سلسلہ تعلیمات اسلام 12: بچوں کی تعمیر شخصیت

بچوں کی تعلیم اور کیرئیر کا انتخاب

سوال 1: علم کسے کہتے ہیں؟

جواب: علم سے مراد کسی چیز کی اصل حقیقت کو مکمل طور پر جاننا ہے۔ یعنی کسی چیز کے بارے میں ایسی پختہ اور حتمی شکل کا ادراک جہاں اِخفا اور لاعلمی ختم ہو جائے، تردد، شک اور کسی قسم کا ظن نہ رہے علم کہلاتا ہے۔ قرآن و حدیث، سائنس، ٹیکنالوجی، فلسفہ اور تمام عقلی و نقلی انسانی علوم علم میں شامل ہیں۔ علم کا تقاضا ہے کہ واقعات و حوادث کے اسباب و علل اور قوانینِ فطرت کا سراغ لگایا جائے اور ان کے تناظر میں حیاتِ انسانی کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔

سوال 2: علم کن ذرائع سے حاصل ہوتا ہے؟

جواب: اللہ تعالیٰ نے علم کے مختلف ذرائع، وسائط، وسائل اور طریقے پیدا فرمائے ہیں۔ علم جن ذرائع سے حاصل ہوتا ہے اُن کی تفصیل درج ذیل ہے:

  1. حسّیات: جو علم حواسِ خمسہ کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔
  2. وجدانیات: جو علم انسان کے وجدان سے حاصل ہوتا ہے، جسے عرفِ عام میں چھٹی حس کہتے ہیں۔
  3. فطریات: جو علم بدیہیات سے حاصل ہوتا ہے اور انسانی فطرت میں ان چیزوں کا ادراک رکھا گیا ہے۔
  4. عقلیّات: جو علم عقل کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ حواسِ خمسہ سے حاصل ہونے والا علم اور عقل سے حاصل ہونے والا علم الگ الگ نہیں ہو سکتے۔ حواسِ خمسہ سے معلومات حاصل ہوتی ہیں اور عقل ان معلومات کو پرکھ کر نتیجہ اخذ کرتی ہے، دونوں کو اکٹھا کیا جائے گا تو علم بنے گا۔ علم تب بنے گا جب یہ دونوں ذرائع اپنے فرائضِ منصبی (functions) کو اکٹھا ادا کریں گے۔
  5. متواترات: ایسا علم جس پر نسل در نسل، صدی در صدی اتفاق چلا آرہا ہو، اسے متواترات کہتے ہیں۔
  6. تجربیات: ایسا علم جو مسلسل تجربات سے ایک ہی نتیجہ دے اور یقین تک لے جائے، اسے تجربیات کہتے ہیں۔
  7. حدثیات: اگر علم مسلسل تجربات سے ایک ایسے نکتہ تک پہنچا دے جس پر یقین نہ ہو بلکہ ظن کی کیفیت پیدا ہو تو اُسے حدثیات کہتے ہیں۔

سوال 3: تعلیم کسے کہتے ہیں؟

جواب: تعلیم عربی زبان کا لفظ ہے جو علم سے ماخوذ ہے۔ اس کے معنی پڑھانا، سکھانا، تلقین کرنا یا رہنمائی کرنا کے ہیں۔ انگریزی میں اس کا متبادل لفظ education ہے جو لاطینی زبان کے دو الفاظ educere اور educare سے ماخوذ ہے۔ Educere کے معنی to bring out یعنی اِظہار کرنا، باہر نکالنا، بروئے کار لانا وغیرہ کے ہیں؛ جب کہ educare کے معنی to bring up یعنی پروان چڑھانا، نشو و نما کرنا، اُجاگر کرنا کے ہیں۔ ایجوکیشن کی اصطلاح انہی دو الفاظ سے مل کر بنی ہے۔

تعلیم ایک دوہرے عمل کا پروگرام ہے، یعنی ایک ایسا طریقہ جس سے ہم کچھ حاصل کرتے ہیں اور دوسرا وہ جو ہم دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔ تعلیم میں ہر عمر کے افراد کی تخیلی و تخلیقی صلاحیتوں کی تربیت، سماجی عوامل و محرکات، تعلیمی ادارہ جات کا نصاب و طریقہ تدریس اور اس جیسے دیگر موضوعات زیر بحث آتے ہیں۔

سوال 4: تعلیم کن ذرائع سے حاصل ہوتی ہے؟

جواب: تعلیم دو ذرائع سے حاصل ہوتی ہے۔

  1. رسمی تعلیم
  2. غیر رسمی تعلیم

1۔ رسمی تعلیم

رسمی تعلیم وہ منظم تعلیمی نظام ہے جو پرائمری سطح سے شروع ہو کر اعلیٰ تعلیم پر منتج ہوتا ہے۔ اس میں عام مضامین کی تعلیم اور مخصوص پروگراموں کی تدریس کے علاوہ فنی یعنی technical & vocational ادارے بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہ ادارے عام طور پر حکومتی محاصل سے چلتے ہیں۔ اس میں اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیاں شامل ہیں۔ رسمی نظامِ تعلیم کی تسلیم شدہ افادیت ہی اس کی بقا کی ضامن ہے۔ عموماً رسمی تعلیم کو غیر رسمی اور فاصلاتی تعلیم کی نسبت زیادہ اہمیت کا حامل گردانا جاتا ہے۔

2۔ غیر رسمی تعلیم

غیر رسمی تعلیم (informal education) پیدائش سے لے کر تمام عمر پر محیط ہے، جو تعلیمی ادارہ جات کے باہر حاصل ہوتی ہے۔ یہ اسکول جانے سے پہلے بچے کی زبان، اَقدار اور ذہنی تربیت کے لیے بنیادیں فراہم کرتی ہے۔ جو ہمہ جہت، رسمی تعلیم کی معاون اور اسے مثبت انداز میں آگے بڑھانے میں مدد کرتی ہے۔ عصرِ حاضر میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے استعمال نے غیر رسمی تعلیم کے میدان میں انقلاب بپا کر دیا ہے۔ اس کی مدد سے افراد اپنے روز مرہ کے تجربات، عملی اثرات اور ماحول میں موجود وسائل کی مدد سے رویے، اَقدار، مہارتیں اور علم سیکھتے ہیں۔

سوال 5: فاصلاتی تعلیم کسے کہتے ہیں؟

جواب: فاصلاتی تعلیم کے طریقہ تدریس میں کمرہ جماعت میں طلبا کی موجودگی اور اساتذہ کی نگرانی شامل نہیں ہوتی۔ اس کا اہتمام عموماً دور دراز علاقوں کے ناخواندہ افراد کے لیے کیا جاتا ہے۔ آج سے ایک دہائی قبل یہ تعلیم ریڈیو، ٹی وی اور خط و کتابت کے ذریعے دی جاتی تھی۔ پھر یہ تعلیم کمپیوٹر اور CDs / DVDs کی مدد سے دی جانے لگی۔ آج کل یہ تعلیم انٹرنیٹ، ویب سائٹس اور ای میل کے ذریعے دی جاتی ہے اور مخصوص ویب سائٹس پر مواد upload کر دیا جاتا ہے۔ اساتذہ کا طلبا کے ساتھ ای میل اور چیٹنگ کے مختلف سافٹ وئیر کے ذریعے رابطہ ہوتا ہے اور یوں انہیں مکمل رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔

فاصلاتی تعلیم میں طلبا کو ان کے گھروں میں بذریعہ ڈاک تدریسی مواد فراہم کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ تدریس اور راہنمائی کے لیے ٹیوٹرز مقرر کیے جاتے ہیں جو عام طور پر رسمی اداروں کے اساتذہ ہوتے ہیں۔ یہ اساتذہ طلبا کی عملی مشقیں (assignments) دیکھتے اور مقامی تدریسی مراکز میں شام کو یا چھٹی کے دن (tutorial meeting) کرتے ہیں۔ دورانِ سمسٹر لکھی جانے والی (assignments) اور فائنل دیے گئے امتحان کی بنیاد پر طلبا کی کارکردگی کا تعین کیا جاتا ہے۔

سوال 6: قرآن حکیم کی رو سے علم کی کیا اہمیت ہے؟

جواب: قرآن حکیم میں علم کو انسان کی فلاح اور کامیابی کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ قرآن حکیم کی رو سے علم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام کی سب سے پہلی تعلیم اور قرآن کی پہلی آیت جو الله تعالیٰ نے حضور نبی اکرم ﷺ پر نازل فرمائی، وہ علم ہی سے متعلق ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَo خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍo اِقْرَاْ وَرَبُّکَ الْاَکْرَمُo الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِo عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْo

العلق، 96: 1-5

(اے حبیب!) اپنے رب کے نام سے (آغاز کرتے ہوئے) پڑھیے جس نے (ہر چیز کو) پیدا فرمایا۔ اس نے انسان کو (رحمِ مادر میں) جونک کی طرح معلق وجود سے پیدا کیا۔ پڑھیے اور آپ کا رب بڑا ہی کریم ہے۔ جس نے قلم کے ذریعے (لکھنے پڑھنے کا) علم سکھایا۔ جس نے انسان کو (اس کے علاوہ بھی) وہ (کچھ) سکھا دیا جو وہ نہیں جانتا تھا۔

گویا وحیِ الٰہی کے آغاز ہی میں حضور نبی اکرم ﷺ کے ذریعے بنی نوع انسان کی توجہ لکھنے، پڑھنے کی طرف مبذول کروائی گئی ہے۔

ایک اور مقام پر الله تعالیٰ نے اپنے اور فرشتوں کے ذکر کے ساتھ اَہلِ علم کا ذکر فرما کر علم کی اہمیت و فضیلت اور علماء کی عظمت کو یوں بیان کیا ہے:

شَهِدَ اللهُ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ وَالْمَلٰٓئِکَةُ وَاُولُوا الْعِلْمِ.

آل عمران، 3: 18

الله نے اس بات پر گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں اور فرشتوں نے اور علم والوں نے بھی (اور ساتھ یہ بھی) کہ وہ ہر تدبیر عدل کے ساتھ فرمانے والا ہے۔

علم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیبِ مکرم ﷺ کو علم میں اضافہ کے لیے دعا مانگنے کا طریقہ سکھایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:

وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِی عِلْمًاo

طٰهٰ، 20: 114

اور آپ (رب کے حضور یہ) عرض کیا کریں کہ اے میرے رب! مجھے علم میں اور بڑھا دے۔

الله تعالیٰ نے بے شمار نعمتیں نازل فرمائی ہیں۔ مگر یہ نکتہ قابل غور ہے کہ کسی نعمت کے بارے میں اپنے حبیب ﷺ کو یہ نہیں فرمایا کہ اس کے لیے دعا کریں۔ صرف علم واحد نعمت ہے کہ جس کے بارے میں اپنے حبیب مکرم ﷺ کو حکم دیا کہ اس میں اضافے کی دعا کریں۔

قرآن حکیم میں جا بجا اہل علم کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ جیسا کہ سورۂ فاطر میں ارشاد ہوتا ہے:

اِنَّمَا یَخْشَی اللهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا.

فاطر، 35: 28

الله کے بندوں میں سے اس سے وہی ڈرتے ہیں جو (ان حقائق کا بصیرت کے ساتھ) علم رکھنے والے ہیں۔

سوال 7: کیا احادیث مبارکہ میں حصولِ علم کی تلقین کی گئی ہے؟

جواب: جی ہاں! احادیث مبارکہ میں حصولِ علم کی تلقین کی گئی ہے، حضور نبی اکرم ﷺ نے بکثرت تعلیم و تعلم کی فضیلت و اہمیت پر ارشادات فرمائے ہیں۔

1۔ حضرت عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ وَعَلِّمُوْهُ النَّاسَ، تَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَعَلِّمُوْهُ النَّاسَ، تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَعَلِّمُوْهُ النَّاسَ، فَإِنِّي امْرُؤٌ مَقْبُوْضٌ، وَالْعِلْمُ سَیُنْتَقَصُ، وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ حَتّٰی یَخْتَلِفَ اثْنَانِ فِي فَرِیْضَۃٍ لَا یَجِدَانِ أَحَدًا یَفْصِلُ بَیْنَهُمَا.

  1. دارمي، السنن، باب الاقتداء بالعلماء، 1: 83، رقم: 221
  2. دار قطني، السنن، کتاب الفرائض والسیر وغیر ذلک، 4: 82، رقم: 46

علم سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ، فرائض سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ، قرآن سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ، کیوں کہ میں انسان ہوں جو اُٹھا لیا جاؤں گا اور علم (بھی) عنقریب اُٹھ جائے گا اور فتنے ظاہر ہوں گے (جن کی وجہ سے شریعتِ اسلامیہ سے ناواقفیت ہو جائے گی) حتیٰ کہ دو افراد میں اختلاف ہوگا تو ان کو کوئی نہ ملے گا جو (احکامِ شریعت کے مطابق) ان کے درمیان فیصلہ کر دے۔

2۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَةٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ.

ابن ماجه، السنن، مقدمہ، باب فضل العلماء والحث علی طلب العلم، 1: 81، رقم: 224

علم کا طلب کرنا ہر مسلمان (مرد و عورت) پر فرض ہے۔

3۔ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے:

خُذُوْا الْعِلْمَ قَبْلَ أَن یُنْفَذَ.

طبراني، المعجم الکبیر، 8: 232، رقم: 7906

علم حاصل کرو قبل اس کے کہ اِسے اُٹھا لیا جائے۔

مذکورہ بالا احادیث مبارکہ کی روشنی میں علم کے حصول کی فرضیت اور اس کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے اور یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ یہ فریضہ صرف مردوں تک ہی محدود نہیں بلکہ عورتوں کے لیے بھی علم کا حصول لازمی قرار دیا گیا ہے۔

سوال 8: طالب علم کی فضیلت کیا ہے؟

جواب: علم کا متلاشی اور سیکھنے کے عمل سے گزرنے والا ہر فرد طالب علم کہلاتا ہے۔ اسلام نے اس کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں لگائی، بلکہ اسلام تو مہد سے لحد تک حصولِ علم کی ترغیب دیتا ہے۔ قرآن و حدیث میں طالب علم کی فضیلت ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے۔

قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ.

المجادلة، 58: 11

اللہ اُن لوگوں کے درجات بلند فرما دے گا جو تم میں سے ایمان لائے اور جنہیں علم سے نوازا گیا۔

1۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَنْ سَلَکَ طَرِیْقًا یَلْتَمِسُ فِیْهِ عِلْمًا، سَهَلَ اللهُ لَهٗ طَرِیْقًا إِلَی الْجَنَّةِ.

  1. مسلم، الصحیح، کتاب الذکر والدعاء والتوبة والإستغفار، باب فضل الإجتماع علی تلاوة القرآن وعلی الذکر، 4: 2074، رقم: 2699
  2. أحمد بن حنبل، المسند، 2: 325، رقم: 8299
  3. أبو داود، السنن، کتاب العلم، باب الحث علی طلب العلم، 3:317، رقم: 3643
  4. ترمذي، السنن، کتاب العلم، باب فضل طلب العلم، 5: 28، رقم: 2646

جو شخص تلاشِ علم کی راہ پر چلا اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے۔

اس حدیث مبارک میں حصولِ علم کے لیے سفر کرنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے یعنی الله تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جو شخص علم حاصل کرنے کے لیے گھر سے نکلے گا تو اس کے سفر کرنے کے بدلے میں الله تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دے گا۔

2۔ اسی طرح حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

مَنْ خَرَجَ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ، کَانَ فِي سَبِیْلِ اللهِ حَتّٰی یَرْجِعَ.

  1. ترمذی، السنن، کتاب العلم، باب فضل طلب العلم، 5: 29، رقم: 2647
  2. طبراني، المعجم الصغیر، 1: 234، رقم: 380

جو شخص حصولِ علم کے لیے نکلا وہ اس وقت تک الله کی راہ میں ہے جب تک واپس نہیں لوٹ آتا۔

جس طرح جہاد کرنے والا اپنا گھر بار چھوڑ کر سفر کی صعوبتیں اور مشقتیں برداشت کرتا ہے، اُسی طرح طالب علم بھی حصولِ علم کے لیے گھر سے نکل کر سفر کرتا اور مصائب جھیلتا ہے۔ اسی بنا پر اسے جہاد کرنے والے کے مرتبہ پر فائز کیا گیا ہے۔

3۔ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَنْ جَائَهُ الْمَوْتُ وَهُوَ یَطْلُبُ الْعِلْمَ لِیُحْیِيَ بِهِ الإْسْلَامَ فَبَیْنَهٗ وَبَیْنَ النَّبِیِّیْنَ دَرَجَةٌ وَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ.

  1. دارمي، السنن، باب في فضل العلم والعالم، 1: 112، رقم: 354
  2. ابن عبد البر، جامع بیان العلم وفضلہ، 1: 46

اگر کسی کو اس حال میں موت آئے کہ وہ علم حاصل کر رہا تھا تاکہ اس علم کے ذریعے اسلام کو زندہ کرے گا تو اس کے اور انبیاء کرام f کے درمیان جنت میں صرف ایک درجے کا فرق ہوگا۔

جس طالب علم کو حصولِ علم کے دوران موت آگئی اور وہ تکمیلِ علم سے عاجز رہ گیا تو وہ اپنی نیت کی وجہ سے اصلی اور آخری مقصد یعنی الله تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔

سوال 9: بچوں کی صلاحیتوں کے ارتقا میں تعلیم کیا کردار ادا کرتی ہے؟

جواب: بچوں کی صلاحیتوں کا ارتقا اور ان کی تعمیرِ شخصیت تعلیم کا مقصد اولیٰ ہے۔ تعلیم یافتہ اور جاہل شخص میں صرف یہ بات امتیاز پیدا نہیں کرتی کہ ایک کے پاس ڈگری ہے اور دوسرا اس سے محروم ہے؛ بلکہ دونوں کا طرزِ عمل اور اخلاق و اطوار اُن کے علم یا جہالت میں نمایاں فرق قائم کرتے ہیں۔

قرآن حکیم میں ارشاد ہوتا ہے:

قُلْ ھَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَالَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ ط اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُولُو الْاَلْبَابِo

الزمر، 39: 9

فرما دیجیے: کیا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو لوگ علم نہیں رکھتے (سب) برابر ہوسکتے ہیں؟ بس نصیحت تو عقل مند لوگ ہی قبول کرتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ تعلیم انسانی زندگی کے ان تمام پہلوؤں کی مسلسل نشو و نما اور بالیدگی کا عمل ہے جو انسانی شخصیت کے نکھار اورا علیٰ کمال کے حصول کا باعث بنتا ہے۔ مختلف تعلیمی سرگرمیاں بچوں کی شخصیت کے تمام پہلوؤں کی کسی نہ کسی لحاظ سے نشو و نما اور فروغ کا باعث بنتی ہیں۔ بالیدگی کا یہ عمل مربوط بھی ہوتا ہے اور بتدریج بھی تاکہ بچوں کی زندگی کے ہر پہلو کی نشو و نما ہو سکے اور حتی الامکان ان کی شخصیت کی تکمیل کے ذریعے معاشرتی زندگی متوازن طور پر فروغ پائے۔

الغرض! بچوں کی صلاحیتوں کا ارتقا اور قوموں کی ترقی کا راز اعلیٰ تعلیم میں مضمر ہے۔ بچوں کی صلاحیتوں کو جلا بخشنے کے لیے سائنسی اور فنی مضامین کی تدریس پر توجہ دی جائے تاکہ وہ اس کار گاهِ حیات میں پوری توانائی سے اپنا کردار ادا کر سکیں۔

سوال 10: تعلیمی ادارہ جات بچوں کی معاشرتی زندگی میں کیا کردار ادا کرتے ہیں؟

جواب: تعلیمی ادارہ جات بچوں کی عقل و شعور کی نشوو نما اور مستقبل کی جہتوں کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں تاکہ وہ آنے والے کل سے روشناس اور زمانے کی مشکلات سے نبرد آزما ہونے کے لیے تیار ہو سکیں۔ تعلیمی مراکز میں بچے مل جل کر رہنا، کام کرنا اور کھیلنا سیکھتے ہیں۔ بچوں کی معاشرتی نشو و نما کے لیے یہ ادارے مثالی تربیت گاہ کا درجہ رکھتے ہیں۔

تعلیمی ادارہ جات درج ذیل طریقوں سے بچوں کی معاشرتی زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں:

  • بچوں کے لیے تعلیمی ادارہ ایک ایسی منطقی جگہ ہے جہاں انہیں بہتر طرزِ عمل اختیار کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ انسانی حقوق و فرائض کا احترام سکھایا جاتا ہے اور جمہوری رجحانات کی نشو و نما کرکے انہیں معاشرتی زندگی گزارنے کی عملی مشق کرائی جاتی ہے۔
  • کلاس کا کمرہ بچوں کی تعمیرِ شخصیت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جس میں بچوں کو پوری طرح کھل کر اظہارِ خیال کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ ان کے سوالات کو نظر انداز کرنے کی بجائے ان کی پذیرائی دانش مندی سے کی جاتی ہے۔ ان کے شخصی اختلافات اور خامیوںکو دور کر کے انہیں دوسروں کے مدِمقابل لانے میں خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔
  • تعلیمی ادارہ جات میں اساتذہ بچوں کو نہ صرف تعلیم دیتے ہیں بلکہ ان کی ذہنی، جسمانی اور اخلاقی نشو و نما میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کی بنا پر وہ اپنے فیصلے اور مسائل خود حل کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔
  • بچوں کی معاشرتی تربیت کے لیے اساتذہ بد ظنی اور تعصب سے پاک ہو کر بچوں کے سامنے جمہوری اندازِ فکر اختیار کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ معاشرتی، مذہبی یا نسلی پس منظر سے قطع نظر یکساں شفقت سے پیش آتے ہیں۔ اس سے بچوں کی سیرت و کردار کی نشو و نما صحت مند طریق پر ہوتی ہے۔
  • کھیل اور تعلیمی کمرے کی سرگرمیوں کے ذریعے اساتذہ کسی جذباتی دباؤ یا خوف کے بغیر بچوں کو دوسروں کا مقابلہ کرنے کی تحریک دیتے ہیں۔ یوں محنت اور ایمانداری سے زندگی میں آگے بڑھنے کا رجحان فروغ پاتا ہے۔

سوال 11: کیا بچوں کا تعلیمی نصاب صرف قومی زبان میں ہونا چاہیے؟

جواب: بچوں کا تعلیمی نصاب قومی اور بین الاقوامی دونوں زبانوں میں ہونا چاہیے۔ قومی زبان کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور بین الاقوامی زبان سے بھی روگردانی نہیں کی جا سکتی۔ اگر طلبا کو محض قومی زبان میں تعلیم دی جائے تو وہ دنیا کے سائنسدانوں اور محققین کو سمجھنے سے قاصر رہیں گے۔ کیوں کہ دنیا میں کی گئی تحقیقات اور ٹیکنالوجی کا زیادہ تر حصہ بین الاقوامی زبان انگریزی پر مشتمل ہے۔ دنیا کے تقریباً 90 فی صد سے زائد سائنسدانوں نے اپنی تحقیق انگریزی زبان میں ہی کی ہے۔ یوں انگریزی کے بغیر تعلیم کی فراہمی نا ممکن ہے۔ اس سے طلبا تحقیق اور ٹیکنالوجی کے میدان میں دنیا سے پیچھے رہ سکتے ہیں۔ گویا انگریزی زبان کو پس پشت ڈالنا دنیا کو پس پشت ڈالنے کے مترادف ہے۔

دوسری طرف قومی زبان اردو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ دنیا کے تحقیق دان اس بات پر متفق ہیں کہ ایک طالب علم کسی بھی زبان کی نسبت اپنی قومی زبان میں زیادہ بہتر طور پر ابتدائی تعلیم حاصل کرسکتا ہے۔ قومی زبان کے ذریعے اس کے سوچنے سمجھنے کی اہمیت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اردو زبان میں تاحال تحقیق اور سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں اس حد تک ترقی نہیں ہوپائی کہ طلبا اس کے بل بوتے پر تعلیمی میدان میں زیادہ آگے بڑھ سکیں۔

تعلیم قومی زبان میں دی جائے یا بین الاقوامی زبان میں! اس تذبذب کا واحد حل یہی ہے کہ تعلیمی ادارے دونوں زبانوں میں توازن رکھتے ہوئے تعلیم مہیا کرنے کے ساتھ انگریزی زبان میں کی گئی تحقیق کا اردو زبان میں ترجمہ بھی کروائیں۔ یوں کسی بین الاقوامی زبان میں شائع ہونے والی تحقیق کا اردو زبان میں ترجمہ کرنے سے قومی زبان میں علم کا ایک وسیع ذخیرہ میسر آئے گا۔

سوال 12: تعلیمی ادارہ کے پرنسپل کے فرائض کیا ہیں؟

جواب: تعلیمی ادارہ کے سربراہ ہونے کی حیثیت سے پرنسپل کے درج ذیل فرائض ہیں:

  • پرنسپل کا فرض ہے کہ وہ اسکول کی عمارت کے مطابق اتنے ہی طلبا کو داخلہ دے جن کی وہ صحیح معنوں میں تعلیم و تربیت کر سکے۔ تعداد کے پیشِ نظر اپنے اسٹاف میں اضافہ کرے، جو طلبا کی استعداد اور تربیت کا باضابطہ چیک اینڈ بیلنس رکھیں۔
  • پرنسپل کا فرض ہے کہ وہ اسکول میں اکیڈمک انچارج اور وائس پرنسپل کی تقرری کرے اور دونوں کی ذمہ داریاں تحریراً ان کے پاس موجود ہوں تاکہ طرفین میں کوئی اختلاف پیدا نہ ہو۔ اسکول کو صرف اکیڈمک انچارج اور وائس پرنسپل پر ہی نہ چھوڑے، بلکہ جس قدر ممکن ہو تمام اُمور کی خود نگرانی کرے۔
  • پرنسپل اسکول میں خوبصورت پودوں، باغیچوں اور قدرتی مناظر کا بھی خوب اہتمام کرے۔ خوبصورت فواروں، fish aquarium، خوبصورت فوٹو فریم اور دنیا کے نقشوں کے ذریعے ایسا تعلیمی ماحول فراہم کرے جو بچوں کے لیے دلکشی کا سبب بنے۔
  • پرنسپل کے فرائض میں شامل ہے کہ اساتذہ کے طریقہ تدریس پر گہری نظر رکھے تاکہ وہ ایسے غیر ضروری عنوانات سے اجتناب کریں جو طلبا کی ذہنی سطح سے بالاتر ہوں۔ کیوں کہ غیر ضروری تفصیلات سے طلبا کا ذہن منتشر ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے ضروری اور مفید باتیں بھی ان کے ذہن میں محفوظ نہیں رہتیں۔
  • پرنسپل ماہانہ بنیادوں پر ایک دن ایسا مقرر کرے جس میں طلبا کی تعلیم و تربیت کے لیے اساتذہ سے مشاورت کی جائے۔ وہ ہر ایک کی رائے چاہے وہ مناسب ہو یا غیر مناسب - ضرور سنے اور کسی کو تنقیص کا نشانہ بنائے بغیر اچھی تجاویز کو فوری نافذ کرے۔
  • پرنسپل اپنے منصب کا صحیح حق ادا کرتے ہوئے اساتذہ کے ساتھ ساتھ طلبا کے لیے بھی سراپا رحمت بنے۔ سرزنش اور تادیب سے زیادہ افہام و تفہیم اور پند و نصائح کی افادیت پر نظر رکھے۔ پیچیدہ معاملات میں بھی اچھے اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے۔
  • پرنسپل کو چاہیے کہ اسکول کے ملازمین کے مالی معاملات کا خصوصی خیال رکھے۔ اچھی کارکردگی والے اسٹاف ممبران کی انعامات کے ذریعے حوصلہ افزائی کرے اور تہواروں پر ان کے لیے خصوصی incentives کا اہتمام کرے۔
  • پرنسپل کا فرض ہے کہ اسکول کے مالی معاملات کے لیے محاسب، تجربہ کار اور دیانت دار اسٹاف کی تقرری کرے جو اسکول کے حساب کتاب کا ریکارڈ اس طرح رکھیں کہ سالہا سال کے بعد بھی کوئی حساب طلب کرے تو ہر چیز من و عن محفوظ ہو اور کسی کو ان پر غبن کی تہمت کا موقع نہ مل سکے۔

سوال 13: تعلیمی ادارہ جات کے اسٹاف کی تربیت کیسے کی جائے؟

جواب: طلبا کی تعلیم و تربیت کی تکمیل تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ اسٹاف کا مطالبہ کرتی ہے۔ اسٹاف کی تربیت کے لیے ایسی ٹریننگ کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کی دلچسپیوں کے دائرے کو وسیع کرتے ہوئے انہیں صحیح اقدار اپنانے کے قابل بنائے کہ وہ طلبا کو وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا فریضہ سرانجام دے سکیں۔ تعلیمی ادارہ جات کے اسٹاف کی تربیت کے لیے درج ذیل اُمور پیش نظر رکھے جائیں تو طلبا کی بہتر انداز میں تربیت کی جا سکتی ہے:

  • اساتذہ کی تربیت کا اولین مقصد طلبا میں انفرادی و اجتماعی زندگی کا فہم اس طرح پیدا کرنا ہے کہ وہ زندگی کے ہر میدان میں تعلیماتِ اسلام کی روشنی میں اپنا راستہ خود متعین کر سکیں۔
  • دورانِ تربیت اسٹاف کو اپنے ماتحتوں کے اختیارات اور ذمہ داریاں متعین کر کے ان کے سپرد کی جائیں اور ان کے کام کا دائرہ کار بھی بتایا جائے کہ وہ کتنے بااختیار ہیں؟ وقتاً فوقتاً ان کے سپرد کیے گئے کام کا جائزہ لے کر حسبِ ضرورت اس میں بہتری لائی جائے۔
  • تربیت کے دوران اسٹاف کے مابین محبت اور ہم آہنگی پیدا کرنا ضروری ہے۔ انہیں ’ٹیم ورک‘ کا شعور دے کر واضح کیا جائے کہ کچھ کام ایسے ہیں جن کو ہر شخص کم وقت میں اپنی ذاتی کوشش سے سر انجام دے سکتا ہے، مگر کچھ کام ایسے ہوتے ہیں جن کو تنہا انجام نہیں دیا جا سکتا۔ اس لیے اسٹاف کو چاہیے کہ وہ اجتماعی ہم آہنگی اور ٹیم ورک کے ذریعے بچوں کے مشترکہ مسائل کی نشاندہی اور اُن کے حل کے لیے اشتراک و تعاون سے کام لیں۔
  • ٹریننگ میں اسٹاف کو صبر و تحمل، رواداری، فراخ دلی اور باہمی تعاون جیسی اقدار کی تربیت دینے کے ساتھ ان میں تساہل اور تاخیر کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ وہ طلبا کی تعمیرِ شخصیت میں اپنا بھر پور کردار ادا کر سکیں۔

سوال 14: استاد کسے کہتے ہیں؟

جواب: کسی بھی علم و فن کو سکھانے اور رہنمائی کرنے والے شخص کو استاد کہتے ہیں۔ اُستاد ایک ایسی شخصیت ہے جو بچوں کی سیرت و کردار کی تشکیل کا فریضہ سر انجام دیتی ہے۔ یہی وہ کام ہے جس کے لیے الله تعالیٰ نے انبیاء اور رسل f کو مبعوث فرمایا ہے۔

حضرت عبد الله بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے:

إِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا.

  1. ابن ماجه، السنن، مقدمه، باب فضل العلماء والحث علی طلب العلم، 1: 83، رقم: 229
  2. دارمي، السنن، 1: 111، رقم: 349

میں معلم بنا کر ہی مبعوث کیا گیا ہوں۔

اس کی وضاحت درج ذیل حدیث مبارک میں یوں کی گئی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے:

إِنَّمَا بُعِثْتُ ِلأُتَمِّمَ صَالِحَ الأَخَلاقِ.

  1. أحمد بن حنبل، المسند، 2: 381، رقم: 8939
  2. حاکم، المستدرک، 2: 670، رقم: 4221

مجھے عمدہ اَخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے۔

گویا آپ ﷺ ایسے استاد تھے کہ جنہوں نے تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ اَخلاق کی تعمیر بھی کی اور اَعلیٰ اَخلاق کا نمونہ بھی پیش کیا۔

سوال 15: اُستاد کے فرائض کیا ہیں؟

جواب: معاشرے کی تعمیر و ترقی اور علم کی ترویج و اشاعت کے لیے استاد کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ وہ تدریسی اور معاشرتی فرائض کے ساتھ اپنا نقطہ نظر نہایت مؤثر انداز میں نئی نسل تک منتقل کرتا ہے۔ استاد کا کردار ایک مالی کی طرح ہے۔ جس طرح باغ میں پودوں کی افزائش مالی کی بھرپور توجہ کے بغیر نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح طلبا کی تعلیم و تربیت بھی استاد کی بھرپور توجہ کے بغیر ممکن نہیں۔ طلبا کی شخصیت سازی کے لیے استاد کے فرائض درج ذیل ہیں:

1۔ علم و فن میں مہارت

تدبر و تفکر ہی دراصل کسی علم و فن کی روح ہے جس کے ذریعے ترقی کی منازل طے ہوتی ہیں۔ استاد کا فرض ہے کہ وہ اپنے علم میں مہارت پیدا کرے اور مطالعہ کو وسعت دینے کے لیے مکمل تحقیق کرے تاکہ علم و فن میں کماحقہ بصیرت حاصل کر سکے۔

2۔ وقت کی پابندی

وقت کی پابندی شعبہ تدریس سے منسلک افراد کے لیے ناگزیر ہے کیوں کہ اس پر اگلی نسلوں کی تربیت کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔ استاد تدریسی ذمہ داریوں کی تکمیل کے لیے اپنے اوقات کو منظم کر کے نہ صرف خود نظم و ضبط کا پابند ہو بلکہ طلبا میں بھی پابندیِ وقت کی عادت راسخ کرنے کا فریضہ سرانجام دے۔

3۔ سوال کا حق

استاد کا فرض ہے کہ طلبا کے اندر تحرک پیدا کرنے کے لیے کلاس کا ماحول ایسا بنائے کہ وہ سبق کے بہتر فہم کے لیے بلا جھجک سوالات کر سکیں۔ کیوں کہ اچھا سوال آدھا علم ہوتا ہے۔ دورانِ تدریس جو نکات استاد بیان نہ کر سکا ہو، سوالات سے وہ نکات بھی سامنے آجاتے ہیں اور یوں پوری کلاس کو فائدہ حاصل ہوتا ہے۔

4۔ اعلیٰ اخلاق

استاد کا فرض ہے کہ وہ طلبا کو معلومات فراہم کرنے کے ساتھ ان کی ذہنی پختگی اور بلندیِ کردار کے لیے شائستہ طرزِ تکلم کا پیکر بنے تاکہ وہ اس کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے آپ کو اعلیٰ اخلاق کا نمونہ بنا سکیں۔

5۔ غیر اسلامی نظریات کی تطہیر

استاد کا فرض ہے کہ وہ طلبا کے ایمان و اعتقاد کو مضبوط کرنے کے لیے انہیں لسانی اختلافات، قومیتوں کے تعصبات اور نام نہاد ترقی پسند لٹریچر کی یلغار سے بچائے۔ ان کے ذہنوں میں پاکیزہ اور اسلامی خیالات و جذبات پیدا کرے تاکہ وہ دنیوی زندگی میں نیک اعمال کر کے آخرت میں سرخ روئی حاصل کر سکیں۔

6۔ کتب بینی کی عادت

استاد کا فرض ہے کہ وہ طلبا میں علمی و فکری متانت اور سیرت و کردار میں مضبوطی پیدا کرنے کے لیے اُنہیں علمی، سائنسی، معاشرتی اور تاریخی کتب کے مطالعہ کی طرف راغب کرے تاکہ ان میں غور و فکر، وسعتِ نظری اور تحقیقی و تخلیقی صلاحیتیں پروان چڑھیں۔

7۔ کمزور طلبا پر خصوصی توجہ

طلبا صرف ظاہری صورت کے لحاظ سے ہی ایک دوسرے سے مختلف نہیں ہوتے بلکہ ان کی ذہنی سطح اور علمی معیار میں بھی تفاوت ہوتا ہے۔ اس لیے استاد کو چاہیے کہ وہ اپنی تدریس میں اتنی لچک رکھے کہ کمزور بچے اس سے بآسانی استفادہ کر سکیں۔

سوال 16: ایک اچھے استاد میں کن اوصاف کا ہونا ضروری ہے؟

جواب: طلبا کی تعلیم و تربیت میں استاد کی شخصیت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ وہ شعوری یا لاشعوری طور پر استاد سے مسلسل متاثر ہوتے ہیں۔ نظامِ تربیت میں نفسِ مضمون اور طریقہ تدریس کا ماہر ہونے کے لیے ایک اچھے استاد میں درج ذیل اوصاف کا ہونا ضروری ہے:

1۔ خشیتِ الٰہی

خوف خدا بہت بڑی نعمت ہے جو انسان کو گناہوں سے بچاتی اور نیک کاموں کی طرف رغبت دلاتی ہے۔ لہٰذا معلم کے ذاتی اوصاف میں ایک بڑا وصف یہ ہونا چاہیے کہ وہ صرف الله تعالیٰ سے ڈرتا ہو۔

2۔ صبر و تحمل

صبر و تحمل استاد کا ایک بنیادی وصف ہی نہیں بلکہ بہت سے اہم اوصاف کی بنیاد ہے۔ قرآن حکیم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ.

الأحقاف، 46: 35

(اے حبیب!) پس آپ صبر کیے جائیں جس طرح (دوسرے) عالی ہمّت پیغمبروں نے صبر کیا تھا اور آپ ان (منکروں) کے لیے (طلبِ عذاب میں) جلدی نہ فرمائیں۔

اگر استاد حقیقی معنوں میں اپنے کام کا ثمر دیکھنا چاہتا ہے تو اُسے طلبا کے ساتھ صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور بردباری سے کام لینا چاہیے۔

3۔ فقر و اِستغناء

معلم کو فقر و استغنا کا پیکر ہونا چاہیے۔ یہ وہ بنیادی وصف ہے جو استاد کو کمال عطا کرتا ہے۔ اس کے بغیر تعلیم کا وقار اور معلم کا احترام قائم نہیں رہ سکتا۔ لہٰذا استاد کو کسی قسم کے دباؤ، لالچ اور خوف سے متاثر ہوئے بغیر استغناء کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔

4۔ عفو و درگزر

استاد میں عفو و درگزر اور بردباری جیسے اوصاف کا ہونا اَز حد ضروری ہے۔ اس لیے کہ استاد کا بچوں سے ہر وقت سابقہ رہتا ہے اور اُن سے ہمہ وقت غلطیاں سرزد ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ بعض اوقات طلبا بے خبری میں استاد کے مقام کو نظر انداز کر بیٹھتے ہیں، اُن کے ایسے رویے پر درگزر کرنا کامیاب معلم کے اوصاف میں سے ہے۔

5۔ سادہ اور دلکش شخصیت

استاد کی شخصیت دلکش اور مؤثر ہونے کے ساتھ اس کے لباس میں سادگی اور نفاست کا عنصر بھی نمایاں ہو، تاکہ طلبا اسے اپنا رول ماڈل سمجھتے ہوئے بے اختیار اس کی طرف مائل ہوں۔

6۔ قول و فعل میں مطابقت

استاد میں ایک وصف یہ بھی مطلوب ہوتا ہے کہ وہ تضاد سے پاک ہو۔ اس کے کہنے اور کرنے میں فرق نہ ہو۔ وہ جن اُصولوں کا پرچار کرے اُن پر خود سب سے زیادہ عمل پیرا ہو۔ اُس کا ظاہر و باطن باہم متصادم نہ ہو۔ وہ اپنے طلبا کو جن اخلاقی چیزوں کی تعلیم دیتا ہو وہ اس کی شخصیت سے جھلکتی نظر آئیں۔ قرآن حکیم بھی قول و فعل کے تضاد سے بچنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَo

الصف، 61: 2

تم وہ باتیں کیوں کہتے ہو جو تم کرتے نہیں ہو۔

7۔ پر اُمیدی اور دور اندیشی

استاد کو بہت سے معاملات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر اس میں ان سے نمٹنے کی صلاحیت نہ ہو تو بہت دشواری پیش آتی ہے۔ استاد کو ہمیشہ پُرامید اور دُور اندیش ہونا چاہیے تاکہ وہ طلبا کی تعلیم و تربیت میں نہ تو خود مایوس ہو اور نہ طلبا کو مایوسی کا شکار ہونے دے۔

سوال 17: جو استاد تعلیم دینے میں سخاوت کرتا ہے اس کے لیے کیا خوش خبری ہے؟

جواب: حضور نبی اکرم ﷺ نے متعدد مواقع پر اساتذہ کے لیے خوش خبری سنائی ہے۔ آپ ﷺ نے علم کی عظیم وراثت آگے پہنچانے والوں کو اپنا خلیفہ قرار دیا ہے اور علم کو سنبھالنے، اٹھانے اور تعلیم و تعلم کے عمل کو اپنی خلافت قرار دیا ہے۔

1۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اے اللہ! ہمارے خلفاء پر رحمت فرما۔ صحابہ کرام l نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کے خلفاء کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا:

اَلَّذِیْنَ یَأْتُوْنَ مِنْ بَعْدِي، یَرْوُوْنَ أَحَادِیْثِي وَسُنَّتِي وَیُعَلِّمُوْنَهَا النَّاسَ.

طبرانی، المعجم الأوسط، 6: 77، رقم: 5846

میرے خلفاء وہ لوگ ہوں گے جو میرے بعد کے زمانوں میں آئیں گے، میری احادیث، میری سنتیں اور میرا علم روایت کریں گے اور وہ علم میری اُمت کو سکھائیں گے۔

2۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

أَلَا أُخْبِرُکُمْ عَنِ الأَجْوَدِ الأَجْوَدِ؟ اللهُ الأَجْوَدُ الأَجْوَدُ. وَأَنَا أَجْوَدُ وَلَدِ آدَمَ، وَأَجْوَدُهُمْ مِنْ بَعْدِي رَجُلٌ عَلِمَ عِلْمًا فَنَشَرَ عِلْمَهٗ، یُبْعَثُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ أُمَّةً وَاحِدَةً.

أبو یعلی، المسند، 5: 176، رقم: 2790

کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ تمام سخیوں سے بڑھ کر سخی کون ہے؟ اللہ تعالیٰ سب سخیوں سے بڑا سخی (یعنی سب کریموں کا کریم) ہے۔ میں اولادِ آدم (کائناتِ انسانی) میں سب سے بڑا سخی ہوں۔ میرے بعد لوگوں میں سب سے بڑا سخی وہ شخص ہوگا جس نے علم حاصل کیا، پھر اس علم کو دوسروں تک پہنچایا، قیامت کے دن اُس ایک شخص کو پوری اُمت کے برابر کھڑا کیا جائے گا۔

مذکورہ بالا احادیث مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ حصولِ علم کے بعد اسے دنیا بھر میں پھیلانے والے شخص کے درجات، فضائل اور مراتب کس قدر ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے اسے اپنا نائب قرار دیا اور اُسے سب سے بڑا سخی کہا ہے۔ یہاں تک کہ روزِ قیامت بھی اُس کی شان اس حال میں بلند کی جائے گی کہ اُس اکیلے کو پوری اُمت کے برابر اجر و ثواب عطا کیا جائے گا۔

سوال 18: جو استاد طلبا کو تعلیم دینے میں بخل کرتا ہے اس کے لیے کیا وعید ہے؟

جواب: جو استاد طلبا کو تعلیم دینے میں بخل کرتا اور اپنے اخلاقی فرائض سے غفلت برتتا ہے۔ اس کے لیے حدیث مبارک میں درج ذیل وعید آئی ہے:

مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ عَلِمَهٗ ثُمَّ کَتَمَهٗ، أُلْجِمَ یَوْمَ الْقِیَامَةِ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ.

  1. ترمذی، السنن، کتاب العلم، باب ماجاء في کتمان العلم، 5: 29، رقم: 2649
  2. أبو داود، السنن، کتاب العلم، باب کراهیة منع العلم، 3: 321، رقم: 3658

جس شخص سے کوئی علم کی بات پوچھی گئی اور اس نے جاننے کے باوجود اُسے چھپا لیا تو قیامت کے دن اُسے آگ کی لگام دی جائے گی۔

اِس حدیث مبارک سے معلوم ہوا کہ طلبا کو علم سے آگاہ کرنے میں استاد بخل سے کام نہ لے اور علم سے متعلق طلبا کے کیے گئے سوالات کا حکمت و دانائی سے جواب دے، بصورت دیگر وہ سزا کامستحق ٹھہرے گا۔

سوال 19: بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے سے طلبا کو کیا فوائد حاصل ہوتے ہیں؟

جواب: بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے سے طلبا کو درج ذیل فوائد حاصل ہوتے ہیں:

  • بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے سے اعلیٰ تعلیم کے مواقع میسر آنیکے ساتھ ساتھ طلبا کو دیگر cultures اور ثقافت کو بھی دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ جس سے ان کا vision وسیع ہوتا ہے۔
  • بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کو اپنا ہر کام خود کرنا پڑتا ہے، جس سے وہ اپنی ذمہ داریاں نبھانا سیکھ جاتے ہیں۔ یہ عمل ان کی کامیابیوں کی راہ ہموار کرنے کا باعث بنتا ہے۔
  • حصولِ تعلیم کے لیے بیرون ملک جانے والا طالب علم اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ مختلف زبانیں اور ہنر سیکھتا ہے۔ اگر اسے عارضی طور پر ملازمت کا موقع ملے تو اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ اس سے اس میں خوداعتمادی اور کام کی لگن بڑھتی ہے اور وہ تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ کسبِ معاش بھی سیکھ جاتا ہے۔
  • بیرونِ ملک طالب علم اپنی پسند کے شعبے میں بآسانی داخلہ لے سکتا ہے۔ پاکستان میں پیشہ ورانہ تعلیم کے حصول کے لیے امتیازی نمبروں کا ہونا ضروری ہے۔ اس کے برعکس بیرونِ ملک تعلیم کے دوران انہی شعبوں میں پچاس فیصد نمبر حاصل کرنے والا طالب علم بھی داخلہ لے سکتا ہے۔
  • بیرونِ ملک تعلیمی معیار اچھا ہونے کی وجہ سے وہاں سے حاصل ہونے والی اسناد دنیا بھر میں تسلیم کی جاتی ہیں۔ بیرونی تعلیمی سند رکھنے والے طالب علم کو ملکی طلبا کی نسبت بہتر تنخواہ اور مراعات حاصل ہوتی ہیں۔
  • بیرون ملک سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد طالب علم اگر خود کوئی کاروبار شروع کرنا چاہتا ہو تو بھی وہ آسانی سے کر سکتا ہے کیوں کہ وہ کاروبار اور انتظام و انصرام کے تمام پہلوؤں اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

سوال 20: بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے والے طلبا ناکام کیوں ہوتے ہیں؟

جواب: بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کی ناکامی کی وجوہات درج ذیل ہیں:

  • بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کے لیے غیر ملکی معاشرت، زبان، مذہب، کلچر اور خد و خال ان کے اپنے ملک سے یکسر مختلف ہوتے ہیں۔ اس صورت حال میں اجنبی ملک میں بعض اوقات طلبا پریشان ہو جاتے ہیں اور وہاں کے طرزِ زندگی میں adjust نہیں ہو پاتے۔ اس طرح ناکام ہو جاتے ہیں۔
  • بیرونِ ملک معاشی مسائل سے دو چار طلبا دورانِ تعلیم ملازمت نہیں کر سکتے کیوں کہ بعض غیر ملکی تعلیمی اداروں کے قوانین طلبا کو کوئی منفعت بخش کامیاب ملازمت کرنے سے روکتے ہیں، جب کہ ان کے مقامی طلبا اس پابندی سے مستثنیٰ ہوتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں اپنا خرچ اٹھانے کے لیے روزگار کے وسائل کی عدم دستیابی یا رکاوٹوں کی وجہ سے طلبا مایوسی کا شکار ہوکر تعلیم کو خیرباد کہہ کر ملک واپس آ جاتے ہیں۔
  • بعض ترقی یافتہ مغربی ممالک میں پسماندہ یا ترقی پذیر ممالک کے طلبا کے لیے جو نسلی امتیازی رویہ پایا جاتا ہے وہ بھی طالب علم کو مکمل آزادی کے ساتھ تعلیم کے شعبے میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے سے روکتا ہے۔
  • پاکستان کے مقابلے میں بیرونِ ملک تعلیم کافی مہنگی ہے۔ طلبا بعض اوقات ضد کی وجہ سے تعلیم کے حصول کے لیے بیرونِ ملک چلے تو جاتے ہیں لیکن جب والدین اخراجات برداشت نہیں کرپاتے تو نتیجتاً انہیں تعلیم ادھوری چھوڑ کر ناکام لوٹنا پڑتا ہے۔
  • بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کو مکمل آزادی حاصل ہوتی ہے، انہیں کوئی روک ٹوک نہیں ہوتی۔ حیلے بہانوں سے والدین سے پے در پے پیسے منگوا کر بالکل آزاد ہو جاتے ہیں اور یہی آزادی اور تعلیم سے غفلت ان کی ناکامی کا باعث بنتی ہے۔
  • بیرونِ ملک تعلیم کے حصول کے لیے جانے والے طلبا کو والدین اور اعزاء و اقارب کی یاد ستاتی ہے۔ اس یاد کو بھلانے کے لیے وہ بعض اوقات منشیات اور الکوحل کا استعمال کرتے ہیں۔ بایں وجہ وہ اپنی توجہ تعلیم پر مرکوز نہیں رکھ پاتے اور ناکام ہوجاتے ہیں۔

سوال 21: طلبا اپنی تعلیمی قابلیت کیسے بہتر بنا سکتے ہیں؟

جواب: طلبا کی قابلیت کا انحصار تعلیم پر ہوتا ہے۔ تعلیم چاہے رسمی ہو یا غیر رسمی، براهِ راست ہو یا بالواسطہ، یہ طلبا کی ذہنی تربیت کر کے نئے خیالات پیدا کرتی ہے جو کہ ان کے لیے مستقبل میں درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے معاون ثابت ہوتی ہے۔ طلبا درج ذیل عادات اپنا کر اپنی تعلیمی قابلیت بہتر بنا سکتے ہیں:

1۔ مطالعہ کرنا

مطالعہ کی عادت طلبا کی استعداد کی کنجی اور صلاحیتوں کو بیدار کرنے کا بہترین آلہ ہے۔ دنیا کا بہترین علم کتابوں میں محفوظ ہے، جس کی بدولت وہ ہر لمحہ اپنی معلومات اور زوایۂ فکر و نظر کو وسیع سے وسیع تر کر سکتے ہیں۔ طلبا اپنی تعلیمی قابلیت بہتر بنانے کے لیے ذہن کو پراگندہ کرنے والی کتب اور جرائد سے گریز کریں اور اپنی تخلیقی قوت کو اُبھارنے کے لیے اچھی اور معیاری کتب کا مطالعہ کریں۔ مطالعے کی عادت ایک اچھا لکھاری بننے کی طرف بھی سب سے پہلا قدم ہے۔

2۔ تحریر کرنا

تعلیمی قابلیت کو بہتر بنانے کے لیے تحریر اہم کردار ادا کرتی ہے۔ کسی موضوع پر لکھنے سے پہلے طلبا اس کا مطالعہ اور تحقیق کر کے اپنی صلاحیت کے مطابق خیالات کو الفاظ کے سانچے میں ڈھال سکتے ہیں۔ لکھنے کی مشق سے دماغ کے functions تحریر میں روانی اور عمدگی پیدا کرتے ہیں جو خوبصورت اور کامیاب تحریر کی ضمانت ہے۔

3۔ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال

طلبا کی تعلیمی قابلیت بہتر بنانے اور تعلیمی میدان میں کامیابی کے حصول میں ٹیکنالوجی کا استعمال اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جدید آلات مثلاً کمپیوٹر، موبائل فون، آئی پیڈ، انٹرنیٹ، بلاگز اور دیگر سوشل سائٹس نے طلبا کو حصولِ علم میں پیش آمدہ مسائل حل کیے ہیں۔ طلبا جرائد میں شائع ہونے والے مضامین اور انٹرنیٹ سے حاصل کی گئی معلومات کو فائلوں اور فولڈرز میں بآسانی محفوظ کر سکتے ہیں جو حوالہ جاتی مواد کا کام دیتے ہیں۔

4۔ بحث و موازنہ کرنا

مشترکہ علمی بحث و موازنہ طلبا کو بہترین جواب کشید کرنے اور اپنی تعلیمی قابلیت بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔ مثلاً طلبا اجتماعی طور پر مناسب اور قابلِ فہم سوالات کا انتخاب کریں اور فرداً فرداً جوابات دینے کی کوشش کریں۔ اس طرح جوابات کا آپس میں موازنہ کرنے کے بعد مکمل اور جامع جواب حاصل کر سکتے ہیں۔

سوال 22: یادداشت کو بہتر بنانے کے بنیادی اصول کیا ہیں؟

جواب: یادداشت کو بہتر بنانے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ دماغ معلومات کو کیسے محفوظ کرتا ہے؟ اِس کے تین مراحل ہیں۔ پہلے مرحلے میں دماغ معلومات کو حاصل کرتا اور اِسے پہچانتا ہے۔ دوسرے مرحلے میں دماغ اِن معلومات کا ذخیرہ کر لیتا ہے۔ تیسرے مرحلے میں دماغ معلومات کو ضرورت کے مطابق استعمال میں لاتا ہے۔ معلومات کو صرف اُس صورت میں یاد کیا جا سکتا ہے، جب اِسے اِن تین مراحل سے گزارا جائے۔

یادداشت کی مختلف اقسام ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر بہت سی یادیں ہمارے حواس سے تعلق رکھتی ہیں۔ جب ہم کچھ سُونگھتے، دیکھتے یا چُھوتے ہیں تو یہ بات ہماری یادداشت میں محفوظ ہو جاتی ہے۔ کچھ معلومات ہم صرف تھوڑی دیر کے لیے یاد رکھتے ہیں۔ اِس قسم کی یادداشت کی وجہ سے ہم فون نمبر دیکھ کر اِسے اُتنی دیر کے لیے یاد کر پاتے ہیں جب تک ہم اِسے ملا نہ لیں۔ البتہ اِس قسم کی یادداشت کے ذریعے ہم صرف تھوڑی سی معلومات کو کچھ دیر کے لیے محفوظ کر سکتے ہیں۔ یادداشت کی ایک ایسی قسم بھی ہے جس کے ذریعے ہم معلومات کو بڑے عرصے تک محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ اِس قسم کی یادداشت کو بہتر بنانے کے لیے بنیادی اُصول درج ذیل ہیں:

1۔ صحیح تصور قائم کرنا

دماغ میں کسی چیز کا جتنا زیادہ واضح تصور ہو گا اس قدر زیادہ مدت تک وہ ذہن میں محفوظ رہے گی۔ اس لیے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اپنے دماغ میں جو تصور بھی قائم کیا جائے وہ نہایت واضح اور صحیح ہو تاکہ اس کا نقش آسانی سے قائم ہو سکے۔

2۔ قوتِ حافظہ بڑھانا

یادداشت کو بہتر بنانے کے لیے طالب علم کو چاہیے کہ علم کے حصول کی سچی تڑپ اور لگن پیدا کرے اور گناہوں سے پرہیز کرے۔ تاکہ پڑھا ہوا علم محفوظ رہے۔ ایک شخص نے حضرت وکیع بن جراح سے کمزور حافظہ کی شکایت کی تو انہوں نے کہا: ’ترکِ گناہ سے قوتِ حافظہ پر مدد طلب کر۔ ‘ اس شخص نے یہ واقعہ اِن اَشعار میں بیان کیا ہے:

شَکَوتُ إِلٰی وَکِیْعٍ سُوْئَ حِفْظِي
فَأَرْشَدَنِي إِلٰی تَرْکِ الْمَعَاصِي

وَذٰلِکَ أَنَّ حِفْظَ الْعِلْمِ فَضْلٌ
وَفَضْلُ اللهِ لَا یُؤتٰی لِعَاصِي

میں نے وکیع سے کمزور حافظہ کی شکایت کی تو اُنہوں نے مجھے ترکِ گناہ کی ہدایت کی؛ یہ اس لیے کہ علم کا حفظ کرنا فضلِ اِلٰہی سے ہوتا ہے اور الله تعالیٰ کا فضل گناہ والی جگہ پر نہیں ہوتا۔

3۔ تعلق پیدا کرنا

وہ واقعات اور حقائق جلدی یاد ہو جاتے ہیں جن میں انسان کی اپنی ذات شامل ہوتی ہے۔ جیسے کسی طالب علم کا اپنے اسکول یا کالج کے دوستوں کے ساتھ گروپ فوٹو بنوانا۔ بعد ازاںجب کبھی وہ یہ تصویر دیکھے گا تو اسے اس دور کا زمانہ طالب علمی فوری یاد آجائے گا۔ لہٰذا طالب علم کو چاہیے کہ کسی سبق کو یاد رکھنے کے لیے اُس کا تعلق کسی واقعہ، چیز یا شخص کے ساتھ جوڑ لے، اس سے اُسے یاد رکھنے میں مدد ملے گی۔

4۔ ذہن میں کسی چیز کو متحرک رکھنا

کسی بھی چیز کو یاد کرنے کے بعد دہرانا ضروری ہے۔ 80 سے 100 فیصد تک مواد 24 گھنٹے تک ذہن میں رہتا ہے۔ اس کے بعد انسانی ذہن بہت تیزی سے بھولنا شروع کر دیتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جس چیز کو یاد رکھنا ہو اسے بار بار اپنے ذہن میں متحرک کیا جائے تو یادداشت میں اس کا نقش قائم ہو جائے گا۔ لہٰذا طالب علم کو بھی چاہیے کہ وہ کسی بات کو یاد کرنے کے لیے بار بار اُسے اپنے ذہن میں دہرائے۔

5۔ معلومات کو ترتیب دینا

ماہرین ذہن کو الماری سے تشبیہ دیتے ہیں۔ اگر الماری میں اشیاء بکھری پڑی ہوں تو تلاش کرنے میں دقت محسوس ہوتی ہے اور اگر ترتیب اور نظم سے رکھی ہوں تو باآسانی مل جاتی ہیں۔ یادداشت بہتر بنانے کے لیے جن باتوں کو یاد کرنا ہو انہیں منظم انداز میں ترتیب دینا ضروری ہے۔

6۔ باور کروانا

ذہنی صلاحیت بڑھانے کے لیے خود کو باور کروانا چاہیے کہ میری یادداشت بہتر اور شاندار ہے، میں بہت کچھ یاد کرنے کے قابل ہوں۔ یہ یقین اپنا جادوئی اثر دکھاتا ہے اور یادداشت میں حیرت انگیز اضافہ ہوتا ہے۔

7۔ متوازن غذا لینا

متوازن غذا مثلاً پروٹین، چکنائی، کاربوہائیڈریٹ، وٹامن، نمکیات اور پانی وغیرہ انسانی صحت اور یادداشت کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔

8۔ مناسب نیند لینا

نیند اور آرام کا یادداشت کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ کم از کم 8 گھنٹے کی مناسب نیند لینے کے بعد ذہنی خلیے تروتازہ ہو جاتے ہیں۔ صبح جلدی اٹھنے اور دوپہرمیں قیلولہ کی عادت یادداشت کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔

سوال 23: مؤثر تدریس کے بنیادی اُصول کون سے ہیں؟

جواب: ایسی تدریس جو طلبا کی تعلیمی کارکردگی، علمی اکتساب اور ان کی اخلاق و عادات میں مثبت تبدیلی کا باعث بنے، اسے مؤثر تدریس کہتے ہیں۔ ذیل میں چند اہم بنیادی اُصول دیے جا رہے ہیں جن کو مدِ نظر رکھ کر استاد اپنی تدریس کو کامیاب اور مؤثر بنا سکتا ہے۔

1۔ اُصولِ آمادگی

مؤثر تدریس کا پہلا اُصول استاد کا بچوں کو پڑھنے کے لیے ذہنی طور پر آمادہ کرنا ہے۔ استاد تدریس پر آمادگی کے لیے درج ذیل طریقہ اختیار کر سکتا ہے:

(1) کوئی چونکا دینے والی بات بیان کرے۔

(2) طلبا سے آسان اور دلچسپ سوال پوچھے۔

(3) کوئی بات تحریر میں لا کر اُن کی توجہ طلب کرے۔

(4) بعض اوقات تنبیہ کر کے مقصد کی طرف راغب کرے۔

(5) سمعی و بصری معاونات کا استعمال کر کے وابستگی برقرار رکھے۔

حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنی پوری معلمانہ حیات میں اُصولِ آمادگی کے نفسیاتی اُصول کا ہمیشہ لحاظ رکھا ہے۔ اس کی شہادت درج ذیل حدیث مبارک سے بھی ملتی ہے۔ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا:

أَلَا أُنَبِّئُکُمْ بِخَیْرِ أَعْمَالِکُمْ وَأَزْکَاهَا عِنْدَ مَلِیْکِکُمْ، وَأَرْفَعِهَا فِي دَرَجَاتِکُمْ، وَخَیْرٌ لَکُمْ مِنْ إِنْفَاقِ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، وَخَیْرٌ لَکُمْ مِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّکُمْ فَتَضْرِبُوْنَ أَعْنَاقَهُمْ وَیَضْرِبُوْنَ أَعْنَاقَکُمْ؟ قَالُوْا: بَلٰی، قَالَ: ذِکْرُ اللهِ، قَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رضی الله عنه: مَا شَيْئٌ أَنْجٰی مِنْ عَذَابِ اللهِ مِنْ ذِکْرِ اللهِ.

  1. أحمد بن حنبل، المسند، 5: 195، رقم: 21750
  2. ترمذي، السنن، کتاب الدعوات، باب منه، 5: 459، رقم: 3377
  3. ابن ماجه، السنن، کتاب الأدب، باب فضل الذکر، 2: 1245، رقم: 3790

کیا میں تمہیں تمہارے اَعمال میں سب سے اچھا عمل نہ بتاؤں جو تمہارے مالک کے ہاں بہتر اور پاکیزہ ہے؛ تمہارے درجات میں سب سے بلند ہے؛ تمہارے سونا اور چاندی خرچ کرنے سے بہتر ہے، اور تمہارے دشمن کا سامنا کرنے سے بھی بہتر ہے جبکہ تم انہیں قتل کرو اور وہ تمہیں؟ صحابہ کرام l نے عرض کیا: کیوں نہیں! آپ ﷺ نے فرمایا: (وہ عمل) الله کا ذکر ہے۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: کوئی چیز ایسی نہیں جو الله کے ذکر سے بڑھ کر عذابِ الٰہی سے نجات دلانے والی ہو۔

یعنی آپ ﷺ نے اپنی بات کو مؤثر انداز میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو سمجھانے کے لیے اس کی اہمیت کو کئی باتوں کی مدد سے واضح کیا اور پھر اصل بات بیان فرمائی۔

2۔ سہل اندازِ بیان سے آغاز کرنا

تدریس کے دوران بعض پہلو ایک اعتبار سے آسان اور دیگر اعتبار سے مشکل ہوتے ہیں۔ استاد کو چاہیے کہ وہ طلبا کے سامنے سہل انداز سے آغاز کرے تاکہ دورانِ تدریس وہ اجنبیت اور دشواری محسوس نہ کریں۔ حضور نبی اکرم ﷺ ہمیشہ تعلیماتِ اسلام کو سہل انداز میں بیان فرماتے اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیتے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

یَسِّرُوْا وَلَا تُعَسِّرُوا وَبَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوْا.

بخاری، الصحیح، کتاب العلم، باب ما کان النبی ﷺ یتخولهم بالموعظة والعلم کی لا ینفروا، 1: 38، رقم: 69

(لوگوں کے اُمور میں) آسانی پیدا کرو اور تنگی پیدا نہ کرو۔ خوش رکھو اور متنفر نہ کرو۔

3۔ سابقہ تدریس کا جائزہ لینا

استاد طلبا کی دلچسپی کے پیشِ نظر نیا سبق شروع کرنے سے پہلے سابقہ سبق کا جائزہ لے تاکہ نئے اور سابقہ سبق کے درمیان ربط پیدا ہو۔ اس سے طلبا کو نیا سبق سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

4۔ اختصار و جامعیت کا خیال رکھنا

استاد تدریس میں اختصار و جامعیت کا خاص خیال رکھے۔ وگرنہ سبق میں غیر ضروری تکرار اور بے جا طوالت سے طلبا بیزار ہوجاتے ہیں۔ اس اصول کی تائید قرآنِ حکیم کی سورہ اخلاص میں توحید کے بیان سے ہوتی ہے۔ جس میں ذہن میں اُبھرنے والے سوالات کا تسلی بخش جواب مختصر الفاظ میں دیا گیا ہے۔ کسی قسم کے پیچیدہ اشارہ اور کنایہ کا سہارا بھی نہیں لیا گیا۔ یعنی یہ وہ اسلوب ہے جس میں بنیادی عقائد کو بہت ہی احسن انداز میں طالب علم کو ذہن نشین کروایا گیا ہے۔ گویا کلام اور معنی یکساں طور پر طالب علم کے قلب و نظر کو متاثر کرتے ہیں۔

5۔ اُصولِ تدریج

استاد کو چاہیے کہ وہ طلبا کی صلاحیت و ضرورت کے مطابق تدریجاً پڑھائے۔ یہ ایک ایسی فنی مہارت ہے جو اس کی تدریس کو مؤثر بنا سکتی ہے۔ الله تعالیٰ نے بھی بنی نوع انسان کی رُشد و ہدایت کے لیے قرآن حکیم سارے کا سارا بیک وقت نہیں اتارا۔ بلکہ ان کی ضرورتوں اور طبعی رجحانات کا خیال رکھتے ہوئے تدریجاً نازل فرمایا ہے۔ اسی طرح احکامات کے نزول میں بھی پہلے بنیادی باتوں کی تعلیم دی ہے اور بعد ازاں آہستہ آہستہ مکمل احکامات نازل فرمائے ہیں۔

6۔ اُصولِ تکرار

ماہرین نے تعلیم و تدریس میں اُصولِ تکرار کو بقدرِ ضرورت خاص اہمیت دی ہے۔ اِس اُصول کے مطابق کسی بات کو دو سے تین باردہرانا کئی زاویہ نگاہ سے مؤثر ہے مثلاً:

1۔ توجہ مرکوز رہتی ہے۔

2۔ سبق جلدی ذہن نشین ہوتا ہے۔

3۔ تعلیم کو معیاری بنایا جا سکتا ہے۔

حضور نبی اکرم ﷺ نے جس بات پر زور دینا ہوتا، اسے تین بار دہراتے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

إِنَّهٗ کَانَ إِذَا تَکَلَّمَ بکَلِمَةٍ أَعَادَهَا ثَـلَاثًا، حَتّٰی تُفْهَمَ عَنْهُ.

بخاری، الصحیح، کتاب العلم، باب من أعاد الحدیث ثلاثا لیفهم، 1: 48، رقم: 95

حضور نبی اکرم ﷺ جب بات کرتے تو اسے تین بار دہراتے تاکہ وہ ذہن نشین ہو جائے۔

7۔ استعارات و تشبیہات کا استعمال

تدریس میں تشبیہات کا برمحل استعمال اور استعاراتی و تمثیلاتی انداز استاد کو محض ایک آلہ تدریس نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے ایک پر تاثیر اور دل کش شخصیت کا حامل بنا دیتا ہے۔ استاد کو چاہیے کہ وہ اپنے سبق کی مختلف جزئیات کے مؤثر فہم کے لیے جدید سمعی و بصری معاونات یعنی ویڈیو، پراجیکٹر، الیکٹرانک میڈیا وغیرہ کا استعمال کرے۔ ان سہولیات سے معیاری تدریس کے تقاضوں کو پورا کرنے میں مدد ملتی ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ بھی تعلیم و تربیت کے کام میں مناسب اور موزوں استعارات و تشبیہات کا استعمال کرکے حکمتِ عملی کو مؤثر بناتے تھے۔

حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَثَلُ الْعَالِمِ الَّذِي یُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَیْرَ وَیَنْسَی نَفْسَهٗ کَمَثَلِ السِّرَاجِ یُضِيئُ لِلنَّاسِ وَیَحْرِقُ نَفْسَهٗ.

  1. طبراني، المعجم الکبیر، 2: 165، رقم: 1681
  2. ابن أبي عاصم، الأحاد والمثاني، 4:293، رقم: 2314
  3. منذري، الترغیب والترهیب، 1:74، رقم: 217

جو عالم لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دیتا ہے مگر اپنے آپ کو بھول جاتا ہے، اس کی مثال اس چراغ کی سی ہے جو لوگوں کو تو روشنی دیتا ہے لیکن خود کو جلاتا ہے۔

مذکورہ بالا حدیث مبارک کی روشنی میں اساتذہ کے لیے ایک بہترین نمونہ موجود ہے کہ وہ اپنے اسباق میں خوبصورت الفاظ، تمثیلات اور استعارات کا استعمال کریں تاکہ طلبا کو ذہن نشین بھی ہو اور وہ اس میں دلچسپی بھی لیں۔

سوال 24: اُستاد کلاس روم کے اوقاتِ کار کو تدریسی لحاظ سے کیسے بہتربنا سکتا ہے؟

جواب: استاد کلاس روم کے اوقات کار کو تدریسی لحاظ سے درج ذیل اُمور پر عمل کر کے بہتر بنا سکتا ہے:

  • تدریس کا عمل خوش گوار ماحول کا متقاضی ہوتا ہے۔ اُستاد کلاس میں طلبا کو بوریت، تکان اور یکسانیت سے محفوظ رکھنے کے لیے نصاب کے ساتھ ساتھ بقدرِ ضرورت غیر نصابی سرگرمیوں کا اہتمام کرے۔
  • تدریسی لحاظ سے سبق کا مشکل حصہ کلاس میں سمجھا کر لکھوائے اور آسان حصہ ہوم ورک کے طور پر دے اور ہوم ورک باقاعدگی سے چیک کرے۔
  • روزانہ کا کام اپنی نگرانی میں ڈائری میں ضرور درج کروائے۔
  • طلبا کو لکھنے کا عادی بنانے کے لیے سبق کے دوران خاص خاص نکات کو کاپی میں نوٹ کروائے۔ وقتاً فوقتاً کلاس میں چکر لگا کر اس بات کی نگرانی رکھے کہ بچے کام کر رہے ہیں یا نہیں؟
  • استاد کلاس میں طلبا کو وقتاً فوقتاً متوجہ کرتا رہے تاکہ ان کی توجہ دوسری طرف مبذول نہ ہو سکے مثلاً سبق پڑھتے وقت درمیان میں رک کر کسی بچے سے پوچھے کہ اس وقت کون سا پیراگراف پڑھا جا رہا ہے۔ اس عبارت کا مطلب کیا ہے؟ یا کون اس پیرا گراف کا مطلب بتائے گا؟
  • کلاس میں دورانِ تدریس موقع کی مناسبت سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی بچوں کو ترغیب دے جیسے اگر سبق میں سچ بولنے کا کوئی واقعہ آ جائے تو واقعہ کے بعد سبق روک کر طلبا سے سچ کے بارے میں سوالات کرے اور اس کے فوائدبتائے۔ اسی طرح اگر جھوٹ کا واقعہ ہو تو اس کی مذمت کرے اور اس کے نقصانات بیان کرے۔

سوال 25: بعض طلبا امتحان سے کیوں خوفزدہ ہوتے ہیں؟

جواب: تعلیمی نظام کے تحت طلبا کے لیے امتحان دینا لازم و ملزوم ہے۔ جس میں کامیابی کے بغیر کوئی طالب علم اگلے تعلیمی گریڈ تک ترقی حاصل نہیں کرسکتا ہے۔ بعض اوقات امتحان کے نزدیک بیشتر طلبا خوفزدہ ہو جاتے ہیں اور ان میں کئی علامات ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہیں، جن میں دل کا تیز دھڑکنا، ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہونا، دانتوں سے ناخن کترنا اور بے خوابی وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ وہ مختلف قسم کی نفسیاتی اُلجھنوں کا شکار ہو کر اعصابی تناؤ اور ڈپریشن میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ماہرین کے نزدیک یہ ڈر امتحانات کے نتائج پر بری طرح اثر انداز ہوتا ہے۔ درحقیقت امتحان سے خوفزدہ ہونے کی بنیادی وجوہات میں نامکمل تیاری، گزشتہ تعلیمی ریکارڈ، والدین کی ڈانٹ ڈپٹ، دیگر کلاس فیلوز کے ساتھ مقابلہ اور ناکامی کا خوف شامل ہیں۔

سوال 26: امتحان میں ناکامی کے بعد طالب علم کیا سوچتا ہے؟

جواب: ناکامی کا ڈر بعض اوقات ناکامی سے زیادہ خوفناک ہوتا ہے۔ امتحان میں ناکامی کے بعد طالب علم کے سوچنے کا انداز منفی بھی ہو سکتا ہے اور مثبت بھی۔

1۔ مثبت سوچ

ایسا طالب علم جو امتحان میں ناکامی کے بعد پریشان اور خوفزدہ ہونے کی بجائے اپنی ناکامی کو مثبت انداز میں لیتاہے۔ وہ اپنے افعال اور اعمال کی ذمہ داری قبول کر کے دوسروں کو قصوروار نہیں ٹھہراتا بلکہ نئے عزم، جوش اور ولولہ سے محنت کر کے اپنا معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے کامیابی کے حصول کی تگ و دو میں مصروف ہو جاتا ہے۔

تاریخ کا مطالعہ کرنے سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ کامیابی کی اکثر داستانیں ناکامی کی کہانیاں بھی ہیں۔ تاہم لوگ ناکامیوں کو دیکھنے کی بجائے صرف آخری نتیجے کو دیکھتے ہیں، پے درپے ناکامیوں کے بعد جہدِ مسلسل سے کامیابی حاصل کرنے والے شخص کے بارے میں سوچتے ہیں کہ یہ شخص کیسے کامیاب اور خوش نصیب انسان بنا۔

ابراہام لنکن 1816ء سے 1860ء تک پے در پے بہت سے صدمات اور ناکامیوں سے دوچار ہوا۔ والدہ کاانتقال، کاروبار میں ناکامی، مجلس قانون ساز میں شمولیت میں ناکامی اور کانگریس کے لیے منتخب ہونے کی کوشش میں دو تین بار ہارا۔ دوست کا قرض 16 برس تک نہ ادا کر سکا۔ امریکی سینٹ کا انتخاب ہارا، پارٹی کے نائب صدر کے انتخاب میں ناکام رہا۔ مگر یہ سارے صدمات اور ناکامیاں اس کا راستہ نہ روک سکے اور آخر کار 1860ء میں وہ امریکہ کا صدر منتخب ہو چکا تھا۔

اگر ابراہام لنکن ناکام شخص ہوتا تو وہ میدان سے بھاگ سکتا تھا۔ شرمندگی کی وجہ سے خودکشی کر سکتا تھا۔ وہ سب کچھ چھوڑ کر وکالت کا پیشہ اپنا سکتا تھا۔ لیکن شکست اور ناکامی ابراہام لنکن کو آگے بڑھتے رہنے کا راستہ دکھاتی رہی۔ اس نے یہ سوچا ہی نہیں کہ ناکامی کے بعدکامیابی کے تمام دروازے بند ہو چکے ہیں۔ اس نے اپنی ناکامیوں کو منفی رخ کی بجائے مثبت رخ دے کر شاندار کامیابی کے حصول کو ممکن بنایا۔

2۔ منفی سوچ

ایسا طالب علم جو امتحان میں ناکامی کے بعد زندگی کو رکاوٹوں بھرا راستہ سمجھتا ہے، اس کا منفی رویہ خود ہی اس کی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ وہ دل شکستہ ہو کر اپنے آپ کو ناکام تصور کرنے لگتا ہے اور اپنی صلاحیتوں اور علم کو کارآمد بنانے کی بجائے صرف اس دائرہ تک محدود رہتا ہے کہ آخر اتنے نمبر کیوں نہیں آئے، آخر فلاں کالج میں داخلہ کیوں نہ ہوا؟ بعض اوقات یہی منفی سوچ طالب علم کو خودکشی کا ارتکاب کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ اگرچہ خودکشی کا فیصلہ فوری طور پر نہیں کیا جاتا بلکہ اس کے پیچھے بے شمار ذہنی الجھنیں کارفرما ہوتی ہیں۔ ان حالات میں کبھی تو وہ زندگی کی اہمیت اور امید کے تمام پہلوؤں کو یکسر ہی فراموش کر دیتا ہے اور کبھی انہیں بے سود اور اپنی ذات کے حوالے سے غیر اہم سمجھنے لگتا ہے۔ ہر اُمید اور بہتری کا موازنہ اپنی محرومی اور لوگوں کے رویوں سے کرتا ہے اور اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ ان محرومیوں، مشکلات اور خطرات کے ساتھ رہتے ہوئے وہ کبھی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔ لہٰذا طالب علم کا کم نمبر لینے پر خودکشی کا ارتکاب کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ فقط لائق تھا، حوصلہ مند نہیں۔

سوال 27: کیا جادو ٹونا بچوں کی ناکامی کی وجہ بن سکتا ہے؟

جواب: بچوں کی ناکامی کی وجہ مخالفین کا ان پر جادو ٹونا کرنا نہیں ہے۔ بچوں کا پڑھائی میں دل نہ لگنے اور ان کے ناکام ہونے پر مخالفین پر جادو ٹونے کا الزام لگانا نہ صرف ایمان کی کمزور علامت ہے بلکہ دین میں فساد اور عقل میں فتور کی دلیل ہے۔ ایسا شخص اسلام کے بنیادی اُصولوں کا انکار کرتا ہے جو درج ذیل حدیث سے ثابت ہے۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

مَنْ أَتٰی کَاھِنًا فَصَدَّقَهٗ بِمَا یَقُوْلُ فَقَدْ بَرِیَٔ مِمَّا أُنْزِلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ ﷺ.

طبرانی، المعجم الأوسط، 6: 378، رقم: 6670

جو شخص کاہن کے پاس آیا اور اس کی باتوں کی تصدیق کی وہ اس چیز (شریعت اسلامیہ) سے بری ہوگیا جو حضور نبی اکرم ﷺ پر نازل فرمائی گئی ہے۔

ناکامی آزمائش بھی ہو سکتی ہے۔ لہٰذا ایسی صورتِ حال میں کسی کو موردِ الزام ٹھہرانے کی بجائے اپنے بچے کی پڑھائی پر خصوصی توجہ دینے کے ساتھ پریشانی کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کریں اور الله تعالیٰ سے مدد طلب کریں؛ کیوں کہ ہر مشکل، آزمائش اور پریشانی سے نکالنے والی ذات الله تعالیٰ کی ہے۔

سوال 28: امتحانی نتائج اچھے نہ آنے پر اساتذہ بچوں کی تدریس کو زیادہ مؤثر کیسے بنا سکتے ہیں؟

جواب: امتحانی نتائج اچھے نہ آنے پراساتذہ بچوں کی تدریس کو درج ذیل طریقوں سے زیادہ مؤثر بنا سکتے ہیں:

  • کم نمبر حاصل کرنے والے بچوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں مزید محنت کرنے کی ترغیب دی جائے۔ ذہین اور پوزیشن ہولڈرز بچوں کو کمزور بچوں کے ساتھ باہمی تعاون پر آمادہ کیا جائے تاکہ وہ محنت کر کے اچھے نمبروں سے پاس ہو سکیں۔
  • امتحانات میں بچوں کے پیپرز چیک کرتے وقت صرف جوابات کی صحت ہی کو نہ دیکھا جائے بلکہ طرزِ تحریر، اندازِ بیان کی خامیوں اور کوتاہیوں نیز خوش خطی وغیرہ کو بھی پیش نظر رکھ کر ان کی نشاندہی کی جائے۔ بچوں کو سہ ماہی، شش ماہی پیپرز واپس ضرور کیے جائیں تاکہ وہ ان غلطیوں، خامیوں اور نقائص و عیوب سے آگاہ ہو سکیں جن کی وجہ سے ان کے نمبر کم آئے یاوہ ناکام ہوئے ہیں۔
  • امتحانات میں بچوں کے کم نمبر آنے کی بنیادی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ یا تو وہ سِرے سے سبق کو سمجھے ہی نہیں یا ان کی بنیاد کمزور ہے۔ لہٰذا اساتذہ کو اپنی تدریس میں ہونے والی ایسی کوتاہیوں کو دور کرنا چاہیے۔
  • امتحان کی ناکامی کے بعد جو طلبا اپنی کارکردگی اور تعلیمی سرگرمیوں سے کنارہ کشی اختیار کر رہے ہوں تو استاد کو چاہیے کہ ان کے اضطراب کو اس طرح ختم کرنے کی کوشش کرے کہ کم نمبر لینے والے طلبا کو لائق بچوں کے ساتھ براہ راست مقابلہ کروانے کی بجائے مسلسل ٹیسٹ کے ذریعے اس قابل بنائے کہ وہ ذہین طلبا کے مدِ مقابل آ سکیں۔
  • استاد کو ناکام طلبا کی ذہنی سطح، مطالعاتی مواد کی نوعیت، طلبا کے گھریلو اور معاشی حالات اور اسی قسم کے دیگر متعدد اُمور مد نظر رکھ کر اس طریقہ کار یا لائحہ عمل کو اختیار کرنا ہوتا ہے جو طے شدہ مقاصد تعلیم کے حصول میں ممد و معاون ثابت ہو۔ ایسے لائحہ عمل سے استاد اپنی تدریس کو مؤثر بنا کر کمزور طلبا کو کامیابی کی طرف گامزن کر سکتا ہے۔

سوال 29: کن تجاویز پر عمل کر کے طلبا امتحانات کے خوف سے آزاد ہو سکتے ہیں؟

جواب: طلبا کی ذہنی سطح چاہے کتنی ہی بلند کیوں نہ ہو وہ امتحانات کے خوف کا شکار ہو جاتے ہیں۔ درج ذیل تجاویز پر عمل کر کے طلبا امتحانات کے خوف سے آزاد ہو سکتے ہیں:

  • ماہرینِ تعلیم کونسلنگ کے ذریعے طلبا کو امتحانات کے خوف سے آزاد کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
  • طلبا مثبت سوچ، محنت اور لگن کے ذریعے امتحانی خوف پر قابو پا کر نمایاں کامیابی کو یقینی بنا سکتے ہیں۔
  • ذہنی صلاحیت بڑھانے میں نیند مثبت کردار ادا کرتی ہے۔ مکمل نیند لینے سے طلبا امتحان کی صبح اپنے آپ کو تر و تازہ اور چاق و چوبند رکھ کر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔
  • امتحان کے خوف کی وجہ سے اکثر طلبا غذا سے لاپرواہی برتتے ہیں جو جسم میں کمزوری اور یادداشت متاثر کرنے کا باعث بنتی ہے۔ دورانِ امتحان غذائی اجزاء سے بھرپور غذا اعصابی تناؤ اور امتحانی ڈر کو ختم کرنے میں مدد دیتی ہے۔
  • عین امتحانات کے قریب کی گئی پڑھائی بچوں میں خوف پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے۔ لہٰذا امتحان میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے طلبا اپنے پڑھنے کے اوقات اور دیگر سرگرمیوں کا شیڈول بنائیں اور قبل از وقت پیپرز کی مکمل تیاری کریں۔
  • امتحانات میں ذہنی دباؤ کم کرنے کے لیے طلبا کچھ وقت تفریح کے لیے ضرور نکالیں۔ اس سے ان کی دماغی صلاحیت بڑھتی اور مثبت توانائی میں اضافہ ہوتا ہے۔

سوال 30: طالب علم کی اصلاح کے لیے استاد کس حد تک تادیبی کارروائی عمل میں لا سکتا ہے؟

جواب: تادیبی کارروائی سے طالب علم تکلیف یا شرمندگی محسوس کرتا ہے۔ بعض اوقات اساتذہ طلبا کو ان کے ناقابلِ قبول رویوں پر سزا دینا اپنا حق سمجھتے ہیں تاکہ وہ انہیں فوری نظم و ضبط کا پابند بنا سکیں۔ جب کہ ان کا یہ رویہ قابلِ مذمت ہے۔ بچوں کی اصلاح کے لیے اگرچہ ترغیب و ترہیب دونوں ضروری ہیں، لیکن صرف ترغیب بعض اوقات کار آمد نہیں ہوتی اور فقط تربیت پر بھی اکتفاء مناسب نہیں۔ بلکہ استاد کو موقع و محل کی مناسبت سے وقتاً فوقتاً دونوں پر عمل کرنا چاہیے۔

اسلام دین فطرت ہے اور ہر معاملہ میں اعتدال کا سبق دیتا ہے۔ تعلیم کے میدان میں حضور نبی اکرم ﷺ کی ذات گرامی مشعلِ راہ ہے۔ آپ ﷺ بچوں کی تعلیم و تربیت کے معاملہ میں ڈانٹ ڈپٹ اور برا بھلا کہنے کی بجائے انہیں پیار، محبت اور حکمت سے سمجھاتے۔ حضرت معاویہ بن حکم السلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

بَیْنَا أَنَا أُصَلِّي مَعَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ. إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ. فَقُلْتُ: یَرْحَمُکَ اللهُ ! فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ. فَقُلْتُ: وَاثُکْلَ أُمِّیَاہْ! مَا شَأْنُکُمْ تَنْظُرُوْنَ إِلَيَّ؟ فَجَعَلُوْا یَضْرِبُوْنَ بِأَیْدِیْهِمْ عَلٰی أَفْخَاذِهِمْ. فَلَمَّا رَأَیْتُهُمْ یُصَمِّتُوْنَنِي لٰـکِنِّي سَکَتُّ. فَلَمَّا صَلّٰی رَسُوْلُ اللهِ ﷺ، فَبِأَبِي هُوَ وَأُمِّي. مَا رَأَیْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهٗ وَلَا بَعْدَهٗ أَحْسَنَ تَعْلِیْمًا مِنْهُ. فَوَاللهِ! مَا کَهَرَنِي وَلَا ضَرَبَنِي وَلَا شَتَمَنِي. قَالَ: إِنَّ ہٰذِهِ الصَّلَاۃَ لَا یَصْلُحُ فِیْهَا شَيْئٌ مِنْ کَلَامِ النَّاسِ، إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِیْحُ وَالتَّکْبِیْرُ وَقِرَائَةُ الْقُرْآنِ.

مسلم، الصحیح، کتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب تحریم الکلام في الصلاة ونسخ ماکان من إباحة، 1: 381، رقم: 537

حضور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز میں شریک تھا کہ جماعت میں کسی شخص کو چھینک آئی، میں نے کہا: یرحمک الله۔ لوگوں نے مجھے گھورنا شروع کر دیا۔ میں نے کہا: کاش یہ مر چکا ہوتا، تم مجھے کیوں گھور رہے ہو؟ یہ سن کر انہوں نے اپنی رانوں پر ہاتھ مارنا شروع کر دیا۔ جب میں نے سمجھا کہ وہ مجھے خاموش کرانا چاہتے ہیں تو میں خاموش ہو گیا۔ حضور نبی اکرم ﷺ پر میرے ماں باپ فدا ہوں! میںنے آپ ﷺ سے پہلے اور آپ کے بعد آپ سے بہتر کوئی سمجھانے والا نہیں دیکھا۔ خدا کی قسم! (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) آپ ﷺ نے مجھے جھڑکا نہ برا بھلا کہا، نہ مارا، بلکہ آپ ﷺ نے فرمایا: نماز میں باتیں نہیں کرنی چاہئیں؛ نماز میں صرف تسبیح، تکبیر اور تلاوت کرنی چاہیے۔

استاد میں حلم الطبع اور عفو و درگزر جیسی صفات کا ہونا اَز حد ضروری ہے۔ اگر بچوں کی کسی غلطی پر استاد کو غصہ آ جائے تو وہ درگزر کرنے کی بجائے مار پیٹ اور غصے سے طلبا کو اور بھی متنفر کر دیتا ہے۔ حالانکہ اس مسئلہ کا صحیح حل ایسی تادیبی کارروائی کرنا ہے، جو تعمیری ہو۔ مثلاً اگر استاد نے بچے کو ہوم ورک دیا اور اگلے دن کلاس میں بچے نے کہا کہ میں نے واقعی کام کر لیا ہے۔ مگر ہوم ورک کی کاپی گھر بھول آیا ہوں۔ استاد کو تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے تو تعمیری سزا کے طور پر استاد اس بچے کی تفریح کے وقت اسے وہی کام دو یا تین مرتبہ لکھنے کو دے۔ اس سے بچے کو پریشانی لاحق ہوگی۔ کیوں کہ تفریح کے وقت کوئی بچہ بھی مقید ہونا پسند نہیں کرتا۔ لہٰذا استاد بچوں کی غلطیوں پر درگزر کرتے ہوئے سزا کی بجائے بقدرِ ضرورت تعمیری و تادیبی کارروائی عمل میں لائے۔

سوال 31: بچوں کو چھوٹی چھوٹی ناکامیوں کا مقابلہ کرنا کیسے سکھایا جائے؟

جواب: بچے زندگی کی تلخ حقیقتوں سے نا آشنا ہوتے ہیں۔ وہ چھوٹی چھوٹی ناکامیوں پر پریشان ہو جاتے ہیں۔ انہیں ناکامیوں اور ہار سے نبرد آزما ہونا سکھایا جائے۔ درج ذیل طریقوں سے بچوں کو چھوٹی چھوٹی ناکامیوں کا مقابلہ کرنا سکھایا جا سکتا ہے:

1۔ ناکامی کے خوف پر قابو پانا

ناکامی کے انجانے اور ان دیکھے خوف کے زیر اثر بعض اوقات بچے صلاحیتوں کا بھرپور اظہار نہیں کر پاتے۔ منفی خیالات کی یلغار ان کے خوف کے احساس کو مضبوط کرتی ہے، جو کہ کامیابی کی راہ میں رکاوٹ اور ناکامی کا باعث بنتی ہے۔ بچوں کے ایسے منفی خیالات اور خوف پر قابو پانے کے لیے انہیں مثبت طریقے سے سوچنے اور جذبے کے ساتھ کامیابی کے حصول کی ترغیب دی جائے۔ اُنہیں سکھایا جائے کہ منفی خیالات اور خوف پر قابو پا کر کس طرح اپنی صلاحیتوں اور توانائیوں کو مثبت انداز میں بروئے کار لاتے ہوئے ناکامی کے خوف کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

2۔ تنقید سے گریز

بہت سے والدین اور اساتذہ بچوں کی ناکامی کو دیکھ کر برہم ہو جاتے ہیں اور بچوں کے لیے نالائق، کام چور اور سست جیسے الفاظ استعمال کر کے انہیں تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ تنقید سے بچے گھبرا کر احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ نااُمیدی اور ناکامی کی صورت میں تنقید کی بجائے والدین اور اساتذہ بچوں کو امید دلا کر ان میں حوصلہ پیدا کریں، اُنہیں حالات کا مقابلہ کرنے اور انتھک محنت سے کامیابی کے حصول کی تلقین کریں۔

3۔ ناموافق حالات کا مقابلہ کرنا

مسائل اور زندگی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ عملی زندگی میں اکثر سب کچھ توقعات کے عین مطابق نہیں ہوتا۔ عملی زندگی میں قدم رکھتے ہی ناموافق حالات اور ناکامی پر مقابلہ کے لیے بچوں کو ذہنی طور پر تیار کیا جائے اور انہیں باور کروایا جائے کہ کامیاب وہی ہوتے ہیں جو توقعات کے پورا نہ ہونے پر گھبرانے کی بجائے ناموافق حالات کا ہمت سے مقابلہ کرتے ہیں۔

4۔ غلطیوں سے سبق سیکھنا

بہتر کارکردگی پیش کرنے میں بچوں سے جلد بازی میں کئی غلطیاں سرزد ہو جاتی ہیں، جو کہ ان کی ناکامی کا باعث بنتی ہیں۔ بچوں کو اپنی ہر غلطی سے سبق سیکھنے کی ترغیب دے کر انہیں زندگی میں بہتری اور ناکامی کا مقابلہ کرنے کی جانب گامزن کیا جا سکتا ہے۔

5۔ ہمت نہ ہارنا

بعض اوقات بہت محنت کے باوجود بچوں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس سے شکست خوردہ ہونے کی بجائے انہیں مقابلہ کرنا سکھایا جائے۔ اُنہیں یہ شعور دیا جائے کہ کامیابی کی طرح ناکامی بھی زندگی کا ناگزیر حصہ ہے۔ اسے اپنی زندگی کا کل سمجھنے کی بجائے ایک جزو کے طور پر لیں، تاکہ وہ ’ناممکن‘ جیسے لفظ کو اپنی زندگی کی لغت سے نکال سکیں۔ حالات کیسے بھی ہوں ہمت نہ ہاری جائے۔

6۔ ناکامیوں کو تجربات کا درجہ دینا

ناکامی، رکاوٹ اور شکست زندگی کے لوازمات اور فطری اُمور ہیں۔ انہیں اپنے اہداف اور عزائم کی طرف پیش قدمی کی راہ میں حائل نہ ہونے دیا جائے۔ جو بچے شکست سے لڑنا سیکھتے ہیں یا ناکامی کی صورت میں مایوس نہیں ہوتے، وہ زیادہ بہادری سے جینا سیکھ جاتے ہیں۔ یہی صلاحیت انہیں کامیابیوں کی طرف گامزن رکھتی ہے۔ اُنہیں چاہیے کہ وہ ناکامیوں کو اپنی کامیابی کا زینہ بنائیں، اپنی ناکامی کا تجزیہ کریں اور اپنی گزشتہ غلطیوں کو کبھی نہ دہرانے کا عزم کریں تو کامیابی اُن کے قدم چومے گی۔

سوال 32: کن تاریخ ساز شخصیات نے ناکامیوں کے باوجود جہدِ مسلسل سے کامیابی حاصل کی؟

جواب: بہت سی تاریخ ساز شخصیات ایسی ہیں جو پہلے ناکام ہوئیں، پھر جہد مسلسل سے انہیں ایسی کامیابیاں حاصل ہوئی کہ وہ دوسروں کے لیے رول ماڈل بن گئیں۔ ان میں سے چند کا تذکرہ حسب ذیل ہے:

  • مشہور انگریزی ادیب Kipling کو ایک بار ممتحن نے بتایا کہ وہ انگریزی زبان کا استعمال نہیں جانتا، اس لیے اس کا مضمون مسترد کر دیا گیا لیکن اس کے باوجود اس نے ہمت نہ ہاری اورمسلسل محنت کر کے انگریزی ادیب اور شاعر بنا اور انگریزی ادب کا سب سے پہلا نوبل انعام حاصل کیا۔
  • آئن سٹائن نے چار سال کی عمر تک بولنا نہیں سیکھا تھا، اسی وجہ سے سات برس تک پڑھنے لکھنے کے قابل نہ ہو سکا۔ اساتذہ سے بھی اسے کند ذہن ہونے کا طعنہ ملا۔ بعد ازاں اس کا ڈاکٹریٹ کا تحقیقی مقالہ یونیورسٹی نے اس رائے کے ساتھ مسترد کر دیاکہ یہ مقالہ بے تکا اور تحقیقی اعتبار سے بے حد کمزور ہے۔ مگر آئن سٹائن نے طویل جد و جہد کے بعد ثابت کیا کہ وہ بیسویں صدی میں سائنس کے اُفق پر جگمگانے والا سب سے بڑا ستارہ ہے۔
  • تھامس ایڈیسن اسکول میں ’نہایت سست‘ طالب علم تھا جسے استاد نے ایک دن لفافہ دیا کہ جا کر اپنی والدہ کو دے دینا۔ جب اس کی ماں نے اس لفافے کو پڑھا تو اس میں لکھا تھا کہ آپ کابیٹا انتہائی غبی اور ذہنی طور پر ناکارہ ہے، اسے اسکول سے نکالا جا رہا ہے۔ لیکن ماں نے اپنے بیٹے کو یہ سب بتانے کی بجائے یہ کہا کہ اس میں لکھا ہے کہ آپ کا بیٹا بہت ذہین ہے۔ یہ اسکول اس کے لیے بہت چھوٹا ہے اور اتنے اچھے استاد نہیں کہ اسے پڑھا سکیں، لہٰذا آپ اسے خود پڑھائیں۔ جس کے نتیجے میں اس کی ماں نے اسے گھر میں پڑھانا شروع کر دیا۔ عظیم والدہ کی سرتوڑ محنت نے اپنے بیٹے تھامس ایڈیسن کو عظیم سائنسدان بنایا جو بجلی کے بلب کا موجد بنا۔
  • نیوٹن زمانہ طالب علمی میں اسکول میں نہایت نکما طالب علم سمجھا جاتا تھا۔ لیکن اس نے بطور سائنسدان، طبیعات دان، ریاضی دان، ماہرِ فلکیات، فلسفی اور کیمیا دان دنیا بھر میں نام پیدا کیا۔ اس کی کتاب ’قدرتی فلسفہ حسابی اصول‘ سائنسی تاریخ کی اہم ترین کتاب سمجھی جاتی ہے۔

سوال 33: کون سا وظیفہ طلبا کی یادداشت کے لیے مفید ہے؟

جواب: اگر طلبا کو حافظہ کی کمزوری کی شکایت ہو اور یاد کی ہوئی چیزیں بھول جاتی ہوں تو ان کی یادداشت کے لیے درج ذیل وظیفہ نہایت مفید ہے:

اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِo بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمo {اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَo}

الحجر، 15: 9

بے شک یہ ذکرِ عظیم (قرآن) ہم نے ہی اتارا ہے اور یقینا ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔

سَنُقْرِئُکَ فَـلَا تَنْسٰٓیo

الاعلیٰ، 87: 6

(اے حبیبِ مکرّم!) ہم آپ کو خود (ایسا) پڑھائیں گے کہ آپ (کبھی) نہیں بھولیں گے۔

اس وظیفہ کو 11 مرتبہ یا 40 مرتبہ یا 100 مرتبہ پڑھ کر دم کریں، پانی پر دم کر کے پئیں اور پلائیں۔

اوّل و آخر 11، 11 بار درود شریف پڑھیں۔ ان شاء الله! یادداشت اور علم میں اضافہ و ترقی نصیب ہوگی۔

طلبا یہ وظیفہ حصول مراد تک جاری رکھیں، حسبِ ضرورت پیر کی شب یا جمعہ کی شب بھی جاری رکھ سکتے ہیں۔

سوال 34: وہ کون سا وظیفہ ہے جس کے کرنے سے طلبا میں علم کی رغبت پیدا ہوتی ہے؟

جواب: اگر کسی طالب علم کا پڑھائی میں دل نہ لگتا ہو، دل کے اندر حصول علم کی رغبت نہ ہو تو اس کے لیے یہ وظیفہ مفید ہے:

أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِo بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِo {لَقَدْ مَنَّ اللهُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰـتِهٖ وَ یُزَکِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَةَ وَ اِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰـلٍ مُّبِیْنٍo}

آل عمران، 3: 164

بے شک اللہ نے مسلمانوں پر بڑا احسان فرمایا کہ ان میں انہی میں سے (عظمت والا) رسول ( ﷺ ) بھیجا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اگرچہ وہ لوگ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔

رَبِّ زِدْنِیْ عِلْمًاo

طٰهٰ، 20: 114

اے میرے رب! مجھے علم میں اور بڑھا دے۔

وَالطُّوْرِo وَکِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍo فِیْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍo وَّالْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِo

الطّور، 52: 1-4

(کوهِ) طُور کی قَسم۔ اور لکھی ہوئی کتاب کی قَسم۔ (جو) کھلے صحیفہ میں (ہے)۔ اور (فرشتوں سے) آباد گھر (یعنی آسمانی کعبہ) کی قَسم۔

نٓ وَالْقَلَمِ وَمَا یَسْطُرُوْنَo

القلم، 68: 1

نون (حقیقی معنی اللہ اور رسول ﷺ ہی بہتر جانتے ہیں) قلم کی قسم اور اُس (مضمون) کی قسم جو (فرشتے) لکھتے ہیں۔

اس وظیفہ کو 11 مرتبہ یا 40 مرتبہ پڑھ کر دم کریں۔ نیز پانی پر دم کر کے پئیں اور پلائیں۔

اوّل و آخر 11، 11 بار درود شریف پڑھیں۔ ان شاء الله حصولِ علم کی رغبت پیدا ہوگی۔

طلبا یہ وظیفہ حصول مراد تک جاری رکھیں۔ حسب ضرورت پیر کی شب یا جمعہ کی شب بھی جاری رکھ سکتے ہیں۔

سوال 35: وہ کون سا وظیفہ ہے جس کے کرنے سے طلبا کو انشراحِ صدر نصیب ہوتا ہے؟

جواب: اگر کوئی طالب علم چاہے کہ اس کا سینہ علم کے لیے کھول دیا جائے اور اسے شرح صدر نصیب ہو تو وہ درج ذیل وظیفہ پڑھے:

أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِo بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِo رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْo وَ یَسِّرْ لِیْ اَمْرِیْo وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْo یَفْقَھُوْا قَوْلِیْo

طٰهٰ، 20: 25-28

(موسیٰ علیہ السلام نے) عرض کیا: اے میرے رب! میرے لیے میرا سینہ کشادہ فرما دے۔ اور میرا کارِ (رسالت) میرے لیے آسان فرما دے۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ کہ لوگ میری بات (آسانی سے) سمجھ سکیں۔

اَلرَّحْمٰنُo عَلَّمَ الْقُرْاٰنَo خَلَقَ الْاِنْسَانَo عَلَّمَهُ الْبَیَانَo

الرحمٰن، 55: 1-4

(وہ) رحمن ہی ہے۔ جس نے (خود رسولِ عربی ﷺ کو) قرآن سکھا یا۔ اُسی نے (اِس کامل) انسان کو پیدا فرمایا۔ اُسی نے اِسے (یعنی نبیِ برحق ﷺ کو مَا کَانَ وَمَا یَکُون کا) بیان سکھایا۔

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیْمo {اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَo وَوَضَعْنَا عَنْکَ وِزْرَکَo الَّذِیْٓ اَنْقَضَ ظَہْرَکَo وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَطo فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاo اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاo فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْo وَاِلٰی رَبِّکَ فَارْغَبْo}1

1 الانشراح: 94

کیا ہم نے آپ کی خاطر آپ کا سینہ (انوارِ علم و حکمت اور معرفت کے لیے) کشادہ نہیں فرما دیا۔ اور ہم نے آپ کا (غمِ اُمت کا وہ) بار آپ سے اتار دیا۔ جو آپ کی پشتِ (مبارک) پر گراں ہو رہا تھا۔ اور ہم نے آپ کی خاطر آپ کا ذکر (اپنے ذکر کے ساتھ ملا کر دنیا و آخرت میں ہر جگہ) بلند فرما دیا۔ سو بے شک ہر دشواری کے ساتھ آسانی (آتی) ہے۔ یقینا (اس) دشواری کے ساتھ آسانی (بھی) ہے۔ پس جب آپ (تعلیمِ امت، تبلیغ و جہاد اور ادائیگیِ فرائض سے) فارغ ہوں تو (ذکر و عبادت میں) محنت فرمایا کریں۔ اور اپنے رب کی طرف راغب ہو جایا کریں۔

اس وظیفہ کو 11 مرتبہ یا 40 مرتبہ پڑھ کر دم کریں نیز پانی پر دم کر کے پئیں اور پلائیں۔

اوّل و آخر 11، 11 بار درود شریف پڑھیں۔ ان شاء الله زبان کی لکنت دور ہو جائے گی اور اظہار مافی الضمیر پر قدرت حاصل ہو جائے گی۔

طلبا یہ وظیفہ حصول مراد تک جاری رکھیں۔ حسب ضرورت پیر کی شب یا جمعہ کی شب بھی جاری رکھیں۔

سوال 36: وہ کون سا وظیفہ ہے جس کے کرنے سے طلبا اپنی استعداد کے مطابق کامیابی حاصل کر سکتے ہیں؟

جواب: بعض طلبا حصول علم کے لیے اپنی استعداد کے مطابق بار بار محنت کرتے ہیں، مگر انہیں خاطر خواہ ترقی و کامیابی نصیب نہیں ہوتی۔ اگر وہ محنت کے ساتھ ساتھ درج ذیل وظیفہ کو اپنا معمول بنائیں تو اس کی برکت سے ان شاء الله ان کی محنت رنگ لائے گی اور نمایاں تعلیمی کامیابی نصیب ہوگی:

أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِo بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِo {وَ اَنْزَلَ اللهُ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَ عَلَّمَکَ مَا لَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ ط وَ کَانَ فَضْلُ اللهِ عَلَیْکَ عَظِیْمًاo}

النساء، 4: 113

اور اللہ نے آپ پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی ہے اور اس نے آپ کو وہ سب علم عطا کر دیا ہے جو آپ نہیں جانتے تھے، اور آپ پر اللہ کا بہت بڑا فضل ہے۔

فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَا اٰتَیْنٰهُ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ عَلَّمْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًاo

الکهف، 18: 65

تو دونوں نے (وہاں) ہمارے بندوں میں سے ایک (خاص) بندے (خضر علیہ السلام ) کو پا لیا جسے ہم نے اپنی بارگاہ سے (خصوصی) رحمت عطا کی تھی اور ہم نے اسے علمِ لدنی (یعنی اَسرار و معارف کا اِلہامی علم) سکھایا تھا۔

اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَo خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍo اِقْرَاْ وَ رَبُّکَ الْاَکْرَمُo الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِo عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْo

العلق، 96 :1-5

(اے حبیب!) اپنے رب کے نام سے (آغاز کرتے ہوئے) پڑھیے جس نے (ہر چیز کو) پیدا فرمایا۔ اس نے انسان کو (رحمِ مادر میں) جونک کی طرح معلق وجود سے پیدا کیا۔ پڑھیے اور آپ کا رب بڑا ہی کریم ہے۔ جس نے قلم کے ذریعے (لکھنے پڑھنے کا) علم سکھایا۔ جس نے انسان کو (اس کے علاوہ بھی) وہ (کچھ) سکھا دیا جو وہ نہیں جانتا تھا۔

اس وظیفہ کو 11 مرتبہ یا 40 مرتبہ پڑھ کر دم کریں۔ نیز پانی پر دم کر کے پئیں اور پلائیں۔

اوّل و آخر 11، 11 بار درود شریف پڑھیں۔

طلبا یہ وظیفہ حصول مراد تک جاری رکھیں۔ حسب ضرورت پیر کی شب یا جمعہ کی شب بھی جاری رکھ سکتے ہیں۔

سوال 37: فراغت کسے کہتے ہیں؟

جواب: انسان زندگی کی مصروفیات سے آزاد ہو کر حسبِ منشا جو وقت گزارتا ہے اسے فراغت کہتے ہیں۔ فراغت کسی نعمت سے کم نہیں ہے، جسے اکثر لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

نِعْمَتَانِ مَغْبُوْنٌ فِیْهِمَا کَثِیرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ.

بخاری، الصحیح، کتاب الرفاق، باب ماجاء في الصحیحة والفراغ وأن لا عیش إلا عیش الآخرة، 5: 2357، رقم: 6049

دو نعمتیں ایسی ہیں کہ اکثر لوگ اُن کی قدر نہیں کرتے: وہ نعمتیں صحت اور فراغت ہیں۔

مذکورہ بالا حدیث اس شخص کے عظیم خسارے کو بیان کر رہی ہے جو صحت و فراغ جیسی نعمتوں سے فائدہ اُٹھانے میں کوتاہی کرتا ہے۔

اس سے یہ باور کروانا مقصود ہے کہ اگر زندگی میں کبھی فراغت کے لمحات میسر آئیں تو وہ کسی نعمت سے کم نہیں۔ لہٰذا اُنہیں ضائع کرنے کی بجائے بامقصد اور بارآور سرگرمیوں میں صرف کیا جائے۔

سوال 38: بچے موسمِ گرما کی تعطیلات کو کن اشغال کے باعث ضائع کر دیتے ہیں؟

جواب: محنت و مشقت کے بعد پر سکون ماحول اور اس کی تلاش ایک مسلمہ امر ہے جس کی اہمیت سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا۔ طلبا کو موسم گرما کی چھٹیاں موسم کی سختی کے باعث دی جاتی ہیں تاکہ وہ اُنہیں مثبت سرگرمیوں میں صرف کریں۔ لیکن بچے غفلت کی بنا پر ان چھٹیوں کامثبت استعمال کرنے کی بجائے درج ذیل خرافات کی وجہ سے ضائع کر دیتے ہیں:

1۔ شب و روز کے منفی معمولات

موسم گرما کی تعطیلات کو صحت مند سرگرمیوں میں صرف کرنے کے لیے بچوں کے پاس واضح لائحہ عمل نہیں ہوتا۔ ایسی فرصت و فراغت مختلف انحرافات کا باعث بنتی ہے۔ جس میں سب سے بُری عادت شب و روز کے معمولات کا تبدیل ہوجانا ہے۔ بچوں کے دن سونے میں اور راتیں موبائل اور انٹرنیٹ پر چیٹنگ، ویڈیو گیم کھیلنے، ٹی وی دیکھنے یا موسیقی سے لطف اندوز ہونے میں گزرتی ہیں۔ رات گئے تک جاگنے اور دن بھر سونے سے معمولاتِ زندگی میں دن بھر کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ نتیجتاً وہ اپنے افرادِ خانہ کے حقوق سے لاپرواہی، ان کی حق تلفی اور غیر اخلاقی عادات کا شکار ہو جاتے ہیں۔

2۔ شادی بیاہ اور دیگر پارٹیاں

چھٹیوں میں بچوں کی فرصت کی وجہ سے خاندان والے شادی بیاہ اور کئی ایسی تقریبات کا اہتمام کرتے ہیں جن میں مال و دولت اور طاقت و قوت کی نمائش کی جاتی ہے۔ ان پارٹیوں کے لوازمات اور فضول خرچیوں پر بے دریغ پیسہ بہایا جاتا ہے۔ والدین کے ساتھ بچے بھی ایسی تقریبات اور دعوتوں میں شرکت کرتے ہیں جو کہ سراسر ان کے وقت کے ضیاع کا باعث ہے۔

3۔ کیبل چینلز کی یلغار

موسم گرما کی تعطیلات میں بچوں کو کیبل چینلز دیکھنے سے فرصت نہیں ملتی اور یہ چینلز بھی پوری تیاری سے ایسے حیا سوز مناظر اور فتنہ پرور پروگرام نشر کرتے ہیں جیسے شرم و حیا کو زندہ درگور کر چکے ہیں۔ یوں طلبا کی چھٹیاں ایسے غیر اخلاقی پروگراموں کی نذر ہو جاتی ہیں اور یہی ابلاغ بچوں کی تعطیلات کو ضائع کرنے اور ان کی تباہی و بے راہ روی کا باعث بنتا ہے۔

4۔ پارکوں میں گھومنا پھرنا

چھٹیوں میں والدین کی طرف سے آزادی ملنے پر سرِ شام پارکوں میں جانا اور فارغ گھومنا پھرنا بچوں کا معمول بن جاتا ہے۔ والدین کی عدم توجہی سے بچے فارغ اوقات کو آزادانہ گھومنے پھرنے میں صرف کرتے ہیں ہیں، جو سراسر وقت کے ضیاع اور ممنوعہ اُمور و اَفعال میں مبتلا ہونے کا باعث بنتا ہے۔

سوال 39: وقت کے ضیاع سے کیسے بچا جاسکتا ہے؟

جواب: وقت ایک امانت ہے، جس کا اللہ تعالیٰ نے انسان کو مالک بنایا ہے اور اس کے متعلق پوچھ گچھ ہوگی۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

اغْتَنِمْ خَمْسًا قَبْلَ خَمْسٍ: حَیَاتَکَ قَبْلَ مَوْتِکَ، وَفَرَاغَکَ قَبْلَ شَغْلِکَ، وَغِنَاکَ قَبْلَ فَقْرِکَ، وَشَبَابَکَ قَبْلَ هَرَمِکَ، وَصِحَّتَکَ قَبْلَ سَقَمِکَ.

  1. ابن أبي شیبة، المصنف، 7: 77، رقم: 34319
  2. حاکم، المستدرک، 4: 341، رقم: 7846

پانچ چیزوں کو پانچ سے پہلے غنیمت جانو: اپنی زندگی کو موت سے پہلے، اپنی فراغت کو مصروفیت سے پہلے، تونگری (امیری) کو محتاجی سے پہلے، اپنی جوانی کو بڑھاپے سے پہلے اور اپنی صحت کو بیماری سے پہلے۔

ذیل میں چند طریقے دیے جا رہے ہیں جن پر عمل کر کے وقت کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکتا ہے:

1۔ لغو کاموں کو چھوڑ دینا

وقت کے بہتر استعمال کے لیے دقتِ نظری اور باریک بینی کے ساتھ اپنے افعال کا بغور جائزہ لیا جائے کہ کن اُمور کی وجہ سے وقت ضائع ہو رہا ہے؟ کوشش کی جائے کہ لغو کام چھوڑ کر اپنا وقت کارآمد اُمور میں صرف کیا جائے۔

2۔ نظام الاوقات

وقت کے بہتر استعمال کے لیے ضروری ہے کہ اپنا نظام الاوقات ترتیب دیا جائے، اپنا نظام العمل بناتے ہوئے وقت اور کام دونوں کی نوعیت اور کیفیت کو پیشِ نظر رکھا جائے کہ کون سا کام کس وقت زیادہ بہتر طریقے سے کیا جا سکتا ہے اور کون سا وقت کس عمل کے لیے زیادہ سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔

3۔ اِرتکازِ توجہ

وقت بچانے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ فرائض کی ادائیگی کے دوران دیگر غیر ضروری اشغال سے بچا جائے مثلاً جب کوئی ضروری کام کیا جا رہا ہو تو غیر متعلقہ فون کال، ایس ایم ایس، ای میل وغیرہ کی وجہ سے کام میں خلل پیدا ہوتا ہے اور اسے مکمل ہونے میں چار گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ حالاں کہ وہی کام پوری یکسوئی اور توجہ کے ساتھ ایک گھنٹے میں بآسانی مکمل کیا جاسکتا ہے۔ لہٰذا یکسوئی اور توجہ سے کام کرنے سے نہ صرف وقت ضائع ہونے سے بچتا ہے، بلکہ کام میں بھی عمدگی آتی ہے۔

4۔ اہداف اور مقاصد کا تعین کرنا

وقت بچانے کے لیے ضروری ہے کہ اپنے اہداف اور مقاصد کا تعین کر کے اپنی تمام تر صلاحیتیں ان کے حصول کے لیے وقف کردی جائیں۔ یہ اسی صورت ممکن ہے جب وقت کو بہتر انداز میں ترتیب دے کر لائحہ عمل تشکیل دیا جائے۔ مثلاً جب کرنے کو چھوٹے چھوٹے کئی کام ہوں تو سارا دن ضائع کرنے کی بجائے ان کی تکمیل کے لیے ایک مخصوص وقت مقرر کر لیا جائے اور اسی دورانیے میں تمام کام مکمل کیے جائیں۔ وقت کا صحیح استعمال ہی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔

5۔ مستقل مزاجی

وقت کو بچانے اور اس کے صحیح استعمال کا ایک اہم اصول مستقل مزاجی سے کام کرنا ہے۔ انسان ہمیشہ ایک جیسی کیفیت میں نہیں رہ سکتا۔ کبھی بلند ہمت تو کبھی پست ہمت ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اپنی زندگی کی روٹین اس طرح ترتیب دی جائے کہ اس میں صرف اتنے ہی کام شامل ہوں جنہیں ہر روز آسانی سے سر انجام دیا جا سکے، چاہے وہ کام مقدار میں تھوڑے ہی کیوں نہ ہوں۔ مستقل مزاجی اور ثابت قدمی کے ذریعے وقت بچا کر زندگی کے بڑے اہداف بآسانی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

سوال 40: وقت کے صحیح استعمال میں حائل رکاوٹیں کون سی ہیں؟

جواب: وقت کے صحیح استعمال میں حائل رکاوٹیں درج ذیل ہیں:

1۔ سست اور کاہل ہونا

سستی اور کاہلی وقت کے صحیح استعمال میں پہلی رکاوٹ ہے۔ اس کی وجوہات میں زندگی کے بارے میں واضح مقاصد کا نہ ہونا، ترجیحات کا متعین نہ ہونا، ناکامی کا خوف اور اپنی ذات کا حقیقت سے بلند تصور کرنا ہے۔ کامیابی کے راستے میں یہ سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور ایسے شخص کی اصلاح مشکل ہے، کیونکہ سوتے کو جگانا آسان اور جاگتے کو جگانا مشکل ہے۔

2۔ آج کا کام کل پر چھوڑنا

وقت کے صحیح استعمال میں حائل دوسری بڑی رکاوٹ آج کا کام کل پر چھوڑنا ہے۔ ’کل‘ کا لفظ ایک دھوکا ہے۔ زوال و انحطاط کی بہت بڑی وجہ عدم توجہی، شعور کی کمی اور آج کا کام کل پر چھوڑنا ہے۔ نتیجتاً گھر کے معاملات سے لے کر قومی معاملات تک میں الجھاؤ ہے اور منٹوں کا کام مہینوں میں بھی ختم نہیں ہوتا۔

3۔ آزادی کھونے کی فکر

بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ وقت کے صحیح استعمال اور اس کو ترتیب دینے سے ان کی ساری زندگی جد و جہد کی نذر ہو کر رہ جائے گی۔ راحت و عیش کب کریں گے! ان کو اپنی آزادی کھونے کی فکر لاحق ہو جاتی ہے۔ یہ ایک مغالطہ، واہمہ اور منفی سوچ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے غیر منظم لوگ جو اپنے خیالات اور افعال پر اختیار نہیں رکھ سکتے وہ کبھی آزاد نہیں ہو سکتے۔ بے عمل اور خود پر اختیار نہ ہونے کے باعث وہ وقت کا صحیح استعمال نہیں کر سکتے۔

4۔ منفی طرزِ فکر

وقت کے صحیح استعمال میں حائل چوتھی بڑی رکاوٹ منفی طرزِ فکر ہے، جو والدین اور معاشرے کے دیگر افراد کی صحبت سے ملتی ہے۔ اگر والدین یا ایسے افراد کسی بچے سے مسلسل کہیں کہ آپ بہت زیادہ سست اور ہمیشہ تاخیر سے کام سرانجام دیتے ہو تو ممکن ہے کہ وہ بڑا ہو کر بھی ایسا ہی کرے۔ کیوں کہ اس کا لاشعور ان ابتدائی احکامات کی تقلید کرے گا۔ ایسے رویے کے حامل بہت سے افراد یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ ’کیا کروں! میں ایسا ہی ہوں‘، ’میرے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے‘۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی پیدائشی سست اور غیر منظم نہیں ہوتا۔

سوال 41: وقت کے غلط استعمال کے کیا نقصانات ہیں؟

جواب: وقت کے غلط استعمال کے نقصانات درج ذیل ہیں:

  • وقت کے غلط استعمال سے انسان مقصدِ زندگی سے ہٹ جاتا ہے۔ اس سے زندگی کا بڑا حصہ ضائع ہوتا ہے اور ناکامی اس کا مقدر بنتی ہے۔
  • وقت کے غلط استعمال سے انسان کی صلاحیتیں ناکارہ ہو جاتی ہیں اور اسے زندگی بھر ناقابل تلافی نقصان کا پچھتاوا رہتا ہے۔
  • وقت کے غلط استعمال سے فیصلہ کرنے کی صلاحیت کی کمی اور کسی بھی کام کی ذمہ داری نہ لینے کا منفی رویہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس سے سوائے ندامت کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
  • وقت کے غلط استعمال سے تمام کاموں کی ترجیحات کا تعین کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اس کی وجہ سے کسی ایک کام پر توجہ مرکوز نہیں ہو پاتی۔
  • وقت کے غلط استعمال سے انسان غیر ضروری عادات مثلاً سگریٹ، پان وغیرہ کا عادی ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے روٹین کے مثبت معمولات پر منفی اثر پڑتا ہے۔
  • وقت کے غلط استعمال سے پیشہ ورانہ اہداف کی تکمیل ناممکن ہوتی ہے۔
  • وقت کو ضائع کرنے والا انسان ہمیشہ پریشان رہتا ہے۔

سوال 42: فارغ اوقات میں والدین بچوں کو کیسے مصروف رکھ سکتے ہیں؟

جواب: اکثر والدین فارغ اوقات کا مفہوم متعین کرنے میں غلطی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ اوقات بچوں کے لیے صرف کھیل کود اور تفریح طبع کا نام ہے، جب کہ ایسا نہیں ہے۔ فارغ اوقات میں والدین بچوں کو درج ذیل طریقوں سے مصروف رکھ سکتے ہیں:

  • والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو فارغ اوقات میں سیمیناروں میں لے کر جائیں۔ کیوں کہ ان میں عموماً معلومات کا نچوڑ اور سالہا سال کے تجربات کا خلاصہ محدود وقت میں پیش کیا جاتا ہے، جس سے بچوں کو بہت کچھ سیکھنے کا وقت ملتا ہے۔ یہ سیمینار اتنے اہم ہوتے ہیں کہ ان میں بہت زیادہ وقت اور بے حد محنت سے معلومات کو یکجا کیا گیا ہوتا ہے۔ اس طرح بچوں کو دوسروں کے تجربات اور معلومات سے استفادہ کرنے اور موافق و مخالف نظریات کی معرفت سے لوگوں کی آراء کو جانچنے و پرکھنے کا موقع ملتا ہے۔ الله تعالیٰ کا فرمان ہے:ـ

الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗ ط اُولٰٓـئِکَ الَّذِیْنَ هَدٰهُمُ اللهُ وَاُولٰٓـئِکَ هُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِo

الزمر، 39: 18

جو لوگ بات کو غور سے سنتے ہیں، پھر اس کے بہتر پہلو کی اتباع کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت فرمائی ہے اور یہی لوگ عقلمند ہیں۔

  • دین اسلام میں قلب و روح کی تفریح کی وسعت پائی جاتی ہے۔ لہٰذا والدین کو چاہیے کہ فارغ اوقات میں بچوں کو ایسے بامقصد کھیل کھیلنے کی ترغیب دیں جو انہیں جسمانی لحاظ سے صحت مند اور چست و توانا بنائیں اور ان کے قویٰ و اعضاء میں سختی برداشت کرنے کی طاقت پیدا کریں مثلاً ہاکی، فٹ بال، کرکٹ، تیراکی اور بیڈ منٹن وغیرہ۔

حضرت جابر بن عبد الله اور حضرت جابر بن عمیر انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

کُلُّ شَيئٍ لَیْسَ مِنْ ذِکْرِ اللهِ تعالیٰ فَھُوَ لَھْوٌ أَوْ سَھْوٌ إِلاَّ أَرْبَعُ خِصَالٍ: مَشْيُ الرَّجُلِ بَیْنَ الْغَرَضَیْنِ، وَتَأْدِیْبُهٗ فَرَسَهٗ، وَمُلَاعَبَهٗ أَھْلِهٖ، وَتَعَلُّمُ السَّبَاحَةِ.

طبراني، المعجم الکبیر، 2: 193، رقم: 1785

ہر وہ چیز جس میں الله تعالیٰ کا ذکر نہیں وہ لغو ہے یا غفلت کا باعث ہے، سوائے چار کاموں کے: آدمی کا دو نشانوں کے درمیان چلنا، اُس کا اپنے گھوڑے سِدھانا، اپنے اہل خانہ کے ساتھ کھیلنا اور تیراکی سیکھنا۔

  • والدین بچوں کے خیالات جاننے کے لیے فارغ اوقات میں سے کچھ وقت ان کے ساتھ گزاریں۔ انہیں اپنی مصروفیات، تجربات اور دن بھر کے کاموں کے بارے میں آگاہ کریں اور اپنے بنائے گئے سخت اصول و ضوابط کی پابندی کروانے کی بجائے خوشگوار ماحول میں مختلف مثالوں اور عملی کاموں سے اُن کی تربیت کریں۔
  • بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ بچے والدین کے پاس بیٹھنے میں خجالت محسوس کرتے ہیں۔ اس مرحلہ میں والدین کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے اور سوچنے کی ضرورت ہے کہ کس وجہ سے بچے ان سے دور ہیں۔ ان خامیوں کو دور کر کے والدین بچوں کو اپنے قریب لا سکتے ہیں۔
  • والدین کو چاہیے کہ فارغ اوقات میں وہ بچوں سے اسکول کے دوستوں کے بارے میں ضرور پوچھیں کہ وہ کیسے ہیں۔ اس عمر میں بچے معصوم ہوتے ہیں۔ فلٹر کیے بغیر سب کچھ بتا دیتے ہیں کیوں کہ ان کا دماغ ابھی اتنا پختہ نہیں ہوتا۔ اب یہ فلٹرنگ کا کام والدین بالخصوص ماں کا ہے کہ وہ آٹو فلٹرنگ کی بجائے مینوئل فلٹرنگ کرے۔ مثلاً ماں یہ کہے: بیٹا! یہ چیز بری ہے، اس کو ایسے کر لو۔ ماں جیسے sorting کرتی جائے گی، بچوں کے ذہن میں وہ بات ویسے ہی بیٹھتی جائے گی۔ بہت سی مائیں اس میں غفلت برتتی ہیں اور اسکول کی سرگرمیوں کے بارے میں نہیں پوچھتیں؛ حالاں کہ مستقل بچوں سے اُن کے مشاغل سننے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ معمولی بات نہیں، بچے اسکول میں پانچ سے چھ گھنٹے گزار کر آئیں۔ اس دوران کیا input ان کے دماغ میں گئی، اس کا کھوج لگانے کی ضرورت ہے تاکہ بچے کو صحیح اور غلط کی پہچان کروائی جا سکے۔

سوال 43: کیرئیر کسے کہتے ہیں؟

جواب: ایک کامیاب زندگی گزارنے کے لیے کوئی فرد جس پیشے کا انتخاب کرتا ہے وہ اس کا کیرئیر (career) کہلاتا ہے۔ یعنی ایک فرد کی سوچ، اس کا علم و ہنر، اس کی عقل و دانش، اس کی صلاحیتیں، مہارتیں اور اس کی خوبیاں، خامیاں یہ سب اجزاء مل کر اس کے لیے پیشے کے انتخاب میں معاون ہوتے ہیں۔ لیکن ان تمام اجزاء کی نشو و نما تعلیم و تربیت کا تقاضا کرتی ہے اور مناسب تعلیم و تربیت کے ذریعے ہی ایک بہتر اور معیاری career کا حصول ممکن ہے۔

سوال 44: کیرئیر گائیڈنس کسے کہتے ہیں؟

جواب: کیرئیر گائیڈنس (Career guidanc)کے معنی ہیں: ’طرزِ معاش کے بارے میں رہنمائی‘۔ یعنی تعلیم کے ذریعے طلبا کو آسان ذرائع سے روزگار کے قابل بنانے کے لیے رہنمائی فراہم کرنا تاکہ وہ ایسا با مقصدپیشہ اختیار کرسکیں جو ان کے مزاج کے عین مطابق ہو اور وہ اپنے معاش کے حصول کے ساتھ ساتھ معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکیں۔

سوال 45: کیرئیر کونسلنگ کسے کہتے ہیں؟

جواب: پروفیشنل کیرئیر کونسلر کا طلبا کی ذہنی استعداد، مالی وسائل، اور صلاحیتوں کو مدنظر رکھ کر ان کے لیے بہترین کیرئیر کے انتخاب میں مدد فراہم کرنا career counselling کہلاتا ہے تاکہ وہ اپنے رجحان کے مطابق دلجمعی اور ذہنی یکسوئی کے ساتھ اپنے لیے بہترین تعلیمی شعبے کا انتخاب کرسکیں۔

سوال 46: کیا بچوں کے تعلیمی اور پروفیشنل کیرئیر کے لیے کونسلنگ ضروری ہے؟

جواب: جی ہاں! بچوں کے پروفیشنل کیرئیر کے لیے کونسلنگ ضروری ہے۔ اس کا بنیادی مقصد طلبا میں اس بات کا شعور بیدار کرنا ہے کہ وہ تعلیمی اور پیشہ ورانہ کیرئیر کا انتخاب کرتے وقت اپنی دلچسپی، مشاغل، صلاحیتوں، خوبیوں اور خامیوں کو مدنظر رکھیں۔ جب تک کسی شعبے میں ان کی دلچسپی نہیں ہوگی وہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکیں گے۔

پروفیشنل کونسلر بچوں کو کیرئیر کونسلنگ کی مدد سے مختلف شعبے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ ان کی وسعت اور ملازمت کے مواقع کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے تاکہ وہ ڈاکٹر اور انجینئر کے علاوہ دیگر پروفیشنل شعبوں کی جانب بھی راغب ہو سکیں جہاں ملازمت اور ترقی کے مواقع موجود ہوں۔ مثلاً انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں ملازمت کے خاطر خواہ مواقع موجود ہیں۔ سائنس میں بھی ایسے بہت سے شعبے ہیں جن کی جانب طلبا کا رجحان مبذول کرایا جا سکتا ہے مثلاً بائیو کیمسٹری، حیاتیات، نباتات، فارمیسی، نفسیات، اناٹومی، فزیالوجی وغیرہ۔ سوشل سائنس میں انگلش و اردو ادب، سماجی بہبود، خصوصی تعلیم، تاریخ عمومی، تاریخ اسلامی، جیولوجی، مطالعہ پاکستان، قانون، بین الاقوامی تعلقات، سیاسیات، ابلاغ عامہ، تعلیم، جغرافیہ، جب کہ کامرس میں اکنامکس اور تجارت قابل ذکر ہیں۔

اس کے علاوہ پروفیشنل کیرئیر کے لیے ڈیزائنگ، ایڈمنسٹریشن، اکاؤنٹنگ، فنانس، پبلک سروسز، ہوٹل مینجمنٹ وغیرہ میں بھی ملازمت کے مواقع موجود ہیں۔ ٹیکنیکل ایجوکیشن میں بھی بہت سے شعبے ہیں جن میں ڈپلومہ اور سر ٹیفکیٹ کورسز کروائے جا سکتے ہیں۔ طلبا ان شعبوں میں نہ صرف اپنا تعلیمی دور کامیابی سے گزار سکتے ہیں بلکہ علمی میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر خود کو منوا سکتے ہیں، کیوں کہ عملی میدان میں ان شعبوں کی اہمیت دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ طلبا کو تعلیمی اور پروفیشنل کیریئر کے لیے تمام شعبوں سے متعلق درست رہنمائی فراہم کی جائے تاکہ وہ ملک و قوم کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں۔

سوال 47: ہمارے ملک میں کیریئر کا انتخاب کس طرح کیا جاتا ہے ؟

جواب: تعلیم کے آغاز سے ہی ہر بچے کو کیریئر گائیڈنس کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب کہ ہمارے ملک میں کیرئیر گائیڈنس کے لیے باقاعدہ کوششیں ابھی تک شروع نہیں ہوئیں۔ طلبا کیرئیر کا انتخاب والدین، اساتذہ اور میڈیا کی تشہیر کی بناء پر کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پڑھے لکھے تعلیم یافتہ بے روزگاروں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

ہمارے ملک میں جس بچے سے بھی اس کے کیریئر کے متعلق سوال کیا جائے کہ وہ بڑا ہو کر کیا بننا پسند کرے گا تو اکثریت کا جواب ملتا ہے ڈاکٹر یا انجینئر۔ چند بچے پائلٹ یا فوجی بننے کی خواہش کا اظہار بھی کرتے ہیں لیکن بڑی تعداد میڈیکل اور انجینئرنگ کے علاوہ دوسرے شعبوں کی طرف دھیان نہیں دیتی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اب تک طلبا کے ذہنوں میں یہ تصور موجود ہے کہ سائنس، آرٹس کے مقابلے میں بہتر شعبہ ہے اور آرٹس کا مضمون صرف ایسے طلبا کا انتخاب ہوسکتا ہے جو تعلیمی میدان میں زیادہ اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکتے۔

میٹرک سے پہلے ہی طلبا اپنے تعلیمی کیریئر کے انتخاب میں شدید الجھن کا شکار نظر آتے ہیں۔ ان کی بڑی تعداد میڈیکل اور انجینئرنگ کے شعبوں کا انتخاب کرتی ہے اور جب یہ انٹری ٹیسٹ میں ناکام ہو جاتے ہیں تو ایسی صورت میں وہ ذہنی انتشار کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان میں ڈپریشن، بے چینی، کم خوابی اور خود کشی جیسے منفی رجحانات پروان چڑھتے ہیں۔

بے روز گاری کی وجہ سے نوجوان محض چار یا پانچ ہزار روپے کی ملازمت کے ذریعے اپنی ڈگری کا بھرم رکھنے کی تگ و دو میں مصروفِ عمل نظر آتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے ملک میں ابتدائی سطح پر ہی ماہرین نفسیات اور کیرئیر کونسلر کی خدمات فراہم کی جائیں تاکہ طلبا کو کیریئر کے انتخاب میں دشواری کا سامنانہ کرنا پڑے۔

سوال 48: ملکی سطح پر بچوں کی کیرئیر کونسلنگ کے لیے کن اقدامات کو مدِ نظر رکھنا چاہیے؟

جواب: ملکی سطح پر بچوں کی کیرئیر کونسلنگ کے لیے درج ذیل اقدامات کو مدِ نظر رکھنا چاہیے:

  • اسکول اور کالج کی سطح پرکیریئر کونسلنگ کا فریضہ سر انجام دینے کے لیے ماہر کیرئیر کونسلرز ہونے چاہییں، جو career testing اور psychometric testing کے ذریعے طلبا کی انفرادی صلاحیت اور ذہانت کے پیشِ نظر اُنہیں شاندار مستقبل سے آشنا کریں تاکہ وہ محنت اور لگن سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد نہ صرف باعزت شہری بن سکیں بلکہ ملکی ترقی میں بھی اپنا بہترین کردار ادا کر سکیں۔
  • Tutorial system کے ذریعے اسکولوں اور کالجوں میں طلبا کو مستقل بنیادوں پر کیرئیر کے انتخاب کے لیے رہنمائی دی جانی چاہیے۔
  • ہر یونیورسٹی میں کم از کم ایک placement bureau ضرور قائم ہونا چاہیے جو گریجوایٹ اور پوسٹ گریجوایٹ طلبا کو روزگار کے مواقع سے آگاہ کرے۔
  • حکومتی سرپرستی میں اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی سطح پر باقاعدہ کیریئر کونسلر تعینات کیے جائیں جو بچوں کے ذہنی رحجان کو دیکھتے ہوئے ان کی درست رہنمائی کریں۔ جب طلبا عملی میدان میں قدم رکھیں تو وہ اپنی فیلڈ کے ماہر گردانے جائیں۔

سوال 49: وہ کون سے عناصر ہیں جو کیریئر کے انتخاب پر اثر انداز ہوتے ہیں؟

جواب: کیریئر کے انتخاب پر اثر انداز ہونے والے عناصر درج ذیل ہیں:

1۔ آبائی پیشہ

دیہی علاقوں میں دورِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق تبدیلی کا رجحان بہت کم ہے۔ ایسے ماحول میں طلبا کسی نئے شعبے یا ذریعہ معاش کے انتخاب کی بجائے اپنے آبائی پیشے یا کاروبار کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ شہروں میں صورتِ حال دیہی علاقوں کی نسبت مختلف ہے۔ یہاں طبقاتی نظامِ تعلیم کی بدولت سرکاری ادارے زیادہ تر کلرک بناتے ہیں۔ جب کہ انگلش میڈیم اور بہت مہنگے تعلیمی ادارے بیوروکریٹ، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز، وزراء، صدر، گورنر، وزیراعظم، سپیکر اور دیگر اعلیٰ شخصیات کو جنم دیتے ہیں۔ شہروں میں جو طلبا مالی وسائل کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں وہ بھی کیریئر کے انتخاب کے لیے اپنے آبائی پیشے یا کاروبار کے اُصول کو اپناتے ہیں۔ یہ وہ پہلا عنصر ہے جو ایک طالب علم کے کیریئر کے انتخاب پر اثر انداز ہوتا ہے۔

2۔ حالات اور ماحول

حالات، ماحول اور کلچر ایسے عناصر ہیں جو طلبا کی شخصیت کو متاثر کرتے اور کیریئر کے انتخاب میں ان کے فیصلے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ حقیقت عیاں ہے کہ ماحول کے اختلاف سے زندگی کا مقصد متاثر ہوتا ہے جیسے کسی شہر کی پوش کالونی اور جھونپڑی کا ماحول یکسا ں نہیں ہوتا۔ اسی طرح کسی انڈسٹریل ایریا میں مزدوروں کی کالونی کا ماحول کسی یونیورسٹی کی ٹیچنگ اسٹاف کالونی سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ اس طرح ہر کنبہ کے ہر فرد کے مخصوص حالات اور ضروریات بھی جدا جدا ہوتی ہیں۔ اس لیے حالات و ضروریات کے اختلاف کی بنا پر زندگی کا مقصد تبدیل ہوجاتا ہے اور یہی اختلاف کیرئیر کے انتخاب پر اثر انداز ہوتا ہے۔

3۔ دولت کمانے کا جنون

ہمارے ہاں ایک کامیاب زندگی کا تصور آتے ہی ذہن فوراً مال و دولت کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے طلبا کا رجحان اور نصب العین دولت کمانا بن چکا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ جتنا زیادہ پیسہ ہوگا اتنا ہی ان کا کیرئیر شاندار ہوگا۔ دولت کمانے کا یہ جنون انہیں ملازمت کی بجائے کاروبار کو ترجیح دینے پر مجبور کرتا ہے۔

4۔ فطری صلاحیت

ہر طالب علم فطری صلاحیت میں ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے اور قدرت کی طرف سے ودیعت کردہ کوئی بھی صلاحیت کیرئیر کے انتخاب پر اثر انداز ہوتی ہے۔ مثلاً بعض طلبا بولنے اور لکھنے کی اچھی صلاحیت رکھتے ہیں اور وہ اچھے ادیب، صحافی اور شاعر بن سکتے ہیں۔ اسی طرح دوسروں میں زیادہ دلچسپی لینے اور میل جول پسند کرنے والے طلبا اچھے سیلز مین اور استاد بن سکتے ہیں۔

5۔ معلومات اور رہنمائی کا فقدان

ہمارے معاشرے کا زیادہ تر طبقہ ایک محدود دائرہ کار میں زندگی بسر کر رہا ہے، اس کی وجہ جدید معلومات کا فقدان اور کیریئر کونسلنگ کا رحجان نہ ہونا ہے۔ معلومات اور رہنمائی کا یہ فقدان طلبا کے کیریئر کے انتخاب پر اثر انداز ہوتا ہے۔

سوال 50: غلط کیرئیر کے انتخاب کے نقصانات کیا ہیں؟

جواب: غلط کیرئیر کے انتخاب سے درج ذیل نقصانات کا احتمال رہتا ہے:

  • غلط کیرئیر کے انتخاب میں نوجوان اپنی معاشرتی اور خاندانی ذمہ داریوں کو نظر انداز کر دیتا ہے، جس کا نقصان نہ صرف ایک طالب علم کی زندگی بلکہ پوری سوسائٹی کو ہوتا ہے۔
  • غلط کیرئیر کے انتخاب سے نوجوانوں کو عملی میدان میں اپنی صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ اس کی وجہ سے ملک میں تعلیم یافتہ، ڈگری یافتہ، بے روزگار طلبا کی تعداد میں ہر سال اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
  • غلط کیرئیر کا انتخاب کرنے کے بعد طلبا عموماً مایوسی، ڈپریشن اور نیند کی کمی جیسی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور بعض اوقات نوبت خود کشی تک پہنچ جاتی ہے۔
  • سرکاری اداروں میں اخراجات طلبا کی فیسوں سے پورے نہیں ہوتے۔ جس کے لیے ریاست سرمایہ کاری کرتی ہے تاکہ طلبا تعلیم مکمل کر کے معاشرے کی اس شعبے میں خدمت کریں اور ریاست کی سرمایہ کاری کے ثمرات مل سکیں۔ جب کہ طلبا کے غلط انتخاب کی وجہ سے یہ مقصد پورا نہیں ہو پاتا اور یوں قومی وسائل کا نقصان ہوتا ہے۔
  • غلط کیرئیر کے انتخاب سے طلبا خود انحصاری جیسی اہم خوبی سے محروم ہو کر زندگی کے قیمتی سال گنوا دیتے ہیں۔

سوال 51: طلبا اور والدین کو کیریئر پلاننگ کے لیے کون سے اُمور مدنظر رکھنے چاہییں؟

جواب: طلبا اور والدین کو کیریئر پلاننگ کے لیے درج ذیل اُمور مد نظر رکھنے چاہییں:

1۔ ذہنی استعداد کی جانچ

کیریئر پلاننگ میں ذہنی استعدادی جانچ خصوصی اہمیت کی حامل ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ طالب علم مطلوبہ شعبے میں جانے کی بنیادی قابلیت رکھتا ہے یا نہیں؟ یوں تو والدین اپنے بچے کے بارے میں اور بچہ اپنے بارے میں بہتر جانتاہے کہ وہ اپنی ذہنی صلاحیت کے مطابق کس شعبے کا انتخاب کر سکتا ہے۔

بچوں کی بنیادی ذہانت معلوم کرنے کا جدید طریقہ آئی کیو ٹیسٹ ہے، جس سے زیادہ جامع معلومات ملتی ہیں۔ آئی کیوٹیسٹ آج کل کمپیوٹر کے ذریعے بھی ہوتا ہے جس میں طالب علم کی خواندگی اور حافظے (یاد رکھنے کی صلاحیت) کے معیار کو چیک کیا جاتا ہے، لیکن یہ ٹیسٹ صرف انگلش میں ہوتا ہے۔ اس لیے جن بچوں کی انگلش بہت اچھی ہے ان کے لیے یہ طریقہ کارآمد ہے۔

آئی کیو ٹیسٹ میں عام طلبا کے نمبر 70 سے 90 فی صد ہوتے ہیں جب کہ 90 فی صدسے زیادہ پوائنٹس لینے والے طالب علم کو ذہین تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس ٹیسٹ میں سائنس، زبان، سماجی سوجھ بوجھ، ریاضی اور پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کی صلاحیتوں کو بھی دیکھا جاتا ہے جو طلبا کو صحیح کیریئر اور رہنمائی فراہم کرنے میں انتہائی معاون ثابت ہوتا ہے۔

2۔ مزاج

طالب علم کو اپنے عمومی رویہ اور مزاج کے مطابق شعبے کا انتخاب کرنا چاہیے۔ مثلاً جو بچے زیادہ سخت جسمانی مشقت نہیں کر سکتے انہیں پولیس یا فوج کے شعبے کا انتخاب نہیں کرنا چاہیے۔ کیوں کہ وہاں سخت ترین جسمانی مشقت، سخت حالات اور تھکا دینے والے روزمرہ کے معمول کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے ایسے طلبا کو پولیس کے شعبے کا انتخاب کرنا ہو تو وہ اپنا مزاج تبدیل کر کے ایسا طرزِ عمل اپنائیں جو اس شعبے کی طلب کے عین مطابق ہو۔

3۔ دلچسپی

طالب علم کسی بھی کام کو اس وقت تک دل جمعی کے ساتھ نہیں کرسکتا جب تک اس میں اس کی مکمل دلچسپی نہ ہو۔ اگر اس سے زبردستی کوئی کام کروا بھی لیا جائے تو وہ اسے احسن طریقے سے سرانجام نہیں دے پائے گا۔ لہٰذا والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی مرضی بچوں پر مسلط نہ کریں اور کیریئر کے انتخاب میں ان کے شوق، دلچسپی اور رجحان کا خیال رکھیں۔

4۔ معاشی حالات

کیرئیر کا انتخاب کرتے وقت اپنے خاندان کے معاشی حالات کو مدِ نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔ طلبا کی بڑی تعداد ڈاکٹری کا پیشہ اختیار کرنے کی خواہش مند ہوتی ہے۔ لیکن حکومتی سطح پر ملک بھر میں میڈیکل کالجز میں سیٹوں کی تعداد محدود ہونے کی وجہ سے طلبا کی اکثریت داخلے سے محروم رہ جاتی ہے اور نجی کالجز میں فیسیں زیادہ ہونے کی وجہ سے طلبا کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لہٰذا شعبہ میڈیکل کے انتخاب میں اس کی مدت اور اس کے کل خرچ کا پہلے سے جائزہ لینا ضروری ہے۔ اسی طرح دیگر شعبہ جات کے تعلیمی اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے اُس کا انتخاب کرنا چاہیے۔

5۔ دستیاب تعلیمی مواقع

عموماً کیرئیر پلاننگ کی گائیڈنس نہ ہونے کی وجہ سے طلبا کو مکمل ادراک نہیں ہوتا کہ اس وقت کون سے تعلیمی شعبہ جات میں وہ داخلہ لے سکتے ہیں مثلاً عام طور پر ایف۔ ایس۔ سی پری میڈیکل کے خواہش مند طلبا اس کے بعد MBBS کے علاوہ مزید شعبہ جات کے بارے میں لا علم ہوتے ہیں۔ حالاں کہ پاکستان میں MBBS، BDS کے pharmacy، veterinary، medical sciences، biomedical engineering، chemical medical، agricultural، micro-biology اور منسلک طبی سائنسز جیسے psychiatry، psychology اور physiotherapy وغیرہ کے شعبہ جات میں تعلیم اور روزگار کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ لہٰذا والدین اور طلبا کو محنت کر کے دستیاب تمام تعلیمی مواقع خود تلاش کرنا ہوں گے۔

سوال 52: طالب علم کیریئر کے انتخاب پر حتمی فیصلہ کرنے کے قابل کب ہوتا ہے؟

جواب: درست کیریئر کا انتخاب کرتے ہوئے طالب علم اپنے فیصلے کو صرف سوچ بچار کے دائرے تک محدود نہ رکھے بلکہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے ایک قابل عمل پالیسی وضع کرے کہ وہ خود کو کس مقام پر دیکھنا چاہتا ہے؟ زندگی میں کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟ معیارِ زندگی کیسا چاہتا ہے؟ کیریئر کے انتخاب میں یہی سوالات مقصد کا تعین کرتے ہیں مگر وسیع تر معلومات، اپنی مہارتوں اور صلاحیتوں کے صحیح ادراک کے ساتھ ساتھ درج ذیل دیے گئے مراحل سے گزرے بغیر کیریئر کے انتخاب پر حتمی فیصلہ کرنا ممکن نہیں:

1۔ معلومات کا حصول

پہلا مرحلہ معلومات کے حصول کا ہوتا ہے یعنی طالب علم کیریئر کے انتخاب کے لیے مکمل معلومات اکٹھی کرتا ہے۔ یہ معلومات پروفیشنل کونسلر، کیریئر کونسلنگ کے ادارے، والدین، اساتذہ، بھائی، بہن یا رشتہ دار وغیرہ سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔

2۔ معلومات کا جائزہ لینا

دوسرے مرحلہ میں طالب علم اپنے پاس جمع کی گئی معلومات کا جائزہ لیتا ہے۔ یعنی اس کے سامنے ڈاکٹر، انجینئر، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ، ایڈمنسٹریٹر، ٹیچنگ اور وکالت جیسے پیشے موجود ہیں لیکن اس کے ذہن میں یہ واضح ہی نہیں کہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کیا کام کرتا ہے یا اسے یہ معلوم ہی نہیں کہ وکالت کیا ہوتی ہے۔ تو وہ ان آپشنز کو غلط سمجھے گا اور اس سے نتیجہ بھی غلط نکلے گا۔ لہٰذا معلومات کو سمجھنا اور ان کی درست تشریح کرنا بہت اہم ہے۔

3۔ متبادل کا انتخاب

تیسرے مرحلہ میں معلومات کا جائزہ لینے اور اسے اچھی طرح سمجھنے کے بعد طالب علم اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے لیے مختلف options کا انتخاب کر سکے۔ اس مرحلے میں کسی ایک option کا انتخاب کرنا نہیں ہوتا بلکہ زیادہ سے زیادہ options کا جائزہ بھی لینا ہوتا ہے۔ اگر معلومات کی کمی کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہو سکے تو کیرئیر کے انتخاب کا فیصلہ غلط بھی ہو سکتا ہے۔

4۔ فیصلہ کرنا اور عمل درآمد

چوتھے اور آخری مرحلہ میں طالب علم کو حتمی فیصلہ کرنے کے بعد عمل درآمد کا طریقہ کار دستیاب وسائل کے مطابق طے کرنا ہوتا ہے۔ جیسے طالب علم ایم۔ بی۔ اے کرنے کا فیصلہ کر لیتا ہے تو اس کے لیے وہ سب سے پہلے ان یونیورسٹیوں کو دیکھے گا جہاں ایم۔ بی۔ اے ہوتا ہے۔ یونیورسٹی کا انتخاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی ویب سائٹ سے بآسانی ہوسکتا ہے۔ اس میں ranking کے حساب سے سرکاری و نیم سرکاری اور پرائیویٹ یونیورسٹیز کی باقاعدہ لسٹ موجود ہے۔ ان میں سے بہترین یونیورسٹی کو اپنے حالات کے لحاظ سے منتخب کرے۔

مذکورہ بالا مراحل سے گزر کر طالب علم بآسانی کیرئیر کے انتخاب پر حتمی فیصلہ کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔

سوال 53: کیریئر کونسلنگ کے نتیجے میں طلبا کون سے پیشوں کا انتخاب بآسانی کر سکتے ہیں؟

جواب: کیریئر کونسلنگ کے نتیجے میں طلبا درج ذیل پیشوں کا انتخاب بآسانی کر سکتے ہیں:

1۔ تجارت کا پیشہ

اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کے لیے تجارت ایک بہترین شعبہ ہے۔ اس پیشہ کی قدر و قیمت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے اس پیشہ کو اختیار کرنے کی ترغیب دی ہے۔

حدیثِ مبارک میں ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا ہے:

تِسْعَةُ أَعْشَارِ الرِّزْقِ فِي التِّجَارَةِ.

عسقلانی، المطالب العالیة، 7: 352، رقم: 1434

رزق کے نو حصے تجارت میں ہیں۔

تجارت کے شعبے میں تعلیم یافتہ افراد کی بہت ضرورت ہوتی ہے۔ عموماً اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کا سرکاری ملازمتوں کی طرف رجحان زیادہ ہوتا ہے جس کے باوجود وہ خوشحالی کی اس منزل تک نہیں پہنچ پاتے جہاں تجارت پیشہ افراد بہت جلد پہنچ جاتے ہیں۔ تعلیم یافتہ لوگ اپنے بچوں کو تجارتی شعبے کی طرف جانے سے نہ صرف منع کرتے بلکہ یہ تاثر بھی دیتے ہیں کہ کوئی بھی کاروبار خطیر سرمائے کے بغیر ممکن نہیں، حالاں کہ کم سرمائے سے بھی کاروبار کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا کیریئر کونسلنگ کرتے ہوئے بچوں کو طالب علمی کے دور میں ہی تجارت کے شعبے کی اہمیت سے آگاہ کرنا لازم ہے۔

2۔ زراعت و باغبانی کا شعبہ

ہمارے ملک کی زرعی اراضی کا بیشتر حصہ دیہی علاقوں میں ہے۔ اگر طلبا کو کیریئر کونسلنگ کے ذریعے آگاہی دی جائے کہ وہ پڑھ لکھ کر زراعت، شجرکاری، باغبانی اور آب پاشی کی سہولتیں بڑھانے کی طرف توجہ دیں تو نہ صرف اس سے ملک سرسبز و شاداب اور خوش حال ہوگا بلکہ اس شعبے سے وابستہ ہونے والے طلبا بھی نہ صرف زراعت بلکہ درآمد و برآمد کے شعبے میں بھی کارہاے نمایاں سر انجام دے سکیں گے۔

3۔ قانون کا پیشہ

قانون کی تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ قانون کا علم عوام میں شعور پیدا کرتا ہے۔ عوام میں قانون سے آگاہی اور اس کی عمل داری کے لیے وکلاء اور ججز کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ قانون کی حکمرانی، آئین کی بالا دستی اور عدلیہ کی آزادی کے مقصد کے لیے اس مقدس پیشے میں تعلیم یافتہ افراد کی ضرورت ہے جو پیسہ کمانے کی بجائے دیانت داری کو فوقیت دیں۔ جس معاشرے میں قانون کی حکمرانی نہیں ہوتی وہ کبھی مثالی معاشرہ نہیں کہلا سکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کیریئر کونسلنگ سے طلبا کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد قانون کا پیشہ اختیار کرنے کی طرف راغب کیا جائے۔

4۔ درس و تدریس کا پیشہ

درس و تدریس کا شمار بہترین پیشوں میں ہوتا ہے۔ طلبا کے لیے یہ پیشہ ایک آئیڈیل کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان میں شرح خواندگی میں اضافے کے لیے حکومتی اور نجی سطحوں پر کوششیں جاری ہیں۔ اگر تعلیم یافتہ طلبا درس و تدریس کے پیشے سے وابستگی اختیار کریں تو نجی اور سرکاری تعلیمی اداروں میں ان کے لیے بہت سکوپ ہے۔ سرکاری اسکول، کالج اور یونیورسٹی اساتذہ کی تنخواہیں، گریڈ اور سہولت پہلے کی نسبت بہتر ہیں اور نجی ادارے میں بھی قابل اور محنتی اساتذہ کو بہت اچھی تنخواہیں اور مراعات دی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ کسی بھی معاشرے کی اصلاح کا بہترین ذریعہ اُس کے معلم ہوتے ہیں، جس معاشرہ میں اچھے معلم ہوں وہ معاشرہ ترقی کی منازل جلد طے کرتا ہے۔ لہٰذا آئندہ نسل کی بہترین تربیت کے لیے بہترین اساتذہ ناگزیر ہیں۔

5۔ صحافت اور میڈیا کا شعبہ

انسانی زندگی میں ابلاغ و ترسیل کو شہ رگ کی حیثیت حاصل ہے۔ اپنے خیالات و جذبات اور افکار و نظریات کے اظہار کے لیے اگر کسی فرد کو موقع نہ ملے تو وہ ایک ہیجانی کیفیت میں مبتلا ہو کر مضطرب اور بے چین ہو جاتا ہے۔ اخبارات، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ وغیرہ ذرائع ابلاغ کے اہم ستون ہیں۔ اس وقت پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا شعبہ عروج پر ہے اور اس شعبے میں قابل، لائق اور مستعد افراد کی بہت ضرورت اور قدر و منزلت ہے۔ شعبہ کا اصل مقصد ایسے پیشہ ور افراد تیار کرنا ہے جو الیکٹرانک، پرنٹ میڈیا اور تحقیق کے میدان میں عمدہ تعلیم و تربیت سے لیس ہوں۔ اس شعبے کے تحت طلبا کو ذرائع ابلاغ کے وسیع و عریض میدان میں طرزِ معاش کے لیے تربیت دی جاتی ہے۔ اگر طلبا صحافتی شعبے کی طرف توجہ دیں اور اپنا کیریئر اس میں بنانے کی کوشش کریں تو انہیں اپنی زندگی کی ہر سہولت اور آسائش بآسانی حاصل ہو سکتی ہے۔

الیکٹرانک میڈیا اور اخبارات میں روزگار کے وسیع متبادل ابھر کے سامنے آرہے ہیں۔ نئے نئے چینلز کے قیام اور میڈیا اداروں نے نوجوان طلبا کو اس جانب متوجہ کیا ہے۔ موجودہ دور میں طلبا کے لیے جرنلزم ایک glamourous career کی شکل میں ابھر کر سامنے آیاہے۔ اس فیلڈ میں رپورٹر، سب ایڈیٹر، پروڈکشن ایگزیکٹو، کیمرہ جرنلسٹ، ساؤنڈ ریکارڈسٹ اور ویڈیو ایڈیٹر جیسے عہدوں پر تقرری اچھی تنخواہ پر ہوتی ہے۔

6۔ سول سروسز

کسی بھی ملک کے انتظام و انصرام کو چلانے کے لیے Civil Servants اور بیوروکریسی کا شعبہ ریڑھ کی ہڈی کی سی حیثیت رکھتا ہے۔ اس شعبہ میں جانے کے لیے سی۔ ایس۔ ایس اور پی۔ ایم۔ ایس کے تحت مقابلے کے امتحانات میں شرکت اور کامیابی آپ کو اس شعبہ کا حصہ بنا سکتی ہے۔ پاکستان میں بیوروکریسی اپنے مکمل عروج پر ہے۔ اگر ذہین اور قابل طلبا مقابلے کے امتحانات کے ذریعے اس شعبے میں آجائیں تو ملک و ملت کو فائدہ پہنچانے کے ساتھ ساتھ اپنا مستقبل بھی محفوظ بنا سکتے ہیں۔

7۔ پولیس کا شعبہ

جرائم کی بیخ کنی اور انصاف کے حصول میں معمول کے حالات سے لے کر ہنگامی صورتحال تک پولیس کا شعبہ بنیادی کردار کاحامل ہے۔ اسی طرح امن کے استحکام اور بحالی کے حوالے سے پولیس کا شعبہ سب سے زیادہ مؤثر ترین ادارہ ہے۔ ذہین اور لائق طلبا کو پولیس کے شعبہ میں مختلف عہدوں کے حصول کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ اس شعبہ میں محنت اور لگن سے کام کرنے والے اہلکاروں اور عہدیداروں کو بہترین سہولیات اور مراعات حاصل ہوتی ہیں۔

8۔ مسلح افواج میں شمولیت

کسی بھی ملک کے لیے اُس کا شعبہ دفاع اہم ترین شعبوں میں سے ایک ہے۔ جدید دور میں بری، بحری اور فضائی افواج کے علاوہ اور کئی محاذ ایسے ہیں جہاں ملک کے دفاع کی ضرورت پیش آتی ہے۔ لہٰذا طلبا اس شعبہ کو بھی بطور پیشہ اختیار کر سکتے ہیں۔

9۔ میڈیکل

میڈیکل کے شعبہ میں physician، dentist اور دیگر تخصص (specialization) کے ذریعے طلبا اپنی پہچان بنا سکتے ہیں۔ اس فیلڈ میں ایم۔ بی۔ بی۔ ایس کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد کیریئر کی راہیں ہموار ہو جاتی ہیں۔ بعد ازاں اپنی پریکٹس کے ساتھ ہی میڈیکل اداروں میں طلبا کام کر سکتے ہیں۔ میڈیکل کے علاوہ پیرا میڈیکل کے شعبے میں بھی مختلف پروفیشنل کورسز طلبا کے لیے موجود ہیں۔ وہ نرسنگ (بی۔ ایس۔ سی۔ نرسنگ)، ریڈیالوجی (بی۔ ایس۔ سی ریڈیالوجی)، میڈیکل لیب ٹیکنالوجی (بی۔ ایس۔ سی۔ ایم۔ ایل۔ ٹی)، آپٹومیٹری (بی۔ ایس۔ سی آپٹومیٹری، فارمیسی، بی فارما) کے شعبے میں بھی گریجوایٹ کورسز کر سکتے ہیں۔ ایم۔ بی۔ بی۔ ایس کے کورس کے لیے پری میڈیکل داخلہ امتحان دینا ہوتا ہے۔

10۔ بزنس مینجمنٹ

بزنس مینجمنٹ میں کیریئر کو سنوارنے کے بے شمار امکانات ہیں۔ جس کی وجہ سے طلبا کا رجحان اس جانب بڑھ رہا ہے۔ اس کورس میں طلبا کو تجارت یا بزنس کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں تفصیلاً معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔ مارکیٹنگ، فنانس، ہیومن ریسورس ڈیویلپمنٹ اس فیلڈ کے خاص مضامین ہیں۔ گریجوایشن لیول پر بی۔ بی۔ اے اور پوسٹ گریجوایشن کی سطح پر ایم۔ بی۔ اے کی ڈگری دی جاتی ہے۔ اگر کوئی طالب علم اعلیٰ عہدے پر ملازمت کرنے کا خواہش مند ہے تو گریجوایشن کے بعد اس کے لیے ایم۔ بی۔ اے کی ڈگری حاصل کرنا لازم ہے۔

11۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی

انفارمیشن ٹیکنالوجی میں networking، software development اور web designing وغیرہ کے علاوہ اعلیٰ تکنیک پر منحصر کئی دیگر شعبے بھی سامنے آرہے ہیں۔ ان میں کیریئر بنانے کے لیے گریجویٹ سطح پر ہی انفارمیشن سسٹم میں تخصص کرایا جاتا ہے اور طلبا کو اس میں بی۔ ایس۔ سی کی ڈگری دی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں بی آئی ٹی، بی ٹیک، ایم سی اے جیسے کورس بھی کرائے جاتے ہیں۔

12۔ انجینئرنگ

طلبا کے لیے انجینئرنگ کے شعبے میں کیریئر کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ اس کے تحت وہ DAE، بی۔ ای، بی ٹیک اور بی۔ آئی۔ ٹی کورسز کی مختلف شاخوں میں اپنی دلچسپی کے مطابق داخلہ لے سکتے ہیں۔

13۔ ٹور اینڈ ٹریول مینجمنٹ

سیاحت کی فیلڈ میں وسیع امکانات کے پیش نظر مختلف سرکاری اور نجی ادارے اس میدان میں ڈپلومہ اور ڈگری کورسز کروا رہے ہیں۔ سیر و سیاحت کے شوقین طلبا کے لیے یہ ایک ایسا کیریئر ہے جس میں وہ اپنا شوق پورا کرنے کے ساتھ ساتھ اچھی آمدنی بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

14۔ کال سینٹر اور بی پی او

غیر ملکی اور ملکی کمپنیاں کال سینٹر اور بی پی او کے ذریعے سے اپنے کسٹمرز کو بہتر سہولیات فراہم کر رہی ہیں۔ اس فیلڈ میں طلبا کے لیے روزگار کے امکانات دیگر شعبوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔ مالی خدمات، کریڈٹ کارڈ، کمپیوٹر ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر، ایئر لائنز، انٹرنیٹ خدمات اور بیمہ وغیرہ کے کاروبار کے لیے کمپنیاں کال سینٹر کا سہارا لے رہی ہیں۔ اس شعبہ میں داخلہ کے لیے طلبا میں صبر و تحمل سے سننے کی صلاحیت، مختلف زبانوں پر عبور، عمدہ ابلاغ کی صلاحیت، خدمت کا جذبہ اور ٹیم کے ساتھ کام کرنے کی خاصیت کا ہونا ضروری ہے۔

15۔ ہوٹل مینجمنٹ

طلبا کے لیے hotel and restaurant management، air lines catering، club management، cruiseship hotel management، hospital catering، institutional management وغیرہ جیسے کورسز میں career کے امکانات ہیں۔ Hotel management and catering technology کے علاوہ بی۔ ایس۔ سی (ہوٹل مینجمنٹ) کا کورس طلبا کو اس میدان میں بہتر مستقبل دے سکتا ہے اور وہ یہ کورس نجی اداروں سے بھی کرسکتے ہیں۔

Copyrights © 2022 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved