عقائد میں احتیاط کے تقاضے

اِعتدال و توازن : اہلِ حق کا امتیاز

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اُمتِ مسلمہ میں باہمی مذہبی اور اعتقادی اختلاف، بے اعتدالی کے باعث پیدا ہوا۔ ایک طرف بندگانِ خدا اور مقبولانِ بارگاہ کی محبت و عقیدت میں بربنائے جہالت غلو اس حد تک بڑھا کہ بات افراط تک جا پہنچی اور دوسری طرف ردِ عمل میں تخفیف و تنقیص کے باعث معاملہ تفریط تک پہنچ گیا۔ افراط نے جہاں خرافات و بدعات کا دروازہ کھولا وہاں تفریط گستاخی و اہانت کا رنگ اختیار کر گئی۔ پس محبتوں اور عقیدتوں کی حدود اور ان کے مراتب و مدارج کا تعین کرنا لازمی و لابدی امر ہے۔ اہلِ حق ہمیشہ سے حضرات انبیائے کرام علیہم السلام سے لے کر اولیاءے عظام تک فرقِ مراتب کو ملحوظ رکھتے چلے آئے ہیں لہٰذا افرادِ ملت کے درمیان توازن و اعتدال قائم رکھنا ہی صراطِ مستقیم ہے۔

اسی اعتدال و توازن کی بناء پر امتِ مسلمہ کو ’’امتِ وسط‘‘ کہا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :

وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا.

’’اور (اے مسلمانو!) اسی طرح ہم نے تمہیں (اعتدال والی) بہتر امت بنایا۔‘‘

البقرة، 2 : 143

امتِ مسلمہ کو امتِ وسط کے خطاب سے اس لئے نوازا گیا کہ وہ حدِ افراط کو نہیں پھلانگتی اور یہود ونصاریٰ اور دیگر کفار و مشرکین کی طرح ہاتھوں سے تراشیدہ بتوں کو نہیں پوجتی، انبیاء کو خدا نہیں مانتی اور نہ ہی ان کی طرح انتہائی تفریط کا شکار ہوتے ہوئے انبیاء اور اولیاء کو قتل کرتی اور ہتک آمیز سلوک کرتی ہے۔ یہی بنیادی فلسفہ ’’امتِ وسط‘‘ کے عنوان میں کارفرما ہے۔ لہذا عقائد میں حزم و احتیاط کا پہلا تقاضا اعتدال و توازن، رواداری اور تحمل و بردباری ہے ورنہ افتراق و انتشار کسی مسئلے کا حل نہیں۔ ذیل میں ہم اسی نوعیت کے مسائل پر بالترتیب بحث کر رہے ہیں۔

اِعتدال و توازن : اہلِ حق کا امتیاز

یہ بات ذہن میں رہے کہ اعتدال و توازن کی روش پر قائم رہنا زندگی کے دائرہ کار میں صرف ایک دو شعبوں تک موقوف نہیں بلکہ اس کا تعلق ہر شعبۂ حیات اور زندگی کے ہر پہلو کے ساتھ ہے۔ اسی لئے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مطلقاً ارشاد فرمایا :

خَيْرُ الْأَعْمَالِ أَوْسَطُهَا.

’’اعمال میں میانہ روی اختیار کرنا سب سے بہترین عمل ہے۔‘‘

1. بيهقی، شعب الإيمان، 3 : 402، رقم : 3887
2. ديلمی، الفردوس بمأثور الخطاب، 2 : 212، رقم : 3036

لہٰذا عقائد میں بھی اسی اعتدال و توازن کی کیفیت برقرار رکھنا ضروری ہے اور یہ ہمیشہ سے اہلِ حق کا امتیاز رہا ہے۔ ہر زمانے میں اہلِ حق انبیائے کرام، اولیاءے عظام اور خصوصاً امتِ مسلمہ میں مجددین و مصلحین عقائد میں بے اعتدالی کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں اور ان شاء اﷲ تاقیامت کرتے رہیں گے۔ زیرِنظر باب میں عقیدۂ توحید کے افراط و تفریط پر مبنی مختلف پہلوؤں کی نشان دہی کرتے ہوئے انہیں اعتدال و توازن میں لانے کی سعی کی جائے گی۔

تین اعتقادی گروہوں کی موجودگی

عدمِ توازن اور بے اعتدالی سے جہاں بہت سی الجھنیں اور شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں وہاں طبقاتی تقسیم اور اعتقادی تفریق بھی ایک فطری امر بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں ہمیشہ تین گروہ موجود رہے ہیں :

1۔ مفرطین

2۔ مقصّرین

3۔ معتدلین

پہلا گروہ۔ ۔ ۔ مفرطین

یہ وہ گروہ ہے جس نے مقبولانِ بارگاہِ الٰہی کی عقیدت و احترام میں غلو اور افراط کی روش اپنا لی اور حد سے بڑھ گئے۔ اس گروہ کے افراد کا یہ شیوہ رہا کہ فرقِ مراتب کو ملحوظ رکھے بغیر اپنی خواہش سے خود ہی درجات و مراتب مقرر کر لئے اور جہالت کی بنا پر کسی کو مقام اُلوہیت پر فائز کر دیا اور بعض اولیاء اﷲ کو مقامِ نبوت تک لے گئے اور انہیں معصوم عن الخطاء کے زمرے میں شریک کر دیا۔ یہود و نصاریٰ کی تاریخ اِس سلسلے میں ہمارے سامنے ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

مَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُؤْتِيَهُ اللّهُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُولَ لِلنَّاسِ كُونُواْ عِبَادًا لِّي مِن دُونِ اللّهِ وَلَـكِن كُونُواْ رَبَّانِيِّينَ بِمَا كُنتُمْ تُعَلِّمُونَ الْكِتَابَ وَبِمَا كُنتُمْ تَدْرُسُونَO

’’کسی بشر کو یہ حق نہیں کہ اﷲ اسے کتاب اور حکمت اور نبوت عطا فرمائے پھر وہ لوگوں سے یہ کہنے لگے کہ تم اﷲ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ بلکہ (وہ تو یہ کہے گا) تم اﷲ والے بن جاؤ اس سبب سے کہ تم کتاب سکھاتے ہو اور اس وجہ سے کہ تم خود اسے پڑھتے بھی ہوo‘‘

آل عمران، 3 : 79

اہلِ کتاب نے اپنے احبار و رُھبان کو وہ حقوق دئیے جو صرف اللہ و رسول کے لئے خاص تھے اِن کی یہ گمراہی اِس طرح ظاہر کی گئی ہے :

اتَّخَذُواْ أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُواْ إِلاَّ لِيَعْبُدُواْ إِلَـهًا وَاحِدًا لاَّ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَO

’’انہوں نے اللہ کے سوا اپنے عالموں اور زاہدوں کو رب بنا لیا تھا اور مریم کے بیٹے مسیح (علیہ السلام) کو (بھی) حالانکہ انہیں بجز اس کے (کوئی) حکم نہیں دیا گیا تھا کہ وہ اکیلے ایک (ہی) معبود کی عبادت کریں جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ان سے پاک ہے جنہیں یہ شریک ٹھہراتے ہیںo‘‘

التوبة، 9 : 31

یہ احبار و رُہبان جس چیز کو حلال قرار دیتے ان کے پیروکار اُسے حلال سمجھتے اور جس چیز کو وہ حرام قرار دیتے اُسے حرام سمجھتے تھے۔ کسی اِنسان کو رب بنانے کا مطلب اُسے معبود قرار دینا اور اُس کے سامنے مراسمِ عبودیت ادا کرنا ہی نہیں۔ اِس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اسے اللہ و رسول کے کسی ایسے حق میں شریک کر لیا جائے جو صرف ان کے لئے خاص ہے۔ تحلیل و تحریم اللہ کا وہ حق ہے جو انبیاء و رُسل کو بھی اُس کی اجازت سے ملتا ہے انبیاء و رسلِ عظام جس شے کو بھی حلال یا حرام قرار دیں وہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور مرضی کے مظہر اور نمائندے ہونے کے ناطے اسی کی منشاء کے مطابق قرار دیتے ہیں۔ کسی غیر نبی کو یہ حق دینے کے معنی یہی ہوئے کہ اُسے اللہ و رسول کے حق میں شریک کر لیا گیا۔ نصاریٰ اس غلو کی علامت بن کر راہِ حق سے بھٹک گئے تھے۔ تمام اہلِ حق کا اس پر اجماع ہے کہ شرفِ عصمت صرف انبیائے کرام علیہم السلام کو حاصل ہے۔ انبیائے کرام کے سوا کوئی معصوم نہیں ہے لہٰذا فقہاء و محدثین کے اقوال اور اولیاء و صلحاء کے ملفوظات اور افعال کو خطا سے پاک اور مبرا تصور کرنا قطعاً درست نہیں۔ ان کی ہر بات کو قطعی اور حجت ماننا اوران کے اقوال کے ہوتے ہوئے قرآن و سنت سے استنباط و استدلال کو ممنوع قرار دینا ایسا طرزِ عمل ہے جس کے ڈانڈے یہود و نصاریٰ کے عالموں کے ساتھ جا ملتے ہیں۔ اِس لئے اِس طرزِ عمل کی اصلاح کی جانی چاہیے۔

دوسرا گروہ۔ ۔ ۔ مقصّرین

یہ وہ گروہ ہے جو عدمِ توازن اور انتہا پسندی کے دوسرے کنارے پر رہتا ہے۔ یہ طبقہ نہ تو اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت و عظمت کا حق بجا لاتا ہے اور نہ بندگانِ خدا کے احترام و عقیدت کا پاس و لحاظ کرتا ہے۔ تقصیر و تفریط اِس طبقہ کا شعار ہے۔ یہودی اِس تقصیر میں سب سے آگے بڑھ گئے۔ یہ وہ طبقہ ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی شان میں يَدُاﷲِ مَغْلُوْلَة جیسے گستاخانہ جملے کہے اور انبیاء و رُسل عظام علیہم السلام کی شان میں گستاخیاں کیں۔

اُمتِ مسلمہ میں جس طرح افراط اور غلو کی بیماری روافض میں پائی جاتی ہے اِسی طرح تفریط و تنقیص کی بیماری میں خوارج و نواصب بھی مبتلا ہیں۔ بعد میں افراط و تفریط کی شاخیں نکلنے سے تنقیص و تقصیر کی مختلف شکلیں سامنے آتی گئیں۔ موجودہ دور میں ایسے لوگ بھی ہیں جو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منصبِ نبوت و رسالت سے نیچے اُتار کر محض ایک مصلح اور قومی رہنما کی سطح پر لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے بھی ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معجزانہ شان و کمالات اور عظیم خصائص و مقامات کا انکار اور مثلیت پر اصرار کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عام انسان کی طرح دیکھتے ہیں یا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت اور قدر و منزلت اور محبت و مودّت کے آداب اور مظاہر کو شخصیت پرستی سے تعبیر کرتے ہوئے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اولیاء و صالحین کے توسل و شفاعت کو ناجائز تصور کرتے ہیں۔ یہ گروہ اسلام کے روحانی آثار و روایات اور سلف صالحین کے اطوار و تعلیمات کو خرافات قرار دیتا ہے۔

یہ خود راہ گم کردہ لوگ صوفیاء عظام اور ائمہ و فقہاءِ امت کو العیاذ باللہ بدعتی یا سازشی گروہ قرار دیتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو تفریط اور تقصیر کے انتہائی خطرناک کنارے پر پہنچ کر خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کر رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کی اکثریت سخت گیر، غیر لچک دار اور منہ زور رویوں کی حامل ہے۔ چھوٹی چھوٹی بات پر شرک و بدعت کے فتووں کی بوچھاڑ ان کا وطیرہ بن چکا ہے۔ اسلام کی تعلیماتِ محبت و حکمت کے برعکس وہ جہاد کا لبادہ اوڑھ کر دنیا بھر میں قتل و غارت گری کو اپنا شعار بنائے بیٹھے ہیں اور (اِلَّا مَاشَاءَ اﷲ) فی زمانہ ان کی اکثریت کے اسی مجموعی تاثر کی وجہ سے دشمنانِ اسلام پوری اسلامی دنیا کو ’’دہشت گرد‘‘ ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ صاحبانِ فہم و بصیرت جانتے ہیں کہ موجودہ دور میں اسلام کو اس بے بنیاد الزام تراشی نے جتنا نقصان دیا ہے ماضی میں کوئی بڑی سے بڑی جنگی شکست بھی نہیں دے سکی۔ سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ اسلام جو کہ دینِ دعوت تھا، اس کے مغربی دنیا میں فروغ و نفوذ کے امکانات مسدود ہو گئے ہیں مغرب جو عقل و دانش پر منحصر بات کو سنتا ہے اس پراپیگنڈے سے مرعوب ہو کر اسلام کی دعوت کا پیغام سننے کے لئے تیار نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ سب کچھ اسی انتہا پسندی کی وجہ سے ہو رہا ہے جو روحِ دین کے خلاف ہے۔ اس طبقہ کے انتہا پسندانہ رویوں کی وجہ سے آج کفر کو بالواسطہ اسلام کے خلاف صف آرائی کرنے کا بہانہ مل رہا ہے۔

تیسرا گروہ۔ ۔ ۔ معتدلین

معتدلین کا طبقہ وہ ہے جو توازن اور اعتدال کی راہ پر گامزن ہو کر افراط و تفریط کے درمیان توسط کی روش اختیار کئے ہوئے ہے۔ یہ طبقہ جو اللہ تعالیٰ کی ذات کو لاشریک مانتا ہے، یہ لوگ معرفتِ خداوندی اور رضائے الٰہی کے حصول کو زندگی کا مقصود اور معراج سمجھتے ہیں۔ قرآن و سنت اور شریعت نے جو حدود مقرر کی ہیں ان کو نہ توڑتے ہیں اور نہ پھلانگ جانے کی جسارت کرتے ہیں۔ وہ انبیائے کرام ں کی شان میں حکمتِ مثلیت کا اقرار تو کرتے ہیں مگر شانِ امتیاز و فضیلت پر اصرار کرتے ہیں جبکہ مقصرین انبیاء کی شانِ فضیلت کا محض اقرار کرتے ہیںاور مثلیت پر اصرار کرتے ہیں۔ یہ طبقہ صحابہ کرام، ائمہ اہل بیتِ اطہار، فقہاء و محدثین اور اہلِ و لایت و طریقت کو وہی حیثیت دیتا ہے جو نقلاً اور عقلاً مبنی بر صداقت ہے۔ یہ طبقہ نہ تو ائمہ و فقہاء کو انبیاء و رُسل علیہم السلام کی طرح معصوم سمجھتا ہے اور نہ ان کی شان میں تنقیص و تخفیف کی جسارت و گستاخی کرتا ہے۔ یہ طبقہ نہ تو اِن کو یہ حیثیت دیتا ہے کہ ان کے ہر قول و فعل، ان کے اجتہادی تفردات اور ان کے مخصوص اعمال و مشاغل کو بلا دلیل شرعی حجتِ قاطع کی حیثیت سے تسلیم کرے اور راہِ قرآن و سنت کی بجائے انہیں مدارِ اِستدلال بنائے اور نہ ہی یہ اس حد تک جاتا ہے کہ ان کی بعض اجتہادی خطاؤں کو مخصوص ذوقی و روحانی مشاغل کی بناء پر سرے سے رد کر دے۔ اعتدال کی یہ روش فی زمانہ ناپید ہوتی چلی جا رہی ہے۔

راقم بھی اکابرینِ امت کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اِسی طریق اور منہج کی تجدید کے لئے ہمہ تن مصروف و مشغول ہے۔ یہی مسلکِ صحابہ کرام، تابعینِ عظام اور قرونِ اولیٰ کے ائمہ واسلاف اور اولیاء و صالحین کا ہے۔ یہی حقیقت میں سوادِ اعظم کی راہ ہے اور اسی کو اکابر نے مسلکِ اہل السنۃ والجماعۃ سے تعبیر کیا ہے۔

روشِ اعتدال پر قائم رہنا بذاتِ خود ایک امتحان ہے

روشِ اعتدال پر قائم رہنا آسان کام نہیں بلکہ ایک بڑا چیلنج اور امتحان ہے۔ اِس روش کا انسان چکی کے دو کھردرے پاٹوں کے درمیان پستا رہتا ہے۔ اِس سے نہ تو پہلا گروہ خوش ہوتا ہے اور نہ دوسرا۔ افراط اور تفریط میں مبتلا لوگ ہر دو سمت سے ایسے لوگوں پر حملہ آور ہوتے ہیں اور عوام ان کے شور و غوغہ سے متاثر ہوتے رہتے ہیں۔

راقم کا ذاتی رُجحان اور طبعی میلان بربنائے تحقیق توسط، اعتدال اور توازن کو پسند کرتا ہے۔

ہم نہ تو کسی مباح و مستحب کو بدعت قرار دینا پسند کرتے ہیں، نہ کسی مکروہ اور خلاف اولیٰ کو حرام کہنا گوارا کرتے ہیں۔ نہ عام درجہ کے امرِ ممنوع کو کفر اور نہ مطلقاً ناجائز کو شرک کا درجہ دیتے ہیں۔ اسی طرح نہ کسی جائز و مستحب کو سنّت مؤکدہ یا واجب کا درجہ اور نہ محض سنّت کو فرض کا، نہ اولیٰ و خلافِ اولیٰ اور مستحسن وغیر مستحسن کے فرق کو فرض اور حرام کے فرق میں بدلتے ہیں۔ نہ امورِ خیر و برکت اور معمولاتِ سلف صالحین کے ترک کرنے کے حق میں ہیں اور نہ انہیں عملاً واجباتِ دین میں شامل کرتے ہیں۔

الغرض معروف کو منکر اور منکر کو معروف بنانا ہمارا معمول نہیں۔ راقم سوئِ ظن سے ہر ممکن اجتناب اور فتویٰ زنی سے حتی الوسعیٰ گریز کرتا ہے مگر محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محروم کو بدبخت اور اہانتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرتکب کو قطعی کافر سمجھتا ہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved