Islam main Mahabbat awr Adam-e-Tashaddud

باب 8 :قیام امن کے لیے عملی تجاویز

1۔ دینِ اسلام اور سیرتِ نبوی میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہے

حضور نبی اکرم ﷺ سے عشق و محبت کی بات بکثرت کی جاتی ہے۔ اِس عشق کے دعوے دار مبارک باد کے مستحق ہیں کیونکہ عشق رسول ﷺ ہی ایمان کی اصل اور اساس ہے۔ جس کے دل میں عشق و محبت مصطفی ﷺ نہیں، اسے ایمان کی ہوا ہی نہیں لگی۔ وہ لوگ بھی مبارک باد کے مستحق ہیں جو آقا ﷺ کی سیرت طیبہ اور سنت کی اتباع کی بات کرتے ہیں کہ حضور ﷺ کی اتباع کرنے سے ہی اللہ تعالیٰ کی محبت نصیب ہوتی ہے۔ یہ دونوں سوچیں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف یکجا ہونی چاہئیں۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ اگر ہم نے پاکستانی معاشرے کو مصطفوی، اسلامی اور قرآنی معاشرہ بنانا ہے تو پھر اسے پُرامن بنانا ہوگا، لوگوں کے جان و مال کو تحفظ دینا ہوگا، دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہوگا اور ایک بھی دہشت گرد اس سرزمین پر نہیں چھوڑنا ہوگا۔ اگر دہشت گردی بچ گئی اور دہشت گردوں کو بچانے کے لیے سیاسی و قانونی راستے اور آئینی و عدالتی راستے نکال لیے گئے، انہیں بچانے کے لیے قوم سے چکر بازی کی گئی، دھوکہ دہی سے کام لیا گیا اور سیاست کی گئی تو پھر خداکا عذاب نازل ہوگا۔ ہماری سوسائٹی قومِ عاد اور قومِ ثمود کی طرح متصور ہوگی اور ہم اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول ﷺ کے باغی کہلائیں گے۔

سیرتِ مصطفی ﷺ اور میلادِ مصطفی ﷺ کا پیغام مخلوقِ خدا سے محبت اور عدمِ تشدد ہے۔ جو شخص بے گناہ بچوں، عورتوں، بوڑھوں، مریضوں اور جوانوں کو قتل کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ اسلام کی خدمت کر رہا ہے، وہ اپنے ذہن سے یہ غلط فہمی دور کر لے کہ وہ اسلام کی کوئی خدمت کر رہا ہے بلکہ وہ دراصل کفر کی خدمت کر رہا ہے اور رسول اکرم ﷺ کے دین سے بغاوت کر رہا ہے۔ وہ دین اسلام کا بھی دشمن ہے اور انسانیت کا بھی۔ میں چاہتا ہوں کہ لوگوں کے ذہنوں میں دین کا یہ تصور راسخ ہو جائے کہ اسلام میں اور سیرتِ مصطفی ﷺ میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہے۔

2۔ دوسروں پر رحم کرنے والا ہی رحم کا مستحق ہے

حضور نبی اکرم ﷺ نے پوری انسانیت اور تمام اُمت یعنی دونوں طبقات کے لیے ایک عمومی مگر اُصولی قاعدۂ رحمت عطا فرمایا ہے جو نہ صرف اُمتِ مسلمہ بلکہ تمام انسانیت کے لیے نہایت درجہ رحم (mercy)، درد مندی (compassion)، محبت (love)، نرمی (softness) اور برداشت (tolerance) کے پیغام پر مشتمل ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

مَنْ لَا یَرْحَمُ، لَا یُرْحَمُ.

(1) 1۔ بخاری، الصحیح، کتاب الأدب، بَاب رَحْمَۃِ الْوَلَدِ وَتَقْبِیلِهِ وَمُعَانَقَتِهِ، 5: 2235، رقم: 5651

2۔ مسلم، الصحیح، کتاب الفضائل، باب رحمتہ الصبیان والعیال و تواضعہ وفضل ذالک، 4: 1808، رقم: 2318

جو لوگوں پر رحم نہ کرے اس پر بھی رحم نہیں کیا جاتا۔

یعنی جو شخص دوسروں کے لیے مہربان (merciful)، شفیق (kind)، نرم خو (soft)، کریم (compassionate)، مددگار (helpful)، فیض رساں (generous) اور کریم النفس (benevolent) نہیں، اس پر بھی رحمت و شفقت نہیں کی جائے گی۔

اِس فرمان سے حضور نبی اکرم ﷺ نے رحمت کے تصور کو خوب وسیع کر دیا ہے تاکہ ہر شخص اپنے رویے کو درست کرلے۔ اگر وہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی بارگاہ سے اُسے رحمت و شفقت کا رویہ نصیب ہو تو اسے دوسرے انسانوں کے لیے پیکر رحمت و شفقت ہونا چاہیے۔ گویا جو شخص مخلوق پر رحم نہیں کرتا وہ سمجھ لے کہ اللہ رب العزت بھی اس پر رحم نہیں فرمائے گا۔

حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

لَا یَرْحَمُ اللهُ مَنْ لَا یَرْحَمُ النَّاسَ.

(1) 1۔ بخاری، الصحیح، کتاب التوحید، بَاب قَوْلِ اللهِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی: {قُلْ ادْعُوا ﷲَ أَوَ ادْعُوا الرَّحْمَنَ أَیًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَی}، 6: 2686، رقم: 6941

2۔ مسلم، الصحیح، کتاب الفضائل، باب رحمتہ الصبیان والعیال و تواضعہ وفضل ذالک، 4: 1809، رقم: 2319

اللہ تعالیٰ اُس شخص پر رحم نہیں فرماتا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا۔

اِس حدیث میں النَّاس کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ یہ نہیں فرمایا کہ جو ایمان والوں یا مسلمانوں پر رحم نہیں کرتا یا جو اپنے قبیلے والوں، گھر والوں یا اپنی اولاد پر رحم نہیں کرتا۔ یوں کہہ کر رحمت کو خاص نہیں کیا گیا بلکہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ’جو تمام نوعِ انسانی (mankind)کے لیے رحم اور رحمت کا سبب نہیں بنتا‘۔ یعنی رحمت و شفقت پر مبنی برتاؤ کا بنیادی سبب انسانیت ہے۔ رشتہ دار ہونا اضافی سبب ہے، پھر اولاد اور اہل و عیال ہونا ایک اور سبب بن گیا اور اگر وہ غریب و محتاج ہوں تو ایک اور سبب بڑھ گیا۔ گویا سبب پر سبب کا اضافہ ہوتا چلا جائے تو اِستحقاقِ رحمت بڑھتا چلا جاتا ہے مگر یہاں جس عمومی رحمت اور اس کی وسعت کا بیان ہے اس کا دائرۂ عمل پوری نوع ِانسانی پر محیط ہے اور ہر انسان خواہ مومن ہو یا کافر، مسلم ہو یا غیر مسلم، نیک ہو یا بد، واقف ہو یا ناواقف، یکساں طور پر رحم، ہمدردی اور مہربانی کا مستحق ہے۔ چنانچہ اس فرمان کا معنی یہ ہوا کہ علی العموم تمام بنی آدم (mankind) اور نسلِ انسانی (human race) کے لیے جس شخص کا اخلاق، کردار (behaviour) اور طرزِ عمل (conduct) مہر و محبت اور رحمت و شفقت پر مبنی نہیں وہ جان لے کہ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا رویہ بھی رحمت و شفقت پر مبنی نہیں ہوگا۔

3۔ اِنتہا پسندانہ سوچ کے خاتمے کی ضرورت

مخلوقسے محبت، عدمِ تشدد اور سوسائٹی کو امن سے بہرہ یاب کرنا دراصل محبتِ رسول ﷺ کا ثبوت ہے۔ محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا ہے کہ ایسا معاشرہ قائم کیا جائے جہاں ہر شخص دوسرے سے محبت کرے، ہر شخص دوسرے کے دکھوں کا مداوا کرے، ہر شخص دوسرے انسان کا خیال کرے حتیٰ کہ حیوانات اور نباتات کا بھی خیال کرے۔ ہر شخص دوسرے کے دکھ کو بانٹے اور اپنے سکھ اس کو دے، بھوکوں کو کھانا کھلائے، محتاجوں کی مدد کرے اور محبتیں عام کرے۔ محبتِ مصطفی ﷺ کا تقاضا ہے کہ معاشرے سے کرپشن کو ختم کیا جائے تاکہ مال و دولت غریب تک پہنچے، ہر غریب کا چولہا جلے اور ہر ایک کو روزگار ملے۔

معاشرتی اَمن کے لیے انتہا پسندانہ سوچ کا خاتمہ ضروری ہے۔ دہشت گردی ختم کرنے کے لیے صرف فوجی عدالتیں ہی کافی نہیں، کیونکہ دہشت گرد جب دہشت گردی کا ارتکاب کر لیتا ہے تو پھر یہ عدالتیں اُسے سزا دیتی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ دہشت گردی کی نوبت کیوں آتی ہے؟ یاد رکھیں! دہشت گردی انتہا پسندی سے شروع ہوتی ہے۔ لہٰذا ہمیں انتہا پسندی کو جڑ سے کاٹنا ہوگا۔ ابھی تک کوئی قدم انتہا پسندی کے خاتمے کی طرف نہیں اُٹھایا گیا۔ اِس کے لیے ضروری ہے کہ انتہا پسندانہ سوچ کو ختم کیا جائے، انتہاپسندانہ تبلیغ کو ختم کرنا ہوگا، فرقہ واریت اور ایک دوسرے کو کافر قرار دینے کی سوچ کو ختم کرنا ہوگا، ایک دوسرے کے گلے کاٹنے کی سوچ کو ختم کرنا ہوگا۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے معاشرے کو اسلام، امن، رحمت، وفاداری، تحمل، بردباری، برداشت، اور توسط و اعتدال کا معاشرہ بنانا ہوگا۔ اگر ہم اس میں کامیاب ہوئے تو سمجھیں کہ ہم نے پاکستان کے قیام کے مقصد کو پورا کیا اور حضور نبی اکرم ﷺ سے عشق و محبت اور غلامی کا حق ادا کیا۔

آج حالات اِس اَمر کے متقاضی ہیں کہ اِسلامی تعلیمات اور آفاقی صداقتوں کی روشنی میں دہشت گردی کی فکر اور اِنتہا پسندانہ نظریات کے خلاف بین الاقوامی سطح پر ہر طبقہ کو ذہنی و فکری طور پر تیار کیا جائے۔ معاشرے سے اِنتہا پسندی کے خاتمے کے لیے عملی اِقدامات کیے جائیں تاکہ دہشت گردوںکے فکری و نظریاتی سرچشموں کا بھی ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہوجائے۔ ہم نے گزشتہ چونتیس سال سے انتہا پسندی، تنگ نظری، فرقہ واریت اور دہشت گردی کے خلاف علمی و فکری میدانوںمیں بھرپور جد و جہد کی ہے۔ اِنتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف ناقابلِ تردید دلائل و براہین پر مشتمل راقم کا تاریخی فتوی 2010ء سے کتابی شکل میں دست یاب ہے۔ یہ مبسوط فتویٰ اُردو، انگریزی، ہندی اور انڈونیشین زبانوں میں شائع ہوچکا ہے جب کہ عربی، نارویجن، ڈینش، فرانسیسی، جرمن اور اسپینش زبانوں میں زیر اِشاعت ہے۔ اِنتہا پسندانہ تصورات و نظریات کے خلاف اور اِسلام کے محبت و رحمت، اَمن و رواداری اور عدمِ تشدد کی تعلیمات پر مبنی دیگر درجنوں کتب بھی منظرعام پر آچکی ہیں۔

4۔ تعلیمی نصاب میں تبدیلیوں کی ضرورت ہے

ہمارے معاشرہ میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے اس حد تک غلبہ پالینے کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے دین اسلام کی امن و سلامتی، انسانوں سے محبت اور عدمِ تشدد پر مبنی تعلیمات کو اپنی قوم کے بچوں کے تعلیمی نصاب کا حصہ ہی نہیں بنایا۔ ہمارے طلباء اور نوجوان نسل ان تعلیمات سے بالکل بے بہرہ ہیں۔

یہ تعلیم پاکستان کے نصابات میں ہونی چاہیے۔ نصابات تعلیم میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں فی الفور اسلام کی تعلیماتِ امن کو نصاب کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ مدرسہ کا نصاب ہو یا اسکول، کالج اور یونیورسٹی کا نصاب؛ افسوس! کسی سطح کے نصاب میں امن نام کا کوئی باب شامل نہیں ہے۔ جہاد کیا ہے اور فساد کیا ہے؟ اس پر بھی کوئی باب نہیں ہے۔ بنی نوع انسان اور دیگر مخلوقِ خدا سے محبت، عدم تشدد اور برداشت پر کوئی باب نہیں ہے۔ جھگڑے و اختلافات ہوں تو پر امن طریقے سے حل کیسے کریں؟ اس پر کوئی باب نہیں ہے۔ اسی طرح غیر مسلموں کے حقوق پر کوئی باب نہیں ہے۔ قتل و غارت گری اور دہشت گردی کی مذمت پر کوئی باب نہیں ہے۔

یہ کیسا نظام تعلیم ہے جس میں انسانیت ہی نہیں سکھائی جا رہی؟ اَخلاق، محبت، اُلفت، برداشت، امن، تحمل کا درس نہیں دیا جا رہا۔ عدمِ تشدد اور قتل و غارت گری کی مذمت کے نام پر ایک باب بھی کسی نصاب میں شامل نہیں۔ قرآن و حدیث کی تعلیمات جو میں پوری قوم تک پہنچا رہا ہوں اِن تعلیمات کو صرف مدارس کے ہی نہیں بلکہ اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیز کے نصابات میں بھی شامل کیا جائے کیونکہ جدید تعلیمی اداروں سے بھی لوگ انتہا پسند بنتے ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ اسلام کے خلاف اگر ان کے ذہنوں میں بغاوت، غلط فہمی آتی ہے تو انہیں پڑھایا جائے کہ اسلام کیا ہے۔

جب اسلام کی پر امن تعلیمات کے متعلق کچھ نہیں پڑھایا جاتا تو ہم اور آپ قوم کے معماروں سے کیا توقع کرسکتے ہیں؟ لیڈروں اور حکومتوں نے تو اس قوم کو کھیل تماشہ بنا رکھا ہے۔ انہوں نے اس قوم کے ساتھ وہ دھوکہ کیا ہے جو دنیا کی کسی قوم کے ساتھ کسی حکومت اور لیڈر نے نہیں کیا تھا۔

اِس وقت عالم انسانیت کا سب سے اہم مسئلہ اَمن اَمان کی بحالی ہے۔ اس اہم اور فوری مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کوئی ادارہ، ریاست یا یونی ورسٹی آگے نہیں بڑھی کہ قیامِ اَمن اور اِنسداد دہشت گردی و انتہا پسندی کو ایک science، subject اور curriculum کے طور پر متعارف کروایا جائے۔ اس فوری اور ناگزیر ضرورت کا بروقت اِدراک کرتے ہوئے راقم نے ’فروغِ اَمن اور اِنسدادِ دہشت گردی کا اِسلامی نصاب (Islamic Curriculum on Peace and Counter-Terrorism)‘ پانچ مختلف طبقات کے لیے تیار کیا ہے، جو کہ اُردو کے ساتھ ساتھ عربی و انگریزی میں طبع ہوچکا ہے۔ یہ نہ صرف اُمتِ مسلمہ بلکہ پوری دنیا کے لیے یہ ایک عدیم النظیر اور فقید المثال تحفہ ہے۔ اِن شاء اللہ یہ نصابات بحالیِ اَمن کے سلسلے میں مختلف طبقاتِ معاشرہ کی فکری و نظریاتی تربیت کے سلسلے میں ایک سنگِ میل ثابت ہوں گے۔

’فروغِ اَمن اور اِنسدادِ دہشت گردی کا اِسلامی نصاب‘ نہایت جامع ہے۔ اگر مقتدر طبقات معتدل فکر کو پروان چڑھانے کے لیے اِس اِسلامی نصاب سے کما حقہٗ اِستفادہ کرتے ہیں اور مذکورہ طبقات کے لیے اِس کے کورسز کا بھرپور اِہتمام کرتے ہیں تو ہمیں اللہ رب العزت کی بارگاہ میں کامل یقین ہے کہ معاشرے سے اِنتہا پسندی و تنگ نظری کے عفریت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوگا، اِنتہا پسندوں کی صورت میں دہشت گردوں کو ملنے والی نرسری کی نشو و نما ممکن نہ رہے گی اور اِن شاء اللہ تعالیٰ ہماری دنیا صحیح اِسلامی تعلیمات کے مطابق اَمن و سلامتی، تحمل و برداشت، رواداری اور ہم آہنگی کا گہوارہ بن سکے گی۔

5۔ دہشت گردی کے خلاف جرأت مندانہ فیصلوں کی ضرورت ہے

یہاں یہ بات واضح کر دینا ضروری ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ضربِ عضب آپریشن کے فیصلے کی اس گھڑی میں کسی کے قدم ڈگمگا نہ جائیں - خواہ فوجی ہیں یا غیر فوجی۔ پارلیمنٹ کے اندر سیاسی و مذہبی جماعتیں ہیں، سیاست دان ہیں یا جنرلز، سب کے لیے یہ فیصلے کا وقت ہے۔ اگر اب بھی لچک دکھا دی گئی، دہشت گردی کو اس ملک میں برقرار رکھا گیا اور دہشت گردوں کے بچاؤ کے راستے نکال لیے گئے تو پھر اس ملک کا خدا حافظ ہے۔ پھر سوال ہو گا کہ کیا 1947ء میں یہ ملک دہشت گردوں کے لیے اور انسانوں کے قتل کے لیے بنایا گیا تھا؟

دہشت گردی کے خلاف اُٹھائے گئے حالیہ اقدامات محض کھیل تماشا نہیں ہونے چاہئیـں۔ دہشت گردی کے معاملات کو اگر اب بھی سیاست کا کھیل تماشا بنایا گیا تو دنیا ہم پر لعنت بھیجے گی۔ لہٰذا تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں، قائدین اور قومِ پاکستان کو اس جنگ میں پاک فوج کے شانہ بشانہ اِستقامت کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔

6۔ اے خاصۂ خاصانِ رُسل وقتِ دُعا ہے!

حضور نبی اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ کا پیغام یہ ہے کہ ہم اُس رسول کے اُمتی ہیں جو بچوں اور عورتوں کی تکلیف کے پیش نظر، ماؤں کے جذبات کی تکلیف کے پیش نظر اپنی نماز اور اللہ کی عبادت کو مختصر کر لیتے۔ ہم اللہ تعالی کے اُس رسول ﷺ کی اُمت ہیں جو بچے کا رونا گوارا نہیں کرتے اور اُس کی وجہ سے اُس کی ماں کے دل کا تڑپنا گوارا نہیں کرتے۔

ذرا سوچیں! پشاور کے ڈیڑھ سو بچوں کی ماؤں پر کیا بیتی ہوگی؟ سوچیں کہ ماڈل ٹاؤن کے چودہ شہداء کے گھر والوں پر کیا بیت رہا ہوگا۔ وہ بھی دہشت گردی تھی اور یہ بھی دہشت گردی ہے۔ پچھلے برسوں میں جو پاکستان کے پچاس ہزار سے زائد بے گناہ لوگوں کی جانیں دہشت گردی کی نذر ہو چکی ہیں، ان کے گھرانوں پر کیا بیتا ہوگا اور کیا بیت رہا ہے! قوم منتظر ہے اُس معاشرے کی جھلک دیکھنے کے لیے جس کے لیے پاکستان بنا تھا۔ اگر ہم دہشت گردی سے اپنے ملک کو پاک نہیں کر سکتے اور دہشت گردوں کو بچاتے ہیں تو اس پاکستان کے رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ پھر ہمارا شمار منافق اور دھوکے باز لوگوں میں ہوگا۔ ساری قوم سب سے بڑی بے ایمان ہوگی اور ہم دجل و فریب کرنے والے ہوں گے۔ یہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے بھی دھوکہ، رسول مکرم ﷺ سے بھی دھوکہ، دین اسلام سے بھی دھوکہ، پاکستان سے بھی دھوکہ اور پوری نوع انسانی کے ساتھ بھی دھوکہ ہے۔ لہٰذا ہمیں دہشت گردی کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنا ہوگا اور ایسا معاشرہ بنانا ہوگا جس میں انسانوں سے محبت ہو، جانوروں اور پرندوں سے محبت ہو، نباتات و جمادات سے محبت ہو، الغرض تمام مخلوقِ خدا سے محبت ہو، ہر طرف اَمن اور عدم تشدد ہو۔ اس کے لیے عزمِ مصمم، پختہ ارادے اور ٹھوس عمل کی ضرورت ہے۔

پاکستان عظیم ملک ہے، افسوس! اسے دہشت گردی نے بدنام اور برباد کر دیا ہے۔ اسے پھر اپنی عظمت کی طرف لوٹانے کے لیے ہر کوئی اپنا حق ادا کرے۔ پوری قوم اپنا فریضہ ادا کرے۔ قوم محاسبہ کرے اور نگران بنے اور کسی کو دہشت گردی کے موضوع پر سمجھوتہ نہ کرنے دیاجائے۔

تحریک منہاج القرآن اور پاکستان عوامی تحریک کی ہر کاوش قیامِ امن کے لیے ہے۔ منہاج القرآن نے اسی ملک میں امن، محبت، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول اور اس کے رسول ﷺ کو راضی کرنے کے لیے گوشہ درود کا نظام وضع کیا ہے۔ جہاں چوبیس گھنٹے اللہ تعالیٰ کے پیارے محبوب ﷺ کی بارگاہ میں درود پاک کے نذرانے پیش کیے جاتے ہیں اور پوری اُمت کے لیے اللہ تعالیٰ سے رحمت کی دعائیں کی جاتی ہیں۔ افسوس! معاشرتی دہشت گردی کا یہ عالم ہے کہ 17 جون 2014ء کو ریاستی دہشت گردوں نے اس گوشہ درود پر بھی گولیاں برسائیں اور گوشہ نشینوں کو زخمی کیا۔ اس حد تک جانے والے لوگوں کا محاسبہ اور گرفت کرکے ایسی سوچ کا قلع قمع ہونا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اسلام کی حقیقی تعلیمات کا امین بنائے اور اس معاشرے کو جنت نظیر بنانے کے لیے محبت، امن، سہولت، آسانی، شفقت، محبت اور عدم تشدد پر مبنی اسلامی تعلیمات کو اس مملکتِ خداداد کے لیے ضابطۂ حیات بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین بجاهِ سید المرسلین ﷺ )

Copyrights © 2026 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved