عقیدہ شفاعت: احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں

باب یک و بست

بَابٌ فِي شَفَاعَةِ الْأَوْلَادِ لِآبَائِهِمْ

 (اولاد کا اپنے والدین کے حق میں شفاعت کرنے کا بیان)

339 / 1. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اﷲ عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : لَا يَمُوْتُ لِأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ ثَلَا ثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ تَمَسُّهُ النَّارُ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَةَ.

وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ وَمُعَاذٍ وَکَعْبِ بْنِ مَالِکٍ وَعُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ وَأُمِّ سُلَيْمٍ وَجَابِرٍ وَأَنَسٍ وَأَبِي ذَرٍّ وَابْنِ مَسْعُوْدٍ وَأَبِي ثَعْلَبَةَ الْأَشْجَعِيِّ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ وَأَبِي سَعِيْدٍ وَقُرَّةَ بْنِ يَاسٍ الْمُزَنِيِّ رضوان اﷲ تعالی عليهم أجمعين. قَالَ : وَأَبُوْ ثَعْلَبَةً الْأَشْجَعِيُّ لَهُ عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم حَدِيْثٌ وَاحِدٌ، هُوَ هَذَا الْحَدِيْثُ وَلَيْسَ هُوَ الْخَشَنِيُّ. قَالَ أَبُوْ عِيْسَی : حَدِيْثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اﷲ عنه حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.

1 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الأيمان والنذور، باب قول اﷲ : وأقسموا باﷲ جهد أيمانهم، 6 / 2452، الرقم : 6280، وأيضاً في کتاب : الجنائز، باب : فضل من مات له ولد فاحتسب، 1 / 421، الرقم : 1193، ومسلم في الصحيح، کتاب : البر والصلة والآداب، باب : فضل من يموت له ولد فيحتسبه، 4 / 2028، الرقم : 2632، والترمذي في السنن، کتاب : الجنائز، باب : ما جاء في ثواب مَنْ قَدَّمَ وَلَدًا، 3 / 374، الرقم : 1060، والنسائي في السنن، کتاب : الجنائز، باب : من يتوفي له ثلاثة، 4 / 25، الرقم : 1875، وابن ماجة في السنن، کتاب : الجنائز، باب : ما جاء في ثواب من أصيب بولده، 1 / 512، الرقم : 1603.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس مسلمان (گناہ گار) کے تین بچے فوت ہوں گے تو آگ اس کو صرف قسم پوری کرنے کے لیے چھوئے گی۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی اور ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے اور امام ترمذی نے کہا ہے : اس باب میں حضرات عمر، معاذ، کعب بن مالک، عتبہ بن عبد، امِ سلیم، جابر، ابو ذر، عبد اﷲ بن مسعود، ابوثعلبہ اشجعی، عقبہ بن عامر، ابو سعید خدری اور قرہ بن ایاس مزنی رضی اللہ عنھم سے مروی ہے۔ فرماتے ہیں : ابو ثعلبہ اشجعی نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک یہی حدیث روایت کی ہے اور وہ خشنی نہیں ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث حسن صحیح ہے۔

340 / 2. عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ رضی اﷲ عنه جَاءَ تْ إِمْرَةٌ إِلَی رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم، فَقَالَتْ : يَا رَسُوْلَ اﷲِ! ذَهَبَ الرِّجَالُ بِحَدِيْثِکَ، فَاجْعَلْ لَنَا مِنْ نَفْسِکَ يَوْمًا، نَأْتِيْکَ فِيْهِ، تُعَلِّمُنَا مِمَّا عَلَّمَکَ اﷲُ. فَقَالَ : إِجْتَمِعْنَ فِي يَوْمِ کَذَا وَکَذَا، فِي مَکَانِ کَذَا وَکَذَا. فَاجْتَمَعْنَ فَأَتَاهُنَّ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم، فَعَلَّمَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَهُ اﷲُ. ثُمَّ قَالَ : مَا مِنْکُنَّ إِمْرَأَةٌ تُقَدِّمُ بَيْنَ يَدَيْهَا مِنْ وَلَدِهَا ثَلَاثَةً إِلَّا کَانَ لَهَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ. فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ : يَارَسُوْلَ اﷲِ! أَوِ اثْنَيْنِ؟ قَالَ : فَأَعَادَتْهَا مَرَّتَيْنِ. ثُمَّ قَالَ : وَاثْنَيْنِ وَاثْنَيْنِ وَاثْنَيْنِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

2 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الإعتصام بالکتاب والسنة، باب : تعليم النبي صلی الله عليه وآله وسلم أمته من الرجال والنساء مما علمَه اﷲ ليس برأيٍ ولا تمثيلٍ، 6 / 2666، الرقم : 6880، ومسلم في الصحيح، کتاب : البر والصلة والآداب، باب : فضل من يموت له ولد فيحتسبه، 4 / 2028، الرقم : 2633، والبيهقي في شعب الإيمان، 7 / 131، الرقم : 9743، والمنذري في الترغيب والترهيب، 3 / 55، الرقم : 3053.

’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا : یا رسول اللہ! مرد حضرات آپ کی احادیث سے مستفید ہوتے ہیں۔ لہذا آپ بذاتِ خود ہمارے لئے ایک دن مقرر فرمائیں کہ ہم اس دن آپ کے پاس حاضر ہوں تو آپ اس میں سے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھلایا ہے ہمیں تعلیم دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : فلاں فلاں دن، فلاں فلاں جگہ خواتین اکٹھی ہو جائیں. جب وہ اس جگہ جمع ہوگئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے پاس تشریف لا کر جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھلایا تھا اس کی تعلیم دی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے جو کوئی عورت بھی اپنے تین بچے آگے بھیجے گی وہ اس کے لیے آگ سے حجاب بن جائیں گے۔ ان میں سے ایک عورت نے عرض کیا : یا رسول اللہ! اگر دو ہوں؟ اس نے دو بار سوال دہرایا. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگرچہ دو ہوں، اگرچہ دو ہوں، اگرچہ دو ہوں۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

341 / 3. عَنْ أَنَسٍ رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : مَا مِنَ النَّاسِ مِنْ مُسْلِمٍ يُتَوَفَّی لَهُ ثَلَاثٌ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا أَدْخَلَهُ اﷲُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ يَاهُمْ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَةَ.

3 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الجنائز، باب : فضل من مات له ولد فاحتسب، 1 / 421، الرقم : 1191، وأيضاً في کتاب : الجنائز، باب : ما قيل في أولاد المسلمين، 1 / 465، الرقم : 1315، والنسائی في السنن، کتاب : الجنائز، باب : من يتوفی له ثلاثة، 4 / 24، الرقم : 1873، وابن ماجة في السنن، کتاب : الجنائز، باب : في ثواب من أصيب بولده، 1 / 512، الرقم : 1605.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مسلمانوں میں سے جس کسی کے بھی تین بچے نابالغ فوت ہو گئے تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو ان بچوں پر اپنے فضلِ رحمت کے باعث جنت میں داخل فرمائے گا۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری، نسائی اور ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔

342 / 4. عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضی اﷲ عنه، قَالَتِ النِّسَاءُ لِلنَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم : غَلَبَنَا عَلَيْکَ الرِّجَالُ، فَاجْعَلْ لَنَا يَوْمًا مِنْ نَفْسِکَ. فَوَعَدَهُنَّ يَوْمًا، لَقِيَهُنَّ فِيْهِ، فَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ. فَکَانَ فِيْمَا قَالَ لَهُنَّ : مَا مِنْکُنَّ إِمْرَأَةٌ تُقَدِّمُ ثَلَا ثَةً مِنْ وَلَدِهَا إِلَّا کَانَ لَهَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ، فقَالَتِ امْرَأَةٌ : وَاثْنَتَيْنِ؟ فَقَالَ : وَاثْنَتَيْنِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَأَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ.

4 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : العلم، باب : هل يُجْعَلُ للنساء يومٌ علي حِدَةٍ في العلم، 1 / 50، الرقم : 101، وأيضاً في کتاب : الجنائز، باب : فضل من مات له ولد فاحتسب، 1 / 421، الرقم : 1192، والنسائي في السنن الکبري، 3 / 451، الرقم : 5896، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 34، الرقم : 11296، وابن حبان في الصحيح، 7 / 206، الرقم : 2944.

’’حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بعض خواتین نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا : مرد حضرات ہم پر غالب آ گئے ہیں لہذا آپ بذاتِ خود ہمارے لئے ایک دن مقرر فرمائیں. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے ایک دن کا وعدہ فرمایا، جس میں آپ نے ان کے پاس تشریف لا کر انہیں وعظ و نصیحت فرمائی اور احکام بیان کیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی مجلس میں تھے کہ آپ نے ان سے فرمایا : تم میں سے جو کوئی عورت بھی اپنے تین بچوں کو آگے بھیجے گی وہ اس کے لیے آگ سے رکاوٹ ہوں گے۔ اس پر ایک عورت نے عرض کیا : اگر دو ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگرچہ دو ہوں۔‘‘

اسے امام بخاری، نسائی، احمد اور ابنِ حبان نے روایت کیا ہے۔

343 / 5. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اﷲ عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ لِنِسْوَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ : لَا يَمُوْتُ لِإِحْدَاکُنَّ ثَلَا ثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَتَحْتَسِبَهُ إِلَّا دَخَلَتِ الْجَنَّةَ. فَقَالَتِ امْرَةٌ مِنْهُنَّ : أَوِ اثْنَيْنِ يَا رَسُوْلَ اﷲِ؟ قَالَ : أَوِ اثْنَيْنِ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ. حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ، إِسْنَادُهُ قَوِيٌّ.

5 : أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : البر والصلة، باب : فضلِ مَنْ يَمُوتُ له ولدٌ فَيَحْتَسِبَه، 4 / 2028، الرقم : 2632، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 378، الرقم : 8916، والبيهقي في السنن الکبری، 4 / 67، والمنذري في الترغيب والترهيب، 3 / 54، الرقم : 3050.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصاری خواتین سے فرمایا : تم میں سے جس کسی کے تین بچے فوت ہوں گے تو وہ ضرور اسے جنت میں داخل کریں گے۔ ان میں سے ایک عورت نے عرض کیا : یا رسول اللہ! اگر دو ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگرچہ دو ہی ہوں۔‘‘

اسے امام مسلم، احمد اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔ یہ حديث صحيح ہے اور اس کی اسناد قوی ہے۔

344 / 6. عَنْ أَبِي حَسَّانَ قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ رضی اﷲ عنه : إِنَّهُ قَدْ مَاتَ لِيَ ابْنَانِ، فَمَا أَنْتَ مُحَدِّثِي عَنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم بِحَدِيْثٍ تُطَيِّبُ بِهِ أَنْفُسَنَا عَنْ مَوْتَانَا؟ قَالَ : قَالَ : نَعَمْ! صِغَارُهُمْ دَعَامِيْصُ الْجَنَّةِ، يَتَلَقَّی أَحَدُهُمْ أَبَاهُ، أَوْ قَالَ : أَبَوَيْهِ، فَيَأْخُذُ بِثَوْبِهِ، أَوْ قَالَ : بِيَدِهِ، کَمَا آخُدُ أَنَا بِصَنِفَةِ ثَوْبِکَ هَذَا، فَلَا يَتَنَهَی، أَوْ قَالَ : فَلَا يَنْتَهِي حَتَّی يُدْخِلَهُ اﷲُ وَأَبَاهُ الْجَنَّةَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ.

6 : أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : البر والصلة، باب : فضل من يموت له ولد فيحتسبه، 4 / 2029، الرقم : 2635، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 488، الرقم : 10331، والبيهقي في السنن الکبری، 4 / 67، والمنذري في الترغيب والترهيب، 3 / 54، الرقم : 3052.

’’ابو حسان سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا : میرے دو بیٹے وفات پا گئے ہیں، کیا آپ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی حدیث بیان کرتے ہیں جو ہمارے فوت شدگان کے بارے میں ہمیں ٹھنڈک پہنچائے؟ انہوں نے فرمایا : ہاں! مسلمانوں کے چھوٹے بچے جنت کے کیڑے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک اپنے باپ یا والدین کو ملتے ہی اس کے دامن یا ہاتھ کو تھام لے گا جیسے میں اپنے اس کپڑے کے دامن کو پکڑتا ہوں. وہ اس کو پکڑے رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے اور اس کے باپ کو جنت میں داخل فرمائے گا۔‘‘

اسے امام مسلم، احمد اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

345 / 7. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رضي اﷲ عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : مَنْ قَدَّمَ ثَلَا ثَةً لَمْ يَبْلُغُوا الْحُلُمَ، کَانُوْا لَهُ حِصْنًا حَصِيْنًا مِنَ النَّارِ. قَالَ أَبُوْ ذَرٍّ : قَدَّمْتُ اثْنَيْنِ؟ قَالَ : وَاثْنَيْنِ. فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ کَعْبٍ سَيِّدُ الْقُرَّاءِ : قَدَّمْتُ وَاحِدًا؟ قَالَ : وَوَاحِدًا، وَلٰکِنْ إِنَّمَا ذَاکَ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُوْلَی. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَةَ وَأَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ.

7 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : الجنائز، باب : ما جاء في ثواب من قَدَّم ولدًا، 3 / 375، الرقم : 1061، وابن ماجة في السنن، کتاب : الجنائز، باب : في ثواب من أُصِيْبَ بِوَلَدِه، 1 / 512، الرقم : 1606، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 375، الرقم : 3554، والطبراني في المعجم الأوسط، 8 / 30، الرقم : 7868، والبيهقي في الشعب، 7 / 134، الرقم : 9750.

’’حضرت عبداللہ بن مسعود رضي اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے تین نابالغ بچوں کو آگے بھیجا وہ اس کو دوزخ سے بچانے میں مضبوط قلعہ ہوں گے۔ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : میں نے دو بھیجے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگرچہ دو ہوں. سید القُراء اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : میں نے ایک آگے بھیجا ہے؟ فرمایا : اگرچہ ایک ہو لیکن یہ فائدہ پہلے صدمہ کے وقت صبر کرنے سے حاصل ہوگا۔‘‘

اسے امام ترمذی، ابنِ ماجہ، احمد، طبرانی اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

346 / 8. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اﷲ عنه أَنَّهُ سَمِعَ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : مَنْ کَانَ لَهُ فَرَطَانِ مِنْ أُمَّتِي، أَدَخَلَهُ اﷲُ بِهِمَا الْجَنَّةَ. فَقَالَتْ عَائِشَةُ : فَمَنْ کَانَ لَه فَرَطٌ مِنْ أُمَّتِکَ؟ قَالَ : وَمَنْ کَانَ لَه فَرَطٌ يَا مُوَفَّقَةُ! قَالَتْ : فَمَنْ لَمْ يَکُنْ لَه فَرَطٌ مِنْ أُمَّتِکَ؟ قَالَ : فَأَنَا فَرَطُ أُمَّتِي لَنْ يُصَابُوْا بِمِثْلِي.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَی وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ.

8 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : الجنائز، باب : ما جاء في ثواب من قدم ولدا، 3 / 376، الرقم : 1062، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 334، الرقم : 3098، إسناده حسن، وأبويعلی في المسند، 5 / 138، الرقم : 2752، والطبراني في المعجم الکبير، 12 / 197، الرقم : 12880، والبيهقي في السنن الکبری، 4 / 68.

’’حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : میری امت میں سے جس شخص کے دو (کم سن فوت شدہ بچے) پیش رَو ہو گئے، وہ اس شحص کو جنت میں لے جائیں گے۔ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا نے عرض کیا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں سے جس شخص کا ایک پیش رو ہو؟ فرمایا : اے صاحبۂ خیرات! اس کو وہ ایک پیش رو ہی لے جائیگا۔ عرض کیا : جس کا کوئی پیش رو نہ ہو؟ فرمایا : جس کا کوئی نہیں ہوگا اس کا میں ہوں گا کیونکہ میری امت کو میری جدائی سے بڑھ کر کوئی صدمہ نہیں پہنچا۔‘‘

اسے امام ترمذی، احمد، ابو یعلی، طبرانی اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے کہا ہے : یہ حدیث حسن ہے۔

347 / 9. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اﷲ عنه عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوْتُ بَيْنَهُمَا ثَلَاثَةُ أَوْلَادٍ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا أَدْخَلَهُمَا اﷲُ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ يَاهُمُ الْجَنَّةَ. قَالَ : يُقَالُ لَهُمْ : أُدْخُلُوا الْجَنَّةَ، فَيَقُوْلُوْنُ : حَتَّی يَدْخُلَ آبَاؤُنَا؟ فَيُقَالُ : أُدْخُلُوا الْجَنَّةَ أَنْتُمْ وَآبَاؤُکُمْ.

رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَأَحْمَدُ وَأَبُويَعْلَی وَالْبَيْهَقِيُّ. إِسْنَادُهُ صَحِيْحٌ عَلَی شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ.

9 : أخرجه النسائي في السنن، کتاب : الجنائز، باب : من يتوفی له ثلاثة، 4 / 25، الرقم : 1876، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 510، الرقم : 10622، وأبو يعلی في المسند، 10 / 464، الرقم : 6079، والبيهقي في السنن الکبری، 4 / 68.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : دو مسلمان والدین میں سے کسی کے بھی تین بچے نابالغ فوت ہو گئے تو اللہ تعالیٰ ان بچوں پر اپنی رحمت کے فضل کے سبب والدین کو جنت میں داخل فرمائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ان بچوں سے کہا جائے گا : جنت میں داخل ہوجاؤ تو وہ عرض کریں گے : (ہم اس وقت تک داخل نہیں ہوں گے) یہاں تک کہ ہمارے والدین داخل ہو جائیں؟ پس ان سے کہا جائے گا : تم اور تمہارے والدین جنت میں داخل ہو جائیں۔‘‘

اسے امام نسائی، احمد، ابو یعلی اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔ شیخین کی شرائط پر اس حدیث کی اسناد صحیح ہے۔

348 / 10. عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ قَالَ : لَقِيْتُ أَبَا ذَرٍّ رضی اﷲ عنه، قُلْتُ : حَدِّثْنِي، قَالَ : نَعَمْ! قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوْتُ بَيْنَهُمَا ثَلَاثَةُ أَوْلَادٍ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا غَفَرَ اﷲُ لَهُمَا بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ يَاهُمْ.

رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَأَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَالْبَزَّارُ وَأَبُو عَوَانَة. إِسْنَادُهُ صَحِيْحٌ، رِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

10 : أخرجه النسائي في السنن، کتاب : الجنائز، باب : من يتوفی له ثلاثة، 4 / 24، الرقم : 1874، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 153، الرقم : 21358، وابن حبان في الصحيح، 7 / 202، الرقم : 2940، وابن أبي شيبة في المصنف، 3 / 36، الرقم : 11884، والبزار في المسند، 9 / 349، الرقم : 3909، وأبو عوانة في المسند، 4 / 501، الرقم : 7483.

’’صعصعہ بن معاویہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی تو انہیں کہا : آپ مجھ سے کوئی حدیث بیان کریں؟ انہوں نے فرمایا : ہاں! حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب دو مسلمان ماں باپ کے تین بچے نابالغ فوت ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ ان بچوں پر اپنے فضلِ رحمت کے سبب والدین کو بخش دیتا ہے۔‘‘

اسے امام نسائی، احمد، ابنِ حبان، ابنِ ابی شیبہ، بزار اور ابو عوانہ نے روایت کیا ہے۔ اس حدیث کی اسناد صحیح ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔

349 / 11. عَنْ عَلِيٍّ رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِّ صلی الله عليه وآله وسلم : إِنَّ السِّقْطَ لَيُرَاغِمُ رَبَّهُ إِذَا أَدْخَلَ أَبَوَيْهِ النَّارَ. فَيُقَالُ : أَيُّهَا السِّقْطُ الْمُرَاغِمُ رَبَّهُ! أَدْخِلْ أَبَوَيْکَ الْجَنَّةَ، فَيَجُرُّهُمَا بِسَرَرِهِ حَتَّی يُدْخِلَهُمَا الْجَنَّةَ.

رَوَاهُ ابْنُ مَاجَةَ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَالْبَزَّارُ وَأَبُويَعْلَی.

11 : أخرجه ابن ماجة في السنن، کتاب : الجنائز، باب : ما جاء فيمن أصيب بسقط، 1 / 513، الرقم : 1608، وابن أبي شيبة في المصنف، 3 / 37، الرقم : 11887، والبزار في المسند، 3 / 57، الرقم : 815، وأبو يعلی في المسند، 1 / 360، الرقم : 468.

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ناتمام بچہ (5 یا 6 ماہ کا ساقط بچہ) جب اپنے ماں باپ کو جہنم میں داخل کئے جاتے ہوئے دیکھے گا تو اپنے رب سے جھگڑا کرے گا۔ کہا جائے گا : اے اپنے رب سے جھگڑنے والے ناتمام بچے! اپنے ماں باپ کو جنت میں داخل کر دے۔ وہ اپنے ماں باپ کو اپنی ناف سے باندھ کر گھسیٹ کے جنت میں لے جائے گا۔‘‘

اسے امام ابنِ ماجہ، ابنِ ابی شیبہ، بزار اور ابو یعلی نے روایت کیا ہے۔

350 / 12. عَنْ أَبِي النَّضْرِ السَّلَمِيِّ رضی اﷲ عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : لَا يَمُوْتُ لِأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلمِيْنَ ثَلَا ثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَيَحْتَسِبُهُمْ إِلَّا کَانُوْا لَهُ جُنَّةً مِنَ النَّارِ. فَقَالَتِ امْرَأَةٌ عِنْدَ رَسُولِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : يَا رَسُوْلَ اﷲِ! أَوِ اثْنَانِ؟ قَالَ : أَوِ اثْنَانِ. رَوَاهُ مَالِکٌ وَابْنُ أَبِي عَاصِمٍ.

12 : أخرجه مالک في الموطا، 1 / 235، الرقم : 557، وابن أبي عاصم في الآحاد والمثاني، 4 / 185، الرقم : 1266، والعسقلاني في فتح الباري، 3 / 119، قوله : باب : فضل من مات له ولد فاحتسب.

’’حضرت ابو نضر سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مسلمانوں میں سے جس کسی کے تین بچے فوت ہو گئے تو وہ ان کو (آگ سے) روکتے ہوئے ان کے لیے جہنم کی ڈھال بن جائیں گے۔ ایک عورت نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا : یا رسول اللہ! اگر دو ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگرچہ دو ہوں۔‘‘

اسے امام مالک اور ابنِ ابی عاصم نے روایت کیا ہے۔

351 / 13. عَنْ جَابِرٍ رضی اﷲ عنه قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : مَنْ مَاتَ لَهُ ثَلَا ثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ، فَاحْتَسَبَهُمْ دَخَلَ الْجَنَّةَ. قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اﷲِ! وَاثْنَانِ؟ قَالَ : وَاثْنَانِ. قَالَ مَحْمُوْدٌ : فَقُلْتُ لِجَابِرٍ : أَرَاکُمْ لَوْ قُلْتُمْ وَوَاحِدٌ، لَقَالَ : وَوَاحِدٌ؟ قَالَ : وَأَنَا وَاﷲِ! أَظُنُّ ذَاکَ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ وَالْبُخَارِيُّ فِي الأَدَبِ الْمُفْرَد. إِسْنَادُهُ حَسَنٌ، رِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

13 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 3 / 306، الرقم : 14285، والبيهقي في الشعب، 7 / 132، الرقم : 9754، والبخاري في الأدب المفرد، 1 / 63، الرقم : 146، والهيثمي في موارد الظمآن، 1 / 185، الرقم : 724.

’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : جس کے تین بچے فوت ہو گئے تو وہ ان کو (جہنم سے) رکاوٹ بناتے ہوئے جنت میں داخل ہو گا۔ ہم نے عرض کیا : یارسول اللہ؟ اگر دو ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگرچہ دو ہوں. محمود راوی کہتے ہیں : میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا : آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر تم ایک کہتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ’ایک‘ فرماتے؟ انہوں نے فرمایا : اللہ رب العزت کی قسم! مجھے اس پر یقین ہے۔‘‘

اسے امام احمد بن حنبل، بیہقی اور بخاری نے ’الادب المفرد‘ میں روایت کیا ہے۔ اس حدیث کی اسناد حسن ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔

352 / 14. عن شُرَحْبِيْلِ ابْنِ شُفْعَةَ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : يُقَالُ لِلْوِلْدَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : أُدْخُلُوا الْجَنَّةَ. قَالَ : فَيَقُوْلُوْنَ : يَا رَبِّ! حَتََّی يَدْخُلَ آبَاؤُنَا وَأُمَّهَاتُنَا، قَالَ : فَيَأْتُوْنَ، قَالَ : فَيَقُوْلُ اﷲُ عَزَّوَجَلَّ : مَا لِي أَرَاهُمْ مُحْبَنْطِئِيْنَ؟ أُدْخُلُوا الْجَنَّةَ. قَالَ : فَيَقُوْلُوْنَ : يَا رَبِّ! آبَاؤُنَا وَأُمَّهَاتُنَا؟ قَالَ فَيَقُوْلُ : أُدْخُلُوا الْجَنَّةَ أَنْتُمْ وَآبَاؤُکُمْ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ : رِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

14 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 4 / 105، الرقم : 16971، والهيثمي في مجمع الزوائد، 3 / 11.

’’شرحبیل بن شفعہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم میں کسی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : قیامت کے دن بچوں سے کہا جائے گا : تم جنت میں داخل ہوجاؤ تو وہ عرض کریں گے : اے رب! (ہم اس میں داخل نہیں ہوں گے) یہاں تک کہ ہمارے باپ اور مائیں داخل ہوں. وہ آئیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میں ان (بچوں) کو کچھ طلب کرتے ہوئے نہیں دیکھ رہا؟ (فرمائے گا) تم جنت میں داخل ہو جاؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وہ عرض کریں گے : اے رب! ہمارے باپ اور ہماری مائیں؟ تو اﷲ فرمائے گا : تم اور تمہارے ماں باپ جنت میں داخل ہوجائیں۔‘‘

اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے کہا ہے : اس کے رجال ثقہ ہیں۔

353 / 15. عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رضی اﷲ عنه عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : ذِرَارِي الْمُسْلِمِيْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَحْتَ الْعَرْشِ، شَافِعٌ وَمُشَفَّعٌ مَنْ لَمْ يَبْلُغِ اثْنَتَی عَشَرَةَ سَنَةً، وَمَنْ بَلَغَ ثَلَاثَ عَشَرَةَ سَنَةً فَعَلَيْهِ وَلَهُ. رَوَاهُ الدَّيْلَمِيُّ.

15 : أخرجه الديلمي في الفردوس بمأثور الخطاب، 2 / 245، الرقم : 3154.

’’حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مسلمانوں کی اولادیں قیامت کے دن عرش تلے ہوں گی۔ جو بارہ سال تک نہ پہنچا ہو وہ شفاعت کرے گا اور اس کی شفاعت قبول کی جائے گی اور جو تیرہ سال کو پہنچ گیا ہو تو اس پر احکام لاگو ہو گئے اور اس سے مؤاخذہ ہوگا۔‘‘

اسے امام دیلمی نے روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved