گزشتہ اَبواب میں ہم نے سب سے پہلے حضور ﷺ کا سراپا رحمت پیغمبر ﷺ ہونا بیان کیا۔ دوسرے باب میں حرمتِ دم اور تکریم بشر کے موضوع کے حوالے سے اِنسانی جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ اور تکریم پر دلائل دیے گئے جب کہ تیسرے باب میں غیر مسلموں کی جان و مال کے تحفظ پر شریعتِ اِسلامیہ سے براہینِ قاطعہ پیش کی گئیں۔ باب ہٰذا میں جانوروں پر رحمت و شفقت کے چند نبوی مظاہر پیش کیے جائیں گے تاکہ واضح ہو کہ پیغمبرِ اَمن و رحمت ﷺ بلا تمیز مذہب اور بلا امتیازِ رنگ و نسل صرف انسانوں پر ہی شفیق و رحیم نہیں تھے، بلکہ آپ ﷺ کی شانِ کریمی جانوروں پر بھی یکساں برستی ہے۔ لہٰذا آپ ﷺ پر ایمان رکھنے والا شخص نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں پر بھی شفیق و مہربان ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کا مخلوق کے لیے رحمت و شفقت کا یہ جذبہ اُس کی طرف سے ایک نعمت ہے۔ جن لوگوں کے دل اُلوہی نعمت و سعادت سے محروم ہو جاتے ہیں اُن کے قلوب سے رحمت و محبت کا پہلو ختم کر دیا جاتا ہے اور وہ شقاوت و بدبختی کا شکار ہوجاتے ہیں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا جو صادق و مصدوق، ابو القاسم اور حجرہ مبارک کے مکین ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
لَا تُنْزَعُ الرَّحْمَۃُ إِلَّا مِنْ شَقِيٍّ.
(1) 1۔ أبو داؤد، السنن، کتاب الأدب، باب في الرحمۃ، 4: 286، رقم: 4942
2۔ ترمذي، السنن، کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء في رحمۃ المسلمین، 4: 323، رقم: 1923
3۔ بیھقي، السنن الکبریٰ، 8: 161، رقم: 16420
4۔ ابن أبي شیبہ، المصنف، 5: 214، رقم: 25360
رحمت کسی دل سے نہیں چھینی جاتی سوائے اُس شخص کے جو شقی (یعنی بدبخت) ہو۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو بیان کرتے ہوئے حضور نبی اکرم ﷺ کے لیے خاص اَلقابات استعمال کیے ہیں۔ یہاں ضمناً عرض کر دیں کہ آج کے دور میں جیسے ہم آقا علیہ السلام کو صاحبِ گنبدِ خضریٰ یا گنبدِ خضریٰ کے مکین کے محبت بھرے اَلقاب سے یاد کرتے ہیں؛ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی ویسے ہی حضور ﷺ کو ان کے حجرہ مبارک کی مناسبت سے صاحب الحجرۃ یعنی ’حجرئہ مبارک کے مکین‘ کہتے تھے۔
اس ابتدائی بحث کے بعد اب ہم جانوروں پر ہونے والی رحمتِ نبوی کی چند مثالیں پیش کریں گے تاکہ نفس مسئلہ بخوبی واضح ہو جائے۔
اِسلام عدمِ تشدد کا قائل ہے۔ حضور ﷺ کی سیرت طیبہ اور آپ ﷺ کی عالمی رحمت کا دائرہ کار صرف انسانوں سے محبت اور عدم تشدد تک محدود نہیں بلکہ ہر عالم اور مخلوق کے ہر طبقے کے ساتھ محبت یعنی عدمِ تشدد (non-violence) کا اسلام میں واضح تصور موجود ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ کی ذاتِ مبارکہ جہاں انسانوں سے محبت کا درس دیتی ہے وہیں جانوروں اور پرندوں سے بھی عدم تشدد کا پرچار کرتی ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی متفق علیہ حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
عُذِّبَتِ امْرَأَۃٌ فِي هِرَّةٍ حَبَسَتْهَا حَتّٰی مَاتَتْ جُوْعًا، فَدَخَلَتْ فِیْهَا النَّارَ، قَالَ: فَقَالَ: وَاللهُ أَعْلَمُ، لَا أَنْتِ أَطْعَمْتِهَا وَلَا سَقَیْتِهَا حِیْنَ حَبَسْتِهَا وَلَا أَنْتِ أَرْسَلْتِهَا فَأَکَلَتْ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ.
(1) 1۔ بخاري، الصحیح،کتاب المساقاۃ، باب فضل سقي الماء، 2: 834، رقم: 2236
2۔ مسلم، الصحیح، کتاب السلام، باب تحریم قتل الھرۃ، 4: 1760، رقم: 2242
ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا۔ اُس نے اُس بلی کو (کسی جگہ) بند کر دیا تھا یہاں تک کہ وہ بھوکی مرگئی۔ وہ عورت اُس کی وجہ سے دوزخ میں داخل کر دی گئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے (لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ اُس سے فرمائے گا: ) جب تو نے اُسے باندھا تو تُو نے نہ اُسے کھلایا نہ پلایا اور نہ ہی اُسے کھلا چھوڑا کہ وہ (خود) زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیا کرتی۔
اُس عورت نے بلی کو اذیت دی اور اُس پر تشدد (violence) کیا۔ صرف اُس بلی کی جان لینے کی وجہ سے اُس نیک عورت کو اللہ تعالیٰ نے دوزخ میں پھینک دیا۔ تعلیماتِ اسلام، سیرتِ محمدی اور میلادِ مصطفی ﷺ کا پیغام ہے کہ آقا ﷺ رحمۃ للعالمین بن کر آئے تو انسانوں اور کائنات کے لیے اَحسن سیرت لائے، پیغامِ اَمن لائے، دین اسلام کی روشن تعلیمات لائے اور انسانوں کو اسوئہ حسنہ عطا کیا۔ وہ لوگ جو اسکولوں میں معصوم بچوں کو مارتے ہیں اور وہ لوگ جو ریاستی دہشت گردی اور معاشی دہشت گردی کا ارتکاب کرتے ہیں اور دھن، دھونس اور دھاندلی کے نتیجہ میں حاصل ہونے والے اِقتدار کی بقاء کے لیے قانون کے محافظوں ہی کے ہاتھوں گولیاں مرواتے اور خواتین، بچوں، جوانوں اور بوڑھوں کو شہید کرواتے ہیں۔ پھر کارکنوں کو گرفتار کرتے ہیں تاکہ انہیں اپنی جعل سازی کا حصہ بنا سکیں اور ظلم پر پردہ پڑ سکے۔ اُن لوگوں کو جاننا چاہیے کہ اسلامی تعلیمات کیا ہیں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
بَیْنَمَا رَجُلٌ یَمْشِي بِطَرِیْقٍ اشْتَدَّ عَلَیْهِ الْعَطَشُ، فَوَجَدَ بِئْرًا فَنَزَلَ فِیْهَا فَشَرِبَ، ثُمَّ خَرَجَ فَإِذَا کَلْبٌ یَلْهَثُ یَأْکُلُ الثَّرٰی مِنَ الْعَطَشِ. فَقَالَ الرَّجُلُ: لَقَدْ بَلَغَ هٰذَا الْکَلْبَ مِنَ الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِي کَانَ بَلَغَ مِنِّي. فَنَزَلَ الْبِئْرَ فَمَلَأَ خُفَّهٗ مَاءً، ثُمَّ أَمْسَکَهٗ بِفِیْهِ حَتّٰی رَقِيَ، فَسَقَی الْکَلْبَ فَشَکَرَ اللهُ لَهٗ فَغَفَرَ لَهٗ. قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللهِ، وَإِنَّ لَنَا فِي هٰذِهِ الْبَهَائِمِ لَأَجْرًا؟ فَقَالَ: فِي کُلِّ کَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ.
(1) 1۔ بخاري، الصحیح،کتاب المساقاۃ، باب فضل سقي الماء، 2: 833، رقم: 2234
2۔ أیضًا،کتاب المظالم والغضب، باب الآبار علی الطرق إذا لم یتأذ بھا، 2: 870، رقم: 2334
3۔ مسلم، الصحیح، کتاب السلام، باب فضل سقي البھائم المحترمۃ وإطعامھا، 4: 1761، رقم: 2244
4۔ أحمد بن حنبل، المسند، 2: 517، رقم: 710
5۔ أبو داود، السنن، کتاب الجھاد، باب ما یؤمر بہ من القیام علی الدّواب والبھائم، 3: 24، رقم: 2550
ایک شخص جا رہا تھا کہ اُسے راستے میں شدید پیاس لگی، اُس نے ایک کنواں دیکھا تو وہ اُس کنویں میں اُتر گیا اور پانی پیا، جب وہ کنویں سے نکلا تو اُس نے دیکھا کہ ایک کتا پیاس کی وجہ سے ہانپ رہا ہے اور کیچڑ چاٹ رہا ہے۔ اُس شخص نے سوچا کہ اِس کتے کی بھی پیاس سے وہی حالت ہو رہی ہے جو (کچھ دیر قبل) میری ہو رہی تھی۔ پس وہ کنویں میں اُترا اور اپنے موزے میں پانی بھرا، پھر اُس موزے کو منہ سے پکڑ کر اُوپر چڑھا اور کتے کو پانی پلایا۔ اللہ تعالیٰ نے اُس کی یہ نیکی قبول کی اور اُس کی مغفرت فرما دی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اِن جانوروں میں بھی ہمارے لیے اجر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہر تر جگر والے (یعنی ہر زندہ جانور) میں اَجر ہے (یعنی اللہ تعالیٰ کی کسی بھی ذی روح مخلوق سے نیکی کرنے پر اجر ملتا ہے)۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ یَقُوْلُ: مَنْ مَثَّلَ بِذِي رُوْحٍ ثُمَّ لَمْ یَتُبْ، مَثَّلَ اللهُ بِهٖ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ.
(1) 1۔ أحمد بن حنبل، المسند، 2: 92، 115، رقم: 5661، 5956
2۔ ابن الجعد، المسند: 330، رقم: 2264
3۔ ابن رجب حنبلي، جامع العلوم والحکم، 1: 153
4۔ منذری، الترغیب والترھیب، 2: 102، رقم: 1676
5۔ ہیثمی، مجمع الزوائد، 4: 32
6۔ عسقلانی، فتح الباري، 9: 644
امام منذری، ہیثمی اور عسقلانی نے فرمایا ہے: اِس حدیث کے رجال ثقہ ہیں۔
میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جس نے کسی ذی روح کا مثلہ کیا اور پھر اِس گناہ سے توبہ نہ کی (اور اسی حال میں مرگیا) تو اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اُس کا مثلہ کرے گا۔
حضرت شرید بن سوید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اُنہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:
مَنْ قَتَلَ عُصْفُوْرًا عَبَثًا عَجَّ إِلَی اللهِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، یَقُوْلُ: یَا رَبِّ، إِنَّ فُـلَانًا قَتَلَنِي عَبَثًا، وَلَمْ یَقْتُلْنِي لِمَنْفَعَةٍ.
(2) 1۔ أحمد بن حنبل، المسند، 4: 389، رقم: 19488
2۔ نسائی، السنن، کتاب الضحایا، باب من قتل عصفورا بغیر حقھا، 7: 239، رقم: 4446
3۔ نسائی، السنن الکبری، 3: 73، رقم: 4535
4۔ ابن حبان، الصحیح، 13: 214، رقم: 5894
5۔ طبرانی، المعجم الکبیر، 7: 317، رقم: 7245
جس نے کسی چڑیا کو بلا وجہ مار ڈالا تو وہ چڑیا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے چلّائے گی اور عرض کرے گی: اے اللہ! فلاںشخص نے مجھے بلا وجہ بغیر کسی فائدہ کے قتل کیا۔
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَا مِنْ إِنْسَانٍ قَتَلَ عُصْفُوْرًا فَمَا فَوْقَهَا بِغَیْرِ حَقِّهَا إِلَّا سَأَلَهُ اللهُ عزوجل عَنْهَا. قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللهِ، وَمَا حَقُّهَا؟ قَالَ: یَذْبَحُهَا، فَیَأْکُلُهَا، وَلَا یَقْطَعُ رَأْسَهَا یَرْمِي بِهَا.
(1) 1۔ نسائی، السنن، کتاب الصید والذبائح، باب إباحۃ أکل العصافیر، 7: 206، رقم: 4349
2۔ نسائی، السنن الکبری، 3: 163، رقم: 4860
3۔ شافعی، السنن المأثورۃ: 413، رقم: 606
4۔ حاکم، المستدرک، 4: 261، رقم: 7574
5۔ طیالسی، المسند: 301، رقم: 2279
جس شخص نے چڑیا یا اُس سے بھی چھوٹا پرندہ ناحق قتل کیا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے اُس کے متعلق بھی پوچھے گا (کہ تو نے یہ جان ناحق کیوں لی؟)۔ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اُس کا حق کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس کا حق یہ ہے کہ وہ اُسے ذبح کرے اور کھائے اور (بلا ضرورت صرف شوقِ شکار میں) اُس کا سر کاٹ کر نہ پھینک دے۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:
کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ فِي سَفَرٍ وَمَرَرْنَا بِشَجَرَةٍ فِیْھَا فَرْخَا حُمَّرَةٍ، فَأَخَذْنَاھُمَا. قَالَ: فَجَائَتِ الْحُمَّرَۃُ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ وَھِيَ تَصِیْحُ، فَقَالَ: مَنْ فَجَعَ ھٰذِهِ بِفَرْخَیْھَا؟ قَالَ: فَقُلْنَا: نَحْنُ. قَالَ: رُدُّوْھُمَا.
(1) 1۔ حاکم، المستدرک، 4: 267، رقم: 7599
2۔ بیھقی، دلائل النبوۃ، 1: 321
3۔ ھناد، الزھد، 2: 620، رقم: 1337
ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے، ہم ایک درخت کے پاس سے گزرے جس میں چَنڈُول (ایک خوش آواز چڑیا) کے دو بچے تھے، ہم نے وہ دو بچے اُٹھا لیے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ چَنڈُول حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں شکایت کرتے ہوئے حاضر ہوئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کس نے اِس چَنڈُول کو اِس کے بچوں کی وجہ سے تکلیف دی ہے؟ راوی بیان کرتے ہیں: ہم نے عرض کیا: ہم نے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اِس کے بچے اِسے لوٹا دو۔
یہ اسلام کی اَمن و رحمت پر مبنی عدمِ تشدد (non-violence) کی تعلیمات ہیں کہ چھوٹے سے چھوٹے جانور اور پرندے کو بھی تکلیف میں مبتلا کرنے کی کی قطعاً اجازت نہیں ہے اور اس پر سخت وعید سنائی گئی ہے۔
اِسلامی تعلیمات میں تو جانور پر بھی تشدد کی اجازت نہیں حتی کہ جانوروں پر تیر اندازی یا تشدد کرنے والوں پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی لعنت کی گئی ہے۔
حضرت ہشام بن زیاد کا بیان ہے کہ وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت حکم بن ایوب کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اُنہوں نے چند لڑکوں کو دیکھا کہ ایک مرغی کو باندھ کر اُس پر تیر چلا رہے ہیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اُن سے فرمایا:
نَهَی النَّبِيُّ ﷺ أَنْ تُصْبَرَ الْبَهَائِمُ.
(1) 1۔ بخاری، الصحیح، کتاب الذبائح والصید، باب ما یکرہ من المثلۃ والمصبورۃ والمجثمۃ، 5: 2100، رقم: 5194
2۔ مسلم، الصحیح، کتاب الصید والذبائح، باب النھي عن صبر البھائم، 3: 1549، رقم: 1956
3۔ أحمد بن حنبل، المسند، 3: 171، رقم: 12769
4۔ أبو داود، السنن، کتاب الضحایا، باب في النھي أن تصبر البھائم والرفق بالذبیحۃ، 3: 100، رقم: 2816
حضور نبی اکرم ﷺ نے جانوروں کو باندھ کر مارنے (یعنی Target killing کرنے) سے منع فرمایا ہے۔
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
مَرَّ ابْنُ عُمَرَ رضي الله عنهما بِفِتْیَانٍ مِنْ قُرَیْشٍ، قَدْ نَصَبُوْا طَیْرًا وَهُمْ یَرْمُوْنَهٗ، وَقَدْ جَعَلُوْا لِصَاحِبِ الطَّیْرِ کُلَّ خَاطِئَةٍ مِنْ نَبْلِهِمْ۔ فَلَمَّا رَأَوا ابْنَ عُمَرَ رضي الله عنهما تَفَرَّقُوْا. فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: مَنْ فَعَلَ هٰذَا؟ لَعَنَ اللهُ مَنْ فَعَلَ هٰذَا، إِنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ لَعَنَ مَنِ اتَّخَذَ شَیْئًا فِیْهِ الرُّوْحُ غَرَضًا.
(2) 1۔ مسلم، الصحیح، کتاب الصید والذبائح وما یؤکل من الحیوان، باب النھي عن صبر البھائم، 3: 1550، رقم: 1958
2۔ ترمذي، السنن، کتاب الصید، باب ما جاء في کراھیۃ أکل المصبورۃ، 4: 72، رقم: 1475
3۔ نسائي، السنن، کتاب الضحایا، باب النھي المجثمۃ، 7: 239، رقم: 4444
4۔ ابن ماجہ، السنن، کتاب الذبائح، باب النھي عن صبر البھائم وعن المثلۃ، 2: 1063، رقم: 3187
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا قریش کے چند جوانوں پر گزر ہوا جو ایک پرندے کو باندھ کر اُس پر تیر اندازی کی مشق کر رہے تھے (یعنی اُسے بھاگنے کا موقع بھی نہیں دے رہے تھے اور مار بھی رہے تھے گویا target killing ہو رہی تھی)۔ اُنہوں نے پرندے والے سے یہ طے کر لیا تھا کہ جس کا تیر نشانے پر نہیں لگے گا وہ اُس کو کچھ دے گا۔ جب اُنہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا تو منتشر ہوگئے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ کام کس نے کیا ہے؟ جو شخص اِس طرح کرے اللہ تعالیٰ نے اُس پر لعنت فرمائی ہے، جو شخص کسی جاندار کو ہدف بنائے بلاشبہ اُس پر رسول اللہ ﷺ نے بھی لعنت کی ہے۔
اسی مضمون کی ایک اور حدیث حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ آقا علیہ السلام نے فرمایا:
لَا تَتَّخِذُوْا شَیْئًا فِیْهِ الرُّوْحُ غَرَضًا.
(1) 1۔ مسلم، الصحیح، کتاب الصید والذبائح، باب النھي عن صبر البھائم، 3: 1549، رقم: 1957
2۔ أحمد بن حنبل، المسند، 1: 280، 285، 340، رقم: 2532، 2586، 3155
3۔ ترمذي، السنن، کتاب الصید، باب ما جاء في کراھیۃ أکل المصبورۃ، 4: 72، رقم: 1475
4۔ نسائي، السنن، کتاب الضحایا، باب النھي عن المجثمۃ، 7: 238، رقم: 4443
5۔ ابن ماجہ، السنن، کتاب الذبائح، باب النھي عن صبر البھائم وعن المثلۃ، 2: 1063، رقم: 3187
کسی جاندار کو (تیر اندازی کے لیے) ہدف مت بناؤ۔
اس حدیث مبارکہ میں مذکور لفظ ’غَرَضًا‘ سے مراد ٹارگٹ کلنگ ہے۔ آج ہمارے معاشرے میں کیا ہو رہا ہے؟ آئے روز اس ملک کے ہر شہر میں ٹارگٹ کلنگ کا کوئی نہ کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے۔ کوئٹہ ہو یا کراچی، لاہور سانحہ ماڈل ٹاؤن ہو یا جنوبی پنجاب کا کوئی اَلم ناک سانحہ، کہیں کوئی عالمِ دین اور کہیں کوئی علمی و فکری شخصیت ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہورہی ہے۔ اِسلام میں تو جانور ہو یا پرندہ، انسان ہو یا کوئی اور ذی روح، کسی بھی جاندار کو پکڑ کر ہدف بنانا منع ہے اور تیر یا گولی وغیرہ سے مارنے والے پر اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول ﷺ نے لعنت کی ہے۔ جس پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی لعنت ہو اُس پر جنت حرام اور دوزخ واجب ہو جاتی ہے۔
سوچنے کا مقام ہے کہ اس قوم کو کیا ہوگیا ہے؟ کوئی ہے جو انہیں مدارس، اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیز میں اسلام کی اِن تعلیماتِ اَمن سے آشنا کرے؟ اگر پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں میں یہ سوچ ہوتی تو کب کی قانون سازی ہو چکی ہوتی، اس پر عمل درآمد ہو رہا ہوتا اور پاکستان کا قانون کبھی دہشت گردوں کو تحفظ نہ دیتا۔
ہماری سول گورنمنٹ، سول قانون، عدالتیں اور سیاسی نظام نے ہمیشہ دہشت گردوں اور دہشت گردی کو تحفظ دیا ہے۔ اگر یہ نظام تحفظ نہ دیتا تو آج فوجی عدالتیں بنانے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ فوجی عدالتوں کی ضرورت جائز اور ضروری ہے اور یہ ثابت ہوگیا ہے کہ موجودہ نظام فیل ہو چکا ہے۔ ہمارے نام نہاد حکمران ابھی بھی اس فیل نظام کی مردہ لاش کو گھسیٹ کر چلنا چاہتے ہیں۔ اس نظام نے عوامِ پاکستان کو آج تک کچھ نہیں دیا اور نہ آئندہ دے سکتا ہے کیونکہ یہ نظام بدمعاشوں، غنڈوں، طاقت وروں، دہشت گردوں اور قاتلوں کے لیے ہے۔ یہ نظام مقتولوں، مظلوموں، بے چاروں اور مجبوروں کے لیے نہیں۔ اس لیے اس نظام کو بدل کر ایسا نظام لانا ہوگا جس کی کوکھ سے پُراَمن پاکستان جنم لے اور یہ اسی صورت ممکن ہے کہ ہم محبت اور عدم تشدد پر مبنی حضور نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات کو حرزِ جاں بنائیں۔
سیرتِ طیبہ کے اُن مظاہر کا مطالعہ بھی ضروری ہے جہاں حضورنبی اکرم ﷺ نے جانوروں کو داغنے، جلانے یا اُن سے کچھ چھین کر اُنہیں اذیت پہنچانے کی سختی سے ممانعت فرمائی ہے۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:
کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ فِي سَفَرٍ، فَانْطَلَقَ لِحَاجَتِهٖ فَرَأَیْنَا حُمَّرَۃً مَعَهَا فَرْخَانِ فَأَخَذْنَا فَرْخَیْهَا، فَجَائَتِ الْحُمَّرَۃُ فَجَعَلَتْ تَفْرِشُ، فَجَاءَ النَّبِيُّ ﷺ فَقَالَ: مَنْ فَجَّعَ هٰذِهٖ بِوَلَدِهَا؟ رُدُّوْا وَلَدَهَا إِلَیْهَا. وَرَآی قَرْیَۃَ نَمْلٍ قَدْ حَرَّقْنَاهَا. فَقَالَ: مَنْ حَرَّقَ هٰذِهٖ؟ قُلْنَا: نَحْنُ. قَالَ: إِنَّهٗ لَا یَنْبَغِي أَنْ یُعَذِّبَ بِالنَّارِ إِلَّا رَبُّ النَّارِ.
(1) 1۔ أبو داود، السنن، کتاب الجھاد، باب في کراھیۃ حرق العدو بالنار، 3: 55، رقم: 2675
2۔ أیضًا، کتاب الأدب، باب في قتل الذر، 4: 367، رقم: 5268
3۔ بیھقی، دلائل النبوۃ، 6: 32-33
4۔ زیلعی، نصب الرایۃ، 3: 407
5۔ نووی، ریاض الصالحین: 367، رقم: 367
6۔ ذھبی، الکبائر: 206
7۔ ابن کثیر، شمائل الرسول ﷺ: 289
ایک سفر میں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ آپ ﷺ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے تو ہم نے ایک چڑیا دیکھی جس کے ساتھ دو بچے تھے۔ ہم نے اُس کے بچے پکڑ لئے تو چڑیا پر بچھانے لگی۔ حضور نبی اکرم ﷺ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے فرمایا: کس نے اِسے اِس کے بچوں کی وجہ سے تڑپایا ہے؟ اِس کے بچے اِسے لوٹا دو۔ آپ ﷺ نے چیونٹیوں کا ایک بل دیکھا جسے ہم نے جلا دیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اِسے کس نے جلایا ہے؟ ہم عرض گزار ہوئے: (یا رسول اللہ!) ہم نے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: آگ کے ساتھ عذاب دینا، آگ کے (پیدا کرنے والے) رب کے سوا کسی کے لیے مناسب نہیں ہے۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق مسلمان تو چیونٹیوں کو بھی جلا نہیں سکتے چہ جائیکہ کوئی شخص خود کش حملہ سے خود کو اور باقی لوگوں کو مار دے اور آگ لگا دے۔ یہ سب کچھ اسلام سے بغاوت اور کفر ہے۔ حیف ہے ان لوگوں اور رہنماؤں پر جو ابھی بھی گو مگو کی کیفیت میں ہیں اور ifs and buts میں اُلجھے ہوئے ہیں۔ آج ضرورت ہے کہ پورے پاکستان کی مسجدوں سے دہشت گردی کے خلاف کتاب وسنت کی یہ صدائیں بلند ہوں اور انتہا پسندی اور دہشت گردی کی کھل کر مذمت کی جائے۔
’صحیح مسلم‘ میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ مَرَّ عَلَیْهِ حِمَارٌ، قَدْ وُسِمَ فِي وَجْهِهٖ، فَقَالَ: لَعَنَ اللهُ الَّذِي وَسَمَهٗ.
(1) 1۔ مسلم، الصحیح، کتاب اللباس والزینۃ، باب النھي عن ضرب الحیوان في وجھہ ووسمہ فیہ، 3: 1673، رقم: 2117
2۔ أحمد بن حنبل، المسند، 3: 323، رقم: 14499
3۔ ابن حبان، الصحیح، 12: 432، رقم: 5627
4۔ عبد الرزاق، المصنف، 9: 444، رقم: 17949
5۔ أبو یعلی، المسند، 4: 76، رقم: 2099
رسول اللہ ﷺ کے پاس سے ایک گدھا گزرا جس کے منہ کو داغا گیا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: اُس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو جس نے اِسے داغا ہے۔
ایک روایت میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
رَآی رَسُوْلُ اللهِ ﷺ حِمَارًا مَوْسُوْمَ الْوَجْهِ، فَأَنْکَرَ ذٰلِکَ. قَالَ: فَوَاللهِ، لَا أَسِمُهٗ إِلَّا فِي أَقْصٰی شَيئٍ مِنَ الْوَجْهِ. فَأَمَرَ بِحِمَارٍ لَهٗ فَکُوِيَ فِي جَاعِرَتَیْهِ، فَهُوَ أَوَّلُ مَنْ کَوَی الْجَاعِرَتَیْنِ.
(1) 1۔ مسلم، الصحیح، کتاب اللباس والزینۃ، باب النھي عن ضرب الحیوان في وجھہ ووسمہ فیہ، 3: 1673، رقم: 2118
2۔ ابن حبان، الصحیح، 12: 441، رقم: 5624
3۔ طبرانی، المعجم الکبیر، 10: 332، رقم: 10822
حضور نبی اکرم ﷺ نے ایک گدھا دیکھا جس کا چہرہ داغا ہوا تھا۔ آپ ﷺ نے اِس عمل کو ناپسند فرمایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی قسم! میں (جانور کے) صرف اُس عضو کو داغتا ہوں جو چہرے سے بہت دور ہو۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے گدھے کو داغنے کا حکم دیا۔ سو اُس کی سرین کو داغا گیا اور سب سے پہلے آپ ﷺ ہی نے (جانور کی) سرین کو داغا تھا۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
مَرَّ النَّبِيُّ ﷺ بِحِمَارٍ قَدْ وُسِمَ فِي وَجْهِهٖ یُدَخِّنُ مَنْخِرَاهُ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: مَنْ فَعَلَ هٰذَا؟ لَا یَسِمَنَّ أَحَدٌ الْوَجْهَ لَا یَضْرِبَنَّ أَحَدٌ الْوَجْهَ.
(2) 1۔ أحمد بن حنبل، المسند، 3: 323، رقم: 14499
2۔ عبد الرزاق، المصنف، 9: 444، رقم: 17949
3۔ بخاری، الأدب المفرد: 72، رقم: 175
حضور نبی اکرم ﷺ ایک گدھے کے پاس سے گزرے جس کے منہ کو (گرم لوہے سے) داغا گیا تھا اور اُس کے نتھنوں میں دھونی دی جا رہی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ کس نے کیا ہے؟ کوئی شخص (جانور کے) چہرے کو نہ داغے اور نہ ہی اُس کے چہرے پر مارے۔
ابن حبان اور ابو یعلی کی بیان کردہ روایت میں ہے:
أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ رَآی حِمَارًا، قَدْ وُسِمَ فِي وَجْهِهٖ. فَقَالَ: أَلَمْ أُنْهِ عَنْ ھٰذَا؟ لَعَنَ اللهُ مَنْ فَعَلَهٗ.
(1) 1۔ ابن حبان، الصحیح، 12: 432، رقم: 5627
2۔ أبویعلی، المسند، 4: 76، رقم: 2099
حضور نبی اکرم ﷺ نے ایک گدھے کو دیکھا جس کے منہ کو داغا گیا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں نے تمہیں اِس سے منع نہیں کیا؟ جس نے اِسے داغا ہے اُس پر اللہ کی لعنت ہو۔
ایک روایت میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
أَنَّ الْعَبَّاسَ وَسَمَ بَعِیْرًا أَوْ دَابَۃً فِي وَجْهِهٖ، فَرَآهُ النَّبِيُّ ﷺ فَغَضِبَ۔ فَقَالَ عَبَّاسٌ: لَا أَسِمُهٗ إِلَّا فِي آخِرِهٖ. فَوَسَمَهٗ فِي جَاعِرَتَیْهِ.
(2) 1۔ ابن حبان، الصحیح، 12: 440، رقم: 5623
2۔ بیھقی، السنن الکبری، 7: 36، رقم: 13041
حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے ایک اونٹ یا کسی اور جانورکے منہ کو داغا۔ سو حضور نبی اکرم ﷺ نے اُسے دیکھا اور غصہ فرمایا۔ اِس پر حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اِس کے (منہ کی بجائے) پچھلے حصے کو داغوں گا۔ پھر اُس کی سرین کو داغا۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق تو گدھے کے جسم کے تھوڑے سے حصے کو بھی نہیں داغا جاسکتا تاکہ اسے اذیت نہ ہو۔ جانوروں پر تشدد violence کی قطعاً اجازت نہیں ہے، انہیں ٹارچر نہیں کیا جاسکتا۔ جب کہ یہاں تو پوری سوسائٹی اذیت اور ٹارچر میں مبتلا ہے، کسی کی جان محفوظ نہیں ہے۔ جو جس کو چاہے ٹارگٹ کلنگ کر کے مار دے۔ انفرادی طور پہ مار دے یا اقتدار کے زعم میں چودہ معصوم لوگوں کو مار دے یا اسکولوں کے معصوم طلباء اور عورتوں کو مار دے۔ پولیس آ کر مار دے یا دہشت گرد مار دیں۔ سارا معاشرہ دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ ہمیں اس لعنت سے نجات پانی ہے۔ اگر دہشت گردی اسی طرح ہوتی رہی اور ہمارے حکمرانوں اور سیاست دانوں نے اس کی بیخ کنی کے لیے موثر اقدامات نہ اُٹھائے تو پھر خدا کا عذاب اُترے گا اور ہر اچھا اور برا اس کی لپیٹ میں آجائے گا۔
عدمِ تشدد، اَمن و محبت اور رحمت و شفقت کے حوالے سے آقا علیہ السلام کا عظیم کردار بایں صورت بھی سامنے آتا ہے کہ آپ ﷺ نے وقتِ ذبح جانور کو کوئی اذیت اور تکلیف دینے کی ممانعت فرمائی ہے۔
ایک سفر کے دوران آقا علیہ السلام ایک آدمی کے پاس سے گزرے تو دیکھا کہ وہ ایک بھیڑ کو ذبح کرنے کی تیاری کر رہاہے۔ آقا علیہ السلام کھڑے ہوگئے۔ آپ ﷺ نے دیکھا کہ اس نے پہلے بھیڑ کو گرا کر اس کی گردن پر پاؤں رکھا ہوا ہے (جیسے قصائی پاؤں رکھتے ہیں یا جس طرح حکمرانوں نے قصائی بن کر پوری انیس کروڑ عوام کو بھیڑ بکری سمجھتے ہوئے ان کی گردنیں دبا کر پاؤں رکھا ہوا ہے)۔ اس حال میں بھیڑ کی چیخیں نکل رہی تھیں اور وہ شخص بھیڑ کو گرانے کے بعد اُس کی آنکھوں کے سامنے چھری تیزکر رہا تھا۔ آقا علیہ السلام نے اس شخص کو ڈانٹا اور فرمایا: ظالم! اس کو گرانے اور اس کی گردن پر پاؤں رکھنے سے پہلے یہ کام نہیں کر سکتے تھے کہ اب اسے اذیت میں مبتلا کرکے چھری تیز کررہے ہو؟
حدیث مبارکہ کے الفاظ ہیں:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما، قَالَ: مَرَّ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ عَلٰی رَجُلٍ وَاضِعٍ رِجْلَهٗ عَلٰی صَفْحَۃِ شَاةٍ، وَهُوَ یَحُدُّ شَفْرَتَهٗ، وَهِيَ تَلْحَظُ إِلَیْهِ بِبَصَرِهَا. فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: أَفَـلَا قَبْلَ هٰذَا؟ أَوْ تُرِیْدُ أَنْ تُمِیْتَهَا مَوْتَتَیْنِ؟
(1) 1۔ طبرانی، المعجم الکبیر، 11: 332، رقم: 11916
2۔ طبرانی، المعجم الأوسط، 4: 53، رقم: 3590
3۔ بیھقی، السنن الکبری، 9: 280، رقم: 18922
4۔ منذری، الترغیب والترھیب، 3: 142، رقم: 3422
5۔ ھیثمی، مجمع الزوائد، 4: 33
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو اپنی ٹانگ بھیڑ کی گردن پر رکھے چھری تیز کر رہا تھا، وہ اُسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا یہ کام پہلے نہیں ہو سکتا تھا؟ (یعنی چھری اس سے پہلے تیز کر لینی چاہیے تھی۔) کیا تم اُسے دو موتیں مارنا چاہتے ہو؟
امام حاکم کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:
أَتُرِیْدُ أَنْ تُمِیْتَهَا مَوْتَاتٍ؟ هَلْ حَدَدْتَ شَفْرَتَکَ قَبْلَ أَنْ تَضْجَعَهَا.
(2) حاکم، المستدرک، 4: 260، رقم: 7570
کیا تم اسے کئی موتیں مارنا چاہتا ہے؟ تُو نے اِسے (ذبح کے لیے) لٹانے سے قبل چھری تیز کیوں نہ کرلی؟
یعنی ایک موت وہ ہے جو اس کی گردن کو دبا کر دے رہے ہو اور وہ چیخ اور تڑپ رہی ہے، دوسری موت وہ ہے جو اس کی آنکھوں کے سامنے چھری تیز کر کے دے رہے ہو اور تیسری موت اسے ذبح کر کے دو گے۔ اس طرح تم اسے تین موتیں دینا چاہتے ہو۔
اتنی اذیت، تشدد اور تکلیف بھی حضور نبی اکرم ﷺ پر گراں گزری اور آپ ﷺ نے اسے بھی ناجائز قرار دیا۔ یہ اسلام کی پُراَمن تعلیمات، سیرتِ محمدی، سنتِ مصطفی ﷺ اور اَخلاق و کردارِ رسول ﷺ ہے۔ پاکستان ایسے مثالی معاشرے کے لیے قائم ہوا تھا جہاں اس حد تک بھی تشدد نہ ہو۔ افسوس! ہمارے ملک کے بعض ناعاقبت اندیش لوگ ایسے پر تشدد راستے اختیار کر رہے ہیں جن کا اسلامی تعلیمات، سیرت و کردارِ مصطفی ﷺ اور نظریہ پاکستان سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم کسی جانور کو ذبح کرنے لگو تو چھری اس سے چھپا کر تیز کرو اور اسے تیزی سے ذبح کر دو۔ حدیث مبارکہ کے الفاظ ہیں:
أَمَرَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ بِحَدِّ الشِّفَارِ وَأَنْ تُوَارٰی عَنِ الْبَهَائِمِ. وَقَالَ: إِذَا ذَبَحَ أَحَدُکُمْ فَلْیُجْهِزْ.
(1) 1۔ أحمد بن حنبل، المسند، 2: 108، رقم: 5864
2۔ ابن ماجہ، السنن، کتاب الذبائح، باب إذا ذبحتم فأحسنوا الذبح، 2: 1059، رقم: 3172
3۔ بیھقی، السنن الکبری، 9: 280، رقم: 18920
4۔ بیھقی، شعب الإیمان، 7: 483، رقم: 11074
رسول اللہ ﷺ نے چھریوں کو تیز کرنے اور اُنہیں جانور سے چھپانے کا حکم دیا ہے۔ آپ ﷺ نے مزید فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص (جانور) ذبح کرے تو تیزی سے ذبح کرے۔
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ رَحِمَ وَلَوْ ذَبِیْحَۃَ عُصْفُوْرٍ رَحِمَهُ اللهُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ.
(2) 1۔ طبرانی، المعجم الکبیر، 8: 234، رقم: 7915
2۔ بخاری، الأدب المفرد: 138، رقم: 181
3۔ بیہقی، شعب الإیمان، 7: 482، رقم: 11070
4۔ ہیثمی، مجمع الزوائد، 4: 33
جس نے (کسی چیز پر) رحم کیا خواہ چڑیا کے ذبیحہ پر ہی کیوں نہ ہو اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اُس پر رحم کرے گا۔
حضور نبی اکرم ﷺ نے اُمت اور پوری انسانیت کو کیسی اعلیٰ سیرتِ طیبہ، پُراَمن تعلیم اور اَحسن کردار عطا کیا کہ جانور کو ذبح کرنے کا جائز عمل بھی نہایت اَحسن طریقے سے سر انجام دینے کا حکم دیا تاکہ کُند چھری سے جانور کو کوئی تکلیف نہ پہنچے ۔ اسی طرح قرآن و سنت نے مسلمانوں کو خوبصورت طرزِزندگی، عمدہ فہم و فکر اور اَعلیٰ نظریہ دیا۔ سوچنے کا مقام ہے کہ کیا ہم اس نظریہ (ideology) پر چل رہے ہیں۔ آج وطن عزیز میں جوکچھ ہور ہا ہے، کیا وہ رسول اکرم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ہو رہا ہے؟ یہ وہ سوال ہے کہ ہر ذی شعور شخص اس کا جواب دیتے ہوئے نمناک و غمناک ضرور ہوگا۔
Copyrights © 2026 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved