اہلِ بیت اطہار علیہم السلام کے فضائل و مناقب

باب چہارم

الْبَابُ الرَّابِعُ :

مَنَاقِبُ الْحَسَنَيْنِ عليهما السلام

(حسنین کریمین علیہما السلام کے مناقب)

1. فَصْلٌ فِي تَسْمِيَة النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم إِيَاهُمَا وَ أَذَانِهِ فِي أُذُنِهِمَا وَ عَقِيْقَتِهِ عَنْهُمَا عليهما السلام

(حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حسنین کریمین علیہما السلام کا نام رکھنے، ان کے کانوں میں اذان دینے اور ان کی طرف سے عقیقہ کرنے کا بیان)

212 / 1. عَنْ أبِي رَافِعٍ رضي الله عنه قَالَ : رَأيْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم أذَّنَ فِي أُذُنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ حِيْنَ وَلَدَتْهُ فَاطِمَة بِالصلاة.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُودَاوُدَ وَ أَحْمَدُ.

وَقَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.

’’حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا کے ہاں حسن بن علی رضی اﷲ عنہما کی ولادت ہونے پر ان کے کانوں میں نماز والی اذان دی۔‘‘ اس حدیث کو امام ترمذی، ابوداود اور احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے اور امام ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

الحديث رقم 1 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : الأضاحي، باب : الأذان في أذن المولود، 4 / 97، الرقم : 1514، وأبوداود في السنن، کتاب : الأدب، باب : في الصبي يولد فيؤذن في أذنه، 4 / 328، الرقم : 5105، و أحمد بن حنبل في المسند، 6 / 391.

213 / 2. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما : أنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم عَقَّ عَنِ الْحَسَنِ وَ الْحُسَيْنِ کَبْشًا. رَوَاهُ أبُودَاوُدَ.

’’حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسنین کریمین رضی اﷲ عنہما کی طرف سے بطور عقیقہ میں ایک ایک دنبہ ذبح کیا۔‘‘ اس حدیث کو امام ابوداود نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 2 : أخرجه أبوداود في السنن، کتاب : الضحايا، باب : في العقيقة، 3 / 107، الرقم : 2841، و البيهقي في السنن الکبري، 9 / 302، والطبراني في المعجم الکبير، 11 / 316، الرقم : 11856.

214 / 3. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : عَقَّ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم عَنِ الْحَسَنِ وَ الْحُسَيْنِ بِکَبْشَيْنِ کَبْشَيْنِ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.

’’حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسنین کریمین رضی اﷲ عنہما کی طرف سے عقیقے میں دو دو دنبے ذبح کئے۔‘‘ اس حدیث کو امام نسائی نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 3 : أخرجه النسائي في السنن، کتاب : العقيقة، باب : کم يعق عن الجارية، 7 / 165، الرقم : 4219، و في السنن الکبري، 3 / 76، الرقم : 4545.

215 / 4. عَنْ عَلِيٍّ رضي الله عنه قَالَ : لَمَّا وُلِدَ حَسَنٌ سَمَّاهُ حَمْزَة، فَلَمَّا وُلِدَ حُسِيْنٌ سَمَّاهُ بِاسْمِ عَمِّهِ جَعْفَرًا قَالَ : فَدَعَانِي رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم وَ قَالَ : إِنِّي أُمِرْتُ أنْ أُغَيِّرَ اسْمَ هَذَيْنِ فَقُلْتُ : اﷲُ وَ رَسُوْلُهُ أعْلَمُ، فَسَمَّاهُمَا حَسَنًا وَ حُسَيْنًا. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَ أَبُويَعْلَي وَالْحَاکِمُ.

وَقَالَ الْحَاکِمُ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ جب حضرت حسن پیدا ہوئے تو انہوں نے ان کا نام حمزہ رکھا اور جب حضرت حسین پیدا ہوئے تو ان کا نام ان کے چچا کے نام پر جعفر رکھا۔ (حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں) مجھے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلا کر فرمایا : مجھے ان کے یہ نام تبدیل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ (حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں) میں نے عرض کیا : اﷲ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے نام حسن و حسین رکھے۔‘‘ اس حدیث کو امام احمد بن حنبل، ابویعلی اور حاکم نے روایت کیا ہے اور امام حاکم نے فرمایا کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔

الحديث رقم 4 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 1 / 159، وأبو يعلي في المسند، 1 : 384، الرقم : 498، و الحاکم في المستدرک، 4 / 308، الرقم : 7734.

216 / 5. عَنْ عَلِيِّ بْنِ أبِي طالب رضي اﷲ عنه قَالَ : لَمَّا وَلَدَتْ فَاطِمَة الْحَسَنَ جَاءَ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم فَقَالَ : أرُوْنِي ابْنِي مَا سَمَّيْتُمُوْهُ؟ قَالَ : قُلْتُ : سَمَّيْتُهُ حَرْبًا فَقَالَ : بَلْ هُوَ حَسَنٌ فَلَمَّا وَلَدَتِ الْحُسَيْنَ جَاءَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم فَقَالَ : أرُوْنِي ابْنِي مَا سَمَّيْتُمُوْهُ؟ قَالَ : قُلْتُ : سَمَّيْتُهُ حَرْبًا قَالَ : بَلْ هُوَ حُسَيْنٌ، ثُمَّ لَمَّا وَلَدَتِ الثَّالِثَ جَاءَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم قَالَ : أرُوْنِي ابْنِي مَا سَمَّيْتُمُوْهُ؟ قُلْتُ : سَمَّيْتُهُ حَرْبًا قَالَ : بَلْ هُوَ مُحْسِنٌ ثُمَّ قَالَ : إِنَّمَا سَمَّيْتُهُمْ بِاسْمِ وَلَدِ هَارُوْنَ شَبَّرٍ وَ شَبِّيْرٍ وَ مُشَبِّرٍ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْحَاکِمُ وَابْنُ حِبَّانَ.

وَقَالَ الْحَاکِمُ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِْسْنَادِ.

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت فاطمہ سلام اﷲ علیہا کے ہاں حضرت حسن کی ولادت ہوئی تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا : مجھے میرا بیٹا دکھاؤ، اس کا نام کیا رکھا ہے؟ میں نے عرض کیا : میں نے اس کا نام حرب رکھا ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نہیں بلکہ وہ حسن ہے پھر جب حضرت حسین کی ولادت ہوئی تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا : مجھے میرا بیٹا دکھاؤ تم نے اس کا نام کیا رکھا ہے؟ میں نے عرض کیا : میں نے اس کا نام حرب رکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نہیں بلکہ وہ حسین ہے پھر جب تیسرا بیٹا پیدا ہوا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا : مجھے میرا بیٹا دکھاؤ، تم نے اس کا نام کیا رکھا ہے؟ میں نے عرض کیا : میں نے اس کا نام حرب رکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نہیں بلکہ اس کا نام محسن ہے۔ پھر فرمایا : میں نے ان کے نام ہارون (علیہ السلام) کے بیٹوں شبر، شبیر اور مشبر کے نام پر رکھے ہیں۔‘‘ اس حدیث کو امام احمد، حاکم اور ابن حبان نے روایت کیا ہے اور امام حاکم کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔

الحديث رقم 5 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 1 / 118، الرقم : 935، والحاکم في المستدرک، 3 / 180، الرقم : 4773، وابن حبان في الصحيح، 15 / 410، الرقم : 6985، والطبراني في المعجم الکبير، 3 / 96، الرقم : 2773، 2774.

217 / 6. عَنْ عِکْرِمَة قَالَ : لَمَّا وَلَدَتْ فَاطِمَة الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ جَاءَتْ بِهِ إِلَي رَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم فَسَمَّاهُ حَسَنًا فَلَمَّا وَلَدَتْ حُسَيْنًا جَاءَتْ بِهِ إِلَي رَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم فَقَالَتْ : يَا رَسُوْلَ اﷲِ، هَذَا أحْسَنُ مِنْ هَذَا تَعْنِي حُسَيْنًا فَشَقَّ لَهُ مِنِ اسْمِهِ فَسَمَّاهُ حُسَيْنًا. رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ.

’’حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سیدہ فاطمہ سلام اﷲ علیہا کے ہاں حسن بن علی علیہما السلام کی ولادت ہوئی تو وہ انہیں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لائیں، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام حسن رکھا اور جب حسین علیہ السلام کی ولادت ہوئی تو انہیں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں لا کر عرض کیا : یا رسول یہ (حسین) اس (حسن) سے زیادہ خوبصورت ہے لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے نام سے اخذ کرکے اُس کا نام حسین رکھا۔‘‘ اس حدیث کو امام عبدالرزاق نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 6 : أخرجه عبد الرزاق في المصنف، 4 / 335، الرقم : 7981.

2. فَصْلٌ فِي أَنَّهُمَا عليهما السلام مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ وَخَيْرُ النَّاسِ نَسَبًا

(حسنین کریمین علیہما السلام کا اہل بیت میں سے ہونے اور نسب کے اعتبار سے تمام لوگوں سے بہتر ہونے کا بیان)

218 / 7. عَنِ ابْنِ أبِي نَعْمٍ قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اﷲِ بْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما وَ سَأَلَهُ عَنِ الْمُحْرَمِ، قَالَ شُعْبَة : أَحْسِبُهُ بِقَتْلِ الذُّبَابِ، فَقَالَ : أَهْلُ الْعِرَاقِ يَسْأَلُوْنَ عَنِ الذُّبَابِ وَ قَدْ قَتَلُوْا ابْنَ ابْنَة رَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم، وَقَالَ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم : هُمَا رَيْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْيَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ.

’’حضرت ابن ابونَعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کسی نے حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے حالت احرام کے متعلق دریافت کیا۔ شعبہ فرماتے ہیں کہ میرے خیال میں احرام باندھنے والے کا مکھی مارنے کے بارے میں پوچھا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما نے فرمایا : اہل عراق مکھی مارنے کا حکم پوچھتے ہیں حالانکہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے (امام حسین رضی اللہ عنہ) کو شہید کر دیا تھا اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وہ دونوں (حسن و حسین علیہما السلام) ہی تو میرے گلشنِ دُنیا کے دو پھول ہیں۔‘‘ اس حدیث کو امام بخاری اور احمد نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 7 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : فضائل الصحابة، باب : مناقب الحسن والحسين 3 / 1371، الرقم : 3543، و أحمد بن حنبل في المسند، 2 / 85، الرقم : 5568، وابن حبان في الصحيح، 15 / 425، الرقم : 6969، والطيالسي في المسند، 1 / 260، الرقم : 1927.

219 / 8. عَنْ عَبْدِ الرحمٰن بْنِ أبِي نَعْمٍ : أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما عَنْ دَمِ الْبَعُوْضِ يُصِيْبُ الثَّوْبَ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما : انْظُرُوْا إِلَي هَذَا يَسْأَلُ عَنْ دَمِ الْبَعُوْضِ وَ قَدْ قَتَلُوْا ابْنَ رَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم، وَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : إِنَّ الْحَسَنَ وَ الْحُسَيْنَ هُمَا رَيْحَانَتَيَ مِنَ الدُّنْيَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَ أَحْمَدُ.

وَقَالَ أَبُوعِيْسَي : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

’’حضرت عبدالرحمٰن بن ابی نعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عراقی نے حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے پوچھا کہ کپڑے پر مچھر کا خون لگ جائے تو کیا حکم ہے؟ حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما نے فرمایا : اس کی طرف دیکھو، مچھر کے خون کا مسئلہ پوچھتا ہے حالانکہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے (حسین) کو شہید کیا ہے اور میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : حسن اور حسین ہی تو میرے گلشن دُنیا کے دو پھول ہیں۔‘‘ اس حدیث کو امام ترمذی، نسائی اور احمد نے روایت کیا ہے اور امام ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔

الحديث رقم 8 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : المناقب، باب : مناقب الحسن والحسين، 5 / 657، الرقم : 3770، والنسائي في السنن الکبري، 5 / 50، الرقم : 8530، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 93، الرقم : 5675.

220 / 9. عَنْ صَفِيَة بِنْتِ شَيْبَة قَالَتْ : قَالَتْ عَائِشَة رضي اﷲ عنها : خَرَجَ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم غَدَاة. وَ عَلَيْهِ مِرْطٌ مُرَحَّلٌ مِنْ شَعْرٍ أَسْوَدَ. فَجَاءَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، فَأَدْخَلَهُ ثُمَّ جَاءَ الْحُسَيْنُ، فَدَخَلَ مَعَهُ ثُمَّ جَاءَتْ فَاطِمَة، فَأَدْخَلَهَا، ثُمَّ جَاءَ عَلِيٌّ فَأَدْخَلَهُ، ثُمَّ قَالَ : (إِنَّمَا يُرِيْدُ اﷲُ لِيُذْهِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَ يُطَهِرَکُمْ تَطْهِيْرًا). رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَابْنُ أَبِي شَيْبَة وَالْحَاکِمُ.

’’حضرت صفیہ بنت شیبہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کے وقت باہر تشریف لائے درآں حالیکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک چادر اوڑھی ہوئی تھی جس پر سیاہ اون سے کجاوں کے نقش بنے ہوئے تھے۔ حضرت حسن بن علی علیہما السلام آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اس چادر میں داخل کر لیا پھرحضرت حسین رضی اللہ عنہ آئے اور آپ کے ہمراہ چادر میں داخل ہو گئے، پھر حضرت فاطمہ سلام اﷲ علیہا آئیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اس چادر میں داخل کر لیا، پھر حضرت علی کرم اللہ وجہہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں بھی چادر میں لے لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت مبارکہ پڑھی : اے اہل بیت! اﷲ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے (ہر طرح کی) آلودگی دور کر دے اور تم کو کمال درجہ طہارت سے نواز دے۔‘‘ اس حدیث کو امام مسلم، ابن ابی شیبہ اور حاکم نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 9 : أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : فضائل الصحابة، باب : فضائل أهل بيت النبي صلي الله عليه وآله وسلم، 4 / 1883، الرقم : 2424، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 370، الرقم : 36102، والحاکم في المستدرک، 3 / 159، الرقم : 4705.

221 / 10. عَنْ سَعْدِ بْنِ أبِي وَقَّاصٍ رضي اﷲ عنه قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَة : (فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَ کُمْ) دَعَا رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : عَلِيًّا وَ فَاطِمَة وَ حَسَنًا وَ حُسَيْنًا فَقَالَ : اللَّهُمَّ، هَؤُلَاءِ أهْلِي.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَ التِّرْمِذِيُّ.

وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.

’’حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب آیتِ مباہلہ : ’’آپ فرما دیں آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلاتے ہیں اور تم اپنے بیٹوں کو بلاؤ۔‘‘ نازل ہوئی تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حسین علیہم السلام کو بلایا، پھر فرمایا : یا اﷲ! یہ میرے اہل (بیت) ہیں۔‘‘ اس حدیث کوامام مسلم اور امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

الحديث رقم 10 : أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : فضائل الصحابة، باب : من فضائل علي بن أبي طالب، 4 / 1871، الرقم : 2404، والترمذي في السنن، کتاب : تفسير القرآن، باب : و من سورة آل عمران، 5 / 225، الرقم : 2999 و أحمد بن حنبل في المسند، 1 / 185، الرقم : 1608، و الحاکم في المستدرک، 3 / 163، الرقم : 4719.

222 / 11. عَنْ عُمَرَ بْنِ أبِي سَلَمَة رَبِيْبِ النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَة عَلَي النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم : (إِنَّمَا يُرِيْدُ اﷲُ لِيُذْهِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَ يُطَهِرَکُمْ تَطْهِيْرًا) فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَة فَدَعَا فَاطِمَة وَ حَسَنًا وَحُسَيْنًا فَجَلَّلَهُمْ بِکِسَاءٍ وَ عَلِيٌّ خَلْفَ ظَهْرِهِ فَجَلَّلَهُ بِکِسَاءٍ ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ، هَؤُلَاءِ أهْلُ بَيْتِي، فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَ طَهِرْهُمْ تَطْهِيْرًا. قَالَتْ أُمُّ سَلَمَة : وَ أنَا مَعَهُمْ يَا نَبِيَّ اﷲِ، قَالَ : أنْتِ عَلَي مَکَانِکِ وَ أنْتِ عَلَي خَيْرٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وَقَالَ أَبُوعِيْسَي : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ.

’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پروردہ حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا کے گھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ آیت : ’’اے اہل بیت! اﷲ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے (ہر طرح) کی آلودگی دور کر دے اور تم کو خوب پاک و صاف کر دے۔‘‘ نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمہ اور حسنین کریمین سلام اﷲ علیہم کو بلایا اور انہیں ایک کملی میں ڈھانپ لیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں بھی کملی میں ڈھانپ لیا، پھر فرمایا : اے اﷲ! یہ میرے اہل بیت ہیں، پس ان سے ہر قسم کی آلودگی دور فرما اور انہیں خوب پاک و صاف کر دے۔‘‘ اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور فرمایا کہ یہ حدیث حسن ہے۔

الحديث رقم 11 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : تفسير القرآن، باب : و من سورة الأحزاب، 5 / 351، الرقم : 3205، و في کتاب : المناقب، باب : فضل فاطمة بنت محمد صلي الله عليه وآله وسلم، 5 / 699، الرقم : 3871.

223 / 12. عَنْ أُمِّ سَلَمَة رضي اﷲ عنها : أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم جَمَعَ فَاطِمَة وَ حَسَنًا وَ حُسَيْنًا ثُمَّ أدْخَلَهُمْ تَحْتَ ثَوْبِهِ ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ، هَؤُلَاءِ أهْلُ بَيْتِي. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

’’ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ، حسن اور حسین علیہم السلام کو جمع فرما کر ان کو اپنی چادر میں لے لیا اور فرمایا : اے اﷲ! یہ میرے اہل بیت ہیں۔‘‘ اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 12 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 3 / 53، الرقم : 2663، 23 / 308، الرقم : 696، و أبوالمحاسن في معتصر المختصر، 2 : 266.

224 / 13. عَنْ عُمْرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضي الله عنه قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : کُلُّ بَنِي أُنْثَي. فَإِنَّ عُصْبَتَهُمْ لِأبِيْهِمْ مَا خَلَا وَلَدِ فَاطِمَة فَإِنِّي أنَا عُصْبَتُهُمْ، وَ أنَا أبُوْهُمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

’’حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ہر عورت کے بیٹوں کی نسبت ان کے باپ کی طرف ہوتی ہے ماسوائے فاطمہ کی اولاد کے، کہ میں ہی ان کا نسب ہوں اور میں ہی ان کا باپ ہوں۔‘‘ اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 13 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 3 / 44، الرقم : 2631.

225 / 14. عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضي الله عنه قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : کُلُّ سَبَبٍ وَ نَسَبٍ مُنْقَطِعٌ يَوْمَ الْقِيَامَة مَا خَلَا سَبَبِي وَ نَسَبِي وَ کُلُّ وَلَدِ أبٍ فَإِنَّ عُصْبَتَهُمْ لِأبِيْهِمْ مَا خَلَا وَلَدِ فَاطِمَة فَإِنِّيْ أنَا أبُوْهُمْ وَ عُصْبَتُهُمْ. رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَالْبَيْهَقِيُّ وَالطَّبَرَانِيُّ.

’’حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : قیامت کے دن میرے حسب و نسب کے سواء ہر سلسلہ نسب منقطع ہو جائے گا۔ ہر بیٹے کی نسبت باپ کی طرف ہوتی ہے ماسوائے اولادِ فاطمہ کے کہ ان کا باپ بھی میں ہی ہوں اور ان کا نسب بھی میں ہی ہوں۔‘‘ اس حدیث کو امام عبدالرزاق، بیہقی اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 14 : أخرجه عبد الرزاق في المصنف، 6 / 164، الرقم : 10354، والبيهقي في السنن الکبري، 7 / 64، الرقم : 13172، والطبراني في المعجم الأوسط، 6 / 357، الرقم : 6609، و في المعجم الکبير، 3 / 44، الرقم : 2633.

226 / 15. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : أيُهَا النَّاس، ألاَ أُخْبِرُکُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ جَدًّا وَ جَدَّة؟ ألاَ أُخْبِرُکُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ عَمًّا وَ عَمَّة؟ أَلاَ أُخْبِرُکُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ خَالًا وَ خَالَة؟ ألَا أُخْبِرُکُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ أبًّا وَ أُمًّا؟ هُمَا الْحَسَنُ وَ الْحُسَيْنُ، جَدُّهُمَا رَسُوْلُ اﷲِ وَ جَدَّتُهُمَا خَدِيْجَة بِنْتُ خُوَيْلَدٍ، وَ أُمُّهُمَا فَاطِمَة بِنْتُ رَسُوْلِ اﷲِ، وَ أبُوْهُمَا عَلِيُّ بْنُ أبِي طَالِبٍ وَ عَمُّهُمَا جَعْفَرُ بْنُ أبِيْ طَالِبٍ، وَ عَمَّتُهُمَا أُمُّ هَانِي بِنْتُ أبِي طَالِبٍ وَ خَالُهُمَا الْقَاسِمُ بْنُ رَسُوْلِ اﷲِ وَ خَالَاتُهُمَا زَيْنَبُ وَ رُقَيَة وَ أُمُّ کَلْثُوْمَ بِنَاتُ رَسُوْلِ اﷲِ، جَدُّهُمَا فِي الْجَنَّة وَ أبُوْهُمَا فِي الْجَنَّة وَ أُمُّهُمَا فِي الْجَنَّة عَمُّهُمَا فِي الْجَنَّة وَ عَمَّتُهُمَا فِي الْجَنَّة وَ خَالَاتُهُمَا فِي الْجَنَّة وَ هُمَا فِي الْجَنَّة. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

’’حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے لوگو! کیا میں تمہیں ان کے بارے میں خبر نہ دوں جو (اپنے) نانا نانی کے اعتبار سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ کیا میں تمہیں ان کے بارے نہ بتاؤں جو (اپنے) چچا اور پھوپھی کے لحاظ سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ کیا میں تمہیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو (اپنے) ماموں اور خالہ کے اعتبار سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ کیا میں تمہیں ان کے بارے میں خبر نہ دوں جو (اپنے) ماں باپ کے لحاظ سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ وہ حسن اور حسین ہیں، ان کے نانا اﷲ کے رسول، ان کی نانی خدیجہ بنت خویلد، ان کی والدہ فاطمہ بنت رسول اﷲ، ان کے والد علی بن ابی طالب، ان کے چچا جعفر بن ابی طالب، ان کی پھوپھی ام ہانی بنت ابی طالب، ان کے ماموں قاسم بن رسول اﷲ اور ان کی خالہ رسول اﷲ کی بیٹیاں زینب، رقیہ اور ام کلثوم ہیں۔ ان کے نانا، والد، والدہ، چچا، پھوپھی، ماموں اور خالہ (سب) جنت میں ہوں گے اور وہ دونوں (حسنین کریمین) بھی جنت میں ہوں گے۔‘‘ اس حدیث کوامام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 15 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 3 / 66، الرقم : 2682، و في المعجم الأوسط، 6 : 298، الرقم : 6462.

227 / 16. عَنْ أبِي أيُوْبٍ الْأنْصَارِيِّ رضي الله عنه قَالَ : دَخَلْتُ عَلَي رَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم وَ الْحَسَنُ وَ الْحُسَيْنُ عليهما السلام يَلْعَبَانِِِ بَيْنَ يَدَيْهِ أوْ فِي حِجْرِهِ فَقُلْتُ : يَا رَسُوْلَ اﷲِ، أتُحِبُّهُمَا؟ فَقَالَ : وَکَيْفَ لَا أُحِبُّهُمَا وَهُمَا رَيْحَانَتَيَ مِنَ الدُّنْيَا أشُمُّهُمَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُِّ.

’’حضرت ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوا تو (دیکھا کہ) حسن و حسین علیہما السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے یا گود میں کھیل رہے تھے۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اﷲ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے محبت کرتے ہیں؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں ان سے محبت کیوں نہ کروں۔ حالانکہ میرے گلشنِ دُنیا کے یہی تو دو پھول ہیں جن کی مہک کو سونگھتا رہتا ہوں (اور اُنہی پھولوں کی خوشبو سے کیف و سرور پاتا ہوں)۔‘‘ اس حدیث کو امام طبرانی نے میں بیان کیا ہے۔

الحديث رقم 16 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 4 / 155، الرقم : 3990.

228 / 17. عَنْ جَابِرٍ رضي الله عنه : أنَّ وَفْدَ نَجْرَانَ أتَوْا النَّبِيَّ صلي الله عليه وآله وسلم فَقَالُوْا : مَا تَقُوْلُ فِي عِيْسَي بْنِ مَرْيَمَ؟ فَقَالَ : هُوَ رُوْحُ اﷲِ وَ کَلِمَتُهُ وَ عَبْدُ اﷲِ وَ رَسُوْلُهُ قَالُوْا لَهُ : هَلْ لَکَ أنْ نُلاَعِنَکَ؟ إِنَّهُ لَيْسَ کَذَلِکَ قَالَ : وَ ذَاکَ أحَبُّ إِلَيْکُمْ؟ قَالُوْا : نَعَمْ قَالَ : فَإِذَا شِئْتُمْ فَجَاءَ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم وَ جَمَعَ وَلَدَهُ وَ الْحَسَنَ وَ الْحُسَيْنَ فَقَالَ رَئِيْسُهُمْ : لاَ تُلاَعِنُوْا هَذَا الرَّجُلَ. فَوَاﷲِ، لَئِنْ لَا عَنْتُمُوْهُ لَيَخْسِفَنَّ أَحَدٌ صَلِيْتٌ فَجَاءُ وْا فَقَالُوْا : يَا أَبَا الْقَاسِمِ، إِنَّمَا أَرَادَ أَنْ يُلاَعِنَکَ سُفَهَاؤُنَا، وَ إِنَّا نُحِبُّ أَنْ تَعْفِيَنَا قَالَ : قَدْ أَعْفَيْتُکُمْ ثُمَّ قَالَ : إِنَّ الْعَذَابَ قَدْ أَظَلَّ نَجْرَانَ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ.

وَقَالَ الْحَاکِمُ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

’’حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنھما سے مروی ہے کہ نجران کا ایک وفد حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور پوچھا کہ آپ کی حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بارے میں کیا رائے ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وہ روح اﷲ، کلمۃ اﷲ، اﷲ کے بندے اوراس کے رسول ہیں۔ اس وفد نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا : کیا آپ ہمارے ساتھ مباہلہ کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایسے نہ تھے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم یہی چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا : ہاں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جیسے تمہاری مرضی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر تشریف لائے اور اپنے بیٹوں حسن و حسین علیہما السلام کو ساتھ لے جانے کے لئے جمع کیا۔ ان کے ایک سردار نے ان سے کہا کہ اس آدمی سے مباہلہ مت کرو۔ اﷲ کی قسم! اگر تم نے ایسا کیا تو تمہارا کوئی بھی مضبوط سے مضبوط آدمی بھی نہیں بچے گا۔ پھر وہ عیسائی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ اے ابو القاسم! ہمارے کچھ بیوقوف لوگوں نے آپ سے مباہلہ کا ارادہ کیا تھا ہم آپ سے گذارش کرتے ہیں کہ آپ ہمیں معاف کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں نے انہیں معاف کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : عذاب نے نجران کو گھیر لیا تھا۔‘‘ اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے اور امام حاکم نے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔

الحديث رقم 17 : أخرجه الحاکم في المستدرک، 2 / 649، الرقم : 4157.

3. فَصْلٌ فِي کَوْنِ حُبِّهِمَا حُبَّ النَّبِيِّ وَبُغْضِهِمَا بُغْضَ النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم

(حسنین کریمین سے محبت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت اور حسنین کریمین سے بغض حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بغض ہونے کا بیان)

229 / 18. عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رضي الله عنه : أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم أَخَذَ بِيَدِ حَسَنٍ وَ حُسَيْنٍ، فَقَالَ : مَنْ أَحَبَّنِي وَ أَحَبَّ هَذَيْنِ وَ أَبَاهُمَا وَ أُمَّهُمَا کَانَ مَعِي فِي دَرَجَتِي يَوْمَ الْقِيَامَة. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ.

وَقَالَ أَبُوعِيْسَي : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ.

’’حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسن اور حسین علیہما السلام کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا : جس نے مجھ سے اور ان دونوں سے محبت کی اور ان کے والد سے اور ان کی والدہ سے محبت کی وہ قیامت کے دن میرے ساتھ میرے ہی ٹھکانہ پر ہو گا۔‘‘ اس حدیث کو امام ترمذی اور احمد نے روایت کیا ہے اور امام ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن ہے۔

الحديث رقم 18 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : المناقب، باب : مناقب علي بن أبي طالب، 5 / 641، الرقم : 3733، و أحمد بن حنبل في المسند، 1 / 77، الرقم : 576، و في فضائل الصحابة، 2 / 693، الرقم : 1185، والطبراني في المعجم الکبير، 3 / 50، الرقم : 2654.

230 / 19. عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رضي اﷲ عنه : أنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم قَالَ لِعَلِيٍّ وَ فَاطِمَة وَالْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ رضی الله عنهم : أنَا حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبْتُمْ، وَ سِلْمٌ لِمَنْ سَالَمْتُمْ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَ ابْنُ ماجة.

و في رواية : عَنْ أَبِي هُرَيْرَة رضي الله عنه قَالَ : نَظَرَ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم إِلَي عَلِيٍّ وَ فَاطِمَة وَ الْحَسَنِ وَ الْحُسَيْنِ، فَقَالَ : أَنَا حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَکُمْ، وَ سِلْمٌ لِمَنْ سَالَمَکُمْ. رَوَاهُ أحْمَدُ.

’’حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین سلام اﷲ علیہم سے فرمایا : جس سے تم لڑو گے میری بھی اس سے لڑائی ہو گی، اور جس سے تم صلح کرو گے میری بھی اس سے صلح ہو گی۔‘‘ اس حدیث کو امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

ایک اور روایت میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین علیہم السلام کی طرف دیکھا اور فرمایا : جو تم سے لڑے گا میں اس سے لڑوں گا، جو تم سے صلح کرے گا میں اس سے صلح کروں گا (یعنی جو تمہارا دشمن ہے وہ میرا دشمن ہے اور جو تمہارا دوست ہے وہ میرا بھی دوست ہے)۔‘‘ اس حدیث کو امام احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 19 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : المناقب، باب : فضل فاطمة بنت محمد، 5 / 699، الرقم : 3870، و ابن ماجة في السنن، المقدمة، باب : في فضل الحسن والحسين، 1 / 52، الرقم : 145، و ابن حبان في الصحيح، 15 / 434، الرقم : 6977، و أبن أبي شيبة في المصنف، 6 / 378، الرقم : 32181، والحاکم في المستدرک، 3 / 161، الرقم : 4714، أحمد بن حنبل في المسند، 2 / 442.

231 / 20. عَنْ أَبِي هُرَيْرَة رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : مَنْ أَحَبَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ فَقَدْ أَحَبَّنِي، وَ مَنْ أَبْغَضَهُمَا فَقَدْ أَبْغَضَنِي.

رَوَاهُ ابْنُ ماجة وَالنَّسَائِيُّ وَأَحْمَدُ.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس نے حسن اور حسین علیہما السلام سے محبت کی، اس نے درحقیقت مجھ ہی سے محبت کی اور جس نے حسن اور حسین سے بغض رکھا اس نے مجھ ہی سے بغض رکھا۔‘‘ اس حدیث کو امام ابن ماجہ، نسائی اور احمد نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 20 : أخرجه ابن ماجة في السنن، المقدمة، باب : فضل الحسن والحسين، 1 / 51، الرقم : 143، و النسائي في السنن الکبري، 5 / 49، الرقم : 8168، و أحمد بن حنبل في المسند، 2 / 288، الرقم : 7863، والطبراني في المعجم الأوسط، 5 / 102، الرقم : 4795.

232 / 21. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ مَسْعُودٍ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم : مَنْ أَحَبَّنِي فَلْيُحِبَّ هَذَيْنِ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَابْنُ خُزَيْمَة.

’’حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس نے مجھ سے محبت کی، اس پر لازم ہے کہ وہ ان دونوں سے بھی محبت کرے۔‘‘ اس حدیث کو امام نسائی اور ابن خزیمہ نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 21 : أخرجه النسائي في السنن الکبري، 5 / 50، الرقم : 8170، و في فضائل الصحابة، 1 / 20، الرقم : 67، وابن خزيمة في الصحيح، 2 / 48، الرقم : 887، والبزار في المسند، 5 / 226، الرقم : 1834.

4. فَصْلٌ فِي مَکَانَتِهِمَا عِنْدَ النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم

(حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حسنین کریمین کے مقام و مرتبہ کا بیان )

233 / 22. عَنِ الْبَرَاءِ رضي الله عنه قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صلي الله عليه وآله وسلم أَبْصَرَ حَسَنًا وَ حُسَيْنًا، فَقَالَ : الَّلهُمَّ، إِنِّي أُحِبُّهُمَا، فَأَحِبَّهُمَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وَقَالَ أَبُوعِيْسَي : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.

’’حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسنین کریمین علیہما السلام کی طرف دیکھ کر فرمایا : اے اﷲ! میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر۔‘‘ اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

الحديث رقم 22 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : المناقب، باب : مناقب الحسن و الحسين، 5 / 661، الرقم : 3782.

234 / 23. عَنْ أُسَامَة بْنِ زَيْدٍ رضي اﷲ عنهما قَالَ : طَرَقْتُ النَّبِيَّ. صلي الله عليه وآله وسلم ذَاتَ لَيْلَة فِي بَعْضِ الْحَاجَة، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم وَ هُوَ مُشْتَمِلٌ عَلَي شَيءٍ لَا أدْرِي مَا هُوَ، فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ حَاجَتِي قُلْتُ : مَا هَذَا الَّذِي أنْتَ مُشْتَمِلٌ عَلَيْهِ؟ قَالَ : فَکَشَفَهُ فَإِذَا حَسَنٌ وَ حُسَيْنٌ عليهما السلام عَلَي وِرْکَيْهِ فَقَالَ : هَذَانِ ابْنَايَ وَ أبْنَاءُ ابْنَتِي. الَّلهُمَّ، إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا وَ أَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُمَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ.

وَقَالَ أبُوعِيْسَي : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ.

’’حضرت اسامہ بن زید رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : میں ایک رات کسی کام کے لیے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے اور آپ کسی چیز کو اپنے جسم سے چمٹائے ہوئے تھے جسے میں نہ جان سکا جب میں اپنے کام سے فارغ ہوا تو عرض کیا : یا رسول اللہ! آپ نے کیا چیز چمٹا رکھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کپڑا اٹھایا تو وہ حسن اور حسین تھے۔ فرمایا : یہ میرے بیٹے ہیں۔ اے اﷲ! میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر اور ان سے محبت کرنے والے سے بھی محبت کر۔‘‘ اس حدیث کو امام ترمذی اور ابن حبان نے روایت کیا ہے اور امام ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن ہے۔

الحديث رقم 23 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : المناقب، باب : مناقب الحسين والحسين، 5 / 656، الرقم : 3769، وابن حبان في الصحيح، 15 / 423، الرقم : 6967والطبراني في المعجم الکبير، 3 / 39، الرقم : 2618.

235 / 24. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه يَقُوْلُ : سُئِلَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : أَيُّ أَهْلِ بَيْتِکَ أَحَبُّ إِلَيْکَ؟ قَالَ : الْحَسَنُ وَ الْحُسَيْنُ. وَ کَانَ يَقُوْلُ لِفَاطِمَة ادْعِي إِبْنَيَّ فَيَشُمُّهُمَا وَ يَضُمُّهُمَا إِلَيْهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُويَعْلَي.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا گیا : آپ کو اہل بیت میں سے سب سے زیادہ کون محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : حسن اور حسین اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت فاطمہ سے کہا کرتے تھے کہ میرے بیٹوں کو بلاؤ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں چومتے اور انہیں اپنے ساتھ لپٹا لیتے۔‘‘ اس حدیث کو امام ترمذی اور ابویعلی نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 24 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : المناقب، باب : مناقب الحسن و الحسين، 5 / 657، الرقم : 3772، و أبويعلي في المسند، 7 / 274، الرقم : 4294.

236 / 25. عَنْ أَبِي بُرَيْدَة رضي الله عنه يَقُوْلُ : کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم يَخْطُبُنَا إِذْ جَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عليهما السلام، عَلَيْهِمَا قَمِيْصَانِ أَحْمًرَانِ يَمْشِيَانِ وَ يَعْثِرَانِ، فَنَزَلَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم مِنَ الْمِنْبَرِ فَحَمَلَهُمَا وَ وَضَعَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ : صَدَقَ اﷲُ : (إِنَّمَا أَمْوَالُکُمْ وَأَوْلَادُکُمْ فِتْنَةٌ) فَنَظَرْتُ إِلَي هَذَيْنِ الصَّبِيَيْنِ يَمْشِيَانِ وَ يَعْثِرَانِ، فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّي قَطَعْتُ حَدِيْثِي وَ رَفَعْتُهُمَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ.

وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ.

’’حضرت ابوبریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں خطبہ دے رہے تھے، اتنے میں حسنین کریمین علیہما السلام تشریف لائے، انہوں نے سرخ رنگ کی قمیصیں پہنی ہوئی تھیں اور وہ (کم عمر ہونے کی وجہ سے) لڑکھڑا کر چل رہے تھے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (انہیں دیکھ کر) منبر سے نیچے تشریف لے آئے، دونوں (شہزادوں) کو اٹھایا اور اپنے سامنے بٹھا لیا، پھر فرمایا : اﷲ تعالیٰ کا فرمان کتنا سچ ہے : ’’بیشک تمہارے اموال اور تمہاری اولاد آزمائش ہی ہیں۔‘‘ میں نے ان بچوں کو لڑکھڑا کر چلتے دیکھا تو مجھ سے رہا نہ گیا حتی کہ میں نے اپنی بات کاٹ کر انہیں اٹھا لیا۔‘‘ اس حدیث کو امام ترمذی اور نسائی نے روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے۔

الحديث رقم 25 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : المناقب، باب : مناقب الحسن و الحسين، 5 / 658، الرقم : 3774، والنسائي في السنن، کتاب : صلاة العيدين، باب : نزول الإمام عن المنبر قبل فراغه من الخطبة، 3 / 192، الرقم : 1585، و أحمد بن حنبل في المسند، 5 / 345، وابن حبان في الصحيح، 13 / 403، الرقم : 6039، والبيهقي في السنن الکبري، 3 / 218، الرقم : 5610.

237 / 26. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ أبِيْهِ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم فِي إِحْدَي صَلَوَاتِ الْعِشَاءِ وَهُوَ حَامِلٌ حَسَنًا أوْ حُسَيْنًا فَتَقَدَّمَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم فَوَضَعَهُ ثُمَّ کَبَّرَ لِلصَّلَاة فَصَلَّي، فَسَجَدََبيْنَ ظَهْرَانَي صَلَاتِهِ سَجْدَة أطَالَهَا. قَالَ أبِي : فَرَفَعْتُ رَأسِي وَ إِذَا الصَّبِيُّ عَلَي ظَهْرِ رَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم وَهُوَ سَاجِدٌ فَرَجَعْتُ اِلَي سُجُوْدِي، فَلَمَّا قَضَي رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم الصَّلَاة، قَالَ النَّاسُ : يَا رَسُوْلَ اﷲِ، إِنَّکَ سَجَدْتَ بَيْنَ ظَهْرَانَي صَلَاتِکَ سَجْدَة أطَلْتَهَا حَتَّي ظَنَنَّا أنَّهُ قَدْ حَدَثَ أمْرٌ أوْ أنَّهُ يُوْحَي إِلَيْکَ. قَالَ : ذَلِکَ لَمْ يَکُنْ وَلَکِنَّ ابْنِي ارْتَحَلَنِي فَکَرِهْتُ أنْ أُعَجِّلَهُ حَتَّي يَقْضِيَ حَاجَتَهُ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَ أَحْمَدُ.

’’حضرت عبداﷲ بن شداد رضی اللہ عنہ اپنے والد حضرت شداد بن ہادص سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عشاء کی نماز ادا کرنے کے لئے ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حسن یا حسین علیہما السلام (میں سے کسی ایک شہزادے) کو اُٹھائے ہوئے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تشریف لا کر اُنہیں زمین پر بٹھا دیا پھر نماز کے لئے تکبیر فرمائی اور نماز پڑھنا شروع کر دی، نماز کے دوران حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طویل سجدہ کیا۔ شداد نے کہا : میں نے سر اُٹھا کر دیکھا کہ شہزادے سجدے کی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت مبارک پر سوار ہیں۔ میں پھر سجدہ میں چلا گیا۔ جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز ادا فرما چکے تو لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیک وسلم! آپ نے نماز میں اتنا سجدہ طویل کیا۔ یہانتک کہ ہم نے گمان کیا کہ کوئی امرِ اِلٰہی واقع ہو گیا ہے یا آپ پر وحی نازل ہونے لگی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ایسی کوئی بات نہ تھی مگر یہ کہ مجھ پر میرا بیٹا سوار تھا اس لئے (سجدے سے اُٹھنے میں) جلدی کرنا اچھا نہ لگا جب تک کہ اس کی خواہش پوری نہ ہو۔‘‘ اس حدیث کو امام نسائی اور امام احمد نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 26 : أخرجه النسائي في السنن، کتاب : التطبيق، باب : هل يجوزأن تکون سجدة أطول من سجدة، 2 / 229، الرقم : 1141، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 493، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 380، الرقم : 32191، والطبراني في المعجم الکبير، 7 / 270، الرقم : 7107.

238 / 27. عَنْ أَبِي هُرَيْرَة رضي الله عنه قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم وَ مَعَهُ حَسَنٌ وَ حُسَيْنٌ هَذَا عَلَي عَاتِقِهِ وَ هَذَا عَلَي عَاتِقِهِ وَهُوَ يَلْثِمُ هَذَا مَرَّة وَ يَلْثِمُ هَذَا مَرَّة حَتَّي انْتَهَي إِلَيْنَا فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : يَا رُسُولَ اﷲِ، إِنَّکَ تُحِبُّهُمَا فَقَالَ مَنْ أحَبَّهُمَا فَقَدْ أحَبَّنِي وَ مَنْ أبْغَضَهُمَا فَقَدْ أبْغَضَنِي.

رَوَاهُ أحْمَدُ وَالْحَاکِمُ.

وَقَالَ الْحَاکِمُ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک کندھے پر امام حسن علیہ السلام اور دوسرے کندھے پر امام حسین علیہ السلام سوار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دونوں کو باری باری چوم رہے تھے یہاں تک کہ آپ ہمارے پاس آ کر رک گئے ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ! کیا ان سے محبت کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس نے ان دونوں سے محبت رکھی اس نے مجھ سے محبت رکھی اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔‘‘ اس حدیث کو امام احمد اور حاکم نے روایت کیا ہے اور امام حاکم کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔

239 / 28. عَنْ يَعْلَي بْنِ مُرَّة رضي الله عنه : أَنَّ حَسَنًا وَحُسَيْنًا أَقْبَلَا يَمْشِيَانِ إِلَي رَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم، فَلَمَّا جَاءَ أَحَدُهُمَا جَعَلَ يَدَهُ فِي عُنُقِهِ، ثُمَّ جَاءَ الْآخَرُ فَجَعَلَ يَدَهُ الْأُخْرَي فِي عُنُقِهِ، فَقَبَّلَ هَذَا ثُمَّ قَبَّلَ هَذَا، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ، إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

’’حضرت یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حسنین کریمین علیہما السلام حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چل کر آئے، پس ان میں سے جب ایک پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا بازو اس کے گلے میں ڈالا، پھر دوسرا پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دوسرا بازو اس کے گلے میں ڈالا، بعد ازاں ایک کو چوما اور پھر دوسرے کو چوما اور فرمایا : اے اﷲ! میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر۔‘‘ اس حدیث کو طبرانی نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 28 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 3 / 32، الرقم : 2587، 22 / 274، الرقم : 703.

240 / 29. عَنْ يَحْيَي بْنِ أَبِي کَثِيْرٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صلي الله عليه وآله وسلم سَمِعَ بُکَاءَ الْحَسَنِ وَ الْحُسَيْنِ، فَقَامَ فَزِعًا، فَقَالَ : إِنَّ الْوَلَدَ لَفِتْنَةٌ لَقَدْ قُمْتُ إِلَيْهِمَا وَ مَا أَعْقِلُ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَة.

’’یحییٰ بن ابی کثیر روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حسن اور حسین علیہما السلام کے رونے کی آواز سنی تو پریشان ہو کر کھڑے ہو گئے اور فرمایا : بے شک اولاد آزمائش ہے، میں ان کے لئے بغیر غور کئے کھڑا ہو گیا ہوں۔‘‘ اس حدیث کو امام ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 29 : أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 379، الرقم : 32186.

241 / 30. عَنَْيزِيْدَ بْنِ أَبِي زَيَادٍ قَالَ : خَرَجَ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم مِنْ بَيْتِ عَائِشَة فَمَرَّ عَلَي فَاطِمَة فَسَمِعَ حُسَيْنًا يَبْکِي، فَقَاَل : أَ لَمْ تَعْلَمِي أَنَّ بُکَاءَ هُ يُؤْذِيْنِي. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

’’حضرت یزید بن ابو زیاد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کے گھر سے باہر تشریف لائے اور سیدہ فاطمہ سلام اﷲ علیہا کے گھر کے پاس سے گزرے تو حضرت حسین علیہ السلام کو روتے ہوئے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تجھے معلوم نہیں کہ اس کا رونا مجھے تکلیف دیتا ہے۔‘‘ اس حدیث کوامام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 30 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 3 / 116، الرقم : 2847.

242 / 31. عَنْ أبِي هُرَيْرَة رضي الله عنه فَقَالَ : أشْهَدُ لَخَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم حَتَّي إِذَا کُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيْقِ سَمِعَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم صَوْتَ الْحَسَنِ وَ الْحُسَيْنِ، وَ هُمَا يَبْکِيَانِ وَ هُمَا مَعَ أُمِّهِمَا، فَأسْرَعَ السَّيْرَ حَتَّي أتَاهُمَا، فَسَمِعْتُهُ يَقُوْلُ لَهَا : مَا شَأنُ ابْنَيَّ؟ فَقَالَتْ : الْعَطْشُ قَالَ : فَأخْلَفَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم إِلَي شَنَّة يَبْتَغِي فِيْهَا مَاءً. وَ کَانَ الْمَاءُ يَوْمَئِذٍ أغْدَارًا، وَ النَّاسُ يُرِيْدُوْنَ الْمَاءَ. فَنَادَي : هَلْ أحَدٌ مِنْکُمْ مَعَهُ مَاءٌ؟ فَلَمْ يَبْقَ أحَدٌ إِلْا أخْلَفَ بِيَدِهِ اِلَي کَلَابِهِ يَبْتَغِي الْمَاءَ فِي شَنَّة، فَلَمْ يَجِدْ أَحَدٌ مِنْهُمْ قَطْرَة، فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : نَاوِلِيْنِي أحَدَهُمَا، فَنَاوَلَتْهُ إِيَاهُ مِنْ تَحْتِ الْخِدْرِ، فَأخَذَهُ فَضَمَّهُ إِلَي صَدْرِهِ وَ هُوَ يَطْغُوْ مَا يَسْکُتُ، فَأدْلَعَ لَهُ لِسَانَهُ فَجَعَلَ يَمُصُّهُ حَتَّي هَدَأ أوْ سَکَنَ، فَلَمْ أسْمَعْ لَهُ بُکَاءً ا، وَ الْآخَرُ يَبْکِي کَمَا هُوْ مَا يَسْکُتُ فَقَالَ : نَاوِلِيْنِي الْآخَرَ، فَنَاوَلَتْهُ إِيَاهُ فَفَعَلَ بِهِ کَذَلِکَ، فَسَکَتَا فَمَا سُمِعَ لَهُمَا صَوْتٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ (سفر میں) نکلے، ابھی ہم راستے میں ہی تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسن و حسین علیہما السلام کی آواز سنی دونوں رو رہے تھے اور دونوں اپنی والدہ ماجدہ (سیدہ فاطمہ) کے پاس ہی تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُن کے پاس تیزی سے پہنچے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ) میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیدہ فاطمہ سلام اﷲ علیہا سے یہ فرماتے ہوئے سنا : میرے بیٹوں کو کیا ہوا؟ سیدہ فاطمہ سلام اﷲ علیہا نے عرض کیا انہیں سخت پیاس لگی ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پانی لینے کے لئے مشکیزے کی طرف بڑھے۔ ان دنوں پانی کی سخت قلت تھی اور لوگوں کو پانی کی شدید ضرورت تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو آواز دی : کیا کسی کے پاس پانی ہے؟ ہر ایک نے کجاووں سے لٹکتے ہوئے مشکیزوں میں پانی دیکھا مگر ان کو قطرہ تک نہ ملا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمہ سلام اﷲ علیہا سے فرمایا : ایک بچہ مجھے دو اُنہوں نے ایک کو پردے کے نیچے سے پکڑایا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو پکڑ کر اپنے سینے سے لگا لیا مگر وہ سخت پیاس کی وجہ سے مسلسل رو رہا تھا اور خاموش نہیں ہو رہا تھا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُس کے منہ میں اپنی زبان مبارک ڈال دی وہ اُسے چوسنے لگا حتی کہ سیرابی کی وجہ سے سکون میں آ گیا میں نے دوبارہ اُس کے رونے کی آواز نہ سنی، جب کہ دوسرا بھی اُسی طرح (مسلسل رو رہا تھا) پس حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : دوسرا بھی مجھے دے دو تو سیدہ فاطمہ سلام اﷲ علیہا نے دوسرے کو بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے کر دیا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے بھی وہی معاملہ کیا (یعنی زبان مبارک اس کے منہ میں ڈالی) سو وہ دونوں ایسے خاموش ہوئے کہ میں نے دوبارہ اُن کے رونے کی آواز نہ سنی۔‘‘ اس حدیث کو طبرانی نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 31 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 3 / 50، الرقم : 2656.

243 / 32. عَنْ أَبِي هُرَيْرَة رضي الله عنه قَالَ : وَقَفَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم عَلَي بَيْتِ فَاطِمَة فَسَلَّمَ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ الْحَسَنُ وَ الْحُسَيْنُ عليهما السلام، فَقَالَ لَهُ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : ارْقَ بِأَبِيْکَ أَنْتَ عَيْنَ بُقَّة. وَ أَخَذَ بِإِصْبَعَيْهِ فَرَقِيَ عَلَي عَاتِقِهِ. ثُمَّ خَرَجَ الْآخَرُ الْحَسَنُ أوِ الْحُسَيْنُ مُرْتَفِعَة إِحْدَي عَيْنَيْهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : مَرْحَبًا بِکَ ارْقَ بِأَبِيْکَ أَنْتَ عَيْنَ الْبُقَّة وَ أَخَذَ بِإِصْبَعَيْهِ فَاسْتَوَي عَلَي عَاتِقِهِ الآخَرِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ فاطمہ سلام اﷲ علیہا کے گھر کے سامنے رکے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمۃ الزہراء کو سلام کیا۔ اتنے میں حسنین کریمین علیہما السلام میں سے ایک شہزادہ گھر سے باہر آ گیا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا : اپنے باپ کے کندھے پر سوار ہو جا تو (میری) آنکھ کا تارا ہے، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ہاتھ سے پکڑا پس وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دوش مبارک پر سوار ہو گئے۔ پھر دوسرا شہزادہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف تکتا ہوا باہر آگیا تو اسے بھی فرمایا : خوش آمدید، اپنے باپ کے کندھے پر سوار ہو جا تو (میری) آنکھ کا تارا ہے اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اپنی انگلیوں کے ساتھ پکڑا پس وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دوسرے دوش مبارک پر سوار ہو گئے۔‘‘ اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 32 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 3 / 49، الرقم : 2652.

244 / 33. عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِِي وَقَّاصٍ رضي اﷲ عنه قَالَ : دَخَلْتُ عَلَي رَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم وَالْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ يَلْعَبَانِ عَلَي بَطْنِهِ، فَقُلْتُ : يَا رَسُوْلَ اﷲِ، أَتُحِبُّهُمَا؟ فَقَالَ : وَ مَالِيَ لَا أُحِبُّهُمَا وَ هُمَا رَيْحَانَتَايَ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ.

’’حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو (دیکھا کہ) حسن اور حسین علیہما السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شکم مبارک پر کھیل رہے تھے، تو میں نے عرض کی : یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیک و سلم! کیا آپ ان سے محبت کرتے ہیں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں ان سے محبت کیوں نہ کروں حالانکہ وہ دونوں میرے پھول ہیں۔‘‘ اس حدیث کو امام بزار نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 33 : أخرجه البزار في المسند، 3 / 287، الرقم : 1079.

245 / 34. عَنْ فَاطِمَة سلام اﷲ عليها قَالَتْ : إِنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم أتَاهَا يَوْمًا فَقَالَ : أيْنَ ابْنَايَ؟ فَقَالَتْ : ذَهَبَ بِهِمَا عَلِيٌّ فَتَوَجَّهَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم، فَوَجَدَهُمَا يَلْعَبَانِ فِيْ مَشْرَبَة وَ بَيْنَ أيْدِهِمَا فَضْلٌ مِنْ تَمَرٍ فَقَالَ : يَا عَلِيُّ ألَا تُقَلِّبُ ابْنَيَّ قَبْلَ الْحَرِّ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ.

’’سیدہ فاطمہ سلام اﷲ علیہا فرماتی ہیں کہ ایک روز حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور فرمایا : میرے بیٹے کہاں ہیں؟ میں نے عرض کیا : حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کو ساتھ لے گئے ہیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی تلاش میں متوجہ ہوئے تو انہیں پانی پینے کی جگہ پر کھیلتے ہوئے پایا اور ان کے سامنے کچھ کھجوریں بچی ہوئی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے علی! خیال رکھنا میرے بیٹوں کو گرمی شروع ہونے سے پہلے واپس لے آنا۔‘‘ اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 34 : أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 / 180، الرقم : 4774.

5. فَصْلٌ فِيْمَنْ أحَبَّهُمَا أدْخَلَهُ اﷲُ الْجًنَّة وَ مَنْ أبْغَضَهُمَا أدْخَلَهُ اﷲُ النَّارَ

(اللہ تعالیٰ کا حسنین کریمین سے محبت رکھنے والوں کو جنت اور ان سے بغض رکھنے والوں کو دوزخ میں داخل کرنے کا بیان)

246 / 35. عَنْ سَلْمَانَ رضي الله عنه قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ ابْنَايَ، مَنْ أَحَبَّهُمَا أَحَبَّنِي، وَمَنْ أَحَبَّنِي أَحَبَّهُ اﷲُ، وَمَنْ أَحَبَّهُ اﷲُ أَدْخَلَهُ الْجَنَّة وَ مَنْ أَبْغَضَهُمَا أَبْغَضَنِي، وَ مَنْ أَبْغَضَنِي أَبْغَضَهُ اﷲُ، وَمَنْ أَبْغَضَهُ اﷲُ أَدْخَلَهُ النَّارَ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ.

وَقَالَ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

’’حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : حسن اور حسین میرے بیٹے ہیں جس نے حسن اور حسین علیہما السلام سے محبت کی، اُس نے مجھ سے محبت کی، اور جس نے مجھ سے محبت کی اس سے اللہ نے محبت کی اور جس سے اللہ نے محبت کی اﷲ نے اسے جنت میں داخل کر دیا۔ جس نے حسن اور حسین علیہما السلام سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا، اور جس نے مجھ سے بغض رکھا اس پر اﷲ کا غضب ہوا اور جس پر اﷲ کا غضب ہوا اللہ نے اُسے آگ میں داخل کر دیا۔‘‘ اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے اور کہا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔

الحديث رقم 35 : أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 / 181، الرقم : 4776.

247 / 36. عَنْ سَلْمَانَ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم لِلْحَسَنِ وَ الْحُسَيْنِ : مَنْ أَحَبَّهُمَا أَحْبَبْتُهُ، وَمَنْ أَحَبَبْتُهُ أَحَبَّهُ اﷲُ، وَمَنْ أَحَبَّهُ اﷲُ أَدْخَلَهُ جَنَّاتِ النَّعِيْمِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

’’حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسن و حسین علیہما السلام کے لئے فرمایا : جس نے ان سے محبت کی اس سے میں نے محبت کی، اور جس سے میں محبت کروں اس سے اللہ محبت کرتا ہے، اور جس کو اللہ محبوب رکھتا ہے اسے نعمتوں والی جنتوں میں داخل کرتا ہے۔‘‘ اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 36 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 3 / 50، الرقم : 2655.

248 / 37. عَنْ سَلْمَانَ رضي الله عنه، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم لِلْحَسَنِ وَ الْحُسَيْنِ : مَنْ أَبْغَضَهُمَا أَوْ بَغَي عَلَيْهِمَا أَبْغَضْتُهُ، وَمَنْ أَبَغَضْتُهُ أَبْغَضَهُ اﷲُ، وَمَنْ أَبْغَضَهُ اﷲُ أَدْخَلَهُ عَذَابَ جَهَنَّمَ وَلَهُ عَذَابٌ مُّقِيْمٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

’’حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسن اور حسین علیہما السلام کے بارے میں فرمایا : جس نے ان سے بغض رکھا یا ان سے بغاوت کی وہ میرے ہاں مبغوض ہو گیا اور جو میرے ہاں مبغوض ہو گیا وہ اﷲ کے غضب کا شکار ہو گیا اور جو اﷲ کے ہاں غضب یافتہ ہو گیا تو اﷲ تعالیٰ اسے جہنم کے عذاب میں داخل کرے گا (جہاں) اس کے لئے ہمیشہ کا ٹھکانہ ہو گا۔‘‘ اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 37 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 3 / 50، الرقم : 2655.

249 / 38. عَنْ عَلِيٍّ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم قَالَ : أَنَا وَفَاطِمَة وَحَسَنٌ وَحُسَيْنٌ مُجْتَمِعُوْنَ، وَ مَنْ أَحَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَة نَأْکُلُ وَ نَشْرَبُ حَتَّي يُفَرَّقُ بَيْنَ الْعِبَادِ. رَوَاهُ الطَّبرَانِيُّ.

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں، فاطمہ، حسن، حسین اور جو ہم سے محبت کرتے ہیں قیامت کے دن ایک ہی مقام پر جمع ہوں گے، ہمارا کھانا پینا بھی اکٹھا ہو گا تاآنکہ لوگ (حساب و کتاب کے بعد) جدا جدا کر دیئے جائیں گے۔‘‘ اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 38 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 3 / 41، الرقم : 2623.

6. فَصْلٌ فِي مَکَانَتِهِمَا عليهما السلام فِي الْجَنَّة

(حسنین کریمین علیہما السلام کا جنت میں مقام)

250 / 39. عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : الْحَسَنُ وَ الْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّة.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَ ابْنُ ماجة عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَ زَادَ : وَ أبُوْهُمَا خَيْرٌ مِنْهُمَا

’’حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : حسن اور حسین جنتی جوانوں کے سردار ہیں۔‘‘ اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور ابن ماجہ نے اس کو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت کیا ہے اور یہ اضافہ کیا ہے کہ اُن کے والد ان سے بہتر ہیں۔

الحديث رقم 39 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : المناقب، باب : مناقب الحسن و الحسين، 5 / 656، الرقم : 3768، و ابن ماجة في السنن، باب : فضائل أصحاب رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، فضل علي بن أبي طالب، 1 / 44، الرقم : 118، و النسائي في السنن الکبري، 5 / 50، الرقم : 8169، وابن حبان في الصحيح، 15 / 412، الرقم : 6959، و أحمد بن حنبل في المسند، 3 / 3، الرقم : 11012، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 378، الرقم : 32176.

251 / 40. عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رضي الله عنه قَالَ : شَکَوْتُ إِلَي رَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم حَسَدَ النَّاسِ إِيَايَ، فَقَالَ : أَمَا تَرْضَي أَنْ تَکُوْنَ رَابِعَ أَرْبَعَة أَوَّلَ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّة : أَنَا وَ أَنْتَ وَ الْحَسَنُ وَ الْحُسَيْنُ. رَوَاهُ أحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ.

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکایت کی کہ لوگ مجھ سے حسد کرتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے چار مردوں میں چوتھے تم ہو (وہ چار) میں، تم، حسن اور حسین ہیں۔‘‘ اس حدیث کو امام احمد اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 40 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 2 / 624، والطبراني في المعجم الکبير، 1 / 319، الرقم : 950.

252 / 41. عَنْ عَلِيٍّ رضي الله عنه قَالَ : أَخْبَرَنِي رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : أنَّ أَوَّلَ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّة أَنَا وَ فَاطِمَة وَالْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ. قُلْتُ : يَا رَسُوْلَ اﷲِ، فَمُحِبُّوْنَا؟ قَالَ : مِنْ وَرَائِکُمْ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ.

وَقَالَ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيحُ الإِسْنَادِ.

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بتایا کہ سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والوں میں، میں (یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ خود)، فاطمہ، حسن اور حسین ہیں۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیک وسلم! ہم سے محبت کرنے والے کہاں ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تمہارے پیچھے پیچھے۔‘‘ اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے اور فرمایا کہ اس کی حدیث اسناد صحیح ہیں۔

الحديث رقم 41 : أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 / 164، الرقم : 4723.

253 / 42. عَنْ أبِي سَعِيْدٍ الْخُدَرِيِّ رضي الله عنه قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صلي الله عليه وآله وسلم دَخَلَ عَلَي فَاطِمَة رضي اﷲ عنها فَقَالَ : إِنِّي وَ إِيَاکِ وَ هَذَا النَّائِمَ يَعْنِي : عَلِيًّا وَهُمَا يَعْنِي : الْحَسَنَ وَ الْحُسَيْنَ لَفِي مَکَانٍ وَّاحِدٍ يَوْمَ الْقِيَامَة.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْحَاکِمُ وَاللَّفْظُ لَهُ.

وَقَالَ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.

’’حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ فاطمہ سلام اﷲ علیہا کے گھر تشریف لائے اور فرمایا : میں، تم اور یہ سونے والا (یعنی علی وہ ابھی سو کر اٹھے ہی تھے) اور یہ دونوں یعنی حسن اور حسین علیہما السلام قیامت کے دن ایک ہی جگہ ہوں گے۔‘‘ اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے اور کہا کہ اس حدیث کی اسناد صحیح ہیں۔

الحديث رقم 42 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 1 / 101، الرقم : 792، والحاکم في المستدرک، 3 / 147، الرقم : 4664، والطبراني في المعجم الکبير، 22 : 405، الرقم : 1016.

254 / 43. عَنْ عُقْبَة بْنِ عَامِرٍ رضي الله عنه : أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم قَالَ : الْحَسَنُ وَ الْحُسَيْنُ شَنْفَا الْعَرْشِ وَ لَيْسَا بِمُعَلَّقَيْنِ، وَ إِنَّ النَّبِيَّ صلي الله عليه وآله وسلم قَالَ : إِذَا اسْتَقَرَّ أَهْلُ الْجَنَّة فِي الْجَنَّة، قَالَتِ الْجَنَّة : يَا رَبِّ، وَعَدْتَنِي أَنْ تُزَيِّنَنِي بَرُکْنَيْنِ مِنْ أَرْکَانِکَ قَالَ : أَوَلَمْ أُزَيِّنْکِ بِالْحَسَنِ وَ الْحُسَيْنِ؟

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

’’حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : حسن اور حسین عرش کے دو ستون ہیں لیکن وہ لٹکے ہوئے نہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب اہل جنت، جنت میں مقیم ہو جائیں گے تو جنت عرض کرے گی : اے پروردگار! تو نے مجھے اپنے ستونوں میں سے دو ستونوں سے مزین کرنے کا وعدہ فرمایا تھا۔ اﷲ تعالیٰ فرمائے گا : کیا میں نے تجھے حسن اور حسین کی موجودگی کے ذریعے مزین نہیں کر دیا؟ (یہی تو میرے دو ستون ہیں)۔‘‘ اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 43 : أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 1 / 108، الرقم : 337

255 / 44. عَنْ أَبِي هُرَيْرَة رضي الله عنه : أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم قَالَ : إِنَّ مَلَکًا مِنَ السَّمَاءِ لَمْ يَکُنْ زَارَنِي، فَأسْتَأْذَنَ اﷲَ عزوجل فِي زِيَارِتِي، فَبَشَّرَنِي : أَنَّ الْحَسَنَ وَ الْحُسَيْنَ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّة. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَالطَّبَرَانِيُّ.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : آسمان کے ایک فرشتے نے (اس سے پہلے) میری زیارت کبھی نہیں کی تھی، اس نے میری زیارت کے لئے اﷲ تعالیٰ سے اجازت طلب کی اور مجھے یہ خوشخبری سنائی کہ حسن اور حسین تمام جنتی جوانوں کے سردار ہیں۔‘‘ اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 44 : أخرجه النسائي في السنن الکبري، 5 / 146، الرقم : 8515، و الطبراني في المعجم الکبير، 3 / 36، الرقم : 604، 2.

256 / 45. عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : فَخَرَتِ الْجَنَّة عَلَي النَّارِ فَقَالَتْ : أَنَا خَيْرٌ مِنْکِ، فَقَالَتِ النَّارُ : بَلْ أَنَا خَيْرٌ مِنْکِ، فَقَالَتْ لَهَا الْجَنَّة اسْتِفْهَامًا : وَ مِمَّهُ؟ قَالَتْ : لِأنَّ فِيَّ الْجَبَابِرَة وَ نَمْرُوْدُ وَ فِرْعَوْنُ فَأَسْکَتًتْ، فَأَوْحَي اﷲُ إِلَيْهَا : لَا تَخْضَعِيْنَ، لَأُزَيِّنَنَّ رُکْنَيْکِ بِالْحَسَنِ وَ الْحُسَيْنِ، فَمَاسَتْ کَمَا تَمِيْسُ الْعُرُوْسُ فِي خِدْرِهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُ.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ایک مرتبہ جنت نے دوزخ پر فخر کیا اور کہا میں تم سے بہتر ہوں، دوزخ نے کہا : میں تم سے بہتر ہوں۔ جنت نے دوزخ سے پوچھا کس وجہ سے؟ دوزخ نے کہا : اس لئے کہ مجھ میں بڑے بڑے جابر حکمران فرعون اور نمرود ہیں۔ اس پر جنت خاموش ہو گئی، اﷲ تعالیٰ نے جنت کی طرف وحی کی اور فرمایا : تو عاجز و لاجواب نہ ہو، میں تیرے دو ستونوں کو حسن اور حسین کے ذریعے مزین کر دوں گا۔ پس جنت خوشی اور سرور سے ایسے شرما گئی جیسے دلہن شرماتی ہے۔‘‘ اس حدیث کو امام نسائی اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 45 : أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 7 / 148، الرقم : 7120.

7. فَصْلٌ فِي جَامِعِ صِفَاتِهِمَا وَ مَنَاقِبِهِمَا

( حسنین کریمین کی جامع صفات اور مناقب کا بیان)

257 / 46. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما قَالَ : کَانَ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم يُعَوِّذُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ وَ يَقُوْلُ : إِنَّ أَبَاکُمَا کَانَ يُعَوِّذُ بِهَا إِسْمَاعِيْلَ وَ إِسْحَاقَ : أَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اﷲِ التَّامَّة مِنْ کُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَة وَ مِنْ کُلِّ عَيْنٍ لَامَة. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَ أبُوْدَاوُدَ وَ ابْنُ ماجة.

’’حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حسن اور حسین علیہما السلام کے لئے (خصوصی طور پر) کلمات تعوذ کے ساتھ دم فرماتے تھے اور فرماتے کہ تمہارے جد امجد (ابراہیم علیہ السلام بھی) اپنے دونوں صاحبزادوں اسماعیل و اسحاق (علیھما السلام) کے لئے ان کلمات کے ساتھ تعوذ کرتے تھے : میں اللہ تعالیٰ کے کامل کلمات کے ذریعے ہر (وسوسہ اندازی کرنے والے) شیطان اور بلا سے اور ہر نظر بد سے پناہ مانگتا ہوں۔‘‘ اس حدیث کو امام بخاری، ابو داود اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 46 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الأنبياء، باب : يزفون النسلان في المشي 3 / 1233، الرقم : 3191، وأبوداود في السنن، کتاب : السنة، باب : في القرآن، 4 / 235، الرقم : 4737، و ابن ماجة في السنن، کتاب : الطب، باب : ماعوذ به النبي صلي الله عليه وآله وسلم و ما عوذ به، 2 / 1164، الرقم : 3525.

258 / 47. عَنِ الْمُسَيَبِ بْنِ نُجْبَة قَالَ : قَالَ عَلِيُّ بْنُ أبِيْ طَالِبٍ : قَالَ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم : إِنَّ کُلَّ نَبِيٍّ أُعْطِيَ سَبْعَة نُجَبَاءَ أَوْ نُقَبَاءَ، وَ أُعْطِيْتُ أنَا أرْبَعَة عَشَرَ. قُلْنَا : مَنْ هُمْ؟ قَالَ : أنَا وَ ابْنَايَ و جَعْفَرٌ وَ حَمْزَة وَ أبُوْبَکْرٍ وَ عُمَرُ وَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَ بِلَالٌ وَ سَلْمَانُ وَالْمِقْدَادُ وَ حُذَيْفَة وَ عَمَّارٌ وَ عَبْدُ اﷲِ بْنُ مَسْعُوْدٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ.

وَقَالَ أَبُوعِيْسِي : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ.

’’حضرت مسیب بن نجبہ رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہر نبی کو سات نجیب یا نقیب عطا کئے گئے جبکہ مجھے چودہ نقیب عطا کئے گئے۔ راوی کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ وہ کون ہیں؟ توحضرت علی رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں، میرے دونوں بیٹے، جعفر، حمزہ، ابوبکر، عمر، مصعب بن عمیر، بلال، سلمان، مقداد، حذیفہ، عمار اور عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنھم۔‘‘ اس حدیث کو امام ترمذی اور احمد نے روایت کیا ہے اور امام ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن ہے۔

الحديث رقم 47 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : المناقب، باب : مناقب أهل بيت النبي صلي الله عليه وآله وسلم، 5 / 662، الرقم : 3785، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 142، الرقم : 1205، والشيباني في الآحاد والمثاني، 1 / 189، الرقم : 244، والطبراني في المعجم الکبير، 6 / 215، الرقم : 6047.

259 / 48. عَنْ عَلِيٍّ رضي الله عنه قَالَ : الْحَسَنُ أشْبَهُ بِرَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم مَا بَيْنَ الصَّدْرِ إِلَي الرَّأسِ، وَالْحُسَيْنُ أشْبَهُ بِالنَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم مَا کَانَ أسْفَلَ مِنْ ذَلِکَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ.

وَقَالَ أَبُوعِيْسَي : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت حسن سینہ سے سر تک رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کامل شبیہ تھے اور حضرت حسین سینہ سے نیچے تک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کامل شبیہ تھے۔‘‘ اس حدیث کو امام ترمذی اور احمد نے روایت کیا ہے اور امام ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

الحديث رقم 48 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : المناقب، باب : مناقب الحسن و الحسين، 5 / 660، الرقم : 3779، و أحمد بن حنبل في المسند، 1 / 99، الرقم : 774، وابن حبان في الصحيح، 15 / 430، الرقم : 6974، والطيالسي في المسند، 1 / 91، الرقم : 130.

260 / 49. عَنْ أنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه قَالَ : دَخَلْتُ أَوْ رُبَّمَا دَخَلْتُ عَلَي رَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم وَالْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ يَتَقَلَّبَانِ عَلَي بَطْنِهِ، قَالَ : وَ يَقُوْلُ : رَيْحَانَتَيَ مِنْ هَذِهِ الأُمَّة. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوتا یا (فرمایا) اکثر اوقات حاضر ہوتا (اور دیکھتا کہ) حسن و حسین علیہما السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شکم مبارک پر لوٹ پوٹ ہو رہے ہوتے اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے ہوتے : یہ دونوں ہی تو میری امت کے پھول ہیں۔‘‘ اس حدیث کو امام نسائی نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 49 : أخرجه النسائي في السنن الکبري، 5 / 49، 150، الرقم : 8167، 8529.

261 / 50. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رضي الله عنه قَالَ : کَانَ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم يُصًلِّي فَإِذَا سَجَدَ وَثَبَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَي ظَهْرِهِ، فَإِذَا أَرَادُوْا أَنْ يَمْنَعُوْهُمَا أَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنْ دَعُوْهُمَا، فَلَمَّا صَلَّي وَضَعَهُمَا فِيْ حِجْرِهِ.

رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.

’’حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز ادا فرما رہے تھے، جب سجدے میں گئے تو حسنین کریمین علیہما السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت مبارک پر سوار ہو گئے، جب لوگوں نے انہیں روکنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو اشارہ فرمایا کہ انہیں چھوڑ دو یعنی سوار ہونے دو، پھر جب نماز ادا فرما چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں کو اپنی گود میں لے لیا۔‘‘ اس حدیث کو امام نسائی نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 50 : أخرجه النسائي في السنن الکبري، 5 / 50، الرقم : 8170.

262 / 51. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : نَحْنُ وَلَدُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ سَادَة أَهْلِ الْجَنَّة : أَنَا وَحَمْزَة وَعَلِيٌّ وَجَعْفَرٌ وَالْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ وَالْمَهْدِيُّ. رَوَاهُ ابْنُ ماجة.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہم حضرت عبدالمطلب کی اولاد اہل جنت کے سردار ہیں جن میں میں، حمزہ، علی، جعفر، حسن، حسین اور مہدی شامل ہیں۔‘‘ اس حدیث کو امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 51 : أخرجه ابن ماجة في السنن، کتاب : الفتن، باب : خروج المهدي، 2 / 1368، الرقم : 4087، والحاکم في المستدرک، 3 / 233، الرقم : 4940.

263 / 52. عَنْ أَبِي الْمَعْدِلِ عَطِيَة الطَّفَاوِيِّ عَنْ أَبِيْهِ أَنَّ أُمَّ سَلَمَة حَدَّثَتْهُ قَالَتْ : بَيْنَمَا رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم فِي بَيْتِي يَوْمًا إِذْ قَالَ الْخَادِمُ : إِنَّ عَلِيًّا وَ فَاطِمَة بِالسَّدَّة، قَالًتْ : فَقَالَ لِي : قُوْمِي فَتَنَحِّي لِي عَنْ أَهْلِ بَيْتِي، قَالَتْ : قُمْتُ فَتَنَحَّيْتُ فِي الْبَيْتِ قَرِيْبًا، فَدَخَلَ عَلِيٌّ وَ فَاطِمَة وَ مَعَهُمَا الْحَسَنُ وَ الْحُسَيْنُ وَ هُمَا صَبِيَانِ صَغِيْرَانِ فَأَخَذَ الصَّبِيَيْنِ فَوَضَعَهُمَا فِي حِجْرِهِ فَقَبَّلَهُمَا. رَوَاهُ أحْمَدُ.

’’حضرت ابومعدل عطیہ طفاوی رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہیں ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا نے بیان کیا کہ ایک دن جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر تشریف فرما تھے ایک خادم نے عرض کیا : دروازے پر علی اور فاطمہ علیہما السلام آئے ہیں۔ ام سلمہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم فرمایا : ایک طرف ہو جاؤ اور مجھے اپنے اہل بیت سے ملنے دو۔ ام سلمہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں : میں پاس ہی گھر میں ایک طرف ہٹ کر کھڑی ہو گئی، پس علی، فاطمہ اور حسنین کریمین علیہم السلام داخل ہوئے اس وقت وہ کم سن تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں بچوں کو پکڑ کر گود میں بٹھا لیا اور دونوں کو چومنے لگے۔‘‘ اس حدیث کو امام احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 52 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 6 / 296، الرقم : 26582.

264 / 53. عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ رضي الله عنه قَالَ : مَرَّ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم بِالْحَسَنِ وَ الْحُسَيْنِ عليهما السلام وَ هُوَ حَامِلُهُمَا عَلَي مَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ الْأنْصَارِ، فَقَالُوْا : يَا رَسُوْلَ اﷲِ، نِعْمَتِ الْمَطِيَة قَالَ : وَ نِعْمَ الرَّاکِبَانِ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَة.

’’حضرت ابو جعفر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حسنین کریمین علیہما السلام کو اٹھائے ہوئے انصار کی ایک مجلس سے گزرے تو انہوں نے کہا : یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیک وسلم! کیا خوب سواری ہے! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : سوار بھی کیا خوب ہیں۔‘‘ اس حدیث کو امام ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 53 : أخرجه ابن أبي شيبه في المصنف، 6 / 380، الرقم : 32185.

265 / 54. عَنْ أُمِّ سَلَمَة رضي اﷲ عنها قَالَتْ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : أ لَا لَا يَحِلُّ هَذَا الْمَسْجِدُ لِجَنْبٍ وَ لَا لِحَائِضٍ إِلَّا لِرَسُوْلِ اﷲِ وَ عَلِيٍّ وَ فَاطِمَة وَ الْحَسَنِ وَ الْحُسَيْنِ أ لَا قَدْ بَيَنْتُ لَکُمُ الْأسْمَاءَ أنْ لَا تَضِلُّوْا.

رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ.

’’حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : خبردار! یہ مسجد کسی جنبی اور حائضہ کے لئے حلال نہیں، سوائے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیہم الصلوۃ والسلام کے۔ ان برگزیدہ ہستیوں کے علاوہ کسی کے لئے مسجد نبوی میں حالت جنابت میں مسجد میں آنا جائز نہیں، آگاہ ہو جاؤ! میں نے تمہیں نام بتا دیئے ہیں تاکہ تم گمراہ نہ ہو جاؤ۔‘‘ اس حدیث کو امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 54 : أخرجه البيهقي في السنن الکبري، 7 / 65، الرقم : 13178، 13179.

266 / 55. عَنْ عَلِيٍّ رضي الله عنه، قَالَ : مَنَّ سَرَّهُ أنْ يَنْظُرَ إِلَي أشْبَهِ النَّاسِ بِرَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم مَا بَيْنَ عُنُقِهِ إِلَي وَجْهِهِ فَلْيَنْظُرْ إِلَي الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَ مَنَّ سَرَّهَ أنْ يَنْظُرَ إِلَي أشْبَهِ النَّاسِ بِرَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم مَا بَيْنَ عُنُقِهِ إِلَي کَعْبِهِ خَلْقًا وَ لَوْنًا فَلْيَنْظُرْ إِلَي الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ. رَوَاهُ الطَّبَرًانِيُّ.

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جس شخص کی یہ خواہش ہو کہ وہ لوگوں میں ایسی ہستی کو دیکھے جو گردن سے چہرے تک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے کامل شبیہ ہو تو وہ حضرت حسن بن علی کو دیکھ لے اور جس شخص کی یہ خواہش ہو کہ وہ لوگوں میں ایسی ہستی کو دیکھے جو گردن سے ٹخنے تک رنگت اور صورت دونوں میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے کامل شبیہ ہو تو وہ حضرت حسین بن علی کو دیکھ لے۔‘‘ اس حدیث کو امام طبرانی نے بیان کیا ہے۔

الحديث رقم 55 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 3 / 95، الرقم : 2768، 2759.

267 / 56. عَنْ أبِي رَافِعٍ رضي الله عنه قَالَ : جَاءَتْ فَاطِمَة بِنْتُ رَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم بِحَسَنٍ وَ حُسَيْنٍ إِلَي رَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم فِي مَرَضِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيْهِ فَقَالَتْ : هَذَانِ ابْنَاکَ فَوَرِّثْهُمَا شَيْئًا فَقَالَ لَهَا : أمَّا حَسَنٌ فَإِنَّ لَهُ ثِبَاتِي وَ سُؤْدَدِي، وَ أمَّا حُسَيْنٌ فَإِنَّ لَهُ حُزَامَتِي وَجُوْدِي. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

’’حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ سلام اﷲ علیہا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض وصال میں اپنے دونوں بیٹوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں لائیں اور عرض گزار ہوئیں کہ یہ آپ کے بیٹے ہیں انہیں کچھ وراثت میں عطا فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : حسن کے لئے میری ثابت قدمی اور سرداری کی وراثت ہے اور حسین کے لئے میری طاقت و سخاوت کی وراثت۔‘‘ اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 56 : أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 6 / 222.

268 / 57. عَنْ فَاطِمَة بِنْتِ رَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : أنَّهَا أتَتْ بِالْحَسَنِ وَ الْحُسَيْنِ أبَاهَا رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم فِي شِکْوَتِهِ الَّتِي مَاتَ فِيْهَا فَقَالَتْ : تُوَرِّثُهُمَا يَا رَسُوْلَ اﷲِ، شَيْئًا فَقَالَ : أمَّا الْحَسَنُ فَلَهُ هَيْبَتِي وَ سُؤْدَدِي، وَأمَّا الْحُسَيْنُ فَلَهُ جُرْأتِي وَجُوْدِي. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

’’سیدہ فاطمہ سلام اﷲ علیہا سے روایت ہے کہ وہ اپنے بابا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرضِ وصال کے دوران حسن اور حسین کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں لائیں اور عرض کیا : یا رسول اﷲ! انہیں اپنی وراثت میں سے کچھ عطا فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : حسن میری ہیبت و سرداری کا وارث ہے اور حسین میری جرات و سخاوت کا۔‘‘ اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 57 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 22 / 423، الرقم : 1041.

269 / 58. عَنْ سَلْمَانَ رضي الله عنه قَالَ : کُنَّا حَوْلَ النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم فَجَاءَتْ أُمُّ أيْمَنَ فَقَالَتْ : يَا رَسُوْلَ اﷲِ صلي اﷲ عليک وسلم، لَقَدْ ضَلَّ الْحَسَنُ وَ الْحُسَيْنُ، قَالَ : وَ ذَلِکَ رَادُ النَّهَارِ يَقُوْلُ ارْتِفَاعُ النَّهَارِ. فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : قُوْمُوْا فَاطْلُبُوْا ابْنَيَّ. قَالَ : وَ أخَذَ کُلُّ رَجُلٍ تُجَاهَ وَجْهِهِ، وَ أخَذْتُ نَحْوَ النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم، فَلَمْ يَزَلْ حَتَّي أتَي سَفْحَ جَبَلٍ وَ إِذَا الْحَسَنُ وَ الْحُسَيْنُ مُلْتَزِقٌ کُلٌّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ، وَ إِذَا شُجَاعٌ قَائِمٌ عَلَي ذَنْبِهِ يَخْرُجُ مِنْ فِيْهِ شِبْهُ النَّارِ، فَأسْرَعَ إِلَيْهِ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم، فَالْتَفَتَ مُخَاطِبًا لِرَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم، ثُمَّ انْسَابَ فَدَخَلَ بَعْضُ الْأحْجِرَة، ثُمَّ أتَاهُمَا فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَ مَسَحَ وَجْهَهُمَا وَ قَالَ : بِأَبِي وَ أُمِّي أَنْتُمَا مَا أَکْرَمَکُمَا عَلَي اﷲِ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُِّ.

’’سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے۔ حضرت ام ایمن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا : حسن و حسین علیہما السلام گم ہو گئے ہیں۔ راوی کہتے ہیں دن خوب نکلا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : چلو میرے بیٹوں کو تلاش کرو، راوی کہتا ہے ہر ایک نے اپنا اپنا راستہ لیا اور میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل پڑا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلسل چلتے رہے حتی کہ پہاڑ کے دامن تک پہنچ گئے (دیکھا کہ) حسن اور حسین علیہما السلام ایک دوسرے کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں اور ایک اژدھا اپنی دم پر کھڑا ہے اور اس کے منہ سے آگ کے شعلے نکل رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی طرف تیزی سے بڑھے تو وہ اژدھا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف متوجہ ہو کر سکڑ گیا پھر کھسک کر پتھروں میں چھپ گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حسنین کریمین علیہما السلام کے پاس تشریف لائے اور دونوں کو الگ الگ کیا اور ان کے چہروں کو پونچھا اور فرمایا : میرے ماں باپ تم پر قربان، تم اﷲ کے ہاں کتنی عزت والے ہو۔‘‘ اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 58 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 3 / 65، الرقم : 2677.

270 / 59. عَنْ جَابِرٍ رضي الله عنه قَالَ : دَخَلْتُ عَلَي النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم وَ هُوَ يَمْشِي عَلَي أَرْبَعَة، وَ عَلَي ظَهْرِهِ الْحَسَنُ وَ الْحُسَيْنُ عليهما السلام، وَ هُوَ يَقُوْلُ : نِعْمَ الْجَمَلُ جَمَلُکُمَا، وَ نِعْمَ الْعَدْلَانِ أَنْتُمَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

’’حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار ٹانگوں (گھٹنوں اور دونوں ہاتھوں کے بل) پر چل رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت مبارک پر حسنین کریمین علیہما السلام سوار تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے : تمہارا اونٹ کیا خوب ہے اور تم دونوں کیا خوب سوار ہو۔‘‘ اس حدیث کو طبرانی نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 59 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 3 / 52، الرقم : 661.

271 / 60. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما رَفَعَهُ : أَنَا شَجَرَةٌ، وَ فَاطِمَة حَمْلُهَا، وَ عَلِيٌّ لِقَاحُهَا، وَالْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ ثَمْرَتُهَا، وَالْمُحِبُّوْنَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَرَقُهَا، مِنَ الْجَنَّة حَقًّا حَقًّا. رَوَاهُ الدَّيْلَمِيُّ.

’’حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے مرفوعاً حدیث مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں درخت ہوں، فاطمہ اس کی ٹہنی ہے، علی اس کا شگوفہ اور حسن و حسین اس کا پھل ہیں اور اہل بیت سے محبت کرنے والے اس کے پتے ہیں، یہ سب جنت میں ہوں گے، یہ حق ہے حق ہے۔‘‘ اس حدیث کو امام دیلمی نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 60 : أخرجه الديلمي في مسند الفرودس، 1 / 52، الرقم : 135.

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved