سیاسی، فکری یا اِعتقادی اِختلافات کی بنا پر مسلمانوں کی اکثریت (large majority) کو کافر، مشرک اور بدعتی قرار دیتے ہوئے انہیں بے دریغ قتل کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کے نزدیک مومن کے جسم و جان اور عزت و آبرو کی کیا اَہمیت ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے ایک مومن کی حرمت کو کعبے کی حرمت سے زیادہ محترم قرار دیا ہے۔ امام ابن ماجہ سے مروی حدیثِ مبارکہ ملاحظہ ہو:
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما، قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ یَطُوْفُ بِالْکَعْبَةِ، وَیَقُولُ: مَا أَطْیَبَکِ وَأَطْیَبَ رِیْحَکِ، مَا أَعْظَمَکِ وَأَعْظَمَ حُرْمَتَکِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِهٖ، لَحُرْمَةُ الْمُؤْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللهِ حُرْمَةً مِنْکِ مَالِهٖ وَدَمِهٖ، وَأَنْ نَظُنَّ بِهٖ إِلَّا خَیْرًا.
(1) 1۔ ابن ماجہ، السنن، کتاب الفتن، باب حرمۃ دم المؤمن ومالہ، 2: 1297، رقم: 3932
2۔ طبراني، مسند الشامیین، 2: 396، رقم: 1568
3۔ منذري، الترغیب والترھیب، 3: 201، رقم: 3679
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اور یہ فرماتے سنا: (اے کعبہ!) تو کتنا عمدہ ہے اور تیری خوشبو کتنی پیاری ہے، تو کتنا عظیم المرتبت ہے اور تیری حرمت کتنی زیادہ ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! مومن کے جان و مال کی حرمت اللہ کے نزدیک تیری حرمت سے زیادہ ہے اور ہمیں مومن کے بارے میں نیک گمان ہی رکھنا چاہئے۔
عقائد میں اہل سنت کے اِمام ابو منصور ماتریدی آیت مبارکہ - مَنْ قَتَلَ نَفْسًام بِغَیْرِ نَفْسٍ کے ذیل میں انسانی قتل کو کفر قرار دیتے ہوئے بیان کرتے ہیں:
(المائدۃ، 5: 32)
من استحل قتل نفس حَرَّمَ اللہ قتلھا بغیر حق، فکأنّما استحل قتل الناس جمیعًا، لأنہ یکفر باستحلالہ قتل نفس محرم قتلھا، فکان کاستحلال قتل الناس جمیعًا، لأن من کفر بآیۃ من کتاب اللہ یصیر کافرًا بالکل…
وتحتمل الآیۃ وجھًا آخر، وھو ما قیل: إنہ یجب علیہ من القتل مثل ما أنہ لو قتل الناس جمیعًا.
ووجہ آخر: أنہ یلزم الناس جمیعا دفع ذلک عن نفسہ ومعونتہ لہ، فإذا قتلھا أو سعی علیھا بالفساد، فکأنما سعی بذلک علی الناس کافۃ۔ … وھذا یدل أن الآیۃ نزلت بالحکم في أھل الکفر وأھل الإسلام جمیعاً، إذا سعوا في الأرض بالفساد.
(2) أبومنصور الماتُریدی، تأویلات أھل السنۃ، 3: 501
جس نے کسی ایسی جان کا قتل حلال جانا جس کا ناحق قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے حرام کر رکھا ہے، تو گویا اس نے تمام لوگوں کے قتل کو حلال جانا، کیونکہ ایسی جان جس کا قتل حرام ہے، وہ شخص اس کے قتل کو حلال سمجھ کر کفر کا مرتکب ہوا ہے، وہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے تمام لوگوں کے قتل کو حلال جانا، کیونکہ جو شخص کتاب اللہ کی ایک آیت کا انکار کرتا ہے وہ پوری کتاب کا انکار کرنے والا ہے۔ …
یہ آیت ایک اور توجیہ کی بھی حامل ہے اور وہ یہ کہ کہا گیا ہے کہ کسی جان کے قتل کو حلال جاننے والے پر تمام لوگوں کے قتل کا گناہ لازم آئے گا۔
ایک توجیہ یہ بھی ہے کہ تمام لوگوں پر لازم ہے کہ اجتماعی کوشش کے ساتھ اس جان کو قتل سے بچائیں اور اس کی مدد کریں۔کیونکہ جب وہ اس کو قتل کر کے فساد بپا کرنے کی کوشش کرے گا تو گویا وہ پورے معاشرے کے سبھی لوگوں میں فساد بپا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ … اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یہ آیت اس حکم کے ساتھ تمام اہل کفر اور اہل اسلام کے لیے نازل ہوئی ہے جبکہ وہ فساد فی الارض کے لیے سرگرداں ہو۔
علامہ ابوحفص الحنبلی اپنی تفسیر اللباب في علوم الکتاب میں اللہ تعالیٰ کے فرمان فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا کی تفسیر میں ایک انسان کے قتل کو پورے معاشرہ کے تمام لوگوں کا قتل قرار دیتے ہوئے مختلف ائمہ کے اقوال نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
(1) المائدۃ، 5: 32
1۔ قال مُجَاهِد: من قتل نَفْساً محرَّمۃ یَصْلَی النَّار بقتلھا، کما یصلھا لو قتل النَّاس جمیعاً،
2۔ وقال قتادۃ: أعْظَم اللہ أجرَهَا وعظَّم وزرَھا، معناہ: من استَحَلَّ قتل مُسْلِمٍ بغیر حَقّہ، فکأنّما قتل النَّاس جمیعاً،
3۔ وقال الحسن: {فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا}، یعني: أنّہ یَجِبُ علیہ من القِصَاص بِقَتْلِهِا، مثل الذي یجب علیہ لو قتل النَّاسَ جَمِیعًا۔
قولہ تعالی: {اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ ؕ ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙo اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهِمْ ۚ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠o}.
(المائدۃ، 5: 33-34)
وقولہ: {یُحَارِبُون اللہ}، أي: یُحَارِبُون أولِیَاءہ کذا قدَّرَہ الجمھور.
وقال الزَّمَخْشَريُّ: یُحَارِبُون رسول اللہ، ومحاربۃ المُسْلِمِین في حکم مُحَارَبَتِہ.
نزلت ھذہ الآیۃ في قطَّاع الطَّریِق من المُسْلِمین (وھذا قول) أکثر الفقھاء.
(2) 1۔ بغوی، معالم التنزیل، 2: 33
2۔ رازی، التفسیر الکبیر، 11: 169
أنَّ قولہ تعالٰی: {الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ ﷲَ وَرَسُوْلَهٗ وَیَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا} یتناول کل من یُوصَف بھذہ سواءً کان مُسْلِمًا أو کافراً، ولا یُقالَ: الآیۃ نزلت في الکُفَّار، لأن العبرۃ بعُمُوم اللَّفْظ لا خُصوص السَّبَب، فإن قیل: المُحَارِبُون ھم الذین یَجْتَمِعُون ولھم مَنَعَةٌ، ویَقصدون المُسْلِمِین في أرواحھم ودِمَائھم، واتَّفَقُوا علی أنّ ھذہ الصِّفَۃ إذا حصلت في الصَّحراء کانوا قُطَّاع الطَّریق، وأما إن حصلت في الأمصار، فقال الأوزَاعِيُّ ومالِکٌ واللَّیْثُ بن سَعْد والشَّافِعِيُّ: ھم أیضاً قُطُّاع الطَّریق، ھذا الحدُّ علیھم، قالوا: وإنّھم في المُدُن یکونون أعظَم ذَنْباً فلا أقَلّ من المساواۃ، واحتجوا بالآیۃ وعمومھا، ولأنّ ھذا حدّ فلا یختلف کسائر الحدود.
(3) أبو حفص الحنبلي، اللباب في علوم الکتاب، 7: 301
1۔ حضرت مجاہد نے فرمایا: جس شخص نے ایک جان کو بھی نا حق قتل کیا تو وہ اس قتل کے سبب دوزخ میں جائے گا، جیسا کہ وہ تب دوزخ میں جاتا اگر وہ سارے لوگوں کو قتل کر دیتا (یعنی اس کا عذابِ دوزخ ایسا ہو گا جیسے اس نے تمام انسانیت کو قتل کردیا ہو)۔
2۔ حضرت قتادہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس کی سزا بڑھا دی ہے اور اس کا بوجھ عظیم کر دیا ہے یعنی جو شخص ناحق کسی مسلمان کے قتل کو حلال سمجھتا ہے گویا وہ تمام لوگوں کو قتل کرتا ہے۔
3۔ حضرت حسن بصریؒ نے {فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا} کی تفسیر میں فرمایا کہ (جس نے ناحق ایک جان کو قتل کیا) اس پر اس کے قتل کا قصاص واجب ہوگا، اس شخص کی مثل جس پر تمام انسانوں کو قتل کرنے کا قصاص واجب ہو۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: {بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد انگیزی کرتے پھرتے ہیں (یعنی مسلمانوں میں خونریز رہزنی اور ڈاکہ زنی وغیرہ کے مرتکب ہوتے ہیں) ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کیے جائیں یا پھانسی دیے جائیں یا ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹے جائیں یا (وطن کی) زمین (میں چلنے پھرنے) سے دور (یعنی ملک بدر یاقید) کر دیے جائیں۔ یہ (تو) ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لیے آخرت میں (بھی) بڑا عذاب ہےo مگر جن لوگوں نے، قبل اس کے کہ تم ان پر قابو پا جاؤ، توبہ کرلی سو جان لو کہ اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہےo}
اللہ تعالیٰ کے فرمان {یُحَارِبُونَ ﷲَ} سے مراد ہے: یحاربون أولیائہ (وہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء سے جنگ کرتے ہیں)۔ یہی معنی جمہور نے بیان کیا ہے۔ اور علامہ زمخشری نے کہا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ سے جنگ کرتے ہیں؛ اور مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنا دراصل حضور نبی اکرم ﷺ ہی کے ساتھ جنگ کے حکم میں ہے۔
یہ آیت - {اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ ﷲَ} - مسلمان راہزنوں کے بارے میں اُتری ہے، اور یہ اکثر فقہاء کا قول ہے۔
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہر وہ شخص شامل ہے جو ان صفات سے متصف ہو خواہ وہ مسلم ہو یا کافر۔ یہ نہیں کہا جائے گا کہ یہ آیت کفار کے حق میں نازل ہوئی کیونکہ اعتبار لفظ کے عموم کا ہوگا نہ سبب کے خاص ہونے کا۔ اور اگر کہا جائے کہ محاربون وہ ہیں جو مجتمع ہوتے ہیں اور ان کے پاس طاقت و قوت بھی ہوتی ہے اور وہ مسلمانوں کی جانوں کا قصد کرتے ہیں تو فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اگر یہ وصف صحراء میں پایا جائے تو ایسے لوگ راہزن کہلائیں گے، اور اگر دہشت گردی و قتل و غارت گری کا یہ عمل شہروں میں پایا جائے تو امام اوزاعی، مالک، لیث بن سعد اور شافعی کا قول ہے کہ وہ (قاتل ہونے کے علاوہ) راہزن اور ڈاکو بھی ہیں، ان پر بھی یہی حد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ شہروں میں ہوں تو ان کا گناہ بہت ہی زیادہ ہو جائے گا۔
کسی ایک مومن کو قصداً قتل کرنے والے کی ذلت آمیز سزا کا اندازہ یہاں سے لگا لیں کہ اللہ گ نے ایک ہی آیت میں نہ صرف ایسے قاتل کے لیے دوزخ کی سزا کا ذکر کیا ہے بلکہ خَالِدًا، غَضِبَ، لَعَنَهٗ اورعَذَابًا عَظِیْمًا فرما کر اس کی شدّت و حدّت میں کئی گنا اضافہ کردیا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:
وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ لَعَنَهٗ وَ اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِیْمًاo
(النساء، 4: 93)
اور جو شخص کسی مسلمان کو قصداً قتل کرے تو اس کی سزا دوزخ ہے کہ مدتوں اس میں رہے گا اور اس پر اللہ غضب ناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور اس نے اس کے لیے زبردست عذاب تیار کر رکھا ہےo
حافظ ابنِ کثیر (م 774ھ) آیت وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا کی تفسیر میں قتلِ عمد کو گناهِ عظیم اور معصیتِ کبریٰ قرار دیتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ کسی مسلمان کو ناحق قتل کرنا اتنا بڑا گناہ ہے کہ اللہ عزوجل نے اسے شرک جیسے ظلمِ عظیم کے ساتھ ملا کر بیان کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
(النساء، 4: 93)
وھذا تھدید شدید ووعید أکید لمن تعاطی ھذا الذنب العظیم، الذي ھو مقرون بالشرک باللہ في غیر ما آیۃ في کتاب اللہ، حیث یقول سبحانہ في سورۃ الفرقان: {وَ الَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَ لَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا یَزْنُوْنَ}. وقال تعالٰی: {قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَیْكُمْ اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْـًٔا} إلی أن قال: {وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَo
(الفرقان، 25: 68)
(الأنعام، 6: 151)
(4) ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، 1: 535
اس (قتل عمد جیسے) گناہ عظیم کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے یہ شدید دھمکی اور مؤکد وعید ہے کہ قتل عمد کو اللہ تبارک و تعالیٰ کے ساتھ شرک جیسے گناہ کے ساتھ ملا کر بیان کیا گیا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے سورۂ فرقان میں ارشاد فرمایا ہے: {اور یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کی پوجا نہیں کرتے اور نہ ہی کسی ایسی جان کو قتل کرتے ہیں جسے بغیر حق مارنا اللہ نے حرام فرمایا ہے اور نہ ہی بدکاری کرتے ہیں۔} اور ارشاد فرمایا: {فرما دیجئے! آؤ میں وہ چیزیں پڑھ کر سنا دوں جو تمہارے رب نے تم پر حرام کی ہیں (وہ) یہ کہ تم اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ … اور اس جان کو قتل نہ کرو جسے (قتل کرنا) اللہ نے حرام کیا ہے بجز حق (شرعی) کے۔ یہی وہ اُمور ہیں جن کا اس نے تمہیں تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو۔}۔
حضور نبی اکرم ﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر انسانی جان و مال کے تلف کرنے اور قتل و غارت گری کی خرابی و ممانعت سے آگاہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
إِنَّ دِمَائَکُمْ وَأَمْوَالَکُمْ وَأَعْرَاضَکُمْ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ، کَحُرْمَةِ یَوْمِکُمْ هٰذَا، فِی شَھْرِکُمْ هٰذَا، فِی بَلَدِکُمْ هٰذَا، إِلَی یَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّکُمْ. أَلَا، هَلْ بَلَّغْتُ؟ قَالُوْا: نَعَمْ. قَالَ: اَللّٰهُمَّ اشْهَدْ، فَلْیُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعٰی مِنْ سَامِعٍ، فَـلَا تَرْجِعُوْا بَعْدِي کُفَّارًا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ.
(1) 1۔ بخاري، الصحیح، کتاب الحج، باب الخطبۃ أیام منی، 2: 620، رقم: 1654
2۔ بخاري، کتاب العلم، باب قول النبي ﷺ : رب مبلغ أوعی من سامع، 1: 37، رقم: 67
3۔ مسلم، الصحیح، کتاب القسامۃ والمحاربین والقصاص والدیات، باب تغلیظ تحریم الدماء والأعراض والأموال، 3: 1305، 1306، رقم: 1679
بے شک تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تم پر اِسی طرح حرام ہیں جیسے تمہارے اِس دن کی حرمت تمہارے اِس مہینے میں اور تمہارے اِس شہر میں (مقرر کی گئی)ہے اُس دن تک جب تم اپنے رب سے ملو گے۔ سنو! کیا میں نے تم تک (اپنے رب کا) پیغام پہنچا دیا؟ لوگ عرض گزار ہوئے: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! گواہ رہنا۔ اب چاہیے کہ (تم میں سے ہر) موجود شخص اِسے غائب تک پہنچا دے کیونکہ کتنے ہی لوگ ایسے ہیں کہ جن تک بات پہنچائی جائے تو وہ سننے والے سے زیادہ یاد رکھتے ہیں (اور سنو!) میرے بعد ایک دوسرے کو قتل کر کے کافر نہ ہو جانا۔
اس متفق علیہ حدیث مبارکہ میں حضور نبی اکرم ﷺ نے صراحتاً یہ فیصلہ صادر فرما دیا کہ جو لوگ آپس میں خون خرابہ کریں گے، فتنہ و فساد اور دہشت گردی کی وجہ سے ایک دوسرے پر اسلحہ اٹھائیں گے اور مسلمانوں کا خون بہائیں گے وہ مسلمان نہیں بلکہ کفر کے مرتکب ہیں۔ لہٰذا انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے جبر و تشدد کو حضور ﷺ نے فَـلَا تَرْجِعُوْا بَعْدِي کُفَّارًا فرما کر کفر قرار دے دیا۔
حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے مومن کے قاتل کی سزا جہنم بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
لَوْ أَنَّ أَھْلَ السَّمَاءِ وَأَہْلَ الْأَرْضِ اشْتَرَکُوْا فِي دَمِ مُؤْمِنٍ لَأَکَبَّهُمُ اللهُ فِي النَّارِ.
(1) 1۔ ترمذی، السنن، کتاب الدیات، باب الحکم في الدماء، 4: 17، رقم: 1398
2۔ ربیع، المسند، 1: 292، رقم: 757
3۔ دیلمی، مسند الفردوس، 3: 361، رقم: 5089
اگر تمام آسمانوں و زمین والے کسی ایک مومن کے قتل میں شریک ہو جائیں تب بھی یقینا اللہ تعالیٰ ان سب کو جہنم میں جھونک دے گا۔
قتل و غارت گری، خون خرابہ، فتنہ و فساد اور ناحق خون بہانا اِتنا بڑا جرم ہے کہ قیامت کے دن اللہ سبحانہ وتعالیٰ ایسے مجرموں کو سب سے پہلے بے نقاب کر کے کیفرِ کردار تک پہنچائے گا۔
1۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے خونریزی کی نسبت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
أَوَّلُ مَا یُقْضٰی بَیْنَ النَّاسِ یَوْمَ الْقِیَامَةِ فِي الدِّمَاءِ.
(1) 1۔ بخاري، الصحیح، کتاب الدیات، باب ومن یقتل مؤمنا متعمدا، 6: 2517، رقم: 6471
2۔ مسلم، الصحیح، کتاب القسامۃ والمحاربین والقصاص والدیات، باب المجازاۃ بالدماء في الآخرۃ وأنھا أول ما یقضی فیہ بین الناس یوم القیامۃ، 3: 1304، رقم: 1678
3۔ أحمد بن حنبل، المسند، 1: 442
4۔ نسائي، السنن، کتاب تحریم الدم، باب تعظیم الدم، 7: 83، رقم: 3994
قیامت کے دن لوگوں کے درمیان سب سے پہلے خون ریزی کا فیصلہ سنایا جائے گا۔
2۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے باہمی خون خرابہ اور لڑائی جھگڑے کے تباہ کن نتائج سے خبردار کرتے ہوئے فرمایا: قتل وغارت گری اتنا بڑا جرم ہے کہ اگر کوئی فرد یا طبقہ اس میں ایک مرتبہ ملوث ہو جائے تو پھر اسے اس سے نکلنے کا راستہ نہیں ملے گا۔ امام بخاری کی روایت کردہ حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
إِنَّ مِنْ وَرَطَاتِ الْأُمُوْرِ الَّتِي لَا مَخْرَجَ لِمَنْ أَوْقَعَ نَفْسَهُ، فِیْهَا سَفْکَ الدَّمِ الْحَرَامِ بِغَیْرِ حِلِّهِ.
(1) 1۔ بخاري، الصحیح، کتاب الدیات، باب ومن قتل مؤمنا متعمدًا فجزاؤہ جہنم، 6: 2517، رقم: 6470
2۔ بیہقي، السنن الکبری، 8: 21، رقم: 15637
ہلاک کرنے والے وہ اُمور ہیں جن میں پھنسنے کے بعد نکلنے کی کوئی سبیل نہ ہو۔ اِن میں سے ایک بغیر کسی جواز کے حرمت والا خون بہانا بھی ہے۔
3۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فتنہ و فساد، خون خرابہ اور کثرت سے قتل و غارت گری کے ظہور سے لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
یَتَقَارَبُ الزَّمَانُ وَیَنْقُصُ الْعِلمُ وَیُلْقَی الشُّحُّ وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ وَیَکْثُرُ الْهَرْجُ. قَالُوا: یَا رَسُولَ اللهِ، أَیُّمَا هُوَ؟ قَالَ: الْقَتْلُ، الْقَتْلُ.
(2) 1۔ بخاری، الصحیح، کتاب الفتن، باب ظہور الفتن، 6: 2590، رقم: 6652
2۔ مسلم، الصحیح، کتاب الفتن وأشراط الساعۃ، باب إذا تواجہ المسلمان بسیفیھما،4: 2215، رقم: 157
زمانہ قریب ہوتا جائے گا، علم گھٹتا جائے گا، بخل پیدا ہو جائے گا، فتنے ظاہر ہوں گے اور ہرج کی کثرت ہو جائے گی۔ لوگ عرض گزار ہوئے: یا رسول اللہ! ہرج کیا ہے؟ فرمایا: قتل، قتل (یعنی ہرج سے مراد ہے: کثرت سے قتلِ عام)۔
4۔ جب ایک مرتبہ پُرامن شہریوں اور سول آبادیوں کو ظلم و ستم، جبرو تشدد اور وحشت و بربریت کا نشانا بنایا جائے اور معاشرے کی دیگر مذہبی و سیاسی شخصیات کی محض فکری و نظریاتی اختلاف کی بنا پر Target killing کی جائے تو اس دہشت گردی کا منظقی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سماج افراتفری، نفسا نفسی، بد امنی اور لڑائی جھگڑے کی آماج گاہ بن جاتا ہے۔ انہی گھمبیر اور خطرناک حالات کی طرف امام ابو داؤد سے مروی درج ذیل حدیث مبارکہ اشارہ کرتی ہے:
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
کُنَّا قُعُودًا عِنْدَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ فَذَکَرَ الْفِتَنَ، فَأَکْثَرَ فِي ذِکْرِهَا حَتّٰی ذَکَرَ فِتْنَةَ الْأَحْلَاسِ. فَقَالَ قَائِلٌ: یَا رَسُوْلَ اللهِ، وَمَا فِتْنَةُ الْأَحْلَاسِ؟ قَالَ: هِيَ هَرَبٌ وَحَرْبٌ.
(1) أبو داود، السنن،کتاب الفتن والملاحم، باب ذکر الفتن، 4: 94، رقم: 4242
ہم رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ ﷺ نے فتنوں کا ذکر فرمایا۔ پس کثرت سے ان کا ذکر کرتے ہوئے فتنہ اَحلاس کا ذکر فرمایا۔ کسی نے سوال کیا کہ یارسول اللہ! فتنہ احلاس کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ افرا تفری، فساد انگیزی اور قتل و غارت گری ہے۔
اپنے گھنائونے اور ناپاک مقاصد کے حصول کے لیے عام شہریوں اور پُراَمن انسانوں کو بے دریغ قتل کرنے والے کیسے دینِ امن و سلامتی کے علم بردار بنتے ہیں؟ وہ اپنی دہشت گردانہ کارروائیوں کے ذریعے ہزاروں مسلمانوں کی قتل و غارت گری میں مصروف ہیں جبکہ حضور نبی اکرم ﷺ نے تو ایک مومن کے قتل کو بھی پوری دنیا کے تباہ ہونے سے بڑا گناہ قرار دیا ہے۔ اِس حوالے سے چند احادیث ملاحظہ فرمائیں:
1۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ، سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
لَزَوَالُ الدُّنْیَا أَھْوَنُ عَلَی اللهِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ.
(1) 1۔ ترمذي، السنن، کتاب الدیات، باب ما جاء في تشدید قتل المؤمن، 4: 16، رقم: 1395
2۔ نسائي، السنن، کتاب تحریم الدم، باب تعظیم الدم، 7: 82، رقم: 3987
3۔ ابن ماجہ، السنن، کتاب الدیات، باب التغلیظ في قتل مسلم ظلما، 2: 874، رقم: 2619
اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک مسلمان شخص کے قتل سے پوری دنیا کا ناپید (اور تباہ) ہو جانا ہلکا (واقعہ) ہے۔
2۔ حضرت عبد اللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
قَتْلُ الْمُؤْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللهِ مِنْ زَوَالِ الدُّنْیَا.
(2) 1۔ نسائي، السنن، کتاب تحریم الدم، باب تعظیم الدم، 7: 82، 83، رقم: 3988-3990
2۔ طبراني، المعجم الصغیر، 1: 355، رقم: 594
3۔ بیھقي، السنن الکبری، 8: 22، رقم: 15647
امام طبرانی نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔
مومن کو قتل کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام دنیا کے برباد ہونے سے بڑا ہے۔
3۔ ایک روایت میں کسی بھی شخص کے قتلِ نا حق کو دنیا کے مٹ جانے سے بڑا حادثہ قرار دیا گیا ہے۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
لَزَوَالُ الدُّنْیَا جَمِیْعًا أَھْوَنُ عِنْدَ اللهِ مِنْ سَفْکِ دَمٍ بِغَیْرِ حَقٍّ.
(1) 1۔ ابن أبي الدنیا، الأھوال: 190، رقم: 183
2۔ ابن أبي عاصم، الدیات: 2، رقم: 2
3۔ بیہقي، شعب الإیمان، 4: 345، رقم: 5344
اللہ تعالیٰ کے نزدیک پوری کائنات کا ختم ہو جانا بھی کسی شخص کے قتلِ ناحق سے ہلکا ہے۔
دینِ اسلام نے جہاں بلا تفریقِ مذہب اور بلا اِمتیازِ رنگ و نسل ہر انسان کی عزت و تکریم اور اس کی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کا حکم دیا وہیں فوت شدہ لوگوں کی بھی تکریم کی تعلیم دی ہے۔ یعنی مرنے کے بعد بھی انسانی میت تکریم کی مستحق ہے خواہ مسلمان کی ہو یا غیر مسلم کی۔ بزعم خویش بہت روشن خیال اور سیکولر بننے والے بعض لوگ یہ خیال رکھتے ہیں کہ شاید ان کی قابلیت ہی یہ ہے کہ وہ دین اسلام اور مذہب کے خلاف باتیں کریں۔ حالانکہ انہیں اسلامی تعلیمات سے آشنائی ہے نہ انہوں نے اسلام کا تفصیلی مطالعہ کیا ہے۔ یہ لوگ لا علمی کی بنا پر دینِ اسلام کی تعلیمات کو نشانہ بناتے ہیں۔ حقیقتِ حال یہ ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے جواز کے لیے جو کچھ ہو رہا ہے یا کیا جا رہا ہے وہ ہرگز ہرگز دینِ اسلام نہیں ہے۔ موجودہ حالات کی ذمہ دار ملک کی سیاسی قیادت ہے جس نے قوم کو صحیح سمت ہی نہیں دی اور پوری قوم کو شتر بے مہار کی طرح چھوڑ دیا ہے۔ اسلام صرف زِندہ اِنسانوں کو ہی نہیں بلکہ مردہ کو بھی عزت و تکریم دیتا ہے۔ یہ اِس بات کا بین ثبوت ہے کہ اسلام سراسر دینِ امن و رحمت ہے۔
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
مَرَّتْ بِنَا جَنَازَةٌ فَقَامَ لَهَا النَّبِيُّ ﷺ وَقُمْنَا لَهٗ، فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللهِ، إِنَّهَا جِنَازَةُ یَهُوْدِيٍّ؟ قَالَ: إِذَا رَأَیْتُمُ الْجِنَازَةَ فَقُوْمُوْا.
(1) 1۔ بخاري، الصحیح،کتاب الجنائز، باب من قام لجنازۃ یھودي، 1:441، رقم: 1249
2۔ مسلم، الصحیح، کتاب الجنائز، باب القیام للجنازۃ، 2: 660، رقم: 960
3۔ أحمد بن حنبل، المسند، 3: 319، رقم: 14467
4۔ نسائي، السنن، کتاب الجنائز، باب القیام لجنازۃ أھل الشرک، 4:45، رقم: 1922،
5۔ نسائی، السنن الکبری، 1:626، رقم:2049
ہمارے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو حضور نبی اکرم ﷺ کھڑے ہو گئے اور آپ کے ساتھ ہم بھی کھڑے ہو گئے۔ ہم عرض گزار ہوئے: یا رسول اللہ! یہ تو کسی یہودی کا جنازہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جایا کرو۔
ایک اور روایت میں حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سہل بن حُنَیف اور حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہما قادسیہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اُن کے پاس سے ایک جنازہ گزرا۔ دونوں کھڑے ہو گئے۔ اُن سے کہا گیا:
إِنَّهَا مِنْ أَھْلِ الْأَرْضِ أَيْ مِنْ أَھْلِ الذِّمَّةِ، فَقَالَا: إِنَّ النَّبِيَّ ﷺ مَرَّتْ بِهٖ جِنَازَةٌ، فَقَامَ، فَقِیْلَ لَهٗ: إِنَّهَا جِنَازَةُ یَهُوْدِيٍّ، فَقَالَ: أَلَیْسَتْ نَفْسًا.
(1) 1۔ بخاري، الصحیح،کتاب الجنائز، باب من قام لجنازۃ یھودي، 1:441، رقم: 1250
2۔ مسلم، الصحیح،کتاب الجنائز، باب القیام للجنازۃ، 2: 661، رقم: 961
3۔ أحمد بن حنبل، المسند، 6: 6، رقم: 23893
4۔ نسائي، السنن،کتاب الجنائز، باب القیام لجنازۃ أھل الشرک، 4:45، رقم: 1921
5۔ نسائی، السنن الکبری، 1: 626، رقم: 2048
6۔ ابن أبي شیبۃ، المصنف، 3: 39، رقم: 11918
7۔ ابن الجعد، المسند: 27، رقم: 70
8۔ طبراني، المعجم الکبیر، 6: 90، رقم: 5606
9۔ بیھقي، السنن الکبری، 4: 27، رقم: 6672
یہ تو یہاں کے مقامی باشندے یعنی ذِمی شخص کا جنازہ ہے۔ (اس بات پر ان) دونوں نے بیان فرمایا: (ایک مرتبہ) حضور نبی اکرم ﷺ کے پاس سے جنازہ گزرا تو آپ ﷺ کھڑے ہو گئے۔ عرض کیا گیا: یہ تو یہودی کا جنازہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا یہ (انسانی) جان نہیں ہے۔
یعنی حضور نبی اکرم ﷺ نے ہر حال میں انسانی جان کی تکریم کا درس دیا ہے قطع نظر اس کے کہ اس کا مذہب کیا تھا۔ یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ انسانی جان کی یہ تکریم مرنے کے بعد اُس کی میت کی ہو رہی ہے۔ افسوس! ہم زندہ انسانوں کی تکریم کا معاشرہ نہیں بنا سکتے۔
دینِ اسلام کے دینِ امن و محبت اور پیکرِ شفقت ہونے کے جس پہلو پر بھی بات کی جائے ہر پہلو میں انسانوں سے محبت اور عدمِ تشدد عیاں ہے۔ اسلام کی تعلیمات تو یہ ہیں کہ جب کوئی دفن ہو جائے تو اُس کی قبر کی بھی بے حرمتی نہ کی جائے؛ نہ اس پر کھڑے ہوں اور نہ بیٹھیں۔ مرورِ زمانہ سے ممکن ہے اُس کا جسم اور ہڈیاں خاک میں مل کے ختم ہوجائیں مگر چونکہ انسان کا مدفن ہے اور انسانی جان کے دفن ہونے کی علامت ہے، لہٰذا اُس کی قبر کی بھی تکریم کا حکم ہے۔
حضور نبی اکرم ﷺ نے اُمت کو قبرستان کی تعظیم و احترام میں جوتے اُتارنے کا حکم دیا ہے۔ حضرت بشیر بن خَصَاصِیَہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
کُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ ، فَمَرَّ عَلٰی قُبُوْرِ الْمُسْلِمِیْنَ فَقَالَ: لَقَدْ سَبَقَ ھٰؤُلَاءِ شَرًّا کَثِیْرًا. ثُمَّ مَرَّ عَلٰی قُبُوْرِ الْمُشْرِکِیْنَ فَقَالَ: لَقَدْ سَبَقَ ھٰؤُلَاءِ خَیْرًا کَثِیْرًا. فَحَانَتْ مِنْهُ الْتِفَاتَةٌ فَرَآی رَجُلًا یَمْشِي بَیْنَ الْقُبُوْرِ فِي نَعْلَیْهِ، فَقَالَ: یَا صَاحِبَ السِّبْتِیَّتَیْنِ، أَلْقِهِمَا.
(1) 1۔ نسائی، السنن، کتاب الجنائز، باب کراھیۃ المشی بین القبور فی النعال، 4: 96، رقم: 2048
2۔ ابن ماجہ، السنن، کتاب الجنائز، باب في خلع النعلین في المقابر، 1:499، رقم: 1568
3۔ حاکم، المستدرک، 1: 529، رقم: 1381
4۔ ابن أبي شیبۃ، المصنف، 3: 65، رقم: 12142
5۔ ابن حبان، الصحیح، 7: 442، رقم: 3170
6۔ بخاری، الأدب المفرد، 1: 289، رقم: 829
میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جا رہا تھا کہ اسی اثناء ہم مسلمانوں کی قبروں کے قریب سے گزرے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: بے شک یہ لوگ بہت بڑی برائی سے بچ گئے۔ پھر مشرکین کے قبور کے پاس سے گزرے تو فرمایا: یہ لوگ بہت بڑی بھلائی سے محروم رہے۔ اس کے بعد حضور نبی اکرم ﷺ آگے تشریف لے گئے۔ پس آپ ﷺ نے ایک شخص کو قبروں کے درمیان جوتوں سمیت گزرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: اے جوتوں والے! اپنے جوتے اُتار دو۔
دوسری روایت کے الفاظ کچھ یوں ہیں:
یَا صَاحِبَ السِّبْتِیَّتَیْنِ، وَیْحَکَ أَلْقِ سِبْتِیَّتَیْکَ.
(1) 1۔ نسائی، السنن، کتاب الجنائز، باب المشی فی النعل بین القبور ، 3: 217، رقم: 3230
2۔ حاکم، المستدرک، 1: 528، رقم: 1380
اے جوتے پہننے والے شخص! تم پر افسوس ہے، اپنے جوتے اتار لو۔
اُس آدمی نے دیکھا تو رسول اللہ ﷺ کو پہچان لیا اور اپنے جوتے اتار کر پھینک دیے۔
ان احادیث مبارکہ سے ثابت ہوا کہ اسلام نے جہاں زندہ انسانوں کے حقوق کی ادائیگی کا حکم دیا ہے وہیں مردہ انسان اور اس کی قبر کی بھی تعظیم کی تعلیم دی ہے۔ اَئمہ و شارحینِ حدیث نے ان روایات کی شرح کرتے ہوئے تعظیمِ میت اور اِحترامِ قبور کو ثابت کیا ہے۔
کیا ہمارا معاشرہ اِسلامی اور اِنسانی معاشرہ کہلا سکتا ہے؟ جہاں سیاسی رقیبوں کو ختم کرنے اور اپنے اِقتدار کو ہر جائز و ناجائز طریقے سے طول دینے کی خاطر بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کو قتل کروا دیا جاتا ہے۔ وہ عظیم رسول اکرم ﷺ جو میدان جنگ میں بھی عورتوں کو قتل کرنے سے منع فرماتے ہیں، اُسی رسول ﷺ کا نام لینے والوں نے 17 جون 2014ء کو سانحہ ماڈل ٹاؤن میں اپنی پولیس کے ذریعے دو جوان خواتین کو منہ میں گولیاں مار کر شہید کر دیا اور مزید بارہ اَفراد کو سیدھی گولیوں کا نشانہ بنا کر شہید کیا۔ نیز بوڑھوں کو داڑھیوں سے اور سر کے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا۔ پھر 16 دسمبر 2014ء کو سانحہ پشاور میں سفاک دہشت گردوں نے معصوم طالب علم بچوں کو انتہائی بے دردی سے شہید کردیا۔
یہ لوگ کس منہ سے رسولِ رحمت ﷺ کے سامنے اپنے آپ کو پیش کریں گے اور کس منہ سے آقا علیہ السلام کی شفاعت مانگیں گے؟
Copyrights © 2026 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved