کتاب التوحید (جلد اول)

تفصیلی فہرست

پیش لفظ

مبادیاتِ عقیدہِ توحید

باب اَوّل : توحید اور تصورِ شرک کی بنیادی توضیحات

توحید کا لغوی معنی

توحید کا شرعی و اصطلاحی مفہوم

شرک کا لُغوی معنی

شرک کا شرعی اور اصطلاحی مفہوم

توحید و شرک کے باب میں چند اہم نکات

باب دوم : عقیدہ توحید کے ارکانِ سبعہ

(سورہِ اخلاص کی روشنی میں)

پہلا رکن: واسطہِ رسالت

عقیدہ توحید کے لئے واسطہِ رسالت کی ناگزیریت

  1. ’’قل‘‘ عنوانِ رسالت ہے اور ’’هُوَاﷲ‘‘ عنوانِ توحید
  2. وحدت، وحدانیت اور توحید کا مفہوم
  3. واحد اور توحید کے درمیان معنوی ربط
  4. وحدت اور توحید میں فرق
  5. لوگوں نے مظاہرِ فطرت کو معبود بنا لیا
  6. ذاتی علم اورتحقیق کی بناء پر خالق کی پہچان ایمان نہیں
  7. پیغمبر کے واسطے سے خالق کی پہچان ایمان ہے
  8. عقیدہِ توحید خود وسیلہِ رسالت کا طالب ہے
  9. ایمان ذاتی علم کی بجائے خبرِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر انحصار کا نام ہے
  10. اقرارِ توحید سے قبل صدقِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اقرار
  11. مخبر کا نام رسول اور خبر کا نام توحید ہے
  12. ذاتِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : عقیدہِ توحید پر قطعی شہادت ہے
  13. توحید پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گواہی اصالۃً ہے
  14. توحید پر امتِ مسلمہ کی گواہی نیابۃً ہے
  15. حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شاہدِ خالق و مخلوق ہیں
  16. حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شاہدِ انبیاء و امم ہیں
  17. توحید کے باب میں واسطہِ نبوت کا انکار کفر ہے

دوسرا رکن : ذاتِ حق کا فوق الادراک ہونا

1. ضمیرِ غائب ’’هُوَ‘‘ کے استعمال کی حکمتیں

2. ’’هُوَ اﷲ‘‘ عقل کے ادراک سے بلند ہے

3. ’’هُوَ اﷲ‘‘ حواسِ باطنی کے ادراک سے بھی بلند ہے

4. ’’هو اﷲ‘‘ کی معرفت وجدان کے ادراک سے بھی بلند ہے

5. ’’هُوَ‘‘ کی معرفت کے لئے ’’ھذا‘‘ کو بھیجا گیا

6. ’’هُوَ‘‘ ادراک کا نہیں ایمان بالغیب کا موضوع ہے

7. بیانِ توحید میں اسمِ ذات کے استعمال کی حکمت

تیسرا رکن : اَحَدِیت (اللہ کا ایک ہونا)

مذاہبِ عالم میں اللہ کی وحدانیت کا تصور

چوتھا رکن: صَمَدِیت (اللہ کا بے نیاز اور سب پر فائق ہونا)

خالق اور مخلوق کی صفاتِ مشترکہ

مشترک اور غیر مشترک صفات کی ماہیت میں فرق

پانچواں رکن: لَا وَالِدِیت (کسی کا والد نہ ہونا)

چھٹا رکن: لَا وَلَدِیت (کسی کی اولاد نہ ہونا)

ساتواں رکن : لَاکُفُوِیت (کسی کا اُسکا ہمسر و ہم رتبہ نہ ہونا)

 توحید اور شرک کی متقابل اقسام

باب سوم : متقابل اقسام کا اجمالی تعارف

توحید کی اقسام

شرک کی اقسام

ثبوتِ شرک کے لئے نفئ توحید کی بالصراحت ضرورت ہوتی ہے

مبادیاتِ الہٰیات کو بغور سمجھنے کی ضرورت ہے

تضاد کے تعیّن کا منہاج

توحید اور شرک کے تعیّن کا منہاج

توحید اور شرک میں بُعد المشرقین

باب چہارُم : توحید فی الرّبوبیت اور شرک فی الربوبیت

توحید فی الربوبیت کا مفہوم

شرک فی الربوبیت کا مفہوم

توحید فی الرّبوبیت اور شرک فی الربوبیت کی اقسام

1۔ توحید فی الذات شرک فی الذات

2۔ توحید فی الخلق و الایجاد

. شرک فی الخلق و الایجاد

1۔ قرآن میں اعجازِ مسیحائی کا جامع بیان

2۔ انبیاء و اولیاء ’’باذْنِ اﷲ‘‘ مختار ہوتے ہیں

3۔ فعلِ الٰہی کی نسبت بھی اپنی طرف کرنا شرک نہیں

4۔ نوازشاتِ الہٰیّہ کو اﷲ تعالیٰ کی عطا کہنا شرک نہیں

5۔ معنی و اطلاق کی تبدیلی سے شرک باقی نہیں رہتا

باب پنجم : توحید فی ا لالوہیت اور شرک فی الالوہیت

فصل اَوّل: توحید فی العبادت

جمہور مفسرین کا نقطہ نظر

مشرکین کے شرک کی اصل وجہ

مشرکین کے جھوٹ کی حقیقت

.شرک فی العبادت

1۔ عبادت صرف اللہ کے لئے ہے

2۔ سجدہ صرف اﷲ کے لئے ہے

3۔ غیر اللہ کو بطورِ معبود پکارنا شرک ہے

4۔ شعائر اللہ کی تعظیم کرنا عینِ توحید ہے

5۔ وسیلہ اختیار کرنا خود ردِّ شرک ہے

فصل دوم: توحید فی القدرت اور شرک فی القدرت

توحید فی القدرت کا قرآنی تصور

1۔ اﷲ تعالیٰ زمین و آسمان کی ہر چیز کا مالک

2۔ کائنات کی تخلیق اور نظام پر قدرتِ کاملہ کا مالک ہے

3۔ اﷲ تعالیٰ کائنات کے خاتمے پر قادر ہے

4۔ اﷲ تعالیٰ زندگی اور موت کا خالق و مالک ہے

5۔ بصارت و سماعت کا حقیقی اختیار اسی کے پاس ہے

.شرک فی القدرت

1۔ تغیرِ روز و شب کی قدرت

2۔ اللہ جل مجدہ کے سوا کوئی رازقِ حقیقی نہیں

افراد اور وسائل کو ذریعہ اور سبب ماننا شرک نہیں

3۔ نفع و نقصان کا مالکِ حقیقی صرف اﷲ تعالیٰ ہے ’’لَا أملِکُ‘‘ میں قدرت بالذات کی نفی ہے

4۔ سرچشمہِ اختیار و اقتدار اﷲ تعالیٰ کی ذات ہے

5۔ ہدایت و گمراہی کا مالک صرف اﷲ تعالیٰ ہے مگر سبب کئی ہیں

6۔ مخلوق کو مجازاً مالک و مختار جاننا شرک نہیں

مجازی معنی میں کسی کو مددگار و کارساز کہنا شرک نہیں

7۔ تکوینی امور میں انبیاء و اولیاء ماذون من اﷲ ہوتے ہیں

8۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دائرئہ ماذونیت میں مختارِ کُل ہیں

9۔ اختیار کی تفویض سنّتِ الہٰیہ ہے

  1. حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا احکامِ منصوصہ میں استثناء کا اختیار
  2. حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غیر منصوص احکام میں تشریعی اختیار

فصل سوم: توحید فی الدعا اور شرک فی الدعا

توحید فی الدعا

قرانِ حکیم میں لفظِ دعا کے معانی

  1. دعا بمعنی دعوت
  2. دعا بمعنی التجا
  3. دعا بمعنی عبادت

دُعا بمعنی عبادت: جمہور مفسرین کی صراحت

.شرک فی الدُعا

فصل چہارم: توحید فی العلم اور شرک فی العلم

. توحید فی العلم

اللہ تعالیٰ عالم الغیب اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مطلع علی الغیب ہیں

نبوّت اور علم غیب کا تعلق

اطلاع علی الغیب کا اثبات

رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غیب بتانے میں بخل نہیں فرماتے

نبی کا بنیادی فریضہ ہی ’’ایمان بالغیب‘‘ کی دعوت ہے

.شرک فی العلم

آیت الکرسی کی روشنی میں ایک اشکال کا ازالہ

1۔ علم الشہادت

2۔ علم الغیب

علمِ غیب کی طرح علم الشھادۃ بھی اللہ تعالیٰ کی شان ہے

علمِ غیب احادیث کی روشنی میں

باب ششم: توحید فی الاسماء و الصفات اور شرک فی الاسماء و الصفات

1۔ توحید فی الاسماء و الصفات شرک فی الاسماء و الصفات

2۔ توحید فی الافعال

اﷲ تعالیٰ کے افعالِ خاصہ کا کسی اور کے لئے اثبات شرک ہے

.شرک فی الافعال

شرک اور اس کا محل

1۔ توحید اور شرک کے درمیان کوئی اور درجہ نہیں ہے

2۔ تقریب میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عین توحید ہے شرک نہیں

3۔ ایک ممکنہ اعتراض اور اس کا جواب

باب ہفتم : توحید فی التحریم اور شرک فی التحریم

توحید فی التحریم کا مفہوم

توحید فی التحریم کی اقسام

فصل اوّل: توحید فی التحریمات اور شرک فی التحریمات

حرمتِ تحریمات کا وجوب

مکہ کو ابراہیم علیہ السلام اور مدینہ کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حرم بنایا

.شرک فی التحریم

شعائر اﷲ کی حرمت کا قرآنی مفہوم

احترامات اور تحریمات میں فرق

  1. یومِ تخلیقِ آدمں کا احترام
  2. یومِ نجاتِ نوحں کا احترام
  3. یومِ غلافِ کعبہ کا احترام
  4. یومِ ولادتِ یحییٰں کا احترام
  5. ولادتِ موسیٰ علیہ السلام کا احترام
  6. ولادتِ مریم علیہا السلامکا احترام
  7. یومِ ولادتِ عیسیٰں کا احترام
  8. مولدِ عیسیٰ علیہ السلام ہونے کے سبب بیتِ لحم کا احترام
  9. یومِ نزولِ مائدہ کا احترام
  10. یومِ ولادتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا احترام
  11. حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے یوم میلاد کے احترام کی تخصیص فرمائی
  12. آیت ’’اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ‘‘ کے یومِ نزول کا احترام

فصل دوم: توحید فی النذور اور شرک فی النذور

توحید فی النذور کا مفہوم

.شرک فی النذور

1۔ خیرات و صدقات اور عمل صالح کی نذر ماننا شرک نہیں

2۔ نذر میں شرک کا وقوع کب ہوتا ہے؟

نیک عمل کا کسی کے نام انتساب

مطلقاً تقرب الیٰ الغیر شرک فی النذر نہیںہے

ذبیحہ کے ذریعے ایصالِ ثواب کا تصور

جانور کی جان کا نذرانہ بھی اللہ تعالیٰ کے لئے ہوتا ہے

نذر کو اولیاء کرام کی طرف مجازاً منسوب کرنا جائز ہے

جمہور مسلمین اور کفار و مشرکین کا اعتقاد ایک جیسا نہیں

اہلِ ایمان اور کفار و مشرکین کے اعتقاد اور اعمال میں فرق

فصل سوم: توحید فی الحلف اور شرک فی الحلف

توحید فی الحلف کا معنی و مفہوم

شرک فی الحلف

قرآن اور تعظیمی قسمیں

1۔ نورِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قسم

2۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قلبِ اطہر کی قسم

3۔ ذاتِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قسم

4۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کی قسم

5۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آباء و اجداد کی قسم

6۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک جائے سکونت کی قسم

7۔ چہرہ انور اور گیسوئے عنبرین کی قسم

8۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل شدہ کتاب کی قسم

. حلفِ تعظیمی جائز ہے

باب ہشتم : توحید فی الاحکام اور شرک فی الاحکام

. تحلیل و تحریم اﷲ تعالیٰ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مشترکہ حق ہے

. حرام کی حدود رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے متعین فرمائیں

. شرک فی الاحکام

.امر و نہی میں اللہ تعالیٰ اور مخلوق دونوں کا اشتراک

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم اللہ تعالیٰ ہی کا حکم ہے

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احکام میں اللہ تعالیٰ کے قائم مقام ہیں (علامہ ابن تیمیہ کا مؤقف)

خ تصورِ شرک اور چند اہم توضیحات

باب نہم : توحید و شرک اور حقیقت و مجاز کا قرآنی تصوّر

1۔ حقیقت و مجاز کے لئے بعض الفاظ کا استعمال

2۔ عبادت میں حقیقی اور مجازی کی تقسیم جائز نہیں

.نظامِ زندگی باہمی مدد و استعانت کے سہارے چل رہا ہے

.ملائکہ کو بھی نیابت کے امور سونپے گئے

3۔ حقیقت و مجاز کے اطلاق کی ممکنہ صورتیں

4۔ حقیقت و مجاز کا اطلاق قرآن حکیم کی روشنی میں

  1. لفظِ ’’خَلْق‘‘ کا استعمال اﷲ تعالیٰ اور مخلوق کے لئے
  2. لفظ ’’وَهَّاب‘‘ کا حقیقی اور مجازی استعمال
  3. لفظِ ’’رَب‘‘ کا حقیقی اور مجازی استعمال
  4. ’’ایمان‘‘ میں زیادتی کی نسبت آیاتِ الٰہی کی طرف
  5. حقیقتًا ہادی اور مضل ذاتِ باری تعالیٰ ہے
  6. فعلِ ’’يَجْعَلُ‘‘ کی نسبت یومِ حساب کی طرف
  7. عام معاشرتی زندگی میں حقیقت اور مجاز کا استعمال
  8. افعال و اعمال میں نسبتِ مجازی و حقیقی کا لحاظ
  9. بندوں کی طرف منسوب اکتسابِ افعال کی نسبت
  10. لفظًا و معنًا مفعول کی جدا جدا نسبت
  11. اﷲ اور مخلوق سے منسوب امورِ مشترکہ
  12. ایک فعل کی بیک وقت خالق و مخلوق دونوں کی طرف نسبت
  13. مختلف الوجوہ فعل کے استعمال میں کوئی تناقض نہیں
  14. واسطہ کو مؤثرِ حقیقی اور خالق جاننا کفر ہے
  15. واسطہ کے جواز پر سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم
  16. ترک مجاز سے معانئ قرآن میں تطبیق نہیں رہتی
  17. معانی قرآن کی تطبیق میں احتیاط

کسی کو نفع و نقصان کا سبب ماننا شرک نہیں

باب دہم: توحید و شرک اور صفات و اَفعال میں اِشتراک

اسماء و صفات میں اشتراک کی مثالیں

  1. اَلشَّفَاعَةُ

  2. عِلمُ الْغَيْبِ

  3. اَلْهِدَايَةُ

  4. اَلضَّلَالَةُ

  5. اَلْعِزَّةُ

  6. اَلرَّؤُوْفُ الرَّحِيْمُ

  7. اَلْحَقُّ الْمُبِيْنُ

  8. اَلنُّوْرُ

  9. اَلشَّهِيْد

  10. اَلْکَرِيْمُ

  11. اَلْعَظِيْمُ

  12. اَلْخَبِيْرُ

  13. اَلشَّکُوْرُ

  14. اَلْعَلِيْمُ

  15. اَلْمُعَلِّمُ وَ الْعَلَّامُ

  16. اَلْوَلِیُّ وَ الْمَوْلٰی

  17. اَلْعَفُوُّ

  18. اَلْمُؤمِنُ

  19. اَلْمُهَيْمِنُ

  20. اَلْمُبَشِّرُ

  21. اَلْفَتَّاحُ

  22. اَ لْاَوَّلُ وَالْآخِرُ

  23. اَلْقَوِیُّ

  24. اَلْمَحْمُوْدُ

  25. اَلْمُزَکِّیُ

  26. اَلسَّمِيْعُ

  27. البَصِيْرُ

صفاتِ مشترکہ کی حقیقت

افعال میں اشتراک کی مثالیں

اللہ تعالیٰ اور حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفاتِ مشترکہ سے متعلق علامہ ابنِ تیمیہ کا مؤقف

باب یازدہم : توحید کے تناظر میں

مِنْ دُوْنِ اﷲ کا صحیح مفہوم

.مِنْ دُوْنِ اﷲ کی حقیقی مراد

1۔ باطل عقائد و نظریات

2۔ معبودانِ باطلہ

3۔ اﷲ تعالیٰ کے سوا ہر ایک سے الُوہیت کی نفی

4۔ معبودانِ باطلہ کی بے وقعتی

5۔ کفار و مشرکین سے خطاب

6۔ معبودانِ باطلہ کے ولی اور شفیع ہونے کا انکار

.انبیاء و اولیاء ’’مِنْ دُوْنِ اﷲ‘‘ کا مصداق نہیں

.آیات کا غیر موزوں اطلاق خوارج کا وطیرہ ہے مِنْ دُوْنِ اﷲ کا درست اطلاق

.معبودانِ باطلہ ولی اور نصیر نہیں جبکہ صالحین ولی ہوتے ہیں

.انبیاء و اولیاء اﷲ کے مقابلے میں ’’مِنْ دُوْنِ اﷲ‘‘ کی بے وقعتی پر مشتمل آیاتِ قرآنی کا تقابلی مطالعہ

باب دوازدہم : توحید کے تناظر میں

وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اﷲ کا صحیح مفہوم

1. ’’أُهِلَّ‘‘ کا لغوی معنی و مفہوم

2. أُهِلَّ کا صحیح اطلاق

(1) اھلال : پہلی رات کا چاند دیکھ کر اچانک آواز بلند کرنا

(2) اھلال: عین پیدائش کے وقت بچے کا آواز بلند کرنا

(3) اھلال: عین وقتِ ذبح آواز کو بلند کرنا

(4) اھلال: خاص مواقع پر آواز بلند کرنا

(5) اھلال : تلبیہ پڑھتے ہوئے آواز بلند کرنا

3. وَمَا أُهِلَّ بهِ لِغَيْرِ اﷲ کا معنی ائمہِ حدیث کی نظر میں

4. وَمَا أُهِلَّ بهِ لِغَيْرِ اﷲ کا معنی ائمہِ تفسیر کی نظر میں

أُهِلَّ لِغَيْرِ اﷲِ بِهِ کی درست تفسیر

لفظ أَهِلَّة سے استشہاد

5۔ غیر اﷲ کے نام پر بطورِ عبادت ذبح کرنا حرام ہے وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اﷲ اور وَ مَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ کے اطلاق میں فرق

6۔ صدقات و خیرات ذرائعِ ایصالِ ثواب ہیں ’’وَمَا اُھِلَّ لِغَيْرِ اﷲ‘‘ میں شامل نہیں

(1) کسی کی طرف سے نفل نماز ادا کرنا

(2) کسی کی طرف سے روزے رکھنا

(3) کسی کی طرف سے حج ادا کرنا

(4) کسی کی طرف پانی کا کنواں برائے ایصالِ ثواب منسوب کرنا

7۔ تَقَرُّب لِغَیرِ اﷲ والی نذر حرام ہے

8۔ اعمالِ صالحہ اور خیرات کے لئے ایّام کا تعین

(ا) احادیث مبارکہ سے نفلی اعمال کے لئے دن کے تعین کا ثبوت

(1) نفلی عبادت کے لئے جگہ اور دن کا تعین

(2) نفلی روزہ کے لئے پیر اور جمعرات کا تعین

(3) کثرتِ درود و سلام کے لئے جمعۃ المبارک کی تخصیص

(4) سفر کے لئے جمعرات کے دن کی تخصیص

(5) وعظ و نصیحت کے لئے دن کا تعیّن

باب سیزدہم : تعظیم اور عبادت میں فرق

فصل اَوّل: تعظیم اور عبادت کا مفہوم

تعظیم کا لغوی معنی و مفہوم

تعظیم کا شرعی معنی و مفہوم

تعظیم کے اطلاقات

تعظیم کی اَقسام

اِنتہائی تعظیم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حق ہے

تعظیمِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم توحیدِ باری تعالیٰ سے متصادم نہیں

تعظیمِ خداوندی اور تعظیمِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حقیقتِ واحدہ ہیں

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے نائب ہیں (ابنِ تیمیہ کا عقیدہ)

ذکرِ الٰہی کی قبولیت بھی تعظیمِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشروط ہے

اَدب و تعظیمِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم... ایک نازک اِیمانی امتحان

شعائر اﷲ کی تعظیم، اﷲ تعالیٰ کی عبادت اور توحید قرار پائی

منسوب جانور کے مقابلے میں اولیاء اللہ کی تعظیم کا مقام

عبادت اور تعظیم میں فرق

عبادت کا معنی و مفہوم

عبادت: عجز و نیاز کی اِنتہائی کیفیت اور تعظیم کی آخری حد ہے

ہر تعظیم عبادت نہیں

زمانہ جاہلیت میں قبر پرستی کی حقیقت

شرعاً تعظیم کے جائز اور واجب طریقے

فصل دوم: تعظیم بالمحبت اور اس کی اقسام

محبت کا لغوی معنی و مفہوم

محبت کا اصطلاحی مفہوم

محبت کی اقسام

1۔ محبتِ واجبہ

2۔ محبتِ محمودہ

3۔ محبتِ محرّمہ

4۔ محبتِ مذمومہ

فصل سوم: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تعظیم بالمحبت کی مثالیں

تعظیم و توقیرِ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور توحیدِ باری تعالیٰ

ذاتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم کے عملی مظاہر

1۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر بے انتہاء تعظیم کے مختلف مظاہر

2۔ دورانِ نماز انتہا درجہ کی محبت و تعظیمِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

3۔ تعظیمِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کعبہ سے توجہ ہٹانا، ناقضِ صلوٰۃ نہیں

4۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی جان سے عزیز جاننا تکمیلِ ایمان کی سند

5۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بغیر طوافِ کعبہ بھی گوارا نہیں

6۔ اطاعتِ علی ص اور معجزہِ ردّ شمس

7۔ معیارِ نجات محض اعمال نہیں

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منسوب اشیاء کی تعظیم

1۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسمِ مبارک کی تعظیم

2۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذکرِ مبارک کی تعظیم

3۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتِ طیبہ اور حدیثِ مبارکہ کی تعظیم

4۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موئے مبارک کی تعظیم

5۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پسینہ مبارک کی تعظیم

6۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نعلینِ مبارک کی تعظیم

7۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منبر مبارک کی تعظیم

8۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آثارِ مبارک کی تعظیم

9۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقدس شہرِ اِقامت کی تعظیم

10۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ انور کی تعظیم

تعظیمِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم استغراق فی التوحید کے منافی نہیں

فصل چہارُم: تعظیم بالقیام

قیام کا لغوی معنی و مفہوم

قیام کا شرعی معنی و مفہوم

کیا ہر قیام عبادت ہے ؟

از روئے سنت قیام کی جائز اقسام

  1. قیامِ اِستقبال
  2. قیامِ محبت
  3. قیامِ فرحت
  4. قیامِ تعظیم
  5. قیامِ اکرامِ انسانی
  6. قیامِ ذکر
  7. قیامِ صلوٰۃ و سلام

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے صحابہ کے تعظیماً قیام کا معمول

نماز اﷲ کے لئے اور اقامت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے

محافلِ میلاد میں قیام، استقبال کے لئے نہیں تعظیماً ہے

ممانعتِ قیام کے اسباب

اباحتِ قیام کے اسباب

فصل پنجم: تعظیم بالتقبیل

تقبیل کا لغوی معنی و مفہوم

تقبیل کا شرعی معنی و مفہوم

تقبیل ہے ہی مخلوق کے لئے

اَقسامِ تقبیل

تعظیم بالتقبیل ہرگز منافئ توحید نہیں

فصل ششم: تعظیم بخلع النعال

  1. حضرت موسیٰ علیہ السلام کو وادئ سینا میں جوتے اُتارنے کا حکم
  2. قبرستان کی تعظیم میں جوتے اتارنے کا حکم
  3. کسی متبرک مقام کی تعظیم میں جوتے اتار کر چلنا جائز ہے

فصل ہفتم: بعض شرعی تعظیمات

  1. تعظیمِ قرآن
  2. تعظیمِ حدیث
  3. تعظیمِ اہلِ بیتِ اطہار ث
  4. تعظیمِ صحابہ کرام ث
  5. تعظیمِ اَولیاء اﷲ
  6. تعظیمِ اکابرین و مشائخ
  7. تعظیمِ والدین
  8. تعظیمِ شہورِ مقدسہ
  9. تعظیمِ ایامِ مقدسہ
  10. تعظیمِ اماکنِ مقدسہ

فصل ہشتم: بعض ممنوع تعظیمات

1۔ سجدہِ تعظیمی کی ممانعت

عبادت کی نیت کے بغیر تعظیم و تکریم شرک نہیں

تعظیم و اکرامِ آدم علیہ السلام کے لئے فرشتوں کو سجدہ کا حکم

ابلیس کے خود ساختہ تصورِ توحید کا انجام

انسانی تاریخ کا پہلا جرم شرک نہیں... اہانتِ نبوت تھا

برادرانِ یوسف علیہ السلام کا سجدہِ تعظیمی

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور سجدہِ تعظیمی کی خواہش

2۔ مزارات کے طواف اور من گھڑت تعظیمات

3۔ غیر شرعی حلف کا احترام منع ہے

4۔ ایصالِ ثواب اور نذر و نیاز میں خود ساختہ تعظیمات

مآخذ و مراجع

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved