Arbain: Tafseel e Iman ka Bayan

ایمان باللہ کی معرفت اور اس کے واجبات

مَعْرِفَةُ الإِيْمَانِ بِاﷲِ تَعَالٰی وَ وَاجِبَاتُهَا

{ایمان باللہ کی معرفت اور اُس کے واجبات}

الْقُرْآن

  1. اَﷲُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط مَثَلُ نُوْرِهِ کَمِشْکٰوةٍ فِيْهَا مِصْبَاحٌ ط اَلْمِصْبَاحُ فِيْ زُجَاجَةٍ ط اَلزُّجَاجَةُ کَاَنَّهَا کَوْکَبٌ دُرِّیٌّ يُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰـرَکَةٍ زَيْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِيَّةٍ وَّلَا غَرْبِيَّةٍ يَّکَادُ زَيْتُهَا يُضِٓيْئُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ ط نُوْرٌ عَلٰی نُوْرٍ ط يَهْدِی اﷲُ لِنُوْرِهِ مَنْ يَّشَآءُ ط وَيَضْرِبُ اﷲُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ ط وَاﷲُ بِکُلِّ شَيْئٍ عَلِيْمٌo

(النور، 24/ 35)

اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے اس کے نور کی مثال (جو نورِ محمدی کی شکل میں دنیا میں روشن ہے) اس طاق (نما سینۂ اقدس) جیسی ہے جس میں چراغِ (نبوت روشن) ہے؛ (وہ) چراغ، فانوس (قلبِ محمدی) میں رکھا ہے۔ (یہ) فانوس (نورِ الٰہی کے پَرتو سے اس قدر منور ہے) گویا ایک درخشندہ ستارہ ہے (یہ چراغِ نبوت) جو زیتون کے مبارک درخت سے (یعنی عالم قدس کے بابرکت رابطہ وحی سے یا انبیاء و رسل ہی کے مبارک شجرۂ نبوت سے) روشن ہوا ہے نہ (فقط) شرقی ہے اور نہ غربی (بلکہ اپنے فیضِ نور کی وسعت میں عالمگیر ہے)۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کا تیل (خود ہی) چمک رہا ہے اگرچہ ابھی اسے (وحی ربّانی اور معجزات آسمانی کی) آگ نے چھوا بھی نہیں (وہ) نور کے اوپر نور ہے (یعنی نورِ وجود پر نورِ نبوت گویا وہ ذات دو ہرے نور کا پیکر ہے)، اللہ جسے چاہتا ہے اپنے نور (کی معرفت) تک پہنچا دیتا ہے، اور اللہ لوگوں (کی ہدایت) کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے، اور اللہ ہر چیز سے خوب آگاہ ہے۔

  1. فَمَنْ يَّکْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَيُؤْمِنْ م بِاﷲِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقیٰ لَا انْفِصَامَ لَهَا ط وَاﷲُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌo

(البقرة، 2/ 256)

سو جو کوئی معبودانِ باطلہ کا انکار کر دے اور اﷲ پر ایمان لے آئے تو اس نے ایک ایسا مضبو ط حلقہ تھام لیا جس کے لیے ٹوٹنا (ممکن) نہیں، اور اﷲ خوب سننے والا جاننے والا ہے۔

  1. وَاِذَا سَمِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَی الرَّسُوْلِ تَرٰٓی اَعْيُنَهُمْ تَفِيْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ ج يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اٰمَنَّا فَاکْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِيْنَo

(المائدة، 5/ 83)

اور (یہی وجہ ہے کہ ان میں سے بعض سچے عیسائی) جب اس (قرآن) کو سنتے ہیں جو رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف اتارا گیا ہے تو آپ ان کی آنکھوں کو اشک ریز دیکھتے ہیں۔ (یہ آنسوؤں کا چھلکنا) اس حق کے باعث (ہے) جس کی انہیں معرفت (نصیب) ہوگئی ہے۔ (ساتھ یہ) عرض کرتے ہیں: اے ہمارے رب! ہم (تیرے بھیجے ہوئے حق پر) ایمان لے آئے ہیں سو تو ہمیں (بھی حق کی) گواہی دینے والوں کے ساتھ لکھ لے۔

  1. اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اﷲُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلٰٓئِکَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِيْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَo

(حمٓ السجدة، 41/ 30)

بے شک جِن لوگوں نے کہا ہمارا رب اﷲ ہے، پھر وہ (اِس پر مضبوطی سے) قائم ہوگئے، تو اُن پر فرشتے اترتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ تم خوف نہ کرو اور نہ غم کرو اور تم جنت کی خوشیاں مناؤ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔

الْحَدِيْث

  1. عَنْ أَبِي ذَرٍّ رضی الله عنه ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم : أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: إِيْمَانٌ بِاﷲِ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيْلِهِ. قُلْتُ: فَأَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: أَعْـلَاهَا ثَمَنًا وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا. قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ؟ قَالَ: تُعِيْنُ ضَايِعًا أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ. قَالَ: فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ؟ قَالَ: تَدَعُ النَّاسَ مِنَ الشَّرِّ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تُصَدِّقُ بِهَا عَلٰی نَفْسِکَ.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

أخرجه البخاري في الصحيح،کتاب العتق، باب أي الرقاب أفضل، 2/ 891، الرقم/ 2382، ومسلم في الصحيح،کتاب الإيمان، باب بيان کون الإيمان باﷲ تعالی أفضل الأعمال،1/ 89، الرقم/ (136) 84، وأحمد بن حنبل في المسند، 2/ 388، الرقم/ 9026، وأيضًا، 5/ 150، الرقم/ 21369.

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ عالیہ میں سوال کیا: (یا رسول اﷲ!) کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور راہِ خدا میں جہاد کرنا۔ میں نے عرض کیا: (یا رسول اﷲ!) کون سا غلام آزاد کرنا افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو قیمت میں سب سے زیادہ اور اپنے مالک کا پسندیدہ ترین ہو۔ میں نے عرض کیا: (یا رسول اﷲ!) اگر میں ایسا نہ کر سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو کسی غریب عیال دار کی مدد کرو یا کسی بے ہنر کا کام سنوار دو۔ میں نے عرض کیا: (یا رسول اﷲ!) اگر میں یہ بھی نہ کر سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو لوگوں کو (اپنے) شر اور ایذاء سے محفوظ رکھو، بے شک یہ بھی ایک صدقہ ہے جو تم اپنے آپ پر کرو گے۔

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

وَفِي رِوَايَةِ مَالِکِ بْنِ مَرْثَدٍ الزَّمَانِيِّ عَنْ أَبِيْهِ، قَالَ: قَالَ أَبُوْ ذَرٍّ: سَأَلْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم ، مَاذَا يُنَجِّي الْعَبْدَ مِنَ النَّارِ؟ فَقَالَ: اَلإِيْمَانُ بِاﷲِ، قَالَ: قُلْتُ: حَسْبِيَ اﷲُ أَوْ مَعَ الإِيْمَانِ عَمَلٌ؟ فَقَالَ: تَرْضَخُ مِمَّا رَزَقَکَ اﷲُ أَوْ يَرْضَخُ مِمَّا رَزَقَهُ اﷲُ.

رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَالطَّبَرَانِيُّ.

أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف، 6/ 161، الرقم/ 30336، والطبراني في المعجم الکبير، 2/ 156، 1650، وذکره الهيثمي في مجمع الزوائد، 3/ 135، وابن حجر العسقلاني في المطالب العالية، 12/ 320.

ایک روایت میں مالک بن مرثد زمانی کے والد بیان کرتے ہیں: حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: (یارسول اللہ!) کون سا عمل بندے کو دوزخ کی آگ سے بچا سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا۔ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے عرض کیا: یارسول اللہ! کیا میرے لیے اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا ہی کافی ہے یا ایمان کے ساتھ کسی عمل کی بھی ضرورت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے جو کچھ تجھے عطا فرمایا ہے، اس میں سے ضرورت مندوں کے لیے بھی کچھ خرچ کر؛ یا فرمایا: جو کچھ اللہ تعالیٰ نے بندے کو عطا کیا ہے وہ اس میں سے کچھ خرچ کرے۔

اِسے امام ابن ابی شیبہ اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔

  1. عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ أَبِي رَافِعٍ، يَقُوْلُ: إِنَّ رَجُلاً حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُولُ حِيْنَ سَأَلَهُ مَا الْإِيْمَانُ يَا رَسُوْلَ اﷲِ؟ قَالَ: اَلْإِيْمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاﷲِ وَرَسُوْلِهِ، ثُمَّ سَأَلَهُ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ مِثْلَ ذٰلِکَ، ثُمَّ سَأَلَهُ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: أَتُحِبُّ أَنْ أُخْبِرَکَ مَا صَرِيْحُ الْإِيْمَانِ؟ قَالَ: ذٰلِکَ أَرَدْتُ، قَالَ: إِنَّ صَرِيْحَ الْإِيْمَانِ إِذَا أَسَأْتَ أَوْ ظَلَمْتَ أَحَدًا عَبْدَکَ أَوْ أَمَتَکَ أَوْ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ تَصَدَّقْتَ وَصُمْتَ، وَإِذَا أَحْسَنْتَ اسْتَبْشَرْتَ.

رَوَاهُ الْحَارِثُ وَذَکَرَهُ الْعَسْقَلَانِيُّ.

أخرجه الحارث في المسند (زوائد الهيثمي)، 1/ 156، الرقم/ 10، وذکره العسقلاني في المطالب العالية، 12/ 385، الرقم/ 2917.

حضرت ابو الخیر نے حضرت ابو رافع کو فرماتے ہوئے سنا کہ ایک شخص نے انہیں بتایا کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک سوال کے جواب میں کہ یارسول اللہ! ایمان کیا ہے؟ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ایمان یہ ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لے آؤ۔ پھر اس نے دوسری مرتبہ پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی ارشاد فرمایا، پھر اس نے تیسری مرتبہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں بتاؤں، خالص ایمان کیا ہے؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں میں نے (یہی پوچھنے کا) ارادہ کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خالص ایمان (کی نشانی) یہ ہے کہ جب تم سے کوئی برا کام ہو جائے یا اپنے کسی غلام یا لونڈی یا کسی دوسرے شخص پر ظلم کر بیٹھو، تو صدقہ کرو اور روزہ رکھو اور جب کوئی اچھا کام کرو، تو خوشی محسوس کرو۔

اسے امام حارث نے روایت اور حافظ عسقلانی نے بیان کیا ہے۔

  1. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ سَـلَامٍ رضی الله عنه قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيْرُ مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم إِذْ سَمِعَ الْقَوْمَ وَهُمْ يَقُوْلُوْنَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ يَا رَسُوْلَ اﷲِ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : إِيْمَانٌ بِاﷲِ وَرَسُوْلِهِ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيْلِ اﷲِ، وَحَجٌّ مَبْرُوْرٌ. ثُمَّ سَمِعَ نِدَاءً فِي الْوَادِي يَقُوْلُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اﷲِ. فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : وَأَنَا أَشْهَدُ وَأَشْهَدُ أَنْ لَا يَشْهَدَ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا بَرِءَ مِنَ الشِّرْکِ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَنْصُوْرٍ وَالْمَقْدِسِيُّ. وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ: رِجَالُ أَحْمَدَ مُوَثَّقُوْنَ.

أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 5/ 451، الرقم/ 23834، وابن منصور في السنن، 2/ 165، الرقم/ 2338، والمقدسي في الأحاديث المختارة، 9/ 442، الرقم/ 416، وذکره الهيثمي في مجمع الزوائد، 1/ 59، وأيضًا في موارد الظمآن، 1/ 383، الرقم/ 1590.

حضرت عبد اﷲ بن سلام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے بیان فرمایا: ایک مرتبہ ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ (ایک وادی سے) گزر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ لوگوں کی آواز سنی جو یہ کہہ رہے تھے: یا رسول اﷲ! سب سے افضل عمل کون سا ہے؟ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پر (صدق دل سے) ایمان لانا، راہِ خدا میں جہاد کرنا، اور حج مبرور کی ادائیگی (یعنی ایسا حج جس میں گناہوں سے کامل اِجتناب کیا گیا ہو)۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وادی میں ایک نداء سنی (کہ کوئی) کہہ رہا تھا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اﷲ تعالیٰ کے (سچے) رسول ہیں۔ تو (یہ سن کر) رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور میں بھی یہی گواہی دیتا ہوں اور یہ گواہی بھی دیتا ہوں کہ جس کسی نے بھی (وحدانیتِ الٰہی کی) گواہی دی وہ شرک (کی نجاست) سے پاک (و محفوظ) ہو گیا۔

اِسے امام اَحمد، ابن منصور اور مقدسی نے روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے فرمایا: امام اَحمد کے رجال ثقہ ہیں۔

وَفِي رِوَايَةِ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ: حَدَّثُوْنِي عَنْ أَبِي السَّوْدََاءِ، عَنِ ابْنِ سَابِطٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : أَفْضَلُکُمْ أفْضَلُکُمْ مَعْرِفَةً. قَالَ سُفْيَانُ: أَفْضَلُکُمْ مَعْرِفَةً أَفْضَلُکُمْ يَقِيْنًا.

ذَکَرَهُ أَبُوْ سَعْدٍ النَّيْسَابُوْرِيُّ فِي التَّهْذِيْبِ.

أبو سعد النيسابوري في تهذيب الأسرار/ 43.

حضرت سفیان بن عیینہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کہ انہوں نے روایت کیا ابو سوداء سے، انہوں نے ابن ساب ط سے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو معرفتِ الٰہی (کے حصول) میں تم سب سے بہتر ہے۔ حضرت سفیان بن عیینہ نے فرمایا: اور معرفتِ الٰہی میں تم سب سے افضل وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ یقین کی دولت سے سرفراز ہے۔

اسے امام ابو سعد نیشاپوری نے ’تہذیب الاسرار‘ میں بیان کیا ہے۔

مَا رُوِيَ عَنِ الأَئِمَّةِ مِنَ السَّلَفِ الصَّالِحِيْنَ

قَالَ الإِمَامُ أَبُوْ سَعْدٍ النَّيْسَابُورِيُّ: أَوْحَی اﷲُ تَعَالٰی إِلٰی دَاوُدَ عليه السلام فَقَالَ: يَا دَاوُدُ، اَعْرِفْنِي وَاعْرِفْ نَفْسَکَ. قَالَ: يَا رَبِّ، عَرَفْتُکَ بِأَنَّکَ قَادِرٌ عَلٰی کُلِّ شيْئٍ، وَعَرَفْتُ نَفْسِي بِأَنِّي عَاجِزٌ عَنْ کُلِّ شَيْئٍ، فَقَالَ اﷲُ تَعَالٰی: اَ لْآنَ تَکَامَلَتْ فِيْکَ مَعْرِفَةُ أَهْلِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ.

ذَکَرَهُ أَبُوْ سَعْدٍ النَّيْسَابُوْرِيُّ فِي التَّهْذِيْبِ.

أبو سعد النيسابوري في تهذيب الأسرار/ 53، والرفاعي في حالة أهل الحقيقة مع اﷲ/ 15.

امام ابو سعد نیشاپوری فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی: اے داؤد! تو مجھے پہچان اور اپنے نفس کو پہچان۔ آپ علیہ السلام نے عرض کیا: اے میرے رب! میں نے تجھے پہچان لیا کہ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے، اور میں نے اپنے نفس کو (بھی) پہچان لیا کہ بے شک میں ہر چیز سے عاجز ہوں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اب تجھ میں اہلِ آسمان اور اہل زمین کی معرفت مکمل ہوگئی ہے۔

اسے امام ابو سعد نیشاپوری نے ’تہذیب الاسرار‘ میں بیان کیا ہے۔

سُئِلَ الإِمَامُ جَعْفَرُ الصَّادِقُ رضی الله عنه : هَلْ رَأَيْتَ اﷲَ تَعَالٰی؟ قَالَ: لَمْ أَکُنْ لِأَعْبُدَ رَبًّا لَمْ أَرَهُ، قِيْلَ لَهُ: کَيْفَ رَأَيْتَهُ وَهُوَ لَا تُدْرِکُهُ اْلأَبْصَارُ، قَالَ: لَمْ تَرَهُ الْأَبْصَارُ بِمُشَاهَدَةِ الْعِيَانِ، وَلٰـکِنْ رَأَتْهُ الْقُلُوْبُ بِحَقَائِقِ الإِيْمَانِ، لَا يُحَسُّ بِالْحَوَاسِ، وَلَا يُقَاسُ بِالنَّاسِ.

ذَکَرَهُ أَبُوْ سَعْدٍ النَّيْسَابُوْرِيُّ فِي التَّهْذِيْبِ.

أبو سعد النيسابوري في تهذيب الأسرار/ 46.

امام جعفر الصادق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں عرض کیا گیا: کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے؟ انہوں نے فرمایا: میں ایسا (شخص) نہیں کہ اس رب کی عبادت کروں جس کو میں نے دیکھا (ہی) نہ ہو، ان سے کہا گیا: آپ نے اسے کیسے دیکھا جبکہ آنکھیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں۔ آپ نے فرمایا: اسے ظاہری آنکھوں سے نہیں بلکہ دلوں نے حقائقِ ایمان کے ذریعے اسے دیکھا ہے (اس لیے کہ) وہ حواس سے (بھی) محسوس نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اسے لوگوں پر قیاس کیا جاسکتا ہے۔

اسے امام ابو سعد نیشاپوری نے ’تہذیب الاسرار‘ میں بیان کیا ہے۔

قَالَ الإِمَامُ ذُو النُّوْنِ الْمِصْرِيُّ: اَلْمَعْرِفَةُ عَلٰی ثَـلَاثَةِ أَوْجُہٍ، أَوَّلُهَا مَعْرِفَةُ التَّوْحِيْدِ، وَهِيَ لِعَامَّةِ الْمُؤْمِنِيْنَ. وَالثَّانِي: مَعْرِفَةُ الْحُجَّةِ وَالْبَيَانِ، وَهِيَ لِلْعُلْمَاءِ وَالْحُکَمَاءِ وَالْبُلَغَاءِ. وَالثَّالِثُ: مَعْرِفَةُ صِفَاتِ الْوَحْدَانِيَّةِ، وَهِيَ لِأَهْلِ وِلَايَةِ اﷲِ ل الَّذِيْنَ يُشَاهِدُوْنَ اﷲَ بِقُلُوْبِهِمْ، فَأَظْهَرَ اﷲُ تَعَالٰی بِقُلُوْبِهِمْ لَهُمْ مَا لَمْ يُظْهِرْ لِأَحَدٍ مِنَ الْعَالَمِيْنَ.

ذَکَرَهُ أَبُوْ سَعْدٍ النَّيْسَابُوْرِيُّ فِي التَّهْذِيْبِ.

أبو سعد النيسابوري في تهذيب الأسرار/ 48.

امام ذو النون المصری فرماتے ہیں: معرفت تین طرح کی ہے: پہلی توحید کی معرفت؛ یہ عام مومنوں کی معرفت ہے۔ دوسری دلیل اور بیان کی معرفت؛ یہ معرفت علماء، حکماء اور صاحبان بلاغت کے لیے ہے۔ تیسری صفاتِ وحدانیت کی معرفت؛ یہ معرفت اللہ تعالیٰ کی ولایت کے اَہل (ان) لوگوں کے لیے ہے جو اپنے (دلوں کے نور) سے اللہ تعالیٰ کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ (چنانچہ) اللہ تعالیٰ ان کے لیے ان کے دلوں کے (نور کے) ذریعے وہ کچھ ظاہر کر دیتا ہے جو اس نے تمام جہانوں میں کسی کے لیے ظاہر نہیں کیا ہوتا۔

اسے امام ابو سعد نیشاپوری نے ’تہذیب الاسرار‘ میں بیان کیا ہے۔

سُئِلَ الإِمَامُ ذُو النُّوْنِ عَنْ حَقِيْقَةِ الْمَعْرِفَةِ، فَقَالَ: تَخْلِيَةُ السِّرِّ عَنْ کُلِّ شَيْئٍ أَرَادَهُ، وَتَرْکُ مَا عَلَيْهِ الْعَادَةُ، وَسُکُوْنُ الْقَلْبِ إِلَی اﷲِ ل بِلَا عَلَاقَةٍ، وَتَرْکِ الْاِلْتِفَاتِ إِلٰی مَا سِوَاهُ.

ذَکَرَهُ أَبُوْ سَعْدٍ النَّيْسَابُوْرِيُّ فِي التَّهْذِيْبِ.

أبو سعد النيسابوري في تهذيب الأسرار/ 46.

امام ذوالنون المصری سے حقیقتِ معرفت کے بارے سوال کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: (لطیفۂ) سِر کو اﷲ تعالیٰ کے سوا ہر شے کی طلب سے خالی کردینا، (اس کے ساتھ ساتھ) اپنی ہر (بری) عادت کو ترک کر دینا اور دل کا بغیر کسی لگاؤ (یعنی طلب و لالچ) کے اللہ تعالیٰ کی طرف سکون پانا، اور غیر اﷲ کی طرف (کلیتاً) اِلتفات کو ترک کر دینا ہے۔

اسے امام ابو سعد نیشاپوری نے ’تہذیب الاسرار‘ میں بیان کیا ہے۔

سُئِلَ أَبُوْ بَکْرٍ الزَّاهِدُ عَنِ الْمَعْرِفَةِ، فَقَالَ: الْمَعْرِفَةُ اسْمٌ وَمَعْنَاهَا وُجُوْدُ تَعْظِيْمٍ فِي الْقَلْبِ، يَمْنَعُکَ عَنِ التَّعْطِيْلِ وَالتَّشْبِيْهِ.

ذَکَرَهُ ابْنُ تَيْمِيَّةَ فِي الاِسْتِقَامَةِ.

ابن تيمية في الاستقامة، 1/ 146.

حضرت ابوبکر زاہد سے معرفتِ الٰہی کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: معرفت ایک اسم ہے، اور اس کا معنٰی دل میں ایسی تعظیم کا پایاجانا ہے، جو آپ کو احکامِ الٰہی پر عمل ترک کرنے سے باز رکھے اور رب تعالیٰ کے ساتھ تشبیہ سے بھی روک دے۔

اسے ابن تیمیہ نے ’الاستقامۃ‘ میں بیان کیا ہے۔

قَالَتْ رَابِعَةُ: ثَمَرَةُ الْمَعْرِفَةِ الإِقْبَالُ عَلَی اﷲِ.

ذَکَرَهُ أَبُوْ سَعْدٍ النَّيْسَابُوْرِيُّ فِي التَّهْذِيْبِ.

أبو سعد النيسابوري في تهذيب الأسرار/ 49.

حضرت رابعہ (بصریہ) نے فرمایا: معرفتِ الٰہی کا پھل مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوجانا ہے (تاکہ بندے کا مقصود صرف اﷲ تعالیٰ کی ذات ہوجائے)۔

اسے امام ابو سعد نیشاپوری نے ’تہذیب الاسرار‘ میں بیان کیا ہے۔

قَالَ الإِمَامُ أَبُو بَکْرٍ الشِّبْلِيُّ: إِنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَجَمِيْعَ مَا خَلَقَ اﷲُ يَتَصَاغَرُ فِي عَيْنِهِ، عِنْدَمَا يُشَاهِدُ بِقَلْبِهِ بِأَنْوَارِ التَّوْحِيْدِ مِنْ عَظَمَةِ اﷲِ.

ذَکَرَهُ الطُّوْسِيُّ فِي اللُّمَعِ.

السرّاج الطوسي في اللمع في تاريخ التصوف الإسلامي/ 33.

حضرت ابوبکر شبلی نے فرمایا: جب عارف اَنوارِ توحید کے ذریعے اپنے دل کی آنکھ سے اللہ تعالیٰ کی عظمت کا مشاہدہ کرتا ہے تو زمین و آسمان اور اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ تمام اشیا اس کی نگاہ میں بے حیثیت ہو جاتی ہیں۔

اسے امام الطوسی نے ’اللمع فی التصوف‘ میں بیان کیا ہے۔

عَنْ أَبِي نَصْرٍ السِّرَاجِ، يَقُوْلُ: سُئِلَ رُوَيْمٌ عَنْ أَوَّلِ فَرْضٍ اِفْتَرَضَهُ اﷲُ عَلٰی خَلْقِهِ، مَا هُوَ؟ قَالَ: اَلْمَعْرِفَةُ. يَقُوْلُ اﷲُ: {وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِo} (الذاريات، 51/ 56). قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لِيَعْرِفُوْنِ.

ذَکَرَهُ ابْنُ تَيْمِيَّةَ فِي الاِسْتِقَامَةِ.

ابن تيمية في الاستقامة، 1/ 142.

حضرت ابو نصر سراج الطوسی سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں: حضرت رویم سے پوچھا گیا کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنی مخلوق پر سب سے پہلے جو لازم کیا تھا، وہ کون سا فرض ہے؟ انہوں نے کہا: معرفتِ الٰہی۔ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے:{وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِo}’اور میں نے جنّات اور انسانوں کو صرف اسی لیے پیدا کیا کہ وہ میری بندگی اختیار کریں۔‘ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہے: یہاں لِيَعْبُدُوْنِ سے مراد اﷲ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنا ہے۔

اسے ابن تیمیہ نے ’الاستقامۃ‘ میں بیان کیا ہے۔

قَالَ الإِمَامُ مُحَمَّدُ بْنُ وَاسِعٍ: حَقٌّ لِمَنْ أَعَزَّهُ اﷲُ تَعَالٰی بِمَعْرِفَتِهِ، أَنْ لَا يَلْتَفِتَ مِنْهُ إِلٰی غَيْرِهِ.

ذَکَرَهُ أَبُوْ سَعْدٍ النَّيْسَابُوْرِيُّ فِي التَّهْذِيْبِ.

أبو سعد النيسابوري في تهذيب الأسرار/ 47.

امام محمد بن واسع نے بیان کیا: جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے اپنی معرفت کے ذریعے سے عزت بخشی ہو، اس پر واجب ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ہٹ کر اس کے غیر کی طرف ہر گز متوجہ نہ ہو۔

اسے امام ابو سعد نیشاپوری نے ’تہذیب الاسرار‘ میں بیان کیا ہے۔

سُئِلَ الأَنْطَاکِيُّ عَنِ الْمَعْرِفَةِ وَمَدَارِجِهَا، فَقَالَ: اَلْمَعْرِفَةُ تَکُوْنُ بِتَعْرِيْفِ اﷲِ سُبْحَانَهُ، وَمَدَارِجُهَا ثَـلَاثٌٌ، فَالْمَدْرَجُ الْأَوَّلُ: إِثْبَاتُ وَحْدَانِيَّةِ الْوَاحِدِ الْقَهَارِ. وَالثَّانِيَةُ: قَطْعُ الْقَلْبِ عَمَّا دُوْنَ الْحَقِّ. وَالثَّالِثَةُ: هِيَ التَِّي لَا سَبِيْلَ لِأَحَدٍ إِلٰی عِبَارَتِهَا، {وَمَنْ لَّمْ يَجْعَلِ اﷲُ لَهُ نُوْرًا فَمَا لَهُ مِنْ نُّوْرٍ}، (النور، 24/ 40).

ذَکَرَهُ أَبُوْ سَعْدٍ النَّيْسَابُوْرِيُّ فِي التَّهْذِيْبِ.

أبو سعد النيسابوري في تهذيب الأسرار/ 47-48.

امام احمد بن عاصم الانطاکی سے معرفت اور اس کے مدارج کے بارے میں پوچھا گیا۔ انہوں نے فرمایا: معرفت اللہ تعالیٰ کے (خود اپنی) پہچان کرا دینے سے حاصل ہوتی ہے، (البتہ) اس کے تین درجے ہیں، پہلا درجہ: اللہ واحد و قہار کی وحدانیت کا پختہ عقیدہ؛ دوسرا درجہ: دل کا حق تعالیٰ کے ہر ماسوا (یعنی غیر) سے منقطع ہوجانا؛ اور تیسرا درجہ وہ ہے کہ کسی کے پاس اسے بیان کرنے کی طاقت نہیں۔ (اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:) وَمَنْ لَّمْ يَجْعَلِ اﷲُ لَهُ نُوْرًا فَمَا لَهُ مِنْ نُّوْرٍo ’اور جس کے لیے اللہ ہی نے نورِ (ہدایت) نہیں بنایا تو اس کے لیے (کہیں بھی) نور نہیں ہوتا۔‘

اسے امام ابو سعد نیشاپوری نے ’تہذیب الاسرار‘ میں بیان کیا ہے۔

سُئِلَ الإِمَامُ ابْنُ عَطَاءٍ: مَا بَدْءُ هٰذَا الْأَمْرِ، وَمَا انْتِهَاؤُهُ؟ فَقَالَ: بَدْؤُهُ مَعْرِفَتُهُ، وَانْتِهَاؤُهُ تَوْحِيْدُهُ.

ذَکَرَهُ أَبُوْ سَعْدٍ النَّيْسَابُوْرِيُّ فِي التَّهْذِيْبِ.

أبو سعد النيسابوري في تهذيب الأسرار/ 52.

امام ابن عطاء سے پوچھا گیا: اس معاملہ (سلوک و تصوف) کی ابتداء اور انتہاء کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: اس کی ابتداء اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کی انتہاء اس کی توحید (کا مشاہدہ) ہے۔

اسے امام ابو سعد نیشاپوری نے ’تہذیب الاسرار‘ میں بیان کیا ہے۔

قَالَ الإِمَامُ أَبُوْ عَبْدِ اﷲِ النَّبَاجِيُّ: اَلْعَارِفُ لَا تُسْتَکْثَرُ لَهُ الْجَنَّةُ فِي جَنْبِ مَعْرِفَتِهِ، فَکَيْفَ الدُّنْيَا وَمَا فِيْهَا، وَإِنَّ لَذَائِذَ الْمَعْرِفَةِ وَسُرُوْرَهَا يُغْنِي عَنْ کُلِّ سُرُوْرٍ وَلَذَائِذَ دُوْنَهَا، مِنْ قُلُوْبِ أَهْلِهَا، فَکَيْفَ يَبْقٰی مَعَهَا سُرُوْرُ الدُّنْيَا وَلَذَائِذُ عَيْشِهَا.

ذَکَرَهُ أَبُوْ سَعْدٍ النَّيْسَابُوْرِيُّ فِي التَّهْذِيْبِ.

أبو سعد النيسابوري في تهذيب الأسرار/ 48.

حضرت ابو عبد اللہ النباجی نے فرمایا: عارف کی معرفتِ الٰہیہ کے پہلو میں جنت کی وسعت بھی کم پڑ جاتی ہے، پھر دنیا و ما فیہا کی کیا حیثیت ہے۔ اور بے شک معرفت کی لذتیں اور کیف و سرور عارفوں کے دلوں کو ہر طرح کے کیف و سرور اور لذّتوں سے بے نیاز کر دیتے ہیں، یہ نہیں ہو سکتا کہ معرفتِ الٰہی کی لذتوں کے ساتھ دنیا کے سرور اور اس کی زندگی کی لذتیں بھی باقی رہ سکیں۔

اسے امام ابو سعد نیشاپوری نے ’تہذیب الاسرار‘ میں بیان کیا ہے۔

قَالَ الإِمَامُ أَبُوْ عَبْدِ اﷲِ النَّبَاجِيُّ: خَرَجَ أَکْثَرُ أَهْلِ الدُّنْيَا وَلَمْ يَذُوْقُوْا أَطْيَبَ شَيْئٍ فِيْهَا. قِيْلَ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: سُرُوْرُ الْمَعْرِفَةِ، وَحَلَاوَةُ الْمِنَّةِ، وَلَذَائِدُ الْقُرْبَةِ، وَأُنْسُ الْمَحَبَّةِ.

ذَکَرَهُ أَبُوْ سَعْدٍ النَّيْسَابُوْرِيُّ فِي التَّهْذِيْبِ.

أبو سعد النيسابوري في تهذيب الأسرار/ 48.

امام ابو عبد اللہ النباجی نے فرمایا: اکثر اَہل دنیا بہترین اور سب سے زیادہ لذیذ چیز چکھے بغیر دنیا سے کوچ کر گئے۔ پوچھا گیا: وہ بہترین چیز کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: معرفتِ الٰہی کا سرور، انعامِ الٰہی کی مٹھاس، محبوب حقیقی سے قربت کی لذت اور محبت کا انس۔

اسے امام ابو سعد نیشاپوری نے ’تہذیب الاسرار‘ میں بیان کیا ہے۔

قَالَ الإِمَامُ الْمُغَلِّسُ بْنُ شَدَّادٍ: إِنَّ اﷲَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی خَلَقَ الدُّنْيَا مُظْلِمَةً، وَجَعَلَ الشَّمْسَ فِيْهَا ضِيَاءً، وَخَلَقَ الْقُلُوْبَ مُظْلِمَةً، وَجَعَلَ الْمَعْرِفَةَ فِيْهَا ضِيَاءً، فَإِذَا جَاءَ السَّحَابُ ذَهَبَ بِنُوْرِ الشَّمْسِ، وَکَذٰلِکَ يَجِيئُ حُبُّ الدُّنْيَا فَيَذْهَبُ بِنُوْرِ الْمَعْرِفَةِ مِنَ الْقَلْبِ.

ذَکَرَهُ أَبُوْ سَعْدٍ النَّيْسَابُوْرِيُّ فِي التَّهْذِيْبِ.

أبو سعد النيسابوري في تهذيب الأسرار/ 44.

امام مغلس بن شداد نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے دنیا کو تاریک پیدا کیا اور اس میں روشنی بکھیرنے کے لیے سورج کو ضیاء باری کا ذریعہ بنایا، (اسی طرح اس نے عام انسانی) دلوں کو بھی ابتداءً تاریک پیدا کیا مگر ان میں اجالے کے لیے معرفتِ الٰہی کو روشنی (کا ذریعہ) بنایا جس طرح جب بادل آتے ہیں تو سورج کی روشنی کو نظروں سے غائب کر دیتے ہیں، اسی طرح دنیا کی محبت آتی ہے تو دل سے معرفت کے نور کو غائب کر دیتی ہے۔

اسے امام ابو سعد نیشاپوری نے ’تہذیب الاسرار‘ میں بیان کیا ہے۔

وَقَالَ الإِمَامُ أَبُو الطَّيِّبِ الْمَرَاغِيُّ: لِلْعَقْلِ دَلَالَةٌ، وَلِلْحِکْمَةِ إِشَارَةٌ، وَلِلْمَعْرِفَةِ شَهَادَةٌ، فَالْعَقْلُ يَدُلُّ، وَالْحِکْمَةُ تُشِيْرُ، وَالْمَعْرِفَةُ تَشْهَدُ: بِأَنَّ صَفَاءَ الْعِبَادَاتِ لَا يُنَالُ إِلَّا بِصَفَاءِ التَّوْحِيْدِ.

ذَکَرَهُ الْقُشَيْرِيُّ فِي الرِّسَالَةِ.

القشيري في الرسالة/ 42.

امام ابو طیب المَراغی فرماتے ہیں: عقل کا کام رہنمائی کرنا، حکمت کا کام (مطلوب کی طرف) اشارہ کرنا اور معرفت کا کام اس کی گواہی دینا ہے۔ عقل رہنمائی کرتی ہے، حکمت اشارہ کرتی ہے اور معرفت گواہی دیتی ہے کہ عبادات کی خالصیت عقیدہ توحید میں خالص ہوئے بغیر ممکن نہیں۔

اسے امام القشیری نے ’الرسالۃ‘ میں بیان کیا ہے۔

وَقَالَ بَعْضُهُمْ: اَلْمَعْرِفَةُ عَلٰی وَجْهَيْنِ: مَعْرِفَةٌ عَلٰی رُؤْيَةِ النِّعْمَةِ، وَمَعْرِفَةٌ عَلٰی رُوْيَةِ الْمُنْعِمِ. فَأَمَّا الْمَعْرِفَةُ التَِّي هِيَ عَلٰی رُؤْيَةِ النِّعْمَةِ فَهِيَ أَنَّ الْعَبْدَ يَعْرِفُ الْمُنْعِمَ بِالنِّعْمَةِ لِلنِّعْمَةِ، قَالَ اﷲُ: {وَمَا بِکُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اﷲِ}، (النحل، 16/ 53).

وَأَمَّا الْمَعْرِفَةُ الَّتِي هِيَ عَلٰی رُؤْيَةِ الْمُنْعِمِ، فَهِيَ أَنَّ الْعَبْدَ يَعْرِفُ الْمُنْعِمَ بِالنِّعَمِ لِلْمُنْعِمِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَلْتَفِتَ مِنْهُ إِلَی النِّعْمَةِ قَوْلُهُ: {يٰٓـاَيُهَا النَّبِيُ حَسْبُکَ اﷲُ وَمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَo}، (الأنفال، 8/ 64). وَقَوْلُهُ تَعَالٰی: {فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اﷲُ}، (التوبة، 9/ 129).

ذَکَرَهُ أَبُوْ سَعْدٍ النَّيْسَابُوْرِيُّ فِي التَّهْذِيْبِ.

أبو سعد النيسابوري في تهذيب الأسرار/ 47.

بعض عرفاء نے کہا ہے: معرفت کی دو صورتیں ہیں: پہلی، رویتِ نعمت یعنی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کے مشاہدے سے حاصل ہونے والی معرفت؛ دوسری رویتِ منعم یعنی نعمت عطا فرمانے والے رب کے دستِ عطا کے مشاہدے سے حاصل ہونے والی معرفت۔ رہی وہ معرفت جو رویتِ نعمت کے باعث نصیب ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ بندہ نعمت عطا کرنے والے کو اس نعمت کے ذریعے پہچانے تاکہ اسی سے مزید نعمت کی امید رکھے۔ اللہ تعالی نے فرمایا: {وَمَا بِکُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اﷲِ} ’اور تمہیں جو نعمت بھی حاصل ہے سو وہ اللہ ہی کی جانب سے ہے‘۔

اور وہ معرفت جو رویتِ منعم (یعنی انعام عطا کرنے والی ذات پر نظر رکھنے) کے باعث حاصل ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ بندہ منعم یعنی اللہ تعالیٰ کا عرفان اس کی نعمتوں کے ذریعے صرف اﷲ تعالیٰ ہی کی خاطر حاصل کرے، ایسا نہ ہو کہ منعم کی طرف بندے کا التفات (مزید حصولِ) نعمت کے لیے ہو۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: {يٰٓـاَيُهَا النَّبِيُ حَسْبُکَ اﷲُ وَمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَo} ’اے نبی (معّظم!) آپ کے لیے اللہ کافی ہے اور وہ مسلمان (بھی) جنہوں نے آپ کی پیروی اختیار کر لی۔‘ نیز اس کا (یہ بھی) فرمان ہے: {فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اﷲُ} ’اگر (ان بے پناہ کرم نوازیوں کے باوجود) پھر (بھی) وہ روگردانی کریں تو فرما دیجیے: مجھے اللہ کافی ہے‘۔

اسے امام ابو سعد نیشاپوری نے ’تہذیب الاسرار‘ میں بیان کیا ہے۔

قَالَ بَعْضُهُمْ: لِلْعَارِفِ أَرْبَعُ عَلَامَاتٍ: لِسَانُهُ مَشْغُوْلٌ بِتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ، وَلَوْنُهُ أَصْفَرُ مِنْ خَوْفِ الْهِجْرَانِ، وَنَفْسُهُ ذَائِبَةٌ مِنْ خَوْفِ الرَّحْمٰنِ، وَقَلْبُهُ زَاهِرٌ بِنُوْرِ الإِيْمَانِ.

ذَکَرَهُ أَبُوْ سَعْدٍ النَّيْسَابُوْرِيُّ فِي التَّهْذِيْبِ.

أبو سعد النيسابوري في تهذيب الأسرار/ 49.

بعض عرفاء نے کہا ہے: اللہ تعالیٰ کی معرفت رکھنے والے کی چار نشانیاں ہیں: اس کی زبان تلاوتِ قرآن مجید میں مشغول رہتی ہے، اس کا رنگ فراق کے خوف سے زرد رہتا ہے، اس کی جان رحمن کے خوف سے گھلتی رہتی ہے اور اس کا دل ایمان کے نور سے روشن رہتا ہے۔

اسے امام ابو سعد نیشاپوری نے ’تہذیب الاسرار‘ میں بیان کیا ہے۔

قَالَ بَعْضُهُمْ: مَنْ عَرَفَ اﷲَ حَقَّ مَعْرِفَتِهِ قَلَّ کَلَامُهُ وَدَامَ فِکْرُهُ، وَقَلَّ اسْتِمَاعُهُ وَنَظَرُهُ فِي غَيْرِ ذَاتِ اﷲِ، وَفَنِيَ عَنْ رُؤْيَةِ اْلأَعْمَالِ، وَصَارَ مُتَحَيِّرًا مَعَ الْإِيْصَالِ، وَمُنْقَطِعًا عَنِ الْحَالِ إِلٰی وَلِيِّ الْحَالِ.

ذَکَرَهُ أَبُوْ سَعْدٍ النَّيْسَابُوْرِيُّ فِي التَّهْذِيْبِ.

أبو سعد النيسابوري في تهذيب الأسرار/ 47.

کسی عارف نے کہا ہے: جس نے اللہ تعالیٰ کی کما حقہ معرفت حاصل کرلی۔ اس کی گفتگو کم ہو جاتی ہے اور تفکر دائمی ہو جاتا ہے۔ اور(یوں ہر شے میں اسی کا جلوہ دیکھنے کے سبب) ذات حق کے غیر سے اس کا سننا اور دیکھنا بھی کم ہو جاتا ہے، (گویا) وہ رؤیتِ اعمال (یعنی اپنے اعمال کی طرف دیکھنے کے عمل) سے فنا ہوجاتا ہے، اور وصلِ الٰہی کے ساتھ متحیر ہو کر، اپنے حال سے قطع نظر کر کے، مالکِ حال کی طرف متوجہ رہتا ہے۔

اسے امام ابو سعد نیشاپوری نے ’تہذیب الاسرار‘ میں بیان کیا ہے۔

قَالَ: مَنْ عَرَفَ اﷲَ تَعَالٰی وَثِقَ، وَمَنْ وَثِقَ صَدَقَ، وَمَنْ صَدَقَ لَحِقَ.

ذَکَرَهُ أَبُوْ سَعْدٍ النَّيْسَابُوْرِيُّ فِي التَّهْذِيْبِ.

أبو سعد النيسابوري في تهذيب الأسرار/ 52.

کسی عارف نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کو پہچان لیا اسے یقین حاصل ہوگیا، اور جسے وثوق و یقین حاصل ہوگیا اسے صدق (اِخلاص) نصیب ہوگیا، اور جس نے صدق اِختیار کرلیا اس نے رب تعالی کو پالیا۔

اسے امام ابو سعد نیشاپوری نے ’تہذیب الاسرار‘ میں بیان کیا ہے۔

قِيْلَ: حَقِيْقَةُ الْمَعْرِفَةِ نُوْرٌ طُرِحَ فِي قَلْبِ الْمُؤْمِنِ، وَلَيْسَ فِي الْخَزَانَةِ شَيْئٌ أَعَزُّ مِنَ الْمَعْرِفَةِ.

قِيْلَ: الْمَعْرِفَةُ حَيَاةُ الْقَلْبِ، يُحْيِيْهِ اﷲُ تَعَالٰی بِهَا، قَالَ اﷲُ تَعَالٰی: {اَوَ مَنْ کَانَ مَيْتًا فَاَحْيَيْنٰهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُوْرًا يَّمْشِيْ بِهِ فِی النَّاسِ کَمَنْ مَّثَلُهُ فِی الظُّلُمٰتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا}، (الأنعام، 6/ 122)

ذَکَرَهُ أَبُوْ سَعْدٍ النَّيْسَابُوْرِيُّ فِي التَّهْذِيْبِ.

أبو سعد النيسابوري في تهذيب الأسرار/ 44.

کہا گیا ہے: معرفتِ اِلٰہی درحقیقت ایک نور ہے جو قلبِ مومن میں ڈال دیا جاتا ہے۔ (یہی وجہ ہے) کہ للہ تعالیٰ کے خزانہ میں معرفتِ الٰہی سے زیادہ (انسان کے لیئے) اعزاز و اکرام والی کوئی چیز نہیں۔

کہا گیا ہے: معرفت دل کی زندگی کا نام ہے، اللہ تعالیٰ دل کو اسی سے زندہ کرتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے (قرآن مجید میں) فرمایا ہے: بھلا وہ شخص جو مُردہ (یعنی ایمان سے محروم) تھا، پھر ہم نے اسے (ہدایت کی بدولت) زندہ کیا اور ہم نے اس کے لیے (ایمان و معرفت کا) نور پیدا فرما دیا، (اب) وہ اس کے ذریعے (باقی دوسرے) لوگوں میں (بھی روشنی پھیلانے کے لیے) چلتا ہے، اس شخص کی مانند ہو سکتا ہے جس کا حال یہ ہو کہ (وہ جہالت اور گمراہی کے) اندھیروں میں (اس طرح گھِرا) پڑا ہے کہ اس سے نکل ہی نہیں سکتا؟

اسے امام ابو سعد نیشاپوری نے ’تہذیب الاسرار‘ میں بیان کیا ہے۔

سُئِلَ عَنْ بَعْضِ الْعَارِفِيْنَ: مَا حَقِيْقَةُ الْمَعْرِفَةِ؟ قَالَ: رُؤْيَةُ الْحَقِّ مَعَ فُقْدَانِ رُؤْيَةِ مَا سِوَاهُ، حَتّٰی تَصِيْرَ عِنْدَهُ جَمِيْعُ مَمْلَکَةِ اﷲِ تَعَالٰی فِي جَنْبِ رُؤْيَةِ اﷲِ تَعَالٰی، أَصْغَرَ مِنْ خَرْدَلَةٍ فِي جَمِيْعِ مَمْلَکَتِهِ، فَهٰذَا لَا تَحْتَمِلُهُ قُلُوْبُ أَهْلِ الْغَفْلَةِ وَعَامَّةِ النَّاسِ.

ذَکَرَهُ أَبُوْ سَعْدٍ النَّيْسَابُوْرِيُّ فِي التَّهْذِيْبِ.

أبو سعد النيسابوري في تهذيب الأسرار/ 45.

کسی اور (عارف) سے پوچھا گیا: معرفت کی حقیقت کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: حق تعالیٰ کی رؤیت اِس طرح نصیب ہو کہ اس کے ماسوا کوئی اسے نظر ہی نہ آئے، یہاں تک کہ عارف کی نظر میں رویتِ الٰہی کا پہلو اس قدر غالب آ جائے کہ اسے اللہ تعالیٰ کی تمام مملکت، اس کی مملکت میں پائے جانے والے رائی کے ایک دانے سے بھی چھوٹی دکھائی دے، یہ (ایک) ایسی (باریک اور لطیف) بات ہے جسے اہلِ غفلت اور عامۃ الناس کے دل برداشت نہیں کرسکتے۔

اسے امام ابو سعد نیشاپوری نے ’تہذیب الاسرار‘ میں بیان کیا ہے۔

قِيْلَ: مِنْ عَلَامَاتِ الْعَارِفِ، أَنْ يَنْظُرَ إِلٰی الدُّنْيَا بِعَيْنِ الْاِعْتِبَارِ، وَإِلَی الْآخِرَةِ بِعَيْنِ الْاِنْتِظَارِ، وَإِلَی النَّفْسِ بِعَيْنِ الْاِحْتِقَارِ، وَإِلٰی طَاعَتِهِ بِعَيْنِ الْاِعْتِذَارِ لَا بِعَيْنِ الْاِسْتِکْثَارِ، وَإِلَی الْمَعْرِفَةِ بِعَيْنِ الْاِسْتِبْشَارِ، وَإِلَی الْمَعْرُوْفِ سُبْحَانَهُ بِعَيْنِ الْاِفْتِخَارِ.

ذَکَرَهُ أَبُوْ سَعْدٍ النَّيْسَابُوْرِيُّ فِي التَّهْذِيْبِ.

أبو سعد النيسابوري في تهذيب الأسرار/ 49.

کہا گیا: عارف کی علامات میں سے ہے کہ وہ دنیا کو عبرت کی نگاہ سے، آخرت کو انتظار کی نگاہ سے، خواہشات و شہواتِ نفس کو حقارت کی نگاہ سے، اپنی اطاعت کو کثرت کی نگاہ سے نہیں بلکہ معذرت کی نگاہ سے، معرفتِ الٰہی کو خوشی کی نگاہ سے، اور اﷲ u کی رضا اور وصال کو فخر کی نگاہ سے دیکھتا ہے (یعنی جذبہ شکر و اِمتنان سے سرشار ہو جاتا ہے)۔

اسے امام ابو سعد نیشاپوری نے ’تہذیب الاسرار‘ میں بیان کیا ہے۔

سُئِلَ آخَرُ عَنْ حَقِيْقَةِ الْمَعْرِفَةِ، فَقَالَ: هِيَ الْاِنْقِطَاعُ بِالْقَلْبِ إِلَی اﷲِ، وَتَجْرِيْدُ السِّرِّ عَنْ کُلِّ مَا دُوْنَ الْحَقِّ لِلْحَقِّ.

ذَکَرَهُ أَبُوْ سَعْدٍ النَّيْسَابُوْرِيُّ فِي التَّهْذِيْبِ.

أبو سعد النيسابوري في تهذيب الأسرار/ 45.

کسی عارف سے معرفت کی حقیقت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: معرفت سے مراد ہر طرف سے کٹ کر دل کا کامل یکسوئی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو جانا اور باطن کا حق تعالیٰ کے علاوہ ہر غیر سے خالی کر لینا حقیقت معرفت ہے۔

اسے امام ابو سعد نیشاپوری نے ’تہذیب الاسرار‘ میں بیان کیا ہے۔

سُئِلَ: مَتٰی يَعْرِفُ الْعَبْدُ أَنَّهُ عَلٰی تَحْقِيْقِ الْمَعْرِفَةِ؟ فَقَالَ: إِذَا لَمْ يَجِدْ فِي قَلْبِهِ مَکَانًا لِغَيْرِ رَبِّهِ.

ذَکَرَهُ أَبُوْ سَعْدٍ النَّيْسَابُوْرِيُّ فِي التَّهْذِيْبِ.

أبو سعد النيسابوري في تهذيب الأسرار/ 46.

کسی (عارف) سے سوال کیا گیا کہ بندہ کو کب پتہ چلتا ہے کہ اس نے معرفت کو حقیقتاً پالیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: جب وہ اپنے دل میں اپنے رب کے علاوہ کسی بھی غیر کی تمنا، تعلق یا رغبت کے لیے جگہ نہ پائے (تو سمجھ لے کہ اس نے معرفت کو پالیا ہے)۔

اسے امام ابو سعد نیشاپوری نے ’تہذیب الاسرار‘ میں بیان کیا ہے۔

سُئِلَ بَعْضُهُمْ عَنْ مَعْرِفَةِ اﷲِ، فَقَالَ: الْمَعْرِفَةُ، هِيَ الْعُبُوْدِيَّةُ ِﷲِ تَعَالٰی.

ذَکَرَهُ أَبُوْ سَعْدٍ النَّيْسَابُوْرِيُّ فِي التَّهْذِيْبِ.

أبو سعد النيسابوري في تهذيب الأسرار/ 50.

بعض عرفاء سے اللہ تعالیٰ کی معرفت کے بارے میں پوچھا گیا، انہوں نے فرمایا: معرفت اﷲ تعالیٰ کے لیے بندے کی (کامل اور خالص) عبودیت کو کہتے ہیں۔

اسے امام ابو سعد نیشاپوری نے ’تہذیب الاسرار‘ میں بیان کیا ہے۔

سُئِلَ بَعْضُهُمْ عَنِ الْمَعْرِفَةِ، فَقَالَ: أَدْنَی الْمَعْرِفَةِ أَنْ لَا يَکُوْنَ بَيْنَ اﷲِ تَعَالٰی وَبَيْنَ الْعَبْدِ حِجَابٌ.

ذَکَرَهُ أَبُوْ سَعْدٍ النَّيْسَابُوْرِيُّ فِي التَّهْذِيْبِ.

أبو سعد النيسابوري في تهذيب الأسرار/ 50.

بعض عرفاء سے معرفت کی بابت پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: معرفت کا ادنیٰ ترین درجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان (نفس اور دنیا کا) کوئی حجاب (باقی) نہ رہے۔

اسے امام ابو سعد نیشاپوری نے ’تہذیب الاسرار‘ میں بیان کیا ہے۔

Copyrights © 2024 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved