نماز

باجماعت نماز ادا کرنے کی فضیلت

باجماعت نماز ادا کرنے کی فضیلت

باجماعت نماز کی فضیلت بہت زیادہ ہے حتی کہ اگر دو آدمی بھی ہو۔ں تو جماعت قائم کی جائے، ان میں ایک امام بنے اور دوسرا مقتدی؛ جیسا کہ حضرت ابوموسيٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

إِثْنَانِ فَمَا فَوْقَهُمَا جَمَاعَةٌ.

 (سنن ابن ماجة، کتاب اِقامة الصلاة والسنة فيها، باب الاثنان جماعة، 1: 522، رقم: 972)

’دو یا دو کے اوپر جماعت ہے۔‘‘

باجماعت نماز کی فضیلت کے حوالے سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چند احادیث درج ذیل ہیں:

1. حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ تَفْضُلُ صَلَاةَ الْفَذِّ بِسَبْعٍ وَعِشْرِيْنَ دَرَجَةً.

(صحيح بخاری ، کتاب الأذان، باب فضل صلاة الجماعة، 1: 231، رقم: 219)

’’باجماعت نماز ادا کرنا تنہا نماز ادا کرنے پر ستائیس درجے فضیلت رکھتا ہے۔‘‘

2. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’جب آدمی اچھی طرح وضو کر کے مسجد کی طرف جاتا ہے اور اس طرح جاتا ہے کہ نماز کے سوا کوئی دوسری چیز اسے نہیں لے جاتی تو وہ جو قدم بھی اٹھاتا ہے اس کے ذریعے اس کا ایک درجہ بلند کیا جاتا ہے اور ایک گناہ (کا بوجھ) ہلکا کیا جاتا ہے پھر جب وہ نماز پڑھتا ہے تو فرشتے اس پر اس وقت تک سلامتی بھیجتے رہتے ہیں جب تک وہ باوضو رہتا ہے اور اس کے لیے یہ دعا کرتے ہیں: اے اﷲ! اس پر سلامتی بھیج، اے اﷲ! اس پر رحم فرما۔ تم میں سے ہر ایک جب تک نماز کا انتظار کرتا ہے وہ نماز ہی میں ہوتا ہے۔‘‘

(صحيح بخاری کتاب الجماعة والإمامة، باب فضل صلاة الجماعة، 1: 232، رقم: 220)

3. حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’جو اﷲ کے لیے چالیس دن نماز باجماعت ادا کرے اور تکبیر اوليٰ پائے اس کے لیے دو آزادیاں لکھ دی جائیں گی ایک دوزخ سے دوسری نفاق سے۔‘‘

 (سنن ترمذی ابواب الصلاة، باب في فضل التکبيرة الاولٰی، 1:281، رقم: 241)

4. حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’جس کو یہ پسند ہو کہ وہ حالت اسلام میں کل (قیامت کے دن) اﷲ تعاليٰ سے کامل مومن کی حیثیت سے ملاقات کرے، اسے چاہئے کہ جس جگہ اذان دی جاتی ہے وہاں ان نمازوں کی حفاظت کرے (یعنی وہ نمازِ پنجگانہ باجماعت ادا کرے).‘‘

پھر حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’اگر تم منافقوں کی طرح بلاعذر مسجدوں کو چھوڑ کر اپنے گھروں میں نماز پڑھنے لگو گے تو اپنے نبی کی سنت کو چھوڑ بیٹھو گے اور اگر اپنے نبی کی سنت کو چھوڑ دو گے تو گمراہ ہو جاؤ گے۔‘‘

 (صحيح مسلم، کتاب المساجد و مواضع الصلاة، باب صلاة الجماعة من سنن الهدی، 1: 452، رقم: 254)

جان بوجھ کر نماز باجماعت ادا نہ کرنے کے متعلق وعید

بغیر عذر شرعی باجماعت نماز نہ پڑھنے کو منافقت کی نشانی قرار دیا گیا ہے اور ایسے لوگوں کے لیے سخت وعید ہے۔ حدیثِ مبارکہ میں ہے:

عَنْ آبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه: آنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ هَمَمْتُ آنْ آمُرَ بِحَطَبٍ فَيُحْطَبَ، ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَيُؤَذَّنَ لَهَا، ثُمَّ آمُرَ رَجُلاً فَيَؤُمَّ النَّاسَ، ثُمَّ آخَالِفَ إِلَی رِجَالٍ فَآحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوْتَهُمْ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَو يَعْلَمُ آحَدُهُمْ: آنَّهُ يَجِدُ عَرْقًا سَمِيْنًا، آوْ مِرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ، لَشَهِدَ الْعِشَاءَ.

(صحيح بخاری کتاب الجماعة والإمامة، باب وجوب صلاة الجماعة، 1: 231، رقم: 218)

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! میں نے ارادہ کیا کہ لکڑیاں اکٹھی کرنے کا حکم دوں تو وہ اکٹھی کی جائیں، پھر نماز کا حکم دوں تو اس کے لیے اذان کہی جائے۔ پھر ایک آدمی کو حکم دوں کہ لوگوں کی امامت کرے پھر ایسے لوگوں کی طرف نکل جاؤں (جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے) اور ان کے گھروں کو آگ لگا دوں۔ قسم اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! اگر ان میں سے کوئی جانتا کہ اسے موٹی ہڈی یا دو عمدہ کھریاں ملیں گی تو ضرور نماز عشاء میں شامل ہوتا۔‘‘

نماز باجماعت ادا کرنے کی حکمتیں

نمازِ پنج گانہ مسجد میں باجماعت ادا کرنے کی درج ذیل حکمتیں ہیں:

  • نماز باجماعت مسجد میں ادا کرنے سے مسلمانوں کو دن میں پانچ مرتبہ یکجا ہونے کے مواقع میسر آتے ہیں۔ اس طرح انہیں اہلِ محلہ کے بارے میں پتہ چلتا ہے کہ کون کس حال میں ہے قرب و جوار میں کوئی ایسا تو نہیں جو پریشان و تنگدست ہے یا بیمار ہے۔
  • باجماعت نماز کی ادائیگی قرب و موانست اور محبت کے رشتے کو مضبوط و مستحکم بنانے میں مدد گار ثابت ہوتی ہے۔ ایک دوسرے کی خوشی غمی اور دکھ سکھ میں شریک ہو کر ایک صحت مند، خوشحال اور فعال معاشرے کی تعمیر ممکن ہے۔

  • نماز باجماعت کی پابندی سے انسان کے دل میں یہ احساس جاگزیں ہوتا ہے کہ بغیر کسی شرعی عذر کے گھر کے اندر رہ کر انفرادی سطح پر نماز جیسے فریضے کی بجا آوری ممکن نہیں تو افرادِ معاشرہ ایک دوسرے سے الگ تھلگ کیسے رہ سکتے ہیں؟
  • باجماعت نماز سے اطاعتِ امیر کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
  • معاشرے کے اندر وحدت و یگانگت کے جذبات فروغ پاتے ہیں۔
  • وقت کی پابندی کا درس ملتا ہے۔
  • عملاً مساوات کا مظاہرہ ہوتا ہے۔
  • اتحاد، نظم اور یقین محکم کا درس ملتا اور تربیت ہوتی ہے۔
  • نیکیوں میں سبقت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
  • غرور و تکبر کے بت ٹوٹتے ہیں۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved