حضور ﷺ کے خصائل مبارکہ

حضور ﷺ کی انگوٹھی مبارک کے نقش کا بیان

بَابٌ فِي وَصْفِ نَقْشِ خَاتَمِہٖ صلى الله عليه وآله وسلم

{حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگوٹھی مبارک کے نقش کا بیان}

134 / 1۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه أَنَّ نَبِيَّ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم أَرَادَ أَنْ یَکْتُبَ إِلٰی رَہْطٍ أَوْ أُنَاسٍ مِنَ الْأَعَاجِمِ، فَقِیْلَ لَہٗ : إِنَّہُمْ لَا یَقْبَلُوْنَ کِتَابًا إِلَّا عَلَیْہِ خَاتَمٌ، فَاتَّخَذَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وآله وسلم خَاتَمًا مِنْ فِضَّۃٍ نَقْشُہُ : مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ، فَکَأَنِّي بِوَبِیْصِ أَوْ بِبَصِیْصِ الْخَاتَمِ فِي إِصْبَعِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وآله وسلم أَوْ فِي کَفِّہٖ۔

مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔

1 : أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب اللباس، باب نقش الخاتم، 5 / 2204، الرقم : 5534، ومسلم في الصحیح، کتاب اللباس والزینۃ، باب في اتخاذ النبي صلى الله عليه وآله وسلم خاتما لما أراد أن یکتب إلی العجم، 3 / 1657، الرقم : (2)2092، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 170، الرقم : 12761، وأبو عوانۃ في المسند، 4 / 275، الرقم : 6744، والبیھقي في شعب الإیمان، 5 / 196، الرقم : 6341۔

''حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارادہ فرمایا کہ عجمیوں کی ایک جماعت یا لوگوں کے لئے خط لکھا جائے، عرض کیا گیا : وہ لوگ خط کو اُس وقت تک قبول نہیں کرتے جب تک اُس پر مہر نہ لگی ہوئی ہو۔ پس حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی تیار کروائی اور اُس پر ''محمد رسول اﷲ'' نقش کروایا۔ (راوی بیان کرتے ہیں کہ) گویا میں اُس انگوٹھی کی چمک دمک کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگشت مبارک یا ہتھیلی میں دیکھ رہا ہوں۔'' یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

135 / 2۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي اللّٰہ عنہما قَالَ : اتَّخَذَ رَسُولُ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ وَکَانَ فِي یَدِہٖ، ثُمَّ کَانَ بَعْدُ فِي یَدِ أَبِي بَکْرٍ، ثُمَّ کَانَ بَعْدُ فِي یَدِ عُمَرَ، ثُمَّ کَانَ بَعْدُ فِي یَدِ عُثْمَانَ حَتّٰی وَقَعَ بَعْدُ فِي بِئْرِ أَرِیْسَ، نَقْشُہٗ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔

2 : أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب اللباس، باب نقش الخاتم، 5 / 2204، الرقم : 5535، ومسلم في الصحیح، کتاب اللباس والزینۃ، باب لبس النبي صلى الله عليه وآله وسلم خاتما من ورق نقشہ محمد رسول اﷲ ولبس الخلفاء لہ من بعدہ، 3 / 1656، الرقم : 2091، والنسائي في السنن الکبری، 5 / 457، الرقم : 9548، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 22، الرقم : 4734۔

''حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی تیار کروائی جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست مبارک میں رہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد حضرت ابو بکرص کے ہاتھ میں، پھر حضرت عمرص کے ہاتھ میں۔ پھر اُن کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی، یہاں تک کہ اِس کے بعد وہ اریس کے کنویں میں گر گئی اُس پر ''مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲ'' نقش تھا۔'' یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

136 / 3۔ عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه أَنَّ أَبَا بَکْرٍ رضي الله عنه لَمَّا اسْتُخْلِفَ بَعَثَہٗ إِلَی الْبَحْرَیْنِ وَکَتَبَ لَہٗ ہٰذَا الْکِتَابَ وَخَتَمَہٗ بِخَاتَمِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وآله وسلم وَکَانَ نَقْشُ الْخَاتَمِ ثَـلَاثَۃَ أَسْطُرٍ : مُحَمَّدٌ سَطْرٌ، وَرَسُوْلُ سَطْرٌ، وَاﷲِ سَطْرٌ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ وَالطَّحَاوِيُّ۔

3 : أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب فرض الخمس، باب ما ذکر من درع النبي صلى الله عليه وآله وسلم وعصاہ وسیفہ وقدحہ وخاتمہ، 3 / 1131، الرقم : 2939، وابن حبان في الصحیح، 4 / 261، الرقم : 1414، والطحاوي في شرح معاني الآثار، 4 / 264، والدارقطني في السنن، 2 / 113، الرقم : 2، والطبراني في المعجم الأوسط، 3 / 49، الرقم : 2438، والبیھقي في السنن الکبری، 4 / 86، الرقم : 7039۔

''حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے تو اُنہوں نے اسے بحرین کی طرف بھیجا اور اسے ایک خط لکھا دیا جس پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مہر لگا دی۔ جس پر تین سطریں کنندہ تھیں۔ ایک سطر میں لفظ محمد۔ ایک سطر میں لفظ رسول اور ایک سطرمیں لفظ اللہ۔'' یعنی :

اﷲ
رسول
محمد

اِس حدیث کو امام بخاری، ابن حبان اور طحاوی نے روایت کیا ہے۔

137 / 4۔ عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وآله وسلم کَانَ خَاتَمُہٗ مِنْ فِضَّۃٍ وَکَانَ فَصُّہٗ مِنْہُ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ۔

4 : أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب اللباس، باب فص الخاتم، 5 / 2203، الرقم : 5532، والترمذي في السنن، کتاب اللباس، باب ما جاء ما یستحب في فص الخاتم، 4 / 227، الرقم : 1740، والنسائي في السنن، کتاب الزینۃ، باب صفۃ الخاتم النبي صلى الله عليه وآله وسلم ، 8 / 173، الرقم : 5198، وأبو داود في السنن، کتاب الخاتم، باب ما جاء في اتخاذ الخاتم، 4 / 88، الرقم : 4217، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 266، الرقم : 13828۔

''حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگوٹھی مبارک چاندی کی تھی اور اُس میں چاندی کا نگینہ بھی تھا۔''

اِس حدیث کو امام بخاری، ترمذی، نسائی اور ابو داود نے روایت کیا ہے۔

138 / 5۔ عَنْ عَلِيٍّ رضي الله عنه قَالَ : أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وآله وسلم کَانَ یَلْبَسُ خَاتَمَہٗ فِي یَمِیْنِہٖ۔ رَوَاہُ النَّسَائِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ فِي الشَّمَائِلِ وَابْنُ حِبَّانَ۔

5 : أخرجہ النسائي في السنن، کتاب الزینۃ، باب موضع الخاتم من الید، 8 / 174، الرقم : 5203، والترمذي في الشمائل المحمدیۃ / 92، الرقم : 98، وابن حبان في الصحیح، 12 / 311، الرقم : 5501، والطبراني في المعجم الکبیر عن ابن عباس، 11 / 233، 305، الرقم : 11589، 11815، وأبو یعلی في المسند عن أنس، 5 / 427، الرقم : 3119۔

''حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے داہنے ہاتھ مبارک میں انگوٹھی پہنتے تھے۔''

اِس حدیث کو امام نسائی، ترمذی نے الشمائل المحمدیہ میں، اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔

139 / 6۔ عَنْ أَبِي بُرْدَۃَ رضي الله عنه قَالَ : سَمِعْتُ عَلِیًّا رضي الله عنه یَقُوْلُ : نَہَانِي نَبِيُّ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم عَنِ الْخَاتَمِ فِي السَّبَّابَۃِ وَالْوُسْطٰی۔ رَوَاہُ النَّسَائِيُّ وَأَحْمَدُ۔

6 : أخرجہ النسائي في السنن، کتاب الزینۃ، باب موضع الخاتم، 8 / 194، الرقم : 5286، وأیضًا في السنن الکبری، 5 / 455، الرقم : 9540، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 138، الرقم : 1168، وابن حبان في الصحیح، 12 / 312، الرقم : 5502، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 5 / 207، الرقم : 25283، وأبو یعلی في المسند، 1 / 332، الرقم : 418۔

''حضرت ابو بردہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا۔'' اِس حدیث کو امام نسائی اور احمد نے روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2024 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved