حسن سراپائے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

ابتدائیہ

اُس حسنِ مطلق نے دنیا کے نظاروں کو اِس قدر حسین بنایا ہے کہ اِنسان اس دِل کش اور جاذبِ نظر ماحول میں بار بار گم ہو جاتا ہے۔ کبھی زمین کی دلفریب رعنائیاں اُس کے دامنِ دل کو کھینچتی ہیں تو کبھی اَفلاک کی دِلکش وُسعتیں، کبھی ہواؤں کی جاوداں و جانفزا کیفیتیں اُس کے لئے راحتِ جاں بنتی ہیں تو کبھی فضاؤں میں گونجنے والے نغماتِ حسن اس کی توجہ کو مہمیزعطا کرتے ہیں۔ یہ کائناتِ آب و گِل حسن و عشق کے ہنگاموں کا مرکز ہے جس میں حسن کبھی گلِ لالہ کی نرم و نازک پنکھڑیوں سے عیاں ہوتا ہے اور کبھی اُن کی دلفریب مہک سے۔ نغماتِ حسن کبھی آبشاروں میں سنائی دیتے ہیں اور کبھی دریاؤں اور نہروں کے سکوت میں۔ کہیں باغات کی دِلکش رونقیں چہرۂ حسن کو بے نقاب کرتی ہیں اور کہیں صحراؤں کی خاموشیاں۔ کہیں سمندروں کا بہاؤ حسن میں ڈھلتا دِکھائی دیتا ہے تو کہیں سبزہ زاروں کا پھیلاؤ۔ الغرض ہر سُو حسن کی جلوہ سامانیاں ہیں اور نگاہ و دِل خوب سے خوب تر کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔

عالمِ آفاق کے نغماتِ حُسن کی صدائے بازگشت اَنفسی کائنات کے نہاں خانوں میں سنائی دے رہی ہے اور کائناتِ خارجی کی بے کراں وُسعتوں میں بھی، غرض یہ کہ حسین خواہشات ہر سُو مچل رہی ہیں۔ یہی خواہشات خوگرِ حُسن بھی ہیں اور پیکرِ حُسن بھی۔ تخیلات بھی حُسن سے سکون پاتے ہیں اور تصوّرات بھی اُسی کے مشتاق ہیں۔ اہلِ دل کبھی حُسن کو جلوَت میں تلاش کرتے ہیں، کبھی خلوَت میں۔ کوئی جلوۂ حُسن میں مست ہے اور کوئی تصورِ حُسن میں بے خود۔ اِس کارگہِ حیات میں ہر کوئی حُسن کا متلاشی ہے۔ کوئی ذوق و شوق کے مرحلے میں ہے تو کوئی جذب و کیف کے مقام پر، کوئی سوز و مستی میں ہے، کوئی وجد و حال میں، لیکن شبستانِ عشق میں ہر کسی کو نورِ حسن ہی کی کوئی نہ کوئی شعاع میسر ہے۔ دل کہتا ہے کہ حُسن کے دِلفریب جلوے جو اِس قدر کثرت سے ہر طرف بکھرے پڑے ہیں، کہیں نہ کہیں اُن کا منبع ضرور ہو گا، کہیں نہ کہیں وہ سرچشمۂ حُسن یقیناً موجود ہو گا جہاں سے سب کے سب جمالیاتی سُوتے پھوٹ رہے ہیں۔ ہر خوب سے خوب تر کا وجود اور حسیں سے حسیں تر کا نشان یہ بتلاتا ہے کہ کہیں نہ کہیں حُسن و رعنائی کا آخری نظارہ بھی ہو گا، تلاشِ حُسن کا سفر کہیں تو ختم ہوتا ہو گا۔ آنکھیں کہتی ہیں، بیشک کہیں وہ آخری تصویرِ حسن بھی ہو گی جسے دیکھ کر جذبۂ تسکین کو بھی سکوں آ جائے۔ رُوح پکارتی ہے بلاشبہ کہیں وہ حریمِ ناز بھی ہو گا جہاں سب بے چینیاں ختم ہو جائیں اور راحتیں تکمیل کو پہنچ جائیں۔

آؤ! اُس حسن کی تلاش میں نکلیں اور اُس جمال کو اپنائیں جس کی ادائے ناز سے جہانِ رنگ و بو میں ہر سُو حسن و جمال کی جلوہ آرائی ہے۔ آؤ! جادۂ عشق کے رَہ نوردو! اِس صحرائے حیات میں دیکھو، وہ طُور پر سے ایک عاشق کی ندا آ رہی ہے، فضائے طلب میں اُس کی صدائے عشق بلند ہو رہی ہے، رُوح کے کانوں سے سنو، آواز آ رہی ہے :

رَبِّ أَرِنِیْ أَنْظُرْ إِلَيکَ.

القرآن، الاعراف، 7 : 143

’’اے میرے ربّ! مجھے (اپنا جلوہ) دِکھا کہ میں تیرا دِیدار کر لوں۔‘‘

نظارۂ حسن کی طلب کرنے والے حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ آپ علیہ السلام کس حسن کو پکار رہے ہیں؟ اُسی حُسن کو جو حُسنِ مطلق ہے، حُسنِ ازل ہے، حُسنِ کامل ہے، حُسنِ حقیقت ہے، اور جو ہر حُسن کا منبع و مصدر ہے، اور ہر حُسن کی اصل ہے۔ حسین جس کے حُسن کا تصوّر نہیں کر سکتے، جمیل جس کے جمال کا گمان نہیں کر سکتے۔

آپ علیہ السلام کو حریمِ ناز سے کیا جواب ملتا ہے! اِرشاد ہوا :

لَنْ تَرَانِیْ.

القرآن، الاعراف، 7 : 143

’’تم مجھے (براہِ راست) ہرگز دیکھ نہ سکو گے۔‘‘

پھر۔۔۔ عشق کی بیتابی دیکھ کر، اُس نے حُسنِ ذات کی بجائے حُسنِ صفات کا صرف ایک نقاب اُلٹا مگر

فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّه لِلْجَبَلِ جَعَلَه دَکًّا وَّ خَرَّ مُوْسٰی صَعِقًا.

القرآن، الاعراف، 7 : 143

’’پھر جب اُس کے رب نے پہاڑ پر (اپنے حُسن کا) جلوہ فرمایا تو (شدتِ اَنوار سے) اُسے ریزہ ریزہ کر دیا اور موسیٰ بے ہوش ہو کر گر پڑا۔‘‘

موسیٰ زِ ہوش رفت بیک پرتوِ صفات

رُوحِ بیتاب پکارنے لگی : اے حسنِ مطلق! بیشک تو ہی حسین و جمیل ہے اور تو حسن و جمال سے محبت کرتا ہے، لیکن آنکھیں ترس گئی ہیں کہ تیرے حسنِ کامل کا نظارہ کسی پیکرِ محسوس میں دِکھائی دے تو اُسے دیکھیں۔

کبھی اے حقیقتِ منتظر! نظر آ لباسِ مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبینِ نیاز میں

اے لامکاں میں بسنے والے حسنِ تمام! عالمِ مکاں میں بھی اپنے حسنِ کامل کی جلوہ سامانی کر۔ تو عالمِ ہوّیت میں تو نور فگن ہے ہی، مطلعِ بشریت کو بھی اپنے پرتوِ حُسن و نور سے روشن کر۔ تو حسنِ بے مثال ہے، لَيسَ کَمِثْلِهِ شَئْO (اُس کے جیسا کوئی نہیں) کا مصداق تیرا ہی جمال ہے، تو ہی ہے جو کسی کے حسنِ سراپا کو اپنی شانِ مظہریت سے نوازتا ہے تاکہ عاشقانِ صادِق عالمِ ہست و بود میں تیرے حسن کا نقشِ کامل دیکھ سکیں، تیرے نور کا مظہرِ اَتمّ دیکھ سکیں۔ حریمِ ناز سے صدا آتی ہے : اَے حسن و جمالِ حق کے متلاشی! تیری تلاش تجھے مل چکی، تیرا سوال پورا ہو چکا، تیری مُراد بر آ چکی۔ اے متلاشئ حسنِ مطلق! یوں تو ہر سُو میرے ہی حسن کے جلوے ہیں :

فَأَيْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اﷲِ.

القرآن، البقره، 2 : 115

’’تم جدھر بھی رُخ کرو اُدھر ہی اللہ کی توجہ ہے (یعنی ہر سمت ہی اللہ کی ذات جلوہ گر ہے)۔‘‘

لیکن میرے محبوبِ مکرم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حسنِ سراپا عالمِ خلق میں میرے پرتوِ حسن کی کامل جلوہ گاہ ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطلعِ ذات پر میرا آفتابِ حُسن شباب پر ہے۔ اُس پیکرِ حسن و نور کو دیکھ، یہی مظہرِ حسنِ حقیقت ہے اور یہی منظرِ جمالِ مطلق۔

جب یہ حقیقت واضح ہو چکی تو آؤ اُس حسنِ سراپا کی بات کریں جس سے مُردہ دِلوں کو زندگی، پژمُردہ رُوحوں کو تازگی و شیفتگی اور بے سکون ذِہنوں کو اَمن و آشتی کی دولت میسر آتی ہے۔ اللہ ربّ العزت نے حضرتِ اِنسان کو اَشرفُ المخلوقات بنایا ہے اور اُس کی تخلیق و تقوِیم بہترین شکل و صورت میں فرمائی ہے، اِرشادِ ربانی ہے :

لَقَدْ خَلَقْنَا اْلإِنْسَانَ فِیْ أَحْسَنِ تَقْوِيْمٍO

القرآن، التين، 95 : 4

’’بیشک ہم نے اِنسان کو بہترین (اِعتدال اور توازُن والی) ساخت میں پیدا فرمایاo‘‘

اِس آیۂ کریمہ کا مفہوم بصراحت اِس اَمر پر دلالت کر رہا ہے کہ خلاّقِ عالم نے اِنسان کو دِیگر اَوصاف کے علاوہ بہترین شکل و صورت عطا فرمائی ہے اور اُسے بہ اِعتبارِ حسنِ صورت کائنات میں تخلیق کردہ ہر ذِی رُوح پر فوقیت اور برتری سے نوازا ہے۔

اِنسان حسنِ صورت و سیرت کا حسین اِمتزاج ہے

اِنسانی شخصیت کے دو پہلو ہیں : ایک ظاہر اور دُوسرا باطن۔ ظاہری پہلو اَعضاء و جوارِح سے تشکیل پاتا ہے۔ اِس تشکیل و ترتیب میں سر سے پاؤں تک تمام اَعضاء کے باہمی تناسب سے جو ہیئت ہمارے سامنے آتی ہے اُسے شکل و صورت کا نام دیا جاتا ہے۔ اَعضاء کے تناسب میں اگر اِعتدال و توازُن کارفرما ہو اور کوئی عضو ایسا نہ ہو جو بے جوڑ ہونے کی بنا پر اِنسانی جسم میں بے اِعتدالی کا مظہر قرار پائے تو ایسی صورت بلاشبہ حسین صورت سے تعبیر کی جائے گی جبکہ اِنسان کی باطنی شخصیت میں اَوصاف حمیدہ اور پسندیدہ عادات و خصائل کا جمع ہو جانا حسنِ سیرت کہلاتا ہے۔

تاریخ کے مختلف اَدوار میں اُن تمام برگزیدہ انبیاء و رُسل کی شخصیات، جو راہِ اِنسانیت سے ہٹے ہوئے لوگوں کی رُشد و ہدایت پر مامور ہوتے رہے، حسنِ صورت اور حسنِ سیرت کا حسین اِمتزاج ہیں۔ یہ وہ اَفراد تھے جن کا مقصدِ بعثت اور نصبُ العین ہر دَور میں گمراہی و ضلالت کے اندھیروں میں بھٹکنے والے اِنسانوں کو نورِ ہدایت سے حق و راستی کی جانب رہنمائی عطا کرنا تھا۔ اِس لئے اُن کے باطن کے ساتھ ساتھ اُن کے ظاہر کو بھی ہمیشہ پُرکشش بنایا گیا تاکہ لوگوں کی طبیعتیں مکمل طور پر اُن کی طرف راغب اور مانوس ہوں۔

اِس بزمِ ہستی میں وہ مبارک شخصیت جس میں حسنِ صورت اور حسنِ سیرت کے تمام محامد و محاسن بدرجۂ اَتمّ سمو دیئے گئے، پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ گرامی ہے۔ اگر تمام ظاہری و باطنی محاسن کو ایک وُجود میں مجتمع کر دیا جائے اور شخصی حُسن و جمال کے تمام مظاہر جو جہانِ آب و گِل میں ہر سُو منتشر دِکھائی دیتے ہیں، ایک پیکر میں اِس طرح یکجا دِکھائی دیں کہ اُس سے بہتر ترکیب و تشکیل ناممکن ہو تو وہ حُسن و جمال کا پیکرِ اَتمّ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجود میں ڈھلتا نظر آتا ہے۔ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلّم ہے کہ عالمِ اِنسانیت میں سرورِ کائنات فخرِ موجودات نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بحیثیتِ عبدِ کامل ظاہری و باطنی حسن و جمال کے اُس مرتبۂ کمال پر فائز ہیں جہاں سے ہر حسین کو خیراتِ حُسن مل رہی ہے۔ حُسن و جمال کے سب نقش و نگار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صورتِ اَقدس میں بدرجۂ اَتمّ اِس خوبی سے مجتمع کر دیئے گئے ہیں کہ ازل تا اَبد اِس خاکدانِ ہستی میں ایسی مثال ملنا ناممکن ہے۔ گویا عالمِ بشریت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ ستودہ صفات جامعِ کمالات بن کر منصہ شہود پر جلوہ گر ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی وہ شاہکار قرار پائے جسے دیکھ کر دِل و نگاہ پکار اُٹھتے ہیں :

زِ فرق تا بہ قدم ہر کجا کہ می نگرم
کرشمہ دامنِ دل می کشد کہ جا اینجاست

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved