تاریخِ اسلام میں انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کا پہلا گروہ جس نے انتہا پسندی (radicalism) اور عسکریت پسندی (militancy) کی ابتدا کرتے ہوئے اہل اسلام کے خلاف تلوار اٹھائی تھی، اُمت کی طرف سے انہیں خوارج یعنی ’جماعت سے نکل جانے والے‘ کا نام دیا گیا۔ خوارج کی ابتداء دورِ نبوی میں ہی ہوگئی تھی۔ بعد ازاں دورِ عثمانی میں اِن کی فکر پروان چڑھی اور پھر دورِ مرتضوی میں ان کا عملی ظہور منظم صورت میں سامنے آیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن حکیم میں کئی مقامات پر ان خوارج کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور حضور نبی اکرم ﷺ نے بھی کثیر احادیث مبارکہ میں ان کی واضح علامات اور عقائد و نظریات بالصراحت بیان فرمائے ہیں۔ خوارج دراصل اسلام کے نام پر دہشت گردی اور قتل و غارت گری کرتے تھے اور مسلمانوں کے خون کو اپنے انتہا پسندانہ اور خود ساختہ نظریات و دلائل کی بناء پر مباح قرار دیتے تھے۔
خوارِج کا عملی ظہور چوتھے خلیفہ راشد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں ہوا۔ ہم آج کے حالات پر اس کا انطباق (apply) نہیں کر رہے کیونکہ آج کے لوگوں کو اُن سے کیا نسبت:
چہ نسبت خاک را با عالم پاک
البتہ تصوراتی واضحیت (conceptual clarity) کے لیے صرف تاریخی تناظر بیان کر رہے ہیں۔
’خوارج‘ بعد میں پیدا ہوئے مگر آقا ﷺ نے خروج کرنے والے ان سارے طبقات کو خوارج کا ٹائٹل پہلے ہی دے دیا تھا کہ وہ دین سے اس طرح خارج ہوں گے جیسے تیر شکار سے نکل کر خارج ہو جاتاہے۔ چنانچہ خارجیوں کے پہلے طبقہ نے سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم اور بلا شبہ خلافتِ راشدہ کے خلاف خروج کیا۔ اُن خوارج نے بڑا دل کش اور مذہبی نعرہ (slogan) لگایا:
اَلحُکْمُ ﷲ.
ہم زمین پر اللہ کا حکم نافذ کرنا چاہتے ہیں۔
چنانچہ وہ خروج کر کے نکلے اور عراق کی سرحد پر الحروراء نامی ایک گاؤں میں جمع ہوئے۔ وہاں انہوں نے اپنا ایک امیر یا خلیفہ مقرر کیا اور وہیں ایک چھوٹے سے حصے میں اسلامی حکومت کے اندر ہی اپنی الگ ریاست (state with in state) بنا کر اسلامی حکومت کی حاکمیت اور عمل داری (writ of the government) کو چیلنج کر دیا۔ اُنہوں نے نئی خلافت قائم کی، نیا امیر منتخب کیا اور پہلے سے قائم شدہ اسلامی حکومت کے خلاف تلوار اُٹھا لی اور نعرہ یہ لگایا کہ ’ہم اللہ کی زمین پر اللہ کا دین نافذ کرنا چاہتے ہیں‘ جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نہیں کر رہے (اَسْتَغْفِرُ ﷲَ الْعَظِیْم) اس سب کے باوجود ان کا عمل یہ تھا کہ تہجد گذار، روزہ دار اور ظاہری اعمال کی پابندی کے اعتبار سے متشدد پرہیزگار تھے۔ ان کے عقیدے کے مطابق گناہِ کبیرہ کا ارتکاب بھی کفر تھا۔ گویا جھوٹ بولنا بھی اِرتکابِ کفر ہے کیونکہ خوارج کے مطابق گناہِ کبیرہ کا مرتکب فی الفور (straight away) کافر ہو جاتا ہے۔ بایں وجہ وہ اپنے سوا تمام مسلمانوں کو کافر سمجھتے تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بالاجماع ان کے خلاف جہاد کیا۔ یہ انتہا پسندی کا تاریخی تناظر (historical perspective) تھا جو یہاں تک بیان ہوا۔ عصر حاضر کے دہشت گرد بھی اِسی گروہ خوارج کے پیروکار ہیں۔
احادیثِ مبارکہ میں یہ تصریح فرما دی گئی ہے کہ خوارج قیامت تک ہر دور میں نکلتے رہیں گے حتیٰ کہ ان کا آخری گروہ دجال کے زمانے میں ظاہر ہوگا جو اس کے ساتھ مل کر مسلمانوں کو قتل کرے گا۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے سو کے قریب احادیث میں ایسے دہشت گردوں کا ذکر فرمایا ہے اور ان کو قتل کر کے ان کے خاتمہ کا حکم فرمایا۔
1۔ امام اَحمد اور امام نسائی حضرت شریک بن شہاب رضی اللہ عنہ سے صحیح حدیثِ مبارکہ میں روایت کرتے ہیں:
کُنْتُ أَتَمَنّٰی أَنْ أَلْقٰی رَجُـلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ أَسْأَلُهٗ عَنِ الْخَوَارِجِ، فَلَقِیْتُ أَبَا بَرْزَۃَ فِي یَومِ عِیْدٍ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهٖ، فَقُلْتُ لَهٗ: هَلْ سَمِعْتَ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ یَذْکُرُ الْخَوَارِجَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ بِأُذُنِي وَرَأَیْتُهٗ بِعَیْنِي۔ أُتِيَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ بِمَالٍ فَقَسَمَهٗ، فَأَعْطٰی مَنْ عَنْ یَمِیْنِهٖ وَمَنْ عَنْ شِمَالِهٖ، وَلَمْ یُعْطِ مَنْ وَرَائَهٗ شَیْئًا. فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ وَرَائِهٖ. فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ، مَا عَدَلْتَ فِي الْقِسْمَۃِ؛ رَجُلٌ أَسْوَدُ مَطْمُوْمُ الشَّعْرِ، عَلَیْهِ ثَوْبَانِ أَبْیَضَانِ فَغَضِبَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ غَضَبًا شَدِیْدًا. وَقَالَ: وَاللهِ، لَا تَجِدُوْنَ بَعْدِي رَجُلًا هُوَ أَعْدَلُ مِنِّ. ثُمَّ قَالَ: یَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ کَأَنَّ هٰذَا مِنْهُمْ، یَقْرَءُوْنَ الْقُرْآنَ لَا یُجَاوِزُ تَرَاقِیَهُمْ، یَمْرُقُوْنَ مِنَ الإِسْلَامِ کَمَا یَمْرُقُ السَّھْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ، سِیْمَاهُمُ التَّحْلِیْقُ، لَا یَزَالُوْنَ یَخْرُجُوْنَ حَتّٰی یَخْرُجَ آخِرُهُمْ مَعَ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ. فَإِذَا لَقِیْتُمُوْهُمْ فَاقْتُلُوْهُمْ، هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِیْقَۃِ.
(1) 1۔ أحمد بن حنبل، المسند، 4: 421، رقم: 19798
2۔ نسائي، السنن، کتاب تحریم الدم، باب من شہر سیفہ ثم وضعہ في الناس، 7: 119، رقم: 4103
3۔ نسائي، السنن الکبری، 2: 312، رقم: 3566
4۔ بزار، المسند، 9: 294، رقم: 3846
5۔ طیالسي، المسند، 1: 124، رقم: 923
مجھے اس بات کی شدید خواہش تھی کہ میں حضور نبی اکرم ﷺ کے کسی صحابی سے ملوں اور ان سے خوارج کے متعلق دریافت کروں۔ اتفاقاً میں نے عید کے روز حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کو ان کے کئی دوستوں کے ساتھ دیکھا تو میں نے ان سے دریافت کیا: کیا آپ نے خارجیوں کے بارے میں حضور نبی اکرم ﷺ سے کچھ سنا ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں، میں نے اپنے کانوں سے سنا اور آنکھوں سے دیکھا کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں کچھ مال پیش کیا گیا اور آپ ﷺ نے اس مال کو ان لوگوں میں تقسیم فرما دیا جو دائیں اور بائیں طرف بیٹھے ہوئے تھے، اور جو لوگ پیچھے بیٹھے تھے آپ ﷺ نے انہیں کچھ عنایت نہ فرمایا۔ چنانچہ ان میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا، اے محمد! آپ نے تقسیم میں عدل نہیں کیا۔ وہ شخص سیاہ رنگ، سر منڈا اور سفید کپڑے پہنے ہوئے تھا۔ حضور نبی اکرم ﷺ شدید ناراض ہوئے اور فرمایا: خدا کی قسم! تم میرے بعد مجھ سے بڑھ کر کسی شخص کو انصاف کرنے والا نہ پاؤگے، پھر فرمایا: آخری زمانے میں کچھ لوگ پیدا ہوں گے یہ شخص بھی انہیں لوگوں میں سے ہے۔ وہ قرآن مجید کی تلاوت کریں گے مگر قرآن ان کے حلق سے نیچے نہ اُترے گا وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ ان کی نشانی یہ ہے کہ وہ سر منڈے ہوں گے، یہ ہمیشہ نکلتے ہی رہیں گے یہاں تک کہ ان کا آخری گروہ دجال کے ساتھ نکلے گا (اور مسلح قتال کرے گا)۔ سو تم جس دور میں بھی (میدانِ جنگ میں) ان سے مقابلہ کرو تو انہیں قتل کر دو کہ یہ تمام مخلوق سے بدترین ہیں اور بدترین کرتُوتوں کے حامل ہیں۔
2۔ امام احمد بن حنبل اور امام حاکم حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
سَیَخْرُجُ أُنَاسٌ مِنْ أُمَّتِي مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ، یَقْرَئُوْنَ الْقُرْآنَ لَا یُجَاوِزُ تَرَاقِیَھُمْ، کُلَّمَا خَرَجَ مِنْھُمْ قَرْنٌ قُطِعَ، کُلَّمَا خَرَجَ مِنْھُمْ قَرْنٌ قُطِعَ، حَتّٰی عَدَّھَا زِیَادَةً عَلٰی عَشْرَۃِ مَرَّاتٍ، کُلَّمَا خَرَجَ مِنْھُمْ قَرْنٌ قُطِعَ حَتّٰی یَخْرُجَ الدَّجَّالُ فِي بَقِیَّتِھِمْ.
(1) 1۔ أحمد بن حنبل، المسند، 2: 198، رقم: 6871
2۔ حاکم، المستدرک، 4: 533، رقم: 8497
3۔ ابن حماد، الفتن، 2: 532
4۔ ابن راشد، الجامع، 11: 377
5۔ آجري، الشریعۃ: 113، رقم: 260
میری اُمت میں مشرق کی جانب سے کچھ ایسے لوگ نکلیں گے جو قرآن پڑھتے ہوں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اُترے گا۔ اُن میں سے جو بھی شیطانی گروہ نکلے گا وہ (فوجی آپریشن کی صورت میں) فوری ختم کر دیا جائے گا۔ ان میں سے جو بھی شیطانی گروہ جوں ہی نکلے گا (ریاستی اِدارے) ان کا خاتمہ کر دیں گے (یہ قُطِعَ کا معنی مرادی ہے۔ قطع کر دیے جانے کی معنوی مناسبت فوجی آپریشن کے ساتھ زیادہ بنتی ہے)۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ نے یوں ہی دس دفعہ سے بھی زیادہ بار دہرایا اور فرمایا: ان میں سے جو بھی شیطانی گروہ جب بھی نکلے گا اسے کاٹ دیا جائے گا یہاں تک کہ ان ہی کی باقی ماندہ نسل میں دجال نکلے گا۔
لَا یَزَالُوْنَ یَخْرُجُوْنَ کے ذریعے آقا ﷺ نے اِس وہم کا ازالہ بھی فرما دیا کہ کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ خوارج صرف ایک ہی بار ظاہر ہوئے تھے جن کا خاتمہ سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے اپنے دور میں کیا۔ بلکہ یہ خوارج کا پہلا گروہ تھا جس سے اس تحریک کا آغاز ہوا۔ حدیثِ نبوی کے مطابق یہ خوارج ہر دور میں وقتاً فوقتاً نکلتے رہیں گے حتیٰ کہ اس کا آخری گروہ ظہورِ دجال کے وقت مسلح ہو کر نکلے گا۔ تاریخ کے ہر دور میں یہ خوارج جب بھی نکلیں گے مسلم ریاستوں کے خلاف جنگ کرتے رہیں گے، بندوق اور ہتھیار اٹھا کر مسلمانوں کا قتل عام کرتے رہیں گے۔ یہی دہشت گردی ان کی پہچان ہوگی۔ مزید یہ کہ احادیث میں ’قرن‘ کا لفظ آیا ہے، جس کا معنی ہے: القرن: القوم المُقْتِرُوْن فِی زَمَنٍ وَاحِدٍ (ایک دور میں لوگوں کا ایک گروہ جو باہم مربوط و منظم ہو)۔
مگر لغوی لحاظ سے اس کا دوسرا معنی بھی ہے اور وہ یہ کہ قَرْنٌ سینگ کو بھی کہتے ہیں، جسے جانور اپنے دشمن کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ قرن کا استعارہ استعمال کرکے گویا یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ وہ لوگ ہتھیار اٹھا کر بغاوت کریں گے۔ قَرْنُ الشَّیْطَان کا مطلب ہے کہ وہ ہتھیار شیطانی مقاصد پورے کرنے کے لیے استعمال ہوں گے۔ لوگوں کا قتلِ عام اور انسانیت کی بربادی شیطان کا اوّلین مقصد ہے۔
3۔ اسی مضمون کو امام ابن ماجہ نے بھی حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہم ا سے روایت کیا ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
کُلَّمَا خَرَجَ قَرْنٌ قُطِعَ، أَکْثَرَ مِنْ عِشْرِینَ مَرَّةً، حَتّٰی یَخْرُجَ فِي عِرَاضِهِم الدَّجَّالُ.
(1) ابن ماجہ، السنن، المقدمۃ، باب فی ذکر الخوارج، 1: 61، رقم: 174
گروہِ خوارج جب بھی ظاہر ہوگا اسے ختم کر دیا جائے گا۔ ایسا بیس سے زائد بار ہوگا حتیٰ کہ (سب سے) آخری (گروہ) میں دجال ظاہر ہوگا۔
اِن اَحادیث مبارکہ کو پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تاجدارِ کائنات ﷺ پندرہ صدیاں قبل ہی آج کے حالات کو سامنے رکھ کر اُمت کو یہ پیغام دے رہے ہیں۔ یقینا ایسا ہی ہے کیونکہ قُرب اور بُعد کے سارے فاصلے ہمارے لیے ہیں جب کہ حضور نبی اکرم ﷺ ہر معاملے میں جامع ترین اور ہر دور کے تقاضوں کو نظر میں رکھ کر تعلیمات ارشاد فرماتے۔ اس لیے کہ نگاہِ نبوت و رسالت بعید (دور) کو بھی اسی طرح دیکھتی ہے جیسے قریب کو دیکھتی ہے اورمستقبل پر بھی اسی طرح حاوی ہے جیسے حال اور ماضی پر تھی۔ بے شک ہمارے لیے مستقبل پردہ غیب میں چھپا ہوا ہے مگر آپ ﷺ قیامت تک ہر نہاں کو بھی عیاں دیکھ رہے تھے۔ آپ ﷺ نے اُمت کے سارے حالات دیکھے کہ ایسے وقت بھی آئیں گے جب بہت سے طبقات خروج کریں گے۔
اِسلام اَمن و سلامتی اور محبت و مروّت کا دین ہے۔ اِسلامی تعلیمات کے مطابق مسلمان وہی شخص ہے جس کے ہاتھوں مسلم و غیر مسلم سب انسانوں کے جان و مال محفوظ رہیں۔ انسانی جان کا تقدس و تحفظ شریعتِ اِسلامی میں بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔ کسی بھی انسان کی ناحق جان لینا اور اُسے قتل کرنا فعل حرام ہے بلکہ بعض صورتوں میں یہ عمل موجبِ کفر بن جاتا ہے۔
1۔ ایک متقق علیہ حدیث مبارکہ میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوْقٌ، وَقِتَالُهُ کُفْرٌ.
(1) 1۔ بخاری، الصحیح، کتاب الإیمان، باب خوف المؤمن من أن یحبط عملہ وھو لا یشعر، 1: 27، رقم: 48
2۔ مسلم، الصحیح، کتاب الإیمان، باب بیان قول النبي ﷺ: سباب المسلم فسوق وقتالہ کفر، 1: 81، رقم: 64
3۔ ترمذی، السنن، کتاب البر والصلۃ، 4: 353، رقم: 1983
4۔ نسائي، السنن، کتاب تحریم الدم، باب قتال المسلم، 7: 121، رقم: 4105
5۔ ابن ماجہ، السنن، المقدمۃ، باب في الإیمان، 1: 27، رقم: 69
کسی مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔‘‘
مذکورہ حدیث کی رُو سے جب کسی مسلمان کو محض برا بھلا کہنے اور ان سے فساد و قتال کرنے کو فسق و کفر کہا گیا ہے تو ان کے خلاف ہتھیار اٹھانا اور ان کے جان و مال کو تلف کرنا کتنا بڑا جرم ہوگا!
غیر مسلم شہریوں کے قتلِ ناحق کی ممانعت و حرمت بھی کئی احادیث مبارکہ میں وارد ہوئی ہے۔
2۔ حضرت ابو بکرہ ﷺ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
مَنْ قَتَلَ مُعَاهِدًا فِي غَیْرِ کُنْهِهٖ، حَرَّمَ اللهُ عَلَیْهِ الْجَنَّۃَ.
(1) 1۔ أحمد بن حنبل، المسند، 5: 36، 38، رقم: 20393، 20419
2۔ أبو داود، السنن، کتاب الجھاد، باب في الوفاء للمعاھد وحرمۃ ذمتہ، 3: 83، رقم: 2760
3۔ نسائی، السنن، کتاب القسامۃ، باب تعظیم قتل المعاھد، 8: 24، رقم: 4747
4۔ نسائی، السنن الکبری، 4: 221، رقم: 6949
5۔ دارمی، السنن، 2: 308، رقم: 2504
6۔ بزار، المسند، 9: 129، رقم: 3679
جو مسلمان کسی غیر مسلم شہری (معاہد) کو ناحق قتل کرے گا اللہ تعالیٰ اُس پر جنت حرام فرما دے گا۔
(2) حدیث میں معاہد کا لفظ استعمال کیا گیا جس سے مراد ایسے شہری ہیں جو معاہدے کے تحت اِسلامی ریاست کے باسی ہوں، یا ایسے گروہ اور قوم کے افراد ہیں جنہوں نے اسلامی ریاست کے ساتھ معاہدئہ امن کیا ہو۔ اسی طرح جدید دور میں کسی بھی مسلم ریاست کے شہری جو اُس ریاست کے قانون کی پابندی کرتے ہوں اور آئین کو مانتے ہوں، مُعاہد کے زمرے میں آئیں گے۔ جیسے پاکستان کی غیر مسلم اقلیتیں جو آئین پاکستان کے تحت باقاعدہ شہری اور رجسٹرڈ ووٹر ہیں، پاکستان کے آئین و قانون کو پاکستان کی مسلم اکثریت کی طرح تسلیم کرتے ہیں یہ سب معاہد ہیں۔ پاکستان میں موجود دیگر غیر مسلم اقلیتیں تو مسلمان شہریوں کی طرح تقسیم ہند اور قیام پاکستان کے وقت سے ہی اس مملکت کے شہری تھے اور ہیں۔ اس لیے جدید تناظر میں معاہد کا ترجمہ ہم نے غیر مسلم شہری کیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: فیض القدیر للمناوی، 6: 153)
یہاں مطلقا فرمایا گیا کہ غیر مسلم شہری کے قاتل پر جنت حرام ہے جب کہ دیگر احادیث مبارکہ میں فرمایا گیا کہ ایسے شخص پر جنت کی خوشبو تک بھی حرام کردی گئی ہے۔
3۔ حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ قَتَلَ نَفْساً مُعَاهَدَةً بِغَیْرِ حِلِّهَا (وَفِي رِوَایَةٍ: بِغَیْرِ حَقِّهَا) حَرَّمَ اللهُ عَلَیْهِ الْجَنَّۃَ أَنْ یَّجِدَ رِیْحَهَا.
(1) 1۔ أحمد بن حنبل، المسند، 5: 36، رقم: 20399
2۔ حاکم، المستدرک علی الصحیحین، 1: 105، رقم: 135
جس نے کسی غیرمسلم شہری کو ناجائز طور پر (یا ناحق) قتل کیا اللہ تعالیٰ نے اس پرجنت کی خوشبو بھی حرام فرما دی ہے۔
علامہ انور شاہ کاشمیری اس حدیث کی شرح بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
قَوْلُهٗ ﷺ: ’مَنْ قَتَل مُعَاھَدًا لَمْ یَرِحْ رَائِحَۃَ الْجَنَّۃِ‘ وَمُخُّ الْحَدِیْثِ: إِنَّکَ أَیُّھَا الْمُخَاطَبُ قَدْ عَلِمْتَ مَا فِيْ قَتْلِ الْمُسْلِمِ مِنَ الإِثْمِ، فَإِنَّ شَنَاعَتَهٗ بَلَغَتْ مَبْلَغَ الْکُفْرِ، حَیْثُ أَوْجَبَ التَّخْلِیْدَ. أَمَّا قَتْلُ مُعَاھَدٍ، فَأَیْضًا لَیْسَ بِھَیِّنٍ، فَإِنَّ قَاتِلَهٗ أَیْضًا لَا یَجِدُ رَائِحَۃَ الْجَنَّۃِ.
(1) أنور شاہ کاشمیری، فیض الباري علی صحیح البخاري، 4: 288
آپ ﷺ کا فرمان ہے: ’جس نے کسی غیر مسلم شہری کو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھے گا‘۔ اے مخاطب! حدیث کا لبِ لباب تجھے قتلِ مسلم کے گناہ کی سنگینی بتا رہا ہے کہ اس کی قباحت کفر تک پہنچا دیتی ہے جو جہنم میں جانے کا باعث بنتا ہے، جبکہ غیر مسلم شہری کو قتل کرنا بھی کوئی معمولی گناہ نہیں ہے۔ اسی طرح اس کا قاتل بھی جنت کی خوشبو تک نہیں پائے گا (جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جہنم میں ڈالا جائے گا)۔
4۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا لَمْ یَرِحْ رَائِحَۃَ الْجَنَّۃِ، وَإِنَّ رِیْحَهَا تُوْجَدُ مِنْ مَسِیْرَۃِ أَرْبَعِیْنَ عَامًا.
(2) 1۔ بخاری، الصحیح، کتاب الجزیۃ، باب إثم من قتل معاھدا بغیر جرم، 3: 1155، رقم: 2995
2۔ بخاری، الصحیح، کتاب الدیات، باب إثم من قتل نفسا بغیر جرم، 6: 2533، رقم: 6516
3۔ ابن ماجہ، السنن، کتاب الدیات، باب من قتل معاھدا، 2: 896، رقم: 2686
جس نے کسی معاہد(غیر مسلم شہری) کو قتل کیا تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھے گا حالانکہ جنت کی خوشبو چالیس برس کی مسافت تک محسوس ہوتی ہے۔
5۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
أَلَا مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهِدًا لَهٗ ذِمَّۃُ اللهِ وَذِمَّۃُ رَسُوْلِهٖ، فَقَدْ أَخْفَرَ بِذِمَّۃِ اللهِ، فَـلَا یُرَحْ رَائِحَۃَ الْجَنَّۃِ، وَإِنَّ رِیْحَهَا لَیُوْجَدُ مِنْ مَسِیْرَۃِ سَبْعِیْنَ خَرِیْفًا.
(1) 1۔ ترمذی، السنن، کتاب الدیات، باب ما جاء فیمن یقتل نفسا معاھدۃ، 4: 20، رقم: 1403
2۔ ابن ماجہ، السنن، کتاب الدیات، باب من قتل معاھدًا، 2: 896، رقم: 2687
3۔ أبو یعلی، المسند، 11: 335، رقم: 6452
4۔ حاکم، المستدرک، 2: 138، رقم: 2581
5۔ بیھقی، السنن الکبری، 9: 205، رقم: 18511
آگاہ رہو! جو کسی معاہد (ذمی) کو قتل کرے، جس کے لیے اللہ تعالیٰ اور رسول ﷺ کا ذمہ ہو، تو اُس نے اللہ تعالیٰ کا ذمہ توڑ دیا، وہ جنت کی خوشبو نہیں پائے گا حالانکہ جنت کی خوشبو ستر سال کی مسافت تک بھی پہنچ جاتی ہے۔
6۔ حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهَدَةً بِغَیْرِ حِلِّهَا فَحَرَامٌ عَلَیْهِ الْجَنَّۃُ أَنْ یَّشُمَّ رِیْحَهَا وَإِنَّ رِیْحَهَا لَیُوْجَدُ مِنْ مَسِیْرَۃِ مِئَۃِ عَامٍ.
(2) 1۔ نسائی، السنن، کتاب القسامۃ، باب تعظیم قتل المعاہد، 8: 25، رقم: 4748
2۔ نسائی، السنن الکبریٰ، 4: 221، رقم: 6950
3۔ عبد الرزاق، المصنف، 10: 102، رقم: 18521
4۔ ابن حبان، الصحیح، 16: 391، رقم: 8382
5۔ بزار، المسند، 9: 138، رقم: 3696
6۔ طبرانی، المعجم الأوسط، 1: 207، رقم: 663
جس نے کسی معاہد (غیر مسلم شہری) کو ناجائز طور پر قتل کیا، اس پر جنت کی خوشبو تک سونگھنا حرام ہوگا حالانکہ اس کی خوشبو سو سال کی مسافت پر بھی موجود ہوگی۔
7۔ ایک اور روایت میں حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:
مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهَدَةً بِغَیْرِحَقِّهَا حَرّمَ اللهُ عَلَیْهِ الْجَنَّۃَ أَنْ یَّشُمَّ رِیْحَهَا وَرِیْحُهَا یُوْجَدُ مِنْ مَسِیْرَۃِ خَمْسِمِائَۃِ عَامٍ.
(1) 1۔ حاکم، المستدرک علی الصحیحین، 1: 105، رقم: 134
2۔ ابن أبي شیبۃ، المصنف، 5: 457، رقم: 27944
جس نے کسی معاہد کو ناحق قتل کیا اللہ تعالی نے اس پر جنت کی خوشبو تک سونگھنا حرام فرما دیا ہے حالانکہ اس کی خوشبو پانچ سو سال کی مسافت پر بھی موجود ہو گی۔
اِس موضوع پر اتنی کثرت سے احادیث وارد ہوئی ہیں جن کا احاطہ یہاں ممکن نہیں۔ لہٰذا اُن جوانوں کو اچھی طرح آقا ﷺ کے فرامین مقدسہ کا مفہوم جان لینا چاہیے جنہیں دھوکہ دیا گیا ہے کہ دہشت گردی اور قتل و غارت کے بدلے انہیں جنت اور حوریں ملیں گی۔ اسلام میں تو بے گناہوں کے قاتلوں پر جنت حرام کر دی گئی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کے لئے بنائی گئی جنت اُن پر حرام کر دی ہے تو اُنہیں حوریں کہاں سے ملیں گی کیونکہ ایسے قاتلوں کے لیے دوزخ واجب ہے؟
ایسے جوان غلط فہمی کا شکار ہو کر گمراہ ہوگئے اور سیدھی راہ سے پھسل گئے ہیں۔ جھوٹی تعلیمات کے ذریعے ان کے برین واش کر دیے گئے ہیں اور وہ سمجھنے لگ گئے ہیں کہ شاید جنت کا کوئی راستہ ان پر کھلے گا حالانکہ آقا علیہ السلام نے تو یہاں تک فرما دیا ہے کہ جنت کی خوشبو اگرچہ قیامت کے دن چالیس، ستر، سَو حتی کہ پانچ سو میل کی مسافت تک پھیلی ہو گی۔ مگر انہیں نہیں آئیگی۔ مطلب یہ ہوا کہ انہیںجنت کے پانچ سو میل قریب بھی پھٹکنے نہیں دیا جائے گا۔ کاش! ان نوجوانوں کو یہ بات سمجھ میں آجائے اور وہ جان لیں کہ وہ جس راستے پر چل رہے ہیں، یہ سرا سر کفر اور ضلالت کا سودا ہے جس پر اُنہیں بہکا کر ڈال دیا گیا ہے۔
خوارج اپنی دعوت کی بنیاد قرآنی آیات پر استوار کرتے تھے۔ وہ دینی غیرت و حمیت کو بھڑکا کر سادہ لوح مسلمانوں کو اپنا ہم نوا بناتے، اُنہیں جہاد کے نام پر مسلمانوں کے قتل عام کے لیے تیار کرتے اور ان کو جنت کا لالچ دے کر مرنے مارنے کے لیے تیار کرتے تھے۔ حافظ ابن کثیر ’’البدایۃ والنھایۃ‘‘ میں خوارج کے ایک گروہ سے زید بن حصن طائی سنبسی کے خطبہ کا ذکران الفاظ میں کرتے ہیں:
واجتمعوا أیضا في بیت زید بن حصن الطائي السنبسي فخطبھم وحثھم علی الأمر بالمعروف والنھي عن المنکر، وتلا علیھم آیات من القرآن منھا قولہ تعالی: {یٰـدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰـکَ خَلِیْفَةً فِی الْاَرْضِ فَاحْکُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلاَ تَتَّبِعِ الْھَوٰی فَیُضِلَّکَ عَنْ سَبِیْلِ اللهِ} وقولہ تعالی: {وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللهُ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْکٰفِرُوْنَo} وکذا التي بعدھا وبعدھا الظالمون الفاسقون. ثم قال: فأشھد علی أھل دعوتنا من أھل قبلتنا أنھم قد اتبعوا الھوی، ونبذوا حکم الکتاب، وجاروا في القول والأعمال، وأن جھادھم حق علی المؤمنین. فبکی رجل منھم یقال لہ عبد اللہ بن سخبرۃ السلمي، ثم حرض أولئک علی الخروج علی الناس، وقال في کلامہ: واضربوا وجوھھم وجباھھم بالسیوف حتی یطاع الرحمن الرحیم، فإن أنتم ظفرتم وأطیع اللہ کما أردتم أثابکم ثواب المطیعین لہ العاملین بأمرہ، وإن قتلتم فأي شیء أفضل من المصیر إلی رضوان اللہ وجنتہ.
(ص، 38: 26)
(المائدۃ، 5: 44)
(3) ابن کثیر، البدایۃ والنھایۃ، 7: 286
خوارج کا گروہ زید بن حصن طائی سنبسی کے گھر میں جمع ہوا تو اس نے انہیں خطبہ دیا اور اُنہیں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر ترغیب کے ذریعے تیار کیا۔ اُن کے سامنے قرآن مجید کی آیات تلاوت کیں جن میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد گرامی ہے: {اے داؤد! بے شک ہم نے آپ کو زمین میں (اپنا) نائب بنایا سو تم لوگوں کے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلے (یا حکومت) کیا کرو اور خواہش کی پیروی نہ کرنا ورنہ (یہ پیروی) تمہیں راہِ خدا سے بھٹکا دے گی۔} اور اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے: {اور جو شخص اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ (و حکومت) نہ کرے، سو وہی لوگ کافر ہیںo} اس کے بعداگلی آیت {اور جو شخص اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ (و حکومت) نہ کرے سو وہی لوگ ظالم ہیںo} اور پھر اس سے اگلی آیت {اور جو شخص اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ (و حکومت) نہ کرے سو وہی لوگ فاسق ہیںo}۔ یہ آیاتِ مبارکہ ان پر تلاوت کرنے کے بعد اس نے کہا: میں مسلمانوں میں سے اپنے مخاطبینِ دعوت پر گواہی دیتا ہوں کہ بے شک انہوں نے خواہشِ نفس کی پیروی کی اور کتاب اللہ کا حکم ترک کر دیا۔ انہوںنے قول اور عمل میں ظلم کا ارتکاب کیا، سو مومنوں پر ایسے لوگوں کے خلاف جہاد کرنا واجب ہے۔ (اس خطاب میں وہ خود کو یعنی گروہِ خوارج کو مومن کہہ رہا تھا اور خواہشِ نفس کی پیروی کرنے والے ظالم، جن کے خلاف جہاد واجب ہے، سے اس کی مراد حضرت علی رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے۔) اس پر سامعین میں سے ایک شخص جس کا نام عبد اللہ بن سخبرہ السلمی تھا رو پڑا۔ پھر اس (زید بن حصن طائی) نے سامعین یعنی خوارج کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے خلاف خروج و بغاوت پر اُکسایا اور دورانِ کلام کہا: ان کے چہروں اور پیشانیوں پر تلواروں سے وار کرتے رہو یہاں تک کہ خداے رحمن و رحیم کی اطاعت کی جائے۔ اگر تم کامیاب و کامران ہو گئے اور اللہ تبارک و تعالی کی اطاعت تمہارے حسبِ منشا کی گئی تو اللہ رب العزت تمہیں اپنی اطاعت کرنے والوں اور اس کے حکم پر عمل پیرا ہونے والوں کا ثواب عطا فرمائے گا۔ اور اگر تم قتل کر دیے گئے تو اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی جنت حاصل کر لینے سے افضل کون سی چیز ہو سکتی ہے؟
آج ہم اپنے گرد و پیش ہونے والی دہشت گردوں کی سرگرمیوں اور ان کے طریقہ کار کا جائزہ لیں تو یہ بھی ناپختہ ذہنوں، کم عمروں اور جوانوں کی brain washing کے لیے بالکل وہی حربہ اور طریقہ استعمال کر رہے ہیں جو اُس دور کے خوارج کرتے تھے۔ اِن دہشت گردوں کے تصورِ اِسلام کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ ایک طرف تو مسلمانوں کو قتل کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے تھے لیکن دوسری طرف اِسلام کی تعلیمات پر نہایت سختی سے عمل پیرا ہوتے۔ حافظ ابن کثیر بیان کرتے ہیں کہ ایک سفر کے دوران کسی درخت سے ایک کھجور گری، ایک خارجی نے وہ اُٹھا کر منہ میں ڈال لی۔ دوسرا خارجی معترض ہوا کہ تو نے مالک سے اجازت لیے اور قیمت دیے بغیر یہ کھجور منہ میں کیوں ڈال لی ہے؟ اس نے فوراً پھینک دی۔
(1) ابن کثیر، البدایۃ والنھایۃ، 7: 288
اسی طرح امام ابن الاثیر بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ خارجیوں کے پاس سے غیر مسلم شہریوں کا ایک خنزیر گزرا تو ان میں سے ایک خارجی نے اسے تلوار سے مار ڈالا۔ دیگر خارجیوں نے اسے سخت ملامت کی کہ ایک غیر مسلم شہری کے خنزیر کو کیوں مار ڈالا۔ جب خنزیر کا مالک آیا تو اُس خارجی نے خنزیر کے مالک سے معافی مانگی اور اُسے (قیمت دے کر) راضی کیا۔
(1) ابن الأثیر، الکامل فی التاریخ، 3: 218
ایک طرف خوارج کی ظاہری دین داری دیکھیے اور دوسری طرف ان کی دہشت گردی، سفاکی اور بربریت ملاحظہ کیجیے۔ حافظ ابن کثیر البدایۃ والنھایۃ میں مزید لکھتے ہیں:
ومع ھذا قدموا عبد اللہ بن خبّاب فذبحوہ، وجاؤوا إلی امرأتہ فقالت: إنّي امرأۃ حبلی، ألا تتقون اللہ، فذبحوھا وبقروا بطنھا عن ولدھا، فلما بلغ الناس ھذا من صنیعھم خافوا إن ھم ذھبوا إلی الشام واشتغلوا بقتال أھلہ أن یخلفھم ھؤلاء في ذراریھم ودیارھم بھذا الصنع، فخافوا غائلتھم، وأشاروا علی علي بأن یبدأ بھؤلاء، ثم إذا فرغ منھم ذھب إلی أھل الشام بعد ذلک والناس آمنون من شر ھؤلاء فاجتمع الرأی علی ھذا وفیہ خیرۃ عظیمۃ لھم ولأھل الشام أیضًا۔ فأرسل علي رضی اللہ عنہ إلی الخوارج رسولا من جھتہ وھو الحرب بن مرۃ العبدي، فقال: أخبر لي خبرھم، وأعلم لي أمرھم واکتب إلی بہ علی الجلیۃ، فلما قدم علیھم قتلوہ ولم ینظروہ، فلما بلغ ذلک علیّا عزم علی الذھاب إلیھم أولا قبل أھل الشام۔ فبعثوا إلی عليّ یقولون: کلنا قتل إخوانکم ونحن مستحلون دمائھم ودمائکم۔ فتقدم إلیھم قیس بن سعد بن عبادۃ فوعظھم فیما ارتکبوہ من الأمر العظیم، والخطب الجسیم، فلم ینفع وکذلک أبو أیوب الأنصاري وتقدم أمیر المؤمنین علي بن أبي طالب إلیھم، فإنکم قد سولت لکم أنفسکم أمرا تقتلون علیہ المسلمین، واللہ، لو قتلتم علیہ دجاجۃ لکان عظیما عند اللہ، فکیف بدماء المسلمین.
(1) ابن کثیر، البدایۃ والنھایۃ، 7: 288
وہ حضرت عبد اللہ بن خباب رضی اللہ عنہ کو نہر کے کنارے پر لائے اور ذبح کر دیا اور پھر ان کی اہلیہ کے پاس آئے تو اُس نے کہا: میں حاملہ ہوں، کیا تم اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے ہو؟ انہوں نے اس کو بھی ذبح کر ڈالا اور اس کا پیٹ چاک کر کے بچہ باہر نکال پھینکا۔ جب لوگوں تک ان کے یہ کرتوت پہنچے تو وہ ڈر گئے کہ اگر وہ شام کی طرف چلے گئے اور اہل شام کے ساتھ جنگ میں مصروف ہوگئے تو یہ لوگ ان کے پیچھے ایسی ہی دہشت گردی ان کے اہل خانہ کے ساتھ انجام دیں گے۔ وہ اپنے اہل و عیال کے انجام سے ڈر گئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مشورہ دیا کہ آپ جنگ کا آغاز ان ہی دہشت گردوں سے کریں، پھر جب ان کے خاتمہ سے فارغ ہو جائیں تب اہل شام کی طرف متوجہ ہوں۔ اس طرح ان کے خاتمہ کے بعد لوگ ان کے شر سے محفوظ ہو جائیں گے۔ چنانچہ اس رائے پر اتفاق ہوگیا کیونکہ سب کی بہتری اسی میں تھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حرب بن مرہ عبدی کو سفارت کار بنا کر خوارج کی طرف بھیجا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں فرمایا: مجھے اُن کی خبر دینا اور اُن کے معاملہ سے آگاہ کرتے رہنا اور میری طرف واضح طور پر لکھ بھیجنا۔ لہٰذا جب وہ ان (خارجیوں) کے پاس پہنچے تو اُنہوں نے اُن کو قتل کر دیا اور اُنہیں کچھ بھی مہلت نہ دی۔ جب ان کے قتل کی خبر حضرت علی رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو آپ رضی اللہ عنہ نے اُن (خارجیوں) کی طرف ملک شام سے پہلے جانے کا عزم کر لیا۔ اُنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف یہ پیغام بھیجا۔ ہم نے مل کر تمہارے بھائیوں کو قتل کیا ہے اور ہم تمہارے اور ان کے خون کو جائز سمجھتے ہیں۔ پھر حضرت قیس بن سعد بن عبادہ ان (خارجیوں) کے پاس گئے اور اُنہیں سمجھایا کہ تم نے بہت بڑے گناہ کا ارتکاب کیا ہے لیکن آپ کے سمجھانے کا اُن پر کوئی اثر نہ ہوا۔ اسی طرح حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے بھی اُنہیں سمجھایا مگر بے سود! پھر امیر المؤمنین حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے اُن کی طرف پیغام بھیجا کہ تمہارے نفسوں نے تمہارے لیے حرام کو آراستہ کر دیا ہے اور اس بنا پر تم مسلمانوں کے قتل کو حلال سمجھنے لگ گئے ہو۔ بخدا! اگر اس اندازِ فکر سے مرغی بھی مارتے تو گناہِ عظیم ہوتا، بے گناہ مسلمانوں کے قتل کے جرم کی سنگینی کا تو اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا۔
کتبِ تاریخ کے مذکورہ اِقتباسات سے ثابت ہو جاتا ہے کہ خوارج اِنسانی خون کو نہایت ارزاں گردانتے تھے اور اِنسانی جان کو قتل کرنا ان کے نزدیک کوئی معنی نہیں رکھتا تھا، حتی کہ انہوں نے اُن نفوسِ قدسیہ کی خوں ریزی سے بھی گریز نہیں کیا جنہوں نے براہِ راست حضور نبی اکرم ﷺ کے زیر سایہ تربیت و پرورش پائی تھی۔
چونکہ حضور نبی اکرم ﷺ نے واضح طور پر یہ بات سمجھا دی تھی کہ ’’لَا یَزَالُوْنَ یَخْرُجُوْنَ‘‘ (یہ خوارج ہمیشہ نکلتے رہیں گے) اس لیے موجودہ دور کے خوارج (دہشت گرد) بھی انہی صفات سے متصف ہونے کی بنا پر پہچانے جاتے ہیں۔ یہ بھی اپنے پیش رؤوں کی طرح لوگوں کا خون بہاتے ہیں، خواتین اور بچوں پر حملے کر کے انہیں اذیت ناک موت دیتے ہیں، ریاستی بالادستی اور نظام کو تسلیم نہیں کرتے، مساجد پر حملے کر کے اُنہیں مسمار کرتے ہیں، آبادیوں اور عوام الناس کو اپنے حملوں کا نشانہ بناتے ہیں اور لوگوں کو ذبح کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ یہ لوگ اپنے نظریات کے مخالف لوگوں کو قتل کرنے اور تباہی پھیلانے کو جہاد سمجھتے ہیں۔ یہ تمام اِنسانیت کُش کاروائیاں بلاشک و شبہ ان خوارج کے فکر و عمل کا ہی تسلسل ہیں۔
گزشتہ صفحات میں دی گئی بنیادی مباحث سے یہ اَمر مترشح ہو جاتا ہے کہ خوارج دین میں نئی نئی بدعات ایجاد کرتے تھے۔ وہ قرآنی آیات اور احادیثِ نبویہ کا خود ساختہ اطلاق کرتے اور غلط تاویل کے ذریعے اپنے مخالف مسلمانوں کو واجب القتل ٹھہراتے تھے۔ ذیل میں ان کی چند نمایاں بدعات درج کی جاتی ہیں جن میں سے اکثر کے بارے میں حضور نبی اکرم ﷺ نے پہلے ہی آگاہ فرما دیا تھا:
1۔ وہ کفار کے حق میں نازل ہونے والی آیات کا اطلاق مومنین پر کریں گے۔
(1) بخاری، الصحیح، کتاب، استتابۃ المرتدین والمعاندین وقتالھم، باب قتل الخوارج والملحدین بعد إقامۃ الحجۃ علیھم، 6: 2539
2۔ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے۔
(2) بخاری، الصحیح، کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالی: تعرج الملائکۃ والروح إلیہ، 6: 2702، رقم: 6995
3۔ غیر مسلم اقلیتوں کے قتل کو حلال سمجھیں گے۔
(3) حاکم، المستدرک، 2: 166، رقم: 2657
4۔ عبادت میں بہت متشدد اور غلو کرنے والے (extremist) ہوں گے۔
(4) أبو یعلی، المسند، 1: 90، رقم: 90
5۔ گناہِ کبیرہ کے مرتکب کو دائمی جہنمی اور اس کا خون اور مال حلال قرار دیں گے۔
6۔ جس نے اپنے عمل اور غیر صائب رائے سے قرآن کی نافرمانی کی اُسے کافر قرار دیں گے۔
7۔ ظالم اور فاسق حکومت کے خلاف مسلح بغاوت اور خروج کو فرض قرار دیں گے۔
(1) 1۔ عبد القاھر البغدادی، الفرق بین الفرق: 73
2۔ ابن تیمیہ، مجموع الفتاویٰ، 13: 31
ابتدائی تاریخ سے ہی یہ امر مترشح ہوتا ہے کہ خوارج اپنے عقائد و نظریات اور بدعات میں اِس قدر انتہاء پسند تھے کہ اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی (نعوذ باللہ) کافر خیال کرتے اور ان پر کفر کے فتوے لگانے سے نہ ہچکچاتے۔ امام شہرستانی نے المِلَل والنحل میں لکھا ہے کہ زیاد بن اُمیہ نے عروہ بن ادیہ/اذینہ نامی خارجی سے پوچھا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا کیا حال تھا؟ اُس نے کہا: اچھے تھے۔ پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا حال دریافت کیا؟ اُس نے کہا: ابتدا کے چھ سال تک اُن کو میں بہت دوست رکھتا تھا، پھر جب انہوں نے نئی نئی باتیں اور بدعتیں شروع کیں تو ان سے علیحدہ ہوگیا اس لیے کہ وہ آخر میں کافر ہو گئے تھے۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا حال پوچھا تو اُس نے کہا: وہ بھی اوائل میں اچھے تھے، جب اُنہوں نے حَکَم (arbitrator) بنایا تو (نعوذ باللہ) کافر ہو گئے۔ اس لیے ان سے بھی علیحدہ ہو گیا۔ پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا حال دریافت کیا تو اُس نے اُن کو سخت گالی دی۔ (العیاذ باللہ۔)
(1) شہرستانی، الملل والنحل، 1: 118
امام شہرستانی نے مزید لکھا ہے کہ خوارج حضرت عثمان، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت عائشہ، حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سمیت تمام اہلِ اسلام جو اُن کے ساتھ تھے سب کی تکفیر کیا کرتے تھے اور سب کو دائمی دوزخی کہتے تھے۔ (نعوذ باللہ من ذالک۔)
(2) شہرستانی، الملل والنحل، 1: 121
5۔ خوارج کی عمومی علامت فکری اِختلاف کی بنا پر مسلمانوں
کا قتلِ عام کرنا ہے
حافظ ابنِ حجر عسقلانی اِس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
قولہ ﷺ: ’یَقْتُلُوْنَ أَھْلَ الْإِسْلَامِ‘ إلخ. وھو مما أخبر بہ ﷺ من المغیبات، فوقع کما قال.
(1) عسقلانی، فتح الباري، 8: 69
آپ ﷺ کا فرمان ہے: ’وہ اہلِ اسلام کو قتل کریں گے۔‘ (خوارج کے متعلق) یہ پیشین گوئی رسول اللہ ﷺ کے اخبارِ غیب میں سے ہے، لہٰذا اُسی طرح ہوا جس طرح آپ ﷺ نے فرمایا تھا۔
علامہ شبیر احمد عثمانی نے فتح الملھم میں یہی شرح لکھنے کے بعد یہ جملے بھی درج کیے ہیں:
وقال الأُبيّ: ومن عجیب أمرھم ما یأتي أنھم حین خرجوا من الکوفۃ منابذین لعلي رضي الله عنه: لقوا في طریقھم مسلمًا وکافرًا، فقتلوا المسلم.
(2) شبیر أحمد عثماني، فتح الملھم، 5: 151
أُبَی (بن کعب) نے کہا ہے: خوارج کا عجیب معاملہ سامنے آتا ہے جس وقت وہ کوفہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مخالفت میں نکلے تو راستے میں ان کی ملاقات ایک مسلمان اور ایک کافر سے ہوئی۔ انہوں نے کافر کو چھوڑ دیا مگر مسلمان کو مار ڈالا۔
حضور نبی اکرم ﷺ فرما رہے ہیں کہ میری اُمت کی تاریخ میں، انسانوں کو قتل کرنے والے، عورتوں کو ذبح کرنے والے، بچوں کو قتل کرنے والے،مسلموں اور غیر مسلموں کو، civilian عوام کو قتل کرنے والے، خواہ دین کا نام لیں، نماز پڑھیں، روزہ رکھیں، حکومت اسلامی کا نام لیں، کچھ بھی کہیں، مگر انسانوں کا قتل عام کریں، بے گناہوں کا خون کریں، فرمایا جب وہ لوگ نکلیں گے، اگر میں ان کا زمانہ پا لوں تو اُن کو جڑ سے ختم کر دوں گا، اور اس طرح قتل عام کے ذریعے ان کا خاتمہ کر دوں گا، جیسے اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کا خاتمہ کر دیا تھا۔
بخاری اور مسلم کی ایک اور حدیث پاک میں ہے۔
لَئِنْ أَنَا أَدْرَکْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ.
(1) بخاری، الصحیح، 3: 1219، رقم: 3166
اگر میں اُن کا زمانہ پا لوں تو قوم عاد کی طرح ضرور بالضرور قتل کروں گا۔
افواجِ پاکستان کے جوانو! حضور نبی اکرم ﷺ کا فرمان سنو۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ اگر اس زمانے میں میں ہوا، جب یہ انسانوں کو قتل کرنے والے دہشت گرد نکلیں گے اور اگر میں نے اُن کا زمانہ پایا تو اُن کو قتل کر کے اس طرح ختم eliminate کر دوں گا، جیسے اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو قتل کرکے ختم کر دیا تھا۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے بڑی وضاحت کے ساتھ(clearly) تاکید کر کے فرمایا کہ دہشت گروں کو قتل کرنے والوں کے لیے اجر و ثواب کی خوش خبری ہے۔
روایات میں اِن فتنہ پرور خارجیوں کی متعدد معروف علامات اور واضح نشانیاں بیان فرمائی گئی ہیں جن کا تذکرہ ذیل میں کیا جاتا ہے:
1۔ أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ.
(1) 1۔ بخاری، الصحیح، کتاب استتابۃ المرتدین والمعاندین وقتالھم، باب قتل الخوارج والملحدین بعد إقامۃ الحجۃ علیھم، 6: 2539، رقم: 6531
2۔ مسلم، الصحیح، کتاب الزکاۃ، باب التحریض علی قتل الخوارج، 2: 746، رقم: 1066
وہ کم سِن لڑکے ہوں گے۔
2۔ سُفَھَاءُ الْأَحْلَامِ.
(2) 1۔ بخاری، الصحیح، کتاب استتابۃ المرتدین والمعاندین وقتالھم، باب قتل الخوارج والملحدین بعد إقامۃ الحجۃ علیھم، 6: 2539، رقم: 6531
2۔ مسلم، الصحیح، کتاب الزکاۃ، باب التحریض علی قتل الخوارج، 2: 746، رقم: 1066
دماغی طور پر ناپختہ (brain washed) ہوں گے۔
3۔ کَثُّ اللِّحْیَۃِ.
(3) 1۔ بخاري، الصحیح، کتاب المغازي، باب بعث علی بن أبي طالب وخالد بن الولید إلی الیمن قبل حجۃ الوداع، 4: 1581، رقم: 4094
2۔ مسلم، الصحیح، کتاب الزکاۃ، باب ذکر الخوارج وصفاتھم، 2: 742، رقم: 1064
(دین کے ظاہر پر عمل میں غلو سے کام لیں گے اور) گھنی ڈاڑھی رکھیں گے۔
4۔ مُشَمَّرُ الْإِزَارِ.
(4) 1۔ بخاری، الصحیح، کتاب المغازی، باب بعث علی ابن أبی طالب و خالد بن الولید، إلی الیمن قبل حجۃ الوداع، 4: 1581، رقم: 4094
2۔ مسلم، الصحیح، کتاب الزکاۃ، باب ذکر الخوارج وصفاتھم، 2: 742، رقم: 1064
بہت اونچا تہ بند باندھنے والے ہوں گے۔
5۔ یَخْرُجُ نَاسٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ.
(1) بخاری، الصحیح، کتاب التوحید، باب قراء ۃ الفاجر والمنافق وأصواتھم وتلاوتھم لا تجاوز حناجرھم، 6: 2748، رقم: 7123
یہ خارجی لوگ (حرمین شریفین سے) مشرق کی جانب سے نکلیں گے۔
6۔ لَا یَزَالُوْنَ یَخْرُجُوْنَ حَتّٰی یَخْرُجَ آخِرُهُمْ مَعَ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ.
(2) نسائي، السنن، کتاب تحریم الدم، باب من شھر سیفہ ثم وضعہ في الناس، 7: 119، رقم: 4103
یہ ہمیشہ نکلتے رہیں گے یہاں تک کہ ان کا آخری گروہ دجال کے ساتھ نکلے گا۔
یعنی یہ خوارج دجّال کی آمد تک تاریخ کے ہر دور میں وقتاً فوقتاً ظہور پذیر ہوتے رہیں گے۔
7۔ لَا یُجَاوِزُ إِیْمَانُھُمْ حَنَاجِرَھُمْ.
(3) 1۔ بخاری، الصحیح، کتاب استتابۃ المرتدین والمعاندین وقتالھم، باب قتل الخوارج والملحدین بعد إقامۃ الحجۃ علیھم، 6: 2539، رقم: 6531
2۔ مسلم، الصحیح، کتاب الزکاۃ، باب التحریض علی قتل الخوارج، 2: 746، رقم: 1066
ایمان ان کے حلق سے نیچے نہیں اُترے گا۔
یعنی ان کا ایمان دکھلاوا اور نعرہ ہوگا، مگر اس کے اوصاف ان کے فکر و نظریہ اور کردار میں دکھائی نہیں دیں گے۔
8۔ یَتَعَمَّقُوْنَ وَیَتَشَدَّدُوْنَ فِی الْعِبَادَۃِ.
(1) 1۔ أبو یعلی، المسند، 1: 90، رقم: 90
2۔ عبد الرزاق، المصنف، 10: 155، رقم: 18673
وہ عبادت اور دین میں بہت متشدد اور انتہاء پسند ہوں گے۔
9۔ یَحْقِرُ أَحَدُکُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِھِمْ، وَصِیَامَهُ مَعَ صِیَامِھِمْ.
(2) 1۔ بخاری، الصحیح، کتاب استتابۃ المرتدین والمعاندین وقتالھم، باب من ترک قتال الخوارج للتألف وأن لا ینفر الناس عنہ، 6: 2540، رقم: 6534
2۔ مسلم، الصحیح، کتاب الزکاۃ، باب ذکر الخوارج وصفاتھم، 2: 744، رقم: 1064
تم میں سے ہر ایک ان کی نمازوں کے مقابلے میں اپنی نمازوں کو حقیر جانے گا اور ان کے روزوں کے مقابلہ میں اپنے روزوں کو حقیر جانے گا۔
10۔ لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُھُمْ تَرَاقِیَھُمْ.
(3) مسلم، الصحیح، کتاب الزکاۃ، باب التحریض علی قتل الخوارج، 2: 748، رقم: 1066
نماز ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی۔
یعنی نماز کا کوئی اثر ان کے اخلاق و کردار پر نہیں ہوگا۔
11۔ یَقْرَئُوْنَ الْقُرْآنَ لَیْسَ قِرائَتُکُمْ إِلَی قِرَاءَتِھِمْ بِشَيئٍ.
(4) مسلم، الصحیح، کتاب الزکاۃ، باب التحریض علی قتل الخوارج، 2: 748، رقم: 1066
وہ قرآن مجید کی ایسے تلاوت کریں گے کہ ان کی تلاوتِ قرآن کے سامنے تمہیں اپنی تلاوت کی کوئی حیثیت دکھائی نہ دے گی۔
12۔ یَقْرَئُوْنَ الْقُرْآنَ لَا یُجَاوِزُ حُلُوْقَھُمْ.
(1) 1۔ بخاری الصحیح، کتاب استتابۃ المرتدین والمعاندین وقتالھم، باب قتل الخوارج والملحدین بعد إقامۃ الحجۃ علیھم، 6: 2540، رقم: 6532
2۔ مسلم، الصحیح، کتاب الزکاۃ، باب ذکر الخوارج وقتالھم، 2: 743، رقم: 1064
ان کی تلاوت ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی۔
یعنی اس کا کوئی اثر ان کے دل پر نہیں ہوگا۔
13۔ یَقْرَئُوْنَ الْقُرْآنَ یَحْسِبُوْنَ أَنَّهُ لَھُمْ، وَھُوَ عَلَیْھِمْ.
(2) مسلم، الصحیح، کتاب الزکاۃ، باب التحریض علی قتل الخوارج، 2: 748، رقم: 1066
وہ یہ سمجھ کر قرآن پڑھیں گے کہ اس کے احکام ان کے حق میں ہیں لیکن درحقیقت وہ قرآن ان کے خلاف حجت ہوگا۔
14۔ یَدْعُونَ إِلَی کِتَابِ اللهِ وَلَیْسُوا مِنْهُ فِي شَيْئٍ.
(3) أبو داود، السن، کتاب السنۃ، باب في قتل الخوارج، 4: 243، رقم: 4765
وہ (بذریعہ طاقت) لوگوں کو کتاب اللہ کی طرف بلائیں گے لیکن قرآن کے ساتھ ان کا تعلق کوئی نہیں ہوگا۔
15۔ یَقُوْلُوْنَ مِنْ خَیْرِ قَوْلِ الْبَرِیَّۃِ.
(1) 1۔ بخاری، الصحیح، کتاب استتابۃ المرتدین والمعاندین وقتالھم، باب قتل الخوارج والملحدین بعد إقامۃ الحجۃ علیھم، 6: 2539، رقم: 6531
2۔ مسلم، الصحیح، کتاب الزکاۃ، باب التحریض علی قتل الخوارج، 2: 746، رقم: 1066
وہ (بظاہر) بڑی اچھی باتیں کریں گے۔
یعنی دینی نعرے (slogans) بلند کریں گے اور اسلامی مطالبے کریں گے۔
(2) جیسے خلیفہ راشد حضرت علی ص کے دور میں خوارج نے لاَ حُکْمَ إِلاَّ لِلّٰهِ کا پُر کشش نعرہ لگایا تھا۔
16۔ یَقُوْلُوْنَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ قَوْلًا.
(3) طبراني، المعجم الأوسط، 6: 186، رقم: 6142
ان کے نعرے (slogans) اور ظاہری باتیں دوسرے لوگوں سے اچھی ہوں گی اور متاثر کرنے والی ہوں گی۔
17۔ یُسِیْئُوْنَ الْفِعْلَ.
(4) أبو داود، السنن، کتاب السنۃ، باب في قتال الخوارج، 4: 243، رقم: 4765
مگر وہ کردار کے لحاظ سے بڑے ظالم، خونخوار اور گھناؤنے لوگ ہوں گے۔
18۔ هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِیْقَۃِ.
(5) مسلم، الصحیح، کتاب الزکاۃ، باب الخوارج شر الخلق والخلیقۃ، 2: 750، رقم: 1067
وہ تمام مخلوق سے بدترین لوگ ہوں گے۔
19۔ یَطْعَنُوْنَ عَلٰی أُمَرَائِهِمْ وَیَشْهَدُوْنَ عَلَیْهِمْ بِالضَّلَالَۃِ.
(1) 1۔ ابن أبي عاصم، السنۃ، 2: 455، رقم: 934
2۔ ھیثمي، مجمع الزوائد، 6: 228، وقال: رجالہ رجال الصحیح
وہ حکومتِ وقت یا حکمرانوں کے خلاف خوب طعنہ زنی کریں گے اور ان پر گمراہی و ضلالت کا فتویٰ لگائیں گے۔
20۔ یَخْرُجُوْنَ عَلٰی حِیْنِ فُرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ.
(2) 1۔ بخاری، الصحیح، کتاب المناقب، باب علامات النبوۃ في الإسلام، 3: 1321، رقم: 3414
2۔ مسلم، الصحیح، کتاب الزکاۃ، باب ذکر الخوارج وصفاتھم، 2: 744، رقم: 1064
وہ اس وقت منظرِ عام پر آئیں گے جب لوگوں میں تفرقہ اور اختلاف پیدا ہو جائے گا۔
21۔ یَقْتُلُوْنَ أَھْلَ الإِسْلَامِ وَیَدْعُوْنَ أَھْلَ الْأَوْثَانِ.
(3) 1۔ بخاری، الصحیح، کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالی: تعرج الملائکۃ والروح إلیہ، 6: 2702، رقم: 6995
2۔ مسلم، الصحیح، کتاب الزکاۃ، باب ذکر الخوارج وصفاتھم، 2: 741، رقم: 1064
وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے۔
22۔ یَسْفِکُوْنَ الدَّمَ الْحَرَامَ.
(4) مسلم، الصحیح، کتاب الزکاۃ، باب التحریض علی قتل الخوارج، 2: 748، رقم: 1066
’ہ ناحق خون بہائیں گے۔
یعنی مسلم اور غیر مسلم افراد کا قتل جائز سمجھیں گے۔
23۔ یَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ وَیَسْفِکُوْنَ الدِّمَاءَ بِغَیْرِ حَقٍّ مِنَ اللهِ وَیَسْتَحِلُّوْنَ أَھْلَ الذِّمَّۃِ. (من کلام عائشۃ رضی اللہ عنھا)
(1) حاکم، المستدرک، 2: 166، رقم: 2657
وہ راہزن ہوں گے، ناحق خون بہائیں گے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم نہیں دیا اور غیر مسلم اقلیتوں کے قتل کو حلال سمجھیں گے (یہ حضرت عائشہ صدیقہؓ کا فرمان ہے)۔
24۔ یُؤْمِنُونَ بِمُحْکَمِهِ وَیَھْلِکُونَ عِنْد مُتَشَابِھہ. (قول ابن عباس رضي الله عنه).
(2) 1۔ طبری، جامع البیان فی تفسیر القرآن، 3: 181
2۔ عسقلاني، فتح الباری، 12: 300
وہ قرآن کی محکم آیات پر ایمان لائیں گے جبکہ اس کی متشابہات کے سبب سے ہلاک ہوں گے۔ (قولِ ابنِ عباس رضی اللہ عنہ)
25۔ یَقُوْلُوْنَ الْحَقَّ بِأَلْسِنَتِهِمْ لَا یُجَاوِزُ حُلُوْقَھُمْ. (قول علي رضي الله عنه)
(3) مسلم، الصحیح، کتاب الزکاۃ، باب التحریض علی قتل الخوارج، 2: 749، رقم: 1066
وہ زبانی کلامی حق بات کہیں گے، مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی۔ (قولِ علی رضي الله عنه)
26۔ ینْطَلِقُوْنَ إِلٰی آیَاتٍ نَزَلَتْ فِي الْکُفَّارِ فَیَجْعَلُوْھَا عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ. (من قول ابن عمر رضي الله عنه)
(1) بخاری، الصحیح، کتاب، استتابۃ المرتدین والمعاندین وقتالھم، باب قتل الخوارج والملحدین بعد إقامۃ الحجۃ علیہم، 6: 2539
وہ کفار کے حق میں نازل ہونے والی آیات کا اطلاق مسلمانوں پر کریں گے۔ اس طرح وہ دوسرے مسلمانوں کو گمراہ، کافر اور مشرک قرار دیں گے تاکہ ان کا ناجائز قتل کر سکیں۔ (قولِ ابنِ عمر رضی اللہ عنہ سے مستفاد)
27۔ یَمْرُقُوْنَ مِنَ الدِّیْنِ کَمَا یَمْرُقُ السَّھْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ.
(2) 1۔ بخاری، الصحیح، کتاب استتابۃ المرتدین والمعاندین وقتالھم، باب قتل الخوارج والملحدین بعد إقامۃ الحجۃ علیھم، 6: 2539، رقم: 6531
2۔ مسلم، الصحیح، کتاب الزکاۃ، باب التحریض علی قتل الخوارج، 2: 746، رقم: 1066
وہ دین سے یوں خارج ہو چکے ہوں گے جیسے تیر شکار سے خارج ہو جاتا ہے۔
28۔ اَلْأَجْرُ الْعَظِیْمُ لِمَنْ قَتَلَهُمْ.
(3) مسلم، الصحیح، کتاب الزکاۃ، باب التحریض علی قتل الخوارج، 2: 748، رقم: 1066
ان کے قتل کرنے والے کو اجرِ عظیم ملے گا۔
29۔ خَیْرُ قَتْلَی مَنْ قَتَلُوْهُ.
(4) ترمذی، السنن، کتاب تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ آل عمران، 5: 226، رقم: 3000
وہ شخص بہترین مقتول (شہید) ہوگا جسے وہ قتل کر دیں گے۔
30۔ شَرُّ قَتْلَی تَحْتَ أَدِیْمِ السَّمَاءِ.
(1) ترمذی، السنن، کتاب تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ آل عمران، 5: 226، رقم: 3000
وہ آسمان کے نیچے بدترین مقتول ہوں گے۔
یعنی جو دہشت گرد خوارج فوجی سپاہیوں کے ہاتھوں مارے جائیں گے تو وہ بدترین مقتول ہوں گے اور انہیں مارنے والے جوان بہترین غازی ہوں گے۔
31۔ إِنَّهُمْ کِلَابُ النَّارِ.
(2) ترمذی، السنن، کتاب تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ آل عمران، 5: 226، رقم: 3000
یہ (دہشت گرد خوارج) جہنم کے کتے ہوں گے۔
32۔ گناہِ کبیرہ کے مرتکب کو دائمی جہنمی اور اس کا خون اور مال حلال قرار دیں گے۔
33۔ ظالم اور فاسق حکومت کے خلاف مسلح بغاوت اور خروج کو فرض قرار دیں گے۔
(3) 1۔ عبد القاھر البغدادي، الفرق بین الفرق: 73
2۔ ابن تیمیہ، مجموع الفتاویٰ، 13: 31
34۔ خوارج کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ کسی مخصوص علاقے کو گھیر کر اپنی دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے مرکز بنا لیں گے، جیسے کہ انہوں نے خلافت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ میں حروراء کو اپنا مرکز بنا لیا تھا یعنی وہ اپنے لیے محفوظ پناہ گاہیں بنائیں گے۔
35۔ خوارج کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ وہ اہلِ حق کے ساتھ مذاکرات کو ناپسند کریں گے، جس طرح انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تحکیم کو مسترد کر دیا تھا۔
احادیث و آثار سے ماخوذ اِن علامات سے ثابت ہوتا ہے کہ جو مسلح گروہ یا فرقہ جمہور اُمتِ مسلمہ کو گمراہ، بدعتی اور کافر و مشرک کہے، عامۃ الناس - مسلم اور غیر مسلم - کے خون و مال کو حلال سمجھے، حق بات کا انکار کرے، مصالحانہ اور پُر امن ماحول کو تباہ و برباد کرے، وہ خارجی ہے۔ خواہ اس کا ظہور کسی بھی زمانے اور کسی بھی ملک میں ہو۔
Copyrights © 2026 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved