اربعین: فضیلت زیارت قبور

خواتین کے لیے زیارت قبول کی اجازت

اَلرُّخْصَۃُ لِلنِّسَاءِ لِزيارۃ الْقُبُوْرِ
خواتین کے لیے زیارت قبور کی اجازت

36. عَنْ انَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم بِامْرَاةٍ تَبْکِي عِنْدَ قَبْرٍ، فَقَالَ : اتَّقِي اﷲَ وَاصْبِرِي. قَالَتْ : إِلَيْکَ عَنِّي، فَإِنَّکَ لَمْ تُصَبْ بِمُصِيْبَتِي، وَلَمْ تَعْرِفْهُ، فَقِيْلَ لَهَا : إِنَّهُ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم ، فَاتَتْ بَابَ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم ، فَلَمْ تَجِدْ عِنْدَه بَوَّابِيْنَ، فَقَالَتْ : لَمْ اعْرِفْکَ، فَقَالَ : إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْاوْلٰی. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَاحْمَدُ.

36 : اخرجه البخاري في الصحيح، کتاب الجنائز، باب زيارة القبور، 1 / 431، الرقم : 1223، واحمد بن حنبل في المسند، 3 / 143، الرقم : 12480، والبيهقي في السنن الکبری، 10 / 101، الرقم : 20043.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک عورت کے پاس سے گزرے جو ایک قبر کے پاس زار و قطار رو رہی تھی. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اﷲ تعالیٰ سے ڈر اور صبر کر. اس عورت نے (شدتِ غم اور عدمِ تعارف کی وجہ سے) کہا : آپ یہاں سے چلے جائیں کیونکہ آپ کو مجھ جیسی مصیبت نہیں پہنچی ہے. وہ خاتون آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہچانتی نہ تھی. کسی نے اُسے بتایا کہ یہ تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں. وہ عورت (اپنی اس بات کی معذرت کرنے کیلئے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درِ اَقدس پر حاضر ہوئی. اس نے خدمت میں حاضری کی اجازت لینے کے لیے وہاں دربان نہیں پایا (تو باہر سے کھڑے ہو کر) عرض کیا : یا رسول اﷲ! میں نے آپ کو پہچانا نہیں تھا. اُس کی معذرت طلبی پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک صبر وہی ہے جو صدمہ کے آغاز میں ہو (کیونکہ مرورِ زمانہ کے ساتھ تو ہر ایک کو صبر آ ہی جاتا ہے).‘‘

اِسے امام بخاری اور احمد نے روایت کیا ہے.

37. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ ابِي مُلَيْکَةَ رضي اﷲ عنهما قَالَ : تُوُفِّيَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ ابِي بَکْرٍ رضي اﷲ عنهما بِحُبْشِيٍّ، قَالَ : فَحُمِلَ إِلٰی مَکَّةَ فَدُفِنَ فِيْهَا. فَلَمَّا قَدِمَتْ عَائِشَةُ اتَتْ قَبْرَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ ابِي بَکْرٍ فَقَالَتْ :

وَکُنَّا کَنَدْمَانَی جَذِيْمَةَ حِقْبَةً
مِنَ الدَّهرِ حَتّٰی قِيْلَ لَنْ يَتَصَدَّعَا
فَلَمَّا تَفَرَّقْنَا کَانِّي وَمَالِکًا
لِطُولِ اجْتِمَاعٍ لَمْ نَبِتْ لَيْلَةً مَعَا

ثُمَّ قَالَتْ : وَاﷲِ، لَوْ حَضَرْتُکَ مَا دُفِنْتَ إِلَّا حَيْثُ مُتَّ، وَلَوْ شَهِدْتُکَ مَا زُرْتُکَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْحَاکِمُ وَابْنُ ابِي شَيْبَةَ.

37 : اخرجه الترمذي في السنن، کتاب الجنائز، باب ما جاء في زيارة القبور للنساء، 3 / 371، الرقم : 1055، والحاکم في المستدرک، 3 / 541، الرقم : 6013، وابن ابي شيبة في المصنف، 3 / 29، الرقم : 11811، والهيثمي في مجمع الزوائد، 3 / 60.

’’حضرت عبد اللہ بن ابی ملیکہ رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اﷲ عنہما کا مقام حبشی میں انتقال ہوا تو آپ کو مکہ مکرمہ لا کر دفن کیا گیا، جب حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا (اپنے بھائی) حضرت عبد الرحمان بن ابی بکر کی قبر پر تشریف لائیں تو (اشعار میں) فرمایا :

’’ہم جذیمہ بادشاہ کے دو مصاحبوں کی طرح عرصہ دراز تک اکٹھے رہے یہاں تک کہ کہا گیا ہر گز جدا نہیں ہوں گے، پس جب جدا ہو گئے تو گویا کہ مدت دراز تک اکٹھا رہنے کے باوجود (ایسا لگتا ہے کہ) میں اور مالک نے ایک رات بھی اکٹھے نہیں گزاری‘‘.

پھر فرمایا : اللہ کی قسم! اگر میں (وقتِ وفات) وہاں ہوتی تو تمہیں وہیں دفن کراتی جہاں تمہارا انتقال ہوا اور اگر (آپ کی وفات کے وقت) میں حاضر ہوتی تو (اب) آپ کی زیارت کو نہ آتی.‘‘

اِسے امام ترمذی، حاکم اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے.

وفي رواية : عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ ابِي مَلِيْکَةَ رضی الله عنه انَّ عَائِشَةَ رضي اﷲ عنها اقْبَلَتْ ذَاتَ يَوْمٍ مِنَ الْمَقَابِرِ، فَقُلْتُ لَهَا : يَا امَّ الْمُؤْمِنِيْنَ، مِنْ ايْنَ اقْبَلْتِ؟ قَالَتْ : مِنْ قَبْرِ اخِي عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ ابِي بَکْرِ، فَقُلْتُ لَهَا : الَيْسَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم نَهَی عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُوْرِ؟ قَالَتْ : نَعَمْ، کَانَ نَهَی ثُمَّ امَرَ بِزِيَارِتِهَا. رَوَاهُ الْحَاکِمُ.

اخرجه الحاکم في المستدرک، کتاب الجنائز، 1 / 532، الرقم : 1392، والبيهقی في السنن الکبری، 4 / 131، الرقم : 7207، والعسقلاني في فتح الباري، 3 / 149، والمبارکفوري في تحفة الاحوذي، 4 / 137.

’’حضرت عبد اﷲ بن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا قبرستان سے واپس تشریف لا رہی تھیں میں نے اُن سے عرض کیا : اُم المؤمنین! آپ کہاں سے تشریف لا رہی ہیں؟ فرمایا : اپنے بھائی عبد الرحمن بن ابی بکر کی قبر سے، میں نے عرض کیا : کیا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زیارتِ قبور سے منع نہیں فرمایا تھا؟ اُنہوں نے فرمایا : ہاں! پہلے منع فرمایا تھا لیکن بعد میں رخصت دے دی تھی.‘‘ اِسے امام حاکم نے روایت کیا ہے.

38. عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ ابِيْهِ قَالَ : کَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتِ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم تَزُوْرُ قَبْرَ حَمْزَةَ کُلَّ جُمُعَةٍ. رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ.

38 : اخرجه عبد الرزاق في المصنف، 3 / 572، الرقم : 6713، والبيهقي في السنن الکبری، 4 / 131، الرقم : 7208.

’’امام جعفر الصادق اپنے والد گرامی امام محمد الباقر سے روایت کرتے ہیں کہ اُنہوں نے فرمایا : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی سیدۂ کائنات حضرت فاطمہ سلام اﷲ علیھا ہر جمعہ کو حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی قبر پر حاضری دیتی تھیں.‘‘

اِسے امام عبد الرزاق نے روایت کیا ہے.

39. عَنِ الْاصْبَغِ بْنِ نَبَاتَةَ قَالَ : انَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم کَانَتْ تَاتِي قَبْرَ حَمْزَةَ وَکَانَتْ قَدْ وَضَعَتْ عَلَيْهِ عَلَمًا لَوْ تَعْرِفُهُ، وَذُکِرَ انَّ قَبْرَ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم وَابِي بَکْرٍ وَعُمَرَ کَانَ عَلَيْهِمُ النَّقْلُ يَعْنِي حِجَارَةً صِغَارًا. رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ.

39 : اخرجه عبد الرزاق في المصنف،کتاب الجنائز، باب في زيارة القبور، 3 / 574، الرقم : 6717.

’’حضرت اصبغ بن نباتہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی حضرت فاطمہ سلام اﷲ علیھا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی قبر پر حاضری دیتی تھیں. آپ نے اُس کی پہچان کے لئے اُس کے اُوپر جھنڈا نصب کیا ہوا تھا. یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر مبارک اور حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اﷲ عنھما کی قبور پر بھی چھوٹے پتھروں کی نشانیاں رکھی گئی تھیں.‘‘

اِسے امام عبد الرزاق نے روایت کیا ہے.

وفي رواية : عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ ابِيْهِ انَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم کَانَتْ تَزُوْرُ قَبْرَ عَمِّهَا حَمْزَةَ کُلَّ جُمُعَةٍ فَتُصَلِّي وَتَبْکِي عِنْدَه.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالْبَيْهَقِيُّ. وَقَالَ الْحَاکِمُ : هذَا الْحَدِيْثُ رُوَاتُه عَنْ آخِرِهِمْ ثِقَاتٌ.

اخرجه الحاکم في المستدرک، 1 / 533، الرقم : 1396، والبيهقي في السنن الکبری، 4 / 78، الرقم : 7000، والعسقلاني في تلخيص الحبير، 2 / 137.

’’حضرت علی بن حسین اپنے والد ماجد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی سیدۂ کائنات حضرت فاطمہ سلام اﷲ علیھا ہر جمعہ کو حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی قبر پر حاضری دیتی تھیں آپ وہاں دعا کرتیں اور گریہ و زاری کرتی تھیں.‘‘

اِسے امام حاکم اور بیہقی نے روایت کیا ہے. امام حاکم نے فرمایا : اِس حدیث کے تمام راوی آخر تک ثقہ ہیں.

40. عَنْ ابِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه انَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم لَعَنَ زَوَّارَاتِ الْقُبُوْرِ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ : وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ رضي اﷲ عنهما. وَقَالَ : هذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَقَدْ رَای بَعْضُ اهلِ الْعِلْمِ انَّ هذَا کَانَ قَبْلَ انْ يرَخِّصَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم فِي زِيَارَةِ الْقُبُوْرِ فَلَمَّا رَخَّصَ دَخَلَ فِي رُخْصَتِهِ الرِّجَالُ وَالنِّسَائُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ : إِنَّمَا کُرِهَ زِيَارَةُ الْقُبُورِ لِلنِّسَائِ لِقِلَّةِ صَبْرِهِنَّ وَکَثْرَةِ جَزَعِهِنَّ.

40 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب الجنائز، باب ما جاء في کراهية زيارة القبور النساء، 3 / 371، الرقم : 1056، واحمد بن حنبل في المسند، 2 / 337، الرقم : 8430، وعبد الرزاق في المصنف، 3 / 569، الرقم : 6704، والطبراني في المعجم الکبير، 4 / 42، الرقم : 3591.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کثرت سے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی.‘‘

اسے امام ترمذی نے روایت کیا اور فرمایا : اس باب میں حضرت ابنِ عباس اور حسان بن ثابت رضی اﷲ عنھما سے بھی روایات مذکور ہیں. وہ فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے. بعض علماء کے نزدیک یہ حکم اس وقت تھا جب حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زیارتِ قبور کی اجازت نہیں دی تھی. جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجازت فرما دی تو یہ اجازت مردوں اور عورتوں دونوں کو شامل ہے. بعض علماء فرماتے ہیں : عورتوں کو زیارتِ قبور کی ممانعت اس وجہ سے ہے کہ ان میں صبر کم اور رونا دھونا زیادہ ہوتا ہے.

قَالَ ابْنُ حَجَرٍ الْعَسْقَلَانِيُّ فِي شَرْحِه عَلٰی صَحِيْحِ الْبُخَارِيِّ بَعْدَ الذِّکْرِ هٰذَا الْحَدِيْثِ : قَالَ الْقُرْطُبِيُّ : هذَا اللَّعْنُ إِنَّمَا هُوَ لِلْمُکْثِرَاتِ مِنَ الزِّيَارَةِ لِمَا تَقْتَضِيْهِ الصِّفَةُ مِنَ الْمُبَالَغَةِ، وَلَعَلَّ السَّبَبَ مَا يفْضِي إِلَيْهِ ذَالِکَ مِنْ تَضْييْعِ حَقِّ الزَّوْجِ وَالتَّبَرُّجِ وَمَا يَنْشَا مِنْهُنَّ مِنَ الصِّيَاحِ وَنَحْوِ ذَالِکَ، فَقَدْ يقَالُ : إِذَا امِنَ جَمِيْعُ ذَالِکَ فَلَا مَانِعَ مِنَ الْإِذْنِ لِانَّ تَذَکُّرَ الْمَوْتِ يَحْتَاجُ إِلَيْهِ الرِّجَالُ وَالنِّسَائُ.

ذکره ابن حجر العسقلاني في فتح الباري، 3 / 149، وعبد الرحمٰن المبارکفوري في تحفة الأحوذي، 4 / 136

’’شارحِ بخاری حافظ ابنِ حجر عسقلانی (م 852ھ) نے شرح صحیح بخاری میں حدیثِ ترمذی کا ذکر کر کے لکھا ہے : امام قرطبی نے کہا : یہ لعنت کثرت سے زیارت کرنے والیوں کے لیے ہے جیسا کہ صفت مبالغہ کا تقاضا ہے (یعنی زَوَّارات مبالغہ کا صیغہ ہے جس میں کثرت سے زیارت کرنے کا معنی پایا جاتا ہے) اور شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ (بار بار) قبروں پر جانے سے شوہر کے حق کا ضیاع، زینت کا اظہار اور بوقتِ زیارت چیخ و پکار اور اس طرح کے دیگر ناپسندیدہ اُمور کا ارتکاب ہو جاتا ہے. پس اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ جب ان تمام ناپسندیدہ اُمور سے اجتناب ہو جائے تو پھر رخصت میں کوئی حرج نہیں کیونکہ مرد اور عورتیں دونوں موت کی یاد کی محتاج ہیں.‘‘

41. عَنْ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ رضی الله عنه قَالَ : لَعَنَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم زَوَّارَاتِ الْقُبُوْرِ.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَقَالَ : وَهذِهِ الْاحَادِيْثُ الْمَرْوِيَةُ فِي النَّهيِ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُوْرِ مَنْسُوْخَةٌ وَالنَّاسِخُ لَهَا حَدِيْثُ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ ابِيْهِ عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم : قَدْ کُنْتُ نَهَيْتُکُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُوْرِ، ا لَا فَزُوْرُوْهَا فَقَدْ اذَّنَ اﷲُ تَعَالٰی لِنَبِيه صلی الله عليه وآله وسلم فِي زِيَارَةِ قَبْرِ امِّه وَهذَا الْحَدِيْثُ مُخَرَّجٌ فِي الْکِتَابَيْنِ الصَّحِيْحَيْنِ لِلشَّيْخَيْنِ رضي اﷲ عنهما.

41 : أخرجه الحاکم في المستدرک، کتاب الجنائز، 1 / 530، الرقم : 1385.

’’حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (کثرت سے) قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی.‘‘

اِس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے اور فرمایا : زیارتِ قبور کی ممانعت کے بارے میں وارد ہونے والی یہ احادیث منسوخ ہیں اور اِن کی ناسخ وہ حدیث ہے جو حضرت علقمہ بن مرثد نے حضرت سلیمان بن بریدہ سے اور اُنہوں نے اپنے والد سے اور اُنہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہم نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا، سو (اب) تم قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے نبی ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کرنے کا اذن دے دیا ہے. یہ حدیث امام بخاری و مسلم نے صحیحین میں روایت کی ہے.

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved