وطنِ عزیز میں دہشت گردی کے مختلف واقعات کا شکار ہونے والے ہزاروں لوگ مسلمان تھے اور سانحہ پشاور میں بھی مسلمان بچے ہی قتل ہوئے۔ جب کہ حضور نبیِ رحمت ﷺ کی سیرتِ طیبہ غیر مسلموں کے لیے بھی سراپا رحمت و شفقت ہے۔ آپ ﷺ نے انسانوں سے محبت سکھائی ہے اور اس میں مذہب کی کوئی تمیز روانہ رکھی۔ مسلم ہے یا غیر مسلم، سب پر بلا اِمتیاز رحمت و شفقت کا درس دیا ہے۔
1۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺنے فرمایا:
مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا لَمْ یَرِحْ رَائِحَۃَ الْجَنَّۃِ، وَإِنَّ رِیْحَهَا تُوْجَدُ مِنْ مَسِیْرَۃِ أَرْبَعِیْنَ عَامًا.
(1) 1۔ بخاري، الصحیح، کتاب الجزیۃ، باب إثم من قتل معاھدا بغیر جرم، 3: 1155، رقم: 2995
2۔ بخاري، الصحیح، کتاب الدیات، باب إثم من قتل نفسا بغیر جرم، 6:2533، رقم: 6516
3۔ ابن ماجہ، السنن، کتاب الدیات، باب من قتل معاھدا، 2: 896، رقم: 2686
4۔ بزار، المسند، 6: 368، رقم: 2383
جس نے کسی معاہد (غیر مسلم شہری) کو قتل کیا تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھے گا حالانکہ جنت کی خوشبو چالیس برس کی مسافت تک محسوس ہوتی ہے۔
اسلامی تعلیمات میں مسلم اور غیر مسلم کی جان و مال کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے۔ ایک اور روایت میں حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
مَنْ قَتَلَ قَتِیْـلًا مِنْ أَھْلِ الذِّمَّۃِ لَمْ یَجِدْ رِیْحَ الْجَنَّۃِ، وَإِنَّ رِیْحَهَا لَیُوْجَدُ مِنْ مَسِیْرَۃِ أَرْبَعِیْنَ عَامًا.
(1) 1۔ أحمد بن حنبل، المسند، 2: 186، رقم: 6745
2۔ نسائي، السنن،کتاب القسامۃ، باب تعظیم قتل المعاھد، 8: 25، رقم: 4750
3۔ نسائی ، السنن الکبری، 4: 221، رقم: 6952
4۔ بزار، المسند، 6: 361، رقم: 2373
5۔ حاکم، المستدرک علی الصحیحین، 2: 137، رقم: 2580
6۔ ابن الجارود، المنتقٰی، 1: 212، رقم: 834
7۔ بیھقي، السنن الکبری، 8: 133، رقم: 16260
8۔ منذري، الترغیب والترھیب، 3: 204، رقم: 3693
جو شخص کسی ذمی کو قتل کرے گا وہ جنت کی خوشبو تک نہیں پائے گا حالانکہ جنت کی خوشبو چالیس برس کی مسافت سے محسوس کی جا سکتی ہے۔
حضور نبی اکرم ﷺ کے ارشادات گرامی سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی غیر مسلم کو قتل کرنے والا شخص- خواہ داڑھی رکھے یا پگڑی باندھے، خواہ صوم و صلاۃ کا پابند ہو اور حج بیت اللہ بھی کرے- کبھی بھی جنت کی خوشبو نہیں سونگھ سکے گا۔
ایک اور روایت میں آپ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ قَتَلَ مُعَاهِدًا فِي غَیْرِ کُنْهِهٖ حَرَّمَ اللهُ عَلَیْهِ الْجَنَّةَ.
(2) 1۔ أحمد بن حنبل، المسند، 5: 36، 38، رقم: 20393، 20419
2۔ أبو داود، السنن، کتاب الجھاد، باب في الوفاء للمعاھد وحرمۃ ذمتہ، 3: 83، رقم: 2760
3۔ نسائي، السنن، کتاب القسامۃ، باب تعظیم قتل المعاھد، 8: 24، رقم: 4747
جو مسلمان کسی معاہد شخص (ذمی) کو ناحق قتل کرے گا اللہ تعالیٰ اُس پر جنت حرام فرما دے گا۔
حضور نبی اکرم ﷺ کی سیرت تو انسانوں سے محبت ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
وُجِدَتِ امْرَأَۃٌ مَقْتُوْلَۃً فِي بَعْضِ مَغَازِي رَسُوْلِ اللهِ ﷺ، فَنَهٰی رَسُوْلُ اللهِ ﷺ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْیَانِ.
(1) 1۔ بخاري، الصحیح، کتاب الجھاد والسیر، باب قتل النساء في الحرب، 3: 1098، رقم: 2852
2۔ مسلم، صحیح، کتاب الجھاد والسیر، باب تحریم قتل النساء والصبیان في الحرب، 3: 1364، رقم: 1744
3۔ ترمذي، السنن، کتاب السیر، باب ما جاء في النھي عن قتل النساء والصبیان، 4: 136، رقم: 1569
رسول اللہ ﷺ کے کسی غزوہ میں ایک عورت مقتول پائی گئی تو آپ ﷺ نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کی (سختی سے) ممانعت فرما دی۔
یہ حدیث ’صحیح بخاری‘ اور ’صحیح مسلم‘ دونوں میں روایت کی گئی ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں تھے کہ دورانِ جنگ (during war time) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے خبر دی: یا رسول اللہ! جنگ کے دوران بعض عورتیں اور بچے بھی مار دیے گئے ہیں اور وہ غیر مسلم تھے۔ اگرچہ جنگ کے میدان میں جو عورتیں اور بچے مارے گئے وہ کفار کے لشکر میں ان کی آرمی کا حصہ ہوں گے۔ انہیں طبی اِمداد (medical aid) فراہم کر رہے ہوں گے یا جنگی امداد کا کوئی اور کام کررہے ہوں گے۔ لیکن جب آقا علیہ السلام کو بتایا گیا کہ عورتوں اور بچوں کو بھی مار دیا گیا ہے تو آپ ﷺ نے ہرگز اس عمل کی تائید نہیں فرمائی کہ یہ خواتین اور بچے بھی تو اُنہی کے معاون تھے؛ بلکہ آپ ﷺ نے ناگواری کا اظہار فرمایا اور حکماً ایسے عمل سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو باز رہنے کی تلقین فرمائی۔ حدیث مبارکہ کے الفاظ پر غور کریں:
فَنَهٰی رَسُوْلُ اللهِ ﷺ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْیَانِ.
رسول اللہ ﷺ نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے (سختی سے) ممانعت فرمائی۔
لیکن کیا اسلام کے نام پر آج کے دور میں روا رکھے جا نے والے خود کش حملوں میں عورتیں اور بچے محفوظ ہیں، جنہیں آقا علیہ السلام نے حالتِ جنگ میں بھی قتل کرنے سے منع فرمایا ہے؟ حالانکہ آقا علیہ السلام نے جن عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا وہ کافروں کی عورتیں اور بچے تھے۔ لیکن عین دورانِ جنگ بھی اُنہیں قتل کرنے کی اجازت نہیں دی گئی چہ جائیکہ گھروں یا ہسپتالوں میں زیرِ علاج اور مسجدوں میں مصروفِ عبادت لوگوں پر خود کش بموں (suicidal bombs) کے ذریعے حملہ آور ہو کر اپنے آپ کو بھی خود کشی کی موت کے ذریعے جہنم واصل کر دیا جائے اور بیسیوں مرد، عورتیں ، بوڑھے بیمار اوربچے بھی لقمۂ اجل بن جائیں۔
دورانِ جنگ غیر مسلم خواتین کے علاوہ غیر مسلموں کے بچوں کے قتل کی ممانعت بھی اسلام کے سنہری اور انسان دوست ضابطوں میں سے ایک ہے۔ حضور نبیِ رحمت ﷺ کے اصولِ جنگ بھی دیکھیں اور جہاد کے نام پر کلمہ گو دہشت گردوں کی چیرہ دستیاں بھی۔ کاش! ان لوگوں کو رسول اللہ ﷺ کے ان فرامین کا تھوڑا سا بھی حیاء ہوتا!
1۔ امام مسلم اپنی ’الصحیح‘ میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ایک خط کا ذکر کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے تحریر فرمایا:
وَإِنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ لَمْ یَکُنْ یَقْتُلُ الصِّبْیَانَ، فَـلَا تَقْتُلِ الصِّبْیَانَ.
(1) مسلم، الصحیح، کتاب الجہاد والسیر، باب النساء الغازیات یرضخ لھن ولا یسہم والنھی عن قتل صبیان أھل الحرب، 3: 1444، رقم: 1812
بے شک حضور نبی اکرم ﷺ (یعنی عہد نبوی کی مسلم فوج) دشمنوں کے بچوں کو قتل نہیں کرتے تھے۔ سو تم بھی بچوں کو قتل نہ کرنا۔
2۔ اس سلسلے میں دوسری روایت ملاحظہ کریں جس میں رسول اللہ ﷺ نے بڑے سخت کلمات کے ذریعے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو غیر مسلموں کے بچے قتل کرنے سے منع فرمایا اور ان کلمات کو بار بار تاکیداً دہرایا۔ حضرت اَسود بن سریع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
کُنَّا فِي غَزَاةٍ فَأَصَبْنَا ظَفَرًا وَقَتَلْنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ، حَتّٰی بَلَغَ بِهِمُ الْقَتْلُ إِلٰی أَنْ قَتَلُوا الذُّرِّیَّۃَ، فَبَلَغَ ذَالِکَ النَّبِيَّ ﷺ، فَقَالَ: مَا بَالُ أَقْوَامٍ بَلَغَ بِهِمُ الْقَتْلُ إِلٰی أَنْ قَتَلُوا الذُّرِّیَّۃَ؟ أَ لَا! لَا تَقْتُلُنَّ ذُرِّیَّۃً. أَ لَا! لَا تَقْتُلُنَّ ذُرِّیَّۃً. قِیْلَ: لِمَ یَا رَسُوْلَ اللهِ، أَلَیْسَ هُمْ أَوْلَادُ الْمُشْرِکِیْنَ؟ قَالَ: أَوَلَیْسَ خِیَارُکُمْ أَوْلَادَ الْمُشْرِکِیْنَ؟
(2) 1۔ نسائي، السنن الکبریٰٰ، کتاب السیر، باب النھي عن قتل ذراري المشرکین، 5: 184، رقم: 8616
2۔ دارمي، السنن، کتاب السیر، باب النھي عن قتل النساء والصبیان، 2: 294، رقم: 2463
3۔ حاکم، المستدرک، 2: 133، 134، رقم: 2566، 2567
4۔ طبراني، المعجم الکبیر، 1: 284، رقم: 829
ہم ایک غزوہ میں شریک تھے (ہم لڑتے رہے یہاں تک) کہ ہمیں غلبہ حاصل ہو گیا اور ہم نے مشرکوں سے قتال کیا اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ لوگوں نے بعض بچوں کو بھی قتل کر ڈالا۔ یہ بات حضور نبی اکرم ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے جن کے قتل کی نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ انہوں نے بچوں تک کو قتل کر ڈالا؟ خبردار! بچوں کو ہرگز قتل نہ کرو، خبردار! بچوں کو ہرگز قتل نہ کرو۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! کیوں، کیا وہ مشرکوں کے بچے نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہارے بہترین لوگ بھی مشرکوں کے بچے نہیں تھے؟
ایک روایت میں ہے کہ کسی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ مشرکین کے بچے تھے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا:
خِیَارُکُمْ أَبْنَاءُ الْمُشْرِکِیْنَ. أَ لَا! لَا تُقْتَلُ الذُّرِّیَّةُ.
(1) 1۔ أحمد بن حنبل، المسند، 3: 435، رقم: 15626، 15627
2۔ بیھقی، السنن الکبری، 9: 77، رقم: 17868
تم میں سے بہترین لوگ بھی تو مشرکین ہی کے بچے تھے (یعنی اُن کے والدین بھی مشرک تھے)۔ خبردار! بچوں کو جنگ کے دوران بھی قتل نہ کیا جائے۔
3۔ رسول اللہ ﷺ کے جاں نثار صحابہ رضی اللہ عنہم سے بڑھ کر کون جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت اور ضرورت سے آگاہ ہوگا! لیکن قربان جائیں ان پیکرانِ اطاعت و محبت پر، انہوں نے کس حد تک حضور نبی اکرم ﷺ کے اس حکم کی تعمیل کی اور جنگ کے دوران کس قدر احتیاط سے کام لیا۔ اس کی ایک خوبصورت مثال ملاحظہ ہو۔
حضرت عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
کُنْتُ فِیْمَنْ حَکَمَ فِیْهِمْ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، فَشَکُّوْا فِيَّ أَمِنَ الذُّرِّیَّۃِ أَنَا أَمْ مِنَ الْمُقَاتِلَۃِ؟ فَنَظَرُوْا إِلٰی عَانَتِي فَلَمْ یَجِدُوْهَا نَبَتَتْ، فَأُلْقِیْتُ فِي الذُّرِّیَّۃَ، وَلَمْ أُقْتَلْ.
(1) 1۔ ابن حبان، الصحیحِ، کتاب السیر، باب الخروج وکیفیۃ الجھاد، 11: 109، رقم: 4788
2۔ عبد الرزاق، المصنف، 10: 179، رقم: 18742
3۔ طبراني، المعجم الکبیر، 17: 164، رقم: 434
4۔ بیھقي، السنن الکبریٰٰ، 6: 166، رقم: 11098
میں بذاتِ خود ان لوگوں میں شامل تھا جن کے بارے میں دورانِ جنگ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کیا تھا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟ اُنہوں نے میرے بارے میں شک کیا کہ آیا میں بچوں میں شامل ہوں یا لڑائی کرنے والوں میں؟ لہٰذا اُنہوں نے میرے جسم پر بلوغت کے بال تلاش کیے جو ابھی اُگے بھی نہ تھے۔ تو مجھے بچوں میں شمار کر لیا گیا اور میں قتل ہونے سے بچ گیا۔
دورانِ جنگ غیر مسلم عورتوں، بچوں اور ضعیفوں کو قتل کرنے کی ممانعت سے متعلق مندرجہ بالا احکامات کی روشنی میں جلیل القدر فقہی امام سرخسیؒ اپنی شہرہ آفاق کتاب ’المبسوط‘ میں اپنا نقطہ نظر یوں بیان کرتے ہیں:
قال ﷺ: ولا تقتلوا ولیدا والولید المولود في اللغۃ وکل آدمی مولود، ولکن ھذا اللفظ إنما یستعمل في الصغار عادۃ۔ ففیہ دلیل علی أنہ لا یحل قتل الصغار منھم، إذا کانوا لا یقاتلون. وقد جاء في الحدیث أنّ النبي ﷺ نھی عن قتل النساء والولدان. وقال: اقتلوا شیوخ المشرکین، واستحیوا شروخھم. والمراد بالشیوخ البالغین وبالشروخ الأتباع من الصغار والنساء والإستحیاء الاسترقاق. قال اللہ: {وَاسْتَحْیُوْا نِسَآءَ هُمْ}. وفي وصیۃ أبي بکر رضي الله عنه لیزید بن أبي سفیان: لا تقتل شیخا ضرعا ولا صبیا ضعیفا، یعني شیخا فانیا وصغیرًا لا یقاتل.
(مؤمن، 40: 25)
(2) سرخسی، کتاب المبسوط، 10: 5-6
حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بچوں کو قتل نہ کرو، ولید لغت میں مولود کے معنی میں ہے۔ یوں تو ہر انسان مولود ہے مگر عادتاً اس لفظ کا استعمال چھوٹے بچوں کے لیے ہوتا ہے۔ یہ فرمانِ نبوی ﷺ اس بات کی دلیل ہے کہ بچوں کا قتل جائز نہیں (خاص طور پر) جبکہ وہ قتال میں شریک ہی نہ ہوں۔ حدیث مبارکہ میں آیا ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع کیا اور فرمایا: (حربی) مشرکین میں سے جو بالغ ہیں (صرف حالتِ جنگ میں) اُنہیں قتل کرو لیکن عورتوں اور بچوں کو (پھر بھی) زندہ رہنے دو۔ شیوخ سے مراد (جنگ میں شریک) بالغ افراد ہیں، جبکہ شروخ سے مراد بچے اور عورتیں ہیں، استحیاء کا مطلب ہے: نرمی کا برتاؤ کیا جائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {وَاسْتَحْیُوْا نِسَآئَهُمْ}. اس آیت میں بھی اِستحیاء نرمی کے برتاؤ کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یزید بن ابی سفیان کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ کسی شیخ فانی (عمر رسیدہ یا قریب المرگ بوڑھے) اور ناتواں بچے کو ہرگز قتل نہ کرے۔
مذکورہ بالا بحث میں اُن لوگوں کے لیے واضح پیغام ہے جنہیں دھوکے سے جہاد کا غلط تصور سمجھا دیا گیا ہے اور وہ خدمتِ اِسلام اور جہاد سمجھ کر معصوم بچوں اور عورتوں کا قتل عام کرتے ہیں۔ یہ ہرگز ہرگز اَمر جہاد نہیں بلکہ یہ عمل رسول اکرم ﷺ سے بے وفائی اور اسلام سے غداری و بغاوت ہے۔ آپ ﷺ کی تعلیمات تو یہ ہیں کہ میدانِ جنگ میں بھی کافروں کی عورتوں اور بچوں کو قتل نہ کیا جائے۔ چہ جائیکہ کوئی دہشت گرد اسکولوں کے اندر اپنی قوم کے بچوں کو قتل کر دے اور سمجھے کہ یہ جہاد ہے۔ کچھ لوگ بزعم خویش اپنے ہی شہریوں کو قتل کر دیں اور سمجھیں کہ یہ جہاد ہے۔ (استغفر اللہ العظیم)
اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ایسے غلط تصورات سے بچائے۔
آقا علیہ الصلوۃ والسلام کو تو بنی نوع انسان سے اتنی محبت ہے کہ میدانِ جنگ میں دورانِ جنگ بھی کافروں کی عورتوں اور بچوںکے قتل کرنے سے سختی سے منع فرماتے۔
موجودہ قتل و غارت گری کو نہ تو جنگ کا نام دیا جا سکتا ہے اور نہ جہاد کا کیونکہ نہ صرف اسلام بلکہ آج کی متمدن دنیا نے بھی جنگ کے کچھ اُصول وضع کر رکھے ہیں جن میں سفاکی، بربریت اور پُرامن شہریوں پر اندھا دھند بم باری کی قطعاً گنجائش نہیں ہے۔ اسلام نے تو جہاد کے ایسے زرّیں اُصولوں سے دنیا کو رُوشناس کرایا ہے جن کی نظیر پوری تاریخ انسانی میں نہیں ملتی۔ وہ کیسے انسان ہیں جن کے دل انسانیت سے یکسر خالی ہو چکے ہیں اور انہیں کسی بین الاقوامی اُصول اور قانون کی پروا نہیں رہی! یہ کیسے مسلمان ہیں جو نہ صرف اسلامی جہاد کی شرائط اور ضابطوں بلکہ اسلام کی جمیع تعلیمات کو پامال کرتے اور مسلمانوں و دیگر اِنسانوں کا خون بے دریغ بہاتے جا رہے ہیں لیکن پھر بھی خود کو ’مسلمان مجاہد‘ کہلوانے پر مصر ہیں!
انتہا پسند دہشت گرد مخالفین کا خون مباح قرار دے کر مساجد کو شہید کرنے، نمازیوں کے خون سے مساجد کے در و دیوار رنگنے، مزارات کی بے حرمتی کرنے اور انہیں شرک کے اڈے قرار دے کر مسمار کرنے میں مصروف ہیں۔ سرکاری اسکولوں کو غیر اسلامی تعلیم کے مراکز قرار دے کر انہیں گرانے اور اساتذہ کو قتل کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ 2006ء سے 2009ء تک سینکڑوں اساتذہ اور طلباء کو قتل کر دیا گیا اور سینکڑوں اسکولوں کو جلایا اور گرایا جا چکا ہے۔ حتیٰ کہ سرکاری عمارات اور پبلک مقامات پر خودکش حملوں کے نتیجے میں ہزارہا سرکاری اہلکار اور عام شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اس وحشت و بربریت پر ہر محب وطن شہری کا دل فگار اور آنکھیں اشک بار ہیں۔
اِنسانی جان کی عزت و حرمت پر اِسلامی تعلیمات میں کس قدر زور دیا گیا ہے اِس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اِسلام دورانِ جنگ بھی غیر محارب لوگوں کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ میدانِ جنگ میں بھی بچوں، عورتوں، ضعیفوں، بیماروں، مذہبی رہنماؤں اور تاجروں کو قتل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ہتھیار ڈال دینے والے، گھروں میں بند ہو جانے والے یا کسی کی امان میں آ جانے والے لوگوں کو بھی قتل نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی عامۃ الناس کو قتل کیا جا سکتا ہے۔ عبادت گاہوں، عمارتوں، بازاروں یہاں تک کہ کھیتوں، فصلوں اور درختوں کو بھی تباہ نہیں کیا جا سکتا۔ ایک طرف حالتِ جنگ میں بھی اس قدر احتیاط پر مبنی اَحکام و قوانین ہیں اور دوسری طرف دہشت گردوں کی ایسی کارروائیاں جو بلا امتیازِ مذہب و ملت، پُراَمن لوگوں، عورتوں، بچوں اور مساجد میں عبادت کرنے والے نمازیوں کے قتلِ عام کا باعث بن رہی ہوں، پھر بھی وہ اسلام کا نام لیں اور جہاد کی بات کریں، اِس سے بڑا تضاد تو شاید چشم فلک نے کبھی نہ دیکھا ہوگا۔ غیر مسلم عالمی طاقتوں کی ناانصافیوں اور بلاجواز کارروائیوں کے ردِ عمل کے طور پر بھی پُراَمن غیر مسلم شہریوں اور غیر ملکی سفارت کاروں کو قتل کرنا یا اُنہیں حبس بے جا میں رکھنا قطعاً جائز نہیں۔ جو ایسا کرتا ہے اُس کا اِسلام اور پیغمبر اِسلام ﷺ سے کوئی تعلق نہیں۔
جن لوگوں کو موجودہ حالات میں مسلح دہشت گردوں کی ملک دشمن کارروائیوں کے پس پردہ ’جہاد‘ کا شائبہ ہوتا ہے انہیں اطمینانِ قلب ہو جانا چاہیے کہ کلمہ گو اور پُراَمن لوگوں کی جانیں لینا کوئی جہاد نہیں بلکہ یہ جہاد جیسے اعلیٰ دینی تصور کو بدنام کرنے کی کوشش ہے۔ تاریخِ اسلام میں جس طرح بغاوت کو قطعی جرم کے طور پر ممنوع سمجھا گیا آج بھی مسلح باغیوں کو ملک و قوم کا دشمن سمجھنا ہی دِین داری ہے۔
اسلام قومی اور بین الاقوامی معاملات میں امن و رواداری کا درس دیتا ہے۔ قرآن و حدیث کی تعلیمات کے مطابق بدترین دشمن قوم کا سفارت کار بھی اگر سفارت کاری کے لیے آئے تو اس کا قتل حرام ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ کے پاس کئی مواقع پر غیر مسلموں کے نمائندے آئے، لیکن آپ ﷺ نے ہمیشہ خود بھی ان سے حسنِ سلوک فرمایا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی یہی تعلیم دی۔ حتیٰ کہ نبوت کے جھوٹے دعوے دار مسیلمہ کذاب کے نمائندے آئے جنہوں نے صریحاً اِعترافِ اِرتداد کیا تھا لیکن آپ ﷺ نے سفارت کار ہونے کے باعث اُن سے حسنِ سلوک سے پیش آئے۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
إِنِّي کُنْتُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ جَالِساً إِذْ دَخَلَ هٰذَا (عَبْدُ اللهِ بْنُ نُوَاحَۃَ) وَرَجُلٌ وَافِدَیْنِ مِنْ عِنْدِ مُسَیْلَمَۃَ. فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللهِ ﷺ: أَتَشْهَدَانِ أَنِّي رَسُوْلُ اللهِ؟ فَقَالَا لَهٗ: نَشْهَدُ أَنَّ مُسَیْلَمَۃَ رَسُوْلُ اللهِ، فَقَالَ: آمَنْتُ بِاللهِ وَرُسُلِهٖ، لَوْ کُنْتُ قَاتِلًا وَافِدًا لَقَتَلْتُکُمَا.
(1) 1۔ أحمد بن حنبل، المسند، 1: 404، رقم: 3837
2۔ دارمی، السنن، 2: 307، رقم: 2503
3۔ نسائی، السنن الکبری، 5: 205، رقم: 8675
4۔ أبو یعلی، المسند، 9: 31، رقم: 5097
5۔ حاکم، المستدرک علی الصحیحین، 3: 54، رقم: 4378
میں حضور نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا جب یہ شخص (عبد اللہ بن نواحہ) اور ایک اور آدمی مسیلمہ (کذاب) کی طرف سے سفارت کار بن کر آئے تو انہیں حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا تم دونوں اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں؟ انہوں نے (اپنے کفر و ارتداد پر اصرار کرتے ہوئے) کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے (معاذ اللہ!)۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے کمال برداشت اور تحمل کی مثال قائم فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں۔ اگر میں سفارت کاروں کو قتل کرنے والا ہوتا تو تم دونوں کو قتل کر دیتا (مگر حضور ﷺ نے ایسا نہ کیا اور انہیں جان کی سلامتی دی)۔
غور کیجئے! بارگاهِ رسالت مآب ﷺ میں مسیلمہ کذاب کے پیروکاروں کے اعلانیہ کفر و ارتداد کے باوجود تحمل سے کام لیا گیا، کسی قسم کی سزا نہیں دی گئی، نہ انہیں قید کیا گیا اور نہ ہی انہیں قتل کرنے کا حکم فرمایا گیا۔ صرف اس لیے کہ وہ سفارت کار (diplomats) تھے۔ مسند احمد بن حنبل، (1) مصنف عبد الرزاق (2) اور مسند بزار (3) میں رَسُوْلًا کا لفظ آیا ہے یعنی اکیلا سفارت کار ہو یا سفارتی عملہ ہو، ہر دو صورتوں میں ان کا قتل جائز نہیں ہے۔
(1) أحمد بن حنبل، المسند، 1: 390، 396، رقم: 3708، 3761
(2) عبد الرزاق، المصنف، 10: 196، رقم: 18708
(3) بزار، المسند، 5: 142، رقم: 1733
حضور نبی اکرم ﷺ کے مندرجہ بالا ارشاد اور آپ کے عمل مبارک سے یہ امر پایۂ ثبوت کو پہنچ گیا کہ غیر ملکی نمائندوں اور سفارت کاروں کی جان کی حفاظت کرنا سنتِ نبوی ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
فَجَرَتْ سُنَّۃٌ أَنْ لَا یُقْتَلَ الرَّسُولُ.
(4) أحمد بن حنبل، المسند، 1: 390، رقم: 3708
(اِس عمل سے) سنت جاری ہو گئی کہ سفارت کار کو قتل نہ کیا جائے۔
گویا حضور نبی اکرم ﷺ کے اس جملے نے سفارت کاروں کے احترام کا بین الاقوامی قانون وضع فرما دیا۔ اس حکم سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ وہ تمام عملہ جو کسی embassy میں سفارت کاری پر تعینات ہو اِسی حسن سلوک کا حق دار ہے اور اس کا قتل بھی اَز روئے حدیث حرام ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان کے شورش زدہ علاقوں میں غیر ملکی سفارت کاروں اور انجینئرز کے اَغوا اور قتل کے متعدد واقعات رُونما ہو چکے ہیں جن کی ذمہ داری دہشت گرد قبول کرتے رہے ہیں۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ اسلام کے نام پر دہشت گردی کرنے والے حضور نبی اکرم ﷺ کی اِن تعلیمات سے صریحاً اِنحراف برتنے کے باوجود خود کو ’مجاہدینِ اسلام‘ سمجھتے ہیں!
جس طرح غیر مسلم سفارت کاروں کا قتل حرام قرار دیا گیا ہے اسی طرح غیر مسلموں کے مذہبی رہنماؤں کے قتل کی بھی ممانعت کی گئی ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:
کَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ إِذَا بَعَثَ جُیُوْشَهٗ قَالَ: لَا تَغْدِرُوْا وَلَا تَغُلُّوْا وَلَا تُمَثِّلُوْا وَلَا تَقْتُلُوا الْوِلْدَانَ وَلَا أَصْحَابَ الصَّوَامِعِ.
(1) 1۔ أحمد بن حنبل، المسند، 1: 330، رقم: 2728
2۔ ابن أبی شیبۃ، المصنف، 6: 484، رقم: 33132
3۔ أبو یعلی، المسند، 4: 422، رقم: 2549
4۔ ابن رشد، بدایۃ المجتھد، 1: 281
حضور نبی اکرم ﷺ جب اپنے لشکروں کو روانہ کرتے تو حکم فرماتے: غداری نہ کرنا، دھوکا نہ دینا، نعشوں کی بے حرمتی نہ کرنا اور بچوں اور پادریوں کو قتل نہ کرنا۔
مندرجہ بالا حدیث مبارکہ سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ کسی بھی قوم کے مذہبی رہنماؤں کا قتل، عام حالات کے علاوہ دورانِ جنگ بھی جائز نہیں ہے۔
اِسلام دورانِ جنگ اور فتوحات کے بعد غیر مسلم معاشرے کے تاجروں (businessmen & traders) اور کاشت کاروں (farmers) کے قتل کا بھی صریح مخالف ہے کیونکہ ان کے ساتھ انسانی آبادیوں کی معیشت وابستہ ہے۔ اس کی وضاحت درج ذیل احادیث سے ہوتی ہے:
1۔ امام ابن ابی شیبہ اور امام بیہقی حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں:
کَانُوْا لَا یَقْتُلُوْنَ تُجَّارَ الْمُشْرِکِیْنَ.
(1) 1۔ ابن أبي شیبۃ، المصنف، 6: 484، رقم: 33129
2۔ بیھقي، السنن الکبریٰ، 9: 91، رقم: 17939
3۔ ابن آدم القرشي، الخراج، 1: 52، رقم: 133
مسلمان کبھی بھی مشرک تاجروں کو قتل نہیں کرتے تھے۔
2۔ امام ابن ابی شیبہ حضرت زید بن وہب سے بیان کرتے ہیں کہ اُن کے پاس حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا خط آیا جس میں آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا:
لَا تَغُلُّوْا وَلَا تَغْدِرُوْا، وَلَا تَقْتُلُوْا وَلِیْدًا، وَاتَّقُوا ﷲَ فِي الْفَـلَّاحِیْنَ.
(2) 1۔ ابن أبي شیبۃ، المصنف، 6: 483، رقم: 33120
3۔ ابن آدم القرشي، کتاب الخراج، 1: 52، رقم: 132
مالِ غنیمت کی تقسیم میں دھوکہ نہ کرو، نہ غداری کرو، نہ بچوں کو قتل کرو اور کسانوں کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔
امام بیہقی کی بیان کردہ روایت کے الفاظ یہ ہیں:
اِتَّقُوْا ﷲَ فِي الْفَـلَّاحِیْنَ، فَـلَا تَقْتُلُوْهُمْ.
(3) بیہقي، السنن الکبریٰ، 9: 91، رقم: 17938
کسانوں کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو، سو انہیں قتل نہ کرو۔
3۔ علامہ ابن القیم نے آپ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ قول بھی نقل کیا ہے:
فإنّ أصحاب النبي ﷺ لم یقتلوھم حین فتحوا البلاد، ولأنّھم لا یقاتلون، فاشبھوا الشیوخ والرھبان.
(1) ابن القیم، أحکام أھل الذمۃ، 1: 165
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہ معمول تھا کہ وہ کسی علاقے کو فتح کر لینے کے بعد ان لوگوں (زراعت پیشہ افراد) کو قتل نہ کرتے کیونکہ وہ براهِ راست جنگ میں شریک نہ ہوتے تھے، پس وہ بوڑھوں اور مذہبی پیشوائوں کے حکم میں ہوتے تھے۔
4۔ امام اوزاعی نے بھی یہی فرمایا ہے:
لا یقتل الحرّاث إذا عُلِمَ أنّہ لیس مِنَ المقاتلۃ.
(2) ابن القیم، أحکام أھل الذمۃ، 1: 165
دورانِ جنگ زراعت پیشہ افراد کو قتل نہیں کیا جائے گا، اگر یہ معلوم ہو کہ وہ جنگ میں عملاً شریک نہیں۔
5۔ ابنِ قدامہ المقدسی نے بھی یہی قول اختیار کیا ہے:
فأمّا الفلّاح الذي لا یقاتل فینبغي ألّا یُقْتَلَ، لما رُوِيَ عن عمر بن الخطّاب رضي الله عنه أنّہ قال: اتّقوا اللہ في الفلّاحین، الذین لا ینصبون لکم في الحرب.
(3) ابن قدامۃ، المغني، 9: 251
ان کسانوں اور مزارعوں کو قتل کرنا جائز نہیں جو جنگ میںعملاً شریک نہ ہوں، کیونکہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان کسانوںاور مزارعوں کی نسبت اللہ تعالیٰ سے ڈرو جو دورانِ جنگ تمہارے خلاف نہیں لڑتے۔
اسلام کے دیے گئے قوانینِ جہاد میں دورانِ جنگ خدمت پر مامور افراد کے قتل کو بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
امام احمد بن حنبل، امام ابو داؤد، امام نسائی، امام ابن ماجہ اور امام حاکم نے حضرت رباح بن ربیع رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث بیان کی ہے، وہ فرماتے ہیں:
کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ فِي غَزْوَةٍ، فَرَأَی النَّاسَ مُجْتَمِعِیْنَ عَلٰی شَيئٍ، فَبَعَثَ رَجُـلًا فَقَالَ: انْظُرْ عَـلٰی مَا اجْتَمَعَ ھٓؤُلَاءِ؟ فَجَاءَ، فَقَالَ: عَلَی امْرَأَةٍ قَتِیْلٍ. فَقَالَ: مَا کَانَتْ هٰذِهٖ لِتُقَاتِلَ. قَالَ: وَعَلَی الْمُقَدَّمَةِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیْدِ. فَبَعَثَ رَجُـلًا فَقَالَ: قُلْ لِخَالِدٍ: لَا یَقْتُلَنَّ امْرَأَۃً وَلَا عَسِیْفًا. وفي روایۃ: لَا تَقْتُلَنَّ ذُرِّیَّۃً وَلَا عَسِیْفًا.
(1) 1۔ أحمد بن حنبل، المسند، 3: 488، رقم: 16035
2۔ أبو داؤد، السنن،کتاب الجھاد، باب في قتل النسائ، 3: 53، رقم: 2669
3۔ ابن ماجہ، السنن،کتاب الجھاد، باب الغارۃ والبیات وقتل النساء والصبیان، 2: 948، رقم: 2842
4۔ نسائي، السنن الکبریٰٰ، 5: 186-187، رقم: 8625، 8627
5۔ حاکم، المستدرک، 2: 133، رقم: 2565
ایک غزوہ میں ہم حضور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے کہ آپ ﷺ نے دیکھا: بہت سے لوگ کسی چیز کے پاس جمع ہیں۔ آپ ﷺ نے ایک آدمی کو یہ دیکھنے کے لیے بھیجا کہ لوگ کس چیز کے پاس جمع ہوئے ہیں۔ اُس نے آ کر بتایا: ایک مقتول عورت کے پاس۔ فرمایا: یہ عورت تو جنگ نہیں کرتی تھی۔ حضرت رباح بیان کرتے ہیں کہ اگلے دستے کے کمانڈر حضرت خالد بن ولید تھے۔ لہٰذا آپ ﷺ نے ایک آدمی کو بھیجا اور فرمایا: خالد سے کہنا: (مشرکین کی) عورتوں اور لوگوں کی خدمت کرنے والوں کو ہرگز قتل مت کرنا۔ ایک روایت میں ہے: بچوں اور خدمت گاروں کو ہرگز قتل مت کرنا۔
یہاں تک کہ مفتوحہ علاقے کے غیر مسلم افراد کے گھروں میں کام کاج کرنے والے غیر مسلم ملازمین کو بھی نہ قتل کیا جاسکتا ہے، نہ ہی ان پر کسی قسم کا ٹیکس عائد کیا جا سکتا ہے۔ ان لوگوں کے معاملہ میں یہی شرعی حکم ہے، اسی بات کو علامہ ابن القیم نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یوں بیان کیا ہے:
إنّ العبد محقون الدم فأشبہ النساء والصبیان.
(1) ابن القیم، أحکام أھل الذّمۃ، 1: 172
گھروں میں کام کاج کرنے والے خدمت گار بھی عورتوں اور بچوں کی طرح محفوظ الدم ہیں۔
اسی طرح امام ابن المنذر نے تمام اَہلِ علم کا اجماع نقل کیا ہے کہ غیر مسلموں کے بوڑھوں، بیماروں، محتاجوں، عورتوں، بچوں اور بے روزگار افراد کی طرح ان کے زیردست ملازموں پر بھی کوئی ٹیکس عائد نہیں ہو گا۔
(2) ابن القیم، أحکام أھل الذّمۃ، 1:172
اسلام انسانی خون کو کعبۃ اللہ کی حرمت سے زیادہ فضیلت کا حق دار سمجھتا ہے، دورانِ جنگ بھی خونِ ناحق کی مذمت کی گئی ہے۔ دورانِ جنگ صرف انہی دشمنوں کو قتل کرنے کی اجازت ہے جو عملًاجنگ میں شریک ہوں جبکہ آبادی کا غیر محارب حصہ - جس میں بیمار، معذور، گوشہ نشین افراد، بچے، بوڑھے اور عورتیں شامل ہیں - قتال کی اجازت سے مستثنیٰ ہے۔ فتح مکہ کے موقع پر حضور نبی اکرم ﷺ نے جو ہدایات جاری فرمائیں ان میں مذکور ہے کہ جو مقابلہ نہ کرے، جان بچا کر بھاگ جائے، اپنا دروازہ بند کرلے یا زخمی ہو اس پر حملہ نہ کیا جائے۔
1۔ امام مسلم حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن حضور نبی اکرم ﷺنے فرمایا:
مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْیَانَ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ أَلْقَی السِّلَاحَ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ.
(1) 1۔ مسلم، الصحیح، کتاب الجھاد والسیر، باب فتح مکۃ، 3: 1407، رقم: 1780
2۔ أبو داؤد، السنن، کتاب الخراج والإمارۃ والفيئ، باب ما جاء في خبر مکۃ، 3: 162، رقم: 3021
3۔ بزار، المسند، 4: 122، رقم: 1292
جو شخص ابو سفیان کے گھر میں داخل ہو جائے گا اُسے امان ہے، جو شخص ہتھیار پھینک دے اُسے امان ہے اور جو شخص اپنے گھر کے دروازے بند کر لے اُسے بھی امان ہے۔
ان تمام اقدامات سے امن کا عزم اور پیغام ظاہر ہوتا ہے۔
2۔ مصنف عبد الرزاق میں روایت ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے:
لَا یُذَفَّفُ عَلٰی جَرِیْحٍ، وَلَا یُقْتَلُ أَسِیْرٌ، وَلَا یُتْبَعُ مُدْبِرٌ.
(1) عبد الرزاق، المصنف، 10: 123، رقم: 18590
زخمی کو فوراً قتل نہ کیاجائے، نہ قیدی کو قتل کیا جائے اور نہ بھاگنے والے کا تعاقب کیا جائے۔
3۔ مصنف عبد الرزاق کی ایک اور روایت میں حضرت جویبر بیان کرتے ہیں: اُنہیں بنو اسد کی ایک عورت نے بتایاکہ اُس نے حضرت عمار کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے جنگ جمل سے فارع ہونے کے بعد یہ اعلان کرتے ہوئے سنا:
ولا تذففوا علی جریح، ولا تدخلوا دارا، من ألقی السلاح فہو آمن، ومن أغلق بابہ فھو آمن.
(2) عبد الرزاق، المصنف، 10: 124، رقم: 18591
زخمی کو فوراً قتل نہ کرنا اور کسی گھر میں داخل نہ ہونا، جس نے اپنا اسلحہ پھینک دیا اُسے امان ہے اور جس نے اپنا دروازہ بند کر لیا وہ بھی مامون ہے۔
اسلام خونِ ناحق کی اجازت دیتا ہے نہ دشمن کی سرزمین پر کھلی تباہی و بربادی کا خواہاں ہے۔ اسلام امن اور اصلاح کا داعی ہے۔ اس لیے حالتِ جنگ میں بھی اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ نہ کھیتیاں برباد ہوں، نہ پھل دار درخت کاٹے جائیں اور نہ اَملاک کو نذرِ آتش کیا جائے۔
1۔ اس حوالے سے امام ترمذی نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا ہے:
وَنَهٰی أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّیْقُ أَنْ یَقْطَعَ شَجَرًا مُثْمِرًا أَوْ یُخَرِّبَ عَامِرًا، وَعَمِلَ بِذٰلِکَ الْمُسْلِمُونَ بَعْدَهٗ.
(1) ترمذی، السنن، کتاب السیر، بَابُ فِي التَّحْرِیقِ وَالتَّخْرِیبِ، 4: 122، رقم: 1552
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے (دورانِ جنگ) پھل دار درخت کاٹنے یا عمارت کو تباہ کرنے سے منع فرمایا اور آپ کے بعد بھی مسلمان اسی پر عمل پیرا رہے۔
2۔ اسی مضمون کی احادیث موطا امام مالک، مصنف عبد الرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ اور سنن بیہقی میں آئی ہیں جن میں حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے صراحتاً درخت کاٹنے سے منع فرمایا ہے۔
حضرت یحییٰ بن سعید بیان کرتے ہیں کہ انہیں بتایا گیا: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ شام کی طرف کچھ لشکر روانہ کرتے ہوئے یزید بن ابی سفیان کی طرف آئے اور اُسے فرمایا:
إِنِّي أُوْصِیْکَ بِعَشْرٍ: لَا تَقْتُلَنَّ صَبِیًّا وَلَا امْرَأَۃً، وَلَا کَبِیْرًا هَرِمًا، وَلَا تَقْطَعَنَّ شَجَرًا مُثْمِرًا، وَلَا تَخْرَبَنَّ عَامِرًا، وَلَا تَعْقَرَنَّ شَاۃً، وَلَا بَعِیْرًا إِلَّا لِمَأْکَلَةٍ، وَلَا تُغْرِقَنَّ نَخْلًا، وَلَا تَحْرِقَنَّهٗ، وَلَا تَغْلُلْ وَلَا تَجْبُنْ.
(2) 1۔ مالک، الموطأ، کتاب الجھاد، باب النھي عن قتل النساء والولدان في الغزو، 2: 447، رقم: 965
2۔ عبد الرزاق، المصنف، 5: 199، رقم: 9375
3۔ ابن أبي شیبۃ، المصنف، 6: 483، رقم: 33121
4۔ بیھقي، السنن الکبریٰٰ، 9: 89، 90، رقم: 17927، 17929
5۔ مروزی، مسند أبی بکر: 69-72، رقم: 21
میں تمہیں دس چیزوں کی وصیت کرتا ہوں: کسی بچے، عورت، بوڑھے اور بیمار کو ہرگز قتل نہ کرنا، اور نہ ہی کوئی پھل دار درخت کاٹنا، اور نہ ہی کسی آباد گھر کو ویران کرنا، اور نہ ہی کسی بھیڑ اور اونٹ کی کونچیں کاٹنا مگر کھانے کے لیے (جتنی ضرورت ہو شرعی طریقے کے مطابق ذبح کر لینا)، اور کھجوروں کے پودوں کو مت کاٹنا نہ انہیں جلانا، اور مالِ غنیمت کو تقسیم کرنے میں دھوکہ نہ کرنا اورنہ ہی بزدل ہونا۔
3۔ امام ابن ابی شیبہ حضرت مجاہد سے مروی روایت بیان کرتے ہیں:
لَا یُقْتَلُ فِي الْحَرْبِ الصَّبِيُّ، وَلَا امْرَأَۃٌ وَلَا الشَّیْخُ الْفَانِي، وَلَا یُحْرَقُ الطَّعَامُ، وَلَا النَّخْلُ وَلَا تُخْرَبُ الْبُیُوْتُ وَلَا یُقْطَعُ الشَّجَرُ الْمُثْمِرُ.
(1) ابن أبي شیبۃ، المصنف، 6: 483، رقم: 33122
جنگ میں کسی بچے، عورت یا شیخِ فانی کو قتل نہ کیا جائے اور نہ ہی کھانے اور کھجور کے درختوں کو جلایا جائے، اور نہ ہی گھروں کو ویران کیا جائے اور نہ ہی پھل دار درختوں کو کاٹا جائے۔
4۔ اسی طرح کی ایک اور روایت میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے لشکر کو شام کی طرف روانہ کیا تو اس کے ساتھ تقریباً دو میل چلے اور اہلِ لشکر کو مخاطب کر کے فرمایا:
أوصیکم بتقوی اللہ، لا تعصوا ولا تغلوا، ولا تجبنوا، ولا تغرقوا نخلا، ولا تحرقوا زرعا، ولا تحبسوا بھیمۃ، ولا تقطعوا شجرۃ مثمرۃ، ولا تقتلوا شیخا کبیرا، ولا صبیا صغیرا.
(2) مروزی، مسند أبی بکر: 69-72، رقم: 21
میں تمہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں، (اور یہ کہ) نافرمانی نہ کرنا، بزدلی نہ کرنا، کھجور کے پودوں کو تباہ نہ کرنا، کھیتیاں نہ جلانا، چوپایوں کو قید کر کے نہ رکھنا، کسی پھل دار درخت کو نہ کاٹنا اور کسی شیخِ فانی کو قتل کرنا نہ کسی چھوٹے بچے کو۔
5۔ عاصم بن کلیب نے اپنے والد ماجد سے روایت کیا ہے کہ ایک انصاری نے بیان کیا: ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے تو لوگوں کو کھانے پینے کی بڑی ضرورت پیش آئی اور دقت کا سامنا کرنا پڑا۔ پس انہیں بکریاں ملیں تو انہیں لوٹ کر ذبح کر لیا۔ کھانے کی ہانڈیوں میں ابال آرہا تھا کہ کمان سے ٹیک لگائے ہوئے رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے اور اپنی کمان سے ہماری ہانڈیوں کو الٹنا شروع کر دیا اور گوشت کو مٹی میں ملانا شروع کر دیا۔ پھر فرمایا:
إِنَّ النُّھْبَۃَ لَیْسَتْ بِأَحَلَّ مِنَ الْمَیْتَۃِ.
(1) 1۔ أبو داود، السنن، کتاب الجھاد، بَابُ فِي النَّھْيِ عَنِ النُّھْبَی إِذَا کَانَ فِي الطَّعَامِ قِلَّۃٌ فِي أَرْضِ الْعَدُو، 3: 66، رقم: 2705
2۔ بیھقی، السنن الکبریٰٰ، 9: 61، رقم: 17789
لوٹ مار (کا کھانا) مردار جانوروں کے گوشت سے زیادہ حلال نہیں ہے۔
کس قدر احتیاط، اُصول پسندی اور اعلیٰ سیرت و کردار کا مظاہرہ ہو رہا تھا۔ محاذِ جنگ تھا یا طویل سفر کے دوران بھوک کی شدت کی حالت، دنیا کا کوئی بھی عسکری قائد، مذہبی رہنما یا روحانی مربی اتنے صاف ستھرے، مضبوط اور پاکیزہ کردار کا یہ نمونہ پیش نہیں کر سکتا۔ اِسی تربیت کا اثر تھا کہ بھوک سے نڈھال صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سامنے گوشت سے اُبلتی ہوئی ہانڈیاں مٹی پر اُلٹا دی گئیں اور پیکرانِ صبر و رضا نے خاموشی کے ساتھ حضور نبی اکرم ﷺ کے فیصلے کے سامنے سر تسلیم خم کیے رکھا۔
اِس موقع پر آپ ﷺ نے جو کلمات ارشاد فرمائے وہ انسانوں کے لیے ایک انمول تحفہ تھے۔ لوٹ مار کے رزق کو مردار جانور سے زیادہ ناپاک قرار دینا ان لوگوں کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے جو آئے روز لوٹ مار اور بنک ڈکیتیاں کر کے دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے رقم جمع کرتے ہیں۔
درج بالا تصریحات سے یہ بات خوب واضح ہوجاتی ہے کہ جب اسلام پر جنگ مسلط کر دی جائے یا مسلمانوں کو جارحیت کا نشانہ بنایا جائے اور جواب میں اسلامی ریاست کی فوج باقاعدہ جہاد میں مصروف ہو تو ایسے حالات میں بھی عورتوں، بچوں اور خدمت گزاروں کو قتل نہیں کیا جا سکتا۔ یہی نہیں بلکہ دورانِ جنگ فصلوں کو تباہ کرنے، عمارتوں کو مسمار کرنے، عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانے اور لوٹ مار سے بھی منع کیا گیا ہے۔ جو اسلام دورانِ جہاد بھی ان اُمور کی اجازت نہیں دیتا اس کے نزدیک ایسے مسلمانوں یا غیر مسلموں کو - جو براهِ راست جارحیت میں ملوث نہ ہوں، پُر امن طریقے سے اپنے گھروں اور شہروں میں مقیم ہوں، کاروبار میں مصروف ہوں، سفر کر رہے ہوں یا مساجد میں مصروفِ عبادت ہوں - دہشت گردی کے ذریعے قتل کرنے کی کیسے اجازت دی جا سکتی ہے؟ لہٰذا یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ایسی کارروائیاں اِسلامی تعلیمات کے سراسر منافی اور قرآن و حدیث سے صریح اِنحراف ہیں۔
Copyrights © 2026 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved