِهِم مُّوسَى
وَهَارُونَ إِلَى فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ بِآيَاتِنَا فَاسْتَكْبَرُواْ
وَكَانُواْ قَوْمًا مُّجْرِمِينَO |
| 75. پھر ہم
نے ان کے بعد موسٰی اور ہارون (علیھما السلام) کو فرعون اور اس کے سردارانِ
قوم کی طرف اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم
لوگ تھےo |
| 76.
فَلَمَّا جَاءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِندِنَا
قَالُواْ إِنَّ هَـذَا لَسِحْرٌ مُّبِينٌO |
| 76. پھر جب
ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا (تو) کہنے لگے: بیشک یہ تو کھلا جادو ہےo |
| 77.
قَالَ مُوسَى أَتقُولُونَ لِلْحَقِّ لَمَّا
جَاءَكُمْ أَسِحْرٌ هَـذَا وَلاَ يُفْلِحُ السَّاحِرُونَO |
| 77. موسٰی
(علیہ السلام) نے کہا: کیا تم (ایسی بات) حق سے متعلق کہتے ہو جب وہ تمہارے
پاس آچکا ہے، (عقل و شعور کی آنکھیں کھول کر دیکھو) کیا یہ جادو ہے؟ اور
جادوگر (کبھی) فلاح نہیں پاسکیں گےo |
| 78.
قَالُواْ أَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا
وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا وَتَكُونَ لَكُمَا الْكِبْرِيَاءُ فِي
الْأَرْضِ وَمَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِينَO |
| 78. وہ
کہنے لگے: (اے موسٰی!) کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ تم ہمیں اس
(طریقہ) سے پھیر دو جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو (گامزن) پایا اور زمین
(یعنی سرزمینِ مصر) میں تم دونوں کی بڑائی (قائم) رہے؟ اور ہم لوگ تم دونوں
کو ماننے والے نہیں ہیںo |
| 79.
وَقَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُونِي بِكُلِّ سَاحِرٍ
عَلِيمٍO |
| 79. اور
فرعون کہنے لگا: میرے پاس ہر ماہر جادوگر کو لے آؤo |
| 80.
فَلَمَّا جَاءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَهُم مُّوسَى
أَلْقُواْ مَا أَنتُم مُّلْقُونَO |
| 80. پھر جب
جادوگر آگئے تو موسٰی (علیہ السلام) نے ان سے کہا: تم (وہ چیزیں میدان میں)
ڈال دو جو تم ڈالنا چاہتے ہوo |
| 81.
فَلَمَّا أَلْقَواْ قَالَ مُوسَى مَا جِئْتُم
بِهِ السِّحْرُ إِنَّ اللّهَ سَيُبْطِلُهُ إِنَّ اللّهَ لاَ يُصْلِحُ
عَمَلَ الْمُفْسِدِينَO |
| 81. پھر جب
انہوں نے (اپنی رسیاں اور لاٹھیاں) ڈال دیں تو موسٰی (علیہ السلام) نے کہا:
جو کچھ تم لائے ہو (یہ) جادو ہے، بیشک اللہ ابھی اسے باطل کر دے گا، یقیناً
اللہ مفسدوں کے کام کو درست نہیں کرتاo |
| 82.
وَيُحِقُّ اللّهُ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَلَوْ
كَرِهَ الْمُجْرِمُونَO |
| 82. اور
اللہ اپنے کلمات سے حق کا حق ہونا ثابت فرما دیتا ہے اگرچہ مجرم لوگ اسے
ناپسند ہی کرتے رہیںo |
| 83.
فَمَا آمَنَ لِمُوسَى إِلاَّ ذُرِّيَّةٌ مِّن
قَوْمِهِ عَلَى خَوْفٍ مِّن فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِمْ أَن يَفْتِنَهُمْ
وَإِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِي الْأَرْضِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الْمُسْرِفِينَO |
| 83. پس
موسٰی (علیہ السلام) پر ان کی قوم کے چند جوانوں کے سوا (کوئی) ایمان نہ
لایا، فرعون اور اپنے (قومی) سرداروں (وڈیروں) سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں وہ
انہیں (کسی) مصیبت میں مبتلا نہ کر دیں، اور بیشک فرعون سرزمینِ (مصر) میں
بڑا جابر و سرکش تھا، اور وہ یقیناً (ظلم میں) حد سے بڑھ جانے والوں میں سے
تھاo |
| 84.
وَقَالَ مُوسَى يَا قَوْمِ إِن كُنتُمْ آمَنتُم
بِاللّهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُواْ إِن كُنتُم مُّسْلِمِينَO |
| 84. اور
موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: اے میری قوم! اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو تو
اسی پر توکل کرو، اگر تم (واقعی) مسلمان ہوo |
| 85.
فَقَالُواْ عَلَى اللّهِ تَوَكَّلْنَا رَبَّنَا
لاَ تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظَّالِمِينَO |
| 85. تو
انہوں نے عرض کیا: ہم نے اللہ ہی پر توکل کیا ہے، اے ہمارے رب! تو ہمیں
ظالم لوگوں کے لئے نشانہء ستم نہ بناo |
| 86.
وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ
الْكَافِرِينَO |
| 86. اور تو
ہمیں اپنی رحمت سے کافروں کی قوم (کے تسلّط) سے نجات بخش دےo |
| 87.
وَأَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى وَأَخِيهِ أَن
تَبَوَّءَا لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُيُوتًا وَاجْعَلُواْ بُيُوتَكُمْ
قِبْلَةً وَأَقِيمُواْ الصَّلاَةَ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَO |
| 87. اور ہم
نے موسٰی (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کی طرف وحی بھیجی کہ تم دونوں مصر
(کے شہر) میں اپنی قوم کے لئے چند مکانات تیار کرو اور اپنے (ان) گھروں کو
(نماز کی ادائیگی کے لئے) قبلہ رخ بناؤ اور (پھر) نماز قائم کرو، اور ایمان
والوں کو (فتح و نصرت کی) خوشخبری سنا دوo |
| 88.
وَقَالَ مُوسَى رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ
فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُ زِينَةً وَأَمْوَالاً فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا
رَبَّنَا لِيُضِلُّواْ عَن سَبِيلِكَ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَى أَمْوَالِهِمْ
وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلاَ يُؤْمِنُواْ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ
الْأَلِيمَO |
| 88. اور
موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: اے ہمارے رب! بیشک تو نے فرعون اور اس کے
سرداروں کو دنیوی زندگی میں اسبابِ زینت اور مال و دولت (کی کثرت) دے رکھی
ہے، اے ہمارے رب! (کیا تو نے انہیں یہ سب کچھ اس لئے دیا ہے) تاکہ وہ
(لوگوں کو کبھی لالچ اور کبھی خوف دلا کر) تیری راہ سے بہکا دیں۔ اے ہمارے
رب! تو ان کی دولتوں کو برباد کردے اور ان کے دلوں کو (اتنا) سخت کردے کہ
وہ پھر بھی ایمان نہ لائیں حتٰی کہ وہ دردناک عذاب دیکھ لیںo |
| 89.
قَالَ قَدْ أُجِيبَت دَّعْوَتُكُمَا
فَاسْتَقِيمَا وَلاَ تَتَّبِعَآنِّ سَبِيلَ الَّذِينَ لاَ يَعْلَمُونَO |
| 89. ارشاد
ہوا: بیشک تم دونوں کی دعا قبول کرلی گئی، سو تم دونوں ثابت قدم رہنا اور
ایسے لوگوں کے راستہ کی پیروی نہ کرنا جو علم نہیں رکھتےo |
| 90.
وَجَاوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَائِيلَ الْبَحْرَ
فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُهُ بَغْيًا وَعَدْوًا حَتَّى إِذَا
أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ آمَنتُ أَنَّهُ لاَ إِلِـهَ إِلاَّ الَّذِي
آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَأَنَاْ مِنَ الْمُسْلِمِينَO |
| 90. اور ہم
بنی اسرائیل کو دریا کے پار لے گئے پس فرعون اوراس کے لشکر نے سرکشی اور
ظلم و تعدّی سے ان کا تعاقب کیا، یہاں تک کہ جب اسے (یعنی فرعون کو) ڈوبنے
نے آلیا وہ کہنے لگا: میں اس پر ایمان لے آیا کہ کوئی معبود نہیں سوائے اس
(معبود) کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں (اب) مسلمانوں میں سے
ہوں o |
| 91.
آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنتَ مِنَ
الْمُفْسِدِينَO |
| 91. (جواب
دیا گیا کہ) اب (ایمان لاتا ہے)؟ حالانکہ تو پہلے (مسلسل) نافرمانی کرتا
رہا ہے اور تو فساد بپا کرنے والوں میں سے تھاo |
| 92.
فَالْيَوْمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ
لِمَنْ خَلْفَكَ آيَةً وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ آيَاتِنَا
لَغَافِلُونَO |
| 92. (اے
فرعون!) سو آج ہم تیرے (بے جان) جسم کو بچالیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں
کے لئے (عبرت کا) نشان ہوسکے اور بیشک اکثر لوگ ہماری نشانیوں (کو سمجھنے)
سے غافل ہیںo |
| 93.
وَلَقَدْ بَوَّأْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ
مُبَوَّأَ صِدْقٍ وَرَزَقْنَاهُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ فَمَا اخْتَلَفُواْ
حَتَّى جَاءَهُمُ الْعِلْمُ إِنَّ رَبَّكَ يَقْضِي بَيْنَهُمْ يَوْمَ
الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُواْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَO |
| 93. اور فی
الواقع ہم نے بنی اسرائیل کو رہنے کے لئے عمدہ جگہ بخشی اور ہم نے انہیں
پاکیزہ رزق عطا کیا تو انہوں نے کوئی اختلاف نہ کیا یہاں تک کہ ان کے پاس
علم و دانش آپہنچی۔ بیشک آپ کا رب ان کے درمیان قیامت کے دن ان امور کا
فیصلہ فرما دے گا جن میں وہ اختلاف کرتے تھےo |
| 94.
فَإِن كُنتَ فِي شَكٍّ مِّمَّا أَنزَلْنَا
إِلَيْكَ فَاسْأَلِ الَّذِينَ يَقْرَؤُونَ الْكِتَابَ مِن قَبْلِكَ لَقَدْ
جَاءَكَ الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَلاَ تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَO |
| 94. (اے
سننے والے!) اگر تو اس (کتاب) کے بارے میں ذرا بھی شک میں مبتلا ہے جو ہم
نے (اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وساطت سے) تیری طرف اتاری ہے تو
(اس کی حقانیت کی نسبت) ان لوگوں سے دریافت کرلے جو تجھ سے پہلے (اللہ کی)
کتاب پڑھ رہے ہیں۔ بیشک تیری طرف تیرے رب کی جانب سے حق آگیا ہے، سو تُو شک
کرنے والوں میں سے ہرگز نہ ہوجاناo |
| 95.
وَلاَ تَكُونَنَّ مِنَ الَّذِينَ كَذَّبُواْ
بِآيَاتِ اللّهِ فَتَكُونَ مِنَ الْخَاسِرِينَO |
| 95. اور نہ
ہرگز ان لوگوں میں سے ہوجانا جو اللہ کی آیتوں کو جھٹلاتے رہے ورنہ تُو
خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائے گاo |
| 96.
إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ
رَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَO |
| 96. (اے
حبیبِ مکرّم!) بیشک جن لوگوں پر آپ کے رب کا فرمان صادق آچکا ہے وہ ایمان
نہیں لائیں گےo |
| 97.
وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّى يَرَوُاْ
الْعَذَابَ الْأَلِيمَO |
| 97. اگرچہ
ان کے پاس سب نشانیاں آجائیں یہاں تک کہ وہ دردناک عذاب (بھی) دیکھ لیںo |
| 98.
فَلَوْلاَ كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا
إِيمَانُهَا إِلاَّ قَوْمَ يُونُسَ لَمَّآ آمَنُواْ كَشَفْنَا عَنْهُمْ
عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَى حِينٍO |
| 98. پھر
قومِ یونس (کی بستی) کے سوا کوئی اور ایسی بستی کیوں نہ ہوئی جو ایمان لائی
ہو اور اسے اس کے ایمان لانے نے فائدہ دیا ہو۔ جب (قومِ یونس کے لوگ نزولِ
عذاب سے قبل صرف اس کی نشانی دیکھ کر) ایمان لے آئے تو ہم نے ان سے دنیوی
زندگی میں (ہی) رسوائی کا عذاب دور کردیا اور ہم نے انہیں ایک مدت تک منافع
سے بہرہ مند رکھاo |
| 99.
وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَن فِي الْأَرْضِ
كُلُّهُمْ جَمِيعًا أَفَأَنتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّى يَكُونُواْ
مُؤْمِنِينَO |
| 99. اور
اگر آپ کا رب چاہتا تو ضرور سب کے سب لوگ جو زمین میں آباد ہیں ایمان لے
آتے، (جب رب نے انہیں جبراً مومن نہیں بنایا) تو کیا آپ لوگوں پر جبر کریں
گے یہاں تک کہ وہ مومن ہوجائیںo |
| 100.
وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَن تُؤْمِنَ إِلاَّ
بِإِذْنِ اللّهِ وَيَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لاَ يَعْقِلُونَO |
| 100. اور
کسی شخص کو (اَز خود یہ) قدرت نہیں کہ وہ بغیر اِذنِ الٰہی کے ایمان لے
آئے۔ وہ (یعنی اللہ تعالی) کفر کی گندگی انہی لوگوں پر ڈالتا ہے جو (حق کو
سمجھنے کے لئے) عقل سے کام نہیں لیتےo |
| 101.
قُلِ انظُرُواْ مَاذَا فِي السَّمَاوَاتِ
وَالْأَرْضِ وَمَا تُغْنِي الْآيَاتُ وَالنُّذُرُ عَن قَوْمٍ لاَّ
يُؤْمِنُونَO |
| 101. فرما
دیجئے: تم لوگ دیکھو تو (سہی) آسمانوں اور زمین (کی اس وسیع کائنات) میں
قدرتِ الٰہیہ کی کیا کیا نشانیاں ہیں اور (یہ) نشانیاں اور (عذابِ الٰہی
سے) ڈرانے والے (پیغمبر) ایسے لوگوں کو فائدہ نہیں پہنچا سکتے جو ایمان
لانا ہی نہیں چاہتےo |
| 102.
فَهَلْ يَنتَظِرُونَ إِلاَّ مِثْلَ أَيَّامِ
الَّذِينَ خَلَوْاْ مِن قَبْلِهِمْ قُلْ فَانتَظِرُواْ إِنِّي مَعَكُم
مِّنَ الْمُنتَظِرِينَO |
| 102. سو
کیا یہ لوگ انہی لوگوں (کے بُرے دنوں) جیسے دِنوں کا انتظار کر رہے ہیں جو
ان سے پہلے گزر چکے ہیں؟ فرما دیجئے کہ تم (بھی) انتظار کرو میں (بھی)
تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوںo |
| 103.
ثُمَّ نُنَجِّي رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُواْ
كَذَلِكَ حَقًّا عَلَيْنَا نُنجِ الْمُؤْمِنِينَO |
| 103. پھر
ہم اپنے رسولوں کو بچا لیتے ہیں اور ان لوگوں کو بھی جو اس طرح ایمان لے
آتے ہیں، (یہ بات) ہمارے ذمۂ کرم پر ہے کہ ہم ایمان والوں کو بچا لیںo |
| 104.
قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِن كُنتُمْ فِي
شَكٍّ مِّن دِينِي فَلاَ أَعْبُدُ الَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللّهِ
وَلَـكِنْ أَعْبُدُ اللّهَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ
مِنَ الْمُؤْمِنِينَO |
| 104. فرما
دیجئے: اے لوگو! اگر تم میرے دین (کی حقانیت کے بارے) میں ذرا بھی شک میں
ہو تو (سن لو) کہ میں ان (بتوں) کی پرستش نہیں کرسکتا جن کی تم اللہ کے سوا
پرستش کرتے ہو لیکن میں تو اس اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو تمہیں موت سے
ہمکنار کرتا ہے، اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں (ہمیشہ) اہلِ ایمان میں سے
رہوںo |
| 105.
وَأَنْ أَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا
وَلاَ تَكُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَO |
| 105. اور
یہ کہ آپ ہر باطل سے بچ کر (یک سُو ہو کر) اپنا رخ دین پر قائم رکھیں اور
ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہ ہوںo |
| 106.
وَلاَ تَدْعُ مِن دُونِ اللّهِ مَا لاَ
يَنفَعُكَ وَلاَ يَضُرُّكَ فَإِن فَعَلْتَ فَإِنَّكَ إِذًا مِّنَ
الظَّالِمِينَO |
| 106. (یہ
حکم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وساطت سے امت کو دیا جارہا ہے:)
اور نہ اللہ کے سوا ان (بتوں) کی عبادت کریں جو نہ تمہیں نفع پہنچا سکتے
ہیں اور نہ تمہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں، پھر اگر تم نے ایسا کیا تو بیشک تم
اس وقت ظالموں میں سے ہو جاؤ گےo |
| 107.
وَإِن يَمْسَسْكَ اللّهُ بِضُرٍّ فَلاَ كَاشِفَ
لَهُ إِلاَّ هُوَ وَإِن يُرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلاَ رَآدَّ لِفَضْلِهِ يُصِيبُ
بِهِ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَهُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُO |
| 107. اور
اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اسے دور کرنے والا
نہیں اور اگر وہ تمہارے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمائے تو کوئی اس کے فضل کو
ردّ کرنے والا نہیں۔ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اپنا فضل پہنچاتا
ہے، اور وہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہےo |
| 108.
قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمُ
الْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ فَمَنِ اهْتَدَى فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ
وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا وَمَا أَنَاْ عَلَيْكُم
بِوَكِيلٍO |
| 108. فرما
دیجئے: اے لوگو! بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے حق آگیا ہے، سو جس
نے راہِ ہدایت اختیار کی بس وہ اپنے ہی فائدے کے لئے ہدایت اختیار کرتا ہے
اور جو گمراہ ہوگیا بس وہ اپنی ہی ہلاکت کے لئے گمراہ ہوتا ہے اور میں
تمہارے اوپر داروغہ نہیں ہوں (کہ تمہیں سختی سے راہِ ہدایت پر لے آؤں)o |
| 109.
وَاتَّبِعْ مَا يُوحَى إِلَيْكَ وَاصْبِرْ
حَتَّى يَحْكُمَ اللّهُ وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَO |
| 109. (اے
رسول!) آپ اسی کی اتباع کریں جو آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے اور صبر کرتے
رہیں یہاں تک کہ اللہ فیصلہ فرما دے، اور وہ سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا
ہےo |
سُورة هُوْد
|
|
سورت : مکي |
ترتيب تلاوت : 11 |
ترتيب نزولي : 52 |
رکوع : 10 |
آيات : 123 |
پارہ نمبر : 11, 12 |
|
 |
| 1.
الر كِتَابٌ أُحْكِمَتْ آيَاتُهُ ثُمَّ
فُصِّلَتْ مِن لَّدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍO |
| 1. الف،
لام، را (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے
ہیں، یہ وہ) کتاب ہے جس کی آیتیں مستحکم بنا دی گئی ہیں، پھر حکمت والے
باخبر (رب) کی جانب سے وہ مفصل بیان کر دی گئی ہیںo |
| 2.
أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ اللّهَ إِنَّنِي
لَكُم مِّنْهُ نَذِيرٌ وَبَشِيرٌO |
| 2. یہ کہ
اللہ کے سوا تم کسی کی عبادت مت کرو، بیشک میں تمہارے لئے اس (اللہ) کی
جانب سے ڈر سنانے والا اور بشارت دینے والا ہوںo |
| 3.
وَأَنِ اسْتَغْفِرُواْ رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُواْ
إِلَيْهِ يُمَتِّعْكُم مَّتَاعًا حَسَنًا إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى وَيُؤْتِ
كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ وَإِن تَوَلَّوْاْ فَإِنِّيَ أَخَافُ عَلَيْكُمْ
عَذَابَ يَوْمٍ كَبِيرٍO |
| 3. اور یہ
کہ تم اپنے رب سے مغفرت طلب کرو پھر تم اس کے حضور (صدقِ دل سے) توبہ کرو
وہ تمہیں وقتِ معین تک اچھی متاع سے لطف اندوز رکھے گا اور ہر فضیلت والے
کو اس کی فضیلت کی جزا دے گا (یعنی اس کے اَعمال و ریاضت کی کثرت کے مطابق
اَجر و درجات عطا فرمائے گا)، اور اگر تم نے روگردانی کی تو میں تم پر بڑے
دن کے عذاب کا خوف رکھتا ہوںo |
| 4.
إِلَى اللّهِ مَرْجِعُكُمْ وَهُوَ عَلَى كُلِّ
شَيْءٍ قَدِيرٌO |
| 4. تمہیں
اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے، اور وہ ہر چیز پر بڑا قادر ہےo |
| 5.
أَلاَ إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ
لِيَسْتَخْفُواْ مِنْهُ أَلا حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ يَعْلَمُ مَا
يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِO |
| 5. جان لو!
بیشک وہ (کفار) اپنے سینوں کو دُہرا کر لیتے ہیں تاکہ وہ اس (خدا) سے (اپنے
دلوں کا حال) چھپا سکیں، خبردار! جس وقت وہ اپنے کپڑے (جسموں پر) اوڑھ لیتے
ہیں (تو اس وقت بھی) وہ ان سب باتوں کو جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو
وہ آشکار کرتے ہیں، بیشک وہ سینوں کی (پوشیدہ) باتوں کو خوب جاننے والا ہےo |