اربعین: اسماء و صفات الٰہیہ

اللہ تعالیٰ عالم الغیب والشہادۃ ہے

إِنَّهُ تَعَالٰی عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ

اللہ تعالیٰ عالم الغیب والشہادۃ ہے

اَلْقُرْآن

  1. وَهُوَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ ط وَيَوْمَ يَقُوْلُ کُنْ فَيَکُوْنُ ط قَوْلُهُ الْحَقُّ ط وَلَهُ الْمُلْکُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ ط عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ط وَهُوَ الْحَکِيْمُ الْخَبِيْرُo

(الانعام، 6/ 73)

اور وہی (اللہ) ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو حق (پر مبنی تدبیر) کے ساتھ پیدا فرمایا ہے اور جس دن وہ فرمائے گا ہوجا تو وہ (روزِ محشر بپا) ہوجائے گا۔ اس کا فرمان حق ہے، اور اس دن اسی کی بادشاہی ہوگی جب (اسرافیل کے ذریعے) صور میں پھونک ماری جائے گی، (وہی) ہر پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے، اور وہی بڑا حکمت والا خبردار ہے۔

  1. وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ ط وَيَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ط وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِيْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلاَّ فِيْ کِتٰبٍ مُّبِيْنٍo

(الانعام، 6/ 59)

اور غیب کی کُنجیاں (یعنی وہ راستے جن سے غیب کسی پر آشکار کیا جاتا ہے) اسی کے پاس (اس کی قدرت و ملکیت میں) ہیں انہیں اس کے سوا (اَز خود) کوئی نہیں جانتا، اور وہ ہر اس چیز کو (بلاواسطہ) جانتا ہے جو خشکی میں اور دریاؤں میں ہے، اور کوئی پتا نہیں گرتا مگر (یہ کہ) وہ اسے جانتا ہے اور نہ زمین کی تاریکیوں میں کوئی (ایسا) دانہ ہے اور نہ کوئی تر چیز ہے اور نہ کوئی خشک چیز مگر روشن کتاب میں (سب کچھ لکھ دیا گیا ہے)۔

  1. وَلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلاَّ کُنَّا عَلَيْکُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ ط وَمَا يَعْزُبُ عَنْ رَّبِّکَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآءِ وَلَآ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِکَ وَلَآ اَکْبَرَ اِلاَّ فِيْ کِتٰبٍ مُّبِيْنٍo

(يونس، 10/ 61)

اور (اے امتِ محمدیہ!) تم جو عمل بھی کرتے ہو مگر ہم تم سب پر گواہ و نگہبان ہوتے ہیں جب تم اس میں مشغول ہوتے ہو۔ اور آپ کے رب (کے علم) سے ایک ذرّہ برابر بھی (کوئی چیز) نہ زمین میں پوشیدہ ہے اور نہ آسمان میں اور نہ اس (ذرہ) سے کوئی چھوٹی چیز ہے اور نہ بڑی مگر واضح کتاب (یعنی لوحِ محفوظ) میں (درج) ہے۔

  1. قُلْ بَلٰی وَرَبِّيْ لَتَاْتِيَنَّکُمْ عٰلِمِ الْغَيْبِ ج لاَ يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَلَا فِی الْاَرْضِ وَلَآ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِکَ وَلَآ اَکْبَرُ اِلاَّ فِيْ کِتٰبٍ مُّبِيْنٍo

(سبا، 34/ 3)

آپ فرما دیں: کیوں نہیں؟ میرے عالم الغیب رب کی قسم! قیامت تم پر ضرور آئے گی، اس سے نہ آسمانوں میں ذرّہ بھر کوئی چیز غائب ہوسکتی ہے اور نہ زمین میں اور نہ اس سے کوئی چھوٹی (چیز ہے) اور نہ بڑی مگر روشن کتاب (یعنی لوحِ محفوظ) میں (لکھی ہوئی)ہے۔

  1. قُلِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ عٰـلِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ اَنْتَ تَحْکُمُ بَيْنَ عِبَادِکَ فِيْ مَا کَانُوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَo

(الزمر، 39/ 46)

آپ عرض کیجیے: اے اللہ! آسمانوں اور زمین کو عدم سے وجود میں لانے والے، غیب اور ظاہر کا علم رکھنے والے، تو ہی اپنے بندوں کے درمیان اُن (امور) کا فیصلہ فرمائے گا جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔

  1. هُوَ اللهُ الَّذِيْ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ج عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ج هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيْمُo

(الحشر، 59/ 22)

وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والا ہے، وہی بے حد رحمت فرمانے والا نہایت مہربان ہے۔

  1. قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِيْ تَفِرُّوْنَ مِنْهُ فَاِنَّهُ مُلٰـقِيْکُمْ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰی عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَo

(الجمعة، 62/ 8)

فرما دیجیے: جس موت سے تم بھاگتے ہو وہ ضرور تمہیں ملنے والی ہے پھر تم ہر پوشیدہ و ظاہر چیز کو جاننے والے (رب) کی طرف لوٹائے جاؤ گے سو وہ تمہیں آگاہ کر دے گا جو کچھ تم کرتے تھے۔

  1. اِنْ تُقْرِضُوا اللهَ قَرْضًا حَسَنًا يُضٰعِفْهُ لَکُمْ وَيَغْفِرْلَکُمْ ط وَاللهُ شَکُوْرٌ حَلِيْمٌo عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْعَزِيْزُ الْحَکِيْمُo

(التغابن، 64/ 17-18)

اگر تم اللہ کو (اخلاص اور نیک نیتی سے) اچھا قرض دوگے تو وہ اسے تمہارے لیے کئی گنا بڑھا دے گا اور تمہیں بخش دے گا، اور اللہ بڑا قدر شناس ہے بُردبار ہے۔ ہر نہاں اور عیاںکو جاننے والا ہے، بڑے غلبہ و عزت والا بڑی حکمت والا ہے۔

اَلْحَدِيْث

  1. عَنْ اَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: سَاَلْتُ عَائِشَةَ امَّ الْمُوْمِنِيْنَ رضي الله عنها بِاَيِّ شَيئٍ کَانَ نَبِيُّ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم يَفْتَتِحُ صَلَاتَهُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ؟ قَالَتْ: کَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ افْتَتَحَ صَلَاتَهُ، اَللّٰهُمَّ، رَبَّ جِبْرَائِيْلَ وَمِيْکَائِيْلَ وَإِسْرَافِيْلَ، فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، اَنْتَ تَحْکُمُ بَيْنَ عِبَادِکَ فِيْمَا کَانُوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ، اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيْهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِکَ، إِنَّکَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلٰی صِرَاطٍ مُسْتَقِيْمٍ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَاَحْمَدُ وَاَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه

اخرجه مسلم في الصحيح، کتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب الدعاء في صلاة الليل وقيامه، 1/ 534، الرقم/ 770، واحمد بن حنبل في المسند، 6/ 156، الرقم/ 25266، وابو داود في السنن، ابواب تفريع استفتاح الصلاة، باب ما يستفتح به الصلاة من الدعاء، 1/ 204، الرقم/ 767، وابن ماجه في السنن، کتاب إقامة الصلاة والسنة فيها، باب ما جاء في الدعاء إذا قام الرجل من الليل، 1/ 431، الرقم/ 1357.

حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رات کو نماز پڑھنے کھڑے ہوتے تو کس طرح نماز شروع کرتے تھے؟ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کی نماز اس دعا سے شروع کرتے: اے اللہ! اے جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل کے ربّ، آسمانوں اور زمین کے خالق، غیب اور ظاہر کے جاننے والے، جن چیزوں میں تیرے بندے آپس میں اختلاف کرتے ہیں، تو ہی ان کا فیصلہ کرنے والا ہے، اے اللہ! حق کی جن باتوں میں اختلاف پیدا ہو گیا ہے تو ان میں مجھ کو راہِ مستقیم پر رکھ اور تو جسے چاہتا ہے صراطِ مستقیم کی طرف ہدایت عطا فرماتا ہے۔

اِسے امام مسلم، احمد، ابو داود اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

  1. عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ اَبُوْ بَکْرٍ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، مُرْنِي بِشَيئٍ اَقُوْلُهُ إِذَا اَصْبَحْتُ وَإِذَا اَمْسَيْتُ؟ قَالَ: قُلْ: اَللّٰهُمَّ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ، رَبَّ کُلِّ شَيئٍ وَمَلِيْکَهُ، اَشْهَدُ اَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اَنْتَ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْکِهِ. قَالَ: قُلْهُ إِذَا اَصْبَحْتَ وَإِذَا اَمْسَيْتَ وَإِذَا اَخَذْتَ مَضْجَعَکَ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

اخرجه الترمذي في السنن، کتاب الدعوات، باب: 4، 5/ 467، الرقم/ 3392، والدارمي في السنن، کتاب الاستئذان، باب ما يقول إذا اصبح، 2/ 378، الرقم/ 2689.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے (حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں) عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے ایسے کلمات کی تلقین فرمائیں جنہیں میں صبح و شام پڑھا کروں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (صبح و شام) یہ کلمات پڑھا کرو: {اَللّٰهُمَّ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ، رَبَّ کُلِّ شَيئٍ وَمَلِيْکَهُ، اَشْهَدُ اَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اَنْتَ، اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْکِهِ} ’اے اللہ! پوشیدہ و ظاہر کو جاننے والے، آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے، ہر چیز کے رب اور مالک، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ نفس و شیطان کے شر اور اس کی شرکت سے میں تیری پناہ چاہتا ہوں۔‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صبح و شام اور سوتے وقت یہ کلمات پڑھا کرو۔

اِسے امام ترمذی اور دارمی نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

Copyrights © 2024 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved