The Status of al-Hidaya and its Author in the History of Jurisprudence

The Status of al-Hidaya and its Author in the History of Jurisprudence

The Status of al-Hidaya and its Author in the History of Jurisprudence

Category : Jurisprudence

Author : Shaykh-ul-Islam Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri

Book Language : Urdu

Pages : 48

Price : Rs.50

Binding : Paper

Read & Download

Sponsor This Book

امام مُرْغَیْنَانِی جو صاحبِ ہدایہ کے لقب سے معروف ہیں، اَطراف و اَکنافِ عالم میں انتہائی قدر و منزلت اور مسلمہ حیثیت کے حامل فقیہ کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ آپ اپنے علمی تجربہ اور فقہی ثقاہت و بصیرت کی بنا پر متأخر علماءِ احناف میں سرخیل کا درجہ رکھتے ہیں۔ آپ نے فقہ و قانون کی دنیا میں بڑی نادر الوجود اور شاہکار تصانیف بطور یادگار چھوڑی ہیں، جو اپنے استناد اور افادیت کی وجہ سے کوئی نظیر نہیں رکھتیں؛ لیکن فقہ حنفی کی شہرہ آفاق کتاب ’الھدایۃ‘ نے آپ کی علمی عظمت و جلالت کو ایسی لازوال حیثیت عطا کی ہے کہ عوام و خواص آج تک المرغینانی کو ان کے اصل نام کے بجائے ان کی کتاب ’الھدایۃ‘ کی نسبت سے یاد کرتے ہیں۔ ان کا اصل نام برہان الدین ابو الحسن علی بن ابی بکر بن عبد الجلیل بن الخلیل بن ابی بکر الفرغانی المرغینانی ہے۔ آپ کا مولد و مسکن مرغینان ہے جو ماوراء النہر کے علاقے میں واقع ولایتِ فرغانہ کا ایک شہر ہے۔ وادی فرغانہ میں سے ایک روسی دریا سیحون گزرتا ہے اور شہر مرغینان اس کے مشرق میں واقع ہے۔

صاحبِ ہدایہ اسی شہر کی نسبت سے مرغینانی کہلاتے ہیں۔ آپ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہیں۔

امام مرغینانی کی ولادت 511ھ میں ماہ رجب کی 8 تاریخ کو بروز پیر بعد نماز عصر ہوئی۔

بعض علماء نے مرغینانی کا سن ولادت 530ھ/1135ء بھی بیان کیا ہے۔ جب کہ عمر رضا کحّالہ (صاحبِ ’معجم المؤلفین‘) اور بعض دیگر علماء امام مرغنیانی کے سنِ ولادت کے بارے میں خاموش ہیں۔ ان کی وفات 593ھ/1197ء میں مورخہ 14 ذی الحجہ منگل کی شب کو ہوئی۔ سنِ وفات پر اکثر محققین کا اتفاق ہے لیکن بعض علماء نے 596ھ بھی بیان کیا ہے۔ امام مرغینانی کا مزار سمر قند کے ایک قبرستان میں ہے جس میں تقریباً 400 ایسے افراد مدفون ہیں جن میں سے ہر ایک کا نام محمد ہے۔

امام مرغینانی نے 544ھ میں حج اور زیارتِ روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شرف حاصل کیا۔ انہوں نے اپنی تمام تر تعلیم مرغینان کے علاوہ دیگر بلادِ اسلامیہ کی سیاحت کے دوران حاصل کی۔ اس زمانے تک مسلمانوں کے ہاں تحصیل علم کا یہی طریقہ عام طور پر مروّج تھا۔ مسلم فنِ تعلیم کی تقریباً ہر کتاب میں’رحلۃ لطلب العلم (حصولِ علم کے لیے سے سفر)‘ کے موضوع پر بڑا زور دیا گیا ہے۔ اُس زمانے میں علم کا حصول تعلیمی سفر کے بغیر نامکمل سمجھا جاتا تھا اور مشہور اساتذہ سے درس و استفادہ علمی کمال کے لیے ضروری گردانا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ مسلم صوفیا کے نزدیک بھی روحانی تربیت کے لیے سفر انتہائی اہمیت کا حامل تصور کیا جاتا رہا ہے اور جلیل القدر علماء و مشائخ اپنی تعلیم و تربیت کی تکمیل کے لیے زندگی کا بیشتر حصہ سفر و سیاحت میں صرف کرتے رہے ہیں۔ مرغینانی نے اپنے والد سے بھی تعلیم حاصل کی تھی۔

Do you want more and more people read this book for FREE?

Book Sponsorship Scheme: the Best Sadaqa-e-Jaria

Please pay 50 euro for annual sponsorship of this book.

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved