اللہ تعالیٰ کا اِحسانِ عظیم ہے جس نے ہمیں پیکرِ رحمت و شفقت رسول، نبی آخر الزمان سیدنا محمد مصطفی ﷺ کا اُمتی ہونے کی سعادت عطا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ خود بھی رحمن و رحیم ہے اور اس کے پیارے رسول ﷺ کی صفت بھی رؤف و رحیم ہے۔ اسی طرح اسلام کی تعلیمات میں بھی رحمت و شفقت، لطف و کرم اور عفو و در گزر کا عنصر نمایاں ہے۔ اسلام امن وسلامتی کا دین ہے اور اپنے پیرو کاروں کو بھی اَمن و عافیت کے ساتھ رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ دور حاضر میں بدقسمتی سے نفرت و عداوت، قتل و غارت گری، جبر و بربریت اور دہشت گردی کو اسلام دشمنی میں اسلامی تعلیمات سے نتھی کر دیا گیا ہے حالانکہ جو بدبخت ایسے افعال کے مرتکب ہوتے ہیں ان کا اسلام سے دور کا واسطہ بھی نہیں۔
اللہ کریم کا لطف و کرم ہے کہ اس ذاتِ لا یزال نے دورِ حاضر میں ملت اسلامیہ کی علمی و فکری اور دینی وسیاسی رہنمائی کے لئے ان فتنہ پرور افراد، گروہوں اور سازشی اداروں کی سرکوبی اور اسلام کی حقیقی تعلیمات پھیلانے کے لئے جن صاحبانِ علم کا انتخاب فرمایا، اُن میں سر فہرست شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری مدظلہ العالی جیسی نابعہ روزگار شخصیت ہے جو بلاشبہ ملت اسلامیہ کی قابلِ فخر نمائندگی کر رہے ہیں۔
شیخ الاسلام مدظلہ العالی نہ صرف وطن عزیز میں قیام امن کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہیں بلکہ پوری دنیا میں اسلام کا آقافی پیغامِ امن وسلامتی عام کرنے کے لئے سرگرمِ عمل ہیں۔ قیام امن کے سلسلے میں آپ کی علمی و فکری کاوشیں آبِ زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ عالمی سطح پر آپ بجا طور پر سفیر امن کے ٹائٹل کے حق دار ہیں۔
شیخ الاسلام مدظلہ العالی کے خطابات اِسلام کے پیغام امن و محبت سے لبریز ہوتے ہیں۔ اسی تسلسل میں 3 جنوری 2015ء کو مینارِ پاکستان لاہور کے سبزہ زار میں منعقدہ 31 ویں سالانہ عالمی میلاد کانفرنس سے خطاب کے لیے آپ نے ابتداءً مدینہ طیبہ کی محبت کو موضوعِ سخن بنانے کا ارادہ کیا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنے شہر مدینہ سے کتنی محبت تھی اور آپ ﷺ اُمت کو اپنے شہر مدینہ سے کس کس انداز اور صورت میں محبت کا درس دیتے ہیں۔ اُنہوں نے خطاب کے آغاز تک گھنٹوں محبتِ مدینہ کے موضوع پر تیاری کے لیے مطالعہ کیا۔ اِسی حوالے سے حدیث مبارکہ کی اٹھارہ جلدوں پر مشتمل اپنی زیر طبع کتاب ’معارج السنن‘ پر نشانات لگائے۔ لیکن اُنہی دنوں 16 دسمبر 2014ء کو سانحہ پشاور ہوا تھا اور اُس سے قبل 17 جون 2014ء کو سانحہ ماڈل ٹاؤن بھی وقوع پذیر ہوا تھا، جہاں دن دیہاڑے ریاست نے دہشت گردی اور ظلم و ستم کی انتہاء کر دی تھی۔جبکہ پشاور میں دہشت گردوں نے سیکڑوں طلباء اور معصوم بچوں کو شہید کردیا تھا۔ بایں وجہ قوم کی ضرورت اور موقع کی مناسبت سے شیخ الاسلام نے خطاب کے لیے ’اسلام میںمحبت اور عدمِ تشدد‘ کو موضوع بنایا جو حضور نبی اکرم ﷺ سے محبت کا ایک اہم تقاضا بھی ہے۔
زیر نظر کتاب میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری مدظلہ العالی کے مذکورہ خطاب کو مرتب کیا گیا ہے، جب کہ آپ کی براہِ راست ہدایات کی روشنی میں آپ کی دیگر کتب اور اُن خطبات و دروس سے اِضافہ جات بھی کیے گئے ہیں جو مختلف اوقات میں دینِ اسلام کی تعلیماتِ محبت و اَمن اور اِعتدال پسندی کے موضوعات پر ہوئے۔ اس کتاب کے مطالعہ سے اِن شاء اللہ یہ امر بخوبی واضح ہوگا کہ اسلام امن و سلامتی اور عدم تشدد کا دین ہے۔ اسلام نے بلا امتیازِ مذہب - مسلم ہے یا غیر مسلم - سب کے لیے امن و رحمت اور محبت و شفقت کا درس دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کو اسلام کے حقیقی تعلیمات کما حقہٗ سمجھ کر ان پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ)
(محمد تاج الدین کالامی)
سینئر رِیسرچ اسکالر
فریدِ ملّتؒ رِیسرچ اِنسٹی ٹیوٹ
Copyrights © 2026 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved