گزشتہ صفحات میں جس طرح ہم نے قرآنی آیات اور احادیث نبوی سے ماخوذ خوارج کے عقائد و نظریات، علامات اور بدعات کا تذکرہ کیا ہے، اسی طرح ذیل میں اُن احادیث نبوی کا تذکرہ کیا جارہا ہے جن میں حضور نبی اکرم ﷺ نے اس فتنے کی سرکوبی کا واضح حکم فرمایا ہے۔
احادیثِ مبارکہ میں وارِد حکم - فَإِذَا لَقِیْتُمُوْهُمْ فَاقْتُلُوْهُمْ اور فَإِذَا رَأَیْتُمُوْهُمْ فَاقْتُلُوْهُمْ - کے تحت اُن کا خاتمہ واجب ہے۔ علاوہ ازیں دیگر بے شمار احادیث ایسی بھی ہیں کہ جن میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر میں انہیں پا لوں تو انہیں ضرور قتل کر دوں گا۔ اس باب میں چند احادیث مبارکہ درج ذیل ہیں:
1۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
سَیَخْرُجُ قَومٌ فِي آخِرِ الزَّمَانِ أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ سُفَھَاءُ الْأَحْلَامِ یَقُوْلُوْنَ مِنْ خَیْرِ قَوْلِ الْبَرِیَّۃِ، لاَ یُجَاوِزُ إِیْمَانُھُمْ حَنَاجِرَھُمْ، یَمْرُقُوْنَ مِنَ الدِّیْنِ کَمَا یَمْرُقُ السَّھْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ، فَأَیْنَمَا لَقِیْتُمُوْھُمْ فَاقْتُلُوْھُمْ، فَإِنَّ فِي قَتْلِھِمْ أَجْرًا لِمَنْ قَتَلَھُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ.
(1) 1۔ بخاری، الصحیح، کتاب استتابۃ المرتدین والمعاندین وقتالھم، باب قتل الخوارج والملحدین بعد إقامۃ الحجۃ علیھم، 6: 2539، رقم: 6531
2۔ مسلم، الصحیح، کتاب الزکاۃ، باب التحریض علی قتل الخوارج، 2: 746، رقم: 1066
3۔ أحمد بن حنبل، المسند، 1: 81، 113، 131، رقم: 616، 912، 1086
4۔ نسائي، السنن، کتاب تحریم الدم، باب من شھر سیفہ ثم وضعہ في الناس، 7: 119، رقم: 4102
5۔ ابن ماجہ، السنن، المقدمۃ، باب في ذکر الخوارج، 1: 59، رقم: 168
عنقریب آخری زمانے میں ایسے لوگ ظاہر ہوں گے، وہ نوعمر اور ناپختہ سمجھ لڑکے ہوں گے، وہ اسلامی تعلیمات پیش کریں گے لیکن ایمان ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ دین سے یوں خارج ہوں گے جیسے تیر شکار سے خارج ہو جاتا ہے۔ پس تم (دورانِ جنگ) جہاں بھی انہیں پائو قتل کر دو کیونکہ ان کو قتل کرنے والوں کو قیامت کے دن بڑا اجر ملے گا۔امام ترمذی ’’السنن (کتاب الفتن، باب فی صفۃ المارقۃ، 4: 481، رقم: 2188)‘‘ میں اس حدیث کو حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے کے بعد فرماتے ہیں: یہ روایت حضرت علی، حضرت ابو سعید اور حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہے اور یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
امام ترمذی کے قائم کردہ ترجمۃ الباب سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ خوارج جیسے عقائد و نظریات رکھنے والے لوگوں اور گروہوں کا شمار بھی خوارج میں ہوگا اور ان پر بھی خوارج کا ہی حکم صادر ہوگا۔
2۔ صحیح بخاری میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
إِنَّهُ یَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِیئِ ھَذَا قَوْمٌ … قَالَ: لَئِنْ أَدْرَکْتُھُمْ لَأَقْتُلَنَّھُمْ قَتْلَ ثَمُوْدَ.
(1) 1۔ بخاری، الصحیح، کتاب المغازي، باب بعث علی بن أبي طالب وخالد بن الولید رضي الله عنهما إلی الیمن قبل حجۃ الوداع، 4: 1581، رقم: 4094
2۔ مسلم، الصحیح، کتاب الزکاۃ، باب ذکر الخوارج وصفاتھم، 2: 742، 743، رقم: 1064
3۔ أحمد بن حنبل، المسند، 3: 4، رقم: 11021
4۔ ابن خزیمۃ، الصحیح، 4: 71، رقم: 2373
5۔ ابن حبان، الصحیح، 1: 205، رقم: 25
6۔ أبو یعلی، المسند، 2: 390، رقم: 1163
اس کی نسل سے ایسے لوگ یعنی خوارج پیدا ہوں گے۔۔۔ آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر میں ان لوگوں کو پائوں تو ضرور بالضرور اُنہیں قومِ ثمود کی طرح قتل کر دوں گا۔
3۔ صحیح بخاری میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمًا یَقْرَءُوْنَ الْقُرْآنَ لَا یُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ یَمْرُقُوْنَ مِنَ الإِسْلاَمِ مُرُوْقَ السَّھْمِ مِنَ الرَّمِیَّۃِ، یَقْتُلُوْنَ أَھْلَ الإِسْلَامِ وَیَدَعُوْنَ أَھْلَ الأَوْثَانِ، لَئِنْ أَدْرَکْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ.
(2) 1۔ بخاری، الصحیح، کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالی: تعرج الملائکۃ والروح إلیہ، 6: 2702، رقم: 6995
2۔ بخاری، الصحیح، کتاب الأنبیاء، باب قول اللہ: وأما عاد فأھلکوا بریح صرصر شدیدۃ عاتیۃ، 3: 1219، رقم: 3166
3۔ مسلم، الصحیح، کتاب الزکاۃ، باب ذکر الخوارج وصفاتھم، 2: 741، رقم: 1064
4۔ أبو داود، السنن، کتاب السنۃ، باب في قتال الخوارج، 4: 243، رقم: 4764
5۔ نسائي، السنن، کتاب تحریم الدم، باب من شہر سیفہ ثم وضعہ في الناس، 7: 118، رقم: 4101
6۔ نسائی، السنن، کتاب الزکاۃ، باب المؤلفۃ قلوبھم، 5: 87، رقم: 2578
اس شخص کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے کہ وہ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، وہ بت پرستوں کو چھوڑ کر مسلمانوں کو قتل کریں گے۔ اگر میں انہیں پاؤں تو قوم عاد کی طرح ضرور بالضرور قتل کر دوں گا۔
حافظ ابنِ حجر عسقلانی اِس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
قولہ ﷺ: ’’یَقْتُلُوْنَ أَھْلَ الإِسْلَامِ‘‘ إلخ. وھو مما أخبر بہ ﷺ من المغیبات، فوقع کما قال.
(1) عسقلاني، فتح الباري، 8: 69
آپ ﷺ کا فرمان ہے: ’’وہ اہلِ اسلام کو قتل کریں گے۔‘‘ (خوارج کے متعلق) یہ پیشین گوئی رسول اللہ ﷺ کے اخبارِ غیب میں سے ہے، لہٰذا اُسی طرح ہوا جس طرح آپ ﷺ نے فرمایا تھا۔
علامہ شبیر احمد عثمانی نے فتح الملہم میں یہی شرح لکھنے کے بعد یہ جملے بھی درج کیے ہیں:
وقال الأُبيّ: ومن عجیب أمرھم ما یأتي أنھم حین خرجوا من الکوفۃ منابذین لعلي رضي الله عنه: لقوا في طریقہم مسلماً وکافراً، فقتلوا المسلم.
(1) شبیر أحمد عثماني، فتح الملھم، 5: 151
أُبَی (بن کعب) نے کہا ہے: خوارج کا عجیب معاملہ سامنے آتا ہے جس وقت وہ کوفہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مخالفت میں نکلے تو راستے میں ان کی ملاقات ایک مسلمان اور ایک کافر سے ہوئی۔ انہوں نے کافر کو چھوڑ دیا مگر مسلمان کو مار ڈالا۔
4۔ امام احمد بن حنبل، ابوداود اور ابن ماجہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
سَیَکُوْنُ فِي أُمَّتِي اخْتِلَافٌ وَفُرْقَۃٌ قَوْمٌ یُحْسِنُوْنَ الْقِیْلَ وَیُسِیْئُوْنَ الْفِعْلَ… ھُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِیْقَۃِ، طُوْبَی لِمَنْ قَتَلَهُمْ وَقَتَلُوْهُ، یَدْعُوْنَ إِلٰی کِتَابِ اللهِ وَلَیْسُوْا مِنْهُ فِي شَيئٍ، مَنْ قَاتَلَهُمْ کَانَ أَوْلٰی بِاللهِ مِنْھُمْ، قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللهِ، مَا سِیْمَاھُمْ؟ قَالَ: التَّحْلِیْقُ.
(2) 1۔ أحمد بن حنبل، المسند، 3: 224، رقم: 13362
2۔ أبو داود، السنن، کتاب السنۃ، باب في قتال الخوارج، 4: 243، رقم: 4765
3۔ ابن ماجہ، السنن، المقدمۃ، باب في ذکر الخوارج، 1: 60، رقم: 169
4۔ حاکم، المستدرک، 2: 161، رقم: 2649
5۔ بیہقي، السنن الکبری، 8: 171
6۔ مقدسي نے ’’الأحادیث المختارۃ (7:15، رقم: 2391، 2392)‘‘" " میں اس کی اسناد کو صحیح قرار دیا ہے۔
7۔ أبو یعلی، المسند، 5: 426، رقم: 3117
عنقریب میری اُمت میں اختلاف اور تفرقہ رونما ہوگا عین اس وقت ایسے لوگ ظاہر ہوں گے جو اپنے قول اور نعرے میں اچھے ہوں گے مگر اپنے طرزِ عمل اور روش میں نہایت برے ہوں گے۔۔۔ وہ ساری مخلوق میں بدترین لوگ ہوں گے، خوش خبری ہو اُسے جو انہیں قتل کرے گا اور اُسے بھی جسے وہ خوارج شہید کریں گے۔ وہ اللہ عزوجل کی کتاب کی طرف بلائیں گے لیکن اس کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں ہوگا؛ ان کا قاتل ان کی نسبت اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب ہوگا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ان کی نشانی کیا ہے؟ فرمایا: سر منڈانا۔
5۔ امام احمد بن حنبل نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے ایک اور حدیث بیان کی ہے جس کے رجال بھی ثقہ ہیں۔ روایت کے الفاظ یہ ہیں:
أَنَّ أَبَا بَکْرٍ رضي الله عنه جَاءَ إِلٰی رَسُوْلِ اللهِ ﷺ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللهِ، إِنِّي مَرَرْتُ بِوَادٍ کَذَا وَکَذَا، فَإِذَا رَجُلٌ مُتَخَشِّعٌ، حَسَنُ الْھَیْئَۃِ، یُصَلِّي فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ ﷺ: اِذْھَبْ إِلَیْهِ، فَاقْتُلْهُ، قَالَ: فَذَھَبَ إِلَیْهِ أَبُوْبَکْرٍ، فَلَمَّا رَآہٗ عَلٰی تِلْکَ الْحَالِ کَرِهَ أَنْ یَقْتُلَہٗ، فَرَجَعَ إِلٰی رَسُوْلِ اللهِ ﷺ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ لِعُمَرَ: اِذْھَبْ فَاقْتُلْهُ فَذَھَبَ عُمَرُ فَرَآہٗ عَلٰی تِلْکَ الْحَالِ الَّتِي رَآہٗ أَبُوْ بَکْرٍ، قَالَ: فَکَرِهَ أَنْ یَقْتُلَہٗ، قَالَ: فَرَجَعَ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللهِ، إِنِّي رَأَیْتُہٗ یُصَلِّي مُتَخَشِّعًا فَکَرِھْتُ أَنْ أَقْتُلَہٗ، قَالَ: یَا عَلِيُّ، اِذْھَبْ فَاقْتُلْهُ، قَالَ: فَذَھَبَ عَلِيٌّ، فَلَمْ یَرَہٗ فَرَجَعَ عَلِيٌّ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللهِ، إِنَّہٗ لَمْ یَرَہْ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: إِنَّ ھٰذَا وَأَصْحَابَہٗ یَقْرَئُوْنَ الْقُرْآنَ لَا یُجَاوِزُ تَرَاقِیَھُمْ، یَمْرُقُوْنَ مِنَ الدِّیْنِ کَمَا یَمْرُقُ السَّھْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ ثُمَّ لَا یَعُوْدُوْنَ فِیْهِ حَتّٰی یَعُوْدَ السَّّھْمُ فِي فُوْقِهٖ فَاقْتُلُوْھُمْ ھُمْ شَرُّ الْبَرِیَّۃِ.
(1) 1۔ أحمد بن حنبل، المسند، 3: 15، رقم: 11133
2۔ ھیثمي، مجمع الزوائد، 6: 225
3۔ عسقلاني، فتح الباري، 12: 229
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! میں فلاں فلاں وادی سے گزرا تو میں نے ایک نہایت متواضع ظاہراً خوبصورت دکھائی دینے والے شخص کو نماز پڑھتے دیکھا۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: اس کے پاس جا کر اُسے قتل کر دو۔ راوی بیان کرتے ہیں: حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اس کی طرف گئے، اُنہوں نے جب اُسے نہایت خشوع سے نماز پڑھتے دیکھا تو اسے قتل کرنا مناسب نہ سمجھا اور حضور نبی اکرمﷺکی خدمت میں (اسے بغیر قتل کئے) واپس لوٹ آئے۔ راوی نے کہا: پھر حضور نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: جائو اسے قتل کر دو، حضرت عمر رضی اللہ عنہ گئے اور انہوں نے بھی اسے اسی حالت میں دیکھا جیسے کہ حضرت ابوبکر نے دیکھا تھا۔ انہوں نے بھی اس کے قتل کو ناپسند کیا۔ راوی نے بیان کیا کہ وہ بھی لوٹ آئے اور عرض کیا: یارسول اللہ! میں نے اسے نہایت خشوع و خضوع سے نماز پڑھتے دیکھا تو (اس حالت میں) اسے قتل کرنا پسند نہ کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے علی! جائو اسے قتل کر دو۔ راوی نے بیان کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لے گئے، تو انہیں وہ نظر نہ آیا (کیونکہ اس دوران میں وہ شخص فارغ ہو کر جا چکا تھا)۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ واپس لوٹ آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کہیں دکھائی نہیں دیا۔ راوی نے بیان کیا کہ حضور نبی اکرم ﷺنے فرمایا: یقینا یہ اور اس کے ساتھی قرآن پڑھیں گے لیکن وہ اُن کے حلق سے نیچے نہیں اُترے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے پھر وہ اس میں پلٹ کر نہیں آئیں گے یہاں تک کہ تیر پلٹ کر کمان میں نہ آجائے (یعنی ان کا پلٹ کر دین کی طرف لوٹنا ناممکن ہے)۔ سو تم اُنہیں (جب بھی پائو تو ریاستی سطح پر اُن کے خلاف کارروائی کر کے اُنہیں) قتل کر دو۔ وہ بدترین مخلوق ہیں۔
6۔ امام ابن عبد البر روایت کرتے ہیں کہ عدی نے حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا کہ خوارج ہمارے سامنے آپ کو گالیاں دیتے ہیں۔ حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ نے اُنہیں جواب دیا:
إن سبوني فسبوھم أو اعفوا عنھم، وإن شھروا السلاح فأشھروا علیھم، وإن ضربوا فاضربوا.
(1) ابن عبد البر، التمھید، 23: 338-339
اگر وہ مجھے گالیاں دیں تو تم بھی انہیں اسی طرح جواب دو یا ان سے درگزر کرو، اگر وہ مسلح جد و جہد کریں تو تم بھی ان کے خلاف مسلح جد و جہد کرو اور اگر وہ قتل و غارت گری کریں تو تم بھی (ان کے خلاف قانونی کارروائی کرکے) انہیں قتل کر دو۔
مذکورہ بالا احادیثِ مبارکہ سے بالکل صراحت کے ساتھ یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ خوارج سے جہاں بھی مقابلہ ہو انہیں کلیتاً قتل کر دیا جائے۔ اس کی وضاحت ائمہ و محدثین کے اقوال سے بھی ہوتی ہے جس میں انہوں نے یہی اُصول و ضوابط تصریحاً بیان کئے ہیں۔
1۔ قاضی عیاض صحیح مسلم کی شرح ’إکمال المعلم بفوائد مسلم (3: 613-614)‘ میں لکھتے ہیں:
أجمع العلماء علی أن الخوارج وأشباھھم من أھل البدع والبغي متی خرجوا وخالفوا رأي الجماعۃ، وشقوا عصا المسلمین، ونصبوا رایۃ الخلاف، أن قتالھم واجب بعد إنذارھم والإعذار إلیھم، قال اللہ تعالی: {فَقَاتِلُوا الَّتِی تَبْغِیْ حَتّٰی تَفِیْٓئَ اِلٰٓی اَمْرِ اللهِ}.
(الحجرات، 49: 9)
وھذا إذا کان بغیھم لأجل بدعۃ یکفرون بھا، وإن کان بغیھم لغیر ذلک لعصبیۃ، أو طلب رئاسۃ دون بدعۃ، فلا یحکم في ھؤلاء حکم الکفار بوجہ، وحکمھم أھل البغي مجردًا علی القول المتقدم.
علماء کا اس پر اجماع ہے کہ جب خوارج اور دیگر بدعتی و باغی گروہ (حکومتِ وقت کے خلاف) خروج کریں، جماعت کی مخالفت کریں، مسلمانوں کی جمعیت کو پارہ پارہ کریں اور اختلاف کا علم بلند کریں تو انہیں ڈرانے اور نصیحت کے طریقے استعمال کرنے کے بعد (مسلمانوں پر) ان کے ساتھ جنگ واجب ہو جاتی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اس (گروہ) سے لڑو جو بغاوت کا مرتکب ہو رہا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے}۔
اگر ان کی یہ دہشت گردی بدعت یعنی انتہاء پسندانہ خودساختہ عقائد و نظریات کے سبب ہوئی تو اس کے سبب انہیں کافر قرار دیا جائے گا اور اگر ان کی بغاوت بدعت کے علاوہ محض عصبیت یا طلبِ حکومت کی وجہ سے ہوئی تو پھر ان پر حکمِ کفار صادر نہیں ہوگا۔ صرف پہلی صورت میں ان پر باغی اور دہشت گرد ہونے کا حکم لگایا جائے گا۔
صاف ظاہر ہے کہ دورِ حاضر کے دہشت گردوں کے انتہاء پسندانہ نظریات اور اپنے سوا سب کو کافر و ملحد اور واجب القتل سمجھنے اور ان کی جانیں تلف کرنے کی روِش صریحاً بدعتِ مکفّرہ ہے اس لئے ان کا حکم باغیوں کا ہے۔
2۔ امام نووی ’شرح صحیح مسلم (7: 170)‘ میں لکھتے ہیں:
قولہ ﷺ: ’’فَإِذَا لَقِیْتُمُوْھُمْ فَاقْتُلُوْھُمْ فَإِنَّ فِي قَتْلِھِمْ أَجْرًا‘‘ ھذا تصریح بوجوب قتال الخوارج والبغاۃ وھو إجماع العلمائ، قال القاضي: أجمع العلماء علی أن الخوارج وأشباھھم من أھل البدع والبغي متی خرجوا علی الإمام، وخالفوا رأي الجماعۃ وشقوا العصا، وجب قتالھم بعد إنذارھم والاعتذار إلیھم۔
وھذا کلہ ما لم یکفروا ببدعتھم، فإن کانت بدعۃ مما یکفرون بہ جرت علیھم أحکام المرتدین، وأما البغاۃ الذین لا یکفرون فیرثون ویورثون ودمھم في حال القتال ھدر، وکذا أموالھم التي تتلف في القتال، والأصحّ أنھم لا یضمنون أیضًا ما أتلفوہ علی أھل العدل في حال القتال من نفس ومال۔
آپ ﷺ کا فرمان ہے: ’پس جب تم انہیں پائو تو (ریاستی سطح پر ان کے خلاف کارروائی کرکے انہیں) قتل کر دو کیونکہ انہیں قتل کرنے پر اجر ہے۔‘ خوارج اور باغیوں کے قتال کے وجوب میں یہ فرمانِ رسول ﷺ تصریح ہے، اسی پر علماء کا اِجماع ہے۔ قاضی عیاض نے کہا ہے: علماء کا اس پر اجماع ہے کہ جب خوارج اور دیگر بدعتی و باغی گروہ حکومتِ وقت کے خلاف خروج کریں، جماعتِ مسلمین کی مخالفت کریں اور جمعیتِ مسلمہ کو پارہ پارہ کریں تو انہیں ڈرانے اور نصیحت کے طریقے استعمال کرنے کے بعد (مسلم حکومت پر) ان کے ساتھ جنگ واجب ہو جاتی ہے۔
یہ سب کچھ اس وقت تک ہوگا جب تک کہ وہ اپنی بدعت کی بناء پر کفر کا ارتکاب نہیں کریں گے، اگر ان کی بدعت کفر میں بدل گئی تو اُن پر مرتدین کے احکام لاگو ہوں گے۔ البتہ وہ دہشت گرد جو کافر نہیں ہوتے ان کی وراثت تقسیم ہو گی اور وہ بھی مالِ وراثت پائیں گے اور حالتِ جنگ میں ان کے جان و مال کو کوئی تحفظ حاصل نہیں ہوگا۔ مسلم حکومت کے ہاتھوں اُن کے جان و مال کا جو نقصان ہوگا وہ اُس کا تاوان بھی طلب نہیں کر سکتے۔
3۔ علامہ شبیر احمد عثمانی صحیح مسلم کی شرح ’فتح الملھم (5: 166، 167)‘ میں رقم طراز ہیں:
قولہ ﷺ: ’’فَإِنَّ فِي قَتْلِھِمْ أَجْرًا‘‘ إلخ: أي أجراً عظیماً. قال النووي: ھذا تصریح بوجوب قتال الخوارج والبغاۃ، وھو إجماع العلماء۔ قال القاضي: أجمع العلماء علی أن الخوارج وأشباھھم من أھل البدع والبغي متی خرجوا علی الإمام، وخالفوا رأي الجماعۃ، وشقوا العصا: وجب قتالھم بعد إنذارھم والاعتذار إلیھم.
آپ ﷺ کا فرمان ہے: ’’یقینا (ان کے ساتھ جنگ کر کے) انہیں قتل کرنے میں اجر ہے‘‘ یعنی بڑا اجر ہے۔ امام نوویؒ نے کہا ہے: خوارج اور باغیوں کے قتال کے وجوب میں یہ فرمانِ رسول ﷺ تصریح ہے اور اسی پر علماء کا اِجماع ہے۔ قاضی عیاضؒ نے کہا ہے: علماء کا اس پر اجماع ہے کہ جب خوارج اور دیگر بدعتی و باغی گروہ حکومتِ وقت کے خلاف خروج کریں، جماعتِ مسلمین کی مخالفت کریں اور جمعیت کو پارہ پارہ کریں تو انہیں ڈرانے اور نصیحت کے طریقے استعمال کرنے کے بعد (مسلمانوں پر) ان کے ساتھ جنگ کرنا واجب ہے۔
مذکورہ بالا احادیث و شروحات کی روشنی میں ثابت ہو جاتا ہے کہ خوارج کے خلاف ریاستی سطح پر کارروائی کر کے ان کا کُلی خاتمہ واجب ہے۔ جب بھی ان کا کوئی گروہ ظہور پذیر ہو اُسے مکمل طور پر نابود کرنا اور اُس کی جڑیں کاٹ دینا اَمن و سلامتی کا ضامن ہے۔ اُمتِ مسلمہ کی پوری تاریخ میں اہلِ حق کا یہی وطیرہ رہا ہے کہ جب بھی اس گروہ نے سر اُٹھایا اسے terminate کر دیا گیا۔
خوارج تلاوتِ قرآن، نماز اور روزہ کے سخت پابند تھے، ان کی گفتگو میں دنیا کی بے ثباتی، زہد و تقویٰ کی ترغیب و تحریص، امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا بہت زیادہ اہتمام اور امارت اور عہدہ قبول کرنے سے عذر و گریز ایسے اُمور ہیں کہ جن کا پایا جانا کسی بھی شخص کو ظاہراً دین دار بلکہ متقی اور مجاہد سمجھنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ جیسا کہ امام ابن ماجہ اور احمد بن حنبل حضرت ابو سلمہ سے روایت کرتے ہیں۔ حضرت ابو سلمہ نے بیان کیا ہے:
1۔ قُلْتُ لِأَبِي سَعِیْدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه : هَلْ سَمِعْتَ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ یَذْکُرُ فِي الْحَرُورِیَّۃِ شَیْئًا؟ فَقَالَ: سَمِعْتُہٗ یَذْکُرُ قَوْمًا یَتَعَبَّدُونَ (وفي روایۃ أحمد: یَتَعَمَّقُوْنَ فِي الدِّیْنِ) یَحْقِرُ أَحَدُکُمْ صَلَاتَہٗ مَعَ صَلَاتِهِمْ وَصَوْمَہٗ مَعَ صَومِهِمْ.
(1) 1۔ أحمد بن حنبل، المسند، 3: 33، رقم: 11309
2۔ ابن ماجہ، السنن، المقدمۃ، باب في ذکر الخوارج، 1: 60، رقم: 169
3۔ ابن أبي شیبۃ، المصنف، 7: 557، رقم: 37909
میں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ سے حروریہ (یعنی خوارج) کے متعلق کوئی حدیث سنی ہے؟ اُنہوں نے فرمایا: (ہاں) آپ ﷺ نے ایک گروہ کا ذکر فرمایا جو خوب عبادت کرے گا، (امام احمد کی ایک روایت میں ہے کہ وہ دین میں انتہائی پختہ نظر آئیں گے) (یہاں تک کہ) تم اپنی نمازوں اور روزوں کو ان کی نمازوں اور روزوں کے مقابلہ میں کمتر سمجھو گے۔
یہی سبب ہے کہ خود کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ان کے معاملے میں شبہ وارد ہوتا تھا۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما جیسے شخص کہتے ہیں کہ ایسے زاہد و عابد لوگ میں نے کبھی نہیں دیکھے۔ جیسا کہ امام حاکم اور نسائی کی بیان کردہ درج ذیل روایت میں بیان ہوا ہے:
2۔ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما: فَأَتَیْتُهُمْ، وَهُمْ مُجْتَمِعُوْنَ فِي دَارِهِمْ، قَائِلُوْنَ فَسَلَّمْتُ عَلَیْهِمْ فَقَالُوْا: مَرْحَبًا بِکَ، یَا ابْنَ عَبَّاسٍ،… قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما: وَأَتَیْتُ قَوْمًا، لَمْ أَرْ قَوْمًا قَطُّ أَشَدَّ اجْتِهَادًا، مِنْهُمْ مُسْهِمَۃٌ وُجُوْهُهُمْ مِنَ السَّهَرِ، کَأَنَّ أَیْدِیَهِمْ وَرُکَبَهُمْ تُثَنَّی عَلَیْهِمْ.
(1) 1۔ حاکم، المستدرک، 2: 164، رقم: 2656
2۔ نسائی، السنن الکبریٰ، 5: 165، رقم: 8575
3۔ عبد الرزاق، المصنف، 10: 158
4۔ طبرانی، المعجم الکبیر، 10: 257، رقم: 10598
5۔ بیھقی، السنن الکبری، 8: 179
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں (حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے) ان کے پاس ایک گھر میں گیا جہاں وہ سب جمع تھے۔ میں نے ان پر سلام کیا۔ انہوں نے اس کے جواب میں کہا: مرحبا! اے ابنِ عباس (یعنی صحابی رسول کو جواباً وعلیکم السلام بھی نہ کہا)۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے ان لوگوں سے زیادہ عبادت میں مجاہدہ کرنے والا کسی کو نہیں دیکھا تھا۔ ان کے چہرے زیادہ جاگنے کی وجہ سے سوکھ گئے تھے اور ہاتھ پاؤں ٹیڑھے معلوم ہوتے تھے۔
3۔ خوارج کی کثرتِ عبادت و ریاضت کا حال حضرت جندب رضی اللہ عنہ اس طرح بیان فرماتے ہیں:
لَمَّا فَارَقَتِ الْخَوَارِجُ عَلِیًّا، خَرَجَ فِي طَلَبِهِمْ، وَخَرَجْنَا مَعَہٗ، فَانْتَهَیْنَا إِلٰی عَسْکَرِ الْقَوْمِ، فَإِذَا لَهُمْ دَوِيٌّ کَدَوِيِّ النَّحْلِ مِنْ قِرَائَۃِ الْقُرْآنِ، وَفِیْهِمْ أَصْحَابُ الثَّفِنَاتِ، وَأَصْحَابُ الْبَرَانِسِ، فَلَمَّا رَأَیْتُهُمْ دَخَلَنِي مِنْ ذَالِکَ شَکٌّ، فَتَنَحَّیْتُ فَرَکَزْتُ رُمْحِي، وَنَزَلْتُ عَنْ فَرَسِي، وَوَضَعْتُ تُرْسِي، فَنَثَرْتُ عَلَیْهِ دِرْعِي، وَأَخَذْتُ بِمِقْوَدِ فَرَسِي، فَقُمْتُ أُصَلِّي إِلٰی رُمْحِي، وَأَنَا أَقُوْلُ فِي صَلَاتِي: اللّٰهُمَّ إِنْ کَانَ قِتَالُ هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ لَکَ طَاعَۃً فَائْذَنِ فِیْهِ، وَإِنْ کَانَ مَعْصِیَۃً فَأَرِنِی بَرَائَتَکِ.
(1) 1۔ طبراني، المعجم الأوسط، 4: 227، رقم: 4051
2۔ ھیثمي، مجمع الزوائد، 4: 227
3۔ عسقلاني، فتح الباري، 12: 296
4۔ شوکانی، نیل الأوطار، 7: 349
جب خوارج علیحدہ ہو گئے، حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کے تعاقب میں نکلے تو ہم بھی ساتھ تھے۔ جب ہم خوارج کے لشکر کے قریب پہنچے تو قرآن مجیدپڑھنے کا ایک شور سنائی دیا۔ ان خوارج کی یہ حالت تھی کہ تہبند بندھے ہوئے، ٹوپیاں اوڑھے ہوئے کمال درجہ کے زاہد و عابد نظر آتے تھے۔ ان کا یہ حال دیکھ کر ان سے قتال مجھ پر نہایت شاق ہوا۔ میں نے ایک طرف نیزہ گاڑ کر ٹوپی اور زرہ اس پر لگا دی اور گھوڑے سے اُتر کر نیزہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا شروع کی اور اس میں یہ دعا کی: ’الٰہی! اگر اس گروہ کا قتل کرنا تیری طاعت ہے تو مجھے اجازت مل جائے اور اگر معصیت ہے تو مجھے اس رائے پر آگاہی نصیب ہو جائے۔‘
حضرت جندب رضی اللہ عنہ پر خوارج کے ظاہری زہد و عبادت اور تدین کا اتنا اثر تھا کہ ان کے ساتھ جنگ کرنے میں بھی متردد تھے۔ انہوں نے بالآخر اسی لمحہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے حضور نبی اکرم ﷺ کی احادیث مبارکہ اور پیشین گوئیاں سنیں جو درست ثابت ہوئیں۔ اس سے ان کو شرحِ صدر نصیب ہوگیا کہ یہ ہلاک کیے جانے کے ہی مستحق ہیں۔
دورِ حاضر کے خوارج ظاہری لحاظ سے بڑے متقی و پرہیزگار نظر آتے ہیں، مگر اپنی باطنی کیفیت، دین دشمن کاروائیوں اور ناحق قتل و غارت گری و دہشت گردی کے پیشِ نظر احادیث میں انہیں سب سے بڑا فتنہ اور بدترین مخلوق قرار دیا گیا ہے۔ وہ بے شک قرآن مجید کی آیات پڑھتے ہیں مگر کافروں کے بارے میں وارِد ہونے والی آیات کا اطلاق مسلمانوں پر کرتے ہیں۔ اپنی نام نہاد فکر کی بناء پر مسلمانوں کو کافر بنا کر ان کے قتل کا جواز بناتے ہیں۔
خوارج کو حضور نبی اکرم ﷺ نے اور آپ ﷺ کی اتباع میں صحابہ و تابعین نے تمام مخلوق میں بدترین طبقہ قرار دیا ہے۔ اِس سلسلے میں بعض روایات درج ذیل ہیں:
أخرج البخاري في صحیحہ في ترجمۃ الباب: قَوْلُ اللهِ تَعَالٰی: {وَمَا کَانَ اللهُ لِیُضِلَّ قَوْمًام بَعْدَ اِذْ هَدٰهُمْ حَتّٰی یُبَیِّنَ لَهُمْ مَّا یَتَّقُوْنَ} وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ رضي الله عنهما یَرَاھُمْ شِرَارَ خَلْقِ اللهِ، وَقَالَ: إِنَّھُمُ انْطَلَقُوْا إِلٰی آیَاتٍ نَزَلَتْ فِي الْکُفَّارِ فَجَعَلُوْھَا عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ.
(التوبۃ، 9: 115)
وقال العسقلاني في الفتح: وصلہ الطبري في مسند علي من تھذیب الآثار من طریق بکیر بن عبد اللہ بن الأشج: أَنَّهُ سَأَلَ نَافِعًا کَیْفَ کَانَ رَأَی ابْنُ عُمَرَ فِي الْحَرُوْرِیَّۃِ؟ قَالَ: کَانَ یَرَاهُمْ شِرَارَ خَلْقِ اللهِ، انْطَلَقُوْا إِلٰی آیَاتِ الْکُفَّارِ فَجَعَلُوْھَا فِي الْمُؤْمِنِیْنَ.
قلت: وسندہ صحیح، وقد ثبت في الحدیث الصحیح المرفوع عند مسلم من حدیث أبي ذر رضی اللہ عنہ في وصف الخوارج: هُمْ شِرَارُ الْخَلْقِ وَالْخَلِیْقَۃِ. وعند أحمد بسند جید عن أنس رضی اللہ عنہ مرفوعًا مثلہ.
وعند البزار من طریق الشعبي عَنْ عَائِشَۃَ رضي الله عنها قَالَتْ: ذَکَرَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ الْخَوَارِجَ فَقَالَ: ھُمْ شِرَارُ أُمَّتِي یَقْتُلُھُمْ خِیَارُ أُمَّتِي۔ وسندہ حسن۔
وعند الطبراني من ھذا الوجہ مرفوعا: هُمْ شِرَارُ الْخَلْقِ وَالْخَلِیْقَۃِ یَقْتُلُھُمْ خَیْرُ الْخَلْقِ وَالْخَلِیْقَۃِ. وفي حدیث أبي سعید رضی اللہ عنہ عند أحمد: ھُمْ شَرُّ الْبَرِیَّۃِ.
وفي روایۃ عبید اللہ بن أبي رافع عن علي رضي الله عنه عند مسلم: مِنْ أَبْغَضِ خَلْقِ اللهِ إِلَیْهِ.
وفي حدیث عبد اللہ بن خباب رضي الله عنه یعني عن أبیہ عند الطبراني: شَرُّ قَتْلَی أَظَلَّتْھُمُ السَّمَاءُ وَأَقَلَّتْھُمُ الْأَرْضُ. وفي حدیث أبي أمامۃ رضي الله عنه نحوہ.
وعند أحمد وابن أبي شیبۃ من حدیث أبي برزۃ مرفوعًا في ذکر الخوارج: شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِیْقَۃِ یَقُولُھَا ثَـلَاثًا.
وعند ابن أبي شیبۃ من طریق عمیر بن إسحاق عَنْ أَبِي ھُرَیْرَۃَ رضي الله عنه: ھُمْ شَرُّ الْخَلْقِ. وھذا مما یؤید قول من قال بکفرھم.
(1) 1۔ بخاری، الصحیح، کتاب، استتابۃ المرتدین والمعاندین وقتالھم، باب قتل الخوارج والملحدین بعد إقامۃ الحجۃ علیھم، 6: 2539
2۔ مسلم، الصحیح، کتاب الزکاۃ، باب الخوارج شر الخلق والخلیقۃ، 2: 750، رقم: 1067
3۔ أحمد بن حنبل، المسند، 3: 15، 224، رقم: 11133
4۔ أبو داود، السنن، کتاب السنۃ، باب في قتال الخوارج، 4: 243، رقم: 4765
5۔ نسائي، السنن، کتاب تحریم الدم، باب من شہر سیفہ ثم وضعہ في الناس، 7: 119، 120، رقم: 4103
6۔ ابن أبي شیبۃ، المصنف، 7: 557، 559، رقم: 37905
7۔ بزار، المسند، 9: 294، 305، رقم: 3846
8۔ طبراني، المعجم الأوسط، 6: 186، رقم: 6142
9۔ طبراني، المعجم الأوسط، 7: 335، الرقم: 7660
10۔ طبرانی، المعجم الصغیر، 1: 42، رقم: 33
11۔ عسقلاني، فتح الباری، 12: 286، رقم: 6532
امام بخاری نے اپنی صحیح میں باب کے عنوان کے طور پر یہ حدیث روایت کی ہے: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {اور اللہ کی شان نہیں کہ وہ کسی قوم کو گمراہ کر دے۔ اس کے بعد کہ اس نے انہیں ہدایت سے نواز دیا ہو، یہاں تک کہ وہ ان کے لئے وہ چیزیں واضح فرمادے جن سے انہیں پرہیز کرنا چاہئے۔} حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان (خوارج) کو اللہ تعالیٰ کی بد ترین مخلوق سمجھتے تھے (کیونکہ) انہوں نے اللہ تعالیٰ کی ان آیات کو لیا جو کفار کے حق میں نازل ہوئی تھیں اور ان کا اطلاق مومنین پر کرنا شروع کر دیا تاکہ اہلِ ایمان کو کافر و مشرک قرار دے سکیں۔
امام عسقلانی فتح الباری میں بیان کرتے ہیں کہ امام طبری نے اس حدیث کو تہذیب الآثار میں بکیر بن عبد اللہ بن اَشج کے طریق سے مسند علی رضی اللہ عنہ میں شامل کیا ہے کہ انہوں نے حضرت نافع سے پوچھا: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہماکی حروریہ (خوارج) کے بارے میں کیا رائے تھی؟ اُنہوں نے فرمایا : وہ اِنہیں اللہ تعالیٰ کی بدترین مخلوق خیال کیا کرتے تھے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی ان آیات کو لیا جو کفار کے حق میں نازل ہوئی تھیں اور ان کا اطلاق مومنین پر کیا۔
مزید برآں امام عسقلانی فرماتے ہیں کہ میںکہتا ہوں: اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اس سندِ حدیث کا صحیح اور مرفوع ہونا امام مسلم کے ہاں حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کی خوارج کے وصف والی حدیث سے بھی ثابت ہے اور وہ حدیث یہ ہے: ’وہ تمام مخلوق میں سے بدترین لوگ ہیں۔‘ امام احمد بن حنبل کے ہاں بھی اسی کی مثل حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی مرفوع حدیث ثابت ہے۔
امام بزار، شعبی سے اور وہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ اُنہوں نے فرمایا: حضور نبی اکرم ﷺ نے خوارج کا ذکر کیا اور فرمایا: ’وہ میری اُمت کے بد ترین لوگ ہیں اور اُنہیں میری اُمت کے بہترین لوگ قتل کریں گے۔‘ اس حدیث کی سند حسن ہے۔
امام طبرانی کے ہاں اسی طریق سے مرفوع حدیث میں مروی ہے کہ ’خوارج تمام مخلوق میں سے بد ترین ہیں اور ان کو (اُس دور کے) بہترین لوگ قتل کریں گے۔‘
امام احمد بن حنبل کے ہاں حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ والی حدیث میں ہے کہ ’خوارج مخلوق میں سب سے بدترین لوگ ہیں۔‘
مام مسلم نے حضرت عبیداللہ بن ابی رافع کی روایت میں بیان کیا ہے جو انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ’یہ (خوارج) اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے اس کے نزدیک سب سے بدترین لوگ ہیں۔‘
امام طبرانی کے ہاں حضرت عبد اللہ بن خباب والی حدیث میں ہے جو کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ’یہ (خوارج) بدترین مقتول ہیں جن پر آسمان نے سایہ کیا اور زمین نے اُن کو اُٹھایا۔‘ ابو امامہ والی حدیث میں بھی یہی الفاظ ہیں۔
امام احمد بن حنبل اور ابن ابی شیبہ ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کو مرفوعاً خوارج کے ذکر میں بیان کرتے ہیں کہ ’خوارج، مخلوق میں سے بدترین لوگ ہیں۔‘ ایسا تین بار فرمایا۔
اور ابن ابی شیبہ، عمر بن اسحاق کے طریق سے اور وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ’خوارج بد ترین مخلوق ہیں۔‘ اور یہ وہ چیز ہے جو اس شخص کے قول کی تائید کرتی ہے جو ان کو کافر قرار دیتا ہے۔
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ مَا أَتَخَوَّفُ عَلَیْکُمْ رَجُلٌ قَرَأَ الْقُرْآنَ حَتّٰی إِذَا رُئِیَتْ بَھْجَتُهُ عَلَیْهِ وَکَانَ رِدْئًا لِلْإِسْلَامِ غَیْرَہٗ إِلٰی مَا شَاءَاللهُ فَانْسَلَخَ مِنْهُ وَنَبَذَہٗ وَرَاءَ ظَھْرِهٖ وَسَعٰی عَلٰی جَارِهٖ بِالسَّیْفِ وَرَمَاهُ بِالشِّرْکِ قَالَ: قُلْتُ: یَا نَبِيَّ اللهِ، أَیُّھُمَا أَوْلَی بِالشِّرْکِ الْمَرْمِيُّ أَمِ الرَّامِي؟ قَالَ: بَلِ الرَّامِي.
(1) 1۔ ابن حبان، الصحیح، 1: 282، رقم: 81
2۔ بزار، المسند، 7: 220، رقم: 2793
3۔ بخاری، التاریخ الکبیر، 4: 301، رقم: 2907
4۔ طبراني، المعجم الکبیر، 20: 88، رقم: 169 (عن معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ )
بے شک مجھے جس چیز کا تم پر خدشہ ہے وہ یہ کہ ایک ایسا آدمی ہوگا (یعنی کچھ لوگ ایسے ہوں گے) جس نے قرآن پڑھا یہاں تک کہ اس پر قرآن کا جمال آگیا۔ سو جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا وہ اسلام کی خاطر دوسروں کی پشت پناہی بھی کرتا رہا۔ بالآخر وہ قرآن سے دور ہوگیا اور اس کو اپنی پشت پیچھے پھینک دیا، اپنے پڑوسی پر تلوار لے کر چڑھ دوڑا، اس پر شرک کا الزام لگایا (اور اس بنا پر اس کے قتل کے درپے ہوگیا)۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ان دونوں میں سے کون زیادہ شرک کے قریب ہوگا، شرک کا الزام لگانے والا یا جس پر شرک کا الزام لگایا گیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: شرک کا الزام لگانے والا (خود شرک کے قریب ہوگا)۔
1۔ صفوان بن محرز نے حضرت جندب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ ایک گروہ کے پاس سے گزرے جو (بڑی خوش الحانی سے) قرآن حکیم پڑھ رہا تھا، حضرت جندب رضی اللہ عنہ نے ان کے بارے میں فرمایا:
لَا یَغُرَنَّکَ هٰٓـؤُلَاءِ إِنَّهُمْ یَقْرَأُوْنَ الْقُرْآنَ الْیَوْمَ، وَیَتَجَالَدُوْنَ بِالسُّیُوْفِ غَدًا.
(1) 1۔ طبراني، المعجم الکبیر، 2: 167، رقم: 1685
2۔ دیلمي، مسند الفردوس، 4: 134، رقم: 6419
3۔ منذری، الترغیب والترھیب، 3: 166، رقم: 3513
4۔ ھیثمي، مجمع الزوائد، 6: 231
تمہیں ان کا (اتنے خوب صورت انداز میں) قرآن پڑھنا دھوکے میں نہ ڈالے۔ یہ لوگ آج قرآن پڑھ رہے ہیں اور کل یہی لوگ اسلحہ لے کر (مسلمانوں کے خلاف) بر سرِ پیکار ہوں گے۔
2۔ حضرت حرب بن اسماعیل الکرمانی سے مروی ہے کہ امام احمد بن حنبل نے فرمایا:
اَلْخَوَارِجُ قَوْمُ سُوْءٍ، لَا أَعْلَمُ فِي الأَرْضِ قَوْمًا شَرًّا مِنْهُمْ، وَقَالَ: صَحَّ الْحَدِیْثُ فِیْهِمْ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، وَمِنْ عَشَرَۃِ وُجُوْہٍ.
(1) أبو بکر الخلال نے اسے ’’السنۃ (باب الإنکار علی من خرج علی السلطان، ص: 145، رقم: 110)‘‘ میں اسناد صحیح کے ساتھ روایت کیا ہے۔
خوارج بہت ہی برا گروہ ہے، روئے زمین پر اس سے بری قوم میرے علم میں نہیں۔ اور یہ بھی فرمایا کہ ان کے بارے میں حضور نبی اکرم ﷺ کی حدیث صحیح ہے اور دس طرق سے اس کی سند صحیح طور پر ثابت ہے۔
3۔ حضرت یوسف بن موسیٰ سے مروی ہے کہ امام احمد بن حنبل سے عرض کیا گیا: کیا خوارج کافر ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: یہ دین سے خارج ہو جانے والے لوگ ہیں۔ آپ سے پھر عرض کیا گیا: کیا یہ کافر ہیں؟ اُنہوں نے پھر وہی جواب دیا کہ وہ دین سے نکل جانے والے لوگ ہیں۔
(2) أبو بکر الخلال نے اسے ’’السنۃ (باب الإنکار علی من خرج علی السلطان، ص: 145، رقم: 111)‘‘ میں اسناد حسن کے ساتھ روایت کیا ہے۔
اَفواجِ پاکستا ن نے دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے ضرب عضب کے نام سے جو آپریشن شروع کیا ہے یہ ضرب عضب پورے پاکستان میں ایمانداری سے آنکھ مچولی کے بغیر ہونا چاہیے اور کسی کی رعایت کے بغیر برابری کی بنیاد پر ہونا چاہئے۔ اِس طرح دہشت گردوں کے قتل پر اجر ملے گا۔
1۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
یَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَومٌ أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ، سُفَھَاءُ الْأَحْلَامِ، یَقُوْلُوْنَ مِنْ خَیْرِ قَوْلِ النَّاسِ، یَمْرُقُوْنَ مِنَ الإِسْلَامِ کَمَا یَمْرُقُ السَّھْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ، مَنْ لَقِیَھُمْ فَلْیَقْتُلْھُمْ، فَإِنَّ قَتْلَھُمْ أَجْرٌ عِنْدَ اللهِ.
(1) 1۔ بخاری، الصحیح، کتاب استتابۃ المرتدین والمعاندین وقتالھم، باب قتل الخوارج والملحدین بعد إقامۃ الحجۃ علیھم، 6: 2539، رقم: 6531
2۔ مسلم، الصحیح، کتاب الزکاۃ، باب التحریض علی قتل الخوارج، 2:746، رقم: 1066
3۔ ترمذی، السنن، کتاب الفتن، باب في صفۃ المارقۃ، 4: 481، رقم: 2188
امام ترمذی نے السنن میں اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد فرمایا: یہ روایت حضرت علی، حضرت ابو سعید اور حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے اور یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
آخری زمانے میں ایسے لوگ (ظاہر ہوں گے یا) نکلیں گے جو کم عمر (نوجوان)، ناپختہ ذہن اور عقل سے کورے ہوں گے۔ وہ بظاہر لوگوں سے اچھی بات کریں گے مگر دین سے یوں خارج ہوں گے جیسے تیر شکار سے خارج ہو جاتا ہے۔ لہٰذا دورانِ جنگ جہاں بھی ان سے سامنا ہو اُنہیں قتل کیا جائے کیونکہ ان کو قتل کرنا اللہ تعالیٰ کے ہاں اَجر و ثواب کا باعث ہوگا۔
2۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
فَأَیْنَمَا لَقِیْتُمُوْھُمْ فَاقْتُلُوْھُمْ، فَإِنَّ قَتْلَھُمْ أَجْرٌ، لِمَنْ قَتَلَھُمْ، یَوْمَ الْقِیَامَۃِ.
(1) 1۔ بخاری، الصحیح، کتاب استتابۃ المرتدین والمعاندین وقتالھم، باب قتل الخوارج والملحدین بعد إقامۃ الحجۃ علیھم، 6: 2539، رقم: 6531
2۔ مسلم، الصحیح، کتاب الزکاۃ، باب التحریض علی قتل الخوارج، 2: 746، رقم: 1066
تم اُنہیں جہاں کہیں پائو تو قتل کر دو کیونکہ ان کے قاتلوں کو بروزِ قیامت بے حد و حساب اَجر ملے گا۔
اِس حدیث مبارکہ میں آپ ﷺ نے واضح فرما دیا: ایسے لوگ جو دین کے نام پر، مذہب کے نام پر انسانوں کو قتل کریں گے، ان کی نشانی یہ ہے کہ وہ قرآن پڑھیں گے، نمازیں پڑھیں گے، روزے رکھیں گے، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: اُن کے روزے تمہارے روزوں سے ممکن ہے زیادہ ہوں، نمازیں تمہاری نمازوں سے زیادہ ہوں، ان کی داڑھیاں بھی ہونگی، الغرض وہ دینی عمل کریں گے، دین کی باتیں کریں گے، مگر قتل عام کریں گے، آپ ﷺ نے فرمایا جہاں بھی ملیں، پکڑ کر ان کو قتل کر دو، ختم کر دو، اور ان کو قتل کرنے کا اجر تمہیں اندازہ نہیں کہ کتنا ہے، قیامت کے دن معلوم ہوگا، اللہ تعالیٰ تمہیں بے حد و حساب اَجر دے گا۔
اور پھر حضور نبی اکرم ﷺ جو پوری کائنات کے لیے رحمت العالمین ہیں، جو جانور کے لیے بھی رحمت ہیں، ان کو بھی اذیت نہیں دینا چاہتے، وہ خود ان دہشت گردوں کو قوم ثمود اور عاد کی طرح قتل کرنا چاہتے ہیں۔ صحیح بخاری میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث پاک میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس کی نسل سے ایسے لوگ یعنی خوارج پیدا ہوں گے۔۔۔ پھر (خوارج کی تمام علامات بیان کرنے کے بعد) حدیث کے آخر میں آپ ﷺ نے یہ فرمایا:
لَئِنْ أَدْرَکْتُھُمْ لَأَقْتُلَنَّھُمْ قَتْلَ ثَمُوْدَ.
(1) 1۔ بخاری، الصحیح، کتاب المغازي، باب بعث علی بن أبي طالب وخالد بن الولید إلی الیمن قبل حجۃ الوداع، 4: 1581، رقم: 4094
2۔ مسلم، الصحیح، کتاب الزکاۃ، باب ذکر الخوارج وصفاتھم، 2: 742، 743، رقم: 1064
3۔ أحمد بن حنبل، المسند، 3: 4، رقم: 11021
4۔ ابن خزیمۃ، الصحیح، 4: 71، رقم: 2373
5۔ ابن حبان، الصحیح، 1: 205، رقم: 25
6۔ أبویعلی، المسند، 2: 390، رقم: 1163
اگر میں ان لوگوں کو پائوں تو ضرور بالضرور اُنہیں قومِ ثمود کی طرح قتل کر دوں گا۔
4۔ صحیح بخاری میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ مِنْ ضِئْضِئِ هٰذَا قَوْمًا یَقْرَئُوْنَ الْقُرْآنَ لَا یُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ یَمْرُقُوْنَ مِنَ الإِسْلاَمِ مُرُوْقَ السَّھْمِ مِنَ الرَّمِیَّۃِ، یَقْتُلُوْنَ أَھْلَ الإِسْلَامِ وَیَدَعُوْنَ أَھْلَ الأَوْثَانِ، لَئِنْ أَدْرَکْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ.
(2) 1۔ بخاری، الصحیح، کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالٰی: تعرج الملائکۃ والروح إلیہ، 6: 2702، رقم: 6995
2۔ بخاری، الصحیح، کتاب الأنبیائ، باب قول اللہ: وأما عاد فأھلکوا بریح صرصر شدیدۃ عاتیۃ، 3: 1219، رقم: 3166
3۔ مسلم، الصحیح، کتاب الزکاۃ، باب ذکر الخوارج وصفاتھم، 2: 741، رقم: 1064
4۔ أبوداود، السنن، کتاب السنۃ، باب في قتال الخوارج، 4: 243، رقم: 4764
5۔ نسائي، السنن، کتاب تحریم الدم، باب من شہر سیفہ ثم وضعہ في الناس، 7: 118، رقم: 4101
6۔ نسائی، السنن، کتاب الزکاۃ، باب المؤلفۃ قلوبھم، 5: 87، رقم: 2578
اس شخص کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے کہ وہ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن اُن کے حلق سے نیچے نہیں اُترے گا، وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، وہ بت پرستوں کو چھوڑ کر مسلمانوں کو قتل کریں گے۔ اگر میں اُنہیں پاؤں تو قوم عاد کی طرح ضرور بالضرور قتل کر دوں گا۔
احادیثِ مبارکہ میں جا بجا خوارج کا قلع قمع کرنے کے لیے قومِ عاد اور قومِ ثمود کی مثال دی گئی ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ ان کا ایسے خاتمہ کیا جائے جس طرح قومِ عاد اور قومِ ثمود کا خاتمہ کیا گیا تھا یعنی ان کا وجود تک مٹا دیا جائے اور ان کی جڑیں بھی ختم کر دی جائیں۔ تاکہ ان کے دوبارہ اُبھرنے اور منظم ہونے کے امکانات ممکنہ حد تک معدوم ہو جائیں لیکن اس کے لیے پہلے ان تک حق بات پہنچا کر اتمامِ حجت ضروری ہے تاکہ وہ بغیر قتال کے ہی تائب ہو کر راهِ راست پر آ جائیں۔
حضور نبی اکرم ﷺ نے مسلم ریاست کے لیے خوارج کو قومِ عاد و ثمود کی طرح قتل کرنے کا تاکیدی حکم فرمایا ہے کیوں کہ یہ بھی اپنی سرکشی و بغاوت میں اُنہی قوموں کی طرح حد سے گزرے ہوئے ہیں۔
آپ ﷺ نے یہ اس لیے فرمایا کہ اگر کچھ دہشت گردوں کو مار دیا جائے اور کچھ کو چھوڑ دیا جائے یا ان سے مذاکرات کر لیے جائیں تو یوں ان کے بچے ہوئے سرغنوں کو مہلت مل جائے گی اور وہ کچھ عرصہ بعد فتنہ پروری کے لیے دوبارہ منظم ہو جائیں گے۔ کیونکہ آپ ﷺ کا فرمانِ اقدس ہے جسے امام احمد بن حنبل، امام نسائی، امام حاکم اور دیگر اجل ائمہ نے بیان کیا ہے:
لَا یَزَالُوْنَ یَخْرُجُوْنَ حَتّٰی یَخْرُجَ آخِرُهُمْ مَعَ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ.
(1) 1۔ أحمد بن حنبل، المسند، 4: 421، رقم: 19798
2۔ نسائي، السنن، کتاب تحریم الدم، باب من شہر سیفہ ثم وضعہ في الناس، 7: 119، رقم: 4103
3۔ حاکم، المستدرک علی الصحیحین، 2: 160، رقم: 2647
خوارج کے یہ گروہ بغیر انقطاع کے ہمیشہ پیدا ہوتے رہیں گے یہاں تک کہ ان کا آخری گروہ دجال کے ساتھ نکلے گا۔
اِس حدیث مبارکہ میں حضور نبی اکرم ﷺ نے خوارج کی نفسیات اور حکمتِ عملی کے پیش نظر یہ حکم صادر فرمایا ہے کہ شروع میں اِتمامِ حجت ہو جانے کے بعد جب اُن کے خاتمہ کے لیے بذریعہ آپریشن ریاستی اقدامات کئے جائیں تو ممکن ہے کہ وہ اپنی شکست اور کلی خاتمہ کا خدشہ محسوس کرتے ہوئے مذاکرات پر آمادہ ہوں۔ یہ ان کی چال اور مکر و فریب ہوگا، اپنی بچی کھچی طاقت محفوظ کرنے کا طریقہ ہوگا۔ مہلت چاہنے کے لیے ایک دھوکہ ہوگا۔ اگر انہیں کلیتاً ختم کر کے دم نہ لیا گیا اور خاتمہ کا اقدام اُدھورا چھوڑ دیا گیا تو پھر وہ زیرزمین چلے جائیں گے۔ مہلت اور دیے گئے وقت کو تنظیم نو اور نئے منصوبہ کے لیے استعمال کریں گے۔ اس طرح ایک عرصہ خاموشی سے گزارنے کے بعد تازہ دم ہو کر دوبارہ دہشت گردی کی کارروائیاں شروع کر دیں گے۔ بنابریں حضور نبی اکرم ﷺ نے سنتِ الٰہیہ کے پیشِ نظر قومِ عاد اور قومِ ثمود کی طرح ان کے مکمل خاتمے کا حکم دیا ہے تاکہ وہ دوبارہ منظم (Reorganize) ہو کر اور اپنی طاقت سمیٹ کر پھر فتنہ و فساد شروع نہ کر سکیں۔ اس کی نشان دہی فرمانِ رسول ﷺ نے کر دی ہے جو کبھی غلط نہیں ہو سکتا۔
خوارج سے جنگ پر بحث کرتے ہوئے حافظ ابن حجر عسقلانی مزید لکھتے ہیں:
في روایۃ زید بن وہب: ’’لو یعلم الجیش الذین یصیبونھم ما قضی لھم علی لسان نبیھم لنکلوا عن العمل‘‘۔ وأخرج أحمد نحو ھذا الحدیث عن عليّ وزاد في آخرہ: ’قتالھم حق علی کل مسلم‘. وقولہ ﷺ: ’’صلاتکم مع صلاتھم‘‘. زاد في روایۃ الزھري عن أبي سلمۃ کما في الباب بعدہ ’’وصیامکم مع صیامھم‘‘. وفي روایۃ عاصم بن شمیخ عن أبي سعید: ’’تحقرون أعمالکم مع أعمالھم‘‘، ووصف عاصم أصحاب نجدۃ الحروري بأنھم ’یصومون النھار ویقومون اللیل ویأخذون الصدقات علی السنۃ‘ أخرجہ الطبری.
ومثلہ عندہ من روایۃ یحیی بن أبي کثیر عن أبي سلمۃ۔ وفي روایۃ محمد بن عمرو عن أبي سلمۃ عندہ ’’یتعبدون یحقر أحدکم صلاتہ وصیامہ مع صلاتھم وصیامھم‘‘. ومثلہ من روایۃ أنس عن أبي سعید وزاد في روایۃ الأسود بن العلاء عن أبي سلمۃ ’’وأعمالکم مع أعمالھم‘‘. وفي روایۃ سلمۃ بن کھیل عن زید بن وھب عن علي: ’’لیست قراء تکم إلی قراء تھم شیئا ولا صلاتکم إلی صلاتھم شیئا‘‘. أخرجہ مسلم والطبري وعندہ من طریق سلیمان التیمي عن أنس ’’ذکر لي عن رسول اللہ ﷺ، قال: ’’إن فیکم قوما یدأبون ویعملون حتی یعجبوا الناس وتعجبھم أنفسھم‘‘. ومن طریق حفص بن أخي أنس عن عمہ بلفظ: ’’یتعمقون في الدین‘‘. وفي حدیث بن عباس عند الطبراني في قصۃ مناظرتہ للخوارج قال: ’’فأتیتھم فدخلت علی قوم لم أر أشد اجتھادا منھم أیدیھم کأنھا ثفن الإبل ووجوھھم معلمۃ من آثار السجود‘‘. وأخرج بن أبي شیبۃ عن ابن عباس رضي الله عنه أنہ ذُکِرَ عندہ الخوارج واجتھادھم في العبادۃ، فقال: لیسوا أشد اجتھادا من الرھبان.
(1) ابن حجر عسقلاني، فتح الباري، 12: 288-289
زید بن وہب کی روایت میں ہے: ’خوارج کے ساتھ جنگ کرکے انہیں قتل کرنے والی مسلمان فوج (muslim army) اگر جان لیتی کہ ان کے لئے اپنے نبی ﷺ کی زبان سے کس قدر اعلیٰ اور بلند مقام کا فیصلہ کر دیا گیا ہے تو وہ باقی سارے کام چھوڑ کر صرف (خوارج سے جنگ کرنے کا) یہی عمل اختیار کر لیتی۔‘ امام احمد بن حنبلؒ نے اسی طرح کی حدیث حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بیان کر کے اس کے آخر میں یہ اضافہ بھی ذکر کیا ہے: قِتَالُهُمْ حَقٌّ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ" " یعنی ان باغی دہشت گردوں کے خلاف ریاستی سطح پر کی جانے والی کارروائی میں حصہ لینا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ (یہاں پر یہ جاننا ضروری ہے کہ ان کی ظاہری دین داری کو دیکھ کر ان سے قتال اور ان کے خاتمہ میں پس و پیش نہ کیا جائے کیونکہ) حضور نبی اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: صَلَاتَکُمْ مَعَ صَلَاتِھِمْ اور حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی امام زہری کی روایت میں وَصِیَامَکُمْ مَعَ صِیَامِھِمْ کے الفاظ کا اضافہ ہے۔ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی عاصم بن شمیخ کی روایت میں تَحْقِرُوْنَ اَعْمَالَکُمْ اِلٰی اَعْمَالِھِمْ ہے اور عاصم نے اَصحابِ نجد کو الحروري کہا کہ ’وہ دن کو روزہ رکھتے اور رات کو قیام کرتے اور سنت کے مطابق صدقات وصول کرتے تھے۔‘ اس کو امام طبری نے روایت کیا اور حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے یحییٰ بن کثیر کی اسی طرح کی روایت بھی انہوں نے بیان فرمائی ہے۔
امام طبری کے ہاں حضرت ابوسلمہ سے مروی محمد بن عمرو کی روایت میں ہے: ’خوارج اتنی کثرت سے عبادت کریں گے کہ تم میں سے ہر کوئی اپنی نمازوں اور روزوں کو ان کی نمازوں اور روزوں کے مقابلے میں حقیر اور کم تر سمجھے گا۔‘ حضرت انس رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی روایت ہے۔ حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی اسو د بن علاء کی روایت میں اَعْمَالَکُمْ مَعَ اَعْمَالِھِمْ کا اضافہ ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی زید بن وہب کی روایت میں ہے: ’تمہاری تلاوت ان کی تلاوت کے مقابلے میں اور تمہاری نماز ان کی نماز کے مقابلے میں کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتی۔‘ اس کو امام مسلم اور امام طبری نے روایت کیا ہے۔ امام طبری نے سلیمان تیمی کے طریق سے بھی روایت بیان کی ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے سامنے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی بیان کیا گیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: بے شک تم میں ایک ایسی قوم ہوگی جس کے اَفراد (بظاہر نیک اعمال) میں بہت مشقت اُٹھائیں گے اور اتنے زیادہ اعمال کریں گے کہ لوگوں کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیں گے اور وہ اپنے (اعمال) پر عُجب کا اظہار کریں گے۔‘ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے بھتیجے حفص کے طریق سے اپنے چچا (یعنی حضرت انس رضی اللہ عنہ ) سے مروی حدیث میں یَتَعَمَّقُوْنَ فِي الدِّیْنِ (بظاہر وہ دین میں بہت پختگی اور شدت رکھتے ہوں گے یعنی Extremist ہوں گے) کے کلمات ہیں۔ امام طبرانی کے ہاں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے خوارج کے ساتھ مناظرہ کے قصے پر مبنی روایت میں مذکور ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’میں ان (خوارج) کے پاس پہنچا تو میں ایسی قوم پر داخل ہوا جن سے بڑھ کر محنت و ریاضت کرنے والے ہاتھ میں نے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ اُن کے ہاتھ (مشقت کی وجہ سے) ایسے سخت تھے جیسے اُونٹوں کے گھٹنے اور ان کے چہرے سجدوں کے آثار سے نشان زدہ تھے۔‘ ابن ابی شیبہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی کہ آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے عبادت و ریاضت میں خوارج کی محنت و مشقت کا ذکر کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’راہب‘ بھی تو اعمال میں اُن سے زیادہ مشقت اُٹھانے والے تھے۔‘
امام احمد بن حنبل، ابو داود اور ابن ماجہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
سَیَکُوْنُ فِي أُمَّتِي اخْتِلَافٌ وَفُرْقَۃٌ قَوْمٌ یُحْسِنُوْنَ الْقِیْلَ وَیُسِیْئُوْنَ الْفِعْلَ… ھُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِیْقَۃِ، طُوْبَی لِمَنْ قَتَلَهُمْ وَقَتَلُوْهُ، یَدْعُوْنَ إِلٰی کِتَابِ اللهِ وَلَیْسُوْا مِنْهُ فِي شَيئٍ، مَنْ قَاتَلَهُمْ کَانَ أَوْلٰی بِاللهِ مِنْھُمْ، قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللهِ، مَا سِیْمَاھُمْ؟ قَالَ: التَّحْلِیْقُ.
(1) 1۔ أحمد بن حنبل، المسند، 3: 224، رقم: 13362
2۔ أبو داود، السنن، کتاب السنۃ، باب في قتال الخوارج، 4: 243، رقم: 4765
3۔ ابن ماجہ، السنن، المقدمۃ، باب في ذکر الخوارج، 1: 60، رقم: 169
4۔ حاکم، المستدرک، 2: 161، رقم: 2649
5۔ بیھقي، السنن الکبری، 8: 171
6۔ مقدسي نے ’’الأحادیث المختارۃ (7:15، رقم: 2391، 2392)‘‘ میں اس کی اسناد کو صحیح قرار دیا ہے۔
7۔ أبو یعلی، المسند، 5: 426، رقم: 3117
عنقریب میری اُمت میں اختلاف اور تفرقہ رونما ہوگا عین اس وقت ایسے لوگ ظاہر ہوں گے جو اپنے قول اور نعرے میں اچھے ہوں گے مگر اپنے طرزِ عمل اور روش میں نہایت برے ہوں گے۔۔۔ وہ ساری مخلوق میں بدترین لوگ ہوں گے، خوش خبری ہو اُسے جو انہیں قتل کرے گا اور اُسے بھی جسے وہ خوارج شہید کریں گے۔ وہ اللہ عزوجل کی کتاب کی طرف بلائیں گے لیکن اس کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں ہوگا؛ ان کا قاتل ان کی نسبت اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب ہوگا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اُن کی نشانی کیا ہے؟ فرمایا: سر منڈانا۔
اس حدیث مبارکہ میں آپ ﷺ نے فرمایا: سَیَکُوْنُ فِي أُمَّتِي اخْتِلَافٌ وَفُرْقَۃٌ.
عنقریب ایک زمانہ آئے گا جب میری اُمت میں اختلاف پیدا ہوں گے، دھڑے بندیاں ہوں گی، فرقے ہوں گے ، تفرقے ہوں گے، گروہ ہوں گے، جماعتیں بنیں گی۔ ایسے لوگ نکلیں گے جو زبان سے اچھی بات کریں گے کہ ہمیں انصاف چاہیے، قرآن چاہیے، شریعتِ مصطفی چاہیے، سنتِ مصطفی چاہیے، ہم قرآن، شریعت اور اسلام کی حکومت چاہتے ہیں یعنی باتیں وہ اچھی کریں گے۔ مگر:
یُسِیْئُوْنَ الْفِعْلَ.
ان کا عمل ظالمانہ اور قاتلانہ ہوگا۔
ھُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِیْقَۃِ.
وہ ساری مخلوق میں سے بدترین لوگ ہونگے۔
اے اَفواجِ پاکستان کے جوانو! اور اے پوری قومِ پاکستان! غور کرو! حضور نبی اکرم ﷺ نے کیا فرمایا:
طُوْبَی لِمَنْ قَتَلَهُمْ وَقَتَلُوْهُ.
مبارک ہو اُن جوانوں کو اور فوجیوں کو ،جو انہیں قتل کر کے ختم کر دیں گے، ان سے لڑیں گے اور اس شہید کو بھی مبارک ہوجو ان ظالم اور دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہو جائے گا۔ وہ بڑا شہید ہوگا، کہ دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل ہوا۔ اُن فوجیوں اور اُنہیں مارنے والوں کو بھی مبارک ہو،جو دہشت گردی کو ختم کر دیں گے۔
پھر حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
یَدْعُوْنَ إِلٰی کِتَابِ اللهِ.
ان کی پہچان یہ ہو گی کہ قرآن کی دعوت دیں گے کہیں گے ہم قرآن کا نظام چاہتے ہیں، سنت کا نظام چاہتے ہیں، شریعت کا نظام چاہتے ہیں، قرآن کی بات کریں گے۔ مگر فرمایا:
وَلَیْسُوْا مِنْهُ فِي شَيئٍ.
مگر ان کا قرآن سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔
پھر فرمایا:
مَنْ قَاتَلَهُمْ کَانَ أَوْلَی بِاللهِ مِنْھُمْ.
جو ان کو eliminateکرے گا، قتل کر کے ختم کرے گا، وہ اللہ تعالیٰ کے قریب تر ہوگا، اللہ تعالیٰ اس کو اپنی قربت عطافرمائے گا۔
یہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی متفق علیہ احادیث تھیں جو اُوپر بیان ہوئیں۔ دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے احادیث مبارکہ کا بڑا ذخیرہ موجود ہے، جن سے قوم کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔
بعض لوگ خوارج کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے ہیں اور انہیں برا نہیں جانتے، جب کہ بعض لوگ اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے خوارج کی پشت پناہی اور support کرتے ہیں اور اپنے طرزِ عمل سے شرپسندوں اور دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، گویا اُن کے لیے ماسٹر مائنڈ (master mind) کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں اور ان کی مالی و اخلاقی معاونت (financial & moral support) کر کے اُنہیں مزید دہشت پھیلانے کی شہ دیتے ہیں، یہ عمل بھی انتہائی مذموم ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی مومن کے قتل میں معاونت کرے گا وہ رحمت الٰہی سے محروم ہو جائے گا۔ فرمانِ رسول ﷺ ہے:
مَنْ أَعَانَ عَلٰی قَتْلِ مُؤْمِنٍ بِشَطْرِ کَلِمَۃٍ، لَقِيَ ﷲَ عزوجل مَکْتُوْبٌ بَیْنَ عَیْنَیْهِ: آیِسٌ مِنْ رَحْمَۃِ اللهِ.
(1) 1۔ ابن ماجہ، السنن، کتاب الدیات، باب التغلیظ في قتل مسلم ظلمًا، 2: 874، رقم: 2620
2۔ ربیع، المسند، 1: 368، رقم: 960
3۔ بیھقي، السنن الکبری، 8: 22، رقم: 15646
جس شخص نے چند کلمات کے ذریعہ بھی کسی مومن کے قتل میں کسی کی مدد کی تو وہ اللہ عزوجل سے اس حال میں ملے گا کہ اس کی آنکھوں کے درمیان (پیشانی پر) لکھا ہوگا: آیِسٌ مِنْ رَحْمَۃِ اللهِ (اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم شخص)۔
اِس حدیث کے مضمون میں یہ صراحت موجود ہے کہ نہ صرف ایسے ظالموں کی ہر طرح کی مالی و جانی معاونت منع ہے بلکہ بِشَطْرِ کَلِمَۃٍ (چند کلمات) کے الفاظ یہ بھی واضح کر رہے ہیں کہ تقریر یا تحریر کے ذریعے ایسے امن دشمن عناصر کی مدد یا حوصلہ افزائی کرنا بھی سخت مذموم ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اور بخشش سے محرومی کا سبب ہے۔ اِس میں دہشت گردوں کے ماسٹر مائنڈ طبقات کے لیے سخت تنبیہ ہے جو کم فہم لوگوں کو آیات و احادیث کی غلط تاویلیں کر کے انہیں ’جنت کی بشارت‘ دے کر سول آبادیوں کے قتل پر آمادہ کرتے ہیں۔
اسلامک لٹریچر میں خوارج کی پشت پناہی کرنے والوں کے لیے قَعْدِیَۃ (عملاً بغاوت میں شریک نہ ہونے والے کی) اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ شارح صحیح البخاري حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:
’’والقعدیۃ‘‘ قوم من الخوارج، کانوا یقولون بقولہم، ولا یرون الخروج بل یزینونہ.
(1) عسقلاني، مقدمۃ فتح الباري: 432
اور قَعْدِیَۃ خوارج کا ہی ایک گروہ ہے۔ یہ لوگ خوارج جیسے عقائد تو رکھتے تھے مگر خود مسلح بغاوت نہیں کرتے تھے بلکہ (وہ خوارج کی پشت پناہی کرتے ہوئے) اسے سراہتے تھے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی مقدمۃ فتح الباری میں ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:
والخوارج الذین أنکروا علی عليّ رضي الله عنه التحکیم وتبرئوا منہ ومن عثمان رضي الله عنه وذریتہ وقاتلوھم فإن أطلقوا تکفیرھم فھم الغلاۃ منھم والقعدیۃ الذین یزینون الخروج علی الأئمۃ ولا یباشرون ذلک.
(1) عسقلاني، مقدمۃ فتح الباري: 459
اور خوارج وہ ہیں جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فیصلۂ تحکیم (arbitration) پر اعتراض کیا اور آپ رضی اللہ عنہ سے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے اور ان کی اولاد و اَصحاب سے برأت کا اظہار کیا اور ان کے ساتھ جنگ کی۔ اگر یہ مطلق تکفیر کے قائل ہوں تو یہی ان میں سے حد سے بڑھ جانے والا گروہ ہے جبکہ قَعْدِیَۃ وہ لوگ ہیں جو مسلم حکومتوں کے خلاف مسلح بغاوت اور خروج کو سراہتے اور اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، لیکن خود براهِ راست اس میں شامل نہیں ہوتے۔
اِسی طرح حافظ ابن حجر عسقلانی اپنی ایک اور کتاب ’تھذیب التھذیب‘ میں خوارج کی پشت پناہی کرنے والوں کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’والقعد‘‘ الخوارج کانوا لا یرون بالحرب، بل ینکرون علی أمراء الجور حسب الطاقۃ، ویدعون إلی رأیھم، ویزینون مع ذالک الخروج، ویحسنونہ.
(2) عسقلاني، تھذیب التھذیب، 8: 114
اور قَعْدِیَۃ (خوارج کی پشت پناہی کرنے والے) وہ لوگ ہیں جو بظاہر خود مسلح جنگ نہیں کرتے بلکہ حسبِ طاقت ظالم حکمرانوں کا انکار کرتے ہیں اور دوسروں کو اپنی فکر و رائے کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلح بغاوت اور خروج کو (مذہب کا لبادہ اوڑھا کر) سراہتے ہیں اور دہشت گرد باغیوں کو اِس کی مزید ترغیب دیتے ہیں۔
شارح صحیح البخاری حافظ ابن حجر عسقلانی کے درج بالا اقتباسات سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ قَعْدِیَۃ بھی خوارج میں سے ہی ہیں۔ لیکن یہ گروہ کھل کر اپنی رائے کا اظہار نہیں کرتا مگر پسِ پردہ خوارج کی باغیانہ اور سازشی سرگرمیوں کے لیے منصوبہ بندی (planning) کرتا ہے۔ گویا یہ گروہ ماسٹر مائنڈ کے فرائض سرانجام دیتا ہے۔ اِس گروہ کا کام دلوں میں بغاوت اور خروج کے بیج بونا ہے، خاص طور پر جب یہ گفتگو کسی ایسے فصیح و بلیغ شخص کی طرف سے ہو جو لوگوں کو اپنی چرب زبانی سے دھوکہ دینے اور اسے سنتِ مطہرہ کے ساتھ گڈ مڈ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔
’خوارج‘ دین اِسلام کے باغی اور سرکش تھے۔ ان کی اِبتداء عہد رسالت مآب ﷺ میں ہی ہوگئی تھی۔ ان کی فکری تشکیل دورِ عثمانی میں اور منظم و مسلح ظہور دورِ علوی میں ہوا۔ اِن خوارج کے اَعمال و عبادات اور ظاہراً پابندیِ شریعت ایسی تھی کہ وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بھی بعض اوقات زیادہ عابد و زاہد محسوس ہوتے لیکن حضور نبی اکرم ﷺ کے واضح فرمان کے مطابق وہ اسلام سے کلیتاً خارج تھے۔ خوارج مسلمانوں کے قتل کو جائز سمجھتے، ان کی رائے اور نظریہ سے اتفاق نہ کرنے کے باعث صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بھی تکفیر کرتے، نعرہ اِسلامی لَا حُکْمَ إِلاَّ ِﷲ بلند کرتے اور خلیفہ راشد سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم کے خلاف مسلح خروج، بغاوت اور قتال کو نہ صرف جائز سمجھتے بلکہ عملاً اس ضمن میں قتل و غارت گری کرتے رہے۔ یہی خوارج درحقیقت تاریخِ اسلام میں سب سے پہلا دہشت گرد اور نظمِ ریاست کے خلاف باغی گروہ تھا۔ نصوصِ حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان کا ظہور ہر دور میں ہوتا رہے گا۔ گویا خوارج سے مراد فقط وہی ایک طبقہ نہیں تھا جو خلافتِ راشدہ کے خلاف نکلا بلکہ ایسی ہی صفات، نظریات اور دہشت گردانہ طرزِ عمل کے حامل وہ تمام گروہ اور طبقات ہوں گے جو قیامت تک اسی انداز سے نکلتے رہیں گے اور جہاد کے نام پر مسلح دہشت گردانہ کارروائیاں کریں گے۔ یہ شرعی اَعمال کی بدرجہ اَتم ظاہری بجا آوری کے باوجود فکر و نظر کی اِس خرابی کے سبب اِسلام سے خارج تصور ہوں گے۔ فرامین رسول ﷺ کی روشنی میں ایسے لوگوں کو مذاکرات کے نام پر مہلت دینا یا اُن کے مکمل خاتمے کے بغیر چھوڑ دینا اِسلامی ریاست کے لیے روا نہیں، سوائے اِس کے کہ وہ خود ہتھیار پھینک کر اپنے غلط عقائد و نظریات سے مکمل طور پر تائب ہو جائیں اور اپنی اِصلاح کرلیں۔
Copyrights © 2026 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved