اربعین: تکوینی امور میں تصرفات مصطفی ﷺ

حضور کا شان تکوینی میں مظہر الٰہی ہونا

کَوْنُهٗ ﷺ مَظْهَرًا ِﷲِ تَعَالٰی لِشَأْنِ تَکْوِیْنِهٖ

حضور ﷺ کا شانِ تکوینی میں مظہرِ الٰہی ہونا

37. عَنْ عُمَرَ بْنِ عُثْمَانَ الْجَحْشِيِّ، عَنْ أَبِیْهِ، عَنْ عَمَّتِهٖ، قَالَتْ: قَالَ عُکَّاشَۃُ بْنُ مِحْصَنٍ رضی الله عنه: انْقَطَعَ سَیْفِي فِي یَوْمِ بَدْرٍ، فَأَعْطَانِي رَسُوْلُ اللهِ ﷺ عُوْدًا، فَإِذَا هُوَ سَیْفٌ أَبْیَضُ طَوِیْلٌ، فَقَاتَلْتُ بِهٖ حَتّٰی هَزَمَ اللهُ الْمُشْرِکِیْنَ فَلَمْ یَزَلْ عِنْدَهٗ حَتّٰی هَلَکَ.

رَوَاهُ الْوَاقِدِيُّ وَالْبَیْهَقِيُّ وَالْقَزْوِیْنِيُّ، وَأَقَرَّهُ الذَّهَبِيُّ وَابْنُ کَثِیْرٍ وَالْمَقْرِیْزِيُّ وَالسُّیُوْطِيُّ.

حضرت عمر بن عثمان جحشی اپنے والد سے، وہ اپنی چچی سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتی ہیں: حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: غزوۂ بدر کے دن میری تلوار ٹوٹ گئی تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک چھڑی عطا فرمائی، (میں نے اسے ہاتھ میں لیا تو) وہ سفید رنگت کی لمبی تلوار بن گئی، میں نے اس (معجزانہ) تلوار کے ساتھ جہاد کیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو شکست دی، یہ تلوار حضرت عکاشہ رضی اللہ عنہ کی وفات تک ان کے پاس موجود رہی۔

اِسے امام واقدی، بیہقی اور قزوینی نے روایت کیا ہے، امام ذہبی، ابن کثیر، مقریزی اور سیوطی نے ان کی موافقت کی ہے۔

38. عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، فِي تَسْمِیَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا، قَالَ: وَعُکَّاشَۃُ بْنُ مِحْصَنٍ رضی الله عنه، وَهُوَ الَّذِي قَاتَلَ بِسَیْفِهٖ یَوْمَ بَدْرٍ حَتَّی انْقَطَعَ فِي یَدِهٖ، فَأَتٰی رَسُوْلَ اللهِ ﷺ فَأَعْطَاهُ جِذْلًا مِنْ حَطَبٍ، فَقَالَ: قَاتِلْ بِهٰذَا یَا عُکَّاشَۃُ، فَلَمَّا أَخَذَهٗ مِنْ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ هَزَّهٗ، فَعَادَ سَیْفًا فِي یَدِهٖ طَوِیْلَ الْقَامَةِ، شَدِیْدَ الْمَتْنِ، أَبْیَضَ الْحَدِیْدَةِ، فَقَاتَلَ بِهٖ حَتّٰی فَتَحَ اللهُ تَعَالٰی عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ، وَکَانَ ذٰلِکَ السَّیْفُ یُسَمَّی: الْعَوْنَ. ثُمَّ لَمْ یَزَلْ عِنْدَهٗ یَشْهَدُ بِهِ الْمَشَاهِدَ مَعَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ حَتّٰی قُتِلَ فِي الرِّدَّةِ، وَهُوَ عِنْدَهٗ.

وَفِي رِوَایَةِ الْبَیْهَقِيِّ: وَکَانَ ذٰلِکَ السَّیْفُ یُسَمَّی الْقَوِيَّ.

رَوَاهُ ابْنُ هِشَامٍ وَالْبَیْهَقِيُّ وَالْکَلَاعِيُّ وَذَکَرَهُ الْقَاضِي عِیَاضٌ وَالنَّوَوِيُّ.

امام ابن اسحاق سے بدری صحابہ کے ناموں کے ضمن میں روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ وہ شخصیت ہیں کہ انہوں نے غزوۂ بدر کے روز اپنی تلوار سے اس قدر جہاد کیا کہ وہ ان کے ہاتھ میں ٹوٹ گئی، وہ رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے انہیں لکڑی کی ایک شاخ عطا فرمائی اور فرمایا: اے عکاشہ! اِس کے ساتھ جنگ کرو۔ جب حضرت عکاشہ رضی اللہ عنہ نے وہ شاخ رسول اللہ ﷺ کے دستِ مبارک سے لے کر اسے لہرایا تو وہ شاخ حضرت عکاشہ ﷺ کے ہاتھ میں طویل، سخت اور چمکتی ہوئی تلوار بن گئی۔ حضرت عکاشہ ﷺ اس تلوار کے ساتھ جہاد کرتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح و نصرت سے نوازا۔ اُس تلوار کا نام ’عون‘ رکھا گیا تھا۔ وہ تلوار حضرت عکاشہ رضی اللہ عنہ کے پاس رہی، وہ اس تلوار کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ غزوات میں شریک ہوتے رہے یہاں تک کہ حضرت عکاشہ رضی اللہ عنہ مرتدین کے خلاف جہاد میں شہید ہوئے اور وہ تلوار اُس وقت بھی اُن کے پاس تھی۔

امام بیہقی کی روایت میں ہے کہ اس تلوار کا ایک نام ’قوی‘ بھی تھا۔

اسے امام ابن ہشام، بیہقی اور کلاعی نے روایت کیا ہے اور قاضی عیاض اور نووی نے بھی اسے ذکر کیا ہے۔

39. عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَیْنِ، عَنْ رِجَالٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ عِدَّةٍ، قَالُوْا: انْکَسَرَ سَیْفُ سَلَمَةَ بْنِ أَسْلَمَ بْنِ حَرِیْشٍ رضی الله عنه یَوْمَ بَدْرٍ، فَبَقِيَ أَعْزَلَ لَا سِلَاحَ مَعَهٗ، فَأَعْطَاهُ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ قَضِیْبًا کَانَ فِي یَدِهٖ مِنْ عَرَاجِیْنِ ابْنِ طَابٍ، فَقَالَ: اضْرِبْ بِهٖ، فَإِذَا هُوَ سَیْفٌ جَیِّدٌ، فَلَمْ یَزَلْ عِنْدَهٗ حَتّٰی قُتِلَ یَوْمَ جِسْرِ أَبِي عُبَیْدٍ.

رَوَاهُ الْوَاقِدِيُّ وَالْبَیْهَقِيُّ، وَأَقَرَّهُ الذَّهَبِيُّ وَابْنُ کَثِیْرٍ وَالسُّیُوْطِيُّ وَالصَّالِحِيُّ.

حضرت داؤد بن حصین، بنی عبد الاشہل کے کئی مردوں سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: غزوۂ بدر کے دن حضرت سلمہ بن اسلم بن حریش کی تلوار ٹوٹ گئی تو وہ خالی ہاتھ ہوگئے، تب رسول اللہ ﷺ نے انہیں ایک چھڑی عطا فرمائی جو ابن طاب کی کھجور کی شاخ سے بنی ہوئی تھی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اس سے کفار پر ضرب لگاؤ، اچانک وہ بہترین تلوار بن گئی۔ وہ تلوار اُن کے پاس رہی یہاں تک کہ وہ جسر ابی عبیدہ کے معرکہ کے دن شہید ہوئے۔

اسے امام واقدی اور بیہقی نے روایت کیا ہے، امام ذہبی، ابن کثیر، سیوطی اور صالحی نے ان کی موافقت کی ہے۔

40. عَنْ سَعِیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْجَحْشِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَشْیَاخُنَا أَنَّ عَبْدَ اللهِ ابْنَ جَحْشٍ جَاءَ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ یَوْمَ أُحُدٍ وَقَدْ ذَهَبَ سَیْفُهٗ، فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ ﷺ عَسِیْبًا مِنْ نَخْلٍ، فَرَجَعَ فِي یَدِهٖ سَیْفًا.

رَوَاهُ مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ وَالْبَیْهَقِيُّ وَأَیَّدَهُ الذَّهَبِيُّ وَالسُّیُوْطِيُّ.

حضرت سعید بن عبد الرحمن جحشی سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: ہمیں ہمارے شیوخ نے خبر دی کہ حضرت عبد اللہ بن حجش رضی اللہ عنہ غزوۂ اُحد کے دن حضور نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے جبکہ ان کی تلوار ضائع ہوگئی تھی۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے انہیں کھجور کی ایک شاخ عطا فرمائی تو وہ شاخ حضرت عبد اللہ بن حجش رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تلوار بن گئی۔

اسے امام معمر بن راشد اور بیہقی نے روایت کیا ہے، امام ذہبی اور سیوطی نے اس کی تائید کی ہے۔

وَفِي رِوَایَةٍ: فَعَادَ فِي یَدِهٖ سَیْفًا قَائِمَهٗ مِنْهُ، فَقَاتَلَ بِهٖ، فَکَانَ ذٰلِکَ السَّیْفُ یُسَمَّی الْعُرْجُوْنَ، وَلَمْ یَزَلْ هٰذَا یَتَوَارَثُ حَتّٰی بِیْعَ مِنْ بَغَا التُّرْکِيِّ بِمَائَتَي دِیْنَارٍ.

رَوَاهُ ابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ وَالْقَاضِي عِیَاضٌ وَالْکَلَاعِيُّ وَاللَّفْظُ لَهٗ، وَأَقَرَّهُ الذَّهَبِيُّ وَالْعَسْقَـلَانِيُّ وَالْمَقْرِیْزِيُّ.

ایک دوسری روایت میں ہے کہ وہ شاخ حضرت عبد اللہ بن حجش رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تلوار بن گئی انہوں نے اس کے ذریعے جہاد کیا۔ اس تلوار کا نام ’عرجون‘ تھا،یہ تلوار ان کی نسل میں ورثہ کے طور پر منتقل ہوتی رہی یہاں تک کہ بغا الترکی سے دو سو دینار میں خریدی گئی۔

اسے امام ابن عبد البر، قاضی عیاض نے اور کلاعی نے مذکورہ الفاظ میں روایت کیا ہے، امام ذہبی، عسقلانی اور مقریزی نے اس کی موافقت کی ہے۔

41. عَنْ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ رضی الله عنه، قَالَ: خَرَجْتُ لَیْلَةً مِنَ اللَّیَالِي مُظْلِمَةً، فَقُلْتُ: لَوْ أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ، فَشَهِدْتُ مَعَهُ الصَّلَاةَ وَآنَسْتُهٗ بِنَفْسِي، فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ بَرَقَتِ السَّمَاءُ، فَرَآنِي رَسُوْلُ اللهِ ﷺ، فَقَالَ: یَا قَتَادَۃُ، مَا هَاجَ عَلَیْکَ؟، فَقُلْتُ: أَرَدْتُ، بِأَبِي وَأُمِّي أَنْتَ، أَرَدْتُ أَنْ أُوْنِسَکَ، قَالَ: خُذْ هٰذَا الْعُرْجُوْنَ فَتَحَصَّنْ بِهٖ، فَإِنَّکَ إِذَا خَرَجْتَ أَضَاءَ لَکَ عَشْرًا أَمَامَکَ وَعَشْرًا خَلْفَکَ - ثُمَّ قَالَ: - إِذَا دَخَلْتَ بَیْتَکَ اضْرِبْ بِهٖ مِثْلَ الْحَجَرِ الْأَخْشَنِ فِي إِنْسَانِ الْبَیْتِ، فَإِنَّ ذٰلِکَ الشَّیْطَانُ، قَالَ: فَخَرَجْتُ فَأَضَاءَ لِي، ثُمَّ ضَرَبْتُ مِثْلَ الْحَجَرِ الْأَخْشَنِ حَتّٰی خَرَجَ مِنْ بَیْتِي.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَابْنُ عَسَاکِرَ. وَقَالَ الْهَیْثَمِيُّ: رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَحْمَدُ فِي حَدِیْثٍ طَوِیْلٍ … وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ أَیْضًا، وَرِجَالُ أَحْمَدَ الَّذِي تَقَدَّمَ فِي الصَّلَاةِ رِجَالُ الصَّحِیْحِ.

حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، آپ فرماتے ہیں: میں ایک تاریک رات میں نکلا، میں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہوں، آپ ﷺ کی اقتداء میں نماز پڑھتا ہوں اور سکون حاصل کرتا ہوں۔ سو میں نے ایسا ہی کیا، جب میں مسجد میں داخل ہوا تو آسمان پر بادل چمکا، رسول اللہ ﷺ نے مجھے دیکھا، آپ ﷺ نے فرمایا: اے قتادہ! تجھے کس چیز نے یہاں آنے کا شوق دلایا ہے؟ میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! میرے آنے کی غرض صرف آپ کی ذات اقدس تھی، میری خواہش ہوئی کہ آپ (کی زیارت) سے سکون حاصل کروں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کھجور کی یہ خشک شاخ لے لو اور اس کے ساتھ اپنی حفاظت کرو۔ تم نکلو گے تو یہ تمہارے لیے دس قدم آگے اور دس قدم پیچھے روشنی کرے گی۔ پھر فرمایا: جب اپنے گھر میں داخل ہو گے تو اس کے ساتھ گھر کے بائیں جانب موجود سخت پتھر جیسی چیز پر ضرب لگانا کیونکہ وہ شیطان ہو گا۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں: میں باہر نکلا تو اس چھڑی نے میرے لیے (مشعل کی طرح) ہر طرف روشنی کر دی۔ پھر میں (گھر میں داخل ہوا تو پتھر کی مانند ایک چیز کو پایا سو میں) پتھر جیسی اس سخت چیز پر ضرب لگانے لگا یہاں تک کہ وہ میرے گھر سے نکل گئی۔

اسے امام طبرانی اور ابن عساکر نے روایت کیا ہے، اور امام ہیثمی نے کہا: اسے امام طبرانی اور احمد نے طویل حدیث کی صورت میں روایت کیا ہے۔… اور اسے امام بزار نے بھی روایت کیا ہے، اور امام احمد کے رجال جو کہ کتاب الصلاۃ میں گزر چکے، صحیح (مسلم) کے رجال ہیں۔

وَفِي رِوَایَةِ یَحْیَی بْنِ سَعِیْدٍ، قَالَ: صَلّٰی قَتَادَۃُ بْنُ النُّعْمَانِ مَعَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ وَکَانَ بِعَیْنِهٖ رَمْصٌ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ رَآهُ فَقَالَ: صَلَّیْتَ مَعَنَا وَبَیْتُکَ هٰهُنَا؟ قَالَ: نَعَمْ، وَکَانَ بَیْتُهٗ عَلٰی طَرِیْقٍ مِنْ نِصْفِ مِیْلٍ. فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: خُذْ هٰذَا الْقَضِیْبَ فَإِنَّهٗ سَیُضِيئُ لَکَ طَرِیْقَکَ حَتّٰی تَدْخُلَ بَیْتَکَ فَأَخَذَ قَتَادَۃُ بِوَسَطِ الْقَضِیْبِ فَلَمَّا خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ أَضَاءَ لَهٗ طَرَفَاهُ حَتّٰی دَخَلَ بَیْتَهٗ.

رَوَاهُ ابْنُ عَسَاکِرَ.

حضرت یحییٰ بن سعید سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں: حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ نماز ادا کی، حضرت قتادہ کی آنکھ میں سفید موتیا تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ کر واپس ہوئے تو آپ ﷺ نے انہیں دیکھا اور فرمایا: تم نے نماز یہاں پڑھی اور تمہارا گھر وہاں ہے؟ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: جی ہاں۔ اُن کا گھر وہاں سے نصف میل کے فاصلے پر تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ چھڑی لے لو، یہ تمہارے لیے راستے میں روشنی کرے گی۔ یہاں تک کہ تم اپنے گھر میں داخل ہو جاؤ۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے چھڑی کو درمیان سے پکڑا مسجد سے نکلے تو اس چھڑی کے دونوں کنارے روشن ہو گئے (وہ اُس کی روشنی میں چلتے گئے) یہاں تک اپنے گھر میں داخل ہو گئے۔

اِسے امام ابن عساکر نے بیان کیا ہے۔

Copyrights © 2022 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved