Islam main Mahabbat awr Adam-e-Tashaddud

باب 2 :پیغمبر رحمت ﷺ، سراپا محبت

اسلام میں محبت اور عدم تشدد کا موضوع انتہا پسندی، دہشت گردی اور عدمِ برداشت کے ماحول میں نہ صرف پاکستان بلکہ اَقوامِ عالم کے لیے بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ دین اسلام کی جملہ تعلیمات اور حضور نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ میں ہمیں جا بجا انسانوں سے محبت اور عدمِ تشدد کے مظاہر نظر آتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضور نبی اکرم ﷺ کے مقام و مرتبہ کے بیان میں بھی محبت اور رحمت کو نمایاں طور پر بیان کیا ہے۔ ارشاد فرمایا:

وَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَo

(الأنبیاء، 21: 107)

اور (اے رسولِ محتشم!) ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کرo

گویا اللہ تعالیٰ نے آپ کو پیکرِ رحمت بنا کر بھیجا اور آپ ﷺ تمام کائنات کے لیے سراپا رحمت ہیں۔ اپنی اِسی صفت کا اِظہار خود آپ ﷺ نے متعدد مواقع پر فرمایا ہے۔

مشرکین اور کفارِ مکہ کی طرف سے آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے اَصحاب پر ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑے جاتے رہے، کسی کو کوڑے مارے جاتے تو کسی کو آگ کے انگاروں پر لٹایا جاتا۔ کبھی آپ ﷺ کو پتھروں سے لہولہان کیا جاتا اور کبھی معاشرتی مقاطعہ کیا جاتا۔ ظلم و ستم کی اس اِنتہا پر جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ ﷺ سے یہ عرض کرنے پر مجبور ہو جاتے کہ یا رسول اللہ! آپ ان ظالموں اور مشرکوں کے لیے بد دعا کیجئے تو آپ ﷺ اپنے اَصحاب کے اس تقاضے پر جواباً ارشاد فرماتے:

إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ لَعَّانًا، وَإِنَّمَا بُعِثْتُ رَحْمَۃً.

(2) 1۔ مسلم، الصحیح، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب النھي عن لعن الدواب وغیرھا، 4: 2006، رقم: 2599

2۔ بخاري، الأدب المفرد: 119، رقم: 321

3۔ أبو یعلی، المسند، 11: 35، رقم: 6174

مجھے لعنت کرنے والا بنا کر مبعوث نہیں کیا گیا، مجھے تو صرف سراپا رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔

ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے جانے کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی گزارش پر آپ ﷺ نے صراحتاً فرما دیا کہ میں بددعا کرنے والا بن کر مبعوث نہیں ہوا بلکہ میں تو سراپا رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ الفاظ بھی مروی ہیں کہ آپ ﷺنے فرمایا:

إِنَّمَا بُعِثْتُ رَحْمَۃً، وَلَمْ أُبْعَثْ عَذَابًا.

(1) 1۔ بیہقي، شعب الإیمان، 2: 144، رقم: 1403

2۔ ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، 4: 92

مجھے تو سراپا رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے نہ کہ عذاب بنا کر۔

یعنی میں پیکر رحمت ہوں، میں ایسا عمل نہیں کرسکتا جس سے کسی دوسرے کو اذیت یا تکلیف پہنچے۔

یہ اور اس موضوع کی حامل دیگر احادیثِ مبارکہ سے آپ ﷺ کی درج ذیل دو صفات کا اِظہار ہوتا ہے:

(1) محبت (love)

(2) عدمِ تشدد (non-violence)

یہ دونوں اَوصاف حضور نبی اکرم ﷺ کی ذاتِ مبارکہ میں بدرجہ اَتم موجود ہیں۔ حضور نبی اکرم ﷺ سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہر شخص محبت کا علم بردار بنے اور عدمِ تشدد کی راہ پر گامزن ہو۔ اس لیے کہ مخلوقِ خدا سے محبت کرنا محبتِ رسول ﷺ کا ایک جزوِ لاینفک ہے۔ نیز زندگی عدمِ تشدد (non-violence) کے فارمولے کے مطابق گزارنا یعنی کسی کو اذیت نہ دینا ہی حضور نبی اکرم ﷺکی سیرتِ طیبہ اور تعلیمات کا نچوڑ ہے۔

حضرت سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک موقع پر حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

إِنَّمَا بَعَثَنِي رَحْمَۃً لِلْعَالَمِیْنَ.

(1) أبو داود، السنن، کتاب السنۃ، باب النھي عن سبّ أصحاب رسول اللہ ﷺ، 4: 215، رقم: 4659

بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔

اس حدیث شریف میں حضور نبی اکرم ﷺ کی رحمت اسی طرح کلمہ حصر - اِنَّمَا - کے ساتھ بیان ہوئی ہے جس طرح آیتِ کریمہ {وَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ} کلمہ حصر کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ عربی گرامر کا قاعدہ ہے کہ جب نفی کے ساتھ استثنا آئے (جیسے مَا کلمہ نافیہ ہے اور إلاَّ استثنا ہے) تو بیان، حصر کا فائدہ دیتا ہے اور آیت کا معنی یہ بنتا ہے کہ ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے ’صرف‘ رحمت ہی بنا کر بھیجا ہے۔ دوسرے لفظوں میں آپ کی ذات سے کسی کو ضرر، گزند یا نقصان پہنچ ہی نہیں سکتا اور نہ ہی آپ کسی کے لیے تکلیف دہ ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ دوست ہو یا دشمن، اپنا ہو یا غیر، مومن ہو یا کافر، نیکوکار ہو یا بدکار جو بھی آپ ﷺ کی بارگاہ میں آئے گا تو آپ ﷺ سے ہر ایسے شخص کو صرف شفقت و رحمت، لطف و کرم اور بخشش و انعام ہی ملے گا، انتقام یا معمولی سی بھی رنجش نہیں ملے گی۔ یہی بات کلمہ حصر کے ساتھ حضور نبی اکرم ﷺ نے مذکورہ حدیث شریف میں بیان فرمائی کہ میرے اللہ نے تو مجھے تمام جہانوں کے لیے صرف رحمت ہی بنا کر مبعوث فرمایا ہے۔

1۔ ذاتِ مصطفی ﷺ سراپا رحمت و محبت ہے

حضور نبی اکرم ﷺ اس کائنات میں تحفۂ رحمت کی صورت مبعوث ہوئے ہیں۔ یہ رحمتِ مکتسبہ نہیں بلکہ رحمتِ مہداۃ ہے۔ یعنی یہ رحمت، کسب یا جہد و محنت اور تربیت و ریاضت کا نتیجہ نہیںبلکہ اللہ رب العزت کی عطا سے جبلی طور پر آپ ﷺ کی ذات مقدسہ کا حصہ ہے۔ جس دن آپ ﷺ کی خِلقت ہوئی تھی اسی دن سے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے جسد ِعنصری اور روح مبارک کو منبعِ رحمت بنا دیا۔ چنانچہ رحمت آپ ﷺ کی خِلقت میں شامل اور آپ ﷺ کے اندر ودیعت کردہ ہے۔ یہ پیدائشی طور پر آپ ﷺ پر عطیہ اور وہب ہے، کسی اِکتساب کا نتیجہ نہیں۔ اللہ رب العزت نے جب عموماً اپنی مخلوقات اور خصوصاً انسانوں کو اپنی رحمت سے نوازنے کے لیے اپنی رحمت کا سب سے بڑا منبع، ذخیرہ اور خزانہ زمین پر اتارنا چاہا کہ جہاں سے اس کی رحمت بے حجابانہ بٹتی رہے تو وجودِ مصطفی ﷺ کو اپنی رحمت کا سب سے بڑا خزانہ، عظیم عطیہ، رحمت کا سرچشمہ اور منبع بنا کر کائناتِ خلق کو عطا فرمایا۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے اس امر کا اظہار خود بھی فرمایا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

یَا أَیُّهَا النَّاسُ! إِنَّمَا أَنَا رَحْمَۃٌ مُھْدَاۃٌ.

(1) حاکم، المستدرک، 1: 91، رقم: 100

اے لوگو! بے شک میں (تمام عوالم کے لیے) تحفتاً عطا کی گئی رحمت ہوں۔

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:

إِنَّ ﷲَ عزوجل بَعَثَنِي رَحْمَۃً لِلْعَالَمِیْنَ وَھُدًی لِلْعَالَمِیْنَ.

(2) أحمد بن حنبل ، المسند، 5: 257، 268، 437، رقم: 22272، 22361، 23757

بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے تمام جہانوں کے لیے رحمت اور ہدایت بنا کر مبعوث فرمایا ہے۔

مذکورہ اِرشاداتِ گرامی میں سے پہلی روایت میں آقا علیہ السلام فرما رہے ہیں کہ مجھے تو تمام دنیاؤں اور تمام طبقاتِ خلق کے لیے صرف اور صرف رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔ میں ساری مخلوقات کے لیے سراپا اَمن و رحمت اور محبت و شفقت ہوں۔

دوسری روایت میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بلا تفریقِ رنگ و نسل اور بلا اِمتیازِ مذہب تمام طبقاتِ اِنسانی - خواہ مسلمان ہوں یا غیرمسلم، سفید ہوں یا سیاہ، غریب ہوں یا امیر - اور کل عوالم کے لیے محض رحمت اور ہدایت بنا کر بھیجا ہے۔

حضور نبی اکرم ﷺ کی ذات مقدسہ میں ہدایت، روشنی، رحمت، محبت اور شفقت یکجا دکھائی دیتی ہیں۔ آپ ﷺ کا پیکر اَقدس بذاتِ خود پوری انسانیت کے لیے محبت، رحمت، ہدایت، شفقت اور باعثِ اَمن ہے۔ اس میں تشدد، جبر، زیادتی، ظلم اور اذیت کا کوئی گزر نہیں ہے اور یہی اسلام کی تعلیمات کا نچوڑ ہے۔

2۔ سابقہ کتبِ سماویہ میں حضور ﷺ کی صفاتِ رحمت و محبت کا بیان

حضرت عطاء بن یسار بیان کرتے ہیں: میں حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے ملا اور میں نے ان سے پوچھا کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی شان میں جو کچھ قرآن میں اترا ہے، وہ تو ہم پڑھتے اور سنتے ہی ہیں؛ اس کے علاوہ آقا علیہ السلام وقتاً فوقتاً خود اپنی صفات، اپنی ذاتِ اَقدس، اپنے اَحوال اور اپنی شان کے بارے میں جو کچھ ارشاد فرماتے ہیں، وہ بھی ہم سنتے رہتے ہیں۔ آپ مجھے رسول اللہ ﷺ کی وہ صفات بتلائیے جو تورات میں بیان کی گئی ہیں۔ اِس پر اُنہوں نے فرمایا:

أَجَلْ، وَاللهِ! إِنَّہٗ لَمَوْصُوفٌ فِي التَّوْرَاۃِ بِبَعْضِ صِفَتِهٖ فِي الْقُرْآنِ: {یَا أَیُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاکَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِیرًا} [الأحزاب، 33/45]، وَحِرْزًا لِلْأُمِّیِّینَ۔ أَنْتَ عَبْدِي وَرَسُولِي، سَمَّیْتُکَ الْمتَوَکِّلَ، لَیْسَ بِفَظٍّ وَلَا غَلِیظٍ، وَلَا سَخَّابٍ فِي الْأَسْوَاقِ وَلَا یَدْفَعُ بِالسَّیِّئَۃِ السَّیِّئَۃَ، وَلٰـکِنْ یَعْفُو وَیَغْفِرُ، وَلَنْ یَقْبِضَهُ اللهُ حَتّٰی یُقِیمَ بِهِ الْمِلَّۃَ الْعَوْجَاءَ، بِأَنْ یَقُولُوا لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ، وَیَفْتَحُ بِهَا أَعْیُنًا عُمْیًا، وَآذَانًا صُمًّا، وَقُلُوبًا غُلْفًا.

(1) 1۔ بخاری، الصحیح، کتاب البیوع باب کراھیۃ السخب فی السوق، 2: 747، رقم: 2018

2۔ أحمد بن حنبل، المسند، 2: 174، رقم: 6622

3۔ دارمی، السنن، 1: 7، رقم: 7-8

4۔ حاکم، المستدرک، 2: 678، رقم: 4242

ہاں! خدا کی قسم، تورات میں بھی آپ ﷺ کی بعض وہ صفات بیان ہوئی ہیں جو قرآن مجید میں بیان کی گئی ہیں۔ یعنی اے (غیب کی خبریں بتانے والے) نبی! بے شک ہم نے آپ کو گواہ، خوش خبری سنانے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر مبعوث فرمایا اور اُمیین کے لیے حفاظت بنا کر مبعوث کیا ہے۔ آپ میرے بندے اور میرے رسول ہیں۔ میں نے آپ کا نام متوکل رکھ دیا ہے۔ آپ تند خو، سخت دل، بازاروں میں شور مچانے والے اور برائی کا بدلہ برائی سے دینے والے نہیں ہیں، بلکہ در گزر کرنے والے اور معاف فرما دینے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اُنہیں اس وقت تک اپنے پاس نہیں بلائے گا جب تک ان کے ذریعے ٹیڑھی ملت کو سیدھا نہ کر دے گا کہ وہ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ یعنی وحدانیتِ اِلٰہی کا اقرار کرنے لگیں۔ نیز آپ ﷺ کے ذریعے اندھی آنکھوں، بہرے کانوں اور قفل لگے ہوئے دلوں کو کھول دے گا۔

اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضور نبی اکرم ﷺ کے اَحوال کا ذکر صدیوں پہلے تورات میں اُتارا اور حضرت موسی علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو سنایا کہ جس مقدس ہستی پر نبوت کا سلسلہ ختم ہوگا اور انسانیت کے وہ پیکر اَتم جو پیغمبر آخر الزماں ﷺ ہوں گے وہ اِن اِن صفات کے حامل ہوں گے۔ وہ اِنسانیت کے ہر طبقے اور ہر فرد سے محبت کریں گے اور ان کی طبیعت، مزاج، ظاہر و باطن اور کلام میں کہیں بھی تشدد، اذیت، سختی کا شائبہ تک نہیں ہوگا۔

تورات میں مذکور اِنہی صفات کا عملی اِظہار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رات دن حضور نبی اکرم ﷺ کی ذاتِ مقدسہ میں دیکھتے تھے۔

3۔ دینِ اسلام بزرگوں اور بچوں کے حقوق کا محافظ ہے

دینِ اسلام تو ہر بڑے سے ادب اور چھوٹے سے شفقت سے پیش آنے کا حکم دیتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے اِرشاد فرمایا:

لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ یَرْحَمْ صَغِیرَنَا وَیَعْرِفْ حَقَّ کَبِیرِنَا.

(1) 1۔ حاکم، المستدرک، 1: 131، رقم: 209

2۔ ابن حبان، الصحیح، 2: 203، رقم: 458

3۔ ابن ابي شیبہ، المصنف، 5: 214، رقم: 25359

وہ شخص ہماری اُمت میں سے نہیں (یعنی اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے) جو ہماری اُمت میں چھوٹے بچوں پر رحمت و شفقت نہ کرے اور بڑے لوگوں کے حقِ ادب کو نہ پہچانے (یعنی اُن کا ادب و اِحترام بجا نہ لائے)۔

غور کریں کہ آقا علیہ السلام نے لَیْسَ مِنَّا کے ذریعے کتنی سخت تنبیہ فرمائی ہے کہ چھوٹوں پر رحمت و شفقت اور بڑوں کی تعظیم و تکریم نہ کرنے والے شخص کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ در حقیقت آقا علیہ السلام نے اس فرمان کے ذریعے اُمت کو نہایت اعلیٰ درجہ کے اخلاق کی ایسی تعلیم دی ہے جو تمام اِنسانی اَقدار کی جامع ہے۔

اسلام سے بڑھ کر اور کون سا دین ہوگا جو اِنسانی حقوق کا اِس قدر خیال کرے کہ حَقَّ کَبِیرِنَا کہہ کر ہر بڑی عمر والے شخص - خواہ وہ نیک ہو یا بد - کے ساتھ ادب و تکریم سے پیش آنے کو اُس کا حق قرار دے کر دیگر اَفرادِ اُمت پربزرگوں کی تعظیم واجب کر دے اور اسی طرح اپنے سے چھوٹی عمر والے اَفراد پر محبت و شفقت کو ان کا حق قرار دے اور بقیہ امت پر ان کے ساتھ رحمت و شفقت سے پیش آنے کو واجب کر دے قطع نظر اِس کے کہ وہ کم سِن شرارتی ہے یا نیک۔

اس حوالے سے یہ وضاحت ضروری ہے کہ آج کے دور میں بطورِ خاص بزرگ شہریوں (senior citizens) کے لیے خصوصی مراعات دے کر اُن کے حقوق کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ یہ تصور سب سے پہلے آقا علیہ السلام ہی نے دنیا کو متعارف کرایا۔ جدید دنیا آج اس تصور سے آشنا ہو رہی ہے مگر آقا علیہ السلام نے چودہ سو سال قبل بوڑھے شہریوں (senior citizens) کے حقوق کا مکمل تصور دے کر فرما دیا کہ جو بزرگوں کا ادب نہیں کرتا یا ان کی پرواہ نہیں کرتا وہ میری اُمت میں سے نہیں۔

یہی مضمون حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ یَرْحَمْ صَغِیرَنَا وَیُوَقِّرْ کَبِیرَنَا.

(1) 1۔ ترمذی، السنن، کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء في رحمۃ الصبیان، 4: 322، رقم: 1921

2۔ طبراني، المعجم الکبیر، 11: 449، رقم: 12276

3۔ بزار، المسند، 7: 158، رقم: 2718

وہ شخص ہماری اُمت میں سے ہی نہیں ہے جو ہماری اُمت کے چھوٹوں کے ساتھ محبت، شفقت اور رحمت سے پیش نہ آئے اور ہمارے بڑوں کی تعظیم و تکریم نہ کرے۔

4۔ بچوں پر رحمت و شفقت کے پیشِ نظر نماز کو مختصر کر دینا

حضور نبی اکرم ﷺ کی پوری حیاتِ طیبہ ہی رحمت، محبت اور شفقت کے اندازِ فکر، اندازِ عمل اور اندازِ تربیت سے معمور نظر آتی ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو باجماعت نماز پڑھاتے، امامت کرواتے اور صحابہ کرام اور صحابیات رضی اللہ عنہم آپ ﷺ کے پیچھے مقتدی بن کر کھڑے ہوتے تو اس دوران آپ ﷺ کی یہ خواہش ہوتی کہ آپ ﷺ طویل سورت کی تلاوت کریں تاکہ اللہ تعالیٰ کے حضور دیر تک قیام کر سکیں۔ لیکن بسا اوقات ایسا ہوتا کہ ابھی تھوڑی تلاوت ہی کی ہوتی کہ صحابیات کے ساتھ آئے بچوں میں سے اچانک مسجد کے عقبی حصے یا کونے سے کسی بچے کے رونے کی آواز آپ ﷺ کے گوش اَقدس میں پڑتی۔ آپ ﷺ اپنی نماز کو مختصر کرتے ہوئے خدا کے حضور طویل قیام کا ارادہ صرف اس خیال سے ترک فرما دیتے کہ کہیں بچے کا رونا اس کی ماں کے لیے باعثِ تکلیف نہ ہو۔ کیوں کہ اگر بچہ روتا رہے گا تو ماں کا دھیان بار بار اپنے بچے کی طرف جائے گا اور اس کی مامتا تڑپتی رہے گی کہ کب نماز ختم ہو اور وہ اپنے بچے کو جا کر بہلائے۔

حضور نبی اکرم ﷺ نے اس امر کا اظہار بھی خود فرمایا۔ متفق علیہ حدیث مبارکہ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا:

إِنِّي لَأَدْخُلُ فِي الصَّلَاۃِ وَأَنَا أُرِیْدُ إِطَالَتَهَا، فَأَسْمَعُ بُکَاءَ الصَّبِيِّ، فَأَتَجَوَّزُ فِي صَلَاتِي مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ شِدَّۃِ وَجْدِ أُمِّہٖ مِنْ بُکَائِہٖ.

(1) 1۔ بخاری، الصحیح، کتاب الاذان، باب من أخف الصلاۃ عند بکاء الصبي، 1: 250، رقم: 677، 678

2۔ مسلم، الصحیح، کتاب الصلاۃ، باب أمر الأئمۃ بتخفیف الصلاۃ في تمام، 1: 343، رقم: 470

میں نماز شروع کرتا ہوں تو چاہتا ہوں کہ اسے طوالت دوں۔ پھر کسی بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو اپنی نماز مختصر کر دیتا ہوں کہ مبادا اس بچے کے رونے کی وجہ سے اس کی ماں کو تکلیف ہو۔

اِس حدیث مبارکہ میں تو ہم نے حضور نبی اکرم ﷺ کے اپنے طرزِ عمل کا مطالعہ کیا لیکن اس سے بڑھ کر انسانوں کے ساتھ محبت کا ایک اور منظر بھی ہے جو ہمیں حضور نبی اکرم ﷺ کی سیرت مبارکہ میں نظر آتا ہے۔ وہ یہ کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے مختلف علاقوں میں امامت کے فرائض سر انجام دینے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو باقاعدہ طور پر ہدایت نامہ جاری فرما رکھا تھا کہ جب تم نماز کی امامت کراؤ اور بالخصوص نمازِ عشاء کی تو چھوٹی سورتیں پڑھا کرو، لمبی سورتیں نہ پڑھا کرو یعنی مختصر قراءت کیا کرو۔ اِس لیے کہ تمہاری اِقتدا میں دن بھر کے تھکے ماندہ، بوڑھے، ضعیف، کمزور اور بیمار بھی ہوں گے۔ پچھلی صفوں میں عورتیں اور بچے بھی ہوں گے۔ تمہاری طویل قراءت سے وہ مزید تھکاوٹ کا شکار ہوجائیں گے۔ لہٰذا اللہ کی عبادت نماز اور تلاوتِ کلامِ مجید کو مختصر کر لو تاکہ کمزوروں، بوڑھوں، ضعیفوں، بیماروں، عورتوں اور بچوں کو نماز کی حالت میں بھی تکلیف نہ ہو۔

حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ تک خبر پہنچی کہ ایک صحابی جو اپنے قبیلے کی مسجد کے امام ہیں، وہ اپنے ذوقِ تلاوت کے سبب طویل سورتوں کی تلاوت کرتے ہیں۔ اس پرحضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

یَا أَیُّهَا النَّاسُ، إِنَّ مِنْکُمْ مُنَفِّرِینَ، فَمَنْ أَمَّ النَّاسَ فَلْیَتَجَوَّزْ، فَإِنَّ خَلْفَہُ الضَّعِیفَ وَالکَبِیرَ وَذَا الحَاجَۃِ.

(1) 1۔ بخاری، الصحیح، کتاب الجماعۃ والإمامۃ، باب من شکا إمامہ إذا طول، 1: 249، رقم: 672

2۔ مسلم، الصحیح، کتاب الصلاۃ، باب أمر الأئمۃ بتخیف الصلاۃ، 1: 340، رقم: 466

تم میں سے کچھ لوگ (اپنے متشدد رویے اور سخت عادات و معمولات کی وجہ سے) لوگوں کو (متنفر کر کے دین سے) بھگانے والے ہیں۔ تم میں سے جس شخص کو امامت کرنے کا موقع ملے تو اسے چاہئے کہ وہ نماز مختصر کیا کرے (یعنی تلاوت، رکعات اور قیام چھوٹا کیا کرے) کیونکہ اُس کے پیچھے بوڑھے اور ضعیف بھی ہوتے ہیں اور حاجت مند بھی (جو کمزوری کے باعث دیر تک کھڑے نہیں ہوسکتے یا انہیں نماز سے فارغ ہوتے ہی اپنا کام کاج کرنا ہوتا ہے۔ لہٰذا ان سب کا خیال کرتے ہوئے ان پر نرمی کیا کرو اور باجماعت نماز مختصر کر دیا کرو)۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مضمون مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

إِذَا أَمَّ أَحَدُکُمُ النَّاسَ، فَلْیُخَفِّفْ، فَإِنَّ فِیْهِمُ الصَّغِیرَ وَالْکَبِیْرَ وَالضَّعِیْفَ وَالْمَرِیْضَ. فَإِذَا صَلّٰی وَحْدَهٗ فَلْیُصَلِّ کَیْفَ شَاءَ.

(1) 1۔ بخاری، الصحیح، کتاب الجماعۃ والإمامۃ، باب إذا صلی لنفسہ فلیطول ما شاء، 1: 248، رقم: 671

2۔ مسلم، الصحیح، کتاب الصلاۃ، باب أمر الأئمۃ بتخفیف الصلاۃ في تمام، 1: 341، رقم: 467

جب تم نماز میں لوگوں کی امامت کرو تو نماز کو مختصر کرو کیونکہ تمہاری اِقتداء میں چھوٹے بچے بھی ہوں گے، ضعیف اور بوڑھے بھی ہوں گے اور کمزور اور مریض بھی ہوں گے (لہٰذا ان سب کا خیال رکھو)۔ البتہ جب تنہا نماز پڑھ رہے ہو تو پھر جتنی چاہو قراءت لمبی کرو۔

یہی اسلام کی حقیقی تصویر اور پیغمبر اسلام ﷺ کی سنتِ مطہرہ و سیرتِ طیبہ ہے جس میں اِنسانی اَقدار، دوسروں کے دکھ، درد اور انسان کی شخصی و طبعی اور ذاتی مجبوریوں کے ساتھ ساتھ اس کے جذبات و محسوسات اور مسائل کا اس قدر خیال رکھا جاتا ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نہ صرف نماز میں طویل قیام کا ارادہ چھوڑ دیتے اور اپنی نماز مختصر کر دیتے ہیں بلکہ اپنے اس عمل کو تعلیمِ اُمت کے لیے صراحتاً بیان بھی فرماتے ہیں۔ سو حضور نبی اکرم ﷺ نے عبادت میں بھی نرمی اختیار کرنے کا ایک بنیادی اُصول عطا کر دیا کہ امام کو اپنے مقتدیوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ آقا علیہ السلام کے ان فرامین سے واضح ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کے اندازِ فکر کی بنیاد ہمیشہ لوگوں کے لیے آسانی، نرمی، سہولت اور رحمت و شفقت پر مبنی رہی۔

5۔ اِسلام نرمی اور سہولت کا دین ہے

نرمی اور آسانی دینِ اسلام کا امتیاز ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں:

قِیْلَ لِرَسُولِ اللهِ ﷺ: أَيُّ الْأَدْیَانِ أَحَبُّ إِلَی اللهِ؟ قَالَ: الْحَنِیفِیَّۃُ السَّمْحَۃُ.

(1) أحمد بن حنبل، المسند، 1: 236، رقم: 2107

بارگاہِ رِسالت مآب ﷺ میں عرض کیا گیا: یارسول اللہ! تمام اَدیان میں سے کون سا دین اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: (اللہ کو سب سے محبوب اور پسندیدہ دین وہ ہے) جو سب سے زیادہ آسان اور مبنی بر سہولت و نرمی ہے۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک بار آپ ﷺ نے فرمایا:

اِنِّیْ اُرْسِلْتُ بِحَنِیْفِیَّۃِ السَّمَحَ.

(1) عجلونی، کشف الخفاء، 1: 53، رقم: 121

میں دنیا میں آسان ترین دین (دینِ حنیف) لے کر مبعوث ہوا ہوں۔

حضور نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ کا مطالعہ اس امر کو واضح کرتا ہے کہ آپ ﷺ نے کسی بھی معاملہ میں انتہا پسندانہ رویہ و مزاج اختیار نہ فرمایا بلکہ ہمیشہ معتدل اور متوازن رہتے ہوئے نرمی، سہولت، آسانی، رحمت و شفقت کو ترجیح دی ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

کَانَ النَبِیُّ یُحِبُّ مَا یُخَفِّفُ عَنْهُمْ.

(1) بخاری، الصحیح، کتاب مواقیت الصلاۃ، باب مَا یُصَلّٰی بَعْدَ الْعَصْرِ مِنْ الْفَوَائِتِ وَنَحْوِھَا، 1: 213، رقم: 565

آقا علیہ السلام ہمیشہ اِس بات کو پسند فرماتے اور اس کا خیال رکھتے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے ایسے عمل کو شرفِ قبولیت بخشیں جو ان کے لیے نرمی (و تخفیف) اور آسانی کا موجب ہو۔

ایک اور روایت میں اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آقا علیہ السلام کی سیرتِ طیبہ کے ایک بڑے خاص پہلو کی طرف اُمتِ مسلمہ کو متوجہ کرتے ہوئے فرماتی ہیں:

مَا خُیِّرَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ بَیْنَ أَمْرَیْنِ إِلَّا أَخَذَ أَیْسَرَهُمَا مَا لَمْ یَکُنْ إِثْمًا.

(1) بخاری، الصحیح، کتاب المناقب، بَاب صِفَۃِ النَّبِيِّ ﷺ، 3: 1306، رقم: 3367

جب بھی رسول اللہ ﷺ کو دو کاموں میں سے ایک کو اختیار کرنے کی اجازت ملی تو آپ ﷺ نے آسان اَمر کو اختیار فرمایا جب کہ اس میں معصیت نہ ہو۔

حضور نبی اکرم ﷺ آسان عمل کو اس لیے اختیار فرماتے تاکہ اس کے ترک ہو جانے کا خدشہ نہ ہو اور اُمت اس عمل میں موجود آسانی کے باعث اس پر ثابت قدم رہ سکے کیونکہ اگر عمل سخت اور مشکل ہوگا تو اسے انجام دینے والے کا تسلسل تھوڑے عرصہ بعد ٹوٹ جائے گا۔ لہٰذا دائمی سنت بنانے کے لیے اُمت کی آسانی اور بھلائی کے لیے ہمیشہ آقا علیہ السلام یہی طرزِ عمل اِختیار فرماتے کہ دو اُمور میں سے ہمیشہ آسان کو منتخب فرماتے۔ اِس ضمن میں سیرتِ طیبہ سے بہت سی مثالیں دی جاسکتی ہیں، لیکن صرف ایک کے بیان پر اکتفا کریں گے تاکہ نفسِ مسئلہ بخوبی واضح ہوجائے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَی أُمَّتِي أَوْ عَلَی النَّاسِ لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاکِ مَعَ کُلِّ صَلَاةٍ.

(1) 1۔ بخاری، الصحیح، کتاب الجمعۃ، باب السواک یوم الجمعۃ، 1: 303، رقم: 847

2۔ أحمد بن حنبل، المسند، 5: 410، رقم: 23533

اگر میں اپنی اُمت کے لیے مشقت نہ سمجھتا - یا فرمایا: اگر میں لوگوں کے لئے مشقت شمار نہ کرتا - تو میں انہیں ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا۔

ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:

لَأَمَرْتُھُمْ بِالسِّوَاکِ عِنْدَ کُلِّ وُضُوْءٍ.

(2) 1۔ بخاری، الصحیح، کتاب الجمعۃ، باب السواک یوم الجمعۃ، 1: 303، رقم: 847

2۔ مالک، الموطأ، کتاب الطہارۃ، باب ما جاء في السواک، 1: 66، رقم: 145-146

میں انہیں ہر وضو کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا۔

6۔ عمل کی قدر و قیمت کا اِنحصار طرزِ عمل میں نرمی اور ملاطفت پر ہے

یہ اَمر ذہن نشین رہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اَعمال کی قدر و قیمت اور قبولیت کا اِنحصار عبادات و معاملات میں کثرت ہرگز نہیں ہے بلکہ حقوق العباد کی ادائیگی اور مخلوق سے معاملات کی اَنجام دہی کے دوران نرمی و ملاطفت اور بھلائی اختیار کرنے پر ہے۔ آپ ﷺ کے متعدد فرامین ہمیں روز مرہ زندگی میں نرمی و ملاطفت اختیار کرنے کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ آئیے! چند فرامین کا مطالعہ کرتے ہیں:

اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ حضور ﷺ نے اُنہیں فرمایا:

یَا عَائِشَۃُ! إِنَّ ﷲَ رَفِیْقٌ یُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ کُلِّہِ.

(1) 1۔ بخاری، الصحیح، کتاب استتابۃ المرتدین والمعاندین وقتالھم، باب إِذَا عرَّضَ الذِّمِّيُ وَغَیْرُهُ، 6: 2539، رقم: 6528

2۔ ابن ماجہ، السنن، کتاب الأدب، باب الرفق، 2: 1216، رقم: 3688

اے عائشہ! بے شک اللہ تعالیٰ نرمی سے سلوک کرنے والا ہے اور ہر ایک معاملہ میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔

ایک روایت کے مطابق حضور نبی اکرم ﷺ نے تعلیم اُمت کے لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

یَا عَائِشَۃُ! إِنَّ ﷲَ رَفِیْقٌ وَیُحِبُّ الرِّفْقَ وَیُعْطِي عَلَی الرِّفْقِ مَا لَا یُعْطِي عَلَی الْعُنْفِ.

(2) 1۔ مسلم، الصحیح، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب فضل الرفق، 4: 2003، رقم: 2593

2۔ أحمد بن حنبل، المسند، 1: 112، رقم: 902

3۔ أبو داود، السنن، کتاب الأدب، باب فی الرفق، 4: 254، رقم: 4807

اے عائشہ! اللہ تعالیٰ نرمی کرنے والا ہے اور نرمی کو پسند کرتا ہے۔ وہ نرمی پر اتنا عطا فرماتا ہے کہ جتنا سختی پر نہیں۔

یعنی اللہ رب العزت کا لوگوں سے رحمن و رحیم اور غفور و رحیم ہو کر پیش آنا نرمی ہے۔ اس کا صاحبِ رحمتِ واسعہ، رب العالمین اور رازق ہونا نرمی ہے۔ اس کا جواد و کریم اور توّاب و رؤف ہونا نرمی ہے۔ لہٰذا وہ ہر معاملے میں نرمی کو پسند کرتا ہے اور نرمی کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے اور وہ عمل جس میں نرمی ہو اس پر جو اجر عطا فرماتا ہے وہ کسی ایسے نیک عمل سے زیادہ ہوتا ہے جس میں نرمی نہ ہو۔

حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:

مَنْ یُحْرَمِ الرِّفْقَ، یُحْرَمِ الْخَیْرَ.

(1) 1۔ مسلم، الصحیح، کتاب کتاب البر والصلۃ والآداب، باب فضل الرفق، 4: 2003، رقم: 2592

2۔ أبو داؤد، السنن، کتاب الأدب، باب في الرفق، 4: 255، رقم: 4809

جس شخص کو نرمی (شفقت) سے محروم کر دیا گیا، (سمجھ لو! کہ بارگاہِ اِلٰہی کی جانب سے) وہ ہر خیر اور بھلائی سے محروم کر دیا گیا۔

گویا ساری خیر اور بھلائی کسی بھی کام کو نرمی کے ساتھ انجام دینے میں مضمر ہے۔ لیکن جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے نرمی کی توفیق نہیں دی - خواہ اُس شخص کی کاوشیں تبلیغ و نفاذِ دین ہی سے متعلق کیوں نہ ہوں - تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ نے کوئی نیکی نہیں چھوڑی بلکہ وہ ہر بھلائی اور خیر سے یکسر محروم ہو چکا ہے۔

حضور نبی اکرم ﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے:

إِنَّ الرِّفْقَ لَا یَکُوْنُ فِيْ شَيْئٍ إِلَّا زَانَهٗ، وَلَا یُنْزَعُ مِنْ شَیْئٍ إِلَّا شَانَہٗ.

(2) 1۔ مسلم، الصحیح، کتاب کتاب البر والصلۃ والآداب، باب فضل الرفق، 4: 2004، رقم: 2594

2۔ أبو داؤد، السنن، کتاب الجھاد، باب ما جاء في الھجرۃ وسکنی الدر، 3: 3، رقم: 2478

رِفق ایک ایسی (قدر و قیمت والی) نعمت ہے کہ جس معاملے (یا عمل) میں رِفق (نرمی) ہوگی اللہ تعالیٰ اُس شے (کے وزن، اَہمیت، قدر و قیمت اور اجر) کو بڑھا دے گا۔ لیکن جس چیز سے بھی ملاطفت اور نرمی نکل جائے گی وہ چیز اپنی قدر و منزلت میں گر کر ذلیل اور گھٹیا ہو جائے گی۔

یعنی نرمی کی وجہ سے ایک نیک عمل کا اَجر اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کی قدر و منزلت بڑھ جائے گی، لیکن دوسری طرف وہی عمل خواہ جس قدر بھی نیک ہو حتیٰ کہ اسلام کے نفاذ و دعوت یا تبلیغِ دین ہی کا کیوں نہ ہو، اس میں سختی در آنے کی وجہ سے وہ عمل اپنے مقام و مرتبہ سے گر جائے گا۔

اِس سے بڑھ کر کسی دین و مذہب یا نظامِ حیات میں شائستگی اور انسان نوازی (humanism) کیا ہو سکے گی؟

7۔ اَئمہ اِسلام نے سہولت و رحمت کی تۢعلیمات بارہ صدیاں قبل بیان کر دی تھیں

دین کے آسان ہونے کا یہ تصور آج کا نہیں بلکہ آج سے چودہ سو سال قبل حضور نبی اکرم ﷺ نے اُمت کو آسانی، رحمت اور شفقت کی تعلیم دی۔ افسوس! آج ایک طرف علمِ دین کے حاملین میں سے بعض لوگ اپنی تنگ نظری، محدود مطالعہ اور سطحی شعور کے باعث ان باتوں کو سننے کے روادار نہیں۔ جب کہ دوسری طرف غیر مسلم اور اہلِ اسلام دونوںکی جدید نسلوں میں سیکولر ذہن رکھنے والے بھی یہ سوچتے اور سمجھتے ہیں کہ شاید اسلام میں واقعی آسانی، شفقت اور نرمی کا کوئی تصور نہیں ہے۔

ان تینوں طبقات کی یہ سوچیں لاعلمی، بے خبری اور تعصب سے جنم لیتی ہیں۔ اَہلِ علم اور اَہلِ شعور جانتے ہیں کہ امام بخاری، امام مسلم یا دیگر اَئمہ حدیث آج کے دور میں یا اِس صدی یا یورپ و امریکہ میں پیدا نہیں ہوئے بلکہ یہ آج سے بارہ تیرہ سو سال پہلے کے اَئمہ حدیث ہیں جنہوں نے اپنی اپنی کتب میں احادیثِ نبوی کو جمع کیا اور اسلام کے دینِ یُسر ہونے پر باقاعدہ اَبواب قائم کیے ہیں۔

یاد رکھیں! کسی امامِ حدیث نے اپنی کسی کتاب میں ایسا باب نہیں باندھا جو ان الفاظ پر مبنی ہو کہ اسلام سختی یا جبر کا نام ہے حالانکہ یہ وہ دور تھا جب اسلام علمی طور پر بھی غالب تھا اور اپنی وسعت و قوت کے اعتبار سے بھی ایک عالم گیر طاقت بن رہا تھا۔ اُس دور میں امام بخاری کا اپنی ’الصحیح‘ میں اَلدِّیْنُ یُسْرٌ (دین سراسر آسانی اور سہولت کا نام ہے) کے عنوان سے باب قائم کرنا اس بات کی بین دلیل ہے کہ آج کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اَہلِ اسلام آسانی و رحمت کی تعلیمات کو اپنی طرف سے بیان نہیں کر رہے بلکہ یہ تمام باتیں اَئمہ حدیث نے بارہ تیرہ صدیاں قبل اپنی کتب میں جمع کر دی تھیں۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آقا علیہ السلام نے فرمایا:

إِنَّ الدِّیْنَ یُسْرٌ، وَلَنْ یُشَادَّ الدِّیْنَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَہٗ.

(1) 1۔ بخاری، الصحیح، کتاب الایمان، باب الدِّینُ یُسْرٌ وَقَوْلُ النَّبِیِّ ﷺ: أَحَبُّ الدِّینِ إِلَی اللهِ الْحَنِیفِیَّۃُ السَّمْحَۃُ، 1: 23، رقم: 39

2۔ نسائی، السنن، کتاب الایمان وشرائعہ، الدین یسر، 6: 537، رقم: 11765

بے شک دین آسان (اور نرم) ہے اور جو کوئی اِسے مشکل (اور سخت) بنائے گا تو یہ اُسی پر غالب آ جائے گا۔

یعنی سختی اور انتہا پسندی اپنانے والے کو دینِ اسلام نے کبھی برداشت نہیں کیا۔ جس شخص نے بھی اپنے لیے یا دوسروں کو دعوت دینے کے لیے دین کے معاملے میں شدت پر مبنی رویہ اختیار کیا تو دین نے اُسے دبا دیا اور اُسے کبھی قبول نہیں کیا کیونکہ دینِ اِسلام شدت کے خلاف اور سہولت اور رحمت کے حق میں ہے۔

اِسلام کے نرمی و آسانی اور سہولت کا دین ہونے پر درج ذیل حدیث روشن دلیل کی حیثیت رکھتی ہے۔ جب آپ ﷺ سے بہترین دین کی بابت دریافت کیا گیا تو حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے دو بار ارشاد فرمایا:

إِنَّ خَیْرَ دِیْنِکُمْ أَیْسَرُہٗ، إِنَّ خَیْرَ دِیْنِکُمْ أَیْسَرُہٗ.

(1) أحمد بن حنبل، المسند، 3: 479، رقم: 15978

تمہارا بہترین دین وہ ہے جو آسانی پر مبنی ہو، تمہارا بہترین دین وہ ہے جو آسانی پر مبنی ہو۔

یہ حقیقت ہے کہ صحیح معنوں میں اسلام سے زیادہ جدید نظامِ حیات اور کوئی نہیں ہے۔ نوجوان نسل کو چاہیے کہ دینِ اسلام کو گہرائی سے پڑھیں اور اسے پڑھے بغیر دوسروں کے کہنے پر ہی یہ فیصلہ نہ کر لیا کریں کہ اسلام نے انسانی حقوق (Human Rights) اور اِنسانی اَقدار (Human Values) کے تصورات عالمِ مغرب سے مستعار لیے ہیں۔ نہیں! ایسا ہرگز نہیں ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے آج سے چودہ صدیاں قبل دہشت گردی اور شدت پسندی کی بیخ کنی کے لیے یہ سنہری اُصول عطا فرمائے۔ دہشت گردی کے ردّ پر مبنی یہ وہ تصور ہے جو کسی جدید جمہوریت نے نہیں دیا بلکہ آقا علیہ السلام نے خود چودہ سو سال پہلے انتہا پسندی کی مذمت کرتے ہوئے عطا کیا۔ یہ وہ دور تھا جب مغرب تہذیب و شائستگی سے دُور اور تاریک دَور (dark ages) میں زندہ تھا۔ ابھی امریکہ دریافت بھی نہیں ہوا تھا جب مدینہ کی سرزمین پر طلوع ہونے والے آفتابِ ہدایت، نبی اَوّلین و آخرین اور تاجدارِ کائنات ﷺ پوری کائناتِ انسانی کو شدت پسندی کی مذمت کی تعلیم دے رہے تھے۔

یہاں سوال کیا جاسکتا ہے کہ اُس وقت شدت پسندی کو ردّ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ کیا دورِ جاہلیت میں بھی شدت پسندی تھی؟ اس کا جواب ’ہاں‘ میں ہے کیونکہ کفر ہمیشہ سے شدت پسند رہا ہے اور اسلام ہمیشہ سے رحمت پسند رہا ہے۔ اس لیے شدت پسندی کی مذمت کی اُس وقت بھی ضرورت تھی اور آج بھی ناگزیریت ہے۔ ہر دور میں شدت پسندی کے روپ بدلتے رہے ہیں اور ہر دور میں یہ ایک فلسفہء حیات کے طور پر موجود رہا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں ہر دور میں نرمی اور اعتدال (moderation) بھی ایک فلسفہ حیات رہا ہے۔

8۔ شدت پر مبنی طرزِ عمل اِسلامی تعلیمات کے منافی ہے

حضور نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے خطاب کرتے ہوئے دو مرتبہ یہ بات بیان فرمائی کہ دین کی بہترین صورت وہ ہے جو نرمی، آسانی، لطف و کرم اور رحمت و شفقت پر مبنی ہو۔ چنانچہ جس کی بنیاد آسانی اور سہولت پر ہو سمجھ لو کہ وہ سب سے اَعلیٰ اور اَرفع دین ہے۔ آقا ﷺ نے اپنی بات دہرا کر یہ واضح فرما دیا کہ اگر کوئی شخص دین میں شدت پسندی کا راستہ اختیار کرتا ہے تو یہ مت سمجھو کہ یہ اَصلِ دین ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام صرف نرمی اور آسانی کا دین ہے کیونکہ انسانیت کو بہترین دین عطا کرنے والی ہستی آقاے نامدار ﷺ خود اپنے دین کی یہ تعریف کر رہے ہیں کہ دین کا بہترین تصور نرمی، شفقت اور سہولت سے عبارت ہے۔

حضرت عروہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضور نبی اکرم ﷺ سے کسی حوالے سے سوال کیا:

أَعَلَیْنَا حَرَجٌ؟

کیا کہیں اس (خاص شے یا عمل) میں ہمارے لیے کوئی حرج ہے؟

جواب میں آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا کہ کوئی حرج نہیں، کوئی حرج نہیں، کوئی حرج نہیں۔ پھر فرمایا:

أَیُّهَا النَّاسُ! إِنَّ دِیْنَ اللهِ عزوجل فِي یُسْرٍ.

(1) احمد بن حنبل، السمند، 5: 69، رقم: 20688

اے لوگو! بے شک اللہ تعالیٰ کا دین آسانی میں ہے۔

آقا ﷺ کا تین مرتبہ بیان فرمانا اِس بات پر مہر تصدیق ثبت کر دیتا ہے کہ بے شک اللہ تعالیٰ کا دین، آسانی، سہولت، نرمی اور شفقت میں ہے۔ اس لیے جن لوگوں کے مزاج، طبیعت، اور طرزِ عمل مبنی بر شدت دیکھیں تو اُن لوگوں کا فلسفہ اور نظریہ مکمل طور پر ردّ کر دیں کیونکہ ان کی فکر اور نظریہ کا دینِ اِسلام کی تعلیمات سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔

(1) شدت اور اِنتہا پسندی سے اجتناب کا حکم

اَحادیثِ نبوی میں ایسے بے شمار واقعات ملتے ہیں جن میں آقا علیہ السلام نے اِعتدال، نرمی، شفقت، رحمت اور سہولت کی زندگی اِختیار کرنے کا حکم دیا اور اَعمال و عبادات میں شدت، مبالغے اور انتہاء پسندی سے منع فرما دیا۔ ایسے تمام مسلمان بھائی جنہیں جہاد کی غلط تعبیرات بتا کر شدت پسند بنا دیا گیا ہے ان کی بھلائی کے لیے انہیں نصیحت ہے کہ وہ آقا علیہ السلام کی زبانِ مبارک سے سمجھیں کہ دین اسلام کیا ہے؟ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

إِیَّاکُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِّینِ.

(1) أحمد بن حنبل، السمند، 1: 215، رقم: 1851

دین میں غلو (یعنی شدت پسندی اور انتہا پسندی) سے پرہیز کرو۔

حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنی حیاتِ طیبہ میں ہمیشہ اِعتدال و توازن کو پسند فرمایا اور اس طرزِ عمل کو عینِ دین قرار دیا کیوں کہ قرآن مجید نے بھی اُمَّۃً وَّسَطًا کہہ کر ساری اُمت کو یہی پیغام دیا کہ یہ اُمت توازن اور اعتدال کی راہ پر چلنے والی اُمت ہے۔ اس کے باوجود جو اِعتدال اور توازن کی راہ چھوڑتا ہے اور شدت پسندی اختیار کرتا ہے وہ خود کو اُمتِ محمدیہ سے بھی خارج کرتا ہے اور دین کے دائرے سے بھی نکال لیتا ہے۔

ان تمام احادیث مبارکہ کی تفصیل بتا نے کا مقصد یہ ہے کہ اسلام میں نرمی کا تصور اور شدت پسندی کا ردّ کوئی نیا تصور نہیں بلکہ ہمیں دین عطا کرنے والے تاجدارِ کائنات ﷺ چودہ صدیاں پہلے شدت پسندی کو ردّ فرما چکے ہیں اور جو دین آپ ﷺ نے ہمیں عطا کیا، اس کا روشن چہرہ اور شفاف حیثیت ہمارے سامنے واضح کر چکے کہ دین میں ہر قسم کی اِنتہا پسندی، شدت پسندی اور مبالغہ پسندی کی راہ غلط ہے، اسے چھوڑ دو کیونکہ یہ دین نہیں ہے۔ اس لیے کہ:

إِنَّمَا هَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِالْغُلُوِّ فِي الدِّینِ.

(1) احمد بن حنبل، السمند، 1: 215، رقم: 1851

تم سے پہلے قومیں دین میں غلو اور زیادتی (یعنی شدت پسندی اور انتہا پسندی) کے سبب ہلاک ہوئیں۔

(2) دین میں شدت اختیار کرنے والوں کو حضور ﷺکی سخت تنبیہ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ تین اَشخاص ایک وفد کی صورت میں آقا علیہ السلام کے پاس آئے۔ یہ تینوں افراد قائمُ اللَّیل، صائمُ الدَّھر اور تارکُ الدُّنیا تھے۔ وہ یہ جاننا چاہتے تھے کہ عبادات و اعمال میں آقا علیہ السلام کے معمولاتِ شب و روز کیا ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ وہ آقا ﷺ کے عملِ مبارک کی متابعت اور مطابقت میں اور زیادہ بڑھ چڑھ کر عبادت و ریاضت کریں گے۔ انہیں بتایا گیا کہ آقا علیہ السلام کا معمول تو یہ ہے کہ آپ ﷺ آرام بھی فرماتے ہیں اور تہجد کی نماز بھی پڑھتے ہیں، روزے بھی رکھتے ہیں اور افطار بھی کرتے ہیں؛ یعنی آپ ﷺ کی حیات طیبہ اعتدال و توازن پر قائم ہے۔ آپ ﷺ کی حیاتِ طیبہ کا یہ معمول سن کر ان تینوں نے جن کا عبادت کے معاملے میں انتہا پسندی اور شدت پسندی پرعمل تھا کہا کہ ہمارا کیا مقام کہ ہم آقا علیہ السلام کی برابری کر سکیں! آقا علیہ السلام تو معصوم ہیں جب کہ ہم تو گنہگار لوگ ہیں اور ہمیں اللہ رب العزت کا قرب اور بخشش چاہیے۔ اس لیے ہم عبادات کے معاملے میں شدت و کثرت سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔ چنانچہ ایک نے کہا:

أَنَا أَصُوْمُ الدَّھْرَ وَلَا أُفْطِر.

میں عمر بھر روزے رکھتا رہوں گا اور ایک روزہ بھی نہیں چھوڑوں گا۔

دوسرے نے کہا:

أَنَا فَإِنِّي أُصَلِّي اللَّیْلَ أَبَدًا.

میں اب ہمیشہ ساری رات نماز پڑھا کروں گا۔

اورتیسرے نے بھی کہا:

أَنَا أَعْتَزِلُ النِّسَاءَ فَـلَا أَتَزَوَّجُ أَبَدًا.

میں عورتوں سے ہمیشہ دور رہوں گا اور کبھی شادی نہیں کروں گا۔

اس طرح ان تینوں نے اپنے ان معمولات قائم رکھنے کی قسم کھاتے ہوئے پختہ عزم و مصمم ارادہ کر لیا۔ اتنے میں آقا علیہ السلام تشریف لے آئے اور ان کی باتیں بیان کر کے فرمایا:

أَنْتُمُ الَّذِینَ قُلْتُمْ کَذَا وَکَذَا؟

تمہی وہ لوگ ہو جنہوں نے ایسا ایسا کہا ہے؟

یہ سن کر ان تینوں نے عرض کیا: جی ہاں، یا رسول اللہ۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا:

وَاللهِ، إِنِّي لَأَخْشَاکُمْ ِﷲِ وَأَتْقَاکُمْ لَہٗ۔

خدا کی قسم! تمہاری نسبت میں خدا سے زیادہ خشیت رکھتا ہوں اور اس سے ڈر کر گناہوں سے زیادہ بچنے والا ہوں۔

یعنی تم سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت، خشیت اور تقوی کا جذبہ مجھ میں ہے:

لٰـکِنِّي أَصُوْمُ وَأُفْطِرُ وَأُصَلِّي وَأَرْقُدُ وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاء.

لیکن اس کے باوجود میں روزے رکھتا بھی ہوں اور چھوڑتا بھی ہوں، (راتوں کو) نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، نیز عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔

پس:

مَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَیْسَ مِنِّي.

(1) 1۔ بخاری، الصحیح، کتاب النکاح، باب الترغیب في النکاح لقولہ تعالٰی: (فانکحوا ما تاب لکم من النساء) 5: 1949، رقم: 4776

2۔ مسلم، الصحیح، کتاب النکاح، بَابُ اسْتِحْبَابِ النِّکَاحِ لِمَنْ تَاقَتْ نَفْسُهُ إِلَیْہِ وَوَجَدَ مُؤَنَهُ وَاشْتِغَالِ مَنْ عَجَزَ عَنْ الْمُؤَنِ بِالصَّوْمِ، 2: 1020، رقم: 1401

جو میری سنت سے منہ پھیرے وہ مجھ سے نہیں ہے۔

اِس حدیث مبارکہ میں تین چیزیں جمع ہیں:

1۔ آرام کیے بغیر ہر رات قیام کرنا

2۔ روزانہ روزہ رکھنا اور کبھی افطار نہ کرنا

3۔ زندگی میں کبھی شادی نہ کرنا یعنی متوازن زندگی چھوڑ کر تارکِ دنیا ہو جانا۔

آقا علیہ السلام نے شدت اور مشقت پر مبنی اِن تینوں اَعمال کو سختی سے ردّ کرتے ہوئے واضح کیا کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا، سب سے زیادہ تقویٰ رکھنے والا اور سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والا ہوں۔ لیکن میرا طریقہ یہ ہے کہ میں رات کو عبادت بھی کرتا ہوں اور بستر پر سوتا بھی ہوں، روزے بھی رکھتا ہوں اور چھوڑتا بھی ہوں اور میں شادیاں کرتا اور اَزواج کے حقوق بھی پورے کرتا ہوں۔ یہی میری سنت، طرزِ عمل، شعار اور اُسوہ ہے اور جو شخص بھی میری سنت، طرزِ عمل اور اُسوہ کو چھوڑ کر کوئی اور طریق اختیار کرے گا وہ میری اُمت میں سے نہیں۔

(3) شدت پسندوں کے لیے ہلاکت کی وعید

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے تین بار فرمایا:

هَلَکَ الْمُتَنَطِّعُوْنَ.

(1) مسلم، الصحیح، کتاب العلم، باب ھلک المتنطعون، 4: 2055، رقم: 2670

بال کی کھال نکالنے والے (یعنی شدت پسند و انتہاء پسند) ہلاک ہو گئے۔

مُتَنَطِّعُوْنَ انتہا پسندوں، مبالغہ پرستوں اورشدت شعاروں کو کہا جاتا ہے۔ انتہا پسندی کے ردّ میں اسلام کی طرف سے یہ واضح اور صریح پیغام اور اس باب میں اسلام کا یہ فیصلہ کن موقف ان الفاظ میں بآسانی سمجھا جا سکتا ہے۔

9۔ دنیا کا کوئی فلسفہ، اِسلام کی اِنسانیت نواز تعلیمات کا بدل نہیں ہو سکتا

اِسلام اِنسانیت کے خیال اور اِنسانی جذبات کے اِحساس میں اپنی تعلیمات کو جتنی بلندیوں تک لے گیا ہے، دنیا کا کوئی مذہب اور فلسفہ اُس کی گرد کو بھی نہیں پا سکتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے اِسلام کو صحیح طور پر نہیں جانا۔ لادینی میلانات و رُجحانات رکھنے والے اس کی عظمتوں کو نہ جاننے کے سبب اس سے انکار کرتے ہیں اور اسلام کے دعوے دار بسببِ جہالت اور فقدانِ عمیق مطالعہ کے زیادہ افسوس ناک منظر پیش کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس مذہبِ رحمت کو ناحق بدنام کیا جا رہا ہے۔

جو اسلام بچے کے رونے کے باعث ماں کی مامتا پر بیتنے والے احساس کے نتیجے میں نماز جیسی عظیم عبادت کو مختصر کر دینے کا اہتمام کرتا ہے، وہ ’اسلام‘ کیسے گوارا کرسکتا ہے کہ کسی بچے کی گردن کٹ جائے، کسی کے کلیجے پر خنجر چل جائے، کسی کے سینے میں بندوق کی گولی داغ دی جائے، کسی کا گھر جلا دیا جائے اور خود کش حملے کے ذریعے انسانی آبادیوں اور ان میں رہنے والے معصوم بچوں، عورتوں، بوڑھوں اور مریضوں کو ہلاک و برباد کر دیا جائے۔ جو بدبخت ایسے کام کرکے بھی خود کو مسلمان سمجھتے ہیں وہ بتلائیں کہ ان کا رشتہ کس اسلام اور کس قرآن کے ساتھ ہے؟ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے من گھڑت تصورات کو مذہب کا نام دے کر اسلام کو بدنام کر رہے ہیں، حقیقت میں یہی دشمنانِ اِسلام ہیں جن کو اسلام کی لطافتوں، رحمتوں، شفقتوں، برکتوں اور اس کی عظمتوں کی خبر ہی نہیں۔ پیغمبرِ اسلام ﷺ ہمیشہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اِعتدال و توازن (balance and moderation)، آسانی (easiness) اور سہولت (convenience) کی تعلیم دیتے اور ہمیشہ مبالغہ پسندی، انتہا پسندی اور ہر طرح کی شدت پسندی سے منع فرماتے۔

مسلمان اور مومن ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ہم حضور نبی اکرم ﷺ کی اِن تعلیمات کو نہ صرف فکری و نظریاتی طور پر تسلیم کریں بلکہ اپنے معاشرے میں ان کا عملی اظہار بھی پیش کریں۔ دہشت گردی و انتہا پسندی کے عفریت سے نجات حاصل کرنے کے لیے نہ صرف ہماری مسلح اَفواج بلکہ ہر ہر شہری کو اسلام کے بارے میں موجود منفی اِبـہام، اِنتشار اور confusion کو دور کرلینا چاہیے۔ بحیثیت مسلمان ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ کون سا عمل عینِ اسلام ہے اور کون سا فعل خارِج اَز اِسلام ہے۔ اِسی صورت ہم یکسو ہوکر مملکتِ خداداد پاکستان کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کے تسلط سے آزاد کروا سکتے ہیں۔

یہ وقت پوری قوم، سیاسی جماعتوں، پارلیمنٹ اور خاص طور پر اَفواجِ پاکستان کے لیے امتحان کا وقت ہے۔ تمام ادارے اور سیاسی جماعتیں اور پارلیمنٹ فیصلہ کریں کہ وہ اس ملک کو اَمن اور عدمِ تشدد کا معاشرہ دینا چاہتے ہیں یا اس ملک کو ہمیشہ کے لیے انتہا پسند و متشدد معاشرہ بنا کر دہشت گردوں کے سپرد کرنا چاہتے ہیں؟ وہ فیصلہ کریں کہ امن و سکون چاہتے ہیں یا دہشت گردی اور قتل و غارت گری؟ وہ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللهِ کی راہ پر چلنا چاہتے ہیں یا رسولِ معظم ﷺ کی تعلیمات سے بغاوت چاہتے ہیں؟

جب تک یکسو ہوکر تمام سیاسی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے مرتکب افراد، ان کے معاونین اور فکری گماشتوں کا قلع قمع نہیں کیا جاتا، امن ہمارا خواب ہی رہے گا اور اس کی عملی تعبیر کبھی ممکن نہ ہوسکے گی۔ اس معاشرے کو ’محبت اور عدمِ تشدد‘ کا نیا slogan دینا ہوگا جس کی بنیاد حضور نبی اکرم ﷺ کی تعلیماتِ اَمن و رحمت اور محبت و شفقت ہیں۔

Copyrights © 2026 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved