حضور ﷺ کے خصائص دنیوی کا بیان

فرشتوں کا حضور ﷺ کی پشت پیچھے چلنے اور غزوہ بدر و حنین میں آپ کی خاطر جہاد کرنے کا بیان

بَابٌ فِي أَنَّ الْمَـلَائِکَةَ کَانَتْ تَمْشِي خَلْفَ ظَهْرِه وَقَاتَلَتْ لَه صلی الله عليه وآله وسلم فِي غَزْوَةِ بَدْرٍ وَحُنَيْنٍ

{فرشتوں کا حضور ﷺ کی پشت پیچھے چلنے اور غزوہ بدر و حنین میں آپ ﷺ کی خاطر جہاد کرنے کا بیان}

158 / 1. عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رضي الله عنه قَالَ: رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم يَوْمَ أُحُدٍ، وَمَعَه رَجُـلَانِ يُقَاتِـلَانِ عَنْهُ، عَلَيْهِمَا ثِيَابٌ بِيْضٌ، کَأَشَدِّ الْقِتَالِ، مَا رَأَيْتُهُمَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ يَعْنِي جِبْرِيْلَ وَمِيْکَائِيْلَ عليهما السلام.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

1: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب المغازي، باب {إِذَ هَمَّتْ طَائِفَتَانِِ مِنْکُمْ أَنْ تَفْشَلاَ وَاللّٰهُ وَلِيُهُمَا وَعَلَی اللهِ فَلْيَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ}، ]آل عمران، 3 / 122[، 4 / 1489، الرقم: 3828، وأيضًا في کتاب اللباس، باب الثياب البيض، 5 / 2192، الرقم: 5488، ومسلم في الصحيح، کتاب الفضائل، باب في قتال جبريل وميکائيل عن النبي صلی الله عليه وآله وسلم يوم أحد، 4 / 1802، الرقم: 2306، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 171، الرقم: 1468، والشاشي في المسند، 1 / 185، الرقم: 133، والأصبهاني في دلائل النبوة، 1 / 51، الرقم: 34، والخطيب التبريزي في مشکاة المصابيح، 2 / 382، الرقم: 7575، والذهبي في سير أعلام النبلاء، 1 / 107.

’’حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جنگ اُحد کے روز میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دو ایسے آدمیوں کو دیکھا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب سے لڑ رہے تھے۔ اُنہوں نے سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے اور بڑی بہادری سے بر سرِ پیکار تھے۔ میں نے اُنہیں اِس سے پہلے دیکھا تھا نہ بعد میں، یعنی وہ جبرائیل و میکائیل علیہما السلام تھے۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

159 / 2. عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رضي الله عنه قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ يَوْمَ أُحُدٍ عَنْ يَمِيْنِ رَسُوْلِ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم وَعَنْ يَسَارِه رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا ثِيَابٌ بِيْضٌ يُقَاتـِلَانِ عَنْهُ کَأَشَدِّ الْقِتَالِ مَا رَأَيْتُهُمَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَالشَّاشِيُّ.

2: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الفضائل، باب في قتال جبريل وميکائيل عليهما السلام عن النبي صلی الله عليه وآله وسلم يوم أحد، 4 / 1802، الرقم: (47)2306، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 171، الرقم: 1468، 1472، والشاشي في المسند، 1 / 185، الرقم: 133، والأصبهاني في دلائل النبوة، 1 / 51، الرقم: 133، والخطيب التبريزي في مشکاة المصابيح، 2 / 382، الرقم: 7575، والذهبي في سير أعلام النبلاء، 1 / 107.

’’حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے جنگ اُحد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دائیں اور بائیں سفید کپڑوں میں ملبوس دو آدمیوں کو دیکھا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے بہت شدت کے ساتھ جنگ کر رہے تھے۔ میں نے اُنہیں اِس سے پہلے اور بعد میں پھر کبھی نہیں دیکھا۔‘‘

اِسے امام مسلم، احمد اور شاشی نے روایت کیا ہے۔

160 / 3. عَنْ رِفاَعَةَ بْنِ أَبِي رَافِعٍ رضي الله عنه وَکَانَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ قَالَ: جَاءَ جِبْرِيْلُ إِلَی النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم وَقَالَ: مَا تَعُدُّوْنَ أَهْلَ بَدْرٍ فِيْکُمْ؟ قَالَ: مِنْ أَفْضَلِ الْمُسْلِمِيْنَ. أَوْ کَلِمَةً نَحْوَهَا قَالَ: وَکَذَالِکَ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْمَـلَائِکَةِ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَأَحْمَدُ وَلَفْظُهُمَا فَقَالَ: مَا تَعُدُّوْنَ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا فِيْکُمْ؟ قَالُوْا: خِيَارَنَا، قَالَ: کَذَالِکَ هُمْ عِنْدَنَا، خِيَارُ الْمَـلَائِکَةِ.

3: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب المغازي، باب شهود الملائکة بدرا، 4 / 1467، الرقم: 3771، وابن ماجه في السنن، المقدمة، باب فضل أهل بدر، 1 / 56، الرقم: 160، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 465، وابن أبي شيبة في المصنف، 7 / 364، الرقم: 36725. 36729، 36731، والخطيب التبريزي في مشکاة المصابيح، 2 / 451، الرقم: 6226، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 2 / 291، والکناني في مصباح الزجاجة، 1 / 24، الرقم: 58.

’’حضرت رفاعہ بن ابی رافع رضی اللہ عنہ جو کہ بدری صحابہ میں سے ہیں بیان فرماتے ہیں کہ حضرت جبرائیل نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر دریافت کیا: (یا رسول اللہ!) آپ غزوئہ بدر میں شرکت کرنے والے (صحابہ) کو کیسا سمجھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اُنہیں مسلمانوں میں سب سے افضل شمار کرتا ہوں یا ایسا ہی کوئی دوسرا کلمہ استعمال فرمایا، حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: غزوئہ بدر میں شمولیت کرنے والے فرشتے بھی دوسرے فرشتوں میں اِسی طرح ہیں۔‘‘

اِسے امام بخاری، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے۔

امام ابن ماجہ اور احمد کے الفاظ یوں ہیں: ’’جبرائیل امین علیہ السلام نے دریافت کیا: (یا رسول اللہ!) آپ غزوئہ بدر میں شرکت کرنے والوں کو کیسا سمجھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ہمارے بہترین لوگوں میں سے ہیں، حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: اِسی طرح وہ فرشتے (جنہوں نے غزوئہ بدر میں شرکت کی) ہمارے نزدیک بہترین فرشتوں میں سے ہیں۔‘‘

161 / 4. عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم: مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا لَه وَزِيْرَانِ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ وَوَزِيْرَانِ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ، فَأَمَّا وَزِيْرَايَ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ فَجِبْرِيْلُ وَمِيْکَائِيْلُ، وَأَمَّا وَزِيْرَايَ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ فَأَبُوْ بَکْرٍ وَعُمَرُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْحَاکِمُ.

وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ. وَقَالَ الْحَاکِمُ: هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.

4: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب في مناقب أبي بکر وعمر رضي الله عنهما کليهما، 5 / 616، الرقم: 3680، والحاکم في المستدرک، 2 / 290، الرقم: 3047، وابن الجعد في المسند، 1 / 298، الرقم: 2026، والديلمي في مسند الفردوس، 4 / 382، الرقم: 7111، والمبارکفوري في تحفة الأحوذي، 10 / 114.

’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کے لیے دو وزیر آسمان والوں میں سے اور دو وزیر زمین والوں میں سے ہوتے ہیں۔ سو آسمان والوں میں سے میرے دو وزیر، جبرائیل و میکائیل علیھما السلام ہیں اور زمین والوں میں سے میرے دو وزیر ابو بکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) ہیں۔‘‘

اِسے امام ترمذی اور حاکم نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن ہے۔ اور امام حاکم نے بھی فرمایا: اِس حدیث کی سند صحیح ہے۔

162 / 5. عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضي الله عنهما قَالَ: کَانَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم إِذَا مَشَی مَشَی أَصْحَابُه أَمَامَه وَتَرَکُوْا ظَهْرَه لِلْمَلَائِکَةِ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه.

وَقَالَ الْکِنَانِيُّ: هٰذَا إِسْنَادٌ صَحِيْحٌ رِجَالُه ثِقَاتٌ. وَقَالَ الْمُنَاوِيُّ: قَالَ أَبُوْ نُعَيْمٍ: لِأَنَّ الْمَلَائِکَةَ يَحْرُسُوْنَه مِنْ أَعْدَائِه.

5: أخرجه ابن ماجه في السن، المقدمة، باب من کره أن يوطأ عقباه، 1 / 90، الرقم: 246، والکناني في مصباح الزجاجة، 1 / 36، الرقم: 97، والمناوي في فيض القدير، 5 / 161، والسيوطي في شرحه علی سنن ابن ماجه، 1 / 22، الرقم: 244.

’’حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب گھر سے باہر تشریف لے جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے چلتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت مبارک کی سمت فرشتوں کے لئے چھوڑ دیتے تھے (کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے پیچھے چلتے تھے)۔‘‘ اِسے امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

امام کنانی نے فرمایا: اِس حدیث کی سند صحیح ہے اور اِس کے رجال ثقہ ہیں۔ اور امام مناوی نے فرمایا: امام ابو نعیم نے فرمایا: فرشتے دشمنوں سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت کیا کرتے تھے۔

163 / 6. عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضي الله عنهما قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: امْشَوْا أَمَامِي وَخَلُّوْا ظَهْرِي لِلْمَـلَائِکَةِ.

رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ وَأَحْمَدُ وَأَبُوْ نُعَيْمٍ. وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ: رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْکَبِيْرِ وَرِجَالُه ثِقَاتٌ وَرَوَاهُ مِنْ طَرِيْقٍ آخَرَ نَحْوَ رِوَايَةِ أَحْمَدَ الْمُتَقَدِّمَةِ وَرَوَاهُ أَيْضًا بِإِسْنَادٍ رِجَالُه رِجَالُ الصَّحِيْحِ.

6: أخرجه الدارمي في السنن، باب ما أکرم به النبي صلی الله عليه وآله وسلم في برکة طعامه، 1 / 35. 37، الرقم: 45، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 397. 398، الرقم: 15316، وأبو نعيم في حلية الأولياء، 7 / 117، والهيثمي في مجمع الزوائد، 4 / 138، وأبو المحاسن في معتصر المختصر، 2 / 306، والحسيني في البيان والتعريف، 1 / 170، الرقم: 445، والکناني في مصباح الزجاجة، 1 / 36، الرقم: 97.

’’حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک غزوہ کے لئے نکلے تو اپنے صحابہ کرام سے فرمایا: میرے آگے آگے چلو اور میری پشت کو ملائکہ کے لئے چھوڑ دو۔‘‘

اِسے امام دارمی، احمد اور ابو نعیم نے روایت کیا ہے۔ اور امام ہیثمی نے فرمایا: اِس حدیث کو امام طبرانی نے المعجم الکبير میں روایت کیا ہے۔ ایک اور طریق سے امام احمد کی روایت کی طرز پر بیان کیا ہے اور ایک ایسی سند کے ساتھ بھی روایت کیا ہے جس کے رجال صحیح حدیث کے رجال ہیں۔

164 / 7. عَنْ جَابِرٍ رضي الله عنه قَالَ: کَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم يَمْشُوْنَ أَمَامَه إِذَا خَرَجَ وَيَدَعُوْنَ ظَهْرَه لِلْمَـلَائِکَةِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ.

7: أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 3 / 302، الرقم: 14274، وابن حبان في الصحيح، 14 / 218، الرقم: 6312، وابن الجوزي في صفة الصفوة، 1 / 186، والهيثمي في موارد الظمآن، 1 / 514، الرقم: 2099، والمناوي في فيض القدير، 5 / 161.

’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب گھر سے باہر تشریف لے جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ آپ کے سامنے چلتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت مبارک کو فرشتوں کے لئے چھوڑ دیتے تھے۔ (قرشتے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے پیچھے چلتے تھے)۔‘‘ اِسے امام احمد اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔

165 / 8. عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضي الله عنهما قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم إِذَا خَرَجَ مَشَوْا بَيْنَ يَدَيْهِ وَخَلُّوْا ظَهْرَه لِلْمَـلَائِکَةِ.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالْبَيْهَقِيُّ. وَقَالَ الْحَاکِمُ: هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.

8: أخرجه الحاکم في المستدرک، کتاب تفسير سورة السجدة، 2 / 446، الرقم: 3544، والبيهقي في کتاب الزهد الکبير، 2 / 146، الرقم: 300، والخطابي في غريب الحديث، 1 / 599.

’’حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب گھر سے باہر تشریف لے جاتے تو صحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے چلتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت مبارک کو فرشتوں کے لئے چھوڑ دیتے۔‘‘

اِسے امام حاکم اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا: یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔

166 / 9. عَنْ جَابِرٍ رضي الله عنه قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِه مَشَيْنَا قُدَّامَه وَتَرَکْنَا ظَهْرَه لِلْمَـلَائِکَةِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْحَاکِمُ.

9: أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 3 / 332، الرقم: 14596، والحاکم في المستدرک، 4 / 313، الرقم: 7752.

’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اپنے گھر سے نکلتے تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے آگے چلتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت مبارک کو فرشتوں کے لئے چھوڑ دیتے۔‘‘ اِسے امام احمد اور حاکم نے روایت کیا ہے۔

167 / 10. عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضي الله عنهما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم: لَا تَمْشُوْا بَيْنَ يَدَيَّ وَلَا خَلْفِي فَإِنَّ هٰذَا مُقَامُ الْمَـلَائِکَةِ.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ، وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ عَلٰی شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ.

10: أخرجه الحاکم في المستدرک، کتاب الأدب، 4 / 313، الرقم: 7753، والخطيب البغدادي في تاريخ بغداد، 5 / 102، الرقم: 2609.

’’حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے آگے اور پیچھے نہ چلا کرو کیونکہ یہ فرشتوں (کے چلنے) کی جگہ ہے۔‘‘

اِسے امام حاکم نے روایت کیا اور فرمایا: یہ حدیث بخاری و مسلم کی شرائط پر صحیح ہے۔

Copyrights © 2021 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved