minhajbooks.com minhajbooks.com minhajbooks.com
minhajbooks.com
سرورق ہمارے بارے اردو کتب انگريزی کتب عربی کتب ڈاؤنلوڈ  کتب یونیکوڈ کتب امیج کتب خریداری ہمارا رابطہ
minhajbooks.com
فہرست مکمل تصانيف
نئي مطبوعہ تصانيف
نئي آنلائن تصانيف
نئی تصانیف یونیکوڈ تحریری روپ میں
نئی تصانیف تصویوی روپ میں
کثیر المطالعہ تصانیف
کثیر ڈاؤنلوڈز
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری
فرید ملت ڈاکٹر فریدالدین قادری
حسین محی الدین قادری
تبصرہ و تجاويز
minhajbooks.com
القرآن و علوم القرآن
الحديث
ا یمانیات-و-عبادات
اعتقادیات (اصول و فروع)
سیرت و فضائل نبوی
ختم نبوت و تقابلِ ادیان
فقہیات
اخلاق و تصوف
اوراد و وظائف
اقتصادیات
فکریات
دستوریات و قانونیات
شخصیات
اسلام اور سائنس
حقوق انسانی اور عصریات
سلسلہ تعلیمات اسلام
English Books
شاعری
فرید ملت
حسین محی الدین
متفرق
minhajbooks.com    مزیددیکھئے
مقدمہ سیرۃ الرسول (حصہ اول)
سیرۃ الرسول (جلد ہفتم)
سیرۃ الرسول (جلد دہم)
سیرۃ الرسول کی عصری و بین الاقوامی اہمیت
نور محمدی : خلقت سے ولادت تک
تاریخ مولد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
فلسفہ معراج النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
حسن سراپائے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
اسمائے مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
خصائص مصطفی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
شمائل مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
برکات مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
فضیلت درود و سلام
اسیران جمال مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
مطالعۂ سیرت کے بنیادی اصول
سیرۃ الرسول کی آئینی و دستوری اہمیت
سیرۃ الرسول کی دینی اہمیت
سیرۃ الرسول کی علمی و سائنسی اہمیت
سیرۃ الرسول کی انتظامی اہمیت
سیرۃ الرسول کا جمالیاتی بیان
سیرۃ الرسول کی ریاستی اہمیت
مقدمہ سیرۃ الرسول (حصہ دوم)
سیرۃ الرسول کی شخصی و رسالتی اہمیت
سیرۃ الرسول کی تہذیبی و ثقافتی اہمیت
سیرۃ الرسول کی اقتصادی اہمیت
عالم ارواح کا میثاق اور عظمت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
روز محشر اور شان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
فضیلت درود و سلام اور عظمت مصطفی (ص)



سیرت و فضائلِ نبوی (ص) > اسیران جمال مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) > پیش لفظ - اسلامی لائبریری

اسیران جمال مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

      

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی امت مسلمہ کے ایمان کا مرکز و محور ہے۔ امت مسلمہ کی بقا، سلامتی اور ترقی کا راز اس بات پر منحصر ہے کہ وہ ذات مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی جملہ عقیدتوں اور محبتوں کا مرکز و محور سمجھے۔ ہمارے ایمان کی مضبوطی اور استحکام کا دار و مدار بھی ذات مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تعلقِ عشقی مستحکم کرنے پر ہے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عشق و محبت والا تعلق مضبوط ہو جائے تو پھر ایمان بھی کامل ہو جائے گا اور اعمال و عبادات بھی بامقصد و بامراد ہوں گی۔

صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم ذات مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی محبت کا مرکز و محور سمجھتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس کے ساتھ تعلق جس قدر مضبوط و مستحکم ہو گا اسی قدر ایمان بھی مضبوط و مستحکم ہوتا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس درجہ تعظیم کرتے تھے کہ مخالفین بھی ان کے اس عمل پر پکار اٹھے کہ اب یہ قوم ناقابل تسخیر قوت بن گئی ہے۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے وارفتگی کا جو منظر حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھا۔ اگرچہ وہ اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ ۔ ۔ تو انہوں نے کفار مکہ سے برملا کہہ دیا کہ میں نے بڑے بڑے بادشاہوں کے دربار میں سلیقۂ ادب و احترام دیکھا ہے، لیکن خدا کی قسم! میں نے ہرگز کسی بادشاہ کو نہیں دیکھا کہ اس کے مصاحب اس کی اتنی تعظیم کرتے ہوں جتنی تعظیم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب اپنے رسول محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کرتے ہیں۔ بعدازاں انہوں نے کفار کو مسلمانوں پر حملہ نہ کرنے کا مشورہ دیا کیونکہ وہ بطور ماہر سفارتکار جانتے تھے کہ جو قوم اپنے رسول کے جسم سے مس ہونے والا پانی، لعاب دہن اور موئے مبارک کا زمین پر گرنا برداشت نہیں کر سکتے وہ میدان جنگ میں اس کے خون کا زمین پر گرنا کیونکر برداشت کر سکتی ہے!

آج اگر امت مسلمہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی سنت پر چلتے ہوئے ذات مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عشق و محبت اور ادب و تعظیم کا تعلق مضبوط تر کر لے تو پھر یہ دوبارہ ایک ناقابل تسخیر قوت بن سکتی ہے، جسے دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ تحریکِ منہاج القرآن امت مسلمہ کا اپنے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ٹوٹا ہوا تعلق پھر سے بحال کرنا چاہتی ہے۔ اس کے بانی قائد انقلاب ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے اس تعلق کو بحال کرنے کے لئے اپنی تقریر و تحریر کے ذریعے جس قدر شعور اجاگر کیا ہے دور حاضر میں اِس کی مثال ملنی مشکل ہے۔

زیرنظر کتاب میں عشاق صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے چالیس واقعات کے ذریعہ اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اگر آج ہم اس پیکر جمال صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ محبت و احترام کا تعلق مضبوط و مستحکم کر لیں تو اپنے آپ کو ناقابل تسخیر بنا سکتے ہیں، جبکہ اسلام دشمن طاقتوں کی خواہش ہے کہ امت مسلمہ کے سینوں سے ادب و تعظیم اور عشق و محبت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نکال دیا جائے تاکہ امت مسلمہ کو شکست خوردہ قوم بنایا جائے، جیسا کہ اِس حقیقت کی طرف علامہ اقبال رحمۃ اﷲ علیہ نے اپنے ان اشعار میں توجہ دلائی ہے:

یہ فاقہ کش جو موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روحِ محمد (ص) اس کے بدن سے نکال دو

فکرِ عرب کو دے کر فرنگی تخیلات
اسلام کو حجاز و یمن سے نکال دو

لہٰذا آج ضرورت اس امر کی ہے کہ امت مسلمہ اپنے اندر احوال عشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر سے زندہ کرے تاکہ یہ اجتماعی طور پر ماضی کی طرح ناقابل شکست اور ناقابل تسخیر قوت بن جائے۔

محمد تاج الدین کالامی
ریسرچ سکالر
فریدِ ملت ریسرچ انسٹی ٹیوٹ


>> حصہ اول
تفصیلی فہرست <<

minhajbooks.com minhajbooks.com
تلاش تصانیف
اردو English
minhajbooks.com
Join Us for Newsletter
Online Sponsors

Index Books
Nizam Badlo
اجمالی فہرست   اجمالی فہرست
سرورق
تفصیلی فہرست
پیش لفظ
حصہ اول
حصہ دوم
حصہ سوم
مآخذ و مراجع
اسیران جمال مصطفیٰ  (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
Copyright © 1999 - 2013 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved.