اربعین: نزول مسیح ابنِ مریم علیہما السلام

نزول مسیح ابن مریم علیہما السلام سے قبل قیامت وقوع پذیر نہیں ہوگی

لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَنْزِلَ الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ علیهما السلام

(نُزولِ مسیح ابن مریم علیہما السلام سے قبل قیامت وقوع پذیر نہیں ہوگی)

1- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صلی الله علیه وآله وسلم، قَالَ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَنْزِلَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا مُقْسِطًا، وَإِمَامًا عَدْلًا. فَيَكْسِرُ الصَّلِيبَ، وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ، وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ، وَيَفِيضُ الْمَالُ حَتَّى لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ».

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَاللَّفْظُ لَهُ.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تک دنیا میں عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام ایک عادل حکمران کی حیثیت سے نہ تشریف لے آئیں، اُس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی۔ وہ (دنیا میں نازل ہو کر) صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیر کو مار ڈالیں گے اور (بطور اِحسان غیر مسلم شہریوں سے) ریاستی حفاظت کا ٹیکس (جو عسکری خدمات سے اِستثناء کی صورت میں وصول کیا جاتا ہے) معاف کردیں گے۔ (ان کے دورِ حکومت میں) مال و دولت کی اتنی فراوانی ہو گی کہ (پیشکش کے باوجود) کوئی اسے قبول نہ کرے گا۔

أخرجه البخاري في الصحيح، كتاب المظالم، باب كسر الصليب وقتل الخنزير، 2/875، الرقم/2344، وابن ماجه في السنن، كتاب الفتن، باب فتنة الدجال وخروج عيسى بن مريم عليهما السلام وخروج يأجوج ومأجوج، 2/1363، الرقم/4078، وابن أبي شيبة في المصنف، 7/494، الرقم/37495، وأبو يعلى في المسند، 10/279، الرقم/5877.

2 - عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيْدٍ الْغِفَارِيِّ رضی الله عنه، قَالَ: اطَّلَعَ النَّبِيُّ صلی الله علیه وآله وسلم عَلَيْنَا وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ، فَقَالَ: «مَا تَذَاكَرُونَ»؟ قَالُوا: نَذْكُرُ السَّاعَةَ، قَالَ: «إِنَّهَا لَنْ تَقُومَ حَتَّى تَرَوْنَ قَبْلَهَا عَشْرَ آيَاتٍ -فَذَكَرَ-: (1) الدُّخَانَ، (2) وَالدَّجَّالَ، (3) وَالدَّابَّةَ، (4) وَطُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، (5) وَنُزُولَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ علیهما السلام، (6) وَيَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، وَثَلَاثَةَ خُسُوفٍ: (7) خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ، (8) وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ، (9) وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ، (10) وَآخِرُ ذَلِكَ نَارٌ تَخْرُجُ مِنَ الْيَمَنِ، تَطْرُدُ النَّاسَ إِلَى مَحْشَرِهِمْ»

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه.

حضرت ابو حذیفہ بن اَسید غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے درآنحالیکہ ہم آپس میں مذاکرہ کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: تم کیا باتیں کر رہے ہو؟ حاضرین نے عرض کیا: ہم روزِ قیامت کے متعلق باتیں کر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اُس وقت تک نہیں آئے گی جب تک تم یہ دس علامات نہ دیکھ لو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دس علامات بیان فرمائیں:

  1. دھواں
  2. دجال
  3. دابۃ الارض (جو نہایت عجیب و غریب جانور ہوگا)
  4. سورج کا مغرب سے طلوع ہونا
  5. عیسیٰ ابن مریم کا نزول
  6. یاجوج ماجوج اور اور تین جگہ زمین کے دھنسنے کا ذکر کیا
  7. مشرق میں زمین کا دھنسنا
  8. مغرب میں زمین دھنسنا
  9. جزیرہ عرب میں زمین کا دھنسنا
  10. ان سب کے آخر میں ایک آگ یمن سے نکلے گی جو لوگوں کو ہانک کر ان کے محشر کی طرف لے جائے گی۔

اس حدیث کو امام مسلم، احمد، ابو داود، ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

أخرجه البخاري في الصحيح، كتاب المظالم، باب كسر الصليب وقتل الخنزير، 2/875، الرقم/2344، وابن ماجه في السنن، كتاب الفتن، باب فتنة الدجال وخروج عيسى بن مريم عليهما السلام وخروج يأجوج ومأجوج، 2/1363، الرقم/4078، وابن أبي شيبة في المصنف، 7/494، الرقم/37495، وأبو يعلى في المسند، 10/279، الرقم/5877.

وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ رضی الله عنه، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم يَقُولُ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَكُونَ عَشْرُ آيَاتٍ: خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَالدَّجَّالُ، وَالدُّخَانُ، وَنُزُولُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَيَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ، وَالدَّابَّةُ، وَطُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدْنٍ تَسُوقُ النَّاسَ إِلَى الْمَحْشَرِ تَحْشُرُ الذَّرَّ وَالنَّمْلَ».

رَوَاهُ الْحَاكِمُ وَصَحَّحَهُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرَوَاهُ ابْنُ مَرْدَوَيْهِ كَمَا فِي کَنْزِ الْعُمَّالِ.

حضرت واثلہ بن اثقع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تک (درج ذیل) دس نشانیاں ظاہر نہ ہوں تب تک قیامت نہیں آئے گی:

  1. مشرق میں زمین کا دھنسنا
  2. مغرب میں زمین کا دھنسنا
  3. جزیرۃ العرب میں زمین کا دھنسنا
  4. دجال کا خروج
  5. دھواں پھیل جانا
  6. عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کا نزول
  7. یاجوج ماجوج کا خروج
  8. دابۃ (الارض) کا ظہور
  9. سورج کا مغرب سے طلوع ہونا
  10. اور ایک آگ جو عدن کی زمین کی تہہ میں سے نکلے گی (اور) لوگوں کو ہانکتی ہوئی ان کے محشر کی طرف لے جائے گی اور ہر چھوٹی بڑی چیونٹی تک کو جمع کر دے گی (یعنی ہر چھوٹے بڑے، ضعیف اور قوی آدمی کو محشر میں جمع کر دے گی)۔

اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کرتے ہوئے صحیح قرار دیا ہے اور طبرانی نے بھی روایت کیا ہے، جب کہ ہندی کی’کنز العمال‘ کے مطابق اسے ابن مردويہ نے بھی روایت کیا ہے۔

أخرجه الحاكم في المستدرك، 4/474، الرقم/8317، والطبراني في المعجم الكبير، 22/79، الرقم/195، وأيضًا في مسند الشاميين، 2/32، الرقم/864، وذكره الهندي في كنز العمال، 14/117، الرقم/38650.

3 - عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رضی الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ، ظَاهِرِينَ عَلَى مَنْ نَاوَأَهُمْ (أَيْ: عَادَاهُمْ) حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللهِ، وَيَنْزِلَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ».

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ (کلمۂ) حق پر قائم رہے گا اور اپنے دشمنوں پر غالب رہے گا، یہاں تک اللہ تعالیٰ کا حکم (قیامت قریب) آ جائےاور عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام نازل ہو جائیں۔

اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔

أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 4/429، الرقم/19864.

4 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی الله علیه وآله وسلم: يَنْزِلُ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ عَلَى ثَمَانِمِائَةِ رَجُلٍ وَأَرْبَعِمِائَةِ امْرَأَةٍ خِيَارِ مَنْ عَلَى الأَرْضِ وَأَصْلَحِ مَنْ مَضَی.

رَوَاهُ الدَّيْلَمِيُّ.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام ایسے آٹھ سو مردوں اور چار سو عورتوں میں نازل ہوں گے جو نہ صرف اپنے زمانے کے اَہلِ زمین میں سب سے بہتر ہوں گے بلکہ گزشتہ (اُمتوں کے) صلحاء سے بھی بہتر ہوں گے۔

اس حدیث کو امام دیلمی نے روایت کیا ہے۔

أخرجه الديلمي في المسند، 5/515، الرقم/8935.

5 - عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ مُرْسَلاً - يَرْفَعُهُ إِلَى رَسُوْلِ اللَّهِ صلی الله علیه وآله وسلم -، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی الله علیه وآله وسلم لِلْيَهُودِ: «إِنَّ عِيْسَى لَمْ يَمُتْ، وَإِنَّهُ رَاجِعٌ إِلَيْكُمْ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ».

رَوَاهُ ابْنُ جَرِيْرٍ وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، وَنَقَلَهُ الْحَافِظُ ابْنُ كَثِيْرٍ فِي تَفْسِیْرِهِ مِنْ سُوْرَةِ آلِ عِمْرَانَ.

امام حسن بصری سے مروی مُرسَل روایت میں ہے کہ جسے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک مرفوع قرار دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہود سے فرمایا: عیسیٰ علیہ السلام کو موت نہیں آئی اور وہ قیامت سے پہلے تمہاری طرف ضرور واپس آئیں گے۔

اس روایت کو امام ابن جریر الطبری اور ابن ابی حاتم نے بیان کیا ہے۔ نیز حافظ ابن کثیر نے بھی اسے نقل کیا ہے۔

أخرجه ابن جرير الطبري في جامع البيان في تفسير القرآن، 3/289، وابن أبي حاتم في تفسير القرآن العظيم، 4/1110، الرقم/6232، ونقله الحافظ ابن كثير في تفسير القرآن العظيم، 1/367.

Copyrights © 2020 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved