رحمت الٰہی پر اِیمان افروز احادیث مبارکہ کا مجموعہ

اللہ تعالیٰ کا آسمان دنیا پر نزول

بَابٌ فِي نُزُوْلِهِ تَعَالَی إِلَی سَمَاءِ الدُّنْيَا وَنَدَائِهِ لِلْعِبَادِ

{اللہ تعالیٰ کا آسمان دنیا پر نزول اور اپنے بندوں کو نداء دینے کا بیان}

49 / 1. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: يَتَنَزَّلُ رَبُّنَا تَبَارَکَ وَتَعَالَی کُلَّ لَيْلَةٍ إِلَی السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِيْنَ يَبْقَی ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ يَقُولُ: مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

1: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الدعوات، باب: الدعاء نصف الليل، 5 / 2330، الرقم:5962، وأيضًا في کتاب: التوحيد، باب: قول اﷲ تعالی: يريدون أن يبدلوا کلام اﷲ، 6 / 2723، الرقم: 7056، والعسقلاني في فتح الباري، 11 / 129، والعيني في عمدة القاري، 7 / 199.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر رات اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی شان کے مطابق آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے جبکہ رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے۔ تو وہ فرماتا ہے: کون ہے مجھ سے دعا کرنے والا تاکہ میں اس کی دعا قبول کروں؟ کون ہے مجھ سے سوال کرنے والا کہ میں اسے عطا کروں؟ کون ہے مجھ سے استغفار کرنے والا تاکہ میں اس کی مغفرت کروں۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

50 / 2. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: يَنْزِلُ رَبُّنَا ل کُلَّ لَيْلَةٍ إِلَی السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَی ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ يَقُوْلُ: مَنْ يَدْعُوْنِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ وأَبُوْ دَاوُدَ.

2: أخرجه البخاري في الصحيح،کتاب: الجمعة، باب: الدعاء في الصلاة من آخر الليل، 1 / 384، الرقم: 1094، والترمذي في السنن،کتاب: الدعوات عن رسول اﷲ، باب: منه، 5 / 526، الرقم: 3498، وقال أبو عيسی: هذا حديث حسن صحيح، وأبو داود في السنن،کتاب: السنة، باب: في الرد علی الجهمية، 4 / 234، الرقم: 4733، والدارمي في السنن، 1 / 413، الرقم: 1479، والربيع في المسند، 1 / 202، الرقم: 501.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمارا رب تبارک و تعالیٰ ہر رات (اپنی حسب شان) آسمان دنیا کی طرف نزول اجلال فرماتا ہے۔ رات کا تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو پکارتا ہے: کوئی ہے جو مجھ سے دعا کرے کہ میں اس کی دعا قبول کروں؟ کوئی ہے جو مجھ سے سوال کرے کہ میں اسے عطا کروں؟ کوئی ہے جو مجھ سے معافی چاہے کہ میں اسے بخش دوں؟‘‘ اسے امام بخاری، ترمذی اور ابو داود نے روایت کیا ہے۔

51 / 3. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه عَنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: يَنْزِلُ اﷲُ إِلَی السَّمَاءِ الدُّنْيَا کُلَّ لَيْلَةٍ حِينَ يَمْضِي ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ فَيَقُوْلُ: أَنَا الْمَلِکُ أَنَا الْمَلِکُ مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُوْنِي فَأَسْتَجِيْبَ لَهُ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ فَـلَا يَزَالُ کَذَلِکَ حَتَّی يُضِيئَ الْفَجْرُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ.

3: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب: صلاة المسافرين وقصرها، باب: الترغيب في الدعاء والذکر في آخر الليل والإجابة فيه، 1 / 522، الرقم: 758، والترمذي في السنن،کتاب: الصلاة، باب: ما جاء في نزول الرّبّ ل إلی السماء الدنيا کل ليلة، 2 / 307، الرقم: 446، وقال أبو عيسی: حديث أبي هريرة حديث حسن صحيح، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 419، الرقم: 9426، والمقدسي في الترغيب في الدعائ، 1 / 69، الرقم: 30.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب رات کا نصف یا اس کے دو تہائی حصے گزر جاتے ہیں تو اللہ تبارک و تعالیٰ (اپنی شان کے لائق) آسمان دنیا کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور فرماتا ہے: کوئی ہے مانگنے والا کہ جسے میں عطا کروں، کوئی ہے دعا کرنے والا کہ جس کی دعا میں قبول کروں، کوئی ہے بخشش طلب کرنے والا کہ جسے میں بخش دوں حتیٰ کہ اِسی طرح صبح ہو جاتی ہے۔‘‘

52 / 4. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : إِذَا مَضَی شَطْرُ اللَّيْلِ أَوْ ثُلُثَاهُ يَنْزِلُ اﷲُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی إِلَی السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ: هَلْ مِنْ سَائِلٍ يُعْطَی هَلْ مِنْ دَاعٍ يُسْتَجَابُ لَهُ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ يُغْفَرُ لَهُ حَتَّی يَنْفَجِرَ الصُّبْحُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالنَّسَائِيُّ.

4: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب: صلاة المسافرين وقصرها، باب: الترغيب في الدعا والذکر، 1 / 522، الرقم: 758، والنسائي في السنن الکبری، 6 / 123، الرقم: 10312، وأيضًا في عمل اليوم والليلة، 1 / 339، الرقم: 478، والطبراني في الدعائ، 1 / 63، الرقم: 146، والبيهقي في فضائل الأوقات، 1 / 168، الرقم: 51.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا: جب رات کا نصف يا اُس کے دو تہائي حصے گزر جاتے ہیں تو اﷲ تبارک و تعالیٰ آسمانِ دنیا کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور فرماتا ہے: کوئی مانگنے والا ہے جسے میں عطا کروں۔ کوئی دعا کرنے والا ہے کہ جس کی دعا میں قبول کروں، کوئی بخشش طلب کرنے والا ہے کہ جسے میں بخش دوں حتی کہ اِسی طرح صبح ہو جاتی ہے۔‘‘ اسے امام مسلم اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

53 / 5. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه يَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : يَنْزِلُ اﷲُ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا لِشَطْرِ اللَّيْلِ أَوْ لِثُلُثِ اللَّيْلِ الْآخِرِ فَيَقُوْلُ: مَنْ يَدْعُوْنِي فَأَسْتَجِيْبَ لَهُ أَوْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ ثُمَّ يَقُوْلُ: مَنْ يُقْرِضُ غَيْرَ عَدِيْمٍ وَلَا ظَلُوْمٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

5: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب: صلاة المسافرين وقصرها، باب: الترغيب في الدعاء والذکر، 1 / 522، الرقم: 758، والبيهقي في السنن الکبری، 3 / 2، الرقم: 4428، وأبو عوانة في المسند، 1 / 127، الرقم: 377، 378، والمزي في تهذيب الکمال، 27 / 261.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تبارک و تعالیٰ نصف یا تہائی رات گزر جانے کے بعد آسمان دنیا کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور فرماتا ہے: ہے کوئی جو مجھ سے دعا مانگے اور میں اُس کی دعا قبول کروں یا مجھ سے سوال کرے اور میں اُسے عطا کروں۔ پھر اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے: اُس ذات کو کون قرض دے گا جو نہ کبھی فنا ہو گی نہ کسی پر ظلم کرے گی۔‘‘ اِسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

54 / 6. عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ ثُمَّ يَبْسُطُ يَدَيْهِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی يَقُولُ: مَنْ يُقْرِضُ غَيْرَ عَدُوْمٍ وَلَا ظَلُوْمٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

6: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب: صلاة المسافرين وقصرها، باب: الترغيب في الدعاء والذکر، 1 / 522، الرقم: 758.

’’ایک اور سند سے بھی یہ روایت منقول ہے اور اُس میں یہ اضافہ ہے اللہ تعالیٰ اپنے ہاتھ پھیلا کر فرماتا ہے اُس کو کون قرض دے گا جو نہ کبھی فنا ہو گا اور نہ کبھی ظلم کرے گا۔‘‘ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

55 / 7. عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ رضی اﷲ عنهما قَالَا: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : إِنَّ اﷲَ يُمْهِلُ حَتَّی إِذَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ نَزَلَ إِلَی السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُوْلُ: هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ؟ هَلْ مِنْ تَائِبٍ؟ هَلْ مِنْ سَائِلٍ؟ هَلْ مِنْ دَاعٍ؟ حَتَّی يَنْفَجِرَ الْفَجْرُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالنَّسَائِيُّ وَأَحْمَدُ.

7: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب: صلاة المسافرين وقصرها، باب: الترغيب في الدعاء والذکر، 1 / 523، الرقم: 758، والنسائي في السنن الکبری، 6 / 124، الرقم: 10315، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 34، الرقم: 11313، وعبد بن حميد في المسند، 1 / 272، الرقم: 861، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 72، الرقم: 29556، وعبد الرزاق في المصنف، 10 / 444، الرقم: 19654، والطبراني في المعجم الکبير، 22 / 370، الرقم: 927، وابن عبد البر في الاستذکار، 2 / 68.

’’حضرت ابو سعید اور حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہما دونوں بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ مہلت دیتا رہتا ہے حتیٰ کہ جب رات کا پہلا تہائی حصہ گزر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور فرماتا ہے: کوئی ہے بخشش طلب کرنے والا! کوئی ہے توبہ کرنے والا! کوئی ہے سوال کرنے والا! کوئی ہے دعا کرنے والا! حتیٰ کہ فجر کی پو پھوٹ پڑتی ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام مسلم، نسائی اور احمد نے روایت کیا ہے۔

56 / 8. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: يَنْزِلُ اﷲُ إِلَی السَّمَاءِ الدُّنْيَا کُلَّ لَيْلَةٍ حِينَ يَمْضِي ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ فَيَقُوْلُ: أَنَا الْمَلِکُ مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيْبَ لَهُ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ فَـلَا يَزَالُ کَذَلِکَ حَتَّی يُضِيئَ الْفَجْرُ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ.

وَقَالَ أَبُوْ عِيْسَی: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ أَوْجُهٍ کَثِيرَةٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم وَرُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: يَنْزِلُ اﷲُ ل حِيْنَ يَبْقَی ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ وَهُوَ أَصَحُّ الرِّوَايَاتِ.

8: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: الصلاة، باب: ما جاء في نزول الرّبّ ل إلی السماء الدنيا کلّ ليلة، 2 / 307، الرقم: 446، وابن حبان في الصحيح، 3 / 201، الرقم: 921، والنسائي في السنن الکبری، 6 / 125، الرقم: 10319، واللالکائي في اعتقاد أهل السنة، 3 / 440، الرقم: 752.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر رات اللہ تعالیٰ کی (خاص) رحمت، رات کی پہلی تہائی کے آخر تک اُترتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں بادشاہ ہوں، کون ہے جو مجھ سے دعا مانگے اور میں اُسے قبول کروں؟ کون ہے جو مانگے اُسے عطا کروں، کون ہے جو بخشش مانگے میں اُسے بخش دوں؟ اور صبح صادق تک یہی کیفیت رہتی ہے۔‘‘ اس حدیث کو امام ترمذی، نسائی اور حبان نے روایت کیا ہے۔

امام ترمذی فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ حدیث حسن صحیح ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کئی دوسرے طرق سے بھی یہ حدیث مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب رات کا آخری تہائی باقی رہتا ہے اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت نازل ہوتی ہے۔‘‘ اور یہ روایت صحیح تر ہے۔

57 / 9. عَنْ عَائِشَةَ رضی اﷲ عنها قَالَتْ: فَقَدْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم لَيْلَة فَخَرَجْتُ فَإِذَا هُوَ بِالْبَقِيْعِ فَقَالَ: أَکُنْتِ تَخَافِيْنَ أَنْ يَحِيْفَ اﷲُ عَلَيْکِ وَرَسُوْلُهُ؟ قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اﷲِ، إِنِّي ظَنَنْتُ أَنَّکَ أَتَيْتَ بَعْضَ نِسَائِکَ. فَقَالَ: إِنَّ اﷲَ ل يَنْزِلُ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَی السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَغْفِرُ لِأَکْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ کَلْبٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَابْنُ حُمَيْدٍ.

9: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: الصوم عن رسول اﷲ، باب: ما جاء في ليلة النصف من شعبان، 3 / 116، الرقم: 739، وابن ماجه في السنن، کتاب: إقامة الصلاة والسنة فيها، باب: ما جاء في ليلة النصف من شعبان، 1 / 444، الرقم: 1389، وعبد بن حميد في المسند، 1 / 437، الرقم: 1509، والبيهقي في شعب الإيمان، 3 / 379، الرقم: 3825، وأيضًا في فضائل الأوقات، 1 / 130، الرقم: 28، والحسيني في البيان والتعريف، 1 / 193، الرقم: 505.

’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں: ایک رات میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہ پایا تو میں آپ کی تلاش میں نکلی کیا دیکھتی ہوں کہ آپ جنت البقیع میں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تجھے ڈر ہوا کہ اللہ اور اس کا رسول تجھ پر ظلم کرے گا؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے سوچا شاید آپ کسی دوسری زوجہ کے ہاں تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پندرہویں شعبان کی رات کو آسمان دنیا پر (جیسا کہ اُس کی شایانِ شان ہے) اُترتا ہے اور قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ لوگوں کو بخشتا ہے۔‘‘ اِس حدیث کو امام ترمذی، ابن ماجہ اور ابن حمید نے روایت کیا ہے۔

58 / 10. عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِصلی الله عليه وآله وسلم: إِذَا کَانَتْ لَيْلَة النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَقُوْمُوْا لَيْلَهَا وَصُوْمُوْا نَهَارَهَا فَإِنَّ اﷲَ يَنْزِلُ فِيْهَا لِغُرُوُبِ الشَّمْسِ إِلَی سَمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُوْلُ: أَلَا مِنْ مُسْتَغْفِرٍ لِي فَأَغْفِرَ لَهُ أَلَا مُسْتَرْزِقٌ فَأَرْزُقَهُ أَلَا مُبْتَلًی فَأُعَافِيَهُ أَلَا کَذَا أَلَا کَذَا حَتَّی يَطْلُعَ الْفَجْرُ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه.

10: أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب: إقامة الصلاة والسنة فيها، باب: ما جاء في ليلة النصف من شعبان، 1 / 444، الرقم: 1388، والبيهقي في شعب الإيمان، 3 / 378، الرقم: 3822، وأيضًا في فضائل الأوقات، 1 / 122، الرقم: 24، والفاکهي في أخبار مکة، 3 / 84، الرقم: 1837، والديلمي في مسند الفردوس، 1 / 259، الرقم: 1007، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 74، الرقم: 1550.

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب شعبان کی پندرھویں رات ہو تو رات کو قیام کرو۔ دن میں روزہ رکھو کیونکہ اللہ تعالیٰ اِس رات میں سورج غروب ہوتے ہی آسمانِ دنیا کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور فرماتا ہے: کون مجھ سے مغفرت طلب کرتا ہے کہ میں اُس کی مغفرت کروں، کون مجھ سے رزق طلب کرتا ہے کہ میں اُسے رزق دوں، کون مبتلائے مصیبت ہے کہ میں اُسے عافیت دوں۔ اِسی طرح صبح تک ندا بلند ہوتی رہتی ہے۔‘‘ اِس حدیث کو امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

59 / 11. عَنْ عَائِشَةَ رضی اﷲ عنهما قَالَتْ: فَقَدْتُ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ فَخَرَجْتُ أَطْلُبُهُ فَإِذَا هُوَ بِالْبَقِيْعِ رَافِعٌ رَأسَهُ إِلَی السَّمَاءِ فَقَالَ: يَا عَائِشَة، أَکُنْتِ تَخَافِيْنَ أَنْ يَحِيْفَ اﷲُ عَلَيْکِ وَرَسُوْلُهُ قَالَتْ: قَدْ قُلْتُ: وَمَا بِي ذَلِکَ وَلَکِنِّي ظَنَنْتُ أَنَّکَ أَتَيْتَ بَعْضَ نِسَائِکَ. فَقَالَ: إِنَّ اﷲَ تَعَالَی يَنْزِلُ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَی السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَغْفِرُ لِأَکْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعَرِ غَنَمِ کَلْبٍ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَ أَحْمَدُ وَابْنُ رَاهَوَيْه.

11: أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب: إقامة الصلاة والسنة فيها، باب: ما جاء في ليلة النصف من شعبان، 1 / 444، الرقم: 1389، وأحمد بن حنبل في المسند، 6 / 238، الرقم: 26060، وابن راهويه في المسند، 2 / 326، الرقم: 850، وعبد بن حميد في المسند، 1 / 437، الرقم: 1509، والحسيني في البيان والتعريف، 1 / 193، الرقم:505، والسَّيوطي في الدر المنثور، 7 / 402.

’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا: میں نے ایک رات حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (بستر مبارک پر موجود) نہ پایا، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلاش میں نکلی، دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنت البقیع میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر آسمان کی جانب اُٹھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! کیا تو اِس بات کا خوف کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اُس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تجھ پر ظلم کریں گے۔ میں نے عرض کیا: یہ بات نہیں بلکہ مجھے خیال ہوا تھا کہ آپ دوسری ازواج کے پاس تشریف لے گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرھویں رات کو آسمانِ دنیا کی جانب نزول فرما ہوتا ہے اور قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ لوگوں کے گناہوں کی بخشش فرماتا ہے۔‘‘

اسے امام ابن ماجہ، احمد اور ابن راھویہ نے روایت کیا ہے۔

60 / 12. عَنْ أَبِي مُوْسَی الْأَشْعَرِيِّ رضی الله عنه عَنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: إِنَّ اﷲَ لَيَطَّلِعُ فِي لَيْلَة النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِجَمِيْعِ خَلْقِهِ إِلَّا لِمُشْرِکٍ أَوْ مُشَاحِنٍ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَابْنُ حِبَّانَ وَالطَّبَرَانِيُّ وَابْنُ أَبِي عَاصِمٍ.

12: أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب: إقامة الصلاة والسنة فيها، باب: ما جاء في ليلة النصف من شعبان، 1 / 445، الرقم: 1390، وابن حبان في الصحيح، 12 / 481، الرقم: 5665، والطبراني في المعجم الأوسط، 7 / 36، الرقم: 6776، وابن أبي عاصم في السنة، 1 / 224، الرقم: 512، والبيهقي في شعب الإيمان، 5 / 272، الرقم: 6628، وابن عساکر في تاريح مدينة دمشق، 38 / 235.

’’حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرھویں شب کو (آسمان دنیا پر) ظہور فرماتا ہے اور مشرک اور چغل خور کے علاوہ سب کی بخشش فرما دیتا ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام ابن ماجہ، ابن حبان، طبرانی اور ابن ابی عاصم نے روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved