اربعین: سیدنا حسان بن ثابت (رضی اللہ عنہ) کا نعتیہ کلام

حرف آغاز

حرفِ آغاز

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اَقدس اُمتِ مسلمہ کے ایمان کا مرکز و محور اور حقیقی اَساس ہے۔ لہٰذا اہلِ اسلام محافلِ نعت منعقد کرکے اپنے محبوب پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اپنی بے پناہ محبت اور جذباتی وابستگی کا اظہار کرتے ہیں۔ اﷲ ربّ العزت نے خود قرآن حکیم میں متعدد مقامات پر اپنے محبوب پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکرِ جمیل پیرایۂ نعت میں کیا ہے۔ خالقِ کائنات اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جب بھی مخاطب ہوا تو نام لینے کی بجائے کبھی يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ کہا اور کبھی يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ اور کبھی يسين کے لقب سے پکارا۔ اِسی طرح کلامِ مجید میں کہیں وَالضُّحَى کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رُخِ اَنور کی قسم کھائی اور کہیں وَاللَّيْلِ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شبِ تاریک کی مانند سیاہ زلفوں کی قسم کھائی۔ ہمہ قرآن دَر شانِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مصداق پورا قرآن حکیم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدح اور نعت ہی تو ہے۔ اِس کے پیرایۂ اِظہار میں نعت ہی کا رنگ صاف جھلکتا دکھائی دیتا ہے۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود محفلِ نعت منعقد فرماتے اور بہت سے جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں مدح سرائی کا شرف حاصل کرتے اور انعام و اکرام پاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو فرماتے کہ وہ آپ کی مدح میں لکھے ہوئے قصائد پڑھ کر سنائیں۔

اُمّ المؤ منین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا روایت کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت حسان رضی اللہ عنہ کے لیے مسجد نبوی میں منبر رکھواتے، وہ اس پر کھڑے ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق (کفار و مشرکین کے مقابلہ میں) فخریہ شعر پڑھتے۔

(سنن ترمذی)

حدیث شریف میں وارِد لفظ کَانَ استمرارِ فعل پر دلالت کرتا ہے اور اس اَمر کی خبر دیتا ہے کہ یہ واقعہ بار بار ہوا اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول مبارک تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو مسجد نبوی میں منبر پر بلاتے اور وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں نعت پڑھتے اور کفار کی ہجو میں لکھا ہوا کلام سناتے۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت و شوکت اور علو مرتبت کا پتہ چلتا ہے۔

الغرض ممدوحِ خالقِ کائنات رحمۃً للعالمین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدح خوانی کرنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت پڑھنا، سننا اور محافلِ نعت منعقد کرنا قرآن و سنت کے عین مطابق جائز بلکہ مطلوب اَمر ہے۔ یہ عمل قرونِ اُولیٰ سے لے کر آج تک جاری و ساری ہے اور اِن شاء اﷲ العزیز تا اَبد جاری رہے گا۔

دعا ہے کہ یہ مجموعہ احادیث اَہل اِیمان کے دلوں میں محبت و عشق رسول کی ضیاء باریوں میں مزید اِضافہ کا باعث بنے۔

(آمین بجاہِ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

(حافظ ظہیر اَحمد الاِسنادی)
رِیسرچ اسکالر، فریدِ ملت ریسرچ انسٹی ٹیوٹ

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved