العرفان فی فضائل و آداب القرآن

تلاوت قرآن کے آداب کا بیان

50. عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اﷲِرَضي الله عنه، قَالَ: أَنَّ رَسُولَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلفَتْ عَلَيْهِ قُلُوبُکُمْ، فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فَقُومُوا عَنْهُ. متفق عليه.
”حضرت جندب بن عبد اﷲ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن مجید اس وقت تک پڑھتے رہو جب تک تمہارے دل اس کے ساتھ لگے رہیں اور جب (تھکاوٹ یا) اکتاہٹ محسوس کرو تو پڑھنا چھوڑ دو۔“

51. عَنْ حُذَيْفَةَ رَضي الله عنه، أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم قَرَأَ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ وَالنِّسَاءَ فِي رَکْعَةٍ لَا يَمُرُّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا سَأَلَ وَلَا بِآيَةٍ عَذَابٍ إِلَّا اسْتَجَارَ. رواه أبو داؤد والنسائي، واللفظ له، وأحمد.
”حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم نے سورہء بقرہ، سورہء آل عمران اور سورہء نساء کی ایک ہی رکعت میں تلاوت فرمائی۔ جب آپ صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم آیتِ رحمت تلاوت فرماتے تو اللہ تعالیٰ سے اس کی (رحمت) کا سوال کرتے اور جب آیتِ عذاب کی تلاوت فرماتے تو اللہ تعالیٰ کی (اس عذاب) سے پناہ مانگتے۔“

52. عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اﷲِ رضي اﷲ عنهما قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم، وَنَحْنُ نَقْرَاءُ الْقُرآنَ وَفِيْنَا الْأَعْرَابِيُّ وَالْأَعْجَمِيُّ، فَقَال: اقْرَؤُا فَکُلٌّ حَسَنٌ، وَسَيَجِيئُ أَقْوَامٌ يُقِيْمُونَهُ کَمَا يُقَامُ الْقِدْحُ، يَتَعَجَّلُونَهُ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهُ. رواه أبوداود وأحمد وابن أبي شيبة.
”حضرت جابر بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم ہماری طرف تشریف لائے اور ہم قرآن پڑھ رہے تھے، ہم میں اعرابی اور عجمی بھی تھے، آپ صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پڑھو! (تم) سب اچھا (پڑھتے) ہو، عنقریب کچھ لوگ ایسے آئیں گے جو اسے تیر کی طرح سیدھا چلائیں گے، وہ پڑھنے میں بہت جلدی کریں گے اور توقّف کے لئے بالکل نہیں ٹھہریں گے۔“

53. عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَامٍ عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: کَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ شِبْلٍ رَضى الله عنه أَنْ عَلِّمَ النَّاسَ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم، فَجَمَعَهُمْ، فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُولُ: تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ فَإِذَا عَلِمْتُمُواهُ فَلَا تَغْلُوا فِيْهِ وَلاَ تَجْفُوا عَنْهُ وَلاَ تَأْکُلُوا بِهِ وَلاَ تَسْتَکْثِرُوا بِهِ. وذکر باقي الحديث. رواه أحمد وأبو يعلی والطحاوي والبيهقي، ورجاله ثقات.
”حضرت زید بن سلام اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ نے حضرت عبد الرحمان بن شبل رضى اللہ عنہ کی طرف (خط) لکھا کہ آپ نے جو کچھ حضور نبی اکرم صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم سے سنا ہے اسے لوگوں کو سکھاؤ۔ تو انہوں نے لوگوں کو جمع کیا اور ان سے کہا: بے شک میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: قرآن مجید سیکھو، پس جب تم (قرآن مجید) سیکھ لو تو نہ اس میں غلوّ کرو اور نہ ہی اس سے جدا ہو اور نہ ہی اس کے ذریعے سے (لوگوں کا مال) کھاؤ اور نہ ہی (اس کے ذریعہ سے) مال بڑھاؤ۔“

54. عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رضي اﷲ عنهما أَنَّهُ مَرَّ عَلَی قَارِيءٍ يَقْرَأُ، ثُمَّ سَأَلَ فَاسْتَرْجَعَ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُولُ: مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَلْيَسْأَلِ اﷲَ بِهِ، فَإِنَّهُ سَيَجِيئُ أَقْوَامٌ يَقْرَءُوْنَ الْقُرْآنَ يَسْأَلُونَ بِهِ النَّاسَ. رواه الترمذي وأحمد وابن أبي شيبة والطبراني والبيهقي.وقال أبو عيسى: هذا حديث حسن.
”حضرت عمران بن حصین رضی اﷲ عنھما سے روایت ہے کہ وہ ایک قاری قرآن کے پاس سے گزرے جو قرآن پڑھتا ہے، پھر مانگتا ہے۔ انہوں نے إِنَّا ِﷲِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھا اور فرمایا: میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو قرآن پڑھے، اسے قرآن کے وسیلہ سے صرف اﷲ تعالیٰ ہی سے سوال کرنا چاہئے کیونکہ عنقریب کچھ لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے اور اس کے عوض لوگوں سے سوال کرتے پھریں گے۔“

55. عَنْ إِيَاسِ بْنِ عَامِرٍ يَقُولُ: أَخَذَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضي الله عنه بِيَدِي، ثُمَّ قَالَ: إِنَّکَ إِنْ بَقَيْتَ سَيَقْرَأُ الْقُرآنَ ثَلَاثَةُ أَصْنَافٍ: فَصِنْفٌ: لِلّٰهِ؛ وَصِنْفٌ: لِلْجِدَالِ؛ وَصِنْفٌ لِلدُّنْيَا، وَمَنْ طَلَبَ بِهِ أَدْرَکَ. رواه الدارمي.
”حضرت ایاس بن عامر رضى اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب رضى اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا پھر فرمایا: بے شک اگر تو باقی (زندہ) رہا (تو تُو دیکھے گا کہ) عنقریب تین قسم کے لوگ قرآن کو پڑھیں گے: ایک وہ جو فقط اللہ کے لئے اس کو پڑھیں گے؛ دوسرا وہ لوگ جو لڑائی جھگڑا کے لئے اس کو پڑھیں گے؛ اور تیسرے وہ لوگ جو دنیا کے لئے اس کو پڑھیں گے۔ اور جو کوئی اس قرآن کے توسل سے کوئی چیز مانگے گا وہ اس کو پالے گا۔“

56. عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رضى الله عنه، قَالَ: لَيْسَ مِنْ مُؤَدَّبٍ إِلَّا وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَی أَدَبُهُ، وَ إِنَّ أَدَبَ اﷲِ الْقُرْآنُ. رواه الدارمي.
”حضرت (عبد اللہ) بن مسعود رَضى اللہ عنہما سے روایت ہے، آپ بیان کرتے ہیں کہ ہر مستحقِ ادب یہ چاہتا ہے کہ اسے اس کا ادب دیا جائے، اور بیشک اللہ تعالیٰ کا ادب قرآن ہے۔“

57. عَنْ أَبِي إِيَاسٍ قَالَ: کُنْتُ نَازِلًا عَلَی عَمْرِو بْنِ النُّعْمَانِ فَأَتَاهُ رَسُولُ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ حِيْنَ حَضَرَهُ رَمَضَانُ بِأَلْفَي دِرْهَمٍ، فَقَالَ: إِنَّ الْأَمِيْرَ يُقْرِئُکَ السَّلَامَ، وَقَالَ: إِنَّا لَمْ نَدَعْ قَارِئًا شَرِيْفًا إِلَّا وَ قَدْ وَصلَ إِلَيْهِ مِنَّا مَعْرُوْفٌ، فَاسْتَعِنْ بِهَذَيْنِ عَلَی نَفَقَةِ شَهْرِکَ هَذَا، فَقَالَ: أَقْرِئ الْأَمِيْرَ السَّلَامَ، وَ قُلْ لَهُ: إِنَّا وَاﷲِ! مَا قَرَأْنَا الْقُرْآنَ نُرِيْدُ بِهِ الدُّنْيَا وَدِرْهَمَهَا. رواه الدارمي وابن أبي شيبة والبيهقي.
”حضرت ابو اِیاس رضى اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عمرو بن نعمان رضى اللہ عنہ کے ہاں مہمان ٹھہرا ہوا تھا کہ آپ کے پاس حضرت مصعب بن عمیر رضى اللہ عنہ کا قاصد دو ہزار درہم لے کر اس وقت آیا جب رمضان کا مہینہ تھا، اور کہا کہ امیرالمؤمنین آپ کو سلام کہتے ہیں اور انہوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ بے شک ہم نے قرآن کا کوئی بھی نیک و صالح قاری نہیں چھوڑا جس کو ہماری طرف سے (یہ) عطیہ نہ پہنچا ہو؛ سو آپ ان دو ہزار درہموں سے اس رمضان کے مہینے کے (اخراجات) میں مدد لیں۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ امیرالمومنین کو میرا سلام کہنا اور ان سے کہنا کہ بخدا! بیشک ہم قرآن کو طلبِ دنیا اور درہم و دینار کے لئے نہیں پڑھتے۔“

58. عَنْ عُمَرَ رَضي الله عنه أَنَّةُ قَالَ: يَا مَعْشَرَ القُرَّاءِ! ارْفَعُوا رُؤُوسَکُمْ، فَقَدْ وَضَحَ لَکُمُ الطَّرِيْقُ، وَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ، وَلَا تَکُونُوا عِيَالًا عَلَی الْمُسْلِمِيْنَ. رواه البيهقي وابن الجعد.
”حضرت عمر رضى اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: اے گروہِ قرّاء (قرآن پاک پڑھنے والو)! اپنے سروں کو اٹھاؤ، بلاشبہ (تمہارے لیے) راستہ واضح ہوگیا ہے اور نیکیوں کی طرف سبقت لے جاؤ، اور تم (دوسرے) مسلمانوں کے بھروسے پر نہ رہو۔“

59. عَنِ ابْنِ عَوْنٍ رَضي الله عنه قَالَ: ثَلاَثٌ أُحِبُّهُنَّ لِنَفْسِي وَلِإخْوَانِي: هَذِهِ السُّنَّةُ أَنْ يَتَعَلَّمُوهَا وَ يَسْأَلُوا عَنْهَا، وَالْقُرْآنُ أَنْ يَتَفَهَّمُوهُ وَ يَسْأَلُوا عَنْهُ، وَ يَدعُوا النَّاسَ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ. رواه البخاري.
”حضرت ابن عون رضى اللہ عنہ کا قول ہے کہ تین چیزیں میں اپنے لئے اور اپنے بھائی کے لئے پسند کرتا ہوں: ایک یہ کہ وہ اس سنت کو سیکھیں اور اس کے متعلق سوال کریں؛ دوسرا قرآن کریم کہ اسے سمجھیں اور اس کے متعلق پوچھیں؛ تیسرا یہ کہ بھلائی کے سوا لوگوں سے کنارہ کش رہیں۔“

60. عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَاصٍ رضي الله عنه، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُولُ: إِنَّ هَذَا الْقُرآنَ نَزَلَ بِحُزْنٍ، فَإِذَا قَرَأْتُمُوهُ فَابْکُوا، فَإِنْ لَمْ تَبْکُوا، فَتَبَاکَوا؛ وَتَغَنَّوْا بِهِ، فَمَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ فَلَيْسَ مِنَّا. رواه ابن ماجة وأبو يعلی والبيهقي.
”حضرت سعد بن ابی وقاص رضى اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: بیشک یہ قرآن غم سے لبریز نازل ہوا ہے، پس جب تم اسے پڑھو تو رویا کرو، اور اگر (دل کے سخت ہو جانے کے باعث) رو نہ سکو تم (کم از کم) رونے والی حالت ہی بنا لیا کرو۔ اور نغمگی کے ساتھ خوش الحانی سے اس کی تلاوت کیا کرو، پس جو حسنِ صوت اور نغمگی کے ساتھ قرآن کی تلاوت نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“

61. عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ قَالَ: صَحِبْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما مِنْ مَکَّةَ إِلَی الْمَدِيْنَةِ وَمِنَ الْمَدِيْنَةِ إِلَی مَکَّةَ، وَکَانَ يُصَلِّي رَکْعَتَيْنِ فَإِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا قَامَ شَطْرَ اللَّيْلِ وَيُرَتِّلُ الْقُرْآنَ يَقْرَأُ حَرْفًا حَرْفًا، وَيُکْثِرُ فِي ذَالِکَ مِنَ النَّشِيْجِ وَالنَّحِيْبِ وَيَقْرَأُ: وَجَاءَتْ سَکْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِکَ مَا کُنْتَ مِنْهُ تَحِيْدٌ [ق، 50 : 19]. رواه ابن أبي شيبة وأحمد والبيهقي، واللفظ له.
”حضرت ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ اور پھر مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ تک حضرت (عبد اللہ) بن عباس رضی اﷲ عنہما کی صحبت اختیار کی۔ اور آپ دو رکعت نماز ادا فرماتے تھے اور جب کسی جگہ رک کر قیام کرتے تو آدھی رات کو بیدار ہوتے اور ٹھہر ٹھہر کر قرآن پاک کی تلاوت فرماتے، ایک ایک حرف کو پڑھتے اور اس میں آہ و بکاء کرتے اور خوب روتے (یہاں تک کہ آپ کی ہچکی بندھ جاتی)، اور یہ آیت کریمہ تلاوت فرماتے: وَجَاءَتْ سَکْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِکَ مَا کُنْتَ مِنْهُ تَحِيْدٌ (اور موت کی بے ہوشی حق کے ساتھ آپہنچی۔ (اے انسان!) یہی وہ چیز ہے جس سے تو بھاگتا تھا)۔“


حواشی

الحديث رقم 50: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الإعتصام بالکتاب والسنة، باب: کراهية الخلاف، 6 / 2680، الرقم: 6931، وفي کتاب: فضائل القرآن، باب: اقرءوا القرآن ما ائتلفت عليه قلوبکم، 4 / 1929، الرقم: 4774، ومسلم في الصحيح، کتاب: العلم، باب: النهي عن إتباع متشابه القرآن والتحذير من متبعيه والنهي عن الإختلاف القرآن، 4 / 2053، الرقم: 2667، والنسائي في السنن الکبرى، 5 / 33، الرقم: 8097، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 313، وابن حبان في الصحيح، 3 / 5، الرقم: 732، والدارمي في السنن، 2 / 534، الرقم: 3359-3361.

الحديث رقم 51: أخرجه أبوداود عن عوف بن مالک رضي الله عنه في السنن، کتاب: الصلاة، باب: ما يقول الرجل في رکوعه وسجوده، 1 / 230، الرقم: 873، والنسائي في السنن، کتاب: الإفتتاح، باب: مسألة القاري إذا مر بآية رحمة، 2 / 177، الرقم: 1009، وفي کتاب: التطبيق عن عوف بن مالک رضي الله عنه، باب: نوع آخر، 2 / 223، الرقم: 1132، وأحمد بن حنبل في المسند، 6 / 24، الرقم: 24026، والبزار في المسند، 7 / 183، الرقم: 2750.

الحديث رقم 52: أخرجه أبوداود في السنن، کتاب: الصلاة، باب: ما يجزي الأمي والأعجمي من القراءة، 1 / 220، الرقم: 830، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 357، 397، الرقم: 14898، 15308، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 125، الرقم: 30004، وأبويعلى في المسند، 4 / 140، الرقم: 2197، وابن منصور في السنن، 1 / 150، 152، الرقم: 30-31، والبيهقي في شعب الإيمان، 2 / 538-539، الرقم: 2642، والشوکاني في نيل الأوطار، 6 / 25.

الحديث رقم 53: أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 3 / 444، 428، وأبو يعلى في المسند، 3 / 88، الرقم: 1518، والطحاوي في شرح معاني الآثار، 3 / 18، والبيهقي في السنن الکبرى، 2 / 17، الرقم: 2103، وفي السنن الصغرى، 1 / 544، الرقم: 990، وفي شعب الإيمان، 2 / 532، الرقم: 2624، وعبد بن حميد في المسند، 1 / 129، الرقم: 314، والديلمي في الفردوس بمأثور الخطاب، 1 / 96، الرقم: 311، وابن راشد في الجامع، 10 / 387، والشيباني في الآحاد والمثاني، 4 / 136.

الحديث رقم 54: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: فضائل القرآن عن رسول اﷲ صلى الله عليه وآله وسلم، باب: (20)، 5 / 179، الرقم: 2917، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 432، 439، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 124، الرقم: 30002، والطبراني في المعجم الکبير، 18 / 166، الرقم: 370-371، والبيهقي في شعب الإيمان، 2 / 533-534، الرقم: 2628-2629، وابن منصور في السنن، 1 / 187، الرقم: 45، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 231، الرقم: 2210.

الحديث رقم 55: أخرجه الدارمي في السنن، 2 / 526، الرقم: 3329.

الحديث رقم 56: أخرجه الدارمي في السنن، 2 / 525، الرقم: 3321.

الحديث رقم 57: أخرجه الدارمي في السنن، 1 / 153، الرقم: 585، وابن أبي شيبة في المصنف، 2 / 168، الرقم: 7738، 6 / 125، 199، الرقم: 30005، 30647، والبيهقي في شعب الإيمان، 2 / 535، الرقم: 2633.

الحديث رقم 58: أخرجه البيهقي في شعب الإيمان، 2 / 81-82، الرقم: 1216-1217، وابن الجعد في المسند، 1 / 285، الرقم: 1921، والنووي في التبيان، 1 / 61.

الحديث رقم 59: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الإعتصام بالکتاب والسنة، باب: الإقتداء بسنن رسول اﷲ صلى الله عليه وآله وسلم، 6 / 2654، والبيهقي في کتاب الزهد الکبير، 2 / 96، الرقم: 132، وأبو القاسم هبة الله في إعتقاد أهل السنة، 1 / 61، الرقم: 36.

الحديث رقم 60: أخرجه ابن ماجة في السنن، کتاب: إقامة الصلاة والسنة فيها، باب: في حسن الصوت بالقرآن، 1 / 424، الرقم: 1337، وأبويعلى في المسند، 2 / 49، الرقم: 689، والبيهقي في السنن الکبرى، 10 / 231، وفي شعب الإيمان، 2 / 363، 388، الرقم: 2051، 2147، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 237، الرقم: 2234.

الحديث رقم 61: أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف، 7 / 244، الرقم: 35720، والبيهقي في شعب الإيمان، 2 / 365، الرقم: 2061، وأحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، 2 / 950، الرقم: 1840، والذهبي في سير أعلام النبلاء، 3 / 342، 352، وابن الجوزي في صفوة الصفوة، 1 / 755.

Copyrights © 2024 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved