میلاد النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

پیش لفظ

حسنِ مطلق نے اَزل سے اِس کائنات کو اِس قدر دِل کش و رَعنا اور حسن و جمال کی جلوہ آرائیوں کا مرقع بنایا ہے کہ اس کے جاذبِ نظر ماحول میں اِنساں بے اِختیار گم ہو جاتا ہے۔ عالمِ آفاق کے خارجی مظاہر قدم قدم پر دامن کشِ دل ہوتے ہیں۔ اگر چشمِ بصیرت سے دیکھا جائے تو اِن مظاہرِ کائنات کی اَصل نورِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے جو اَمرِ کُنْ کا نقشِ اَوّل ہے۔ ربِ کائنات نے اپنے حبیبِ مکرّم سیدنا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی ذات کا مظہرِ کامل بنا کر کائنات میں مبعوث فرمایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ظہورِ بشری بارہ ربیع الاوّل کو حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے گھر سیدہ آمنہ رضی اﷲ عنھا کی گود میں ہوا، جس سے تاریخِ عالم ایک ایسے دور میں داخل ہوئی جس نے نئی تہذیب و تمدن کو جنم دیا اور کہولت و فرسودگی کے تمام آثار دیکھتے ہی دیکھتے ماند پڑ گئے، صنم کدۂ جہاں سے شرک و اِلحاد اور کفر و جہالت کی تمام ظلمتیں مٹ گئیں، شبستانِ عالم میں توحیدِ باری کی ایسی شمع روشن ہوئی جس سے تشکیک و گمراہی کے سارے اندھیرے اپنی موت مرگئے۔

ذکرِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَزل تا اَبد جاری و ساری ہے۔ اﷲ رب العزت نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چرچا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وجود میں لانے سے بھی بہت پہلے کر دیا تھا۔ عرشِ بریں پر اپنے نام کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام رقم کیا۔ جنت کے پتے پتے پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اِسم گرامی جلوہ گر رہا۔ فرشتے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام جپتے رہے۔ آج اگر اُمتِ مسلمہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کے واقعات کو تصوّر و تخیل میں لا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کی خوشی میں محافل کا اِنعقاد کرتی ہے تو یہ اُسی نوری سلسلہ کی ایک کڑی ہے جو اَزل تا اَبد جاری رہے گا۔ یہ محبوب و پسندیدہ عمل ہے۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد کی خوشی میں ضیافت کرنا، صدقہ و خیرات کرنا، روشنیوں کا اِہتمام کرنا، قمقمے روشن کرنا، مشعل بردار جلوس نکالنا اور دل کھول کر خرچ کرنا بارگاہِ اِلٰہی میں مقبول اور اُس کی رضا کا باعث ہے۔ اُمتی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت پر خوش ہوں گے تو اﷲ تعالیٰ اُن سے خوش ہوگا۔

زیرِ نظر کتاب، شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری مدظلّہ العالی کے اِس موضوع پر ہونے والے پُر مغز خطابات و دروس سے مدوّن کی گئی ہے، جسے بجا طور پر اِس موضوع کا اِنسائیکلوپیڈیا کہا جا سکتا ہے۔ اِن خطبات و دروس میں حضرت شیخ الاسلام مدظلّہ العالی نے میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مختلف پہلوؤں پر قرآن و سنت، آثارِ صحابہ اور اَقوالِ اَئمہ و محدّثین کی روشنی میں اِنتہائی جامع اور سیر حاصل بحث کی ہے۔ یوں پہلی مرتبہ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دلائلِ شرعیہ اس حسنِ ترتیب سے یکجا ہوگئے ہیں اور اِس ضخیم کتاب کی صورت میں اہلِ علم و دانش کی خدمت میں پیش کیے جا رہے ہیں۔ اِس کتاب کی اَہمیت و افادیت اور علمی ثقاہت کا اندازہ اس کے مطالعہ کے بعد ہی لگایا جاسکے گا۔

یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ قبل ازیں اِس موضوع پر حضرت شیخ الاسلام کی تصنیف ’’جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شرعی حیثیت‘‘ ایک طویل عرصہ تک طبع ہوتی اور عوامی و علمی حلقوں میں پسند کی جاتی رہی۔ اِس کتاب کو آپ کے دروس و خطبات سے محترم ڈاکٹر علی اَکبر الازہری نے مرتب کیا تھا، تاہم اب اس کی منتخب اَبحاث کتاب ہٰذا میں ضم کر دی گئی ہیں۔ کتاب ہٰذا کی ترتیب و تدوین میں محترم محمد تاج الدین کالامی اور پروف خوانی میں محترم محمد وسیم الشّحمی کی معاونت بھی شامل رہی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے حبیبِ مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نعلین مقدّسہ کی خیرات عطا فرمائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد پاک کے فیوضات سے نوازے۔ (آمین بجاہِ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)۔

محمد علی قادری
(سینئر رِیسرچ اسکالر)
فریدِ ملّت(رح) رِیسرچ اِنسٹی ٹیوٹ، لاہور

15 صفر المظفر، 1428ھ بمطابق 5 مارچ، 2007ء

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved