Islam main Mahabbat awr Adam-e-Tashaddud

باب 1 :دین اسلام حقیقت میں دین محبت ہے

’اسلام در حقیقت دین محبت ہے‘، یہ ایک ایسا موضوع ہے جس کا تعلق اسلام کے ہمہ گیر فہم کے ساتھ ہے۔ حقیقت میں اِسلامی تعلیمات کی بنیاد اسی اساس پر قائم ہے اور اس کی تمام تر تعلیمات میں اس موضوع کی حیثیت بنیادی اورتعمیری نوعیت کی ہے۔ دینِ اسلام میں محبت و شفقت کے تین مرکز و محور ہیں:

1۔ ذاتِ الٰہیہ

2۔ ذاتِ مصطفی ﷺ

3۔ تعلیماتِ اِسلام

اللہ تبارک و تعالیٰ کی صفات بے شمار اور لامحدود ہیں، جن کا احاطہ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی شمار، لیکن قرآن مجید میں اس نے اپنی جس صفت کو اپنی ذات، توحید، الوہیت اور ربوبیت کے تعارف کے لیے خصوصیت سے منتخب کیا وہ اس کی صفتِ رحمت ہے جس کے پس پردہ بھی در حقیقت محبت ہی کا جذبہ کار فرما ہے کیونکہ رحمتوں کا نزول بھی تو وہیں ہوتا ہے جہاں محبت ہوتی ہے۔

اِسی طرح حضور نبی اکرم ﷺ کی ذات اقدس اور آپ ﷺ کی نبوت و رسالت میں ہر حوالہ سے نہ صرف انسانوں بلکہ جملہ مخلوقات سے محبت کا جذبہ غالب و برتر نظر آتا ہے۔ قرآن مجید ہو یا آپ ﷺ کے فرامین و اعمال ہر جگہ محبت، شفقت اور رحمت کے حسین مناظر بکثرت و نمایاں نظر آتے ہیں۔

یہی صورتِ حال دینِ اسلام کی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ’’دینِ اسلام‘‘ کی جملہ تعلیمات میں رحمت، محبت، شفقت، نرمی، لطف و کرم اور عفو و درگزر کو بنیادی اہمیت دی ہے۔ دین اسلام کی جملہ تعلیمات بالواسطہ یا بلاواسطہ محبت ہی کے تصور پر قائم ہیں۔ اس لئے کہ اِن جملہ تعلیمات میں موجود شفقت، اُلفت، بخشش، لطف و کرم اور درگزر کے عنوانات جذبۂ محبت ہی کی وجہ سے تشکیل پاتے ہیں۔ مثلاً جب اسلام شریعتِ محمدی کی شکل میں اوامر و نواہی پر مبنی احکام اور قوانین دیتا ہے تو یہ شرعی احکام و قوانین بھی انسان کی فطری کمزوریوں کے پیش نظر اسے آسانی اور سہولت (convenience) دیتے نظر آتے ہیں۔ انسان کو یہ سہولت و آسانی فراہم کرنا دین اسلام کا طغرائے امتیاز اور نوع انسانی سے محبت کا مظہر ہے۔

دین اسلام کے دین محبت ہونے کی اس سے بڑی دلیل اور کیا ہو سکتی ہے کہ قرآنی تعلیمات کے ساتھ ساتھ حضور نبی اکرم ﷺ کی سیرت، قول و عمل اور تعلیم و تربیت کا سارا خلاصہ ہی بنی نوع انسان اور ساری مخلوق سے محبت و شفقت ہے۔

1۔ صفاتِ الٰہیہ میں غلبۂ محبت ہے

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جب اپنی مختلف صفات کا تذکرہ فرمایا تو وہاں سرفہرست اُن صفات ہی کو بیان فرمایا جن کی بنیاد جذبۂ محبت پر قائم ہے۔ ارشاد ہے:

هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۚ اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَیْمِنُ.

(الحشر، 59: 23)

وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، (حقیقی) بادشاہ ہے، ہر عیب سے پاک ہے، ہر نقص سے سالم (اور سلامتی دینے والا) ہے، امن و امان دینے والا (اور معجزات کے ذریعے رسولوں کی تصدیق فرمانے والا) ہے، محافظ و نگہبان ہے۔

اپنے اسم ذات کے ساتھ جن تین صفات کو سب سے پہلے بیان کیا وہ یہ ہیں: (1) السَّلام (سلامتی دینے والا)، (2) المؤمن (امان بخشنے والا، امن دینے والا) (3) المُهَیْمِن (ہر خوف اور دہشت اور وحشت سے حفاظت فرمانے والا)۔

جب ہم اپنے ذہنوں میں اللہ رب العزت کی ان صفات کا تصور قائم کرتے ہیں تو اُس کی جمیع صفات میں سے امن و سلامتی دینے والی، حفاظت کرنے والی اور شفقت و رحمت عطا کرنے والی صفات کا تصور ہی غالب اور نمایاں نظر آتا ہے۔ اس لیے کہ اِن صفات کی بنیاد ہی محبت پر قائم ہے۔ وہ اپنی مخلوق سے محبت کرتا ہے۔ اور بتقاضائے محبت اُسے سلامتی اور امن دینے والا اور ہر خوف و دہشت سے حفاظت فرمانے والا ہے، وہ نہیں چاہتا کہ اُس کے محبوب بندے خوف کا شکار ہوں گویا یہ حفاطت بھی اسی جذبہ محبت ہی کے زیر اثر دی جا رہی ہے۔ در حقیقت دینِ اسلام کی جملہ تعلیمات میں وہی تصور غالب نظر آتا ہے جو ذات اقدس اپنے بندوں کے ذہنوں میں راسخ کرنا چاہتی ہے۔

2۔ ’عفو و محبت‘ سنتِ الٰہیہ ہے

اللہ رب العزّت نے سورۃ البروج میں اپنا ذکر کرتے ہوئے دو صفات بیان فرمائیں:

ھُوَ الْغَفُوْرُ الوَدُوْدُ.

(البروج، 85: 14)

بڑا بخشنے والا، بہت محبت فرمانے والا ہے۔

گویا تقاضائے دین یہ ہے کہ ہم حضرت ذوالنون مصری کے اس فرمان تَخَلَّقَا بِأَخْلَاقِ اللهِ الْجَمِیْلَۃ کے مصداق اللہ تعالیٰ کے اخلاق جمیلہ میں رنگ جائیں، کیونکہ یہی کمالِ بندگی و مسلمانی ہے کہ ہم اللہ کے اخلاق حسنہ میں رنگے جائیں۔ اللہ تعالیٰ کا خلق تو ھو الغفور (بہت معاف کرنے والا) ہے۔ ہم اپنی زندگیوں میں جھانک کر دیکھیں کہ ہم کتنا معاف کرنے والے ہیں۔ اللہ کریم نے غفور کے ساتھ اپنی دوسری صفت الْوَدُوْد بھی بیان فرمائی۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے دو اسماء کو جوڑناحکمت کے تحت ہوتا ہے، ان کے اندر ایک معنوی ربط ہوتا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کیسے اور کیوں معاف کرتا ہے؟ اگلے اسم کے ذریعہ اس کا جواب دیا کہ وہ ودود (محبت کرنے والا) ہے اور جو محبت کرتا ہے وہ معاف کر دیتا ہے۔

(2) أبو نعیم، حلیۃ الأولیاء، 9: 351

قرآن مجید میں رب کائنات کا اپنی مخلوق سے محبت کا مختلف انداز سے اظہار اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اس کی رحمت کے چشمہ سے فیضاب ہونے والے خود بھی اس کے اخلاق کریمانہ کا رنگ اپنے اوپر اس طرح چڑھا لیں کہ ساری مخلوق کے لئے سراپا محبت اور رحمت و شفقت بن جائیں۔ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اُس کے بندے بھی اُس کی طرح عفو و درگزر اور تمام انسانوں (دوست ہوں یا دشمن) کے لئے لطف و کرم کا پیکر اتم بن جائیں۔ اگر وہ لوگوں کی لغزشوں اور خطاؤں کو نظرا نداز نہیں کر سکتے تو اللہ تعالیٰ سے یہ توقع کس طرح کر سکتے ہو کہ وہ اُن کی لغزشوں اور خطاؤں کو معاف کر دے گا۔ اگر تم اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے رحمت و شفقت اور محبت کا سلوک نہیں کر سکتے تو اپنے لیے اُس کی بارگاہ سے رحمت و شفقت کی امید کیسے کرتے ہو اور اُس کی محبت کے مستحق کیسے ٹھہرتے ہو؟ اگر تم لوگوں کے لیے مربی اور ان کی پرورش و کفالت کرنے والے نہیں بن سکتے تو اللہ تعالیٰ سے پرورش اور کفالت کے فیض کے طلبگار کیوں کر بنتے ہو۔ اگر تم لوگوں کے ساتھ حسنِ اخلاق اور حسنِ کردار کا مظاہرہ کر کے ان کی دل جوئی، نفع بخشی اور فیض رسانی کا مظاہرہ نہیں کر سکتے تو بارگاہِ الٰہی کے تمام فیوضات کے طالب کس طرح بنتے ہو؟لوگوں کے لئے تم جبار اور قہار بن جاؤ، ظالم بن جاؤ، بربریت کا مظاہرہ کرو، دہشت گردی کا مظاہرہ کرو، تمہیں دیکھ کر لوگ تھر تھر کانپنے لگ جائیں اور تم خود اللہ تعالیٰ سے توقع کرو کہ جب تم گناہوں سے آلودہ دامن اور خون سے بھرا ہوا نامہ اعمال لے کر اُس کے سامنے آؤ تو وہ تمہیں بخش دے گا؟ اور تمہیں کوئی خوف نہیں ہو گا؟ ایسا ممکن نہیں ہے۔

اگر اللہ تعالیٰ سے لطف و کرم چاہتے ہو تو تمہیں بھی پیکرِ لطف و کرم بننا ہوگا، اگر اُس کی رحمت چاہتے ہو تو تم بھی اوروں کے لیے پیکرِ رحمت بن جاؤ۔ اُس کی محبت چاہتے ہو تو تم بھی اوروں کے لیے پیکر محبت بنو، بارگاہِ الٰہی سے امن چاہتے ہو تو تمہارے وجود سے بھی ہر دکھی اور پریشان حال کو امن ملنا چاہئے، اُس کی بارگاہ میں پیش ہونے پر ہر خوف سے نجات چاہتے ہو تو تمہارے وجود، تمہاری زندگیاں اور تمہارا طرزِ عمل ایسا ہونا چاہئے کہ جسے دیکھ کر لوگوں کے خوف و اضطراب دور ہو جائیں، انہیں امن و سکون کی خیرات اور تمہارے رویے سے حفاظت کی ضمانت مل جائے اور خطا کاروں کو تمہارے پاس سے بھی عفو و درگزر ملے۔

ایک روایت میں حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اُنہوں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:

إِنَّ ﷲَ کَرِیمٌ، یُحِبُّ الْکَرَمَ وَمَعَالِيَ الأَخْلَاقِ، وَیَبْغَضُ سَفْسَافَهَا.

(1) > - 1۔ حاکم، المستدرک، 1: 111، رقم: 51

2۔ ابن راشد، الجامع، 11: 143، رقم: 20150

3۔ طبراني، المعجم الکبیر، 3: 131، رقم: 1514

4۔ بیہقي، السنن الکبری، 10: 191، رقم: 20570

اللہ تعالیٰ کریم ہے اور وہ کرم اور اعلیٰ اخلاق کو پسند فرماتا ہے اور گھٹیا اَخلاق کو ناپسند فرماتا ہے۔

دینِ اسلام کی محبت بھری تعلیمات سے اللہ رب العزت ہمیں یہ تعلیم دینا چاہتا ہے کہ تمہاری زندگیوں میں یہ تصور راسخ ہو جائے کہ تم مرض سے نفرت کرو مگر مریض سے نہیں۔ اس لئے کہ اگر تم مریض سے ہی نفرت کرنے لگو گے تو اس کا ٹھکانہ کیا ہوگا؟ تم دکھوں سے ضرور پرہیز کرو مگر دکھیوں سے ہرگز نہیں کیونکہ اگر تم ہی اُن سے دامن چھڑانے لگے تو ان کے شکستہ دلوں کا مداوا کون کرے گا؟ اسی طرح تم گناہ سے نفرت کرو مگر گنہگار سے نہیں، کیوں کہ اگر تمہی گنہگاروں کو ٹھکرانے لگ گئے تو انہیں راہِ راست پر لانے والا کون ہو گا؟ بے شک پریشانیوں سے بچو مگر پریشان حالوں سے نہیں، انہیں سینے سے لگاؤ۔ اگر تم نے پریشان حالوں کو دھتکار دیا تو ڈرو اس وقت سے کہ کہیں تمہارا رب بھی پریشانی کے وقت تمہیں دھتکار نہ دے کہ تم نے میرے بندوں پر شفقت نہیں کی تھی لہٰذا آج تمہارے لئے بھی میری بارگاہ میں شفقت کی کوئی گنجائش نہیں۔ تم نے میرے بندوں پر رحمت نہیں کی تھی، آج تمہارے لئے میرے پاس بھی رحمت کی کوئی گنجائش نہیں۔ دنیا میں لوگ تمہارے سبب خوف وہراس میں مبتلا تھے، اب تم مجھ سے امن و سکون کی دولت کس طرح مانگتے ہو؟ یہ دراصل ایک پیغامِ محبت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی الوہیت، ربوبیت اور رحمت کے ذریعے انسانوں کو عطا فرمایا۔ اس کو قرآن مجید نے اس طرح بھی بیان فرمایا ہے:

وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِط وَاللهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَo

(آل عمران، 3: 134)

اور غصہ ضبط کرنے والے ہیں اور لوگوں سے (ان کی غلطیوں پر) درگزر کرنے والے ہیں، اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت فرماتا ہےo

گویا جو لوگ ان عادات و خصائل کو اپنا لیں گے، وہ احسان والے قرار پائیں گے اور ایسی ہی صفات کے حامل افراد کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت مختص کر رکھی ہے۔

محبت شان الٰہی ہے جس کے دو انداز ہیں:

1۔ شانِ محبانہ

2۔ شانِ محبوبانہ

یعنی وہ محب کی حیثیت سے اپنی مخلوق سے محبت کرتا ہے، اس کے ردِّعمل میںمخلوق بھی اس سے محبت کرتی ہے اور یہاں سے اس کی شان محبوبیت کا اظہار ہوتا ہے۔

دینِ اسلام میں ’محبت‘ کو بنیادی اور کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ جو دعویٰ ایمان ’محبت‘ سے خالی ہے وہ سرے سے ایمان ہی نہیں گردانا جاتا اور جس عقیدہ کا خمیر ’محبت‘ سے تیار نہیں ہوا، اس عقیدہ کی اسلام میں کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے:

وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ.

(البقرۃ، 2: 165)

اور جو لوگ ایمان والے ہیں وہ (ہر ایک سے بڑھ کر) اللہ سے بہت ہی زیادہ محبت کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے محبت کو ایمان والوں کی پہچان قرار دیا ہے۔ دلوں میں جذبہ محبت کی پیدائش و افزائش، خالق کائنات کا ہی احسان عظیم ہے۔ اس محبت کا پہلا ظہورذاتِ مصطفی ﷺ ہے جو محبوبِ ربِ کائنات ہیں اور جن کے صدقے اللہ تعالیٰ اپنی محبت کی خیرات دیگر مخلوق میں بھی بانٹتا نظر آتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

یٰٓاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللهُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّهُمْ وَیُحِبُّوْنَہٗٓ.

(المائدۃ، 5: 54)

اے ایمان والو! تم میں سے جو شخص اپنے دین سے پھر جائے گا تو عنقریب اللہ (ان کی جگہ) ایسی قوم کو لائے گا جن سے وہ (خود) محبت فرماتا ہوگا اور وہ اس سے محبت کرتے ہوں گے۔

قرآن مجید میں اس مقام پر رب کائنات نے محبت کے طریقہ کار کو بیان فرمایا کہ محبت کے عمل کا آغاز درحقیقت اللہ رب العزت کی طرف سے ہوتا ہے گویا محبت کرنا سنتِ الہٰیہ ہے۔ جب رب کائنات اپنی مخلوق میں سے کسی کے ساتھ محبت کرتا ہے تو جواب میں وہ بندہ بھی اس سے محبت کرنا شروع کر دیتا ہے۔ گویا جب تک اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت نہ کرے تب تک بندہ اللہ تعالیٰ سے محبت کر ہی نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ کی محبت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی محبت کے لیے بعض دلوں کو چن لیتا ہے اور جس دل کو چن لیتا ہے اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہے۔

حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نے حضرت سلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا:

فَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا عَمِلَ بِطَاعَۃِ اللهِ أَحَبَّهُ اللهُ وَإِذَا أَحَبَّهُ اللهُ حَبَّبَہٗ إِلٰی خَلْقِہٖ وَإِذَا عَمِلَ بِمَعْصِیَۃِ اللهِ أَبْغَضَهُ اللهُ فَإِذَا أَبْغَضَہٗ بَغَّضَہٗ إِلٰی خَلْقِہٖ.

(أحمد بن حنبل، الزھد: 197)

جب بندہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت بجا لاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے، اور جب اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے، تو اسے اپنی مخلوق کے ہاں بھی محبوب بنا دیتا ہے، اور جب بندہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ناپسند کرتا ہے اور جب اسے ناپسند کرتا ہے تو اسے مخلوق کے ہاں بھی ناپسندیدہ بنا دیتا ہے۔

محبت کا تقاضا یہ ہے کہ محبوب کی ہر ادا، ہر رنگ، ہر ڈھنگ اور ہر عمل سے محبت کی جائے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو بندے کو صراط مستقیم کی طرف راغب کرتا ہے۔ بندے کی نظر اپنے محبوب کی طرف ہوتی ہے اور وہ اس کی ہر ادا و صفت سے والہانہ محبت کا اظہار کرتا ہے۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو فوجی دستے کا امیر بنا کر بھیجا۔ جب وہ امیر اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تو سورۂ اخلاص کی تلاوت ضرور کرتے۔ جب وہ لشکر واپس آیا تو لوگوں نے حضور نبی اکرم ﷺ سے اُس (بات) کا ذکر کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اُسے پوچھو کہ وہ ایسا کیوں کرتا تھا؟ دریافت کرنے پر اس صحابی نے کہا: اِس میں خداے رحمن کی صفات کا بیان ہے، اِس لیے میں اِسے پڑھنا پسند کرتا ہوں۔ اس پر حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

أَخْبِرُوْهُ، أَنَّ ﷲَ یُحِبُّہٗ.

(1) 1۔ بخاري، الصحیح، کتاب التوحید، باب ما جاء في دعاء النبي ﷺ أمتہ إلی توحید اللہ تبارک وتعالی، 6: 2686، رقم: 6940

2۔ مسلم، الصحیح، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا، باب فضل قرائۃ قل ھو اللہ، 1: 557، رقم: 813

3۔ نسائي، السنن، کتاب الافتتاح، باب الفضل في قرائۃ قل ھو اللہ أحد، 2: 170، رقم: 993

اُسے بتا دو کہ اللہ تعالیٰ بھی اُس سے محبت کرتا ہے۔

لہٰذا محبت یک طرفہ نہیں بلکہ دو طرفہ تعلق کا نام ہے جس کا اظہار دونوں اطراف سے ہوتا رہتا ہے۔ محبت کے اس سفر میں اگر مخلوق کی طرف سے کمی آئے گی، نافرمانی، عدم پیروی، گناہ و عصیان کا ارتکاب ہوگا تو بارگاہِ رحمت سے ملنے والی محبت بھی معدوم ہوجائے گی اور ویسا شخص محرومی، مایوسی اور نحوست کا شکار ہو جائے گا۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

قَالَ اللهُ: إِذَا أَحَبَّ عَبْدِي لِقَائِي أَحْبَبْتُ لِقَاءَہٗ وَإِذَا کَرِهَ لِقَائِي کَرِھْتُ لِقَاءَہٗ.

(2) 1۔ بخاري، الصحیح، کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالی: یریدون أن یبدلوا کلام اللہ، 6: 2725، رقم: 7065

2۔ أحمد بن حنبل، المسند، 2: 418، رقم: 9400

4۔ نسائي، السنن، کتاب الجنائز، باب فیمن أحب لقاء اللہ، 4: 10، رقم: 1835

5۔ مالک، الموطأ، 1: 240، رقم: 569

6۔ ابن حبان، الصحیح، 2: 84، رقم: 363

7۔ دیلمي، مسند الفردوس، 3: 172، رقم: 4460

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جب میرا بندہ مجھ سے ملنا پسند کرتا ہے تو میں بھی اس سے ملنا پسند کرتا ہوں اور جب وہ مجھ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے تو میں بھی اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہوں۔

ایک روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللهِ، أَحَبَّ اللهُ لِقَائَہٗ، وَمَنْ کَرِهَ لِقَاءَ اللهِ، کَرِهَ اللهُ لِقَائَہٗ، فَقُلْتُ: یَا نَبِيَّ اللهِ، أَکَرَاهِیَۃَ الْمَوْتِ؟ فَکُلُّنَا نَکْرَهُ الْمَوْتَ، فَقَالَ: لَیْسَ کَذٰلِکَ وَلٰـکِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا بُشِّرَ بِرَحْمَۃِ اللهِ وَرِضْوَانِہٖ وَجَنَّتِہٖ، أَحَبَّ لِقَاءَ اللهِ، فَأَحَبَّ اللهُ لِقَائَہٗ، وَإِنَّ الْکَافِرَ إِذَا بُشِّرَ بِعَذَابِ اللهِ وَسَخَطِہٖ، کَرِهَ لِقَاءَ اللهِ، وَکَرِهَ اللهُ لِقَائَہٗ.

(1) 1۔ مسلم، الصحیح، کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ والاستغفار، باب من أحب لقاء اللہ أحب اللہ لقاء ہ ومن کرہ لقاء اللہ کرہ اللہ لقاء ہ، 4: 2065، رقم: 2684

2۔ منذري، الترغیب والترھیب، 4: 171، رقم: 5297

جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملاقات کو پسند فرماتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملاقات ناپسند فرماتا ہے۔ میں نے عرض کیا: یا نبی اللہ! کیا اس سے مراد موت کی ناپسندیدگی ہے (یعنی موت کی ناپسندیدگی اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی ناپسندیدگی ہے)؟ جبکہ ہم میں سے ہر شخص (طبعًا) موت کو نا پسند کرتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ بات نہیں ہے، لیکن جب مومن کو اللہ تعالیٰ کی رحمت، رضا اور جنت کی بشارت دی جائے تو وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے جب کہ کافر کو اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی ناراضگی کی خبر دی جائے تو وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو نا پسند کرتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملاقات کو نا پسند کرتا ہے۔

اللہ رب العزت کی ذات مبارکہ اپنے بندوں کی طرف ہمہ وقت متوجہ رہتی ہے اور اس انتظار میں رہتی ہے کہ کب میرا بندہ، بندگی اختیار کرتے ہوئے میری طرف رجوع کرتا ہے اور جب کوئی بندہ اپنے مالک و مولیٰ کی طرف متوجہ ہوتا اور محبت کا اظہارکرتا ہے تو رب کائنات اس کے متوجہ ہونے اور اظہار محبت کے بدلے اس سے کئی گنا زیادہ محبت کا اظہار فرماتا ہے۔ اگر انسان کو رب کائنات کی اس والہانہ محبت کا احساس ہو جائے تو وہ دنیا و ما فیہا سے بے نیاز صرف اُسی کی طلب اور محبت میں مستغرق رہے۔

لہٰذا معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ ہمارا محبوب ہی نہیں بلکہ محب بھی ہے اور اپنے بندوں سے اُن سے کہیں بڑھ کر محبت کرتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَo

(البقرۃ، 2: 222)

بے شک اللہ بہت توبہ کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے اور خوب پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔

اللہ رب العزت اپنے بندوں کی طرف سے کئے گئے اظہار محبت پر انہیں کس طرح جواب دیتا ہے، اس کی وضاحت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی اس حدیثِ قدسی میں ہوتی ہے جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:

إِذَا تَلَقَّانِي عَبْدِي بِشِبْرٍ، تَلَقَّیْتُہٗ بِذِرَاعٍ۔ وَإِذَا تَلَقَّانِي بِذِرَاعٍ، تَلَقَّیْتُہٗ بِبَاعٍ، وَإِذَا تَلَقَّانِي بِبَاعٍ، جِئْتُہٗ أَتَیْتُہٗ بِأَسْرَعَ.

(2) 1۔ مسلم، الصحیح، کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ والاستغفار، باب الحث علی ذکر اللہ تعالی، 4: 2061، رقم: 2675

2۔ أحمد بن حنبل، المسند، 2: 316، رقم: 8178

3۔ أیضاً، 3: 283، رقم: 14045

جب میرا بندہ ایک بالشت میری طرف بڑھتا ہے، تو میں ایک ہاتھ اس کی طرف بڑھتا ہوں اور اگر وہ ایک ہاتھ میری طرف بڑھتا ہے تو میں دو ہاتھ اس کی طرف بڑھتا ہوں اور جب وہ میری طرف دو ہاتھ بڑھتا ہے تو میں تیزی سے اس کی طرف بڑھتا ہوں (یعنی اس پر اپنی راہیں آسان کردیتا ہوں اور اس کی محنت اور مجاہدے سے زیادہ اس پر فضل و کرم فرماتا ہوں)۔

بات صرف یہیں تک ہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ذاتِ مبارکہ آخرت میں بھی اپنے محبوب بندوں کی طرف سے اظہار محبت کو پسند فرمائے گی۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إِنْ شِئْتُمْ أَنْبَأْتُکُمْ مَا أَوَّلُ مَا یَقُوْلُ اللهُ عزوجل لِلْمُؤْمِنِیْنَ، وَمَا أَوَّلُ مَا یَقُوْلُوْنَ لَہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ. قُلْنَا: نَعَمْ، یَا رَسُوْلَ اللهِ، قَالَ: إِنَّ ﷲَ عزوجل یَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ: هَلْ أَحْبَبْتُمْ لِقَائِي؟ فَیَقُوْلُوْنَ: نَعَمْ، یَا رَبَّنَا. فَیَقُوْلُ: لِمَ؟ فَیَقُوْلُوْنَ: رَجَوْنَا عَفْوَکَ وَمَغْفِرَتَکَ. فَیَقُوْلُ: قَدْ وَجَبَتْ لَکُمْ مَغْفِرَتِي.

(1) 1۔ أحمد بن حنبل، المسند، 5: 238، رقم: 22125

2۔ طبراني، المعجم الکبیر، 20: 125، رقم: 251

اگر تم چاہو تو میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ تعالیٰ مومنوں سے پہلی بات کیا فرمائے گا اور مومن اسے پہلی بات کیا کہیں گے؟ ہم نے عرض کیا: جی ہاں، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ عزوجل مومنوں سے فرمائے گا کہ کیا تم میری ملاقات پسند کرتے تھے؟ وہ عرض کریں گے: جی ہاں، اے ہمارے پروردگار! وہ فرمائے گا: کیوں؟ وہ عرض گزار ہوں گے: (اس لیے کہ) ہم (ملاقات میں) تیری معافی اور بخشش کی اُمید رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میری بخشش تمہارے لیے طے ہے۔

لہٰذا دنیا میں اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والوں کو آخرت میں معافی اور بخشش کی صورت میں اجر عطا ہوگا اور ان محب و محبوب بندوں کو اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کا شرف بھی حاصل ہوگا۔ یہ سب کچھ اسی محبت کا نتیجہ ہے جس پر دین اسلام کی پوری عمارت قائم ہے۔

3۔ ’محبت کی توفیق‘، احسانِ الٰہی ہے

اللہ رب العزت جن لوگوں کو اپنی محبت کے لیے چن لیتا ہے تو ان سے بالکل جدا تعلق اختیار فرماتا ہے۔ جس کو وہ اپنا کہہ دے تو پھر اس بات کو اپنے تک نہیں رکھتا بلکہ اس محبت میں ہر ایک کو شریک کر لیتا ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

إِذَا أَحَبَّ اللهُ الْعَبْدَ نَادٰی جِبْرِیْلَ: إِنَّ ﷲَ یُحِبُّّ فُـلَانًا، فَأَحْبِبْهُ، فَیُحِبُّہٗ جِبْرِیْلُ، فَیُنَادِي جِبْرِیْلُ فِي أَھْلِ السَّمَاءِ: إِنَّّ ﷲَ یُحِبُّ فُـلَانًا، فَأَحِبُّوْهُ، فَیُحِبُّہٗ أَھْلُ السَّمَاءِ، ثُمَّ یُوْضَعُ لَهُ الْقَبُوْلُ فِي الْأَرْضِ.

(1) 1۔ بخاري، الصحیح، کتاب بدء الخلق، باب ذکر الملائکۃ، 3: 1175، رقم: 3037

2۔ أیضًا، کتاب الأدب، باب المِقَۃِ من اللہ تعالی، 5: 2246، رقم: 5693

3۔ مسلم، الصحیح، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب إذا أحب اللہ عبدا حببہ إلی عبادہ، 4: 2030، رقم: 2637

4۔ مالک، الموطأ، 2: 953، رقم: 1710

جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام کو آواز دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں بندے سے محبت رکھتا ہے لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو۔ تو جبرائیل علیہ السلام اس سے محبت کرتے ہیں۔ پھر جبرائیل علیہ السلام آسمانی مخلوق میں ندا دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں بندے سے محبت کرتا ہے، لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو۔ چنانچہ آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور پھر زمین والوں (کے دلوں) میں (بھی) اس کی مقبولیت رکھ دی جاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے۔ اس لیے کہ وہ ہمہ وقت اسی کی رضا، خوشنودی کے طالب و متلاشی رہتے ہیں۔ وہ ہر وقت اور ہر عمل میں محبوب کی رضا کو مقدم رکھتے ہیں۔ پس اس جذبہ محبت، خلوص نیت کی بنا پر اُسے دامان رحمت میں لے لیا جاتا ہے۔

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ، حضور نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

إِنَّ الْعَبْدَ لَیَلْتَمِسُ مَرْضَاۃَ اللهِ وَلَا یَزَالُ بِذٰلِکَ۔ فَیَقُولُ اللهُ عزوجل لِجِبْرِیلَ: إِنَّ فُـلَانًا عَبْدِي یَلْتَمِسُ أَنْ یُرْضِیَنِي؛ أَلَا، وَإِنَّ رَحْمَتِي عَلَیْهِ۔ فَیَقُوْلُ جِبْرِیْلُ: رَحْمَۃُ اللهِ عَلٰی فُـلَانٍ وَیَقُوْلُهَا حَمَلَۃُ الْعَرْشِ وَیَقُوْلُهَا مَنْ حَوْلَهُمْ حَتّٰی یَقُوْلَهَا أَھْلُ السَّمٰوَاتِ السَّبْعِ، ثُمَّ تَھْبِطُ لَہٗ إِلَی الْأَرْضِ.

(1) 1۔ أحمد بن حنبل، المسند، 5: 279، رقم: 22454

2۔ طبراني، المعجم الأوسط، 2: 57، رقم: 1240

بے شک ایک بندہ اللہ تعالیٰ کی رضا کاطلب گار ہوتا ہے، اور مسلسل اسی جستجو میں رہتا ہے، جس پر اللہ تعالیٰ جبریل علیہ السلام سے فرماتا ہے: فلاں شخص میری رضا کی جستجو میں ہے۔ آگاہ رہو! بلاشبہ میری رحمت اس پر سایہ فگن ہے۔ جبریل علیہ السلام کہتے ہیں: فلاں آدمی پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ فگن ہے۔ حاملین عرش بھی یہی کہتے ہیں اور ان کے آس پاس کے فرشتے بھی یہی کہنے لگتے ہیں، حتیٰ کہ ساتوں آسمانوں کی مخلوق بھی یہی کہنے لگتی ہے۔ پھر (اُس کے لیے کہی گئی) یہ بات زمین پر اُتار دی جاتی ہے (یعنی زمین والے بھی یہ کہنے لگتے ہیں کہ فلاں پر خدا کی رحمت ہے)۔

4۔ ’محبت‘ اصلِ ربوبیت ہے

اللہ تعالیٰ کی محبت صرف مسلمانوں کیلئے نہیں بلکہ وہ اپنی تمام مخلوق سے محبت کرتا ہے۔ اس کی دلیل کلام الٰہی کی پہلی آیت {اَلْحَمْدُ ﷲِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo} ہے کہ ’میں سارے جہانوں اور کل مخلوق کا رب ہوں‘۔ الحمد سے والنَّاس تک کسی ایک مقام پر بھی یہ نہیں فرمایا کہ میں رب المسلمین ہوں، یعنی صرف مسلمانوں کا رب ہوں بلکہ فرمایا میں رب العالمین یعنی سارے جہانوں، کائنات اور جمیع مخلوقات و موجودات کا رب ہوں۔

رب کا معنی پرورش کرنے اور کمال تک پہنچانے والا ہے لہٰذا رب کا معنی ہوا کہ وہ ہستی جو کسی شے کو ایک انتہائی سادہ اور ابتدائی حالت میں سے ترقی دیتے ہوئے درجہ کمال تک پہنچا دے۔ یہ بات مسلّم ہے کہ کسی کو ترقی دینا اس وقت تک ممکن نہیں ہوتاجب تک ترقی دینے والے کا زاویۂ نگاہ رحمت و احسان اور لطف و کرم نہ ہو۔ پس ثابت ہوا کہ تربیت کے اس تمام عمل کی اصل بھی محبت ہی ہے۔ جب تک محبت نہ ہو پرورش کرنا بہت مشکل اور محال ہے۔

محبت، تربیت کی بنیاد بھی ہے اور ایسا مؤثر عنصر (factor) بھی جس سے تربیت اور پرورش وجود میں آتی اور ظہور پذیر ہوتی ہے۔ اگر ماں باپ کے دلوںمیں محبت نہ ہو تو وہ اولاد کی تربیت و پرورش ہی نہ کرسکیں۔ اولاد کی تربیت میں ماں کا کردار اس لئے بھی زیادہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کے لئے اپنے دل میں باپ سے زیادہ محبت و رحمت رکھتی ہے۔ ماں بچے کو اپنے خون سے بنا ہوا دودھ پلاتی ہے اور اس کو آرام پہنچانے کے لئے تکالیف و مشکلات برداشت کرتی رہتی ہے۔ اگر اسے اپنے بچے سے محبت نہ ہو تو وہ ان تمام مراحل کو کیسے انجام دے سکتی ہے؟

ماں اولاد کی پرورش کرتی ہے، اپنا دودھ پلاتی ہے، اس لئے کہ اسے اس سے محبت ہے۔ طویل سرد راتوں میں بچے کے پیشاب سے بھیگے بستر پر خود ساری رات گزار دیتی ہے لیکن بچے کو خشک جگہ سلاتی ہے۔ وہ جگہ بھی بھیگ جائے تو سینے پہ سلاتی ہے۔ بچہ روئے تو ساری رات جاگ کر گذار دیتی ہے۔ صرف اس لئے کہ ماں پیکرِ محبت ہے۔

اللہ تعالیٰ نے حیوانوں اور جانوروں میں بھی محبت کا عنصر رکھا ہے۔ اسی کی بدولت چڑیا بھی اپنے بچے کی پرور ش کرتی ہے، اپنا دانہ اس کے منہ میں ڈالتی ہے۔ اگر جانوروں میں محبت کا عنصر نہ ہو تا تو کوئی بھی جانور اپنے بچے نہ پال سکتا۔ پالنے اور پرورش کرنے کا عمل محبت کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ جب مخلوق میں کوئی محبت کے بغیر پرورش نہیں کرسکتا تو رب تعالیٰ تو ساری کائنات کا پالنے والا ہے، اس کی محبت کا عالم کیا ہوگا؟

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:

إِنَّ ﷲَ خَلَقَ الرَّحْمَۃَ یَوْمَ خَلَقَهَا مِائَۃَ رَحْمَۃٍ، فَأَمْسَکَ عِنْدَہٗ تِسْعًا وَتِسْعِیْنَ رَحْمَۃً وَأَرْسَلَ فِي خَلْقِہٖ کُلِّهِمْ رَحْمَۃً وَاحِدَۃً، فَلَوْ یَعْلَمُ الْکَافِرُ بِکُلِّ الَّذِي عِنْدَ اللهِ مِنَ الرَّحْمَۃِ لَمْ یَیْئَسْ مِنَ الْجَنَّۃِ، وَلَوْ یَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ بِکُلِّ الَّذِي عِنْدَ اللهِ مِنَ الْعَذَابِ لَمْ یَأْمَنْ مِنَ النَّارِ.

(1) 1۔ بخاري، الصحیح، کتاب الرقاق، باب الرجاء مع الخوف، 5: 2374، رقم: 6104

2۔ مسلم، الصحیح، کتاب التوبۃ، باب في سعۃ رحمۃ اللہ تعالی وأنہا سبقت غضبہ، 4: 2109، رقم: 2755

3۔ ترمذي، السنن، کتاب الدعوات، باب خلق اللہ مائۃ رحمۃ، 5: 549، رقم: 3542

جس روز اللہ تعالیٰ نے رحمت کو پیدا فرمایا تو اس کے سو حصے کیے اور ننانوے حصے اپنے پاس رکھ کر ایک حصہ اپنی ساری مخلوق کے لیے بھیج دیا۔ پس اگر کافر بھی یہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کتنی رحمت ہے تو وہ بھی جنت سے مایوس نہ ہو؛ اور اگر مومن یہ جان جائے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہاں کتنا عذاب ہے تو وہ (کبھی) جہنم سے بے خوف نہ ہو۔

ایک دوسری روایت میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

إِنَّ ﷲِ مِائَۃَ رَحْمَۃٍ أَنْزَلَ مِنْهَا رَحْمَۃً وَاحِدَۃً بَیْنَ الْجِنِّ وَالإِنْسِ وَالْبَهَائِمِ وَالْهَوَامِّ، فَبِهَا یَتَعَاطَفُوْنَ، وَبِهَا یَتَرَاحَمُوْنَ، وَبِهَا تَعْطِفُ الْوَحْشُ عَلٰی وَلَدِهَا، وَأَخَّرَ اللهُ تِسْعًا وَتِسْعِیْنَ رَحْمَۃً یَرْحَمُ بِهَا عِبَادَہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ.

(1) 1۔ مسلم، الصحیح، کتاب التوبۃ، باب في سعۃ رحمۃ اللہ تعالی وأنھا سبقت غضبہ، 4: 2108، رقم: 2752

2۔ أحمد بن حنبل، المسند، 2: 434، رقم: 9607

3۔ ابن ماجہ، السنن، کتاب الزھد، باب ما یرجی من رحمۃ اللہ یوم القیامۃ، 2: 1435، رقم: 4293

4۔ أبو یعلی، المسند، 11: 258، 328، رقم: 6372، 6445

اللہ تبارک تعالیٰ کی سو رحمتیں ہیں، اس نے ان میں سے ایک رحمت جن و انس اور حیوانات و حشرات الارض پر نازل کی جس وجہ سے وہ ایک دوسرے پر شفقت کرتے اور ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں، اور اسی وجہ سے ہی وحشی جانور بھی اپنے بچوں پر رحم کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ننانوے رحمتیں بچا رکھی ہیں جن سے قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔

الغرض اللہ رب العزت نے جسے بھی اپنی اولاد کی پرورش کی ذمہ داری دی ہے خواہ وہ انسان ہے، جانورہے یا پرندہ، اسے اس نے اپنی اولاد کے لئے مجازی رب بنایا ہے یعنی مجازی طور پہ تربیت کرنے والا اور پالنے والا بنایا ہے جبکہ اس کی اپنی ذات ساری کائنات اور کل مخلوقات کے لئے محبت و رحمت سے معمور ہے۔ اس میں خواہ انسان ہوں یا حیوان، چرند ہوں یا پرند، مسلم ہوں یا غیر مسلم، مومن ہوں یا منکر، مشرک ہوں یا موحد، ملائک ہوں یا عالمِ خلق کی دیگر مخلوق، اللہ رب العزت کی ربوبیت اُن کے لئے محبت و رحمت سے لبریز ہے چونکہ اللہ تعالیٰ ان سب مخلوقات کی پرورش کرتا ہے اور ہر شے کو ایک نقطۂ آغاز سے لے کر کمال تک پہنچاتا ہے اس لئے رب العالمین کہلوانا بھی اسی کو زیبا ہے۔

اس کی اپنی مخلوق سے محبت و رحمت اس حقیقت سے بھی قطعی عیاں ہے کہ جہاں جہاں اور جس جس خطے میں بھی اس کی مخلوق موجود ہے وہیں اس کے پیدا ہونے، باقی رہنے کے لئے جملہ ساز و سامان بھی پیدا کیے ہیں۔ محبت و رحمت نہ ہو تو تربیت نہیں ہو سکتی اور جہاں تربیت ہوگی وہاں لازماً محبت و رحمت بھی ہو گی۔

5۔ باری تعالیٰ کا گناہ گاروں سے خطابِ محبت

گناہ گار بندوں سے محبت بھرا کلام سورۃ الزمر کی آیت نمبر 53 میں اس طرح بیان ہوا ہے:

قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤی اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُo

(الزُّمَر، 39: 53)

آپ فرما دیجیے: اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کر لی ہے، تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، بے شک اللہ سارے گناہ معاف فرما دیتا ہے، وہ یقینا بڑا بخشنے والا، بہت رحم فرمانے والا ہےo

سبحان اللہ۔ قربان جائیں اس انداز تخاطب پہ کہ گنہگاروں کو نوید بخشش سے پہلے ہی ’’یٰعِبَادِیَ‘‘ اے میرے بندو !کہہ کر مژدۂ محبت سنا دیا کہ گناہ گار ہو کر بھی تم ہو تو میرے ہی بندے۔ اللہ اللہ اپنائیت کا محبت بھرا کیا خوب صورت انداز ہے۔ ایسا روح پرور اور دلربا انداز کہ جس نے بزبانِ مصطفی ﷺ ان خطاکاروں کے سارے غم، بوجھ، وحشتیں اور مایوسیاں دور کر دیں جو اپنے گناہوں کے خوف اور مایوسی کے سبب راہِ حق سے ہٹتے جا رہے تھے انہیں ایک حوصلہ مل گیا، ٹھہراؤ نصیب ہوگیا اور وہ ایک مرتبہ پھر اپنے اللہ سے وابستہ ہوگئے۔ ان کے دلوں میں اپنے رب کی رحمت، امید نہیں بلکہ یقین کا سورج بن کر طلوع ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمتِ بے پایاں کے سبب ہمارے گناہوں اور نافرمانیوں کے باوجود اپنی محبت کا اس طرح اظہار فرمایا کہ ہمیں اپنا بندہ کہا ہے اور ہمیں اپنی بارگاہ سے دھتکار نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ اب بھی ہمارا ہی ہے۔ اگرچہ ہم اس کے احکامات کی بجاآوری میں کوتاہی کے مرتکب ہوئے تاہم اُس کی رحمت و محبت آج بھی ہماری ہی راہ تک رہی ہے۔

اسی مفہوم میں احادیث مبارکہ بھی وارد ہوئی ہیں۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

اَللهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَۃِ عَبْدِہٖ حِیْنَ یَتُوبُ إِلَیْہِ، مِنْ أَحَدِکُمْ کَانَ عَلٰی رَاحِلَتِہٖ بِأَرْضِ فَـلَاۃٍ، فَانْفَلَتَتْ مِنْهُ، وَعَلَیْهَا طَعَامُہٗ وَشَرَابُہٗ، فَأَیِسَ مِنْهَا، فَأَتٰی شَجَرَۃً، فَاضْطَجَعَ فِي ظِلِّهَا، قَدْ أَیِسَ مِنْ رَاحِلَتِہٖ، فَبَیْنَا هُوَ کَذٰلِکَ إِذَا هُوَ بِهَا، قَائِمَۃً عِنْدَہٗ، فَأَخَذَ بِخِطَامِهَا، ثُمَّ قَالَ مِنْ شِدَّۃِ الْفَرَحِ: اَللّٰھُمَّ، أَنْتَ عَبْدِي وَأَنَا رَبُّکَ۔ أَخْطَأَ مِنْ شِدَّۃِ الْفَرَح.

(1) 1۔ بخاري، الصحیح، کتاب الدعوات، باب التوبۃ، 5: 2324، رقم: 5949

2۔ مسلم، الصحیح، کتاب التوبۃ، باب في الحض علی التوبۃ والفرح بھا، 4: 2104، رقم: 2747

3۔ أحمد بن حنبل، المسند، 4: 283، رقم: 18515

4۔ أبو یعلی، المسند، 3: 257، رقم: 1704

جب اللہ تعالیٰ کا کوئی بندہ اُس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو اِس (شخص کے توبہ کرنے) پر اُس (شخص) سے (بھی) زیادہ خوشی ہوتی ہے جو جنگل میں اپنی سواری پر جائے اور (وہاں) سواری اُس سے گم ہو جائے اور اُسی سواری پر اس کے کھانے پینے کی چیزیں ہوں۔ وہ اس (سواری کے نہ ملنے) سے مایوس ہوکر ایک درخت کے پاس آئے اور اس کے سائے میں لیٹ جائے۔ جس وقت وہ سواری سے مایوس ہو کر لیٹا ہوا ہو تو اچانک (کہیں سے) وہ سواری اس کے پاس آ کھڑی ہو۔ وہ اس کی مہار پکڑ لے، پھر خوشی کی شدت سے یہ کہہ بیٹھے: ’اے اللہ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا ربّ ہوں‘۔ یعنی وہ شدتِ مسرت کی وجہ سے غلطی کر جائے۔

حضرت ابو سعید اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما دونوں بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

إِنَّ ﷲَ یُمْهِلُ حَتّٰی إِذَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّیْلِ الْأَوَّلُ نَزَلَ إِلَی السَّمَاءِ الدُّنْیَا فَیَقُوْلُ: هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ؟ هَلْ مِنْ تَائِبٍ؟ هَلْ مِنْ سَائِلٍ؟ هَلْ مِنْ دَاعٍ؟ حَتّٰی یَنْفَجِرَ الْفَجْرُ.

(1) 1۔ مسلم في الصحیح، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا، باب الترغیب في الدعاء والذکر، 1: 523، رقم: 758

2۔ أحمد بن حنبل، المسند، 3: 34، رقم: 11313

3۔ نسائي، السنن الکبری، 6: 124، رقم: 10315

4۔ عبد بن حمید، المسند، 1: 272، رقم: 861

5۔ ابن أبي شیبۃ، المصنف، 6: 72، رقم: 29556

6۔ عبد الرزاق، المصنف، 10: 444، رقم: 19654

7۔ طبراني، المعجم الکبیر، 22: 370، رقم: 927

اللہ تعالیٰ (انسان کو آرام اور نیند کے لیے) مہلت دیتا ہے یہاں تک کہ جب رات کا پہلا تہائی حصہ گزر جاتا ہے تو وہ آسمانِ دنیا کی طرف (نظر رحمت سے)متوجہ ہوتا ہے اور فرماتا ہے: ہے کوئی بخشش طلب کرنے والا؟ ہے کوئی توبہ کرنے والا؟ ہے کوئی سوال کرنے والا؟ ہے کوئی دعا کرنے والا؟ (یہ سلسلہ جاری رہتا ہے) یہاں تک کہ فجر طلوع ہوجاتی ہے۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

یَا ابْنَ آدَمَ، إِنَّکَ مَا دَعَوْتَنِي وَرَجَوْتَنِي غَفَرْتُ لَکَ عَلٰی مَا کَانَ فِیْکَ وَلَا أُبَالِي. یَا ابْنَ آدَمَ، لَوْ بَلَغَتْ ذُنُوْبُکَ عَنَانَ السَّمَاءِ ثُمَّ اسْتَغْفَرْتَنِي غَفَرْتُ لَکَ وَلَا أُبَالِي. یَا ابْنَ آدَمَ، إِنَّکَ لَوْ أَتَیْتَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطَایَا ثُمَّ لَقِیْتَنِي لَا تُشْرِکُ بِي شَیْئًا لَأَتَیْتُکَ بِقُرَابِھَا مَغْفِرَۃً.

(1) 1۔ أحمد بن حنبل، المسند، 5: 167، رقم: 21510، 21544

2۔ ترمذي، السنن، کتاب الدعوات، باب في فضل التوبۃ والاستغفار وما ذکر من رحمۃ اللہ لعبادہ، 5: 548، رقم: 3540

3۔ دارمي، السنن، 2/414، الرقم/2788

4۔ طبراني نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ’المعجم الکبیر (12: 19، رقم: 12346)‘ میں روایت کیا ہے۔

اے ابن آدم! جب تک تو مجھ سے دعا کرتا رہے گا اور مجھ سے امید رکھے گا تو جو کچھ بھی تو کرتا رہے میں تجھے بخشتا رہوں گا اور مجھے کوئی پروا نہیں۔ اے ابن آدم! اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندیوں تک پہنچ جائیں اور پھر تو مجھ سے بخشش مانگے تو میں تجھے بخش دوں گا اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ اے ابن آدم! اگر تو کرۂ اَرضی کے برابر بھی گناہ لے کر میرے پاس آئے اور مجھے اس حالت میں ملے کہ تو نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو تو یقینا میں تجھے کرۂ اَرضی کے برابر بخشش عطا کروں گا۔

امام قشیری نے ’الرسالہ‘ میں روایت کیا ہیکہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا داؤد علیہ السلام کی طرف وحی کی:

لَوْ یَعْلَمُ الْمُدْبِرُوْنَ عَنِّي، کَیْفَ انْتِظَارِي لَهُمْ وَرِفْقِي بِهِمْ وَشَوْقِي إِلٰی تَرْکِ مَعَاصِیْهِمْ، لَمَاتُوْا شَوْقاً إِلَيَّ، وَانْقَطَعَتْ أَوْصَالُهُمْ مِنْ مَحَبَّتِيْ، یَا دَاوُدُ، هٰذِهٖ إِرَادَتِيْ فِي الْمُدْبِرِیْنَ عَنِّيْ، فَکَیْفَ إِرَادَتِيْ فِيْ مُقْبِلِیْنَ إِلَيَّ؟

(الرسالۃ القشیریۃ: 332)

اگر وہ لوگ جو مجھ سے منہ موڑ لیتے ہیں، یہ جان لیں کہ میں ان (کی توبہ) کا کیسے انتظار کر رہا ہوں اور ان پر کیسے مہربانی کرنے والا ہوں اور ان کی معصیت کاریوں کے ترک کرنے کو کتنا پسند کرتا ہوں تو وہ میرے (ساتھ ملاقات کے) شوق میں مر جائیں اور ان کے (جسموں کے) جوڑ میری محبت کی وجہ سے الگ ہو جائیں۔ اے داؤد! میرا یہ ارادہ ان لوگوں کے متعلق ہے جو مجھ سے منہ موڑتے ہیں؛ تو جو لوگ میری طرف آتے ہیں ان کے بارے میں میرا ارادہ کیسا ہوگا؟

مذکورہ بالا آیت اور احادیث میں اللہ رب العزت کی طرف سے گنہگاروں کو توبہ سے پہلے ہی غیر مشروط (unconditionally) اور قطعی طور پر (categorically) کہا جا رہا ہے کہ اللہ رب العزت سارے گناہ معاف فرما دیتا ہے، وہ بڑی بخشش اور رحمت والا ہے اور بندہ کے توبہ کرنے سے وہ بہت خوش ہوتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان گنہگاروں کو یہ بھی حکم دیا جاتا کہ اگر تم اپنی خطاؤں پر نادم اور شرمندہ ہو کر معافی مانگو، توبہ کرو اور آئندہ کے لئے اپنی اصلاح کا وعدہ کرو تو تم اللہ کی رحمت کی شکل میں اس کی محبت کے حقدار ٹھہروگے مگر اس خطابِ محبت میںا نہیں براہ راست یہ حکم نہیں دیا بلکہ اس لامحدود عطا اور لطف پر مبنی اسلوب کے ذریعے ان گنہگاروں کے باطن میں حیاء اور ندامت کی تحریک پیدا کر دی کہ وہ خود بخود اپنے رب کی رحمت شعاری اور بخشش کے احساس سے اصلاح کے آرزو مند اور توبہ کے طالب بن جائیں اور یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں کہ اس ربِ رحیم کے کرم کا یہ عالم ہے تو ہم کیوں اس کے نافرمان اور باغی بنیں۔ اس طرح ان کے اندر سے رجوع الیٰ اللہ کی آواز اُٹھے اور وہ دوبارہ اس کی سمت پلٹ آئیں تاکہ وہ بہ رضا و رغبت تائب ہو کر اس کی اتباع و فرماں برداری میں آجائیں۔

6۔ اِنعامات و نوازشات کی صورت میں اِظہارِ محبت

جب ہم اللہ تعالیٰ کی انعامات و نوازشات کی طرف نظر کرتے ہیں تو ہمیں وہاں بھی محبت ہی محبت نظر آتی ہے۔ اگر وہ ہمیں رزق دیتا ہے تو یقینا رزق دینا، پرورش کرنا اور پالنا سرا سر عملِ محبت و شفقت ہے۔ اسی طرح ہمارے لئے زمین و آسمان کو بنانے، چاند اور سورج کو ہمارے لئے روشنی کا ذریعہ بنانے، حیات، گردشِ حیات اور بقائے زیست کے اسباب نہ صرف مہیا کرنا بلکہ انہیں ہمارے لئے مسخر کر کے ہماری خدمت پر مامور کرنا یہ سب کچھ ہمارے ساتھ محبت کا ایک اظہار ہی تو ہے۔ ہم پر اُس کا کس قدر لطف و کرم، رحمت و شفقت اور عنایت و احسان ہے اس کا اندازہ اس کائنات کے پورے نظام میں رب العزت کی جا بجا بکھری محبتوں سے بخوبی ہوتا ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی بے پایاں نوازشات اور انعامات کا ذکر جگہ جگہ ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ ؕ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیْرُ اللّٰهِ یَرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۖؗ فَاَنّٰی تُؤْفَكُوْنَo

(فاطر، 35: 3)

اے لوگو! اپنے اوپر اللہ کے انعام کو یاد کرو، کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سے روزی دے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پس تم کہاں بہکے پھرتے ہوo

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

اَللّٰهُ لَطِیْفٌۢ بِعِبَادِهٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ ۚ وَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ۠o

(الشورٰی، 42: 19)

اللہ اپنے بندوں پر بڑا لطف و کرم فرمانے والا ہے، جسے چاہتا ہے رِزق و عطا سے نوازتا ہے اور وہ بڑی قوت والا بڑی عزّت والا ہےo

اللہ رب العزت کا سورۃ الفاتحہ کی پہلی آیت میں اپنی ربوبیت والوہیت کا تعارف کروانے کے بعد، دوسری آیت میں اپنی صفاتِ رحمت {الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِo} کو بیان فرمانا، اس کی محبت و رحمت ہی ہے۔ اس نے اپنی دیگر تمام صفات میں سے کسی کا تذکرہ نہیں فرمایا (انہیں بعد کے لئے مؤخر کیا) اپنی ذات کا پہلا تعارف اور اپنی اُلوہیت و ربوبیت کا پہلا تصور اور نقش جو ذہن انسانی پر ثبت کرنے کے لئے چنا وہ الرحمٰن، الرحیم ہے تاکہ جونہی اللہ کا نام آئے تو سنتے ہی ذہنوں میں اُس کے رحمٰن و رحیم ہونے کا تصور اُبھر کر آجائے اور پھر انسان اللہ تعالیٰ کی اپنی مخلوق کے ساتھ محبت و شفقت کے تصورات میں کھو جائے۔

اللہ تعالیٰ نہ صرف مسلمانوں کا رازق ہے بلکہ مشرک و کفار اور نافرمانوں کو بھی بلا امتیاز رزق عطا فرماتا ہے۔ حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہیکہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰکا یہ ارشاد بیان فرمایا:

إِنِّي وَالْجِنُّ وَالإِنْسُ فِي نَبَأٍ عَظِیْمٍ، أَخْلُقُ وَیَعْبُدُ غَیْرِي، وَأَرْزُقُ وَیَشْکُرُ غَیْرِي.

(1) 1۔ طبراني، مسند الشامین، 2: 93، رقم: 974، 975

2۔ بیہقي، شعب الإیمان، 4: 134، رقم: 4563

3۔ دیلمي، مسند الفردوس، 3: 166، رقم: 4439

میرا اور جن و انس کا معاملہ بھی بڑا عجیب ہے (اُن میں بہت سے ایسے ہیں کہ) انہیں پیدا میں کرتا ہوں جبکہ وہ عبادت غیروں کی کرتے ہیں۔ رزق میں دیتا ہوں جبکہ وہ شکر غیروں کا ادا کرتے ہیں۔

ہمیں چاہیے کہ ہم جب بھی اسلام کا نام، نبوت ورسالتِ محمدی ﷺ یا شریعتِ اسلامیہ کا نام اور تعلیمات دوسروں کے سامنے پیش کریں تو پہلا تصور جو ہماری گفتگو سے مخاطب کے ذہن میں آئے وہ محبت، شفقت، رحمت اور امن و سکون کا ہو۔

اسلام دین محبت ہے، یہی وجہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی محبت و شفقت کو ظاہر کرنے والی اس کی صفت رحمت کا بیان قرآن مجید میں کم و بیش تین سو آیات کریمہ میں آیا ہے۔ اسی طرح حضور نبی اکرم ﷺ کی نبوت و رسالت کا سارا مزاج بھی محبت و رحمت پر مبنی ہے بلکہ جملہ تعلیمات اسلام کی روح خلق خداکے لئے شفقت اور امن و محبت ہے۔

7۔ اَحکامِ الٰہی کی تعمیل میں بھی اَصل محرک محبت ہے

محبت کا آغاز ذات سے ہوتا ہے۔ محبوب کی ہر ادا اور اُس کے نقش و نگار دل میں گھر کر جاتے ہیں۔ آہستہ آہستہ جب یہ محبت محب کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے تو پھر وہ محبوب کے اعمال، چال ڈھال اور سیرت و کردار کی طرف بھی متوجہ ہوتا ہے۔ چونکہ معاشرے میں اس کی پہچان محبوب کے نام کے حوالے سے ہو رہی ہوتی ہے لہٰذا وہ اس خیال سے کہ محبت پر کوئی حرف نہ آئے اپنے آپ کو محبوب کے رنگ میں رنگتا چلا جاتا ہے۔ اور آخر کار ’’رانجھا رانجھا کر دی نی میں آپے رانجھا ہوئی‘‘ کے مصداق اُس میں گم ہو کر رہ جاتا ہے۔ بندہ جب اللہ تعالیٰ سے محبت کا دعویٰ کرتا ہے توا س کی دلیل اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تعمیل کی صورت میں دیتا ہے، گویا احکام الٰہی کی تعمیل میں بھی کلیدی کردار ’’محبت‘‘ ہی کا ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے:

لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ وَ الْكِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ ۚ وَ اٰتَی الْمَالَ عَلٰی حُبِّهٖ ذَوِی الْقُرْبٰی وَ الْیَتٰمٰی وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ ۙ وَ السَّآىِٕلِیْنَ وَ فِی الرِّقَابِ ۚ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَی الزَّكٰوةَ ۚ وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا ۚ وَ الصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِ ؕ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا ؕ وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَo

(البقرۃ، 2: 177)

نیکی صرف یہی نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لو بلکہ اصل نیکی تو یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور (اللہ کی) کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائے، اور اللہ کی محبت میں (اپنا) مال قرابت داروں پر اور یتیموں پر اور محتاجوں پر اور مسافروں پر اور مانگنے والوں پر اور (غلاموں کی) گردنوں (کو آزاد کرانے) میں خرچ کرے، اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور جب کوئی وعدہ کریں تو اپنا وعدہ پورا کرنے والے ہوں، اور سختی (تنگدستی) میں اور مصیبت (بیماری) میں اور جنگ کی شدّت (جہاد) کے وقت صبر کرنے والے ہوں، یہی لوگ سچے ہیں اور یہی پرہیز گار ہیںo

محبت کے خمیر سے گندھا ہوا اطاعت و پیروی کا یہی تصور ہمیں اہل بیت اطہار کے ہاں نظر آتا ہے۔ ایک دفعہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم اور اہلِ بیت اطہارنے روزے رکھے۔ افطار کے وقت کسی یتیم نے صدا لگائی کہ بھوکا ہوں، عین حالت افطار میں کھانا اٹھا کر اس کو دے دیا۔ دوسرے دن ایک مسکین آ گیا، افطاری کے لئے رکھا کھانا اس کو کھلا دیا اور خود پانی سے افطار کر لیا۔ تیسرے دن اسیر( قیدی) آ گیا، افطاری اس کو دے دی۔ اللہ رب العزت نے محبت کے اس اظہار پر یہ آیت نازل فرمائی:

وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًاo

(الدھر، 76: 8)

’’اور (اپنا) کھانا اللہ کی محبت میں (خود اس کی طلب و حاجت ہونے کے باوجود اِیثاراً) محتاج، یتیم اور قیدی کو کھلا دیتے ہیں۔ ‘‘

یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں کھانا کھلا دیتے ہیں۔ مگر Motivating factor (محرک حقیقی) عَلٰی حُبِّہٖ ’’اس کی محبت میں کھلا دیتے ہیں‘‘ کو قرار دیا۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہو یا رسول اللہ ﷺ کی اتباع اس میں مرکزی حیثیت و بنیادی محرک رشتۂ محبت ہے اور یہ محبت بڑھتے بڑھتے جب تک مقامِ عشق تک نہ پہنچے، اس وقت تک کوئی عملقبول اور کوئی عبادت، عبادت نہیں کہلا سکتی ہے۔ یہی بات حدیث نبوی میں آقا علیہ السلام نے فرمائی۔

حضرت اَنس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

ثَـلَاثٌ مَنْ کُنَّ فِیْہِ وَجَدَ حَـلَاوَۃَ الْإِیْمَانِ: أَنْ یَکُوْنَ اللهُ وَرَسُوْلُهٗ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِمَّا سِوَاھُمَا، وَأَنْ یُحِبَّ الْمَرْءَ لَا یُحِبُّهٗ إِلَّا ﷲِ، وَأَنْ یَکْرَهَ أَنْ یَعُوْدَ فِي الْکُفْرِ کَمَا یَکْرَهٗ أَنْ یُقْذَفَ فِي النَّارِ.

وَفِي رِوَایَۃٍ: حَـلَاوَۃَ الإِسْلَامِ.

(1) 1۔ بخاري، الصحیح، کتاب الإیمان، باب حلاوۃ الإِیمانِ، 1: 14، رقم: 16

2۔ أیضًا، کتاب الإیمان، باب من کرہ أن یعود في الکفر کما یکرہ أن یلقی في النّار من الإیمان، 1: 16، رقم: 21

3۔ مسلم، الصحیح، کتاب الإیمان، باب بیان خصال من اتصف بھن وجد حلاوۃ الإیمان، 1: 66، رقم: 43

4۔ ترمذي، السنن، کتاب الإیمان، باب (10)، 5: 15، رقم: 2624

5۔ نسائي، السنن، کتاب الإیمان وشرائعہ، باب طعم الإیمان، 8: 94، رقم: 4987

تین خصلتیں جس شخص میں پائی جائیں گی وہی ایمان کی مٹھاس حاصل کرے گا۔ (وہ تین خصلتیں یہ ہیں): (1) اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ اسے باقی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہوں۔ (2) جس شخص سے بھی اسے محبت ہو وہ محض اللہ تعالیٰ کی وجہ سے ہو۔ (3) کفر سے نجات پانے کے بعد دوبارہ (حالتِ) کفر میں لوٹنے کو وہ اس طرح ناپسند کرتا ہو جیسے آگ میں پھینکے جانے کو ناپسند کرتا ہے۔

ایک روایت میں (اِیمان کی مٹھاس کی جگہ) ’اسلام کی مٹھاس‘ کے الفاظ ہیں۔

آقا علیہ السلام نے فرمایا: جس شخص میںیہ تین خصائل ہوں گے۔ حقیقت میں صرف اسی نے ایمان کی لذت کو چکھا۔ کوئی شخص خواہ ساری رات مصلّے پر کھڑا ہونے والا ہی کیوں نہ ہو، ساری زندگی تبلیغ اور تقریر کیوں نہ کرتا پھرے، وضع قطع شریعت کے مطابق کیوں نہ ہو مگر جب تک اس میں یہ تین چیزیں نہیں پائی جائیں گی، وہ بندہ مومن نہیں ہوسکتا۔ کیوں؟ اس لئے کہ ان تینوں اعمال کی اصل بھی محبت ہی ہے۔

8۔ ’محبت‘ سے قلّتِ اَعمالِ صالحہ کا ازالہ ہوتا ہے

اگر محبت کے ساتھ عملِ صالح اور اطاعت بھی شامل ہو جائے تو ایمان کامل ہوجاتا ہے۔ اگر عمل صالح و اطاعت، محبت کے شامل حال نہ ہو تو بھی ایمان کا وجود باقی رہتا ہے مگر وہ ناقص ہوتا ہے یعنی عمل صالح کے بغیر ایمان ناقص رہتا ہے تاہم بندہ ایمان سے خارج نہیں ہوتا، بلکہ مومن ہی رہتا ہے۔ لیکن اگر اعمال صالحہ کے پہاڑ بھی موجود ہوں مگر محبت و عشق کی خیرات نصیب نہ ہو تو بندہ ایمان سے ہی خارج ہو جاتا ہے اس لئے کہ اسلام اور اسکی جملہ تعلیمات کی اساس محبت ہے۔

جن کے دل محبت کے لئے چُنے ہی نہیں گئے وہ کہتے ہیں ’’ خالی محبت میں کیا رکھا ہے، عمل کی بات کرو‘‘۔ یہ سوچ دور حاضر کا فتنہ ہے۔ اگر آقا علیہ السلام کی کل تعلیمات کا بنظرغائر مطالعہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ آقا علیہ السلام نے جب بھی عمل کی بات کی وہاں عمل کی جانب ہی ترغیب دلانا اور متوجہ کرنا مقصود تھا اور جہاں محبت کی بات کی وہاں محبت ہی کی اہمیت کو بیان کرنا مطمع نظر تھا۔ عمل کی اہمیت کے بیان سے یہ معنی کہاں سے لے لیا گیا کہ محبت، عمل کی اہمیت کی نفی کرتی ہے۔

آقا علیہ السلام نے فرمایا کہ ایمان کی پہلی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کائنات کی سب محبتوں سے بڑھ کر ہو۔ بخاری ومسلم کی متفق علیہ حدیث ہے:

مَنْ کَانَ اللهُ وَرَسُوْلُہٗ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِمَّا سِوَاهُمَا.

(1) 1۔ بخاری، الصحیح، کتاب الایمان باب من کرہ أن یعود في الکفر، 1: 16، رقم: 21

2۔ مسلم، الصحیح، کتاب الإیمان، باب: بیان خصال من الصف بھن وجد حلاوۃ الایمان، 1: 66، رقم: 43

اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ اسے باقی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہوں۔

یاد رکھیں! جو لوگ فقط عمل کو محبت کا نام دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ صرف عمل کا نام ہی محبت ہے، وہ لوگ بہکاوے میں ہیں۔ محبت کے کمال کے لیے اگرچہ عمل لازم ہے مگر عمل عین محبت نہیں ہے بلکہ عمل شرط محبت اور تقاضائے محبت ہے۔ عمل واجبات محبت میں سے ہے، مکملات محبت میں سے ہے مگر محبت اور چیز ہے جس کا تعلق دل کی دنیا سے ہے جبکہ عمل اور چیز ہے۔

حضرت اَنس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی شخص نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا:

مَتَی السَّاعَۃُ؟ قَالَ لَہٗ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : مَا أَعْدَدْتَ لَھَا؟ قَالَ: حُبَّ اللهِ وَرَسُوْلِہٖ۔ قَالَ: أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ.

(1) 1۔ بخاري، الصحیح، کتاب فضائل الصحابۃ، باب مناقب عمر بن الخطاب، 3: 1349، رقم: 3485

2۔ مسلم، الصحیح، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب المرء مع من أحب، 4: 2032، رقم: 2639

3۔ ترمذي، السنن، کتاب الزھد، باب ما جاء أن المرء مع من أحب، 4: 595، رقم: 2385

قیامت کب آئے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تو نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟ اُس نے عرض کیا: میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تو اسی کے ساتھ ہوگا جس سے تجھے محبت ہے۔

ایک روایت میں حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک آدمی کچھ لوگوں سے محبت کرتا ہے لیکن اُن جیسے عمل نہیں کر سکتا؟ آپ ﷺ نے فرمایا:

أَنْتَ یَا أَبَا ذَرٍّ، مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ. قَالَ: فَإِنِّيْ أُحِبُّ ﷲَ وَرَسُوْلَہٗ. قَالَ: فَإنَّکَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ.

(1) 1۔ أحمد بن حنبل، المسند، 5: 166، رقم: 21501

2۔ أبوداود، السنن، کتاب الأدب، باب إخبار الرجل الرجل بمحبتہ إلیہ، 4: 333، رقم: 5126

3۔ دارمي، المسند، 2: 414، رقم: 2787

4۔ بزار، المسند، 9: 373، رقم: 395

5۔ ابن حبان، الصحیح، 2: 315، رقم: 556

6۔ بخاري، الأدب المفرد، 1: 128، رقم: 351

اے ابو ذر! تو ان کے ساتھ ہوگا جن سے تجھے محبت ہے۔ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے دوبارہ فرمایا: (اے ابو ذر!) تو یقینا ان کے ساتھ ہوگا جن سے تجھے محبت ہے۔

اشارہ اس امر کی طرف تھا کہ تجھے مجھ سے محبت ہے، اگر کثرت عمل نہیں بھی تو کوئی بات نہیں، محبت تجھے قیامت کے روز میرے ساتھ میری کملی میں رکھے گی۔

ایک صحابی کا نام عبد اللہ رضی اللہ عنہ تھا جن کا لقب ’الحمار‘ تھا۔ ان کا عمل یہ تھا کہ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضور نبی اکرم ﷺ کی مبارک مجلس میں بیٹھے ہوتے تو وہ وقتاً فوقتاً حضور ﷺ کو ہنساتے رہتے۔ آقا علیہ السلام کی بارگاہ میں ہر کوئی اپنا مسئلہ لے کر آتا؛ کوئی اپنی بیوی، بچوں کا، کوئی روزگار کا، کوئی ذاتی پریشانی کا، کوئی ایمان اور اسلام کا الغرض ہر کوئی اپنی مشکلات کے ساتھ آتا اور آقا علیہ السلام سارا دن لوگوں کی مشکلات سنتے اور انہیں حل فرماتے۔

اس صحابی رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ ہر کوئی اپنی مشکلات سنا سنا کے حضور ﷺ کو تھکاتا ہے، لیکن ہنساتا کوئی نہیں، کوئی مزاح نہیں کرتا کہ آپ ﷺ کا بوجھ ہلکا ہو اور آپ ﷺ کی طبیعت ہشاش بشاش ہو جائے۔ لہٰذا آقا علیہ السلام کو خوش رکھنے اور آپ ﷺ کی تھکاوٹ دور کرنے کی نیت کے ساتھ یہ صحابی وقفے وقفے سے آقا علیہ السلام کو کوئی لطیفہ سناتے اور حضور ﷺ کو ہنسا دیتے۔ آقا علیہ السلام تبسم فرما دیتے تو یہ صحابی خوش ہو جاتے کہ آپ علیہ السلام کا بوجھ اتر گیا ہے۔ اس صحابی رضی اللہ عنہ کی محبت کی کیفیت یہ تھی کہ وہ حضور علیہ السلام کو خوش رکھتے تھے۔

اس صحابی سے کوئی گناہ سرزد ہوگیا جس کی سزا کے طور پر ان پر حد جاری ہوئی۔ کچھ عرصے بعد پھر گناہ کا مرتکب ہوا اور حد جاری ہوئی۔ لیکن بشری تقاضوں کے باعث وہ اپنی گناہ والی عادت سے چھٹکارا نہ پاسکے۔ ایک دفعہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مسجد نبوی میں بیٹھے ان کا ذکر کر رہے تھے اور ان پر لعنت بھیج رہے تھے کہ آقا علیہ السلام نے اس کو کئی بار سزا دی لیکن وہ پھر بھی باز نہیں آتا۔ جب اس پر لعنت بھیجنے کی آواز حضور علیہ السلام نے سنی توآقا علیہ السلام تیزی سے باہر تشریف لے آئے اور ارشاد فرمایا:

لَا تَلْعَنُوْهُ، فَوَاللهِ، مَا عَلِمْتُ إِنَّہٗ یُحِبُّ ﷲَ وَرَسُوْلَہٗ.

(1) بخاري، الصحیح، کتاب الحدود، باب مایکرہ من لعن شارب الخمر وإنہ لیس بخارج من الملۃ، 6: 2489، رقم: 6398

اس پر لعنت نہ کرو۔ بخدا! میں جانتا ہوں کہ یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت رکھتا ہے۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا بار بار گناہ کا ارتکاب اور اس پر سزا، کا یہ عمل اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کا اظہار تھا؟ صاف ظاہر ہے کہ نہیں، ہرگز نہیں۔ تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سا عمل تھا جس نے اعمال میں کمی اور گناہوں کے بار بار ارتکاب کو بھی ڈھانپ لیا اور اسے حضور نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرنے والا قرار دیا۔

یہ اس صحابی کا حضور ﷺ کو ہنسانے اور ان کی طبیعت کو ہشاش بشاش کرنے والا ’’عملِ محبت‘‘ تھا جس نے محبت مصطفی ﷺ اور دین اسلام کی حقیقی روح ’’محبت‘‘ کو واضح کر دیا۔

اس حدیث مبارکہ سے پتہ چلا کہ اصل ایمان ’’محبت‘‘ ہے۔ شجر ایمان کی جڑ محبت ہے اور اعمالِ صالحہ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، یہ سب اس کے پھل پھول ہیں۔ اگر کسی سال درخت پہ پھل نہ بھی لگے مگر جڑ سلامت ہو، جلی ہوئی نہ ہو تو کبھی نہ کبھی پھل لگ ہی جاتا ہے لیکن اگر جڑ جل جائے تو پھر نہ پھل لگتا ہے اور نہ درخت بچتا ہے۔

اگر اعمال صالحہ میں کمی رہ گئی تو محبت اس کمی کو پورا کر لے گی کہ آپ کو پھر پکڑ کر اعمال صالحہ کی طرف لے آئے گی لیکن اگر ’’محبت‘‘ دل سے نکل گئی تو اعمالِ صالحہ باعثِ عذاب بن جائیں گے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ من کی دنیا میں اللہ تعالیٰ اور اُس کے محبوب ﷺ کی محبت کے چراغ فروزاں کئے جائیں اور دل کی وادی کو ’’محبت‘‘ کے انہی پھولوں کی آبیاری سے مہکایا اور سجایا جاتا رہے۔

9۔ مقرب اور محبوب بندوں سے محبت کرنے کا حکم

احادیث مبارکہ میں محبت کا یہ بنیادی اصول بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے کے علاوہ اس کے ان خاص بندوں سے بھی محبت کی جائے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتے ہیں اور جن سے خود اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے۔ کیونکہ ان کی محبت باعث قربِ الٰہی ہے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

مَنْ عَادٰی لِي وَلِیًّا، فَقَدْ آذَنْتُہٗ بِالْحَرْبِ، وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْئٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَیْہِ، وَمَا یَزَالُ عَبْدِي، یَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتّٰی أُحِبَّہٗ، فَإِذَا أَحْبَبْتُہٗ: کُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي یَسْمَعُ بِہٖ، وَبَصَرَهُ الَّذِي یُبْصِرُ بِہٖ، وَیَدَهُ الَّتِي یَبْطِشُ بِھَا، وَرِجْلَهُ الَّتِي یَمْشِي بِھَا، وَإنْ سَأَلَنِي لَأُعْطِیَنَّہٗ، وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِي، لَأُعِیذَنَّہٗ، وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْئٍ أَنَا فَاعِلُہٗ تَرَدُّدِي عَنْ نَفْسِ الْمُؤْمِنِ، یَکْرَهُ الْمَوْتَ وَأَنَا أَکْرَهُ مَسَائَتَہٗ.

(1) 1۔ بخاري، الصحیح، کتاب الرقاق، باب التواضع، 5: 2384، رقم: 6137

2۔ ابن حبان، الصحیح، 2: 58، رقم: 347

3۔ بیھقي، السنن الکبری، 10: 219

4۔ أیضًا، کتاب الزھد الکبیر، 2: 269، رقم: 696

جو میرے کسی ولی سے دشمنی رکھے میں اُس سے اعلانِ جنگ کرتا ہوں اور میرا بندہ ایسی کسی چیز کے ذریعے میرا قرب نہیں پاتا جو مجھے فرائض سے زیادہ محبوب ہو اور میرا بندہ نفلی عبادات کے ذریعے برابر میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے سوال کرتا ہے تو میں اسے ضرور عطا کرتا ہوں اور اگر وہ میری پناہ مانگتا ہے تو میں ضرور اسے پناہ دیتا ہوں۔ میں نے جو کام کرنا ہوتا ہے اس میں کبھی اس طرح متردد نہیں ہوتا جیسے بندۂ مومن کی جان لینے میں ہوتا ہوں۔ اسے موت پسند نہیں اور مجھے اس کی تکلیف پسند نہیں۔

حضرت عبد اللہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

أَوْحَی اللهُ إِلٰی دَاوُدَ عليه السلام أَنْ أَحِبَّنِي وَأَحِبَّ أَحِبَّائِي وَحَبِّبْنِي إِلٰی عِبَادِي۔ قَالَ: یَا رَبِّ، أُحِبُّکَ وَأُحِبُّ أَحِبَّائَکَ فَکَیْفَ أُحَبِّبُکَ إِلٰی عِبَادِکَ؟ قَالَ: اذْکُرُوْنِي لَھُمْ فَإِنَّھُمْ لَنْ یَّذْکُرُوْا مِنِّي إِلَّا خَیْرًا.

(1) 1۔ ابن أبي شیبۃ، المصنف، 7: 68، رقم: 34254

2۔ ابن أبي الدنیا، الأولیاء، 1: 48-49، لرقم: 29

3۔ بیہقي، شعب الإیمان، 6: 1، رقم: 7668

4۔ دیلمي عن ابن عباس رضی اللہ عنہ، مسند الفردوس، 3: 5، رقم: 4543

اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کی طرف وحی نازل کی: (اے داؤد!) مجھ سے اور میرے دوستوں سے محبت کرو اور مجھے میرے بندوں کے لیے محبوب بناؤ۔ انہوں نے عرض کیا: اے ربّ! میں تجھ سے اور تیرے دوستوں سے محبت تو کرتا ہوں لیکن میں تجھے تیرے بندوں کے لیے محبوب کس طرح بناؤں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ان کے لیے (بھی) میرا (محبت بھرا) ذکر کرو، پھر وہ مجھے ضرور محبت ہی کے ساتھ یاد کریں گے۔

حضرت ابو موسی الدَیبلی بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو امام ابو یزید بسطامی سے یہ دریافت کرتے سنا کہمجھے ایسا عمل بتائیں جس کے ذریعے میں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر سکوں؟ اس پر اُنہوں نے فرمایا:

أَحْبِبْ أَوْلِیَاءَ اللهِ تَعَالٰی لِیُحِبُّوْکَ، فَإِنَّ ﷲَ تَعَالٰی یَنْظُرُ إِلٰی قُلُوْبِ أَوْلِیَائِہٖ، فَلَعَلَّہٗ أَنْ یَنْظُرَ إِلَی اسْمِکَ فِي قَلْبِ وَلِیِّہٖ فَیَغْفِرُ لَکَ.

(2) 1۔ ابن الجوزي، صفۃ الصفوۃ، 4: 112

2۔ ابن الملقن، حدائق الأولیاء: 202

اللہ تعالیٰ کے اولیاء سے محبت کرو تاکہ وہ تجھ سے محبت کرے۔ اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کے دلوں کی طرف نظر (محبت و شفقت) فرماتا ہے، ہو سکتا ہے کہ وہ تمہارا نام کسی ولی کے دل میں پائے اور تمہاری مغفرت فرما دے۔

امام رفاعی نے حالۃ أھل الحقیقۃ مع اللہ میں محبت کے حوالے سے بڑی خوبصورت بات کہی۔ یہی بات حقیقت میں دین اسلام کے دین محبت ہونے کی بنیاد ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بعض کتبِ (سماویہ) میں فرمایا ہے:

اَلْقُلُوْبُ بِیَدِي، وَالْحُبُّ فِي خَزَائِنِي، فَلَوْلَا حُبِّي لِعَبْدِي مَا قَدَرَ الْعَبْدُ أَنْ یُحِبَّنِي، وَلَوْلَا ذِکْرِي لَہٗ فِي الْأَزَلِ مَا قَدَرَ أَنْ یَذْکُرَنِي، وَلَوْلَا إِرَادَتِي إِیَّاهُ فِي الْقِدَمِ مَا قَدَرَ الْعَبْدُ أَنْ یُرِیْدَنِي.

(1) رفاعي، حالۃ أھل الحقیقۃ مع اللہ: 127.

تمام دل میرے دستِ قدرت میں ہیں، محبت میرے خزانوں میں ہے۔ اگر میں اپنے بندے سے محبت نہ کرتا تو وہ بھی مجھ سے محبت نہ کر سکتا۔ اگر میں نے ازل میں اُس کا تذکرہ نہ کیا ہوتا تو اُس کے بس میں نہیں تھا کہ وہ مجھے یاد کرتا اور اگر میں نے پہلے اُس کی طرف توجہ نہ کی ہوتی تو بندے کو یہ قدرت نہ تھی کہ میری طرف رُخ کرتا۔

پس اگر اللہ تعالیٰ سے تعلق کی بنیاد محبت پر قائم ہے تو دین اسلام کے فروغ و اشاعت کے لئے بھی محبت ہی کو شعار بنانا ہوگا۔ اگر اللہ تعالیٰ مخلوق سے بے نیاز و غنی ہونے کے باوجود مخلوق سے محبت کرتا اور اُس سے محبت کی امید رکھتا ہے تو مخلوق کو بھی اللہ تعالیٰ کی اسی سنت کی پیروی میں انسانوں سے محبت و مودت کرنا ہوگی۔

حضرت اَدرع سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک رات میں حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں پہرہ داری کے فرائض ادا کرنے آیا تو (کہیں سے) ایک شخص کی بلند آواز سے قرأت کی آواز آرہی تھی۔ اتنے میں حضور نبی اکرم ﷺ باہر تشریف لے آئے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ آدمی ریاکار معلوم ہوتا ہے۔ (ایک روایت میں بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیا یہ شخص ریاکار ہے؟) آپ ﷺ نے فرمایا: معاذ اللہ! (ایسا ہرگز نہیں) یہ تو عبد اللہ ذو البجادین ہے۔

اس واقعہ کے چند روز بعد ان کا انتقال ہوگیا۔ جب ان کا جنازہ تیار ہوا تو حضور نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کرام سے فرمایا:

ارْفُقُوْا بِہٖ رَفَقَ اللهُ بِہٖ، إِنَّہٗ کَانَ یُحِبُّ ﷲَ وَرَسُوْلَہٗ. قَالَ: وَحَفَرَ حُفْرَتَہٗ. فَقَالَ: أَوْسِعُوْا لَہٗ أَوْسَعَ اللهُ عَلَیْہِ. فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِہٖ: یَا رَسُوْلَ اللهِ، لَقَدْ حَزِنْتَ عَلَیْہِ. فَقَالَ: أَجَلْ إِنَّہٗ کَانَ یُحِبُّ ﷲَ وَرَسُوْلَہٗ.

(1) 1۔ أحمد بن حنبل، المسند، 4: 337، رقم: 18992

2۔ ابن ماجہ، السنن، کتاب الجنائز، باب ما جاء في حفر القبر، 1: 497، رقم: 1559

3۔ ابن أبي عاصم، الآحاد والمثاني، 4: 348، رقم: 2382

4۔ ابن حبان، الثقات، 2: 99

5۔ طبرانی، المعجم الأوسط، 9: 52، رقم: 9111

6۔ بیہقی، شعب الإیمان، 1: 417، رقم: 583

اپنے بھائی کے ساتھ نرمی کرنا، اللہ تعالیٰ بھی اس کے ساتھ نرمی کرے گاکیوں کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت رکھتا تھا۔ لوگوں نے ان کی قبر کھودی تو آپ ﷺ نے فرمایا: قبر کشادہ کرو، اللہ سبحانه وتعالى بھی ان پر کشادگی کرے گا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ ! آپ کو ان کا بہت غم ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں یہ اللہ سبحانه وتعالى اور اس کے رسول سے محبت (جو) رکھتے تھے۔

10۔ بعثتِ انبیاء علیہم السلام کا سبب بھی محبت ہے

مختلف قوموں اور ملکوں میں انبیاء علیہم السلام کی بعثت بھی اللہ تعالیٰ کی اپنی مخلوق سے محبت کے مظاہر میں سے ہے۔ اللہ رب العزت کی یہ سنت ہے کہ وہ کسی قوم یا کسی بستی والوں کی طرف نبی مبعوث کئے بغیر ان کی بد اعمالیوں پر انہیں سزا نہیں دیتا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلاًo

(الأسراء، 17: 15)

اور ہم ہرگز عذاب دینے والے نہیں ہیں یہاں تک کہ ہم (اس قوم میں) کسی رسول کو بھیج لیں۔

معلوم ہوا کہ انبیاء علیہم السلام کی بعثت اور انہیں لوگوں کی ہدایت پر مامور کرنا اللہ تعالیٰ کی رحمت کا اعلیٰ مظہر ہے کیوں کہ وہ ہر حال میں اپنی مخلوق کو سزا و عذاب سے نجات دینا چاہتا ہے۔ کسی کو عذاب و سزا سے بچانے کے لئے ایسے اقدامات کرنا اُس کے ساتھ محبت ہی کی ایک دلیل ہے۔

11۔ اُوصاف و کمالاتِ مصطفی ﷺ میں اظہار محبت

اوصاف و کمالات مصطفی ﷺ کے بے شمار پہلو آپ ﷺ کے ننانوے (99) اسماء سے ظاہر ہیں۔ ان سب میں ایک ہی شان جھلکتی نظر آتی ہے کہ آپ ﷺ پیکر محبت و رحمت ہیں۔ آپ ﷺ کی فطرت میں ودیعت کردہ یہ جذبہ محبت و شفقت صرف مسلمانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ تمام عالمین کے لئے ہے۔ گویا ہر زمان و مکان کی مخلوق خدا کو حضور نبی اکرم ﷺ کے در سے صرف محبت و رحمت ہی کی خیرات ملتی ہے۔ ارشاد فرمایا:

لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌo

(التوبۃ، 9: 128)

’’بیشک تمہارے پاس تم میں سے (ایک باعظمت) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے۔ تمہارا تکلیف و مشقت میں پڑنا ان پر سخت گراں (گزرتا) ہے۔ (اے لوگو!) وہ تمہارے لئے (بھلائی اور ہدایت کے) بڑے طالب و آرزو مند رہتے ہیں (اور) مومنوں کے لئے نہایت (ہی) شفیق بے حد رحم فرمانے والے ہیں۔ ‘‘

آپ ﷺ کی مخلوق خدا بالخصوص اُمت مسلمہ کے لئے محبت و رحمت کا یہ عالم ہے کہ اگر کسی بھی انسان کو کوئی معمولی سی بھی تکلیف اور اذیت پہنچتی ہے یا کوئی ہلکی سی مشقت بھی آن پڑتی ہے تو اس کا دکھ، درد اور اثر یہ رسول ﷺ اپنی جان پر محسوس کرتے ہیں۔ انسانوں کی جانوں، احساسات اور احوالِ حیات کی بہتری اور خیر کے طلبگار رہتے ہیں اور ہماری جانوں سے بھی زیادہ ہمارے لئے فکر مند رہتے ہیں، اس لئے کہ اسی نبی کی محبت اور شفقت و رحمت تمہاری اپنی جانوں سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے۔ ارشاد فرمایا:

اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ.

(الأحزاب، 33: 6)

یہ نبی (مکرّم ﷺ ) مومنوں کے ساتھ اُن کی جانوں سے زیادہ قریب اور حقدار ہیں۔

یعنی تمہاری جانیں تم سے دور ہیں مگر یہ رسول تمہاری جانوں سے بھی بڑھ کر تم سے قریب ہیں۔ تم جہاں کہیں بھی ہو، تمہاری اپنی جان کو تمہاری تکلیف کا احساس بعد میں ہوتا ہے، مگر مکینِ گنبدِ خضریٰ ہمارے آقا و مولا ﷺ کو پہلے پتہ چل جاتا ہے کیونکہ یہ ہماری جانوں کے قریب تر ہیں۔ ان کا احساس، محبت، شفقت، شفاعت، توسل، نبوت، رسالت اور توجہ تمہاری جانوں کے قریب تر ہے۔

پس ثابت ہوا کہ اللہ کے ہاں بھی سراسر غلبۂ محبت ہے، اس کے رسول کے ہاں بھی سراسر محبت ہی محبت ہے اور دینِ اسلام بھی سراسر مبنی بر محبت ہے۔ چنانچہ جب شفقت، رحمت، محبت اور آسانی کی یہ صورتحال ہو تو اسلامی تعلیمات اور احکامِ شریعت میں کسی قسم کے جبر، بربریت و دہشت اور سختی کی گنجائش سرے سے رہتی ہی نہیں۔

12۔ رحمتِ مصطفی ﷺ کی عالم گیریت میں پنہاں پیغامِ محبت

جس طرح اللہ تعالیٰ کی محبت ساری کائنات کے لئے ہے، اسی طرح حضور نبی اکرم ﷺ کی محبت بھی ساری کائنات کے لئے ہے۔ اسی لئے جب اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اپنا ذکر کیا تو رب العالمین کہا اور جب آقا علیہ السلام کی محبت کا مرتبہ بیان کیا تو رحمۃ للعالمین فرمایا۔ الحمد سے والنَّاس تک پورے قرآن میں حضور ﷺ کو کہیں رحمۃ للمسلمین نہیں کہا- سو کوئی خدا اور مصطفیٰ ﷺ کو مانے یا نہ مانے لیکن خدا اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کسی حال میںکم نہیں ہوتی۔ جب ان دو محبتوں کو جمع کر لیا جائے تو یہی دین اسلام ہے۔ ثابت ہوا کہ دین اسلام کی رحمت بھی خدا اور اس کے رسول کی رحمت کی طرح صرف اُمتِ مسلمہ کے لئے نہیں ہے بلکہ کل کائنات کیلئے ہے۔

اللہ رب العزت نے جہاں اپنی ربوبیت کو ’’رب العالمین‘‘ کہہ کر سارے جہانوں کے لئے عام کیا وہیں اپنے آخر الزمان نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ کی رحمت کو {وَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ} کے الفاظ سے سارے عوالم کے لئے سراپا رحمت قرار دیا۔ بتانا یہ مقصود تھا کہ جہاں میں تمام جہانوں کا رب ہوں وہاں میرا محبوب رسول ﷺ تمام جہانوں کے لئے رحمت و محبت ہے۔ گویا اس طرح اللہ پاک نے اپنی محبت و رحمت بھی عالمین کے لئے عام رکھی اور اپنے محبوب ﷺ کا پیکرِ محبت و رحمت و شفقت ہونا بھی عالمین کے لئے عام فرمایا۔

اللہ رب العزت نے اپنی شان ربوبیت اور نبی اکرم کی رحمت، آفاقیت و عالمگیریت کا جو تعارف کروایا ہے اس سے مقصود تمام بنی نوعِ انسان کو عموماً اور امت مسلمہ کو خصوصاً یہ پیغام دینا ہے کہ اے میرے بندو! اگر تم حقیقت میں میرے بندے ہو اور میری بندگی کا نور حقیقتاً تمہارے قلب و باطن، شعور، فکر و ذہن، عقیدہ و عمل، اخلاق و کردار میں اتر گیا ہے یا تم اسے اپنے باطن میں اتارنا چاہتے ہو تو پھر تم میری اور میرے محبوب ﷺ کی محبت رحمت و شفقت، اپنے اندر پیدا کر کے اپنی شخصیت بدل ڈالو۔ اس طرح کہ تم ذاتی، علاقائی، گروہی، نسلی، لسانی حتی کہ تمام محدود طبقاتی اور مذہبی وفاداریوں سے نکل کر ساری دنیا کے لئے فیض رسانی کا مرکز بن جاؤ۔ اس لئے کہ میرا بندہ وہ ہے جس کی محبت، رحمت و شفقت پوری کائنات کے لئے عام ہو جیسے میری ربوبیت کا چشمہ ساری کائنات کے لئے عام ہے۔

13۔ غیر مسلموں سے محبت و شفقت بھرا سلوک

وہ کافر جو اللہ تعالیٰ کو مانتا بھی نہیں بلکہ اسکے مقابلے میں بتوں کی پوجا کرتا ہے، سارا دن لات و منات اور شیوا و برہما کی عبادت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ تو اسے بھی بیماری سے شفا اور رزق دیتا ہے۔ وہ یہ نہیں کہتا کے جن کی پوجا کرتے ہو ان سے مانگو بلکہ خدا کی رحمت تو ہر خاص و عام کے لئے ہے اور یہی عملِ مصطفیٰ ﷺ بھی ہے۔ یعنی جو حضور ﷺ کی غلامی میں ہے، حضور ﷺ کی چادر رحمت اس کے سر پر بھی ہے اور جو آقا علیہ السلام پر اپنی تلواریں چلا رہے ہیں اور اپنے وطن مالوف مکہ کی سرزمین سے نکال رہے ہیں، ان پر بھی ہے۔ فتح مکہ کے موقع پر مکہ مکرمہ میں داخل ہو کر حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہنے بلند آواز سے کہا:

اَلْیَوْم یَوْمُ الْمَلْحَمَۃ.

(1) بخاری الصحیح کتاب المغازی، باب أین رکز النبی الریۃ یوم الفتح، 4 : 1559 رقم۔ 4030

آج انتقام کا دن ہے۔

ابو سفیان نے یہ جملہ تاجدارِ کائنات ﷺ کے کانوں تک پہنچا دیا۔ آقا ﷺ کھڑے ہو گئے اور جواب میں فرمانے لگے:

لَا لَا أَلْیَوْمَ یَوْمُ الْمَرْحَمَۃ.

(1) 1۔ شافعی، تاریخ مدینۃ دمشق، 23: 454

2۔ عبدالبر، الاستیعاب، 2: 597

3۔ شوکانی، نیل الأوطار، 8: 168

آج انتقام کا نہیں بلکہ معاف کردینے کا دن ہے۔

14۔ طلب گارِ رحمت ہو تو محبت کرو

اگر ہم اسلامی تعلیمات کو کسی بھی جہت اور پہلو سے دیکھیں تو ہمیں ہر جگہ فراوانی کے ساتھ محبت، رحمت، شفقت، نرمی، سہولت، لطف و کرم، احسان اور عفو و درگزر کا عنصر ہی غالب نظر آتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ عفو و در گذر، رحمت و شفقت اور نرمی و سہولت ہی سارا اسلام ہے۔ بلاشبہ اتنی شفقت اور اتنی رحمت ہمیں دین اسلام کے سوا دنیا کے کسی مذہب، کسی فلسفہ حیات اور کسی نظام میں نظر نہیں آتی۔ افسوس ہم نے اسلام کا مطالعہ چھوڑ دیا، اسلام کو سمجھنا چھوڑ دیا، نتیجتاً ہم سے اسلام کی معرفت، عمل اور اس سے محبت چھوٹ گئی اور اسلام سے ہمارا رشتہ کمزور ہوگیا، جس کے سبب ہم اسلام سے دور ہوتے چلے گئے۔

محبت صرف دین اسلام اور ایمان کی بنیاد ہی نہیں بلکہ دین کے ہر رشتے اور نسبت کی بنیاد بھی ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ سے تعلق محبت پر قائم ہے، اسی طرح مسلمان کا رسول پاک ﷺ سے تعلق بھی محبت پر قائم ہے۔ ہر چیز محبت کے تابع ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اس تعلق کی اساس محبت ہے، ایمان کی اساس محبت ہے، ایمان کا بیج محبت ہے، حتیٰ کہ ایمان کا کمال بھی محبت ہے۔

قرآن مجید میں رب کائنات نے جا بجا اپنی اور حضور نبی اکرم ﷺ سے محبت اور اطاعت کی طرف متوجہ کیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌo

(آل عمران، 3: 31)

(اے حبیب!) آپ فرما دیں: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو تب اللہ تمہیں (اپنا) محبوب بنا لے گا اور تمہارے لیے تمہارے گناہ معاف فرما دے گا، اور اللہ نہایت بخشنے والا مہربان ہے۔

اس آیت مبارکہ میں محبت الٰہی کی دلیل اطاعت مصطفی ﷺ کو قرار دیا اور اطاعت مصطفی ﷺ کا ثمر رب کائنات کے محبوب بندوں میں شامل ہو جانے اور گناہوں کی معافی کے مژدہ کی صورت عطا فرمایا۔ بعینہٖ اللہ کریم نے جہاں محبت الٰہی کو محبت و اطاعت مصطفی ﷺ کا اجر عظیم قرار دیا وہیں قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی محبت پر دنیاوی محبتوں کو ترجیح و غلبہ دینے پر عذاب الٰہی کی وعید بھی سنائی گئی ہے۔ ارشاد فرمایا:

قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ ِ۟اقْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠o

(التوبۃ، 9: 24)

(اے نبی مکرم!) آپ فرما دیں: اگر تمہارے باپ (دادا) اور تمہارے بیٹے (بیٹیاں) اور تمہارے بھائی (بہنیں) اور تمہاری بیویاں اور تمہارے (دیگر) رشتہ دار اور تمہارے اموال جو تم نے (محنت سے) کمائے اور تجارت و کاروبار جس کے نقصان سے تم ڈرتے رہتے ہو اور وہ مکانات جنہیں تم پسند کرتے ہو، تمہارے نزدیک اللہ اور اس کے رسول ( ﷺ ) اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ محبوب ہیں تو پھر انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکمِ (عذاب) لے آئے۔ اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں فرماتا۔

اِس آیت مبارکہ سے مقصود یہ ہے کہ بندہ حقیقی معنوں میں محبت کے مفہوم سے آشنا ہو جائے۔ یہ نہ ہو کہ دعویٰ محبت تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ ہو مگر عملی اظہارِ محبت دنیاوی و مادی چیزوں کے ساتھ کیا جائے۔ وادیٔ محبت میں یہ دوغلاپن کسی بھی طور قبول نہیں کیا جاتا بلکہ ناکامی و خسران کا باعث بنتا ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنی محبت کو مومنین پرغالب کرلینے کا حکم فرمایا ہے:

لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی أَکُوْنَ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِنْ وَالِدِہٖ وَوَلَدِہٖ وَالنَّاسِ أَجْمَعِیْنَ.

وَفِي رِوَایَۃٍ عَنْهُ: أَحَبَّ إِلَیْہِ مِنْ أَہْلِہٖ وَمَالِہٖ.

(1) 1۔ بخاري، الصحیح، کتاب الإیمان، باب حبّ الرّسول ﷺ من الإیمان، 1: 14، رقم: 14-15

2۔ مسلم، الصحیح، کتاب الإیمان، باب وجوب محبّۃ رسول اللہ ﷺ أکثر من الأھل والولد والوالد والناس أجمعین وإطلاق عدم الإیمان علی من لم یحبہ ہذہ المحبۃ، 1: 67، رقم: 44.

تم میں سے کوئی شخص اُس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اُسے اُس کے والد (یعنی والدین)، اُس کی اولاد اور تمام لوگوں سے محبوب تر نہ ہو جاؤں۔

ایک روایت میں حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے مروی الفاظ ہیں (کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا): جب تک میں اس کے اہل و عیال اور مال سے بھی محبوب تر نہ ہو جاؤں۔

کائناتِ انسانی میں نبی رحمت کے علاوہ کوئی انسان ایسا نہیں جس کی محبت، رحمت و شفقت اور احسان و انعام کایہ عالم ہو کہ وہ غم و غصہ کی انتہائی کیفیت میں بھی اپنے دامنِ رحمت کو تمام انسانوں پر پھیلائے رکھے اور اپنے مرتبہ رحمۃ للعالمین پر قائم دائم رہے۔ بلاشبہ یہ مرتبہ ساری کائناتِ انسانی میں فقط ایک فردِ مقدس کو حاصل ہوا جو ہمارے نبی، سردار اور آقا علیہ السلام ہیں۔ وہ اتنے کامل ہیں کہ اُن کے کمال میں کسی نقص کا کوئی گمان ہو ہی نہیں سکتا۔ چنانچہ جب آپ ﷺ احکام دیتے توآپ ﷺ کا یہی محبت بھرا طرزِ عمل اور طرزِ فکر، اجرائے احکام میں بھی جھلکتا نظر آتا۔

اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا فرمائی:

اَللّٰهُمَّ، مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَیْئًا فَشَقَّ عَلَیْهِمْ فَاشْقُقْ عَلَیْهِ، وَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَیْئًا فَرَفَقَ بِهِمْ فَارْفُقْ بِہٖ.

(1) 1۔ مسلم، الصحیح، کتاب الإمارۃ، باب فضیلۃ الإمام العادل، 3: 1458، رقم: 1828

2۔ ابن حبان، الصحیح، 2: 313، رقم: 553

اے اللہ! میری اُمت میں اگر کسی شخص کو اُمت کے کسی معاملے پر سلطانی، امارت، حکمرانی یا ذمہ داری ملے مگر وہ ان پر سختی کرے: تو، تُو بھی اس کے ساتھ سختی سے پیش آ۔ زور اگر کسی شخص کو اُمت پرکوئی ذمہ داری ملے اور وہ لوگوں کے ساتھ، (اپنے ماتحتوں کے ساتھ) نرم رویہ اختیار کرے، (ان سے محبت اور شفقت سے پیش آئے)، تو باری تعالیٰ تُو بھی اس کے بدلے میں اس سے نرمی (شفقت اور رحمت و بخشش) سے پیش آ۔

یعنی آقا ﷺ کو گوارہ نہ تھا کہ اُمت کے کسی بھی معاملے میں کوئی امیر، وزیر، وزیراعظم، صدر یا کسی بھی سطح کا افسر اپنے ماتحتوں کے ساتھ سختی سے پیش آئے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا: مولا! جو حکمران امت کے ساتھ سختی سے پیش آئے، انہیں اذیت دے اور ناحق پریشان کرے تو ایسے شخص کے ساتھ تُو بھی سختی کے ساتھ پیش آ۔ پھر اپنی دعا میں عرض کیا: اے اللہ! اگر کسی شخص کو اُمت پرکوئی ذمہ داری ملے اور وہ لوگوں کے ساتھ، ماتحتوں کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرے، ان سے محبت اور شفقت سے پیش آئے، تو باری تعالیٰ تُو بھی اس کے بدلے میں اس سے نرمی، شفقت اور رحمت و بخشش سے پیش آ۔

گویا حضور نبی اکرم ﷺ نے قیامت تک کے لیے اپنی اُمت کے تمام لوگوں کے لئے دائمی اصول مرتب فرما دیا کہ ان میں سے جو بھی حاکم بنایا جائے اگر وہ امت کے افراد کے ساتھ محبت و نرمی سے پیش آئے گا تو قیامت کے دن اللہ بھی اس کے صلے میں اس سے نرمی اور رحمت و شفقت سے پیش آئے گا لیکن اگر وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں اور حضور کے اُمتیوں کے ساتھ سختی کے ساتھ پیش آئے گا تو پھر وہ یاد رکھ لے کہ قیامت کے دن ا س کے ساتھ بھی سختی کی جائے گی۔

یہ دین اسلام کا حقیقی پہلو ہے جو دین محبت کی صورت میں ہمارے سامنے آتا ہے۔ اللہ رب العزت کی ذات عالیہ سے لے کر سنتِ مصطفی ﷺ، سیرت محمدی ﷺ اور دین اسلام کی جملہ تعلیمات میں انسانی قدروں، انسان کے دکھ درد، انسان کی شخصی، طبعی اور ذاتی مجبوریوں، اس کے جذبات و محسوسات اور اس کے مسائل کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔ دین اسلام سے بڑھ کر کسی دین، کسی نظامِ حیات یا کسی مذہب میں محبت، شائستگی (Humanity) اور انسان نوازی (humanism) اور کیا ہوگی؟ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسلام اپنی تعلیمات کو جس قدر بلندیوں تک لے گیا ہے، دنیا کا کوئی مذہب اور فلسفہ اس کی گرد کو بھی نہیں پاسکتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے اسلام کو صحیح طور پر نہیں سمجھا، لادینی میلان (Secular mind) رکھنے والے اس کی عظمتوں سے لا علمی کے سبب اس سے انکار کرتے ہیں اور اسلام کے دعوے دار بسببِ جہالت اس کا نازیبا چہرہ پیش کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس دین محبت کو ناحق بدنام کیا جا رہا ہے۔

ذرا سوچئے! جو دین ایک بچے کے رونے کے باعث ایک ماں کی مامتا پر بیتنے والے احساس کے نتیجے میں، نماز جیسی عظیم عبادت کو مختصر کر دینے کا اہتمام کرتا ہے، وہ دین کیسے گوارا کرسکتا ہے کہ کسی کے بچے کی گردن کاٹ دی جائے، کسی کے گلے پر چھرا (خنجر) چل جائے، کسی کے سینے میں بندوق کی گولی داغ دی جائے، کسی کا گھر جلا دیا جائے اور خود کش حملے کے ذریعے کئی انسانی آبادیوں اور ان میں رہنے والے معصوم بچوں، عورتوں، بوڑھوں اور مریضوں کو ہلاک و برباد کر دیا جائے۔ جو بدبخت ایسے کام کر کے بھی خود کو مسلمان سمجھتے ہیں وہ بتائیں تو سہی کہ ان کا رشتہ کس اسلام اور کس قرآن کے ساتھ ہے؟ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے من گھڑت تصورات کو مذہب کا نام دے کر اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔ حقیقت میں یہی دشمنان اسلام ہیں جن کو اسلام کی محبتوں، لطافتوں، رحمتوں، شفقتوں برکتوں اور اس کی عظمتوں کی خبر ہی نہیں۔ حالانکہ پیغمبرِ اسلام ﷺ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ہمیشہ محبت، توازن ((Balance، اعتدال Moderation) )، آسانی (Easiness) اور سہولت (convenience) کی تعلیم دیتے اور مبالغہ، انتہا پسندی، اور ہر طرح کی شدت پسندی سے منع فرماتے۔

15۔ تبلیغِ رسالت کے اجر میں طلبِ محبت

حضور نبی اکرم ﷺ نے مؤمنوں سے تبلیغ رسالت پر کوئی ذاتی اجر کی بجائے اپنی قرابت سے محبت چاہی۔ جسے المودۃ کہا گیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

قُلْ لَّا أَسْئَلُکُمْ عَلَیهِ أَجْرًا اِلَّا الْمُوَدَّۃَ فِی القُرْبیَ.

(الشوریٰ، 42: 23)

فرما دیجیے: میں اِس (تبلیغِ رسالت) پر تم سے کوئی اُجرت نہیں مانگتا مگر (میری) قرابت (اور اللہ کی قربت) سے محبت (چاہتا ہوں)۔

لوگو! میں نے تمہیں جو راہِ ہدایت دی ہے اس پر کوئی ذاتی اجر نہیں مانگتا، مگر تمہارے بھلے کے لئے چاہتا ہوں کہ میری قرابت سے محبت کرنا، تاکہ تمہاری نسبت مجھ سے قائم رہے اور میری ہدایت کافیض تسلسل سے تمہیں ملتا رہے۔ میری قرابت کے ذریعے میرا جو چشمۂ فیض جاری ہو گا تم سبھی اس سے مستفید ہو سکو۔

اس آیت میں اہل بیتِ اطہار کے لئے ’’الموَدَّۃ‘‘ فرمایا جبکہ دوسرے مقام پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، اولیاء وصالحین اور مخلصین کے لئے فرمایا:

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّاo

(مریم، 19: 96)

بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے تو (خدائے) رحمن ان کے لیے (لوگوں کے) دلوں میں محبت پیدا فرما دے گا۔

اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ جو بندے ایمان لائیں، اعمال صالحہ کریں اور اللہ تعالیٰ کو راضی کر کے اُس کے مقر ب ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں ایسے نیک صالح بندوں کے لئے وُدْ یعنی محبت پیدا کردے گا۔ لہٰذا اگر کوئی شخص کسی ولی سے محبت کرتا ہے تو یہ رب العزت نے اس کے دل میں رکھی۔ اسی طرح اگر کسی کا دل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، ائمہ اہل بیت، اولیاء و صالحین، مؤمنین، متقین، کاملین اور ان انعام یافتہ لوگوں کی محبت سے خالی ہے تو اللہ تعالیٰ نے ایسی پاکیزہ محبت کے لئے اس بد نصیب کا دل منتخب ہی نہیں کیا۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

أَحِبُّوْا ﷲَ لِمَا یَغْذُوْکُمْ مِنْ نِعَمِہٖ، وَأَحِبُّوْنِي بِحُبِّ اللهِ سبحانه وتعالى. وَأَحِبُّوْا أَھْلَ بَیْتِي لِحُبِّي.

(1): 1۔ ترمذي، السنن، کتاب المناقب، باب مناقب أہل البیت النبي ﷺ، 5: 664، رقم: 3789

2۔ حاکم، المستدرک، 3: 162، رقم: 4716

3۔ طبراني، المعجم الکبیر، 3: 46، رقم: 2639

4۔ أیضًا، 10: 281، رقم: 10664

5۔ بیہقي، شعب الإیمان، 1: 366، رقم: 408

اللہ تعالیٰ سے محبت کرو ان نعمتوں کی وجہ سے جو اس نے تمہیں عطا فرمائیں اور مجھ سے اللہ تعالیٰ کی محبت کی خاطر محبت کرو اور میرے اہلِ بیت سے میری محبت کی خاطر محبت کرو۔

حضور نبی اکرم ﷺ کے جن امتیوں کو خدا اور مصطفی ﷺ سے محبت ہے وہ خدا کی سنت پر عمل کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ خود اپنے مقرب ولیوں اور دوستوں کے لئے ان بندوں کے دلوں میں ان کی محبت رکھ دیتا ہے۔ سو جس کے دل میں اللہ کے مقرب دوستوں کی محبت پائیں تو سمجھیں کہ یہ محبت اللہ تعالیٰ نے رکھی ہے اور جن دلوں کو محبت سے خالی پائیں سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ نے پاکیزہ محبت کے لئے اُن کے دلوں کو چنا ہی نہیں۔

سو جو لوگ محبت کے نام سے چِڑتے ہیں خفا ہوتے اور طیش میں آتے ہیں۔ وہ اپنی مرضی سے ایسا نہیں کرتے بلکہ ان کے دلوں کو محبت کے لیے چنا ہی نہیں گیا، چونکہ انہیں محبت نصیب ہی نہیں ہوئی اور اس کی لذتوں سے آشنا ہی نہیں ہوئے اس لئے وہ محبت پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔ ان کے دل دنیاوی محبتوں کے غلبہ کی بناء پر گندے ہوچکے ہیں اور محبت کے لائق ہی نہیں رہے۔ لوگ گندے برتنوں میں پاکیزہ چیزیں از قسم دودھ وغیرہ نہیں ڈالتے بلکہ استعمال سے پہلے اسے اچھی طرح دھوتے اور صاف ستھرا کرتے ہیں۔ اگر ایک عام آدمی گندے برتن میں پاکیزہ چیزیں نہیں ڈالتا تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی پاکیزہ محبت گندے دلوں میں ڈال دے؟

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إِذَا أَحَبَّ اللهُ عَبْدًا، نَادٰی جِبْرِیْلَ: إِنِّي قَدْ أَحْبَبْتُ فُـلَانًا فَأَحِبَّہٗ، قَالَ: فَیُنَادِي فِي السَّمَاءِ ثُمَّ تَنْزِلُ لَهُ الْمَحَبَّۃُ فِي أَھْلِ الأَرْضِ، فَذٰلِکَ قَوْلُ اللهِ: {إِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَنُ وُدًّاo} [مریم، 19: 96]، وَإِذَا أَبْغَضَ اللهُ عَبْدًا نَادٰی جِبْرِیْلَ: إِنِّي قَدْ أَبْغَضْتُ فُـلَانًا، فَیُنَادِي فِي السَّمَاءِ ثُمَّ تَنْزِلُ لَهُ الْبَغْضَاءُ فِي الْأَرْضِ.

(1) ترمذي، السنن، کتاب تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ مریم، 5: 317، رقم: 3161.

اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل علیہ السلامکو آواز دیتا ہے (اے جبرائیل!) میں فلاں آدمی کو محبوب رکھتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو۔ فرمایا: پھر جبریل آسمان میں اعلان کرتے ہیں۔ پھر اہلِ زمین (کے دلوں) میں اس کی محبت اُترتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان اسی بارے میں ہے: {إِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَنُ وُدًّاo} ’بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے تو (خدائے) رحمن ان کے لیے (لوگوں کے) دلوں میں محبت پیدا فرما دے گاo‘۔ اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو نا پسند کرتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام کو پکارتا ہے میں فلاں آدمی کو نا پسند کرتا ہوں۔ جبرائیل علیہ السلام آسمان میں اس کی منادی کرتے ہیں اور پھر زمین (والوں کے دلوں) میں بھی اس کے لیے نفرت اترتی ہے۔

16۔ شفاعتِ عامہ، خاصہ اور عظمیٰ میں مضمر محبت

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آقا علیہ السلام نے فرمایا: میں نے بتکرار اللہ تعالیٰ کے حضور سوال کیا کہ باری تعالیٰ جس طرح تو اُممِ سابقہ پر ان کی حد سے بڑھی ہوئی طرح طرح کی زیادتیوں اور گمراہیوں کے سبب عذاب نازل کرتا تھا اور اُنہیں اسی دنیا میں دائمی بھوک، سمندروں میں اغراق، دشمنوں کے تسلط، پتھروں کی بارش اور چہرے مسخ ہو جانے جیسے عذاب میں ڈالتا تھا، باری تعالیٰ! میری اُمت کو اِن سخت اور ہلاکت خیز عذابوں سے محفوظ رکھنا۔

آقا علیہ السلام کے مانگنے پر اللہ تعالیٰ نے اپنی درج ذیل وہ خاص چیزیں عطا فرمائیں جو پہلے انبیاء میں سے کسی کو نصیب نہیں ہوئی تھیں حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

1۔ باری تعالیٰ نے مشارق سے مغارب تک ساری زمین میرے لئے سمیٹ دی۔

2۔ پھر میں نے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں اپنی اُمت کے لئے عرض کیا:

أَنْ لَا یُھْلِکَهَا بِسَنَۃٍ عَامَّۃٍ.

(1) مسلم، الصحیح، کتاب الفتن و أشراط الساعۃ، باب ہلاک ہذہ الأمۃ بعضہم ببعض، 4: 2215، الرقم: 2889

(اے باری تعالیٰ!) میری اُمت کو ایسے قحط سے محفوظ رکھنا (جس میں اُس کی تمام غذا تلف ہو جائے)۔

یعنی میری امت پر اس طرح کے قحط نازل نہ کرنا جس کے نتیجے میں قوم کے سارے لوگ اور تمام طبقات ہلاک ہو جائیں۔ آقا علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اللہ رب العزت نے میری یہ دعا قبول فرمائی اور فرمایا کہ اے حبیب اس طرح کے عذاب جو پہلی امتوں پر ان کے حد سے گذر جانے کے نتیجے میں اتارے گئے تھے آپ ﷺ کی دعوت امت پر نازل نہیں کروں گا۔

بلاشبہ آقا ﷺ کا ایسی دعائیں دینا اپنی امت کے ساتھ محبت کا اظہار ہے کہ آپ ﷺ کسی بھی صورت اپنی امت پر کسی بھی قسم کی کوئی مشکل اور پریشانی نہیں دیکھنا چاہتے۔

17۔ رسول اللہ ﷺ کی دعائوں میں بھی محبت کی تمنا

محبت وہ جذبہ ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ جب اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا کے لئے ہاتھ بلند کرتے تو دعا میں اس سے اس کی محبت کا سوال کرتے۔ نہ صرف یہ بلکہ اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں سے محبت کا بھی سوال کرتے۔ پس حضور ﷺ کی دعا بھی محبت کے حصول اور طلب کے لئے ہوتی۔ حضرت عبد اللہ بن یزید خَطمی انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی دعا میں یہ کلمات کہا کرتے تھے:

اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِي حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یَّنْفَعُنِي حُبُّہٗ عِنْدَکَ، اَللّٰهُمَّ، مَا رَزَقْتَنِي مِمَّا أُحِبُّ فَاجْعَلْهُ قُوَّۃً لِي فِیْمَا تُحِبُّ، اَللّٰهُمَّ، وَمَا زَوَیْتَ عَنِّي مِمَّا أُحِبُّ فَاجْعَلْهُ لِي قُرَّۃً فِیْمَا تُحِبُّ.

(1) 1۔ ترمذي، السنن، کتاب الدعوات، باب (74)، 5: 523، رقم: 3491

2۔ ابن أبي شیبۃ، المصنف، 6: 76، رقم: 29592

3۔ ابن المبارک، کتاب الزھد، 1: 144، رقم: 430

4۔ ذھبي، میزان الاعتدال وحسّنہ، 3: 250

یا اللہ! تو مجھے اپنی محبت عطا فرما اور ہر اس شخص کی محبت عطا فرما جس کی محبت تیرے نزدیک میرے لیے نفع بخش ہو۔ یا اللہ! میری پسندیدہ چیزوں میں سے جو چیز تو مجھے عطا فرمائے اُسے اپنی محبت میں میری قوت و طاقت بنا۔ یا اللہ! میری پسندیدہ چیزوں میں سے جو چیز تو مجھ سے روک لے تو اس سے میری توجہ ہٹا کر اپنی محبوب چیزوں کی رغبت و محبت کو ہی میرے لیے (ظاہر و باطن کی) ٹھنڈک بنا۔

محبت کے لئے دعا کرنا صرف آقا علیہ السلام کا معمول مبارک نہ تھا بلکہ انبیائے کرام بھی اسی محبت کا سوال اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کرتے نظر آتے ہیں۔ ایک روایت میں حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حضرت داؤد علیہ السلام کی دعاؤں میں سے ایک دعا یہ بھی ہے:

اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ حُبَّکَ، وَحُبَّ مَنْ یُحِبُّکَ، وَالْعَمَلَ الَّذِي یُبَلِّغُنِي حُبَّکَ، اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي وَأَھْلِي، وَمِنَ الْمَاءِ الْبَارِدِ.

قَالَ: وَکَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ إِذَا ذَکَرَ دَاوُدَ علیہ السلام یُحَدِّثُ عَنْهُ قَالَ: کَانَ أَعْبَدَ الْبَشَرِ.

(1) 1۔ ترمذي، السنن، کتاب الدعوات، باب (73)، 5: 522، رقم: 3490

2۔ حاکم، المستدرک، 2: 470، رقم: 3621

3۔ دیلمي، مسند الفردوس، 3: 271، رقم: 4810

اے اللہ! میں تجھ سے تیری محبت، تجھ سے محبت کرنے والوں کی محبت اور تیری محبت پیدا کرنے والے عمل کا سوال کرتا ہوں۔ یااللہ! اپنی محبت میرے لیے میرے نفس، میری اولاد اور ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ محبوب بنا دے۔

راوی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب بھی حضرت داود علیہ السلام کا تذکرہ فرماتے اور اُن کی نسبت کوئی حدیث بھی بیان فرماتے تو ارشاد فرماتے: وہ سب سے زیادہ عبادت گزار انسان تھے۔

18۔ محبت و رحمت پر مبنی اسلامی اَحکام و قوانین کے بنیادی اُصول

جملہ اسلامی تعلیمات، اسلامی قوانین اور احکام کی اساس محبت و رحمت اور آسانی کی فراہمی ہے۔ آج بھی اگر کسی سلطنت میں شریعت کے احکام کا نفاذ ہو گا تو وہ رفع حرج، قلتِ تکلیف، استثنیٰ، تدریج اور نسخ کے اساسی اصولوں(foundational principles) کی روشنی میں ہو گا کیونکہ ان اصولوں کو نظرانداز کر کے جو قانون سازی (legislation) ہو گی وہ خلافِ اسلام اور خلافِ شریعت ہو گی۔ کیوں؟ اس لیے کہ اِن تمام اصولوں کی روح محبت، رحمت، شفقت اور آسانی ہے۔ دینِ اسلام کی جملہ تعلیمات چونکہ محبت پر قائم ہیں اس لیے اِس میں اساسی اصولوں کا درجہ بھی انہی قوانین کو حاصل ہے جس میں مخلوق کے ساتھ محبت کا عنصر نمایاں نظر آئے۔

(1) حضور ﷺ کا بوجہ محبت نرمی و آسانی کو پسند فرمانا

حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ چھ، سات یا اس سے زیادہ غزوات میں شرکت کی اور ان غزوات کے دوران آقا علیہ السلام کی صحبت، مجلس اور رفاقت میں بہت زیادہ وقت گزارا، اس تمام عرصہ میں ایک ہی چیز میں نے دیکھی :

شَهِدْتُ تَیْسِیْرَہٗ.

(1) بخاری، الصحیح، کتاب الجمعۃ، باب إِذَا انْفَلَتَتِ الدَّابَّۃُ فِي الصَّلَاۃِ وَقَالَ قَتَادَۃُ إِنْ أُخِذَ ثَوْبُهُ یَتْبَعُ السَّارِقَ وَیَدَعُ الصَّلَاۃَ، 1: 405، رقم: 1153

آپ ﷺ کی سیرتِ طیبہ کا ہر لمحہ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لئے آسانی مہیا کرنے کی فکر میں گزرتا۔

آپ ﷺ کا ہر عمل اور حکم بھی آسانی کی طرف ہی مائل ہوتا۔ ہر جگہ آپ ﷺ کے طرزِ عمل اور طرزِ فکر یعنی احکام اور وعظ و نصیحت میں مقدم چیز تسہیل ہوتی کہ ان کی طرف سے امت کو سہولت اور آسانی کس طرح فراہم ہو۔ کسی کو آسانی فراہم کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اُس سے محبت کرتا ہے اس لئے اسے کسی مشکل سے دوچار ہوتا نہیں دیکھ سکتا۔

آقا ﷺ خود بھی ہمیشہ آسان عمل اختیار فرماتے تاکہ ا س عمل کے ترک ہو جانے کا خدشہ نہ رہے اور امتی اس عمل پر دوام سے گامزن رہ سکے کیونکہ اگر عمل مشکل ہو گا تو اسے انجام دینے والے کا تسلسل تھوڑے وقت کے بعد ٹوٹ جائے گا لہٰذا دائمی سنت بنانے کے لئے آقا علیہ السلام کی خواہش ہوتی کہ وہ دو اُمور میں سے ہمیشہ آسان کو منتخب کریں۔ امت کی آسانی اور بھلائی کے لئے آقا علیہ السلام کا یہ طرزِ عمل مخلوق سے آپ ﷺ کی محبت ہی کی علامت ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اسلام صرف نرمی اور آسانی کا دین ہے اور نرمی اور آسانی کے راستوں کا انتخاب محبت ہی کی وجہ سے ممکن ہے۔ آقا علیہ السلام کی ساری تعلیمات، ترجیحات اور جملہ احکام و قوانین مبنی بر محبت، رحمت، شفقت، سہولت، آسانی اور یُسر ہیں اور دینِ اسلام میں نہ ہی تو شدت پسندی کی کوئی گنجائش ہے اور نہ ہی تنگ نظری، اکراہ یا انتہاء پسندی کی اجازت۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیںکہ آقا علیہ السلام نے فرمایا:

یَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا وَبَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا.

(1) 1۔ بخاری، الصحیح، کتاب العلم، بَاب مَا کَانَ النَّبِيُّ ﷺ یَتَخَوَّلُهُمْ بِالْمَوْعِظَۃِ وَالْعِلْمِ کَيْ لَا یَنْفِرُوا، 1: 38، رقم: 69

2۔ مسلم، الصحیح، کتاب الجہاد و السیر، باب فی الأمر بالتیسیر و ترک التنفیر، 3: 1359، رقم: 1734

آسانی پیدا کرو، مشکل میں نہ پھنسائو۔ خوشخبری دو اور متنفر نہ کرو۔

یعنی لوگوں کو دین کی دعوت دو تو تبلیغ سے لے کر دین کے نفاذ تک ہر مرحلے پر لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کرو اور کبھی تنگی، شدت اور سختی نہ کیا کرو۔ آقا علیہ السلام کا یہ پیغام تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے لے کر قیامت تک کے لئے تحریکِ اسلام کے تمام علمائ، تمام کارکنان اور دین کی دعوت اور دین کا فریضہ ادا کرنے والے ایسے تمام افراد کے لئے ہے جن کے ہاتھ میں دین کا جھنڈا ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے دین اس انداز سے پیش کریں کہ ان کے لئے دین کی بات خوشخبری کی پیام بر ہو، جس سے ان کے دل خوشی محسوس کریں اور وہ قبولیت اسلام سے دلی مسرت پائیں، وَلَا تُنَفِّرُوْا اس کے مقابلے میں ان سے ایسا معاملہ مت اختیار کرو اور دین کا پیغام ان تک اس طرح ہرگز نہ پہنچاؤ کہ وہ دین سے نفرت کرنے لگیں۔ آج جس انداز تعلیم کی ضرورت ہے اس حدیثِ مبارکہ میں اسی حوالے سے واضح رہنمائی موجود ہے۔ آج کے دور میں اسلام پر شدت پسندی کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق اور حضور نبی اکرم ﷺ کے نعلین پاک کے تصدق سے ہم انہی الزامات و اعتراضات کو رد کرنے کے لئے علمی اور فکری کاوشیں بجا لارہے ہیں۔ اس حدیث مبارکہ میں بھی وضاحت اور صراحت کے ساتھ پندرہ صدیاں پہلے اسلام کو نرمی، شفقت اور محبت کا دین قرار دیا گیا اور شدت پسندی و انتہا پسندی کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

آقا علیہ السلام نے یہ پیغامات محبت اور ارشادات آج سے قریباً ڈیڑھ ہزار سال پہلے تمام عالمِ انسانیت بالخصوص اُمت مسلمہ کو عطا فرمائے۔ یہ اور بات ہے کہ بطور اُمت ہم نے دین اسلام کی حقیقی تعلیمات کو کماحقہ پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی اور نہ ہی علومِ نبوی سے بہرہ ور کسی عالم دین ہی سے پوچھنے یا سیکھنے کی کوشش کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذہب کے نام پر انتہا پرستی اور شدت پسندی کو اختیار کرنے والے حقیقت میں لادینیت اور لامذہبیت کو فروغ دیتے ہیں، قرآن اور اسلام کو نہیں۔

ہمارا رب، رب ہو کر، قادر مطلق ہو کر، ہم سے اتنی زیادہ محبت کرنے والا، ہم پر اتنا غفور و رحیم، کریم و شفیق اور مہربان ہے تو ہم بندے ہو کر اُس کے بندوں پر مہربان کیوں نہیں؟ آقا علیہ السلام کی تعلیماتِ محبت کے باوجود ہم کیوں ظالم، بھیڑیے اور خونخوار ہو گئے ہیں کہ لوگوں کے خون سے اپنا منہ رنگنے پر تیار ہیں؟ ہمارے اندر اتنی سختی، جبر اور بربریت کیوں ہے؟ ہم دہشت گردی کی راہ پر کیوں چل رہے ہیں؟ ہماری طبیعتوں کی نرمی اور اندر کے انسان میں اللہ تعالیٰ نے جو شفقت و رقت رکھی ہے ہم نے اسے کیوں اور کہاں گم کیا ہے؟ ہمارے مزاج میں موجود محبت، رحمت و شفقت اور اس میں موجود مغفرت و سہولت اور آسانی کا عنصر کہاں گیا؟

دین اسلام کی ان تمام تعلیمات کا مقصد یہ ہے کہ ہم بھی اپنے آئینہ سیرت میں ان صفات کا عکس پیدا کریں اور عفو و درگزر، مہر و کرم، لطف و عنایت اور رحمت و شفقت کے آئینہ دار بن جائیں۔

(2) اسلام تلوار کے ذریعہ نہیں پھیلا

انسانوں کے لئے آپ ﷺ کی محبت و شفقت اور رحمت و آسانی کا عالم تو یہ ہے کہ آپ ﷺ کے دشمن آپ ﷺ کو پتھر مارتے ہیں، آپ ﷺ سے جنگ کرتے اور تلواریں برساتے ہیں، جسدِ اقدس کو لہولہان کر دیتے ہیں، آپ ﷺ کو وطن سے نکال دیتے ہیں، آپ ﷺ کے خلاف سازشیں کرنے والے ہیں مگر اس کے باوجود آپ ﷺ پھر بھی ان کی بھلائی کے لئے فکر مند اور غمزدہ رہتے ہیں۔

حضور نبی اکرم ﷺ کا یہ محبت بھرا تعلق، رحیمانہ کردار اور طرزِ عمل صرف مومنین کے ساتھ خاص نہیں بلکہ کفار اور منکرین کے لئے بھی آپ ﷺ سراپا رحمت ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آقا علیہ السلام نے پوری حیاتِ طیبہ میں کسی کو جبراً مسلمان بنانے کے لئے تلوار نہیں اٹھائی اور نہ ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس مقصد کے لئے تلوار اٹھائی۔ عہدِ نبوی میں ہونے والے غزوات اور سرایا کے ذمہ دار کفار و مشرکین اور دیگر اعدائے اسلام خود تھے جو مسلمانوں پر از خود حملہ آور ہوتے، انہیں زدوکوب کرتے اور اذیت ناک سزائیں دیتے۔

غزوئہ بدر کو دیکھئے! کفار و مشرکین نے مدینہ پر جنگی چڑھائی کی، مسلمانوں نے مجبور ہو کر اپنے دفاع کی جنگ لڑی۔ اُحد کی جنگ بھی مکہ سے آنے والے لشکرِ کفار نے مدینہ منورہ آ کر لڑی۔ کفار نے جنگ کے لئے خود مدینہ کی طرف پیش قدمی کی اور مسلمان شہر کے اندر جنگ نہ کرنے کی حکمت عملی کے باعث شہر سے باہر اپنے دفاع کے لئے جانے پر مجبور ہوئے۔ اسی طرح غزوہ احزاب (غزوہ خندق) بھی مشرکین کی مدینہ پر لشکر کشی کا نتیجہ تھا جس میں مسلمانوں نے اطرافِ مدینہ میں خندق کھود کر دشمن سے اپنا دفاع کیا۔

گویا آقا علیہ السلام کے دور میں جتنی جنگیں ہوئیں ان کی نوعیت دفاعی ہے، خواہ وہ یہود کی عہد شکنی اور مدینے پر حملے کی سازشوں کے سبب ہوئیں یا مشرکینِ مکہ اور دیگر قبائل کی لشکر کشی کی صورت میں ہوئیں۔ حتیٰ کہ فتحِ مکہ کا واقعہ بھی کفار و مشرکین کی طرف سے حدیبیہ کے مقام پر دس سال کے لئے کئے گئے معاہدہء امن (Peace Treaty) کو دو سال میں توڑنے کی صورت میں پیش آیا۔ یہود کے ساتھ جنگِ خیبر بھی میثاق مدینہ کی خلاف ورزی کے سبب ہوئی جب انہوں نے اہلِ اسلام کے خلاف حملے کے لئے افواج اور قبائل کو اکٹھا کرنا شروع کر دیا۔

فتحِ مکہ کا تاریخی واقعہ اسلام اور حضور نبی اکرم ﷺ کی عظیم تعلیماتِ محبت اور امن و رحمت کا غماز ہے۔ اس موقع پر آقا علیہ السلام کی ہدایات کی روشنی میں سر زمینِ مکہ پر ایک شخص بھی قتل نہیں ہواکیونکہ آقا علیہ السلام نے اہلِ مکہ کو امان عطا کر دی اور مکہ میں داخل ہو کر اعلان فرما دیا:

1۔ جو ابوسفیان کے گھر میں آ جائے اس کو بھی پناہ حاصل ہے۔

2۔ جو ہتھیار ڈال دے اس کو بھی پناہ ہے۔

3۔ جو کافر و مشرک اپنے گھر کا دروازہ بند کر لے، اس کو بھی پناہ حاصل ہے۔

آج کی دنیا میں بڑی سے بڑی طاقت بھی اس عظیم کردار کا تصور نہیں کر سکتی جو آقا علیہ السلام نے اپنی سیرت طیبہ کے ذریعے عالمِ انسانیت کو عطا کیا کہ کفار و مشرکین اور جان کے دشمنوں کے لئے بھی آپ ﷺ کی شفقت و محبت اپنی انتہا پر تھی۔

(3) مومن کی پہچان - پیکر اُخوت و محبت

اللہ رب العزت نے مسلم معاشرے میں رہنے والوں کو ایک دوسرے سے محبت، خیر خواہی اور بھلائی کی نصیحت کے احکام دیتے ہوئے فرمایا کہ کوئی شخص کسی دوسرے کو نقصان نہ پہنچائے، اذیت دے نہ بے عزت کرے، کسی کی برائی چاہے اور نہ خود بُرا سلوک کرے۔ ہر شخص دوسرے کے لئے بہی خواہ، ہمدرد، نفع رساں، محبت کرنے والا اور بھلائی پہنچانے والا ہو۔ اسی لئے ارشاد فرمایا:

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ.

(الحجرات، 49: 10)

بات یہی ہے کہ (سب) اہلِ ایمان (آپس میں) بھائی ہیں۔

مومن کی شان یہ ہے کہ وہ آپس میں بھائی بھائی ہوتے ہیں، ایک دوسرے پر ظلم و بربریت، جبر و دہشت گردی، ڈاکہ زنی نہیں کرتے۔ نہ ایک دوسرے کا مال اور جائیداد لوٹتے ہیں اور نہ ہی ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوتے ہیں، بلکہ ایک دوسرے کے بھائی ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے کی حفاظت کرنے والے، پردہ پوشی کرنے والے، پیار کرنے والے اور کمزوری، گناہ اور خطا پر پردہ ڈالنے والے ہوتے ہیں۔ مومنوں کی اس تعریف کو قرآن نے اِنَّمَا کلمہ حَصر کے ذریعے بیان کیا ہے جس کا معنی یہ ہے کہ مومن صرف وہی لوگ ہی ہوتے ہیں، جن میں باہم بھائی چارہ ہو۔ جس طرح مواخاتِ مدینہ کے ذریعہ آقا علیہ السلام نے مہاجرین اور انصار کے درمیان اخوت کا رشتہ قائم فرمایا کہ انہیں آپس میں بھائی بھائی بنا دیا، پس ثابت ہوا کہ جب تک مسلمانوں کی زندگی میں محبت و اخوت کا یہ عملی نمونہ نظر نہیں آتا وہ قرآن کے ایمانی معیار پر کبھی پورے نہیں اُتر سکتے۔

ایک طرف قرآن کا یہ میعارِ ایمان ہے کہ مومن صرف وہ ہیں جو ایک دوسرے کے لئے بھائی سے بھی بڑھ کر محبت و مؤدت، اُخوت اور بھائی چارہ رکھتے ہیں اور دوسری طرف ہمارا کردار یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کے لئے خونخوار بھیڑیے بنے ہوئے ہیں، ہر شخص دوسرے کی عزت، مال و جان پر ڈاکہ ڈالنے، اس کا خون بہانے اور اسے ہر طرح سے اذیت و نقصان پہنچانے پر تلا بیٹھا ہے تاکہ خود راحت حاصل کرے۔ ہمارا حال درندوں سے بھی بدتر ہے جبکہ قرآن تو مومن انہی کو کہتا ہے جن میں اخوت و مواخات، بھائی چارہ اور باہمی محبت و مودت کمال پر نظر آئے بلکہ حکمِ الٰہی ہے کہ اگر مومنین میں جھگڑا ہو جائے یا دوری پیدا ہو جائے تو:

فَاَصْْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْکُمْ.

(الحجرات، 49: 10)

سو تم اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرایا کرو۔

ایک دوسرے کو آپس میں توڑو نہیں بلکہ جوڑو کیوں کہ اسلام توڑنے کے لئے نہیں آیا بلکہ جوڑنے کے لئے آیا ہے، جدا کرنے کے لئے نہیں آیا بلکہ ملانے کے لئے آیا ہے۔ اسی لئے فرمایا کہ ایسے کام نہ کرو جن کے نتیجے میں باہم پھوٹ پیدا ہو اور وَاتَّقُوا ﷲَ ’اللہ سے ڈرو‘ تاکہ تم پر رحمت کی جائے۔ رب کی محبت و رحمت کے حقدار صرف وہ لوگ ہیں جو باہم اُخوت و مواخات کی زندگی بسر کرتے ہیں۔

(4) غیر مسلموں تک پھیلا دائرہ محبت

دینِ اسلام دین محبت ہے۔ اس کی محبت کا دائرہ کار مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں پر محیط ہے۔ دین اسلام کے دین محبت ہونے کا پہلا ثبوت یہ ہے کہ اس میں کسی سطح پر بھی کوئی جبر نہیں۔ اللہ رب العزت کا فرمان: لَآ اِکْرَاهَ فِی الدِّیْنِ۔ ’’دین میں کوئی زبردستی نہیں۔ ‘‘ اس حقیقت کو بیان کر رہا ہے۔ اس آیت نے اسلام کی تعلیم و تربیت اور احکام و قوانین کا اصولی اور اساسی مزاج بتلا دیا کہ دینِ اسلام کا کوئی پہلو، جبر، سختی اور زبردستی پر مبنی نہیں چنانچہ اہل اسلام کا کوئی داخلی معاملہ ہو یا غیر مسلموں کے ساتھ خارجی سطح پرکوئی مسئلہ، کسی بھی حالت میں جبر اور سختی پر مبنی نہیں کیوں کہ سختی و جبر دینِ اسلام کا حصہ ہی نہیں۔ ہمارا فرض اور ذمہ داری صرف خلوص اور محبت کے ساتھ ہر کسی کو دعوتِ اسلام دینا ہے۔

گویا اللہ رب العزت نے اصولی بات سمجھا دی کہ اسلام جو سراسر دین محبت ہے کی دعوت دے دینے اور پیغام پہنچا دینے کے بعد مخاطب کی مرضی اور اس کی صوابدید پر ہے کہ وہ جو چاہے فیصلہ کرے، اب کسی داعی، کسی مبلغ اور کسی فرد، جماعت، حتیٰ کہ اسلامی ریاست کو بھی اپنی غیر مسلم رعایا پر، انہیں مسلمان بنانے کے لئے جبر کرنے کا اختیار نہیں۔ کسی مذہب کے ماننے والوں کی عبادت گاہیں گرانا یا دہشت گردی اور سختی کے ذریعے انہیں ہراساں کر کے اسلام میں داخل ہونے پر مجبور کرنا، یہ عمل سرے سے ہی غیر اسلامی ہے۔

جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، انہیں حکمت و محبت سے سمجھایا جائے کہ تم دین کا کامل فہم اور اس کی معرفت حاصل کرو تاکہ دینِ اسلام خود بخود اپنی سچائی، نرمی اور سہولت کے سبب تمہارے باطن میں سرایت کر جائے کیونکہ اس کا کوئی پہلو فطرت انسانی، انسانی مزاج اور بنیادی بشری تقاضوں کے خلاف نہیں ہے۔

خلاصہ کلام

مذکورہ بالا تمام آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ دین اسلام میں ’’محبت‘‘ ہی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اس کی جملہ تعلیمات سے محبت جھلکتی نظر آتی ہے۔ اللہ رب العزت کی ذات عالیہ ہو یا حضور نبی اکرم ﷺ کی ذات مقدسہ، آیات قرآنیہ ہوں یا احادیث نبویہ ہر جگہ محبت ہی کا درس نمایاں نظر آتا ہے۔ دینِ اسلام حقیقت میں دینِ محبت و رحمت ہے۔ اس کے ہر حکم اور تعلیم سے رحمت و محبت کا پیغام جھلکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے بندے کا تعلق محبت پر قائم ہے۔ رسول اقدس ﷺ سے امتی کا تعلق محبت پر قائم ہے۔ صحابہ کرام اور اہل بیت عظام رضی اللہ عنہم سے تعلق محبت پر قائم ہے۔ اولیاء و صالحین سے تعلق محبت پر قائم ہے۔ بڑوں سے تعلق محبت پر قائم ہے، چھوٹوں سے تعلق شفقت و محبت پر قائم ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے تعلق محبت پر قائم ہے۔ ہر شخص اور شخصیت کے حسب حال محبت کی شکلیں بدلتی رہتی ہیں۔ کہیں محبت، ادب و تعظیم میں بدل جاتی ہے۔ کہیں محبت، شفقت و رحمت میں بدل جاتی ہے۔ کہیں محبت، مودت اور اخوت میں بدل جاتی ہے۔ جس طرح کا رشتہ اور نسبت ہوتی ہے محبت اسی طرح کا روپ دھار لیتی ہے۔

مختصر یہ کہ محبت، امن اور علم ان تین چیزوں کو ان کی اپنی صحیح روح کے ساتھ جمع کر دیں تو اس کا نام اسلام ہے۔ محبت کے ذریعے اسلام نے نفرت ختم کر دی۔ امن کے ذریعے دہشت گردی ختم کر دی اور علم کے ذریعے جہالت ختم کر دی۔ یہ تین وہ معجزات ہیں جو ابد الآباد تک زندہ و تابندہ رہیں گے اور پوری انسانیت ان سے فائدہ اٹھاتی رہے گی۔ آج مشرق سے لے کر مغرب تک اور UN سے لے کر یورپی یونین تک قدیم اور جدید دنیا کی جتنی Developmentہے، سب کی سب محبت، امن اور علم کے گرد گھوم رہی ہے اور یہ صرف اور صرف نعلین مصطفی ﷺ ہی کا صدقہ ہے۔

عالمی سطح پر اغیار اور اسلام کے بعض نادان دوستوں کی وجہ سے اسلام کے مقدّس اور روشن چہرے کو گرد آلود کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں جس سے نوجوان نسل کے ذہن پراگندہ ہو رہے ہیں۔ افسوس! آج نفرت و عداوت، قتل و غارت گری، تنگ نظری، انتہا پسندی، جبر و بربریت اور دہشت گردی کو اسلام سے جوڑ دیا گیا ہے۔ حالانکہ ان تمام چیزوں کا اسلام کے ساتھ دور کا بھی کوئی تعلق اور واسطہ نہ تھا، نہ ہے اور نہ ہوگا۔ اسلام تو انہیں ختم کرنے کے لئے آیا تھا۔ بعثتِ محمدی سے پہلے دہشت گردی کا راج تھا۔ اسلام نے اس راج کو شکست دے کر محبت کی حلاوت سے جو نظام عطا کیا وہ نظامِ محبت، نظامِ امن اور نظامِ علم ہے۔

Copyrights © 2026 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved