The Great Slaughter—Isma‘il to Husayn (A.S.)

باب اول :ذبح اسماعیل علیہ السلام

بارگاہ خداوندی سے سیدنا اسمٰعیل علیہ السلام کی قربانی کا حکم

اللہ تبارک تعالیٰ اپنے بندوں کی دعائیں بھی قبول کرتا ہے اور انہیں آزمائش میں بھی ڈالتا ہے۔ ان کی قوت ایمانی کا امتحان بھی لیتا ہے اور انہیں ارفع و اعلی مقامات پر فائز بھی کرتا ہے۔ انبیائے کرام کو اللہ تعالیٰ نے جس طرح کائنات میں سب سے بلند مراتب پر فائز فرمایا اور اپنے قرب و وصال کی نعمتوں سے نوازا اسی طرح انہیں بڑی کٹھن منزلوں سے بھی گزرنا پڑا۔ انہیں بڑی سے بڑی قربانی کا حکم ہوا لیکن ان کے مقام بندگی کا یہ اعجاز تھا کہ سر مو حکم ربی سے انحراف یا تساہل نہیں برتا، ان کی اطاعت، خشیت اور محبت کا یہی معیار تھا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی اور اس میں موجود جملہ نعمتوں کو اپنے مولا کی رضا کیلئے وقف کیے رکھا، حتی کہ اولاد جیسی عزیز ترین متاع کے قربان کرنے کا حکم بھی ملتا تو ثابت کردیا کہ یہ بھی اس کی راہ پر قربان کی جاسکتی ہے۔ جملہ انبیائے کرام اپنی شان بندگی میں یکتا اور بے مثال تھے لیکن سلسلہ انبیاء میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی داستان عزیمت بہت دلچسپ اور قابل رشک ہے۔ ان کے لیے اللہ کی راہ میں بیٹے کو قربان کرنے کا حکم ایک بہت بڑی آزمائش تھی لیکن سیدنا ابراہیم علیہ السلام اس آزمائش میں بھی پورا اترے کیسے؟ قرآن کی زبانی ملاحظہ فرمائیں۔

رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَO فَبَشَّرْنَاهُ بِغُلَامٍ حَلِيمٍO فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانظُرْ مَاذَا تَرَى قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَO فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِO وَنَادَيْنَاهُ أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُO قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا إِنَّا كَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَO إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينُO وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍO

اے میرے پروردگار مجھ کو نیک بیٹا عطا فرما۔ پس ہم نے ان کو ایک بردبار بیٹے کی بشارت دی۔ پھر جب وہ (اسمٰعیل) ان کے ساتھ دوڑنے (کی عمر) کو پہنچے فرمایا اے میرے بیٹے، میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تم کو ذبح کر رہا ہوں پس تم بھی غور کرلو کہ تمہارا کیا خیال ہے (اسمٰعیل نے بلا تردد) عرض کیا اے اباجان (پھردیر کیا ہے) جو کچھ آپ کو حکم ہوا کر ڈالئے (جہاں تک میرا تعلق ہے) آپ ان شاء اللہ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔ پھر جب دونوں نے (اللہ کا) حکم مان لیا اور (ابراہیم نے) ان کو ماتھے کے بل لٹایا۔ اور ہم نے ان کو ندا دی کہ اے ابراہیم (کیا خوب) تم نے اپنا خواب سچا کر دکھایا۔ ہم نیکو کاروں کو یوں ہی بدلہ دیتے ہیں۔ (بے شک باپ کا بیٹے کے ذبح کے لئے تیار ہوجانا) یہ ایک بڑی صریح آزمائش تھی (حضرت ابراہیم اس آزمائش میں پورا اترے) اور ہم نے ایک عظیم قربانی کو ان کا فدیہ (بنا) دیا۔

(الصفت، 37 : 100 - 107)

پیکرِتسلیم و رضا

حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام اللہ رب العزت کے جلیل القدر پیغمبر تھے۔ ہمارے آقا و مولا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جد امجد، ابتلا و آزمائش کے ان گنت مراحل سے گزرے، سفر ہجرت اختیار کیا، اپنی اہلیہ حضرت ہاجرہ اور ننھے فرزند ارجمند حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بے آب و گیاہ صحرا میں چھوڑا۔ تبلیغ دین کا ہر راستہ دراصل انقلاب کا راستہ ہے اور شاہراہ انقلاب پھولوں کی سیج نہیں ہوتی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پوری زندگی اسی انقلابی جدوجہد سے عبارت ہے۔

سیدنا ابراہیم علیہ السلام بارگاہ خداوندی میں التجا کرتے ہیں کہ باری تعالیٰ مجھے ایک نیک، صالح اور پاکباز بیٹے سے نواز، اللہ پاک دعائے ابراہیمی کو شرف قبولیت عطا فرماتے ہیں، بارگاہ خداوندی سے انہیں اطاعت گزار بیٹا عطا ہوتا ہے جن کا نام اسماعیل رکھا جاتا ہے۔ باپ کی آنکھوں کا نور، اور اس کی دیرینہ محبتوں اور چاہتوں کا مرکز، حضرت اسماعیل علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آخری عمر کا سہارا بھی تھے۔ باپ اور بیٹے کے درمیان اس بے پناہ محبت کو دیکھ کر اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا کہ ابراہیم! اپنے لخت جگر اسماعیل کو ہماری راہ میں قربان کر۔

غور کیا جائے تو یہ مقام حیرت و استعجاب ہے۔ اللہ کا پیغمبر یہ اچھی طرح جانتا ہے کہ آج تک کسی انسان کی قربانی کا حکم نہیں دیا گیا، وہ اس پر لیت و لعل سے بھی کام لے سکتے تھے اور اس کا قرینہ بھی تھا کیونکہ یہ حکم آپ کو خواب میں دیا گیا تھا لیکن دیکھیے پیغمبر کے ایمان و عمل کی رفعتیں! انہوں نے ایک لمحہ توقف کیے بغیر سارا ماجرا اپنے بیٹے اسماعیل کو سنایا لیکن انہیں حکم نہیں دیا بلکہ ان سے رائے پوچھی۔ قربان جائیں اس پیغمبر زادے کی ایمانی عظمتوں پر بھی جنہوں نے باپ کے خواب کو اللہ کا حکم سمجھتے ہوئے سر تسلیم خم کر کے تاریخ انسانیت میں ذبیح اللہ کا منفرد اعزاز حاصل کیا۔

حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام حضرت اسماعیل علیہ السلام سے مخاطب ہوتے ہیں کہ بیٹا ! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ تجھے اللہ کی راہ میں ذبح کر رہا ہوں۔ باپ بیٹا دونوں جانتے ہیں کہ پیغمبر کا خواب اللہ کی وحی ہوتا ہے اس لئے باپ بیٹے سے پوچھتا ہے بیٹا! بتا تیری کیا رائے ہے؟ اطاعت گزار بیٹا جواب دیتا ہے اباجان! آپ اپنے رب کے حکم کی تعمیل کیجئے آپ مجھے ان شاء اللہ صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔ قرآن بتاتا ہے کہ سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے حضرت اسماعیل کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کے لئے اوندھے منہ لٹا دیتے ہیں اور اپنے لاڈلے بیٹے کو ذبح کرنے کے لئے چھری ہاتھ میں لیتے ہیں۔ غیب سے آواز آتی ہے وَنَادَيْنَاهُ أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُO قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا إِنَّا كَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَO ابراہیم! تو نے اپنا خواب اور اللہ کا امر سچا کر دکھایا، ہم اسی طرح نیکوکاروں کو جزاء دیتے ہیں، اپنے بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا حکم اللہ کے نبی کی بہت بڑی آزمائش اور ایک بہت بڑا امتحان تھا، حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام اس بڑے نازک امتحان میں کامیاب و کامران رہے۔ آسمان سے ایک مینڈھا آتا ہے اور حضرت ابراہیم، حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ اس مینڈے کو ذبح کرتے ہیں، ارشاد ہوتا ہے ابراہیم! تمہاری قربانی قبول ہوگئی۔ ہم نے اسماعیل کی ذبح کو ’’ایک عظیم ذبح،، کے ساتھ فدیہ کر دیا۔ سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی بھی بارگاہ خداوندی میں مقبول و منظور ہوگئی اور ان کے فرزند ارجمند حضرت اسماعیل علیہ السلام کی زندگی بھی بچ گئی۔

حیات اسماعیل علیہ السلام کو تحفظ کیوں دیا گیا؟

اب ذہن انسانی میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو بچانا ہی مقصود تھا تو پھر ان کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا حکم کیوں ہوا؟ اور اگر حکم ہوا تھا تو ان کی زندگی کو تحفظ کیوں دیا گیا۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ حکم اس لئے ہوا کہ سراپائے ایثار و قربانی پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لخت جگر سے ذبح کی تاریخ کی ابتدا ہوجائے کہ راہ حق میں قربانیاں دینے کا آغاز انبیاء کی سنت ہے اور بچا اس لئے گیا کہ اس عظیم پیغمبر کی نسل پاک میں نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت با سعادت ہونا تھی۔ اولاد ابراہیم علیہ السلام میں تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تشریف لانا تھا اس لئے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ذبح کو جنت سے لائے گئے مینڈھے کی قربانی کی صورت میں’’عظیم ذبح،، کے ساتھ بدل دیا گیا اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام محفوظ و مامون رہے۔

تعمیر کعبہ سے کائنات کی امامت تک

سیدنا حضرت اسماعیل علیہ السلام سن بلوغت کو پہنچے، تو مکہ معظمہ کی وادی میں اپنے والد بزرگوار حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ تشریف لائے۔ اللہ رب العزت کی طرف سے انہیں کعبۃ اللہ کی تعمیر کا حکم ہوا، یہ ایک بہت بڑا اعزاز تھا جو سرورکائنات حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جد امجد کے حصہ میں آیا۔ انہی کی نسل پاک میں مبعوث ہونے والے پیغمبر اعظم و آخر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حصے میں یہ سعادت بھی آئی کہ کعبۃ اللہ کو تین سو ساٹھ بتوں سے پاک کر کے اس پر پرچم توحید لہرایا۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی حیات مقدسہ پر ایک نظر ڈالیں تو کار نبوت کی انجام دہی میں انہیں ان گنت مصائب کا سامنا رہا اور آزمائش کے کٹھن مراحل سے گزرنا پڑا۔ اللہ کے اس عظیم پیغمبر نے راہ حق میں آنے والی ان مشکلات کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کیا اور ہر آزمائش پر پورا اترے۔ کامیابی نے قدم قدم پر ان کے قدموں کو بوسہ دینے کا اعزاز حاصل کیا چنانچہ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے باربار سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی داستان عزیمت کو شاندار الفاظ میں دھرایا ہے سورہ بقرہ میں ارشاد خداوند ی ہے۔

وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا قَالَ وَمِن ذُرِّيَّتِي قَالَ لاَ يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَO وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَأَمْناً وَاتَّخِذُواْ مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى وَعَهِدْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ أَن طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِO وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَـَذَا بَلَدًا آمِنًا وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُم بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ قَالَ وَمَن كَفَرَ فَأُمَتِّعُهُ قَلِيلاً ثُمَّ أَضْطَرُّهُ إِلَى عَذَابِ النَّارِ وَبِئْسَ الْمَصِيرُO وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُO رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِن ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَآ إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُO رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنتَ العَزِيزُ الحَكِيمُO

اور (وہ وقت یاد کرو) جب ابراہیم کو ان کے رب نے کئی باتوں میں آزمایا تو انہوں نے وہ پوری کردیں، (اس پر) اللہ نے فرمایا میں تمہیں لوگوں کا پیشوا بناؤں گا، انہوں نے عرض کیا (کیا) میری اولاد میں سے بھی؟ ارشاد ہوا (ہاں مگر) میرا وعدہ ظالموں کو نہیں پہنچتا۔ (اور یاد کرو) جب ہم نے اس گھر (خانہ کعبہ) کو لوگوں کیلئے رجوع (اور اجتماع) کا مرکز اور جائے امان بنا دیا، اور (حکم دیا کہ) ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو مقام نماز بنالو، اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل کو تاکید فرمائی کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے پاک (صاف) کردو۔ اور جب ابراہیم نے عرض کیا اے میرے رب! اسے امن والا شہر بنا دے اور اس کے باشندوں کو طرح طرح کے پھلوں سے نواز (یعنی) ان لوگوں کو جو ان میں سے اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان لائے، (اللہ نے) فرمایا اور جو کوئی کفر کرے گا اس کو بھی زندگی کی تھوڑی مدت (کیلئے) فائدہ پہنچاؤں گا پھر اسے (اس کفر کے باعث) دوزخ کی عذاب کی طرف (جانے پر) مجبور کردوں گا اور وہ بہت بری جگہ ہے۔ اور (یاد کرو) جب ابراہیم اور اسمٰعیل خانہ کعبہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے (تو دونوں دعا کر رہے تھے) کہ اے ہمارے رب! تو ہم سے (یہ خدمت) قبول فرما لے، بے شک تو خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے۔ اے ہمارے رب ہم دونوں کو اپنے حکم کے سامنے جھکنے والا بنا اور ہماری اولاد سے بھی ایک امت کو خاص اپنا تابع فرمان بنا، اور ہمیں ہماری عبادت (اور حج کے) قواعد بتا دے اور ہم پر (رحمت و مغفرت) کی نظر فرما، بے شک تو ہی بہت توبہ قبول فرمانے والا مہربان ہے۔ اے ہمارے رب، ان میں انہی میں سے (وہ آخری اور برگزیدہ) رسول مبعوث فرما جو ان پر تیری آیتیں تلاوت فرمائے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے (کر دانائے راز بنا دے) اور ان (کے نفوس و قلوب) کو خوب پاک صاف کردے، بے شک تو ہی غالب حکمت والا ہے۔

(البقره، 2 : 124 - 129)

آزمائش کا مرحلہ گزر گیا۔ کامیابی کا نور سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مقدس پیشانی پر چمکنے لگا، اس وقت پیغام حق آیا کہ ابراہیم! ہم نے تیری عبدیت کو پرکھ لیا، ہم نے تیری شان خلیلی کا امتحان لے لیا۔ ہم نے دیکھ لیا کہ تیرے دل میں ہماری محبت کے کتنے سمندر موجزن ہیں، ہم نے تیری قربانیوں کا بھی مشاہدہ کیا، قدم قدم پر تیرے صبر و استقامت کو بھی دیکھا۔ ہم نے تیرے توکل اور کلمہ شکر کی ادائیگی کا حسن بھی دیکھا۔ ان تمام آزمائشوں پر پورا اترنے کے بعد آ ! ابراہیم اب ایک خوشخبری بھی سن لے، ایک مژدہ جانفزا بھی سماعت کر، وہ خوشخبری کیا ہے، وہ مژدہ جانفزا کیا ہے؟ وہ خوشخبری یہ ہے کہ ابراہیم ! میں تجھے نسل بنی آدم کی امامت عطا کرتا ہوں۔ پوری انسانیت کی امامت، تمام امتوں کی امامت، اقوام عالم کی امامت۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا

سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا باری تعالیٰ یہ امامت صرف میرے لئے ہے یا میری ذریت اور نسل کے لئے بھی؟ ارشاد ہوا ’’لاَ يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَO، ابراہیم! ہم نے تجھے بھی امامت دی اور یہ امامت تیری ذریت اور نسل کو بھی عطا کی، مگر شرط یہ ہے کہ یہ امامت اس کا مقدر بنے گی جو تیرے نقش قدم پر چلے گا جو صراط مستقیم کو اپنائے گا وہ دنیا کی امامت پائے گا لیکن جو تیری راہ سے منحرف ہوگا، امامت کا بھی حق دار نہ ہوگا۔

پھر تعمیر کعبہ کا حکم ہوا۔ عظیم باپ اور عظیم بیٹا تعمیر کعبہ میں مصروف ہوگئے ایک ایک پتھر لاتے اور کعبہ کی دیواریں تعمیر کرتے۔ دیواریں بلند ہوگئیں، ایک پتھر عطا ہوا جس پر کھڑے ہوکر تعمیر کا کام ہو رہا تھا۔ جوں جوں دیواریں اونچی ہورہی تھیں توں توں یہ پتھر بھی بلند ہوتا جاتا اور سیدنا حضرت اسماعیل علیہ السلام تعمیر کعبہ میں اپنے والد گرامی کی معاونت فرماتے، پتھر ڈھونڈ ڈھونڈ کر لاتے وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ، جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا اسماعیل علیہ السلام تعمیر کعبہ میں مصروف ہوتے تو یہ کلمات ان کی زبان اقدس پر جاری ہوتے ’’رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ،، مولا! ہم تیرے گھر کی تعمیر کر رہے ہیں ہماری یہ مشقت قبول فرما، ہماری اس مزدوری کو قبولیت کا شرف عطا کر، رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ، یا باری تعالیٰ! ہماری جبینیں تیرے حضور جھکی رہیں، ہمارے سجدوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما۔ وَمِن ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ، ہماری آل اور ذریت میں سے امت مسلمہ پیدا کر۔ پھر اگلی آیت میں حکم ہوا تم نے آج ہمارا گھر تعمیر کیا ہے جو مانگنا ہے مانگ لو، اپنی مشقت کا صلہ طلب کرلو، بارگاہ خداوندی میں ہاتھ اٹھ گئے ’’رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنتَ العَزِيزُ الحَكِيمُO،، باری تعالیٰ ہم نے تیرے گھر کی دیواریں بلند کی ہیں ہم نے اپنی ذریت میں سے امت مسلمہ مانگ لی ہے۔ اے خدائے رحیم و کریم، حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر مجھ تک ہر زمانے میں نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظہور کا اعلان کرتا رہا ہے، یہ سلسلہ نبوت و رسالت اس مقدس ہستی پر جا کر ختم ہوجائے گا۔ وہ رسول معظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس کی خاطر تو نے یہ بزم کائنات سجائی۔ کرہ ارض پر ہزارہا انبیاء کو مبعوث فرمایا وہ رسول آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس کے لئے تو نے ملتوں کو پیدا کیا۔ دنیائے رنگ و بو کو آراستہ کیا، آبشاروں کو تکلم کا ہنر بخشا، ہواؤں کو چلنے کی خو عطا فرمائی۔ وہ رسول برحق جس کی خاطر تو نے اپنا جلوہ بے نقاب کیا، جس کی خاطر تو نے اپنی مخلوقات کو پردہ عدم سے وجود بخشا، جس کی خاطر تو نے انسانوں کے لئے ہدایت آسمانی کے سلسلے کا آغاز کیا، اس رسول معظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اوراس نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس کائنات رنگ و بو میں ظہور ہونے والا ہے، باری تعالیٰ نے فرمایا ہاں ابراہیم ہمارا وہ محبوب رسول آنے والا ہے، بتا ابراہیم! تو کیا چاہتا ہے۔ فرمایا رب کائنات! اگر تو تعمیر کعبہ کی ہمیں مزدوری دینا چاہتا ہے، اگر تعمیل حکم میں ہمیں تو کچھ عطا کرنا چاہتا ہے تو اے پروردگار اپنے اس آخری رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میری اولاد میں مبعوث ہونے کا شرف عطا فرما۔ میری ذریت کو نور محمدی کے جلووں سے ہمکنار کردے، میری اولاد کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قدم بوسی کی سعادت بخش دے، مولا! مجھے اپنا محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دے دے۔ ارشاد ہوا، ابراہیم تو نے تین چیزیں

(1) نبوت و رسالت

(2) ختم نبوت اور

(3) امت مسلمہ اپنی ذریت کے لئے مانگ لی ہیں، ابراہیم تو نے میری محبت اور رضا کیلئے میرا گھر تعمیر کیا ہے اور دعا بھی وہ مانگی ہے جسے میں رد نہیں کرسکتا اس لئے ابراہیم! جا ہم نے تجھے تیری مزدوری کے صلے میں یہ تینوں چیزیں عطا کردیں۔

پتھر کی عظمت

روایات میں ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے جس پتھر پر کھڑے ہوکر اپنی نسل میں تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت با سعادت کی دعا مانگی تھی یہ وہی پتھر تھا جس پر کھڑے ہوکر آپ نے تعمیر کعبہ کا کام سر انجام دیا تھا۔ اس مقدس پتھر کی عظمت پر جان و دل نثار جس پر کھڑے ہوکر اپنی اولاد میں نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبعوث ہونے کی دعا مانگی جارہی ہے۔ رب نے کہا اے بے جان پتھر تجھے خبر ہے تجھ پر کھڑے ہوکر ابراہیم علیہ السلام نے ہم سے کیا مانگ لیا ہے اس لمحے کو اپنے سینے میں محفوظ کرلے کہ یہ لمحہ قبولیت کا لمحہ ہے۔ اس لمحے ہمارے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کا ذکر ہو رہا ہے۔ اس وقت رسول کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تذکار جلیلہ سے روح کائنات معطر ہے، قدرت خداوندی سے پتھر موم ہوگیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قدموں کے نشان قیامت تک کے لئے اس میں پیوست ہوگئے۔

اس پتھر کا اعزاز یہ تھا کہ اس پر کھڑے ہوکر اللہ کے ایک جلیل القدر پیغمبر نے اس کے محبوب کا تذکرہ چھیڑ دیا تھا۔ اللہ کے نبی کی نسبت سے وہ پتھر بھی محترم ہوگیا۔ بے شمار پتھروں پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قدموں کے نشان لگے ہونگے، ان گنت پتھروں نے کف پائے ابراہیم علیہ السلام کو بوسہ دینے کا اعزاز حاصل کیا ہوگا لیکن امتداد زمانہ کے ساتھ وہ نقوش مٹتے گئے، ماہ و سال کی گرد انہیں اپنے دامن میں چھپاتی رہی مگر جس پتھر پر کھڑے ہوکر سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے طلوع صبح میلاد کی دعا مانگی تھی، اللہ سے اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مانگا تھا۔ کونین کی دولت کو اپنے دامن میں سمیٹنے کی آرزو کی تھی وہ پتھر حرم اقدس میں مقام ابراہیم پر قیامت تک کے لئے محفوظ کردیا گیا۔

ہم نے ابراہیم علیہ السلام کی دعا کو قبولیت کی خلعت فاخرہ عطا کی، اور جو پتھر ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا نشان تھا اسے صحن کعبہ میں قیامت تک کے لئے محفوظ کردیا اور باقی تمام پتھر حدود کعبہ سے ہٹا دئیے کیونکہ کعبہ میری سجدہ گاہ ہے۔ یہ میری توحید کا مرکز ہے، اس کی سمت منہ کر کے عبادت کی جاتی ہے یہ محور حق ہے۔ خلقت کا منبع و مرکز ہے، مشرق سے مغرب تک لوگ میرے کعبے میں حج و عبادت کے لیے آئینگے، حرم کی زمین کو اپنے سجدوں سے بسائینگے۔ یہ فضاء ان کے نالہ ہائے نیم شبی سے معمور ہوگی۔ میں انہیں یہ پتھر دکھاؤں گا جو دعائے خلیل علیہ السلام کی یادگار ہے جس پر کھڑے ہوکر اس نے نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اپنی نسل میں مبعوث ہونے کی دعا مانگی تھی۔ اے حرم کعبہ تک آنے والو! اے میرے گھر کی زیارت کی سعادت حاصل کرنے والو! یہ صدقہ ہے اس پتھر کا جن پر ابراہیم علیہ السلام کے قدموں کے نشان ہیں کیونکہ یہ دعائے مصطفےٰ کا نقش ہے۔

حکم ہوا وَاتَّخِذُواْ مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى، سوال ہوا کہ باری تعالیٰ اس پتھر کو کیسے محفوظ کریں۔ فرمایا اس پتھر کو کعبے کے سامنے گاڑ دو، اس وقت تک میرے گھر کا طواف مکمل نہیں ہوگا جب تک طواف کرنے والے اس پتھر کے سامنے میرے حضور سجدہ ریز نہ ہوں گے تاکہ دنیا کو معلوم ہوجائے کہ یہ تمام انعامات و اکرامات صدقہ ہے اس پتھرکا۔

دعائے خلیل کی قبولیت

دعائے خلیل کو خلعت قبولیت عطا ہوئی، کونین کی دولت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے دامن طلب میں ڈال دی گئی یہ دعا پہلے پارے کے آخر میں آئی ہے دوسرے پارے کے شروع میں اس کا جواب بھی آگیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

كَمَا أَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولاً مِّنكُمْ يَتْلُو عَلَيْكُمْ آيَاتِنَا وَيُزَكِّيكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُم مَّا لَمْ تَكُونُواْ تَعْلَمُونَO فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُواْ لِي وَلاَ تَكْفُرُونِO يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَعِينُواْ بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَةِ إِنَّ اللّهَ مَعَ الصَّابِرِينَO وَلاَ تَقُولُواْ لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَكِن لاَّ تَشْعُرُونَO وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوفْ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَO الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُواْ إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعُونَO أُولَـئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَـئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَO

اسی طرح ہم نے تمہارے اندر تمہیں میں سے (اپنا ) رسول بھیجا جو تم پر ہماری آیتیں تلاوت فرماتا ہے اور تمہیں (نفسا و قلبا) پاک صاف کرتا ہے اور تمہیں کتاب کی تعلیم دیتا ہے اور حکمت و دانائی سکھاتا ہے اور تمہیں وہ (اسرار معرفت و حقیقت) سکھاتا ہے جو تم نہ جانتے تھے۔ سو تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا اور میرا شکر ادا کیا کرو اور میری ناشکری نہ کیا کرو۔ اے ایمان والو صبر اور نماز کے ذریعے (مجھ سے) مدد چاہا کرو، یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ (ہوتا ) ہے۔ اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مت کہا کرو کہ یہ مردہ ہیں، (وہ مردہ نہیں) بلکہ زندہ ہیں لیکن تمہیں (ان کی زندگی کا ) شعور نہیں۔ اور ہم تمہیں ضرور بالضرور آزمائیں گے کچھ خوف اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے، اور (اے حبیب) آپ (ان) صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں۔ جن پر کوئی مصیبت پڑتی ہے توکہتے ہیں بے شک ہم بھی اللہ ہی کا (مال) ہیں اور ہم بھی اس کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے پے در پے نوازشیں ہیں اور رحمت ہے، اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔

(البقره، 2 : 151 - 157)

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ سے قوموں کی امامت کا سوال کیا، امامت کی دو شکلیں کردی گئیں۔ کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نبوت کو ختم ہونا تھا اور تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر اقدس پر ختم نبوت کا تاج سجایا جانا مقصود تھا اس لئے امامت کے دو جزو کردیئے گئے۔ ایک امامت سے نبوت اور دوسری امامت سے ولایت۔ حکمت یہ تھی کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نبوت کا سلسلہ ختم ہوجائے تو پھر فیض نبوت بشکل امامت میرے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کو ملنا شروع ہوجائے یوں سورہ بقرہ آیت 151 سے 157 تک دعائے ابراہیم کا جواب ہے۔

دعا تو فقط یہ تھی کہ مولا! اپنا وہ پیغمبر، رسول آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری آل میں میری نسل میں مبعوث فرما۔ اللہ رب العزت نے جواب میں فرمایا کہ دو چیزیں عطا کرتا ہوں ایک نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت اور پھر شہادت۔ فرمایا ’’ كَمَا أَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولاً مِّنكُمْ ،، آگے اس سے متعلق فرمایا يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَعِينُواْ بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَةِ إِنَّ اللّهَ مَعَ الصَّابِرِينَO اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعہ مدد مانگنا ’’وَلاَ تَقُولُواْ لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللّهِ أَمْوَاتٌ،، جو اللہ کی راہ میں شہید ہوں انہیں مردہ نہ کہو بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَكِن لاَّ تَشْعُرُونَO ’’وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں،،

بعثت محمدی اور شہادت کا باہمی ربط مذکورہ آیات میں بڑے اہم نکات کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ دعائے ابراہیم علیہ السلام کے جواب میں ایک طرف حضورٌ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت بیان کی جارہی ہے تو دوسری طرف شہادت کا ذکر ہے۔ اس وجدانی اور عرفانی نکتے کی وضاحت تو آئندہ صفحات میں کی جائے گی، تاہم یہاں صرف اتنا بتا دینا کافی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان ختم نبوت کے ساتھ آپ کو مرتبہ شہادت پر بھی فائز کرنا مقصود تھا جس کا مظہر نواسہء رسول سیدنا امام حسین قرار پائے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ کو ہی ذبح عظیم کا مصداق سمجھتے ہیں۔

ذبح عظیم کا مفہوم

حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی حیات مقدسہ میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا واقعہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کی وجہ سے انہیں بارگاہ خداوندی سے شرف امامت بھی عطا کیا گیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کی راہ میں اپنے بیٹے کو قربان کرنے کے لئے خود بھی تیار ہوگئے تھے اور سعادت مند بیٹے نے بھی حکم خداوندی کے آگے سر تسلیم خم کردیا تھا۔ باپ بیٹے نے تسلیم جاں کا یہ اظہار زبانی کلامی نہیں کیا بلکہ عملاً حکم کی بجا آوری کے لئے بیٹے کی قربانی کی غرض سے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے ہاتھ میں چھری بھی لے لی تھی۔ اس کا تفصیلی ذکر گزشتہ صفحات میں ہوچکا ہے، حضرت اسماعیل علیہ السلام کی زندگی محفوظ رہی کہ ان کی نسل پاک سے نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت ہونا تھی، خدائے بزرگ و برتر نے وفدیناہ بذبح عظیم کہہ کر اسماعیل کے ذبح کو ذبح عظیم کا فدیہ قرار دیا۔ فرزند پیغمبر کی قربانی ہونا بعثت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاطر موقوف ہوئی۔ حکمت خداوندی یہ تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد چونکہ کوئی نبی نہیں آئے گا اس لئے شہادت کے لئے اس کے لخت جگر کا انتخاب عمل میں آئے گا اور ذبح اسماعیل علیہ السلام کو مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لخت جگر سیدنا امام حسین علیہ السلام سے ذبح عظیم بنا دیں گے۔

ذبح اسمٰعیل اور شہادت امام حسین کا باہمی تعلق

اگر شہادت حسین رضی اللہ عنہ کا تعلق ذبح اسماعیل سے جوڑا نہ جائے تو بات مکمل نہیں ہوتی، شہادت کا عمل ادھورا رہ جاتا ہے اور بات مکمل طور پرسمجھ میں نہیں آتی۔ حضر ت اسماعیل کی قربانی کو صرف ’’ذبح،، کے لفظ سے ذکر کیا گیا۔ ان کی جگہ مینڈھے کی قربانی ہوئی تو اسے ’’ذبح عظیم،، کہا گیا۔ اب یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ مینڈھے کی قربانی کو ذبح عظیم اور پیغمبر کے بیٹے کی قربانی کو محض ذبح کہا جائے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس ذبح عظیم سے مراد کونسی قربانی ہے؟ ذبح عظیم یقیناً وہی قربانی ہوگی جو ذبح اسمٰعیل سے بڑی قربانی کی صورت میں ادا ہوگی۔

اسماعیل علیہ السلام حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے فرزند تھے جبکہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لخت جگر اور نور نظر تھے۔ قطع نظر اس کے کہ نبی اور صحابی کے مرتبے میں بہت فرق ہوتا ہے لیکن نسبت ابراہیمی سے نسبت مصطفوی یقیناً ارفع و اعلیٰ ہے علاوہ ازیں سیدنا حسین علیہ السلام کو سبط پیغمبر اور پسر بتول و حیدر ہونے کے ساتھ ساتھ نسبت ابراہیمی بھی حاصل ہے۔ نیز شہادت امام حسین چونکہ سیرت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہی باب ہے اس لئے کائنات کی اسی منفرد اور یکتا قربانی کو ہی ذبح عظیم ہونے کا شرف حاصل ہے۔ لہذا بڑی صداقت کے ساتھ یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کے ضمن میں جس ذبح عظیم کا فدیہ دیا گیا وہ ایک مینڈھا نہ تھا بلکہ وہ لخت جگر مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حسین ابن علی رضی اللہ عنہما کی قربانی تھی۔ حکیم الامت علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے اس حقیقت کو بڑے خوبصورت شعری قالب میں ڈھالا ہے۔

اللہ اللہ بائے بسم اللہ پدر معنئی ذبح عظیم آمد پسر

ذبح عظیم کے لئے نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتخاب کیوں؟

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ذبح عظیم کا مصداق اگر امام حسین ہیں تو آپ کا تعلق حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وہ نہیں جو سیدنا اسمٰعیل علیہ السلام کو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ تھا۔ یعنی وہ باپ بیٹا تھے اور یہاں بیٹا نہیں بلکہ نواسہ رسول کا انتخاب ہورہا ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ذبح عظیم کا اعزاز حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حقیقی بیٹے کے حصے میں آتا۔ اس ممکنہ سوال کے کئی جوابات ہوسکتے ہیں سب سے پہلا جواب تو یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی بیٹا جوانی یا بلوغت کی عمر کو پہنچا ہی نہیں، ایسا کیوں ہوا؟ یہ اللہ تعالی کی حکمت تھی جسکی طرف قرآن نے یوں رہنمائی فرمائی۔

مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًاO

محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں بلکہ اللہ کے رسول اور خاتم النبین ہیں (یعنی سلسلہ نبوت کو ختم کرنے والے) اور اللہ تعالیٰ سب چیزوں کو جاننے والا ہے (اسے علم ہے کہ ختم رسالت اور ختم نبوت کا وقت آگیا ہے۔)

(احزاب، 33 : 40)

یعنی اب وحی الہٰی کا دروازہ بند ہوتا ہے، حضور تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اب قیامت تک کوئی نبی نہیں۔ قرآن آسمانی ہدایت پرمشتمل آخری صحیفہ ہے جو قیامت تک اللہ کے بندوں کی رہنمائی کے لئے کافی ہے۔

اگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی جوان بیٹا ہوتا؟

آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، یہ نکتہ قابل غور ہے وہ تو اللہ کے رسول ہیں اور سلسلہ انبیاء کی آخری کڑی ہیں۔ اللہ رب العزت نے اس بات پر کیوں زور دیا کہ میرا رسول تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں یعنی یا وہ کسی جوان بیٹے کے باپ نہیں؟ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی جوان بیٹے کا باپ یا مخاطبین میں سے کسی مرد کا باپ ہونے والا شخص اللہ کا رسول نہیں ہوسکتا مثلاً

حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے رسول تھے اور جوان بیٹوں کے باپ بھی ہیں۔ حضرت اسحق اللہ کے جلیل القدر پیغمبر ہیں اور حضرت یعقوب علیہ السلام کے والد گرامی بھی ہیں۔ اس طرح حضرت یعقوب علیہ السلام خود نبی ہیں اور حضرت یوسف علیہ السلام کے والد بھی ہیں۔ حضرت داؤد علیہ السلام اللہ کے پیغمبر اور حضرت سلیمان علیہ السلام آپ کے فرزند ارجمند۔

بنی اسرائیل میں نسل در نسل نبوت کا سلسلہ جاری رہا، پیغمبروں کی اولاد (بیٹے) بھی پیغمبر ہوئی۔ تو پھر اللہ رب العزت نے کیوں فرمایا کہ میرا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تم مردوں میں سے کسی کا باپ نہیں، یا کسی جوان مرد کے باپ نہیں۔ آخر اس میں کیا حکمت کار فرما ہے؟ رسول ہونا کسی مرد کے باپ ہونے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتا۔

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ خدائے علیم و خیبر نے اس نکتے پر اس لئے زور دیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتم النبین ہیں۔ وہ میرے آخری نبی ہیں اگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی مرد کے باپ ہوتے یعنی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی بیٹا ہوتا اور وہ جوان ہوتا تو دو صورتیں ممکن ہوتیں۔

1۔ ایک یہ کہ وہ بیٹا بھی اللہ کا رسول یا نبی ہوتا جیسا کہ سابقہ انبیاء کے باب میں ہم نے دیکھا کہ اگر باپ نبی ہے تو بیٹے کو بھی خدا نے نبوت عطا کی۔

2۔ دوسری صورت یہ تھی کہ بیٹا نبی نہ ہوتا یعنی دو ہی امکانات ممکن تھے پہلی صورت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتم النبین نہ رہتے، بیٹا بھی جوان ہوکر نبی بنتا تو سلسلہ ختم نبوت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ختم نہ ہوتا اور یہ بات خدا کے فیصلے کے خلاف ہوتی اس لئے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ختم نبوت کی صفت سے سرفراز کیا ہے۔ دوسری صورت میں اگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی بیٹا جوان ہوتا اور نبی نہ بنتا تو دوسرے نبیوں کی امتیں طعنہ دیتیں کہ ہمارے نبی کا تو بیٹا بھی نبی تھا، ہمارے پیغمبر کا تو پوتا بھی پیغمبری کی صفت فاخرہ سے نوازا گیا، ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پوری نسل میں نبوت تھی۔ کوئی اعتراض کرسکتا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیروکارو! تمہارے پیغمبر کا تو بیٹا بھی ہوا لیکن اسے نبوت سے سرفراز نہ کیا گیا۔ اس اعتراض میں بظاہر دوسرے انبیاء کے مقابلے میں شان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ایک طرح کی کمی آجاتی اور اس جہت سے دیگر انبیاء فضیلت لے جاتے لیکن اللہ رب العزت کو یہ بات منظور نہ تھی جس طرح اسے یہ منظور نہ تھا کہ آمنہ کے لال کے سر اقدس پر ختم نبوت کا تاج نہ سجایا جائے اسی طرح اسے یہ بھی گوارا نہ تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی جوان بیٹا ہو اور نبوت کی سعادت سے محروم رہے، ظاہراً ہی سہی خدا کو کسی حوالے سے بھی یہ بات منظور نہ تھی کہ کوئی پیغمبر فضیلت میں مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ جائے اس کی مثال یوں ہے کہ قرآن مجید فرقان حمید میں اللہ رب العزت نے فرمایا کہ اے محبوب فرما دیں ان کا فروں اور مشرکوں کو جو کبھی عیسیٰ کو میرا بیٹا سمجھتے ہیں اور کچھ عزیر کو میرا فرزند قرار دیتے ہیں۔

قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَO

آپ (ان احمقوں سے) کہئیے کہ اگر (خدائے) رحمٰن کا بیٹا ہوتا تو میں سب سے پہلے اس کی عبادت کرنے والا ہوں۔

(الزخرف، 43 : 81)

مدعا یہ ہے کہ اگر کوئی اللہ کا بیٹا ہوتا تو میں اس کی عبادت نہ کرتا؟ اللہ کی شان کا تقاضا ہوتا کہ اس کا بیٹا بھی الوہیت کا حامل ہوتا۔ اگر رب کا بیٹا ہوکر رب نہ بنتا تو اس کی فضیلت میں کمی آجاتی۔ لوگ طعنہ دیتے کہ خدا کا بیٹا ہوکر خدا نہ بن سکا۔ اسی طرح اگر (نعوذ باللہ) کوئی خدا کا بیٹا ہوتا اور وہ بھی الوہیت کے منصب میں اللہ تعالی کا شریک ہوتا تو ظاہر ہے باپ کے ساتھ خدائی میں شراکت دار ہوتا، اور یوں تصور توحید ختم ہوجاتا۔ اس لئے فرمایا :

قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌO اللَّهُ الصَّمَدُO لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْO وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌO

(اے نبی مکرم) آپ فرما دیجئے وہ اللہ ہے جو یکتا ہے۔ اللہ سب سے بے نیاز ہے، سب کی پناہ اور سب پر فائق ہے۔ نہ اس سے کوئی پیدا ہوا ہے اور نہ ہی وہ پیدا کیا گیا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی ہمسر ہے۔

(الاخلاص، 112)

اللہ جل شانہ نے اس مختصر سورہ پاک میں عقیدہ توحید کی تمام جزئیات اور شرک کی ممکنہ شکلوں کو باطل قرار دیا، عقائد اسلامیہ کا یہ خوبصورت خلاصہ اپنے اعجاز و اختصار کے باوجود اتنا جاندار ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورہ اخلاص کو قرآن کا تیسرا جزو قرار دیتے ہوئے فرمایا جس نے تین مرتبہ اس سورت کو پڑھا گویا اس نے پورا قرآن پڑھ لیا۔ (متفق علیہ)

حضور کے صاحبزادگان کی بچپن میں وفات کی حکمت

جس طرح اس سورہ مبارکہ میں بیان کئے جانے والے مضامین کا خلاصہ یہی ہے کہ اللہ تعالی وحدہ لاشریک ہے، وہ بے نیاز ہے، اس کا کوئی بیٹا نہیں، اگر اس کا کوئی بیٹا ہوتا تو وہ بھی خدا ہوتا اور یہی یہ شرک ہوتا اور اس کی وحدانیت پر حرف آتا۔ توحید، توحید نہ رہتی۔ جس طرح توحید الوہیت نے رب کو بیٹے سے پاک رکھا اسی طرح شان ختم نبوت نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جوان بیٹے سے علیحدہ رکھا۔ اگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی جوان بیٹا ہوتا تو وہ بھی پیغمبر ہوتا اور اگر پیغمبر نہ ہوتا تو (نعوذ باللہ) شان رسالت میں کمی آتی اور پیغمبر ہوتا تو ختم نبوت کی شان ختم ہوجاتی۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتم النبین نہ رہتے، حدیث پاک میں آتا ہے، حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ جو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صاحبزادے تھے بچپن ہی میں وفات پاگئے لیکن ان کی عمر باقی صاحبزادگان حضرات سے نسبتاً زیادہ تھی۔

1۔ ان کی وفات پر آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

عن ابن عباس قال لمامات ابراهيم ابن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم وقال ان له مرضعا في الجنة ولو عاش لکان صديقا نبياً

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب ابراہیم بن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پاگئے توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا جنازہ پڑھایا اور فرمایا ان کے لئے جنت میں دودھ پلانے والی ہے اور اگر زندہ رہتے تو سچے نبی ہوتے۔

(سنن ابن ماجه : 108)

2۔ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن ابی اوفی انہی کے بارے میں کہتے ہیں۔

مات صغير ولو قضي ان يکون بعد محمد صلي الله عليه وآله وسلم نبي عاش ابنه ولکن لا نبي بعده

آپ (حضرت ابراہیم) صغر سنی میں وصال فرماگئے اور اگر یہ فیصلہ قدرت کا ہوتا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی نبی ہو تو آپ کے یہ صاحبزادے زندہ ہوتے مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں۔

(صحيح البخاري، 2 : 914)

3۔ اسی طرح مسند احمد میں روایت ہے :

عن السدی قال سمعت أنس بن مالک يقول لوعاش ابراهيم ابن النبي صلي الله عليه وآله وسلم لکان صديقاً نبياً.

حضرت سدی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اگر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ زندہ رہتے تو وہ اللہ کا سچا نبی ہوتا۔

(مسند احمد بن حنبل، 3 : 133)

اس لئے اللہ رب العزت نے انہیں بچپن ہی میں اپنے پاس بلالیا، انہوں نے موت کو قبول کر کے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان ختم نبوت کو زندہ رکھا۔ صحیح بخاری اور دیگر کتب صحاح کی روایات سے معلوم ہوا کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی نبی ہوسکتا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کو زندہ رکھا جاتا۔ انہیں بچپن ہی میں موت کی آغوش میں اس لئے دے دیا گیا کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی نبی کو نہیں آنا تھا۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved