حسن سراپائے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

پیکرِ حسن و جمال

جان لینا چاہئے کہ سرورِ دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علوِ مرتبت، رُوحانی کمالات و خصائص اور باطنی فضائل و محامد کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بے مثل حسن و جمال بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زِندۂ جاوید معجزہ ہے، جس کا تذکرہ کم و بیش سیرت کی تمام کتب میں موجود ہے۔ یہی سبب ہے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرتِ مطہرہ کو جاننے کے ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صورتِ طیبہ کا ایک تحریری مرقع دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ سیرت کے ساتھ صورت سے بھی پیار پیدا ہو۔ یہ ایک مسلّمہ حقیقت بھی ہے کہ صورت، سیرت کی عکاس ہوتی ہے اور ظاہر سے باطن کا کچھ نہ کچھ اندازہ ضرور ہو جاتا ہے کیونکہ اِنسان کا چہرہ اُس کے مَن کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ پہلی نظر ہمیشہ کسی شخصیت کے چہرے پر پڑتی ہے، اُس کے بعد سیرت و کردار کو جاننے کی خواہش دِل میں جنم لیتی ہے۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کے اَحوال و فضائل اس نقطۂ نظر سے معلوم کرنے سے پہلے یہ جاننے کی خواہش فطری طور پر پیدا ہوتی ہے کہ اُس مبارک ہستی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سراپا، قد و قامت اور شکل و صورت کیسی تھی، جس کے فیضانِ نظر سے تہذیب و تمدّن سے ناآشنا خطہ ایک مختصر سے عرصے میں رشکِ ماہ و اَنجم بن گیا، جس کی تعلیمات اور سیرت و کردار کی روشنی نے جاہلیت اور توّہم پرستی کے تمام تیرہ و تار پردے چاک کر دیئے اور جس کے حیات آفریں پیغام نے چہار دانگِ عالم کی کایا پلٹ دی۔ حقیقت یہ ہے کہ ذاتِ خداوندی نے اُس عبدِ کامل اور فخرِ نوعِ اِنسانی کی ذاتِ اَقدس کو جملہ اَوصافِ سیرت سے مالا مال کر دینے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شخصیت کو ظاہری حُسن کا وہ لازوال جوہر عطا کر دیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حسنِ صورت بھی حسنِ سیرت ہی کا ایک باب بن گیا تھا۔ سرورِکائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسنِ سراپا کا ایک لفظی مرقع صحابۂ کرام اور تابعینِ عظام کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ ربّ العزت نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وہ حسن و جمال عطا کیا تھا کہ جو شخص بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہلی مرتبہ دور سے دیکھتا تو مبہوت ہو جاتا اور قریب سے دیکھتا تو مسحور ہو جاتا۔

1۔ افضلیت و اکملیت کا معیارِ آخر

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے سب سے محبوب اور مقرب نبی ہیں، اِس لئے باری تعالیٰ نے اَنبیائے سابقین کے جملہ شمائل و خصائص اور محامد و محاسن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اَقدس میں اِس طرح جمع فرما دیئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم افضلیت و اکملیت کا معیارِ آخر قرار پائے۔ اِس لحاظ سے حسن و جمال کا معیارِ آخر بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کی ذات ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اِس شانِ جامعیت و کاملیت کے بارے میں اِرشادِ باری تعالیٰ ہے :

أُوْلَـئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ.

’’(یہی) وہ لوگ (پیغمبرانِ خدا) ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت فرمائی ہے، پس (اے رسولِ آخرالزماں!) آپ اُن کے (فضیلت والے سب) طریقوں (کو اپنی سیرت میں جمع کر کے اُن) کی پیروی کریں (تاکہ آپ کی ذات میں اُن تمام انبیاء و رُسل کے فضائل و کمالات یکجا ہو جائیں)۔‘‘

القرآن، الانعام، 6 : 90

آیتِ مبارکہ میں ہدایت سے مُراد انبیائے سابقہ کے شرعی اَحکام نہیں کیونکہ وہ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے ساتھ ہی منسوخ ہو چکے ہیں، بلکہ اِس سے مُراد وہ اَخلاقِ کریمانہ اور کمالاتِ پیغمبرانہ ہیں جن کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام مخلوق پر فوقیت حاصل ہے۔ چنانچہ وہ کمالات و اِمتیازات جو دِیگر انبیاء علیھم السلام کی شخصیات میں فرداً فرداً موجود تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں وہ سارے کے سارے جمع کر دیئے گئے اور اِس طرح حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جملہ کمالاتِ نبوّت کے جامع قرار پا گئے۔

1۔ علامہ آلوسی رحمۃ اﷲ علیہ مذکورہ آیت کے تحت اِمام قطبُ الدین رازی رحمۃ اﷲ علیہ کے حوالے سے رقمطراز ہیں :

أنه يتعين أن الإقتداء المأمور به ليس إلا في الأخلاق الفاضلة و الصفات الکاملة، کالحلم و الصبر و الزهد و کثرة الشکر و التضرع و نحوها، و يکون في الآية دليل علي أنه صلي الله عليه وآله وسلم أفضل منهم قطعا لتضمنها، أن اﷲ تعالٰي هدي أولئک الأنبياء عليهم الصلٰوة و السلام إلٰي فضائل الأخلاق و صفات الکمال، و حيث أمر رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم أن يقتدي بهداهم جميعًا امتنع للعصمة أن يقال : أنه لم يتمثل، فلا بدّ أن يقال : أنه عليه الصلٰوة والسلام قد امتثل و أتي بجميع ذالک، و حصل تلک الأخلاق الفاضلة التي في جميعهم، فاجتمع فيه من خصال الکمال ما کان متفرقاً فيهم، و حينئذٍ يکون أفضل من جميعهم قطعا، کما أنه أفضل مِن کل واحدٍ منهم.

’’یہ اَمر طے شدہ ہے کہ اِس آیت میں شریعت کے اَحکام کی اِقتداء کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ اَخلاقِ حسنہ اور صفاتِ کاملہ مثلاً حلم، صبر، زُہد، کثرتِ شکر، عجز و اِنکساری وغیرہ کے حاصل کرنے کا حکم ہے۔ یہ آیتِ مقدسہ اِس اَمر پر قطعی دلیل کا درجہ رکھتی ہے کہ اِس اِعتبار سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام انبیاء و رُسل سے اَفضل و اَعلیٰ ہیں کیونکہ ربِ کائنات نے جو اَوصاف اور فضیلتیں اُن نبیوں اور رسولوں کو عطا کی ہیں اُن کے حصول کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم فرمایا گیا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عصمت کے پیشِ نظریہ نہیں کہا جا سکتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن (فضیلتوں) کو حاصل نہیں کیا بلکہ یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ خصائص اور کمالات جو دِیگر انبیاء و رُسل میں جدا جدا تھے اُن سب کو اپنی سیرت و کردار کا حصہ بنا لیا، اِس لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس طرح ہر نبی سے اُس کے اِنفرادی کمالات کے اعتبار سے اَفضل ہوئے اُسی طرح تمام انبیاء و رُسل سے اُن کے اِجتماعی کمالات کے اعتبار سے بھی افضل قرار پائے۔‘‘

آلوسي، روح المعاني، 7 : 217

درجِ بالا عبارت تحریر کرنے کے بعد علامہ آلوسی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں :

هو إستنباطٌ حسنٌ.

’’یہ بہت ہی خوبصورت اِستنباط ہے۔‘‘

2۔ آیتِ مذکورہ کے حوالے سے اِمام فخر الدین رازی رحمۃ اﷲ علیہ لکھتے ہیں :

إحتج العلماء بهذه الآية علٰي أن رسولنا صلي الله عليه وآله وسلم أفضل من جميع الأنبياء عليهم السلام.

’’اہلِ علم نے اِس آیتِ مقدسہ سے اِستدلال کیا ہے کہ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام انبیاء علیھم السلام سے اَفضل ہیں۔‘‘

رازی، التفسير الکبير، 13 : 70

3۔ اِمام فخر الدین رازی رحمۃ اﷲ علیہ اِس موقف کی وجہِ اِستدلال کا ذِکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

أنه تعالٰی لما ذکر الکل أمر محمد صلی الله عليه وآله وسلم عليه الصلوة والسلام بأن يقتدي بهم بأسرهم، فکان التقدير کأنه تعالٰي أمر محمد صلي الله عليه وآله وسلم صلي الله عليه وآله وسلم أن يجمع من خصال العبودية و الطاعة کل الصفات التي کانت مفرقة فيهم بأجمعهم.

’’آیتِ مذکورہ سے قبل اللہ رب العزت نے دیگر جلیل القدر انبیاء و رسل کا اوصافِ حمیدہ کے ساتھ ذِکر فرمایا اور آخر میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ حکم دیا کہ (محبوب!) اُن (انبیاء و رُسل) کی ذواتِ مطہرہ میں جو بھی فرداً فرداً اَوصافِ حمیدہ ہیں اُن اَوصافِ حمیدہ کو اپنی ذات کے اندر جمع فرما لیجئے۔‘‘

رازي، التفسير الکبير، 13 : 71

اِمام فخرالدین رازی رحمۃ اﷲ علیہ ایک دُوسرے مقام پر آیتِ مذکورہ کا مفہوم اِن الفاظ میں بیان کرتے ہیں :

فکأنه سبحانه قال : ’’إنا أطلعناک علي أحوالهم و سيرهم، فاختر أنت منها أجودها و أحسنها، وکن مقتديا بهم في کلها.‘‘ و هذا يقتضي أنه اجتمع فيه من الخصال المرضية ما کان متفرقاً فيهم فوجب أن يکون أفضل منهم.

’’گویا اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ’’اے نبی مکرم! ہم نے آپ کو انبیاء و رُسل کے اَحوال اور سیرت و کردار سے آگاہ کر دیا۔ اَب آپ ان تمام (انبیاء و رُسل) کی سیرت و کردار کو اپنی ذات میں جمع فرما لیں۔‘‘ اِسی آیت سے یہ بھی واضح ہو رہا ہے کہ تمام اَخلاقِ حسنہ اور اَوصاف حمیدہ جو متفرق طور پر انبیاء و رُسل میں موجود تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرتِ مطہرہ میں اپنے شباب و کمال کے ساتھ جمع ہیں، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام انبیاء و رُسل سے اَفضل ماننا لازمی ہے‘‘۔

رازي، التفسير الکبير، 6 : 196

4۔ رسولِ اوّل و آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے محامد و محاسن کے ضمن میں شیخ عبدالحق محدث دِہلوی رحمۃ اﷲ علیہ لکھتے ہیں :

آں حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم را فضائل و کمالات بود، کہ اگر مجموع فضائلِ انبیاء صلوات اﷲ علیھم اجمعین را در جنب آن بنہند راجح آید۔

’’حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے محاسن و فضائل اِس طرح جامعیت کے مظہر ہیں کہ کسی بھی تقابل کی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے محاسن و فضائل کو ہی ترجیح حاصل ہو گی‘‘۔

محدث دهلوي، شرح سفر السعادت : 442

اِس کائناتی سچائی کے بارے میں کوئی دُوسری رائے ہی نہیں کہ جملہ محامد و محاسن اور فضائل و خصائل جس شان اور اِعزاز کے ساتھ آقائے محتشم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اَقدس میں ہیں اِس شان اور اِعزاز کے ساتھ کسی دُوسرے نبی یا رسول کی ذات میں موجود نہ تھے۔

5۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اﷲ علیہ ایک دُوسرے مقام پر رقمطراز ہیں :

خلائق درکمالاتِ انبیاء علیھم الصلٰوۃ و السلام حیران، و انبیاء ہمہ در ذاتِ وے۔ کمالاتِ انبیاءِ دیگر محدود و معین است، اما ایں جا تعین و تحدید نگنجد و خیال و قیاس را بدرکِ کمالِ وے را نہ بود.

’’(اللہ رب العزت کی) تمام مخلوقات کمالاتِ انبیاء علیہم السلام میں اور تمام انبیاء و رُسل حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اَقدس میں متحیر ہیں۔ دِیگر انبیاء و رُسل کے کمالات محدُود اور متعین ہیں، جبکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے محاسن و فضائل کی کوئی حد ہی نہیں، بلکہ ان تک کسی کے خیال کی پرواز ہی ممکن نہیں۔‘‘

محدث دهلوي، مرج البحرين

2۔ حسن و جمالِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ظہورِ کامل

حضور سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات حسن و کمال کا سرچشمہ ہے۔ کائناتِ حُسن کا ہر ہر ذرّہ دہلیزِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ادنیٰ سا بھکاری ہے۔ چمنِ دہر کی تمام رعنائیاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کے دم قدم سے ہیں۔ ربِ کریم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وہ جمالِ بے مثال عطا فرمایا کہ اگر اُس کا ظہورِ کامل ہو جاتا تو اِنسانی آنکھ اُس کے جلووں کی تاب نہ لا سکتی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کمالِ حسن و جمال کو نہایت ہی خوبصورت اَنداز میں بیان کیا ہے۔

1۔ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

رأيتُ رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم في ليلة إضحيان، فجعلت أنظر إلي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم و إلي القمر، و عليه حلة حمراء، فإذا هو عندي أحسن من القمر.

’’ایک رات چاند پورے جوبن پر تھا اور اِدھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی تشریف فرما تھے۔ اُس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سرخ دھاری دار چادر میں ملبوس تھے۔ اُس رات کبھی میں رسول اللہا کے حسنِ طلعت پر نظر ڈالتا تھا اور کبھی چمکتے ہوئے چاند پر، پس میرے نزدیک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاند سے کہیں زیادہ حسین لگ رہے تھے۔‘‘

1. ترمذي، الجامع الصحيح، 5 : 118، ابواب الأدب، رقم : 2811
2. ترمذي، الشمائل المحمديه، 1 : 39، رقم : 10
3. دارمي، السنن، 1 : 44، مقدمه، رقم : 57
4. ابو يعلي، المسند، 13 : 464، رقم : 7477
5. بيهقي، دلائل النبوه، 1 : 196
6. بيهقي، شعب الايمان، 2 : 150، رقم : 1417
7. ابن عساکر، السيرة النبويه، 3 : 167

2۔ حضرت براء بن عازب صفرماتے ہیں :

ما رأيتُ من ذي لمة أحسن في حلّة حمراء من رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم .

’’میں نے کوئی زلفوں والا شخص سرخ جوڑا پہنے ہوئے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ حسین نہیں دیکھا۔‘‘

1. مسلم، الصحيح، 4 : 1818، کتاب الفضائل، رقم : 2337
2. ترمذي، الجامع الصحيح، 4 : 219، ابواب اللباس، رقم : 1724
3. ترمذي، الجامع الصحيح، 5 : 598، ابواب المناقب، رقم : 3635
4. ابو داؤد، السنن، 4 : 81، کتاب الترجل، رقم : 4183
5. ترمذي، الشمائل المحمديه، 1 : 31، رقم : 4
6. دارمي، السنن، 1 : 33
7. احمد بن حنبل، المسند، 4 : 300
8. ابن عساکر، السيرة النبويه، 2 : 160
9. نسائي، السنن الکبريٰ، 5 : 412، رقم : 9325
10. نسائي، السنن، 8 : 183، کتاب الزينه، رقم : 5233
11. ابن سعد، الطبقات الکبري، 1 : 450
12. ابن قدامه، المغني، 1 : 341
13. شوکاني، نيل الاوطار، 1 : 151

3۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے کسی شخص نے پوچھا :

أکان وجه رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم مثل السيف؟

’’کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرۂ مبارک تلوار کی مثل تھا؟ ‘‘

تو اُنہوں نے کہا :

لا، بل مثل القمر.

’’نہیں‘‘، بلکہ مثلِ ماہتاب تھا۔‘‘

1. ترمذي، الشمائل المحمديه : 2، باب ما جاء في خلق رسول اﷲ
2. ترمذي، الجامع الصحيح، 5 : 598، أبواب المناقب، رقم : 3636
3. بخاري، الصحيح، 3 : 1304، کتاب المناقب، رقم : 3359
4. احمد بن حنبل، المسند، 4 : 281
5. ابن حبان، الصحيح، 14 : 198، رقم : 6287
6. دارمي، السنن، 1 : 45، رقم : 64
7. ابو يعليٰ، المسند، 13 : 451، رقم : 7456
8. روياني، المسند، 1 : 225، رقم : 310
9. ابن الجعد، المسند، 1 : 375، رقم : 2572
10. بخاري، التاريخ الکبير، 1 : 10
11. ابن سعد، الطبقات الکبري، 1 : 417
12. ابن کثير، البدايه و النهايه، 4 : 381
13. ابن حجر عسقلاني، فتح الباري، 6 : 573، رقم : 3359
14. ابو علا مبارک پوري، تحفة الاحوذي، 10 : 80

4۔ حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اﷲ عنہا مکہ مکرمہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعداز وِلادت پہلی زیارت کے تاثرات بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں :

فأشفقتُ أن أوقظه من نومه لحسنه و جماله، فدنوتُ منه رويداً، فوضعتُ يدي علي صدره فتبسّم ضاحکاً، ففتح عينيه ينظر إليّ، فخرج من عينيه نورٌ حتي دخل خلال السماء.

’’حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کے حسن و جمال کی وجہ سے میں نے جگانا مناسب نہ سمجھا پس میں آہستہ سے ان کے قریب ہو گئی۔ میں نے اپنا ہاتھ ان کے سینہ مبارک پر رکھا پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا کر ہنس پڑے اور آنکھیں کھول کر میری طرف دیکھنے لگے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں سے ایک نور نکلا جو آسمان کی بلندیوں میں پھیل گیا۔‘‘

نبهانی، الانوار المحمديه : 29

5۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسنِ دلرُبا کو چاندی سے ڈھال کر بنائی گئی دِیدہ زیب اشیاء سے تشبیہ دیتے ہوئے حضرت انس اور حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہما فرماتے ہیں :

کان رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم کأنّما صِيغَ من فضة.

’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (مجموعی جسمانی حسن کے لحاظ سے) یوں معلوم ہوتے تھے گویا چاندی سے ڈھالے گئے ہیں۔‘‘

1. بيهقي، دلائل النبوه، 1 : 241
2. ابن جوزي، الوفاء : 412
3. خطيب بغدادي، تاريخ بغداد، 10 : 297، رقم : 5437
4. ابن کثير، البدايه والنهايه، 6 : 19
5. سيوطي، الجامع الصغير، 1 : 22
6. مناوي، فيض القدير، 5 : 69

3۔ کسی آنکھ میں مشاہدۂ حسنِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تاب نہ تھی

ربِ کائنات نے وہ آنکھ تخلیق ہی نہیں کی جو تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسن و جمال کا مکمل طور پر مشاہدہ کر سکے۔ اَنوارِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس لئے پردوں میں رکھا گیا کہ اِنسانی آنکھ جمالِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تاب ہی نہیں لا سکتی۔ اللہ ربّ العزت نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حقیقی حسن و جمال مخلوق سے مخفی رکھا۔

1۔ اِمام زرقانی نے اپنی کتاب میں امام قرطبی رحمۃ اﷲ علیہ کا یہ ایمان افروز قول نقل کیا ہے :

لم يظهر لنا تمام حسنه صلي الله عليه وآله وسلم، لأنّه لو ظهر لنا تمام حسنه لما أطاقت أعيننا رؤيته صلي الله عليه وآله وسلم.

’’حضور کا حسن و جمال مکمل طور پر ہم پر ظاہر نہیں کیا گیا اور اگر آقائے کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تمام حسن و جمال ہم پر ظاہر کر دیا جاتا تو ہماری آنکھیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جلوؤں کا نظارہ کرنے سے قاصر رہتیں۔‘‘

زرقاني، شرح المواهب اللدنيه، 5 : 241

2۔ قولِ مذکور کے حوالے سے اِمام نبہانی رحمۃ اﷲ علیہ حافظ اِبن حجر ہیتمی رحمۃ اﷲ علیہ کا قول نقل کرتے ہیں :

وَ ما أحسن قول بعضهم : لم يظهر لنا تمام حسنه صلي الله عليه وآله وسلم .

’’بعض ائمہ کا یہ کہنا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تمام حسن و جمال ہم (یعنی مخلوق) پر ظاہر نہیں کیا گیا نہایت ہی حسین و جمیل قول ہے۔‘‘

نبهاني، جواهر البحار، 2 : 101

1۔ نبی بے مثال صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسن و جمال کا ذکرِ جمیل حضرت عَمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اِن اَلفاظ میں کرتے ہیں :

وَ ما کان أحد أحبّ إليّ مِن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم و لا أجل في عيني منه، و ما کنت أطيق أن أملأ عيني منه إجلالا له و لو سئلت أن أصفه ما أطقت لأني لم أکن أملأ عيني منه.

’’میرے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر کوئی شخص محبوب نہ تھا اور نہ ہی میری نگاہوں میں کوئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حسین تر تھا، میں حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقدس چہرہ کو اُس کے جلال و جمال کی وجہ سے جی بھر کر دیکھنے کی تاب نہ رکھتا تھا۔ اگر کوئی مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے محامد و محاسن بیان کرنے کے لئے کہتا تو میں کیونکر ایسا کرسکتا تھا کیونکہ (حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسنِ جہاں آرا کی چمک دمک کی وجہ سے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آنکھ بھر کر دیکھنا میرے لئے ممکن نہ تھا۔‘‘

1. مسلم، الصحيح، 1 : 112، کتاب الإيمان، رقم : 121
2. ابو عوانه، المسند، 1 : 70، 71، رقم : 200
3. ابراهيم بن محمد الحسيني، البيان والتعريف، 1 : 157، رقم : 418
4. ابن سعد، الطبقات الکبري، 4 : 259
5. ابو نعيم، المسند المستخرج علي صحيح الامام مسلم، 1 : 190، رقم : 315
6. قاضي عياض، الشفاء، 2 : 30

2۔ اِنسانی آنکھ کی بے بسی کا یہ عالم تھا کہ شاعرِ رسول حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ جو اپنے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ بیکس پناہ میں درُودوں کے گجرے اور سلاموں کی ڈالیاں پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتے تھے وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رُوئے منوّر دیکھ کر اپنی آنکھیں ہتھیلیوں سے ڈھانپ لیا کرتے تھے، وہ خود فرماتے ہیں :

لما نظرتُ إلي أنواره صلي الله عليه وآله وسلم وضعتُ کفي علي عيني خوفاً من ذهاب بصري.

’’میں نے جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اَنوار و تجلیات کا مُشاہدہ کیا تو اپنی ہتھیلی اپنی آنکھوں پر رکھ لی، اِس لئے کہ (رُوئے منوّر کی تابانیوں سے) کہیں میں بینائی سے ہی محروم نہ ہو جاؤں۔‘‘

(1) نبهاني، جوهر البحار، 2 : 450

حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کمالِ حسن کو بڑے ہی دِلپذیر انداز میں بیان کیا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

وَ أَحْسَنُ مِنْکَ لَمْ تَرَ قَطُّ عَيْنِيْ
وَ أَجْمَلُ مِنْکَ لَمْ تَلِدِ النِّسَاءُ
خُلِقْتَ مُبَرَّأً مِّنْ کُلِّ عَيْبٍ
کَأَنَّکَ قَدْ خُلِقْتَ کَمَا تَشَاءُ

(آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حسین تر میری آنکھ نے کبھی دیکھا ہی نہیں اور نہ کبھی کسی ماں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جمیل تر کو جنم ہی دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تخلیق بے عیب (ہر نقص سے پاک) ہے، (یوں دِکھائی دیتا ہے) جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ربّ نے آپ کی خواہش کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صورت بنائی ہے۔)

حسان بن ثابت، ديوان : 21

5۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں :

آنحضرت بتمام از فرق تا قدم ہمہ نور بود، کہ دیدۂ حیرت درجمالِ با کمالِ وی خیرہ میشد مثل ماہ و آفتاب تاباں و روشن بود، و اگر نہ نقاب بشریت پوشیدہ بودی ہیچ کس را مجال نظر و اِدراکِ حسنِ اُو ممکن نبودی.

’’حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سرِ انور سے لے کر قدمِ پاک تک نور ہی نور تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حُسن و جمال کا نظارہ کرنے والے کی آنکھیں چندھیا جاتیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جسمِ اَطہر چاند اور سورج کی طرح منوّر و تاباں تھا۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جلوہ ہائے حسن لباس بشری میں مستور نہ ہوتے تو رُوئے منوّر کی طرف آنکھ بھر کر دیکھنا ناممکن ہو جاتا۔‘‘

محدث دهلوي، مدارج النبوة، 1 : 137

6۔ ملا علی قاری رحمۃ اﷲ علیہ علماءِ محققین کے حوالے سے فرماتے ہیں :

أنَّ جمال نبينا صلي الله عليه وآله وسلم کان في غاية الکمال... لکن اﷲ سترعن أصحابه کثيرًا من ذالک الجمال الزاهر و الکمال البهر، إذ لو برز إليهم لصعب النظر إليه عليهم.

’’ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حسن و جمالِ اَوجِ کمال پر تھا۔۔۔ لیکن ربِ کائنات نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جمال کو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم پر مخفی رکھا، اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جمال پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ افروز ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روئے تاباں کی طرف آنکھ اُٹھانا بھی مشکل ہو جاتا۔‘‘

ملا علي قاري، جمع الوسائل، 2 : 9

7۔ ملا علی قاری رحمۃ اﷲ علیہ ایک دُوسرے مقام پر ’قصیدہ بُردہ شریف‘ کی شرح میں لکھتے ہیں :

أنه إذا ذکر علي ميت حقيقي صارحياً حاضراً، و إذا ذکر علٰي کافر و غافل جعل مؤمنا و هول ذاکرًا لکن اﷲ تعاليٰ ستر جمال هذا الدر المکنون و کمال هذا الجوهر المصون لحکمة بالغة و نکتة سابقة و لعلها ليکون الايمان غيبيًّا و الأمور تکليفيًّا لا لشهود عينيا و العيان بديهيا أولئلا يصيرمزلقة لأقدام العوام و مزلة لتضر الجمال بمعرفة الملک العلاّم.

’’اگر خدائے رحیم و کریم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسمِ مبارک کی حقیقی برکات کو آج بھی ظاہر کردے تو اُس کی برکت سے مُردہ زندہ ہوجائے، کافر کے کفر کی تاریکیاں دُور ہوجائیں اور غافل دل ذکرِ الٰہی میں مصروف ہوجائے لیکن ربِ کائنات نے اپنی حکمتِ کاملہ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اِس اَنمول جوہر کے جمال پر پردہ ڈال دیا ہے، شاید ربِ کائنات کی یہ حکمت ہے کہ معاملات کے برعکس اِیمان بالغیب پردہ کی صورت میں ہی ممکن ہے اور مشاہدۂ حقیقت اُس کے منافی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسن و جمال کو مکمل طور پر اِس لئے بھی ظاہر نہیں کیا گیا کہ کہیں ناسمجھ لوگ غلُوّ کا شکار ہوکر معرفتِ اِلٰہی سے ہی غافل نہ ہو جائیں۔‘‘

ملا علي قاري، الزبدة في شرح البردة : 60

8۔ شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ میرے والدِ ماجد شاہ عبدالرحیم رحمۃ اﷲ علیہ کو خواب میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی تو اُنہوں نے عرض کیا : یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیک وسلم! زنانِ مصر نے حضرت یوسف علیہ السلام کو دیکھ کر اپنے ہاتھ کاٹ لئے اور بعض لوگ اُنہیں دیکھ کر بیہوش بھی ہو جاتے تھے، لیکن کیا سبب ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ کر ایسی کیفیات طاری نہیں ہوتیں۔ اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’میرے اللہ نے غیرت کی وجہ سے میرا جمال لوگوں سے مخفی رکھا ہے، اگر وہ کما حقہ آشکار ہو جاتا تو لوگوں پر محوِیت وبے خودی کا عالم اِس سے کہیں بڑھ کر طاری ہوتا جو حضرت یوسف علیہ السلام کو دیکھ کر ہوا کرتا تھا۔‘‘

شه ولي الله، الدرّ الثمين : 39

9۔ اِمام محمد مہدی الفاسی رحمۃ اﷲ علیہ نے الشیخ ابو محمد عبدالجلیل القصری رحمۃ اﷲ علیہ کا قول نقل کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں :

و حسن يوسف عليه السلام وغيره جزء من حسنه، لأنه علي صورة اسمه خلق، و لو لا أن اﷲ تبارک و تعاليٰ ستر جمال صورة محمد صلي الله عليه وآله وسلم بالهيبة و الوقار، و أعميٰ عنه آخرين لما استطاع أحد النظر إليه بهذه الأبصار الدنياوية الضعيفة.

’’حضرت یوسف علیہ السلام اور دیگر حسینانِ عالم کا حسن و جمال حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسن و جمال کے مقابلے میں محض ایک جز کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسم مبارک کی صورت پر پیدا کئے گئے ہیں۔ اگر اﷲ تعالیٰ نے اپنے حبیب حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسن کو ہیبت اور وقار کے پردوں سے نہ ڈھانپا ہوتا اور کفار و مشرکین کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار سے اندھا نہ کیا گیا ہوتا تو کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ان دنیاوی اور کمزور آنکھوں سے نہ دیکھ سکتا۔‘‘

محمد مهدي الفاسي، مطالع المسّرات : 394

10۔ مولانا اشرف علی تھانوی شیم الحبیب کے حوالے سے اِس بات کی تائید یوں کرتے ہیں :

أقول : و أمَّا عَدَمُ تعشُّقِ العوام عليه کما کان علي يوسف عليه السلام فلغيرة اﷲ تعاليٰ حتي لم يظهر جماله کما هو علي غيره، کما أنه لم يظهر جمال يوسف کما هو إلا علي يعقوب أو زليخا.

’’میں کہتا ہوں کہ (باوُجود ایسے حسن و جمال کے) عام لوگوں کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اُس طور پر عاشق نہ ہونا جیسا حضرت یوسف علیہ السلام پر عاشق ہوا کرتے تھے بسبب غیرتِ الٰہی کے ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جمال جیسا تھا غیروں پر ظاہر نہیں کیا، جیسا خود حضرت یوسف علیہ السلام کا جمال بھی جس درجہ کا تھا وہ بجز حضرت یعقوب علیہ السلام یا زلیخا کے اوروں پر ظاہر نہیں کیا۔‘‘

(2) اشرف علي تهانوي، نشر الطيب : 217

بقول شاعر :

خدا کی غیرت نے ڈال رکھے ہیں تجھ پہ ستر ہزار پردے
جہاں میں لاکھوں ہی طور بنتے جو اِک بھی اُٹھتا حجاب تیرا

4۔ حسنِ سراپا کے بارے میں حضرت اویسِ قرنی رضی اللہ عنہ کا قول

سرخیلِ قافلۂ عشق حضرت اویسِ قرنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں رِوایت منقول ہے کہ وہ اپنی والدہ کی خدمت گزاری کے باعث زندگی بھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں بالمشافہ زیارت کے لئے حاضر نہ ہو سکے، لیکن سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ والہانہ عشق و محبت اور وارفتگی کا یہ عالم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکثر صحابہ کرام رضوان اﷲ علیھم اجمعین سے اپنے اُس عاشقِ زار کا تذکرہ فرمایا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو ہدایت فرمائی کہ میرے وِصال کے بعد اویسِ قرنی رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر اُسے یہ خرقہ دے دینا اور اُسے میری اُمت کے لئے دعائے مغفرت کے لئے کہنا۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وِصال کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ سے ملاقات کے لئے اُن کے آبائی وطن ’قرن‘ پہنچے اور اُنہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان سنایا۔ اثنائے گفتگو حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ نے دونوں جلیل القدر صحابہ رضی اللہ عنھم سے پوچھا کہ کیا تم نے کبھی فخرِ موجودات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دِیدار بھی کیا ہے؟ اُنہوں نے اِثبات میں جواب دِیا تو مسکرا کر کہنے لگے :

لَمْ تَرَيَا مِن رسولِ اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم اِلَّا ظِلَّه.

’’تم نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسن و جمال کا محض پرتو دیکھا ہے۔‘‘

نبهاني، جواهر البحار، 3 : 67

ملا علی قاری رحمۃ اﷲ علیہ بعض صوفیا کرام کے حوالے سے فرماتے ہیں :

قال بعض الصوفية : أکثر الناس عرفوا اﷲ عزوجل و ما عرفوا رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ، لأنّ حجابَ البشريّة غطتْ أبصارَهم.

’’بعض صوفیا فرماتے ہیں : اکثر لوگوں نے اللہ ربّ العزت کا عرفان تو حاصل کرلیا لیکن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عرفان اُنہیں حاصل نہ ہوسکا اِس لئے کہ بشریت کے حجاب نے اُن کی آنکھوں کو ڈھانپ رکھا تھا۔‘‘

ملا علي قاري، جمع الوسائل، 1 : 10

شیخ عبدالعزیز دباغ رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں :

وَ إنَّ مجموع نوره صلي الله عليه وآله وسلم لو وضع علي العرش لذاب... و لو جمعت المخلوقات کُلَّها و وضع عليها ذٰلِکَ النور العظيم لتهافتت و تساقطت.

’’اگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نورِ کامل کو عرشِ عظیم پر ظاہر کردیا جاتا تو وہ بھی پگھل جاتا۔ اِس طرح اگر تمام مخلوقات کو جمع کرکے اُن پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اَنوارِ مقدّسہ کو ظاہر کردیا جاتا تو وہ فنا ہو جاتے۔‘‘

عبدالعزيز دباغ، الابريز : 272

سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟

شیخ عبدالحق محدّث دِہلوی رحمۃ اﷲ علیہ اِسی بات کی نشاندہی کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

انبیاء مخلوق اند از اسماءِ ذاتیہ حق و اولیاء از اسماءِ صفاتیہ و بقیہ کائنات از صفاتِ فعلیہ و سید رسل مخلوق ست از ذاتِ حق و ظہورِ حق در وے بالذات ست.

’’تمام انبیاء و رُسل علیہم السلام تخلیق میں اللہ ربّ العزت کے اَسمائے ذاتیہ کے فیض کا پرتو ہیں اور اولیاء (اللہ کے) اَسمائے صفاتیہ کا اور باقی تمام مخلوقات صفاتِ فعلیہ کا پَر تَو ہیں لیکن سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تخلیق ذاتِ حق تعالیٰ کے فیض سے ہوئی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کی ذات میں اللہ ربّ العزت کی شان کا بالذّات ظہور ہوا۔‘‘

محدث دهلوي، مدارج النبوة، 2 : 771

اِسی مسئلے پر اِمام قسطلانی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں :

لمّا تعلّقت إرادة الحق تعالي بإيجاد خلقه و تقدير رزقه، أبرز الحقيقة المحمدية من الأنوار الصمدية في الحضرة الأحدية، ثم سلخ منها العوالم کلها علوها و سفلها علي صورة حکمه.

’’جب خدائے بزرگ و برتر نے عالم خلق کو ظہور بخشنے اور اپنے پیمانۂ عطا کو جاری فرمانے کا ارادہ کیا تو اپنے انوارِ صمدیت سے براہ راست حقیقتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بارگاہِ احدیت میں ظاہر فرمایا اور پھر اس ظہور کے فیض سے تمام عالم پست و بالا کواپنے امر کے مطابق تخلیق فرمایا۔‘‘

قسطلاني، المواهب اللّدنيه، 1 : 55

اِسی لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا تھا :

يا أبابکر! والذي بعثني بالحق! لم يعلمني حقيقة غير ربي.

’’اے ابوبکر! قسم ہے اُس ذات کی جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا، میری حقیقت میرے پروردگار کے سوا کوئی دُوسرا نہیں جانتا۔‘‘

محمدفاسي، مطالع المسرات : 129

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان مذکورہ بالا تمام اَقوال کی نہ صرف توثیق کرتا ہے بلکہ اُن پر مہرِ تصدیق بھی ثبت کرتا ہے۔

5۔ حسن و جمالِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمتوں کا راز دان

جس طرح اللہ رب العزت نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ مقدسہ کی حقیقت کو اپنی مخلوقات سے مخفی رکھا اور تجلیاتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پردوں میں مستورفرمایا، اِسی طرح آپ اکے اوصافِ ظاہری کو بھی وہی پروردگارِ عالم خوب جانتا ہے۔ محدثین، مفسرین اور علمائے حق کا یہ اعتقاد ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوصافِ ظاہری کی حقیقت بھی مکمل طور پر مخلوق کی دسترس سے باہر ہے۔ اس ضمن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اﷲ علیھم اجمعین اور تابعین عظام نے جو کچھ بیان فرمایا ہے وہ بطور تمثیل ہے۔ امرِ واقعہ یہ ہے کہ رسولِ محتشم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقیقت کو اُن کے خالق کے سوا کوئی نہیں جانتا، اس لئے کہ

آں ذاتِ پاک مرتبہ دانِ محمد است

1۔ امام ابراہیم بیجوری رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں :

و من وصفه صلي الله عليه وآله وسلم فإنما وصفه علي سبيل التمثيل وإلا فلا يعلم أحد حقيقة وصفه إلا خالقه.

’’جس کسی نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اَوصاف بیان کئے بطور تمثیل ہی کئے ہیں، اُن کی حقیقت اللہ کے سوا کوئی دوسرا نہیں جانتا۔‘‘

بيجوري، المواهب اللدنيه علي الشمائل المحمديه : 19

2۔ امام علی بن برہان الدین حلبی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں :

کانت صفاته صلي الله عليه وآله وسلم الظاهرة لا تدرک حقائقها.

’’حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفاتِ ظاہرہ کے حقائق کا اِدراک بھی ممکن نہیں۔‘‘

حلبی، السيرة الحلببه، 3 : 434

3۔ اِمام قسطلانی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں :

هذه التشبيهات الواردة في حقه عليه الصلوة والسلام إنما هي علي سبيل التقريب و التمثيل و إلا فذاته أعلي.

’’اَسلاف نے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اَوصاف کا جو تذکرہ کیا ہے یہ بطورِ تمثیل ہے، ورنہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس اور مقام اُس سے بہت بلند ہے۔‘‘

قسطلاني، المواهب اللدنيه، 1 : 249

4۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اﷲ علیہ رقمطراز ہیں :

مرا در تکلم در اَحوال و صفاتِ ذاتِ شریفِ وی و تحقیق آں حرجے تمام است کہ آں مُتشابہ ترین مُتشابہات است نزدِ من کہ تاویلِ آں ہیچ کس جُز خدا نداند و ہر کسے ہر چہ گوید بر قدر و اندازۂ فہم و دانش گوید و اُو صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم از فہم و دانشِ تمام عالم برتر است.

’’میں نے حضور علیہ السلام کے محامد و محاسن پر اِظہارِ خیال کرتے ہوئے ہمیشہ ہچکچاہٹ محسوس کی ہے، کیونکہ (میں سمجھتا ہوں کہ) وہ ایسے اہم ترین متشابہات میں سے ہیں کہ اُن کی حقیقت پروردگارِ عالم کے سوا کوئی دُوسرا نہیں جانتا۔ جس نے بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توصیف بیان کی اُس نے اپنے فہم و فراست کے مطابق بیان کی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اَقدس تمام اہلِ عالم کی فہم و دانش سے بالا ہے۔‘‘

(1) محدث دهلوي، شرح فتوح الغيب : 340

6۔ حُسنِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور تقاضائے اِیمان

اَقلیمِ رسالت کے تاجدار حضور رسالتِ مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسندِ محبوبیت پر یکتا و تنہا جلوہ اَفروز ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا باطن بھی حسنِ بے مثال کا مرقع اور ظاہر بھی اَنوار و تجلیات کا آئینہ دار ہے۔ جہاں نقطۂ کمال کی انتہاء ہوتی ہے وہاں سے حسن و جمالِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اِبتدا ہوتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسن و جمال کو بے مثل ماننا اِیمان و اِیقان کا بنیادی جزو ہے۔ کسی شخص کا اِیمان اُس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک وہ نبی بے مثال صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو باعتبار صورت و سیرت اِس کائناتِ ہست و بود کی تمام مخلوقات سے اَفضل و اَکمل تسلیم نہ کرلے۔

1۔ ملا علی قاری رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں :

من تمام الإيمان به إعتقادٌ أنه لم يجتمع فِي بَدَنِ آدمي من المحاسن الظاهرة الدالة علي محاسنه الباطنة، ما اجتمع في بَدَنِه عليه الصلوة و السلام.

’’کسی شخص کا اِیمان اُس وقت تک مکمل ہی نہیں ہوسکتا جب تک وہ یہ اِعتقاد نہ رکھے کہ بلاشبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وُجودِ اَقدس میں ظاہری و باطنی محاسن و کمالات ہر شخص کی ظاہری و باطنی خوبیوں سے بڑھ کر ہیں۔‘‘

ملا علي قاري، جمع الوسائل، 1 : 10

2۔ شیخ اِبراہیم بیجوری رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں :

و مِمَّا يتعيّن علي کلّ مکلّف أن يعتقد أنّ اﷲ سبحانه تعالي أوجد خَلْقَ بدنه صلي الله عليه وآله وسلم علي وجه لم يُوجد قبله ولابعده مثله.

’’مسلمانانِ عالم اِس بات پر متفق ہیں کہ ہر شخص کے لئے سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا ضروری ہے کہ ربِ کائنات نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بدنِ اطہر کو اِس شان سے تخلیق فرمایا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے اور آپ کے بعد کسی کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مثل نہ بنایا۔‘‘

بيجوري، المواهب اللدنيه علي الشمائل المحمديه : 14

3۔ اِمام قسطلانی رحمۃ اﷲ علیہ کہتے ہیں :

إنّ من تمام الإيمان به صلي الله عليه وآله وسلم الإيمان بأنّ اﷲ تعاليٰ جعل خلق بدنه الشريف علي وجه لم يظهر قَبْلَه و لا بعده خلق آدمي مثله صلي الله عليه وآله وسلم.

’’یہ یقینی اور قطعی بات ہے کہ اِیمان کی تکمیل کے لئے (بندۂ مومن کا) یہ اِعتقاد رکھنا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نہ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے اور نہ بعد میں ہی کسی کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مثل حسین و جمیل بنایا۔‘‘

قسطلاني، المواهب اللدنيه، 1 : 248

4۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ گرامی پر اِیمان کی تکمیل کے موضوع پر اِمام سیوطی رحمۃ اﷲ علیہ رقمطراز ہیں :

مِن تمامِ الإيمان به عليه الصلوة و السلام : الإيمان به بأنّه سبحانه خلق جسده علي وجه لم يظهرْ قبله و لا بعده مِثله.

’’اِیمان کی تکمیل کے لئے اِس بات پر اِیمان لانا ضروری ہے کہ ربِ کائنات نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وُجودِ اقدس حسن و جمال میں بے نظیر و بے مثال تخلیق فرمایا ہے۔‘‘

سيوطي، الجامع صلي الله عليه وآله وسلم لصغير، 1 : 27

5۔ اِمام عبدالرؤف مناوی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں :

و قد صرّحوا بأنّ مِن کمال الإيمان إعتقاد أنه لم يجتمعْ في بدن إنسان من المحاسن الظاهرة، ما اجتمع في بدنه صلي الله عليه وآله وسلم .

’’تمام علماء نے اِس اَمر کی تصریح کر دی ہے کہ کسی اِنسان کا اِیمان اُس وقت تک کامل نہیں ہوسکتا جب تک وہ یہ عقیدہ نہ رکھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اَقدس میں پائے جانے والے محامد و محاسن کا کسی دُوسرے شخص میں موجود ہونا ممکن ہی نہیں۔‘‘

مناوي، شرح الشمائل برحاشيه جمع الوسائل، 1 : 22

6۔ مذکورہ عقیدے پر پختہ یقین رکھنے کے حوالے سے حافظ ابنِ حجر مکی رحمۃ اﷲ علیہ کا قول ہے :

انه يجب عليک أن تعتقد أنّ من تمام الإيمان به عليه الصلوة و السلام : الإيمان بأن اﷲ تعالٰي أوجد خلق بدنه الشريف علي وجه، لم يظهر قبله و لا بعده في آدمي مثله صلي الله عليه وآله وسلم .

’’(اے مسلمان!) تیرے اُوپر واجب ہے کہ تو اِس اِعتقاد کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اِیمانِ کامل کا تقاضا سمجھے کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسم مبارک کو حسین و جمیل اور کامل بنایا ہے اُس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے یا بعد میں کسی بھی شخص کو نہیں بنایا۔‘‘

نبهاني، جواهر البحار، 2 : 101

7۔ پیکرِ مقدّس کی رنگت

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسمِ مبارک کی رنگت سفید تھی، لیکن یہ دودھ اور چونے جیسی سفیدی نہ تھی بلکہ ملاحت آمیز سفیدی تھی جو سُرخی مائل تھی۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسمِ اطہر کی رنگت کو چاندی اور گلاب کے حسین امتزاج سے نسبت دی ہے، کسی نے سفید مائل بہ سُرخی کہا ہے اور کسی نے سفید گندم گوں بیان کیا ہے۔

1۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنھا روایت کرتی ہیں :

کان أنورهم لوناً.

’’حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رنگ روپ کے لحاظ سے تمام لوگوں سے زیادہ پُرنور تھے۔‘‘

بيهقي، دلائل النبوه، 1 : 300

2۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ جسمِ اطہر کی رنگت کے بارے میں بیان کرتے ہیں :

کان رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم أحسن الناس لوناً.

’’حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رنگت کے اعتبار سے سب لوگوں سے زیادہ حسین تھے۔‘‘

1. ابن عساکر، السيرة النبويه، 1 : 321

2۔ یہی روایت ابن سعد نے ’الطبقات الکبريٰ (1 : 9415)‘ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔

3۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے :

کان رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم أزهر اللون.

’’حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رنگ سفید چمکدار تھا۔‘‘

1. مسلم، الصحيح، 4 : 1815، کتاب الفضائل، رقم : 2330
2. دارمي، السنن، 1 : 45، رقم : 61
3. احمد بن حنبل، المسند، 3 : 228

4۔ حضرت انس بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ سے ایک اور روایت ہے :

و لا بالأبيض الأمهق و ليس بالادم.

1. بخاري، الصحيح، 3 : 1303، کتاب المناقب، رقم : 3355
2. مسلم، الصحيح، 4 : 1824، کتاب الفضائل، رقم : 2347
3. ترمذي، الجامع الصحيح، 5 : 592، ابواب المناقب، رقم : 3623
4. ابن حبان، الصحيح، 14 : 298، رقم : 6387
5. نسائي، السنن الکبريٰ، 5 : 409، رقم : 9310
6. طبراني، المعجم الصغير، 1 : 205، رقم : 328
7. بيهقي، شعب الايمان، 2 : 148، رقم : 1412
8. ابن سعد، الطبقات الکبري، 1 : 413، 418
9. ابن حجر عسقلاني، فتح الباري، 6 : 569، رقم : 3354
10. سيوطي، الجامع الصغير، 1 : 31، رقم : 17
11. طبري، تاريخ، 2 : 221

’’آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رنگ نہ تو بالکل سفید اور نہ ہی گندمی تھا۔‘‘

5۔ حضرت جریری رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو طفیل رضی اللہ عنہ کو جب یہ کہتے سنا :

رأيتُ رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم و ما علي وجه الأرض رجل رأه غيري.

’’میں نے رسولِ محتشم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کی ہے اور آج میرے سوا پوری دنیا میں کوئی ایسا شخص موجود نہیں جسے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کا شرف نصیب ہوا ہو۔‘‘

تو میں عرض پرداز ہوا :

فکيف رأيته؟

آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیسا دیکھا؟

تو اُنہوں نے میرے سوال کے جواب میں فرمایا :

کان أبيض مليحا مقصَّدًا.

’’حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رنگ مبارک سفید، جاذبِ نظر اور قد میانہ تھا۔‘‘

1. مسلم، الصحيح، 4 : 1820، کتاب الفضائل، رقم : 2340
2. احمد بن حنبل، المسند، 5 : 454
3. بزار، المسند، 7 : 205، رقم : 2775
4. بخاري، الأدب المفرد، 1 : 276، رقم : 790
5. ابن سعد، الطبقات الکبريٰ، 1 : 417، 418
6. فاکهي، اخبار مکه، 1 : 326، رقم : 664

7۔ امام ترمذی حضرت ابو طفیل رحمۃ اﷲ علیہ ہی سے روایت کرتے ہیں :

کان أبيض مليحا مقصداً.

’’حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رنگ مبارک سفید، جاذب نظر اور قد میانہ تھا۔‘‘

1. ترمذي، الشمائل المحمديه : 26
2. خطيب بغدادي، الکفايه في علم الروايه، 1 : 137

8۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

کان رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم أبيض مُشرباً بِحُمْرة.

’’حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رنگ سفیدی اور سُرخی کا حسین امتزاج تھا۔‘‘

1. احمد بن حنبل، المسند، 1 : 116، رقم : 944
2. ابن عبدالبر، التمهيد، 3 : 8
3. ابن حبان، الثقات، 7 : 448، رقم : 10865
4. ابن سعد، الطبقات الکبريٰ، 1 : 419
5. مناوي، فيض القدير، 5 : 70
6. سيوطي، الجامع الصغير، 1 : 23
7. امام صالحي، سُبل الهدي والرشاد، 2 : 10

9۔ حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

کان أبيض تعلوه حمرة.

’’حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رنگ سفیدی اور سُرخی کا حسین مرقع تھا۔‘‘

1. روياني، مسند الروياني، 2 : 318، رقم : 1280
2. طبراني، المعجم الکبير، 10 : 183، رقم : 10397
3. ابن سعد، الطبقات الکبريٰ، 1 : 416
4. ابن عساکر، السيرة النبويه، 1 : 323

10۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :

کان لونُ رسولِ اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم أسمر.

’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رنگت (کی سفیدی) گندم گوں تھی۔‘‘

1. ابن حبان، الصحيح، 14 : 197، رقم : 2686
2. مقدسي، الأحاديث المختاره، 5 : 309، رقم : 1955
3. هيثمي، موارد الظمآن، 1 : 521، رقم : 2115
4. ابن جوزي، الوفا : 410

11۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :

أبيض کأنّما صيغ مِن فضّة.

1. ترمذي، الشمائل المحمديه : 25، رقم : 11
2. سيوطي، الجامع الصغير، 1 : 22

’’آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفید رنگت والے تھے گویا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جسم مبارک چاندی سے ڈھالا گیا ہو۔‘‘

شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اﷲ علیہ لکھتے ہیں :

اما لونِ آنحضرت روشن و تاباں بود و اتفاق دارند جمہور اصحاب بربیاض لونِ آں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، و وصف کردند او را بابیض و بعضے گفتند کان ابیض ملیحا و در روایتے ابیض ملیح الوجہ و ایں احتمال داردکہ مراد وصف کہ بیاض و ملاحت و صفت زائدہ برائے بیان حسن و جمال و لذت بخشی و دلربائی دیدار جان افزای ویا باشد.

عبدالحق محدث دهلوي، مدارج النبوه، 1 : 26

’’حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مبارک رنگ خوب روشن اور چمکدار تھا۔ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اس پر متفق ہیں کہ حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رنگ سفید تھا، اسی چیز کو احادیثِ نبوی میں لفظ ’’ابیض‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے اور بعض روایات میں ’’کان ابیض ملیحا‘‘ اور بعض روایات میں ’’ابیض ملیح الوجہ‘‘جیسے الفاظ بھی ملتے ہیں۔ ان سے مراد بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رنگ کی سفیدی بیان کرنا مقصود ہے، باقی ملاحت کا ذکر بطور صفتِ زائدہ ہے اور اس لئے اس کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت سے جو لذت اور تسکینِ روح و جاں حاصل ہوتی ہے، اس پر دلالت کرے۔‘‘

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حُسن و جمال بے مثال تھا۔ جسمِ اطہر کی رنگت، نور کی کرنوں کی رِم جھم اور شفق کی جاذبِ نظر سُرخی کا حسین امتزاج تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حُسن و جمال کو کائنات کی کسی مخلوق سے بھی تشبیہ نہیں دی جا سکتی اور نہ ہی الفاظ میں جلوہ ہائے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نقشہ کھینچا جا سکتا ہے، اس لئے کہ ہر لفظ اور ہر حرف حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شانِ اقدس سے فروتر ہے۔ یہاں جذبات واحساسات کی بیساکھیاں بھی ٹوٹ جاتی ہیں۔

روایات میں تطبیق

امام عبدالروف مناوی رحمۃ اﷲ علیہ ان تمام روایات کو بیان فرمانے کے بعد رقمطراز ہیں :

فثبت بمجموع هذه الروايات أن المراد بالسمرة حمرة تخالط البياض، و بالبياض المثبت ما يخالط الحمرة، و أما وصف لونه في أخبار بشدة البياض فمحمول علي البريق و اللمعان کما يشير إليه حديث کأن الشمس تحرک في وجهه.

’’ان تمام روایات سے ثابت ہوا کہ جن میں لفظ سمرہ کا ذکر ہے، وہاں اس سے مراد وہ سُرخ رنگ ہے جس کے ساتھ سفیدی کی آمیزش ہو، اور جن میں سفیدی کا ذکر ہے اس سے مُراد وہ سفید رنگ ہے جس میں سُرخی ہو اور بعض روایات میں جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک رنگ کو بہت زیادہ سفید بیان کیا گیا ہے، اس سے مراد اس کی چمک دمک ہے، جس طرح حدیث میں آتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرۂ انور میں آفتاب محوِ خرام رہتا ہے۔‘‘

مناوي، حاشيه برجمع الوسائل، 1 : 13

ملا علی قاری رحمۃ اﷲ علیہ ’جمع الوسائل‘ میں امام عسقلانی رحمۃ اﷲ علیہ کے حوالے سے بیان فرماتے ہیں :

قال العسقلاني : تبين من مجموع الروايات أنّ المراد بالبياض المنفي ما لا يخالطه الحمرة، و المراد بالسمرة الحمرة التي يخالطها البياض.

’’امام عسقلانی نے فرمایا : ان تمام روایات سے واضح ہوتا ہے کہ صرف سفیدی سے مراد وہ سفید رنگت ہے جس میں سرخی کی آمیزش نہ ہو اور ’’سمرہ‘‘ سے مراد وہ سرخ رنگ ہے جس کے ساتھ سفیدی کی آمیزش ہو۔‘‘

ملا علي قاري، جمع الوسائل، 1 : 13

8۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : پیکرِ نظافت و لطافت

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جسمانی وجاہت اور حسن و رعنائی قدرت کا ایک عظیم شاہکار تھی جس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نفاست پسندی اور نظافت و طہارت کی عادت شریفہ نے چار چاند لگا دیئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سرتاپا پاکیزگی کا پیکر تھے۔ جسم اطہر ہر طرح کی آلائشوں سے پاک و صاف تھا۔

1۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :

کان رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم رقيق البشرة.

’’حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جسمِ اقدس نہایت نرم و نازک تھا۔‘‘

ابن جوزي، الوفا : 409

2۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عم محترم حضرت ابوطالب فرماتے ہیں :

واﷲ ما ادخلته فراشي فاذا هو في غاية اللين.

’’خدا کی قسم! جب بھی میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے ساتھ بستر میں لٹایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسم اطہر کو نہایت ہی نرم و نازک پایا۔‘‘

رازي، التفسير الکبير، 31 : 214

3۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :

ما مَسِسْتُ حريرًا ولا ديباجا ألين من کف رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم .

’’میں نے کسی ایسے ریشم یا دیباج کو مَس نہیں کیا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک ہتھیلی سے زیادہ ملائم ہو۔‘‘

1. بخاري، الصحيح، 3 : 1306، کتاب المناقب، رقم : 3368
2. مسلم، الصحيح، 4 : 1815، کتاب الفضائل، رقم : 2330
3. ترمذي، الجامع الصحيح، 4 : 368، ابواب البر والصلة، رقم : 2015
4. احمد بن حنبل، المسند، 1 : 230، رقم : 13823
5. ابن حبان، الصحيح، 14 : 211، رقم : 6303
6. ابن ابي شيبه، المصنف، 6 : 315، رقم : 31718
7. ابو يعلي، المسند، 6 : 128، رقم : 3400
8. عبد بن حميد، المسند، 1 : 378، رقم : 1268

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظاہری صفائی و پاکیزگی کا بھی خصوصی اہتمام فرماتے تھے، نفاست پسندی میں اپنی مثال آپ تھے۔ اگرچہ جسمِ اطہر ہر قسم کی آلائش سے پاک تھا اور قدرت نے اس پاکیزگی کا خصوصی اہتمام فرمایا تھا، تاہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے لباس اور جسم کی ظاہری پاکیزگی کو بھی خصوصی اہمیت دیتے تھے۔

شبِ میلاد جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے اس وقت بھی ہر لمحہ پاکیزگی اور طہارت کا مظہر بن گیا، عام بچوں کے برعکس جسمِ اطہر ہر قسم کی آلائش اور میل کچیل سے پاک تھا۔

4۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی والدہ محترمہ سیدہ آمنہ رضی اﷲ عنھا فرماتی ہیں :

ولدته نظيفاً ما به قذر.

خفاجي، نسيم الرياض، 1 : 363

’’میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس طرح پاک صاف جنم دیا کہ آپ کے جسم پر کوئی میل نہ تھا۔‘‘

5۔ ایک دوسری روایت میں مذکور ہے :

ولدته أمّه بغير دم و لا وجع.

’’آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی والدہ ماجدہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بغیر خون اور تکلیف کے جنم دیا۔‘‘

ملا علي قاري، شرح الشفا، 1 : 165

تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسم اطہر کی سی شانِ نظافت اللہ رب العزت نے آج تک کسی کو عطا نہیں کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جہاں حسن و جمال کے پیکر اتم تھے وہاں نظافت و طہارت میں بھی اپنی مثال آپ تھے۔

9۔ بے سایہ پیکرِ نور

کتب احادیث میں درج ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقدس جسم اتنا لطیف تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سایہ نہ تھا۔

1۔ قاضی عیاض رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں :

کان لا ظلّ لشخصه في شمس و لا قمر لأنه کان نورًا.

’’سورج اور چاند (کی روشنی میں) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسمِ اطہر کا سایہ نہ تھا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سراپا نور تھے۔‘‘

1. قاضي عياض، الشفا، 1 : 522
2. ابن جوزي، الوفا : 412
3. خازن، لباب التأويل في معاني التنزيل، 3 : 321
4. نسفي، المدارک، 3 : 135
5. مقري، تلمساني، فتح المتعال في مدح النعال : 510

2۔ امام سیوطی رحمۃ اﷲ علیہ الخصائص الکبريٰ میں روایت نقل فرماتے ہیں :

ان ظله کان لا يقع علي الأرض، وأنه کان نورًا فکان إذا مشي في الشمس أو القمر لا ينظر له ظلّ.

1. سيوطي، الخصائص الکبريٰ، 1 : 122
2. ابن شاهين، غاية السؤل في سيرة الرسول، 1 : 297

’’حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سایہ زمین پر نہیں پڑتا تھا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سراپا نور تھے، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورج یا چاند کی روشنی میں چلتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سایہ نظر نہ آتا۔‘‘

3۔ امام زرقانی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں :

لم يکن لها ظل في شمس و لا قمر.

زرقاني، شرح المواهب اللدنيه، 5 : 524

’’شمس و قمر (کی روشنی) میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سایہ نہ ہوتا۔‘‘

10۔ پیکرِ دلنواز کی خوشبوئے عنبریں

تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جہاں خوشبو کو پسند فرماتے وہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بدن مبارک سے بھی نہایت نفیس خوشبو پھوٹتی تھی جس سے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا مشامِ جاں معطر رہتا۔ جسمِ اطہر کی خوشبو ہی اتنی نفیس تھی کہ کسی دوسری خوشبو کی ضرورت نہ تھی۔ دُنیا کی ساری خوشبوئیں جسمِ اطہر کی خوشبوئے دلنواز کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتی تھیں۔ ولادتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں سیدہ آمنہ رضی اﷲ عنھا سے بہت سی روایات مروی ہیں۔

امام ابو نعیم رحمۃ اﷲ علیہ اور خطیب رحمۃ اﷲ علیہ نے صبحِ میلاد کے حوالے سے تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی والدہ ماجدہ کا ایک دلنشین قول یوں نقل کیا ہے :

نظرتُ إليه فإذا هو کالقمر ليلة البدر، ريحه يسطع کالمسک الأذفر.

زرقاني، شرح المواهب اللدنيه، 5 : 531

’’میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسمِ اقدس کو چودھویں رات کے چاند کی طرح پایا، جس سے تروتازہ کستوری کے حلّے پھوٹ رہے تھے۔‘‘

(1) وادئ بنو سعد میں خوشبوؤں کے قافلے

حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رضاعت کے لئے اپنے گھر کی طرف لے کر چلیں تو راستے خوشبوؤں سے معطر ہو گئے۔ وادئ بنو سعد کا کوچہ کوچہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بدنِ اقدس کی نفیس خوشبو سے مہک اٹھا۔

1۔ حضرت حلیمہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں :

و لما دخلت به إلي منزلي لم يبق منزل من منازل بني سعد إلا شممنا منه ريح المسک.

’’جب میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے گھر لائی تو قبیلہ بنو سعد کا کوئی گھر ایسا نہ تھا کہ جس سے ہم نے کستوری کی خوشبو محسوس نہ کی۔‘‘

صالحي، سبل الهدي والرشاد، 1 : 387

2۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بچپن کے بارے میں ایک روایت حضرت ابوطالب کے حوالے سے بھی ملتی ہے، وہ فرماتے ہیں :

فإذا هو في غاية اللين وطيب الرائحة کأنه غمس في المسک.

رازي، التفسير الکبير، 31 : 214

’’آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جسمِ اطہر نہایت ہی نرم و نازک اور اس طرح خوشبو دار تھا جیسے وہ کستوری میں ڈبویا ہوا ہو۔‘‘

3۔ خوشبوؤں کا قافلہ عمر بھر قدم قدم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمرکاب رہا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :

کان رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم أحسن الناس لوناً وأطيب الناس ريحاً.

ابن عساکر، السيرة النبويه، 1 : 321

’’رسول اﷲا رنگ کے لحاظ سے سب لوگوں سے زیادہ حسین تھے اور خوشبو کے لحاظ سے سب سے زیادہ خوشبودار۔‘‘

(2) خوشبو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیکرِ اطہر کا حصہ تھی

اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ یہ خوشبو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسمِ اطہر کی تھی نہ کہ وہ خوشبو جو آپ استعمال کرتے۔ ذاتِ اقدس کسی خوشبو کی محتاج نہ تھی بلکہ خود خوشبو جسمِ اطہر سے نسبت پاکر معتبر ٹھہری۔ اگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوشبو کا استعمال نہ بھی فرماتے تب بھی جسمِ اطہر کی خوشبو سے مشامِ جاں معطر رہتے۔

1۔ امام نووی رحمۃ اﷲ علیہ لکھتے ہیں :

کانت هذه الريح الطيبة صفتها و إن لم يمس طيبا.

نووي، شرح صحيح مسلم، 2 : 256

’’مہک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسمِ اطہر کی صفات میں سے تھی، اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خوشبو استعمال نہ بھی فرمائی ہوتی۔‘‘

2۔ امام اسحاق بن راہویہ رحمۃ اﷲ علیہ اس بات کی تصریح کرتے ہیں :

ان هذه الرائحة الطيبة کانت رائحة رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم من غير طيب.

صالحي، سبل الهدي والرشاد، 2 : 88

’’یہ پیاری مہک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسمِ مقدسہ کی تھی نہ کہ اُس خوشبو کی جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم استعمال فرماتے تھے۔‘‘

3۔ امام خفاجی رحمۃ اﷲ علیہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس منفرد خصوصیت کا ذکر ان الفاظ میں کرتے ہیں :

ريحها الطيبة طبعياً خلقياً خصه اﷲ به مکرمة و معجزة لها.

خفاجي، نسيم الرياض، 1 : 348

’’اللہ تعالیٰ نے بطور کرامت ومعجزہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسمِ اطہر میں خلقتاً اور طبعاً مہک رکھ دی تھی۔‘‘

4۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اﷲ علیہ لکھتے ہیں :

یکے از طبقاتِ عجیبِ آنحضرت طیبِ ریح است کہ ذاتی وے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بود بی آنکہ استعمال طیب از خارج کند و ہیچ طیب بداں نمی ر سد.

محدث دهلوي، مدارج النبوه، 1 : 29

’’حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک صفات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بغیر خوشبو کے استعمال کے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسمِ اطہر سے ایسی خوشبو آتی جس کا مقابلہ کوئی خوشبو نہیں کر سکتی۔‘‘

5۔ علامہ احمد عبدالجواد الدومی رحمۃ اﷲ علیہ رقمطراز ہیں :

کان رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم طيبا من غير طيب، و لکنه کان يتطيب و يتعطر توکيدا للرائحة و زيادة في الإذکاء.

’’حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جسمِ اقدس خوشبو کے استعمال کے بغیر بھی خوشبودار تھا لیکن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے باوجود پاکیزگی و نظافت میں اضافے کے لئے خوشبو استعمال فرمالیتے تھے۔‘‘

دومي، الاتحافات الربانيه : 263

6۔ شیخ ابراہیم بیجوری رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں :

و قد کان صلي الله عليه وآله وسلم طيب الرائحة، و ان لم يمس طيبا کما جاء ذلک في الأخبار الصحيحة لکنه کان يستعمل الطيب زيادة في طيب الرائحة.

’’احادیثِ صحیحہ سے یہ بات ثابت ہے کہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسمِ اطہر سے خوشبو کی دلآویز مہک بغیر خوشبو لگائے آتی رہتی۔ ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوشبو کا استعمال فقط خوشبو میں اضافہ کے لئے کرتے۔‘‘

ابراهيم بيجوري، المواهب اللدنيه علي الشمائل المحمديه : 109

(3) بعد از وصال بھی خوشبوئے جسمِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عنبرفشاں تھی

1۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

غسلت النبي صلي الله عليه وآله وسلم، فذهبت أنظر ما يکون من الميت، فلم أجد شيئا، فقلت : طبت حيا و ميتا.

’’میں نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غسل دیا، جب میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسم اطہر سے خارج ہونے والی کوئی ایسی چیز نہ پائی جو دیگر مُردوں سے خارج ہوتی ہے تو پکار اٹھا کہ اللہ کے محبوب! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظاہری حیات اور بعد از وصال دونوں حالتوں میں پاکیزگی کا سرچشمہ ہیں۔‘‘

قاضي عياض، الشفا، 1 : 89

2۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مزید فرمایا :

وسطعت منه ريح طيبة لم نجد مثلها قط.

قاضي عياض، الشفا، 1 : 89

’’(غسل کے وقت) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسمِ اطہر سے ایسی خوشبو کے حلّے شروع ہوئے کہ ہم نے کبھی ایسی خوشبو نہ سونگھی ہے۔‘‘

3۔ ایک دوسری روایت میں مذکور ہے :

فاح ريح المسک في البيت لما في بطنه.

’’تمام گھر اس خوشبو سے مہک اٹھا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شکمِ اطہر میں موجود تھی۔‘‘

ملا علي قاري، شرح الشفا، 1 : 161

4۔ یہ روایت ان الفاظ میں بھی ملتی ہے کہ جب شکمِ اطہر پر ہاتھ پھیرا تو :

إنتشر في المدينة.

’’پورا مدینہ اس خوشبو سے مہک اٹھا۔‘‘

5۔ اُم المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنھا سے روایت ہے :

وضعت يدي علي صدر رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يوم مات، فمر بي جمع أکل وأتوضأ ما يذهب ريح المسک من يدي.

’’میں نے وصال کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینۂ اقدس پر ہاتھ رکھا۔ اس کے بعد مدت گزر گئی، کھانا بھی کھاتی ہوں، وضو بھی کرتی ہوں (یعنی سارے کام کاج کرتی ہوں) لیکن میرے ہاتھ سے کستوری کی خوشبو نہیں گئی۔‘‘

سيوطي، الخصائص الکبريٰ، 2 : 274

(4) جسمِ اقدس کے پسینے کی خوشبوئے دلنواز

1۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :

کان ريح عرق رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ريح المسک، بأبي و أمي! لم أر قبله و لا بعده أحدا مثله.

’’حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک پسینے کی خوشبو کستوری سے بڑھ کر تھی، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسا نہ کوئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے میں نے دیکھا اور نہ بعد میں دیکھا۔‘‘

ابن عساکر، السيرة النبويه، 1 : 319

حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مبارک پسینہ کائناتِ ارض و سماوات کی ہر خوشبو سے بڑھ کر خوشبودار تھا۔ یہ خوشبو خوشبوؤں کے جھرمٹ میں اعلیٰ اور افضل ترین تھی۔ پسینے کی خوشبو لاجواب اور بے مثال تھی۔

2۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :

ما شممت عنبراً قط ولا مسکا و لا شيئا أطيب من ريح رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم .

1. مسلم، الصحيح، 4 : 1814، کتاب الفضائل، رقم : 2330
2. بخاري، الصحيح، 3 : 1306، کتاب المناقب، رقم : 3368
3. ترمذي، الجامع الصحيح، 4 : 368، ابواب البر والصلة، رقم : 2015
4. احمد بن حنبل، المسند، 3 : 200
5. ابن ابي شيبه، المصنف، 6 : 315، رقم : 31718
6. ابو يعلي، المسند، 6 : 463، رقم : 3866
7. عبد بن حميد، المسند، 1 : 378، رقم : 1268
8. بيهقي، شعب الايمان، 2 : 154، رقم : 1429
9. ابو نعيم، مسند أبي حنيفه، 1 : 51
10. ترمذي، الشمائل المحمديه، 1 : 285، رقم : 346
11. ابن حبان، الصحيح، 14 : 221، رقم : 6303

’’میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کے پسینے) کی خوشبو سے بڑھ کر خوشبودار عنبر اور کستوری یا کوئی اور خوشبودار چیز کبھی نہیں سونگھی۔‘‘

3۔ تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک پسینے کا ذکرِ جمیل حضرت علی رضی اللہ عنہ ان الفاظ میں فرماتے ہیں :

کان عرق رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم في وجهه اللؤلؤ، و ريح عرق رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم أطيب من ريح المسک الأذفر.

’’حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرۂ انور پر پسینے کے قطرے خوبصورت موتیوں کی طرح دکھائی دیتے اور اس کی خوشبو عمدہ کستوری سے بڑھ کر تھی۔‘‘

صالحي، سبل الهدي والرشاد، 2 : 86

(5) عطر کا بدلِ نفیس۔۔۔ پسینہ مبارک

صحابہ کرام رضی اللہ عنھم جسمِ اطہر کے مقدس پسینے کو محفوظ کرلیتے اور وقتاً فوقتاً اُسے بطور عطر استعمال میں لاتے کہ اُس جیسا عطر روئے زمین پر دستیاب نہیں ہو سکتا۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنھم سے روایت ہے کہ آقائے محتشم حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکثر ہمارے ہاں تشریف لایا کرتے تھے۔ عموماً آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں قیلولہ بھی فرماتے۔ ایک دن میری والدہ ماجدہ حضرت امِ سلیم رضی اﷲ عنھا کسی کام سے گھر سے باہر گئی ہوئی تھیں، اُن کی عدم موجودگی میں تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے گھر میں جلوہ افروز ہوئے اور قیلولہ فرمایا :

فقيل لها : هذا النبي صلي الله عليه وآله وسلم نائم في بيتک علي فراشک.

’’انہیں اطلاع ملی کہ آپ کے ہاں تو سرور کونین حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم استراحت فرما رہے ہیں۔‘‘

انہوں نے یہ مژدۂ جانفزا سنا تو جلدی جلدی اپنے گھر کی طرف لوٹیں اور دیکھا کہ سیدالمرسلین حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم استراحت فرما رہے ہیں اور جسمِ مقدس پر پسینے کے شفاف قطرے موتیوں کی طرح چمک رہے ہیں اور یہ قطرے جسمِ اطہر سے جدا ہوکر بستر میں جذب ہو رہے ہیں۔

آگے حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :

جاء ت أمي بقارورة فجعلت تَسلُت العرق فيها.

’’میری والدہ ماجدہ نے ایک شیشی لے کر اس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پسینے کو جمع کرنا شروع کر دیا۔‘‘

اس اثنا میں والی کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری امی جان کو مخاطب کر کے فرمایا :

ما هذا الذي تصنعين؟

’’تو يہ کيا کر رہي ہے؟ ‘‘

امی جان نے احتراماً عرض کی :

هذا عرقک نجعله في طيبنا و هو من أطيب الطيب.

’’(یا رسول اللہ صلی اﷲ علیک وسلم!) یہ آپ کا مبارک پسینہ ہے، جسے ہم اپنے خوشبوؤں میں ملاتے ہیں اور یہ تمام خوشبوؤں سے بڑھ کر خوشبودار ہے۔‘‘

ایک روایت کے مطابق حضرت ام سلیم رضی اﷲ عنہا کا جواب کچھ یوں تھا :

نرجو برکته لصبياننا.

’’ہم اسے (جسمِ اطہر کے پسینے کو) اپنے بچوں کو برکت کے لئے لگائیں گے۔‘‘

حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

أصبتِ.

’’تو نے درست کیا۔‘‘

1. مسلم، الصحيح، 4 : 1815، کتاب الفضائل، رقم : 2331
2. نسائي، السنن، 8 : 218، کتاب الزينه، رقم : 5371
3. احمد بن حنبل، المسند، 3 : 221
4. بيهقي، السنن الکبريٰ، 1 : 254، رقم : 1135
5. طيالسي، المسند، 1 : 276، رقم : 2078
6. عبد بن حميد، المسند، 1 : 378، رقم : 1268
7. طبراني، المعجم الکبير، 25 : 119، رقم : 289
8. بيهقي، شعب الايمان، 2 : 154، رقم : 1429
9. ابن سعد، الطبقات الکبريٰ، 8 : 428

(6) خوشبو والوں کا گھر

ایک صحابی سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان ہوں، عنقریب میری بیٹی کی شادی ہونے والی ہے لیکن میرے پاس اسے دینے کے لئے کوئی خوشبو نہیں، یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سلسلے میں میری مدد فرمایئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا :

إيتني بقارورة واسعة الرأس و عود شجرة.

’’ایک کھلے منہ والی شیشی اور لکڑی کا کوئی ٹکڑا لے آؤ۔‘‘

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی سنتے ہی وہ صحابی مطلوبہ شیشی اور لکڑی لے کر پھر خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے۔ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لکڑی سے اپنی مبارک کلائی کا پسینہ۔۔۔ جو خوشبوؤں کا خزینہ تھا۔۔۔ اس شیشی میں جمع فرمایا۔ وہ شیشی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک پسینے سے بھر گئی۔ نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

خذه و أمر بنتک تطيب به.

’’اِسے لے جا اور اپنی بیٹی سے کہہ کہ اسے خوشبو کے طور پر استعمال کرے۔‘‘

خوش نصیب صحابی وہ شیشی جس میں تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی کلائی مبارک کا پسینہ اپنے دستِ اقدس سے جمع فرمایا تھا لے کر اپنے گھر پہنچے اور گھر والوں کو عطائے رسول کی نوید سنائی۔ اس صحابی کے افرادِ خانہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کلائی مبارک کے پسینے کو بطور خوشبو استعمال فرمایا تو ان کے گھر کی فضا جسمِ اقدس کے پسینے کی خوشبو سے مہک اٹھی، در و دیوار جھوم اٹھے۔ یہ مقدس خوشبو صرف ان کے گھر تک محدود نہ رہی بلکہ ساکنانِ شہرِ خنک نے بھی اس خوشبوئے رسول کو محسوس کیا اور اس کی کیفیت میں گم رہے۔ پورے شہر میں ان کا گھر بیت المطیبین (خوشبو والوں کا گھر) کے نام سے مشہور ہو گیا، کتب احادیث میں درج ہے :

فکانت اذا تطيب شم أهل المدينة رائحة ذلک الطيب فسموا بيت المطيبين.

’’جب بھی وہ خوش نصیب خاتون خوشبو لگاتی تو جملہ اہل مدینہ اس مقدس خوشبو کو محسوس کرتے، پس اس وجہ سے وہ گھر ’خوشبو والوں کا گھر‘ سے مشہور ہو گیا۔‘‘

یوں نسبتِ رسول نے ان کا نام تاریخ اسلام میں ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دیا۔

1. ابو يعلي، المسند، 11 : 185، 186، رقم : 6295
2. طبراني، المعجم الاوسط، 3 : 190، 191، رقم : 2895
3. ابو نعيم، دلائل النبوه، 1 : 59، رقم : 41
4. هيثمي، مجمع الزوائد، 4 : 255، 256
5. هيثمي، مجمع الزوائد، 8 : 283
6. سيوطي، الجامع الصغير، 1 : 44، رقم : 27
7. مناوي، فيض القدير، 5 : 80
8. صالحي، سبل الهدي والرشاد، 3 : 86

(7) اب تک مہک رہے ہیں مدینے کے راستے

حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جدھر سے گزرتے وہ راستے بھی مہک اُٹھتے، راہیں قدم بوسی کا اعزاز حاصل کرتیں اور خوشبوئیں جسمِ اطہر کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتیں۔ مدینے کی گلیاں آج بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشبوؤں سے معطر ہیں۔ شہرِدلنواز کے بام و در سے لپٹی ہوئی خوشبوئیں آج بھی کہہ رہی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہی راستوں سے گزرا کرتے تھے، انہی فضاؤں میں سانس لیا کرتے تھے، اسی آسمان کے نیچے خلقِ خُدا میں دین و دُنیا کی دولت تقسیم فرمایا کرتے تھے۔

1۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :

کان رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم إذا مرّ في طريق من طرق المدينة وجدوا منه رائحة الطيب، و قالوا : مرّ رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم من هذا الطريق.

سيوطي، الخصائص الکبريٰ، 1 : 67

’’رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ کے جس کسی راستے سے گزر جاتے تو لوگ اس راہ میں ایسی پیاری مہک پاتے کہ پُکار اُٹھتے کہ ادھر سے اللہ تعالیٰ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کا گزر ہوا ہے۔‘‘

2۔ امام بخاری رحمۃ اﷲ علیہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں :

لم يکن النبي صلي الله عليه وآله وسلم يمر في طريق فيتبعه أحد إلا عُرف أنه سلکه من طيب عرفه.

’’آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس راستے سے بھی گزر جاتے تو بعد میں آنے والا شخص خوشبو سے محسوس کر لیتا کہ ادھر سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر ہوا ہے۔‘‘

بخاري، التاريخ الکبير، 1 : 399 - 400، رقم : 1273

(8) آرزوئے جاں نثارانِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

اظہارِ عشق کے انداز بھی مختلف ہوتے ہیں، خوشبوئے وفا کے پیرائے بھی جدا جدا ہوتے ہیں، کبھی کوئی صحابی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے چادر مانگ لیتے ہیں کہ میں اس سے اپنا کفن بناؤں گا اور کوئی حصولِ برکت کے لئے جسمِ اطہر کے پسینے کو شیشی میں جمع کر لیتا ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ہاں قیلولہ فرماتے تو آپ رضی اللہ عنہ آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقدس پسینہ اور موئے مبارک جمع کر لیتے تھے اور اُنہیں ایک شیشی میں ڈال کر خوشبو میں ملا لیا کرتے تھے۔ حضرت ثمامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنھم کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے مجھے وصیت کی :

أن يجعل في حنوطه من ذٰلک السُّکِ.

’’(اُن کے وصال کے بعد) وہ خوشبو ان کے کفن کو لگائی جائے۔‘‘

1. بخاري، الصحيح، 5 : 2316، کتاب الاستيذان، رقم : 5925
2. ابن ابي شيبه، المصنف، 2 : 461، رقم : 11036

ان کی اس آرزو کو بعد از وصال پورا کیا گیا۔ حضرت حمید سے روایت ہے :

لما توفي أنس بن مالک جعل في حنوطه مسک فيه من عرق رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم .

’’جب حضرت انس رضی اللہ عنہ وصال کر گئے تو ان کی میت کے لئے اس خوشبو کو استعمال کیا گیا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پسینے کی خوشبو تھی۔‘‘

1. بيهقي، السنن الکبريٰ، 3 : 406، رقم : 6500
2. طبراني، المعجم الکبير، 1 : 249، رقم : 715
3. ابن سعد، الطبقات الکبريٰ، 7 : 25
4. هيثمي، مجمع الزوائد، 3 : 21
5. شيباني، الاحآد والمثاني، 4 : 238، رقم : 2231

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved