حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خصائل مبارکہ

حضور (ص) کی شجاعت اور جود و سخاء کا بیان

بَابٌ فِي وَصْفِ شَجَاعَتِہٖ صلى الله عليه وآله وسلم وَجُوْدِہٖ وَسَخَائِہٖ

{حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شجاعت اور جود و سخاء کا بیان}

35 / 1۔ عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه قَالَ : کَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وآله وسلم أَحْسَنَ النَّاسِ، وَأَجْوَدَ النَّاسِ، وَأَشْجَعَ النَّاسِ، وَلَقَدْ فَزِعَ أَہْلُ الْمَدِیْنَۃِ ذَاتَ لَیْلَۃٍ، فَانْطَلَقَ النَّاسُ قِبَلَ الصَّوْتِ، فَاسْتَقْبَلَہُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وآله وسلم قَدْ سَبَقَ النَّاسَ إِلَی الصَّوْتِ وَہُوَ یَقُوْلُ : لَنْ تُرَاعُوْا، لَنْ تُرَاعُوْا، وَہُوَ عَلٰی فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَۃَ عُرْيٍ، مَا عَلَیْہِ سَرْجٌ، فِي عُنُقِہٖ سَیْفٌ، فَقَالَ : لَقَدْ وَجَدْتُہٗ بَحْرًا، أَوْ إِنَّہٗ لَبَحْرٌ۔

مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔

1 : أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب الأدب، باب حسن الخلق والسخاء وما یکرہ من البخل، 5 / 2244، الرقم : 5686، ومسلم في الصحیح، کتاب الفضائل، باب في شجاعۃ النبي صلى الله عليه وآله وسلم وتقدمہ للحرب، 4 / 1802، الرقم : 2307، والترمذي في السنن کتاب الجہاد، باب ما جاء في الخروج عند الفزع، 4 / 199، الرقم : 1687، وأبو داود في السنن، کتاب الأدب ، باب ما روي في الرخصۃ في ذلک، 4 / 297، الرقم : 4988، وابن ماجہ في السنن، کتاب الجہاد، باب الخروج في النفیر، 2 / 962، الرقم : 2772، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 147، الرقم : 12516۔

''حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام لوگوں سے بڑھ کر حسین، سب سے بڑھ کر سخی اور سب سے زیادہ بہادر تھے۔ ایک رات اہلِ مدینہ کو خطرہ محسوس ہوا اور لوگ خطرناک آواز کی طرف دوڑے تو اُنہیں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم راستے میں واپس آتے ہوئے ملے جو تمام لوگوں سے پہلے آواز کی جگہ جا پہنچے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے : ڈرو مت، ڈرو مت۔ (اُس وقت) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابو طلحہ کے گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر بغیر زین کے سوار تھے اور تلوار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گلے میں (لٹک رہی) تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں نے اِسے (گھوڑے کو) دریا پایا، یا فرمایا : یہ (گھوڑا تیزرفتاری میں تو) دریا (جیسا) ہے۔'' یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

36 / 2۔ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ الْبَرَاءَ رضي الله عنه فَقَالَ : یَا أَبَا عُمَارَۃَ، أَوَلَّیْتُمْ یَوْمَ حُنَیْنٍ؟ قَالَ الْبَرَاءُ : وَأَنَا أَسْمَعُ أَمَّا رَسُوْلُ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم لَمْ یُوَلِّ یَوْمَئِذٍ، کَانَ أَبُوْ سُفْیَانَ بْنُ الْحَارِثِ آخِذًا بِعِنَانِ بَغْلَتِہٖ، فَلَمَّا غَشِیَہُ الْمُشْرِکُوْنَ نَزَلَ فَجَعَلَ یَقُوْلُ :

أَنَا النَّبِيُّ لَا کَذِبْ
أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ

قَالَ : فَمَا رُئِيَ مِنَ النَّاسِ یَوْمَئِذٍ أَشَدُّ مِنْہٗ۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔

2 : أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب الجہاد والسیر، باب من قال خذہا وأنا ابن فلان، 3 / 1107، الرقم : 2877، ومسلم في الصحیح، کتاب الجہاد والسیر، باب في غزوۃ حنین، 3 / 1400۔1401، الرقم : 1776، والترمذي في السنن، کتاب الجہاد، باب ما جاء في الثبات عند القتال، 4 / 199، الرقم : 1688، وقال : ھذا حدیث حسن صحیح، والنسائي في السنن الکبری، 5 / 188، 191، الرقم : 8629، 8638، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 280۔281، 289، 304۔

''حضرت ابو اسحاق بیان کرتے ہیں کہ حضرت براء (بن عازب) رضی اللہ عنہ سے کسی شخص نے دریافت کیا : اے ابو عمارہ! کیا غزوئہ حنین میں آپ لوگوں نے پیٹھ دکھائی تھی؟ اُنہوں نے فرمایا : میں نے سنا ہے لیکن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن بھی پیٹھ نہیں دکھائی تھی، حضرت ابو سفیان بن حارث نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خچر کی لگام تھام رکھی تھی، جب مشرکین نے آپ کو گھیرے میں لے لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری سے نیچے تشریف لے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے :

''میں نبی بر حق ہوں اس میں کوئی جھوٹ نہیں
میں عبد المطلب (جیسے سردار) کا بیٹا ہوں''

اُس روز حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ مضبوط کوئی نہیں دیکھا گیا۔''

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

37 / 3۔ وفي روایۃ عنہ زاد : کُنَّا، وَاﷲِ، إِذَا احْمَرَّ الْبَأْسُ نَتَّقِي بِہٖ وَإِنَّ الشُّجَاعَ مِنَّا لَلَّذِي یُحَاذِي بِہٖ یَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وآله وسلم ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ وَابْنُ أَبِي شَیْبَۃَ۔

3 : أخرجہ مسلم في الصحیح، کتاب الجہاد والسیر، باب في غزوۃ حنین، 3 / 1401، الرقم : 1776، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 6 / 426، الرقم : 32615۔

حضرت براء رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ایک اور روایت میں اِن الفاظ کا اضافہ ہی : ''خدا کی قسم! جب جنگ تیز ہوتی تو ہم خود کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پناہ میں بچاتے تھے اور ہم میں سب سے بہادر شخص وہ ہوتا تھا جو جنگ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے برابر رہتا۔''

اِسے امام مسلم اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔

38 / 4۔ عَنْ عَلِيٍّ رضي الله عنه قَالَ : کُنَّا إِذَا احْمَرَّ الْبَأْسُ، وَلَقِيَ الْقَوْمُ الْقَوْمَ، اتَّقَیْنَا بِرَسُوْلِ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم ، فَمَا یَکُوْنُ مِنَّا أَحَدٌ أَدْنَی مِنَ الْقَوْمِ مِنْہُ۔

رَوَاہُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالْحَاکِمُ۔ وَقَالَ الْحَاکِمُ : ھٰذَا حَدِیْثٌ صَحِیْحُ الإِسْنَادِ۔

4 : أخرجہ أحمد بن حنبل في المسند ، 1 / 156، الرقم : 1346، والحاکم في المستدرک، 2 / 155، الرقم : 2633، والبزار في المسند، 2 / 299، الرقم : 722، وابن الجعد في المسند، 1 / 372، الرقم : 2561، والحارث في المسند، 2 / 874، الرقم : 938، وابن أبي الدنیا في مکارم الأخلاق / 55، الرقم : 154۔

''حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب معرکہ کار زار گرم ہوتا اور لوگوں سے لوگ ٹکراتے، تو ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آڑ میں آ جاتے، پس لڑائی کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر لوگوں (مخالفین) کے قریب ہم میں سے کوئی نہیں ہوتا تھا۔''

اِس حدیث کو امام احمد، بزار اور حاکم نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا : یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔

39 / 5۔ عَنْ عَلِيٍّ رضي الله عنه قَالَ : لَقَدْ رَأَیْتُنَا یَوْمَ بَدْرٍ وَنَحْنُ نَلُوْذُ بِرَسُوْلِ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم وَہُوَ أَقْرَبُنَا إِلَی الْعَدُوِّ وَکَانَ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ یَوْمَئِذٍ بَأْسًا۔

رَوَاہُ أَحْمَدُ وَابْنُ أَبِي شَیْبَۃَ۔

5 : أخرجہ أحمد بن حنبل في المسند ، 1 / 86، الرقم : 654، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 6 / 426، الرقم : 32614، والھیثمي في مجمع الزوائد، 9 / 12، وابن عساکر في تاریخ مدینۃ دمشق، 4 / 14۔

''حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جنگِ بدر والے دن ہم نے اپنے آپ کو دیکھا کہ ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پناہ لیے ہوئے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم سے زیادہ دشمن کے قریب (ہو کر لڑ رہے) ہیں۔ اُس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے بڑھ کر بہادر و مضبوط تھے۔'' اِس حدیث کو امام احمد اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔

40 / 6۔ عَنْ جَابِرٍ رضي الله عنه قَال : مَا سُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وآله وسلم عَنْ شَيئٍ قَطُّ فَقَالَ : لَا۔

مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔

6 : أخرجہ البخاري في الصحیح،کتاب الأدب، باب حسن الخلق والسخاء وما یکرہ من البخل، 5 / 2244، الرقم : 5687، ومسلم في الصحیح،کتاب الفضائل، باب ما سئل رسول اﷲ صلى الله عليه وآله وسلم شیئاً قط فقال لا، 4 / 1805، الرقم : 2311، والدارمي في السنن، 1 / 47، الرقم : 70، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 307، الرقم : 14333۔

''حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جب بھی کسی شے کا سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (جواب میں) نہیں نہ فرمایا۔''

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

41 / 7۔ عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وآله وسلم کَانَ لَا یَدَّخِرُ شَیْئًا لِغَدٍ۔

رَوَاہُ ابْنُ حِبَّانَ وَالْبَیْھَقِيُّ۔

7 : أخرجہ ابن حبان في الصحیح، 14 / 270، الرقم : 6356، والبیھقي في شعب الإیمان، 2 / 175، الرقم : 1478، والمقدسي في الأحادیث المختارۃ، 4 / 424، الرقم : 1601، والھیثمي في موارد الظمآن، 1 / 633، الرقم : 2550، وابن عساکر في تاریخ مدینۃ دمشق، 4 / 120۔

''حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کل کے لئے کوئی چیز ذخیرہ نہ کرتے تھے۔'' اِس حدیث کو امام ابن حبان اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

42 / 8۔ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ رضي الله عنه أَنَّـہٗ بَیْنَا ہُوَ مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم وَمَعَہُ النَّاسُ مُقْبِـلًا مِنْ حُنَیْنٍ، عَلِقَتْ رَسُوْلَ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم الْأَعْرَابُ یَسْأَلُوْنَہٗ حَتَّی اضْطَرُّوْہٗ إِلٰی سَمُرَۃٍ، فَخَطِفَتْ رِدَائَہٗ، فَوَقَفَ رَسُوْلُ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم فَقَالَ : أَعْطُوْنِي رِدَائِي، فَلَوْ کَانَ عَدَدُ ہٰذِہِ الْعِضَاہِ نَعَمًا لَقَسَمْتُہٗ بَیْنَکُمْ، ثُمَّ لَا تَجِدُوْنِي بَخِیْـلًا، وَلَا کَذُوْبًا، وَلَا جَبَانًا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِيُّ وَمَالِکٌ وَأَحْمَدُ۔

8 : أخرجہ البخاري في الصحیح،کتاب فرض الخمس، باب ما کان النبي صلى الله عليه وآله وسلم یعطي المؤلفۃ قلوبھم وغیرھم من الخمس ونحوہ، 3 / 1147، الرقم : 2979، وأیضًا في کتاب الجہاد ، باب الشجاعۃ في الحرب والجبن، 1 / 1038، الرقم : 2666، ومالک في الموطأ، کتاب الجھاد، باب ما جاء في الغلول، 2 / 457، الرقم : 977، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 84، الرقم : 16821۔

''حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ حنین سے واپس آ رہے تھے کہ چند اعرابی آ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے چمٹ گئے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مال طلب کر رہے تھے۔ وہ آپ کو مجبور کرتے ہوئے کیکر کے درخت تک لے گئے، اُنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چادر مبارک بھی اُچک لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میری چادر دے دو، اگر میرے پاس اِن درختوں کے برابر بھی مویشی ہوتے، تو میں تمہارے درمیان تقسیم کر دیتا اور تم مجھے ہر گز بخیل، جھوٹا یا بزدل نہ پاؤگے۔''

اِس حدیث کو امام بخاری، مالک اور احمد نے روایت کیا ہے۔

43 / 9۔ عَنْ إِبْرَاہِیْمَ بْنِ مُحَمَّدٍ مِنْ وَلَدِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رضی اللہ عنہ قَالَ : کَانَ عَلِيٌّص إِذَا وَصَفَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ : …أَجْوَدُ النَّاسِ کَفًّا وَأَشْرَحُہُمْ صَدْرًا وَأَصْدَقُ النَّاسِ لَہْجَۃً وَأَلْیَنُہُمْ عَرِیْکَۃً وَأَکْرَمُہُمْ عِشْرَۃً مَنْ رَآہٗ بَدِیْہَۃً ہَابَہٗ وَمَنْ خَالَطَہٗ مَعْرِفَۃً أَحَبَّہٗ یَقُوْلُ نَاعِتُہٗ : لَمْ أَرَ قَبْلَہٗ وَلَا بَعْدَہٗ مِثْلَہٗ۔

رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ أَبِي شَیْبَۃَ۔ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : ھٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ۔

9 : أخرجہ الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب ما جاء في صفۃ النبي صلى الله عليه وآله وسلم ، 5 / 599، الرقم : 3638، وأیضًا في الشمائل المحمدیۃ / 32، الرقم : 7، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 6 / 328، الرقم : 31805، والبیھقي في شعب الإیمان، 2 / 149، الرقم : 1415، وابن سعد في الطبقات الکبری، 1 / 411، والنمیری في أخبار المدینۃ، 1 / 319، الرقم : 968، وابن عبد البر في الاستذکار، 8 / 331۔

''حضرت ابراہیم بن محمد جو کہ حضرت علی ابن اَبی طالب رضی اللہ عنہ کی اولاد سے ہیں بیان فرماتے ہیں کہ حضرت علی ص، جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان مبارک بیان کرتے تو فرماتے : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ سخی ہاتھ والے اور سب سے زیادہ فراخ سینے والے (کھلے دل کے مالک) اور لوگوں میں سب سے سچے لہجے والے بھی تھے، سب سے زیادہ نرم طبیعت اور سب سے زیادہ باعزت معاشرت والے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اچانک دیکھنے والا مرعوب ہو جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ میل جول رکھنے والا آپ سے محبت کرنے لگتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اُوصاف بیان کرنے والا کہہ اُٹھتا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسا حسین نہ آپ سے پہلے دیکھا (سنا) اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد دیکھا (سنا)۔''

اِس حدیث کو امام ترمذی اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن ہے۔

44 / 10۔ عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه أَنَّ رَجُـلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وآله وسلم غَنَمًا بَیْنَ جَبَلَیْنِ، فَأَعْطَاہٗ إِیَّاہٗ، فَأَتَی قَوْمَہٗ فَقَالَ : أَي قَوْمِ، أَسْلِمُوْا، فَوَاﷲِ، إِنَّ مُحَمَّدًا لَیُعْطِي عَطَائً مَا یَخَافُ الْفَقْرَ، فَقَالَ أَنَسٌ : إِنْ کَانَ الرَّجُلُ لَیُسْلِمُ مَا یُرِیْدُ إِلَّا الدُّنْیَا فَمَا یُسْلِمُ حَتّٰی یَکُوْنَ الْإِسْلَامُ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا عَلَیْہَا۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ۔

10 : أخرجہ مسلم في الصحیح، کتاب الفضائل، باب ما سئل رسول اﷲ صلى الله عليه وآله وسلم شیئًا قطّ فقال : لا وکثرۃ عطائہ، 4 / 1806، الرقم : (58)2312، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 175، 259، 284، الرقم : 12813، 13756، 14061، وابن حبان في الصحیح، 14 / 287، الرقم : 6373، وابن خزیمۃ في الصحیح، 4 / 70، الرقم : 2372، وأبو یعلی في المسند، 6 / 56، الرقم : 3302، والبیھقي في السنن الکبری، 7 / 19، الرقم : 12967، وأیضًا في شعب الإیمان، 2 / 246، الرقم : 1641۔

''حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دو پہاڑوں کے درمیان (چرنے والی) بکریاں مانگیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُسے وہ بکریاں عطا کر دیں، پھر وہ اپنی قوم کے پاس گیا اور کہنے لگا : اے میری قوم! اسلام لے آؤ، کیونکہ خدا کی قسم! بے شک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنا دیتے ہیں کہ فقر و فاقہ سے نہیں ڈرتے، حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی صرف دنیا کی وجہ سے بھی مسلمان ہوتا تو اسلام لانے کے بعد اسلام اُسے دنیا اور اس کی ہر ایک شے سے زیادہ محبوب ہو جاتا۔''

اِس حدیث کو امام مسلم، احمد اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔

45 / 11۔ عَنْ صَفْوَانَ رضي الله عنه قَالَ : وَاﷲِ، لَقَدْ أَعْطَانِي رَسُوْلُ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم مَا أَعْطَانِي وَإِنَّہٗ لَأَبْغَضُ النَّاسِ إِلَيَّ، فَمَا بَرِحَ یُعْطِیْنِي حَتّٰی إِنَّہٗ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ۔

11 : أخرجہ مسلم في الصحیح، کتاب الفضائل، باب ما سئل رسول اﷲ صلى الله عليه وآله وسلم شیئا قط فقال : لا وکثرۃ عطائہ، 4 / 1806، الرقم : 2313، والترمذي في السنن، کتاب الزکاۃ، باب ما جاء في إعطاء المؤلفۃ قلوبہم، 3 / 53، الرقم : 666، وأحمد بن حنبل في المسند، 6 / 465، الرقم : 27679، وابن حبان في الصحیح، 11 / 159، الرقم : 4828، والطبراني في المعجم الکبیر، 8 / 51، الرقم : 7340۔

''حضرت صفوان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ خدا کی قسم! حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے عطا فرمایا، جو بھی عطا فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری نظر میں تمام لوگوں سے زیادہ نا پسندیدہ تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے مسلسل عطا فرماتے رہے، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری نظر میں تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہوگئے۔''

اِس حدیث کو امام مسلم، ترمذی، احمد اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔

46 / 12۔ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ رضي الله عنه قَالَ : أَعْطٰی رَسُوْلُ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم أَبَا سُفْیَانَ بْنَ حَرْبٍ، وَصَفْوَانَ بْنَ أُمَیَّۃَ، وَعُیَیْنَۃَ بْنَ حِصْنٍ، وَالْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ، کُلَّ إِنْسَانٍ مِنْہُمْ مِائَۃً مِنَ الْإِبِلِ وَأَعْطٰی عَبَّاسَ بْنَ مِرْدَاسٍ دُوْنَ ذَالِکَ فَقَالَ عَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسٍ :

أَتَجْعَلُ نَہْبِي وَنَہْبَ الْعُبَیْدِ
بَیْنَ عُیَیْنَۃَ وَالْأَقْرَعِ؟

فَمَا کَانَ بَدْرٌ وَلَا حَابِسٌ
یَفُوْقَانِ مِرْدَاسَ فِي الْمَجْمَعِ

وَمَا کُنْتُ دُوْنَ امْرِیئٍ مِنْہُمَا
وَمَنْ تَخْفِضِ الْیَوْمَ لَا یُرْفَعِ

قَالَ : فَأَتَمَّ لَہٗ رَسُوْلُ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم مِائَۃً۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ۔

12 : أخرجہ مسلم في الصحیح، کتاب الزکاۃ ، باب إعطاء المؤلفۃ قلوبہم علي الإسلام وتصبر من قوي إیمانہ، 2 / 737، الرقم : 1060، والحمیدي في المسند، 1 / 200، الرقم : 412، والبیھقي في السنن الکبری، 7 / 17، الرقم : 12959، وأبو نعیم في المسند المستخرج، 3 / 125، الرقم : 2367۔

''حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابو سفیان بن حرب، صفوان بن امیہ، عیینہ بن حصن اور اقرع بن حابس ہر ایک کو سو سو اونٹ دیے اور عباس بن مرداس کو اس سے کچھ کم اونٹ دیے تو عباس بن مرداس نے یہ اشعار پڑھے :

آپ میری لوٹ مار اور (میرے گھوڑے)
عبید کی لوٹ مار کو عیینہ اور اقرع کے درمیان

مقرر کرتے ہیں حالانکہ بدر اور حابس، عباس بن مرداس
سے کسی معرکہ میں بڑھ نہیں سکتے۔ میں ان

دونوں سے کسی طرح کم نہیں ہوں اور آج
جس کو آپ پست فرما دیں گے وہ کبھی بلند نہیں ہو گا۔

حضرت رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بھی سو اونٹ پورے عطا کر دیئے۔'' اِس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

47 / 13۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضي الله عنه أَنَّ رَجُـلًا جَاءَ إِلٰی رَسُوْلِ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم فَسَأَلَہٗ أَنْ یُعْطِیَہَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وآله وسلم : مَا عِنْدِي شَيئٌ وَلٰـکِنِ ابْتَعْ عَلَيَّ فَإِذَا جَائَنِي شَيئٌ قَضَیْتُہٗ، فَقَالَ عُمَرُ : یَا رَسُوْلَ اﷲِ، قَدْ أَعْطَیْتُہٗ فَمَا کَلَّفَکَ اﷲُ مَا لَا تَقْدِرُ عَلَیْہِ، فَکَرِہَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وآله وسلم قَوْلَ عُمَرَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : یَا رَسُوْلَ اﷲِ، أَنْفِقْ وَلَا تَخَفْ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْـلَالًا، فَتَبَسَّمَ رَسُوْلُ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم وَعُرِفَ الْبِشْرُ فِي وَجْھِہٖ لِقَوْلِ الْأَنْصَارِيِّ ثُمَّ قَالَ : بِھٰذَا أُمِرْتُ کَذَا۔ رَوَاہُ الْمَقْدِسِيُّ وَابْنُ أَبِي الدُّنْیَا۔

13 : أخرجہ المقدسي في الأحادیث المختارۃ، 1 / 181، الرقم : 88، وابن أبي الدنیا في مکارم الأخلاق / 118، الرقم : 390۔

''حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ اُسے کچھ عطا فرمائیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اِس وقت میرے پاس کوئی شے نہیں، لیکن تم میرے نام قرض لکھوا کر خریداری کر لو، جب کوئی چیز آئے گی میں تمہارے اس قرض کو ادا کر دوں گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اﷲ! میں نے اِسے دے دیا ہے۔ اور اﷲ تعالیٰ نے آپ کو اُس چیز کا مکلف نہیں بنایا جس پر آپ قدرت نہیں رکھتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اس بات کو ناپسند فرمایا۔ پھر ایک انصاری صحابی نے عرض کیا : یا رسول اﷲ! خرچ کیجئے اور عرش والے کی طرف سے کسی کمی کا خوف نہ کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبسم فرمایا اور انصاری صحابی کی اِس بات کی وجہ سے خوشی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رخِ زیبا سے جھلک اُٹھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے یہی حکم دیا گیا ہے۔''

اِس حدیث کو امام مقدسی اور ابن ابی الدنیا نے روایت کیا ہے۔

48 / 14۔ عَنْ أَبِي ہُرَیْرَۃَ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم : لَوْ کَانَ لِي مِثْلُ أُحُدٍ ذَہَبًا لَسَرَّنِي أَنْ لَا تَمُرَّ عَلَيَّ ثَـلَاثُ لَیَالٍ، وَعِنْدِي مِنْہٗ شَيئٌ إِلَّا شَیْئًا أَرْصُدُہٗ لِدَیْنٍ۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔

14 : أخرجہ البخاري في الصحیح،کتاب الرقاق، باب قول النبي صلى الله عليه وآله وسلم : ما یسرني أنّ عندي مثل أحد ھذا ذھبًا، 5 / 2368، الرقم : 6080، ومسلم في الصحیح، کتاب الزکاۃ، باب تغلیظ عقوبۃ من لا یؤدي الزکاۃ، 2 / 687، الرقم : 991، وابن ماجہ في السنن، کتاب الزہد، باب في المکثرین، 2 / 1383، الرقم : 4132، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 316، الرقم : 8180، وابن حبان في الصحیح، 8 / 9، الرقم : 3214۔

''حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر میرے پاس اُحد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو تو مجھے یہ بات پسند نہیں کہ اُس پر تین راتیں گزر جائیں اور کچھ بھی اُس میں سے میرے پاس رہے مگر یہ کہ جو میں قرض ادا کرنے کے لیے رکھ چھوڑوں۔'' یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

49 / 15۔ عَنْ أَبِي سَعِیْدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه إِنَّ نَاسًا مِنَ الْأَنْصَارِ سَأَلُوْا رَسُوْلَ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم ، فَأَعْطَاہُمْ، ثُمَّ سَأَلُوْہُ، فَأَعْطَاہُمْ، حَتّٰی نَفِدَ مَا عِنْدَہٗ، فَقَالَ : مَا یَکُوْنُ عِنْدِي مِنْ خَیْرٍ فَلَنْ أَدَّخِرَہٗ عَنْکُمْ، وَمَنْ یَسْتَعْفِفْ یُعِفَّہُ اﷲُ، وَمَنْ یَسْتَغْنِ یُغْنِہِ اﷲُ، وَمَنْ یَتَصَبَّرْ یُصَبِّرْہُ اﷲُ، وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَائً خَیْرًا وَأَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔

15 : أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب الزکاۃ، باب الاستعفاف عن المسألۃ، 2 / 534، الرقم : 1400، ومسلم في الصحیح، کتاب الزکاۃ، باب فضل التعفف والصبر، 2 / 729، الرقم : 1053، والترمذي في السنن، کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء في الصبر، 4 / 373، الرقم : 2024، ومالک في الموطأ، کتاب الصدقۃ، باب، ما جاء في التعغف عن المسألۃ، 2 / 997، الرقم : 1812، والدارمي في السنن، 1 / 474، الرقم : 1646۔

''حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ انصار کے کچھ افراد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُنہیں (مال) عطا فرمایا۔ پھر سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر عطا فرما دیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مال ختم ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میرے پاس جو مال ہوتا ہے میں تم سے بچا کر اُسے جمع نہیں کرتا اور جو سوال کرنے سے بچنے کی کوشش کرے تو اللہ تعالیٰ اُسے بچائے گا اور جو مستغنی رہے اللہ تعالیٰ بھی اُسے غنی کر دے گا۔ جو صبر سے کام لے گا تو اللہ تعالیٰ بھی اُسے صبر دے گا اور کسی کو صبر سے بہتر اور وسیع عطیہ نہیں دیا گیا۔'' یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved