Tazkira Farid-e-Millat

روحانی ذوق - حیات فرید کا ایک درخشاں باب

چوہدری محمد اشرف قادری

فرید ملت حضر ت علامہ ڈاکٹر فرید الدین رحمہ اللّٰہ کے مجاہدوں، ریاضتوں، زیارتوں اور روحانی و دینی علوم کے حصول کے لئے بھرپور اور ہمہ وقت متحرک، چھپن سالہ حیات کا بہ نظر عمیق جائزہ لیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کے سامنے مسلمانانِ عالم کی اللہ تعالیٰ کے دین سے بے توجہی کا راز منکشف ہو چکا تھا۔ وہ نبض شناس ملت کی حیثیت سے ملت اسلامیہ کے اصل روگ اور مرض کی تشخیص کر چکے تھے۔ اور اب اس کے مکمل علاج کے لئے بارگاہ ایزدی سے کسی ایسے مسیحا کے متمنی تھے جو تساہل پسند اور اپنے سود و زیاں کے احساس سے عاری اور باہمی تعصبات و اختلافات کے روگ میں گرفتار ملت کو اس کی عظمت رفتہ لوٹانے کی جدوجہد کی شاہراہ پر گامزن کردے۔ یہی سبب ہے کہ ان کے دل کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی التجائوں اور خشوع و خضوع سے مانگی گئی دعائوں کو ان کے مولا کے حضور جب شرف قبولیت عطا ہوا۔ اور ان کے آنگن میں ’’محمد طاہر‘‘ کی صورت میں متبسم و معطر گل، کھل اُٹھا تو ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ پھر اسی کی آبیاری کرنے اور پروان چڑھانے کا اہتمام بطریق احسن کرنے میں لگے رہے۔ کیونکہ یہی وہ گوہر مقصود تھا جس کو پانے کے لئے انہوں نے مقام ملتزم پر کھڑے ہو کر غلاف کعبہ کو تھام کر اپنے مولا کے حضور رو رو کر دست سوال دراز کیا تھا۔ یوں لگتا ہے کہ وہ اس بچے کی ہمہ جہت تربیت کرنے کی خواہش سے لبریز ہو چکے تھے۔ آپ کی روحانی بصیرت پوری طرح بھانپ چکی تھی کہ ملت کی طوفانوں میں گھری ہوئی کشتی کو ساحل مراد ان کے اسی فرزند ارجمند کے ہاتھوں نصیب ہوگا۔ اپنے اس امیدوںکے مرکز کو روحانی علمی، اخلاقی اور دینی سرمایہ منتقل کرنے کے لئے پہلے خود کو مختلف روحانی و دینی بارگاہوں سے بدرجہ اتم مستفیض و متمتع کیا۔ ان فیض کے چشموں اور اولوالعزم، برگزیدہ ہستیوں کی بارگاہ میں پلٹ پلٹ کر حاضریاں دیں۔ اپنے اللہ کے حضور بے پایاں فیوض و برکات کے لئے رو رو کر دعائیں مانگیں۔ اور جوں جوں ان کے لخت جگر نے منازلِ طے کیں، اس طرح اللہ کے لطف و کرم سے جو روحانی و دینی سرمایہ انہیں عطا ہوا تھا وہ بڑے بھرپور طریقہ اور خصوصی توجہ کے ساتھ تادم واپسیں انہوں نے اپنے اس بیٹے کو منتقل کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔

تسکین روح کی تلاش

جھنگ کے ایک معزز گھرانے میں پیدا ہونے والی اس عظیم شخصیت کے ذوق میں بڑا تنوع تھا۔ آپ کی شخصیت میں بڑی جامعیت اور ہمہ گیریت تھی، علمی، ادبی، طبی، فکری، عالمانہ فقہی اور تحقیقی ذوق کے ساتھ ساتھ آپ کے اندر ابتدا ہی سے روحانی و صوفیانہ ذوق کا جذبہ بڑی فراوانی کے ساتھ موجود تھا۔ فرید ملت کے متعلق مصدقہ روایت ہے کہ آپ نویا دس گیارہ برس کے تھے کہ اپنے شہر سے تین چار میل دور دریائے چناب کے کنارے چلے جاتے تھے اور وہاں گھنٹوں حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات کے لئے سورۂ والیل اور دیگر وظائف کے ورد کرتے تھے۔ تسکین روح کے جس متلاشی کی میلان طبع کا بچپن میں یہ حال ہو آگے چل کر اس نے کتنے روحانی مقامات طے نہ کئے ہوں گے۔ ان کی اسی ذوق کی تسکین کا سامان اللہ تعالیٰ نے ان کو علم لدنی سے نوازکر بہم پہنچا دیا تھا۔ جہاںخداوند قدوس کی خصوصی رحمتوں سے آپ کو عدیم المثال خطیب، بلند پایہ محقق عظیم عالم دین اور جلیل القدر طبیب ہونے کا شرف و امتیاز بخشا گیا وہاں آپ تصوف و روحانیت سے خصوصی شغف کی بناء پر راہِ سلوک کی مسافتیں طے کر کے اعلیٰ مقامات پر فائز نظر آتے ہیں۔

روحانی تربیت

آپ نے برصغیر میں فقیہ اعظم مولانا محمد یوسف سیالکوٹی رحمہ اللّٰہ، شیخ الحدیث مولانا سردار احمد محدث لائل پوری اور حضرت مولانا ابو البرکات سید احمد قادری رحمہ اللّٰہ سے دینی و روحانی علوم کی تربیت پائی۔ علاوہ ازیں لکھنؤ، حیدر آباد دکن، دہلی کے جلیل القادر علماء سے اکتساب فیض کیا۔ بیرون ملک مدینہ طیبہ، دمشق اور بغداد شریف کے مقتدر علماء کے زیر تربیت دینی و روحانی علم کا سرمایہ اکٹھا کیا۔ بالخصوص شیخ محمد المکی الکتانی رئیس رابطہ علمائے شام سے حضرت شیخ اکبر رحمہ اللّٰہ کی فصوص الحکم اور فتوحات مکیہ کا درس سبقاً لیا۔ آپ کبھی مزارات اولیاء کی زیارت کے لئے سرہند شریف تشریف لے جاتے، کبھی اجمیر شریف اور کبھی دلی کے اکابر اولیاء و صوفیا عظام کے مزارات پر حاضری دے کر روحانی سکون حاصل کرتے۔ آپ کو اگر پتہ چلتا کہ فلاں جگہ کوئی مجذوب سکونت پذیر ہے تو آپ دور دراز کا سفر طے کر کے بھی ان کی خدمت میں ضرور حاضری دیتے۔ اولیائے کرام کی بھی ان پر بڑی توجہات تھیں۔ پاکستان میں ان کو تین اولیائے کرام سے زندگی بھر بڑی نسبت رہی۔ ایک سلطان العارفین حضرت سلطان باہو رحمہ اللّٰہ، دوسرے حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمہ اللّٰہ اور تیسری حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمہ اللّٰہ۔بیرون ملک حضرت سیدنا بلال ص، حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ اور خصوصی طور پر مولانا جلال الدین رومی رحمہ اللّٰہ کے مزار اقدس سے بے پناہ فیض حاصل کیا۔ حضرت سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے مزار اقدس پر تو آپ باقاعدگی سے حاضری دیتے۔ اور کئی کئی ماہ تک وہاں قیام کرتے۔ خود آقائے نامدار سرکار دو عالم ﷺ کی تو ان پر نوازشات کا عالم ہی کچھ اور تھا۔

بیعت

روحانی فیض کی باقاعدہ تربیت آپ نے نقیب الاشراف حضرت سیدنا الشیخ ابراہیم سیف الدین الگیلانی البغدادی رحمہ اللّٰہ (جو کہ حضور پیر صاحب سیدنا طاہر علائو الدین القادری الگیلانی البغدادی مدظلہ العالی کے چچا زاد بھائی اور بہنوئی تھے) کے دست حق پرست پر بیعت کر کے پائی۔

شجرہ طریقت

قطب الاقطاب غوث الثقلین حضرت سیدنا عبدالقادر الجیلانی رضی اللہ عنہ

قطب الاقطاب حضرت سیدنا علی القادری الجیلانی نقیب الاشراف رضی اللہ عنہ

حضرت سیدنا الشیخ سلطان النقیب رضی اللہ عنہ

حضرت سیدنا الشیخ مصطفی الگیلانی البغدادی رضی اللہ عنہ

نقیب الاشراف حضرت سیدنا الشیخ ابراہیم سیف الدین الگیلانی البغدادی رضی اللہ عنہ

فرید ملت حضرت ڈاکٹر علامہ فرید الدین قادری رحمہ اللہ

حضرت سلطان العارفین رحمہ اللّٰہ کی خصوصی نوازشات

ڈاکٹری اور طب کی تعلیم کی تکمیل کے بعد حصول ملازمت کے لئے رُورل ہیلتھ سنٹر ڈسٹرکٹ بورڈ جھنگ میں مشتہر ایک اسامی کے لئے آپ نے درخواست دی۔ صلاحیت و استعداد کے لحاظ سے تو دیگر اُمیدواران میں سے آپ سے زیادہ اہلیت کا حامل کوئی نہ تھا۔ البتہ ایک امیدوار اس اسامی کے سیلیکشن بورڈ (Selection Board) کے سیکرٹری کا حقیقی بیٹا تھا۔ لہٰذا اس کی تقرری کا فیصلہ میرٹ کے خلاف ہونا یقینی تھا۔ لہٰذا آپ پریشانی و اضطراب کی حالت میں حضرت سلطان العارفین رحمہ اللّٰہ کی بارگاہ پر حاضری کے لئے چلے گئے۔ دربار عالیہ پر حاضری دی۔ اسی فکر میں کہ شاید تقرری ہوتی ہے کہ نہیں، آپ کو اونگھ آگئی۔ خواب میں آپ کو حضرت سلطان العارفین رحمہ اللّٰہ ایک خوبصورت گلشن میں ٹہلتے ہوئے نظر آئے۔ جو ٹہلتے بھی جا رہے تھے اور انگشت شہادت کھول کر فرماتے بھی جا رہے تھے کہ ’’آج ہے کل نہیں، آج ہے کل نہیں‘‘ فرید ملت رحمہ اللّٰہ نے حضور سلطان العارفین رحمہ اللّٰہ کی قدم بوسی کی۔ اس کے ساتھ ہی آپ کی آنکھ کھل گئی تو آپ نے اس جملے کے متعلق سوچنا شروع کردیا کہ اس کا مطلب کیا ہو سکتا ہے۔ بہرحال وہاں نماز فجر ادا کرنے کے بعد واپس جھنگ آگئے۔ جھنگ بس سٹینڈ پر ہی انہیں ایک جنازہ جاتا دکھائی دیا جس کو سلیکشن بورڈ کے سیکرٹری صاحب نے کندھا دے رکھا تھا۔ کسی سے معلوم کیا تو پتہ چلا کہ یہ جنازہ سیکرٹری صاحب کے اسی بیٹے کا ہے جو ان کے ساتھ امیدوار تھا۔ سلطان العارفین رحمہ اللّٰہ کے خواب میں کہیں ہوئے جملے پر غور کیا تو بات ان کی سمجھ میں آگئی کہ مرحوم کی عمر مستعار تو اتنی ہی تھی جو ختم ہوگئی۔ حضرت کو چونکہ اس بات سے آگاہی تھی اس لئے فرمایا کہ ’’آج ہے کل نہیں‘‘ (یعنی اس دن تو وہ زندہ تھا لیکن کل اسے اس دنیائے فانی سے کوچ کرنا جانا تھا)۔ لہٰذا ملازمت کے متعلق ان کی فکر مندی اور پریشانی کے پیش نظر آپ نے انہیں پہلے ہی خواب میں مطلع کر دیا۔ اس طرح ملازمت کے حصول میں وہ کامیاب ہوگئے۔

بیداری میں زیارت

حضرت سلطان باہو رحمہ اللّٰہ کی درگاہ کے اس وقت کے سجادہ نشین حضرت حاجی حبیب سلطان رحمہ اللّٰہ سے حضرت فرید ملت رحمہ اللّٰہ کی بڑی گہری دوستی تھی۔ اس دوستی کا ایک سبب یہ تھا کہ حاجی صاحب کے والد گرامی حضرت امیر سلطان رحمہ اللّٰہ بھی حضرت الشیخ سیدنا سیف الدین الگیلانی رحمہ اللّٰہ سے بیعت تھے۔ اس طرح حضرت فرید ملت رحمہ اللّٰہ ان کے والد گرامی کے پیر بھائی تھے۔ اور دوسرے حضرت حبیب سلطان رحمہ اللّٰہ کو حضرت الشیخ جمال الدین الگیلانی البغدادی رحمہ اللّٰہ جو کہ حضور پیر صاحب رحمہ اللّٰہ کے سب سے بڑے بھائی تھے سے بیعت و خلافت کا اعزاز ملا ہوا تھا۔ حضرت فرید ملت اوائل عمر ہی سے یہاں اکثر آکر چالیس چالیس دن چلہ کشی کرتے۔ اور انہی گہرے دوستانہ مراسم کے سبب سجادہ نشین کی طرف سے آپ کو قیا م کے لئے ایک حویلی ملی ہوئی تھی۔ ایک دفعہ وہاں قیام کے دوران رات ڈیڑھ بجے تک حضرت حاجی حبیب سلطان رحمہ اللّٰہ آپ کے پاس بیٹھے رہے۔ چاندنی راتیں تھیں، حضرت فرید ملت رحمہ اللّٰہ حاجی صاحب رحمہ اللّٰہ کے چلے جانے کے بعد اُٹھ کر اندر چلے گئے، تاکہ تھکن دور کرنے کے لئے کچھ دیر آرام کر لیں۔ اور بعد ازاں تہجد کے لئے اُٹھ جائیں۔ لیٹنے کے بعد نیند نے غلبہ کرلیا۔ قریب تھا کہ نماز تہجد کا وقت گذر جاتا۔ سلطان العارفین خواب میں تشریف لائے اور بڑی شفقت آمیز اور پر تمکنت آواز میں ہاتھ سے ہلا کر اُٹھایا اور فرمایا فرید الدین رحمہ اللّٰہ اُٹھو۔ نماز تہجد کا وقت قضا نہ ہو جائے۔ حضرت فرید ملت رحمہ اللّٰہ اُٹھے اور دیکھا کہ کوئی لمبی قمیص میں ملبوس لمبی لمبی زلفوں والی شخصیت چارپائی سے مڑ کر باہر کی طرف جا رہی ہے۔ آپ نے اس شخصیت کی زیارت کی چاندنی رات تھی۔ صحن کافی بڑا تھا آپ بھی ان کے پیچھے چل دئیے۔ پیچھے سے آواز دینا سوئے ادب سمجھا مگر آپ نے سوچا کہ تھوڑے ہی فاصلے پر تو ہیں ابھی چل کر مصافحہ کر لیتا ہوں۔ وہ ان کے سامنے گھر کی ڈیوڑھی میں داخل ہوگئے۔ حضرت فریدِ رحمہ اللّٰہ ملت بھی دروازہ کھولنے کے لئے ڈیوڑھی میں داخل ہوئے مگر دروازہ بدستور بند رہا۔ یہ حضرت سلطان العارفین رحمہ اللّٰہ تھے جو اس طرح عالم بیداری میں آکر نماز تہجد کے لئے آپ کو اُٹھا کر فیوض و برکات عطا فرما گئے تھے۔

دمشق اور مدینہ منورہ میں ایک ابدال سے ملاقات اور عربی میں سوال و جواب

1962ء میں حضرت فرید ملت رحمہ اللّٰہ زیارات کی غرض سے دمشق تشریف لے گئے۔ اور وہاں ہر نماز کے بعد حضرت یحییٰ علیہ السلام کے مزار مبارک پر حاضری دیتے۔ ایک روز نماز ظہر پڑھ کر ان کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ ملک شام میں ہر وقت چالیس ابدال رہتے ہیں، کتنا اچھا ہو کہ کسی سے ملاقات کا شرف حاصل ہو جائے۔ چنانچہ نماز کے بعد دعا مانگی کہ اے باری تعالیٰ ’’اپنا خاص لطف و کرم فرماتے ہوئے آج کسی ایک ابدال سے ملاقات ہی کرا دے‘‘ دعامانگنے کے بعد وہاں سے چلے گئے اور پھر دوبارہ نماز عصر پڑھنے کے لئے تشریف لائے۔ ادائیگی نماز کے بعد سیدنا حضرت یحییٰ علیہ السلام کے مزار مبارک پر حاضری دے کر سلام عرض کر رہے تھے کہ پیچھے سے کسی نے کہا ’’السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہٰ یا دکتور - (ڈاکٹر صاحب السلام علیکم)انہوں نے مڑکر پیچھے دیکھا تو ان کے سامنے ایک جوان آدمی کھڑا تھا۔ کالی سیاہ داڑھی نورانی چہرہ 32 سال کی عمر۔ آپ کے پیچھے مڑ کر دیکھتے ہی انہوں نے فرمایا ’’اِسمک فرید الدین‘‘ (آپ کا نام فرید الدین ہے) ’’اَنت منَ الباکستان‘‘ (آپ پاکستان سے ہیں) حضرت فرید ملت رحمہ اللّٰہ سوالات کا جواب دیتے گئے۔ پھر ان سے پوچھا گیا کہ انہیں پہچانا کیسے ہے؟ اس پر سراپا متانت اس جوان رعنا نے فرمایا ’’یا دکتور ماتعارفنی‘‘ (ڈاکٹر صاحب- آپ نے مجھے نہیں پہچانا) جب حضرت فرید ملت رحمہ اللّٰہ نے کہا کہ میں نے نہیں پہچانا تو اس خوبصورت دلکش اور جاہ و جلال والی شخصیت نے کہا۔ ’’أنا قصدک ٔدعائوک‘‘ (جو آپ نے ارادہ کیا تھا میں آپ کی دعا ہوں) یہ سن کر حضرت فرید ملت رحمہ اللّٰہ سنبھل گئے۔ اور پھر ان کے ساتھ چند رازدارانہ باتیں ہوئیں۔ ایک خاص معاملے میں درس لیا دوبارہ ملاقات کے متعلق استفسار کیا تو جواب ملا کہ ملاقات ضرور ہوگی مگر مدینہ طیبہ رمضان شریف میں تراویح کے دوران۔ اور پھر واقعی جب حضرت فرید ملت رحمہ اللّٰہ مدینہ طیبہ آقائے نامدار ﷺ کی بارگاہ بے کس پناہ میں حاضری کے لئے تشریف لے گئے، تو ایک شب تراویح کے بعد آخری دو نوافل پڑھ کر فارغ ہونے کے بعد غیر ارادی طو رپر پچھلی صف کی طرف دیکھا، تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہاں وہی دمشق کی جامعہ مسجد اموی والی نورانی شخصیت مشغول نماز کھڑی تھی۔

حضرت خضر علیہ السلام سے عالم بیداری میں ملاقات

اوائل عمر ہی سے جبکہ آپ کی عمر 9، 10 سال کی تھی آپ کو حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات کا شوق پیدا ہوگیا۔ اس کے لئے آپ دریائے چناب کے کنارے جا کر اوراد و وظائف اور سورۂ مزمل کی تلاوت کیا کرتے۔ ظاہر ہے ملاقاتوں کا شرف بھی ضرور حاصل ہوتا ہوگا۔ ان ملاقاتوں میں سے ایک ملاقات کا نظارہ کرنے کا شرف حضرت فرید ملت رحمہ اللّٰہ کے ایک دیرینہ دوست پرنسپل ڈاکٹر احسان قریشی صابری کو بھی حاصل ہوا۔ آپ فرماتے ہیں کہ ’’ایک دفعہ میرا بھی ڈاکٹر فرید الدین رحمہ اللّٰہ کے ہمراہ دریائے چناب کے کنارے جانا ہوا۔ وہاں پہنچ کر مجھے آپ نے ایک جگہ رکنے کے لئے کہا اور خود دریاکے کنارے کنارے ایک طرف کو چلتے گئے۔ میں نے دیکھا کہ ایک حسین و جمیل نوجوان دریا سے باہر نکل کر آیا اور تھوڑی دیر آپ سے ہمکلام رہا۔ ان کے اس باہمی گفتگو کرنے کے منظرکو میں دور سے دیکھتا رہا اور کچھ دیر بعد حضرت ڈاکٹر فرید الدین رحمہ اللّٰہ واپس میرے پاس آگئے اور حضرت خضر علیہ السلام دریا میں واپس تشریف لے گئے۔‘‘

حضور ﷺ کی زیارت اور لیلۃ القدر کی خوشخبری

حضرت فرید ملت رحمہ اللّٰہ رمضان شریف میں مدینہ طیبہ حاضری کی سعادت حاصل کرنے کے بعد روضۂ انور پر معتکف تھے۔ پچیسویں شب رمضان المبارک آئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم خواب میں تشریف لے آئے اور فرمایا ’’فرید الدین اُٹھو آج لیلۃ القدر ہے۔ اور بارہ بجکر پچاس منٹ پر قبولیت کی گھڑی ہے۔ آپ فوراً اُٹھ بیٹھے اور اپنے قریب ہی لیٹے ہوئے ایک شخص کے پاس گئے اور اسے جگاتے ہوئے کہا اُٹھو آج لیلۃ القدر ہے۔ حضور ﷺ نے خوش خبری دی ہے کہ وہ شخص ان کی طرف متوجہ ہو کر بولا ہاں آج لیلۃ القدر ہے۔ اور وقت بارہ بج کر پچاس منٹ ہے۔ حضرت فرید ملت رحمہ اللّٰہ نے متحیر ہو کر پوچھا کہ آپ کو اس کی خبر کیسے ہوئی؟ وہ بولے کہ میں بھی حضور ﷺ کا مہمان ہوں جس طرح آپ کو آقائے نامدار ﷺ نے اس مبارک گھڑی کی بشارت دی ہے۔ جاتے ہوئے حضور ﷺ مجھ پر بھی کرم فرما گئے۔

قائد انقلاب کی ولادت کے لئے دعا

1948ء میں جب آپ کو پہلی دفعہ حرم کعبہ میں حاضری کا شرف حاصل ہوا تو وہاں رات کے پچھلے پہر طوافِ کعبہ کے بعد مقام ملتزم پر غلام کعبہ کو تھامتے ہوئے آنسوئوں کی برسات میں دل کی تمنا زبان سے دعا بن کر نکلنے لگی’’باری تعالیٰ ایسا بچہ عطا کر جو تیری اور تیرے دین کی معرفت کا حامل ہو جو دنیا اور آخرت میں تیری بے پناہ عطا و رضا کا حقدار ٹھہرے اور فیضان رسالتمآب ﷺ سے بہرور ہو کر دنیائے اسلام میں ایسے علمی و فکری اور اخلاقی و روحانی انقلاب کا داعی ہو جس سے ایک عالم متمتع ہوسکے۔‘‘

مرتبہ مستجاب الدعوات

حضرت فرید ملت رحمہ اللّٰہ نے 1948ء میں طوافِ کعبہ کے بعد مقام ملتزم پر کھڑے ہو کر غلاف کعبہ کو تھامے ہوئے جو دعاکی تھی بارگاہِ الٰہی میں مستجاب ہوئی۔ او ر آپ کے ہاں 19 فروری 1951ء بروز پیر بیٹا پیدا ہوا جو آج نابغۂ عصر بانی تحریک منہاج القرآن شیخ الاسلام علامہ پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی صورت میں قومی اور بین الاقوامی سطح پر پسی ہوئی ملت اسلامیہ کے درد کی آواز بن کر باطل استحصالی اور اسلام دشمن قوتوں کی سرکوبی کے لئے اپنی شبانہ روز جدوجہد میں مصروف عمل ہے۔

حضور نبی اکرم ﷺ کی زیارت اور آپ ﷺ کا حکم

جب حضرت فرید ملت رحمہ اللّٰہ کی دعائوں کے ثمر آپ رحمہ اللّٰہ کے لخت جگر ’’محمد طاہر‘‘ کی عمر 12 سال کی ہوئی تو آپ رحمہ اللّٰہ کو خواب میں حضور ﷺ کی زیارت کا شرف حاصل ہوا جس میں محبوب رب کائنات ﷺ نے انہیں حکم دیا ’’طاہر کو ہمارے پاس لائو۔‘‘

قائد انقلاب کی روحانی تربیت کا اہتمام

حضرت فرید ملت رحمہ اللّٰہ جس خزینہ معرفت سے اللہ تعالیٰ کے خصوصی لطف و کرم کے ذریعے فیضیاب ہو کر روحانیت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہو چکے تھے۔ آپ رحمہ اللّٰہکی دلی خواہش تھی کہ یہ دولت عظمیٰ ان کے فرزند دلبند کو بھی نصیب ہو۔ اس لئے انہوں نے قائد انقلاب کو بچپن ہی سے باقاعدہ اور مسلسل تربیتی مراحل سے اپنی نگرانی میں گزارا۔ اپنی صحبت و تربیت کے زیر اثر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے عشق و محبت، دین اسلام کی چاہت و رغبت روحانی اعمال و احوال کے ساتھ قلبی لگائو یہ تمام چیزیں بچپن ہی سے ان کے اندر راسخ کر دی تھیں۔ سن شعور سے قبل ہی آپ کو اپنے ساتھ نماز ادا کرنے کی عادت ڈالی، اوائل عمری ہی میں قرآن مجید کی ناظرہ تعلیم کی تکمیل کا اہتمام کیا اور بعد ازاں اپنی تربیت و صحبت سے رات کو اُٹھنے کی عادت بھی قابل رشک طریقے سے پیدا فرمائی۔ انہوں نے اپنی زبان مبارک سے قائد انقلاب کو رات تہجد کے لئے کبھی نہ فرمایا کہ ’’تہجد کے لئے اُٹھو‘‘ بلکہ معمول یہ تھا کہ جب خود اُٹھتے تو سردیوں کی راتوں میں سوہن حلوہ یا بسکٹ یا ایسی ہی کوئی اور چیز تیار کر کے اس کے ساتھ دودھ گرم کر کے ان کے بستر کے قریب لا کر رکھ دیتے۔ اور وضو کے لئے پانی خود اپنے ہاتھ سے گرم کر کے ان کے پاس رکھ دیتے۔ آپ رحمہ اللّٰہ کے قدموں کی آہٹ سے خود بخود شیخ الاسلام کی آنکھ کھل جاتی تو آپ رحمہ اللّٰہ کمال محبت و شفقت سے فرماتے ’’بیٹے میں نے تمہارے وضو کے لئے پانی گرم کر کے رکھ دیا ہے۔ اور کچھ دودھ اور سوہن حلوہ ہے وضو کر کے کھا لینا۔‘‘ اس طرح ایک احسن ترغیب سے بالواسطہ ایک مستقل عادت شب بیداری آپ کے اندر پیدا کرنے کا اہتمام فرمادیا۔

خواب میں حضور ﷺ کی زیارت کا شرف اور حضرت علامہ اقبالؒ سے ملاقات

حضرت فرید ملت رحمہ اللّٰہ کی اپنے فرزند ارجمند محمد طاہرالقادری کو ڈاکٹر بنانے کی بڑی تمنا تھی ان کی خواہش تھی کہ ان کے ڈاکٹر بننے کے بعد ہم بمعہ اہل و عیال مدینہ طیبہ مستقل طور پر رہائش پذیر ہو جائیں گے۔ اس زمانے میں میرٹ بہت زیادہ سخت ہوتا تھا قائد انقلاب نے ایف ایس سی کے امتحان میں 616مارکس حاصل کئے جبکہ ایم بی بی ایس میں داخل کے آخری لڑکے کے مارکس 617 تھے۔ صرف ایک نمبر کے Margin کی صورت حال کے پیش نظر حضرت فرید ملت رحمہ اللّٰہ نے رب العزت کی بارگاہ میں دعا کی قبولیت کی التجا کی مگر قائد انقلاب اس زمانہ تک محسوس کر چکے تھے کہ انہیں یہ لائن اختیار کرنے کی بجائے کچھ اور کام کرنا ہے اسی اثناء میں فرید ملت رحمہ اللّٰہ کو خواب میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی زیارت کے شر ف سے نوازا، انہوں نے خواب میں سرور کائنات ﷺ کو ایک گاڑی میں سوار دیکھا اور حضرت علامہ اقبال رحمہ اللّٰہ بھی آپ ﷺ کی خدمت میں نظر آئے حضور ﷺ نے حضرت فرید ملت رحمہ اللّٰہ کو بھی اپنے ساتھ سوار ہونے کا حکم دیا۔ آپ بھی بیٹھ گئے جب گاڑی چل دی تو حضور ﷺ نے فرمایا ’’کہ فرید الدین پیچھے دیکھو کون ہے پچھلی سیٹ پر علامہ اقبال رحمہ اللّٰہ بیٹھے تھے۔ جنہیں آپ نے دیکھتے ہی پہچان لیا (کیونکہ علامہ رحمہ اللّٰہ کی زندگی میں آپ کو دو تین مرتبہ ان کی خدمت میں بیٹھنے کا موقع مل چکا تھا) اور عرض کی حضور یہ تو ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ہیں۔ یہ سن کر حضور ﷺ نے تبسم فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ ہم طاہر کو ایسا ہی بنانا چاہتے ہیں۔ صبح انہوں نے یہ بشارت شیخ الاسلام کو سنا دی اور مبارک باد دیتے ہوئے کہا تمہارا منصوبہ کامیاب ہوگیا۔ واقعہ یہ ہے کہ مجھے مغالطہ تھا میں تمہارا کیریئر متعین کرنا چاہتا تھا۔ اور امر یہ ہے کہ جس بارگاہ سے میںنے تمہیں مانگا تھا تمہارے کیرئر کا فیصلہ وہاں سے ہو چکا ہے۔‘‘

فرید ملت رحمہ اللّٰہ کا روحانی کشف

1۔ پہلا واقعہ: حادثے کی پیشگی خبر

’’میں 1972ء میں پنجاب یونیورسٹی میں ایم اے کا طالب علم تھا میں نے گھر خیریت کا خط لکھا اور اسے لفافے میں بند کر کے رکھ لیا کہ اولڈ کیمپس کے ڈاک خانے سے پوسٹ کردوں گا مگر وہ لفافہ میری جیب میں ہی پڑا رہا۔ اور اسے حوالہ ڈاک کرنے کی نوبت نہ آسکی۔ ہوا یہ کہ اس رات خواب میں حضور پیر صاحب رحمہ اللّٰہ کی زیارت ہوئی۔ میں باہر بیٹھا ہوا ہوں کہ کیا دیکھتا ہوں اچانک دروازہ کھلتا ہے۔ حضرت بعجلت تمام بغیر قمیض پہنے دوڑے ہوئے آتے ہیں۔ وہ مجھے تھپکی دیتے ہیں اور فرماتے ہیں ’’اللہ آپ کی حفاظت فرمائے‘‘ آپ یہ کلمات تین بار دہراتے ہیں کہ اتنے میں میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

دوسرے دن ہڑتال، احتجاجی مظاہروں اور غیر متوقع دگر گوں واقعات کے نتیجے میں یونیورسٹی بند ہو گئی۔اور میں جھنگ جانے کے لئے روانہ وا۔ دوسرے مسافروں کے ہمراہ بس میں سوار تھا۔ رات کے کوئی دس بج چکے تھے کہ جھنگ سے دس بارہ میل ادھر موچی والا کے مقام سے آگے ایک اندھا موڑ Blind Turn آتا ہے جہاں ایک گہرا کھڈ تھا۔ غالباً ان دنوں سیلاب آئے ہوئے تھے۔ اچانک اس جگہ ہماری بس کسی چیز سے ٹکرائی اور بہت بڑا ایکسیڈنٹ ہوگیا۔ ہمیں کچھ خبر نہ ہوئی کہ مسافروں کے ساتھ کیا بیتی، بس گہرے کھڈ میں گر کر بالکل تباہ ہوچکی تھی لیکن اللہ تعالیٰ کی شان کہ اتنے بڑے حادثے کے باوجود ڈرائیور سمیت سب کی جانیں بچ گئیں۔ جب روشنی کی گئی تو سب کے سب مسافر صحیح سلامت تھے۔ یہ ماجرا دیکھ کر سب لوگ بے ساختہ پکار اُٹھے کہ ’’آج کسی کے صدقے ہمیں اللہ نے بچا لیا ہے۔‘‘

جب کوئی ڈیڑھ بجے رات میں گھر پہنچا تو اباجی قبلہ رحمہ اللّٰہ سخت پریشانی کے عالم میں تھے۔ انہوں نے مجھے دیکھتے ہی یہ سوال کیا’’خیریت تو ہے؟‘‘ انہوں نے یہ سوال بار بار دہرایا اور میں نے پوچھا ’’ابا جی قبلہ آپ کو کیا تشویش لاحق ہے؟‘‘ فرمانے لگے کل رات میں نے خواب میں دیکھا کہ سخت پریشان ہوں جیسے کوئی بڑا حادثہ پیش آنے والا ہے۔ اچانک میرے ہاتھ میں ایک لوح (تختی) تھما دی گئی جس پر لکھے گئے الفاظ پڑھے نہیں جاتے تھے۔ مجھے کہا گیا کہ تختی کو دھو ڈالو جونہی تختی کو دھویا گیا ساری پریشانی رفع ہو گئی اور طبیعت کو اطمینان نصیب ہوگیا۔ ان کی یہ بات سننے کے بعد میں نے ابا جی حضور کو راستہ میں پیش آنے والے اپنے حادثے کے بارے میں تمام تفصیل بتا دی۔‘‘

2۔ دوسرا واقعہ: والدہ محترم کے انتقال کی خبر

’’ابا جی قبلہ رحمہ اللّٰہ نے اس بات کا کئی بار مجھ سے ذکر کیا۔ خود مجھ سے بالمشافہ اور والدہ مرحومہ سے بھی وہ یہ کہ بیٹا آپ ایف ایس سی کا امتحان دے چکے ہوں گے اور ابھی آپ کا نتیجہ نہیں آئے گا کہ گھر کا سورج غروب ہو جائے گا۔ کئی بار پوچھا کہ ابا جان اس کا کیا مطلب ہے لیکن وہ خاموش ہو جاتے۔ کرنا خدا کا کیا ہوا کہ میرا ایف ایسی سی کا امتحان ختم ہوگیا اور ابھی رزلٹ کا انتظار تھا کہ والدہ ماجدہ انتقال فرما گئیں۔ ان کی وفات کے بعد وہ حقیقت مجھ پر خود بخود منکشف ہوگئی۔ جو والد گرامی رحمہ اللّٰہ کئی بار اشاروں، کنائیوں میں پہلے ہی مجھے بتا چکے تھے۔ یہ بات یاد رہے کہ والدہ مرحومہ کانام خورشید بیگم تھا اور عربی زبان میں خورشید سورج کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔‘‘

3۔ تیسرا واقعہ: خواب کی تعبیر

یہ 1972ء کا واقعہ ہے میں ان دنوں پنجاب یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا بنگلہ دیش کے سلسلے میں غالباً کوئی احتجاجی مظاہرہ ہوا تھا جس کے بعد یونیورسٹی بند کر دی گئی اور میں جھنگ آگیا۔ نو اور دس جون کی درمیانی رات تھی میں ابا جی قبلہ کی چارپائی پر بیٹھا ہوا تھا۔ اباجان لیٹے ہوئے تھے اور ان کا جسم تھکن سے بوجھل تھا۔ ان کا عام معمول یہ تھا کہ تقاضے کے باوجود مجھ سے جسم نہیں دبواتے تھے اور یہ خدمت میرے چھوٹے بھوئی جاوید سے لیتے تھے۔ لیکن اس رات انہوں نے مجھے دبانے کی اجازت دے دی۔ جب گھر کے سارے افراد سو گئے تو انہوں نے مجھ سے اپنا ایک خواب بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے دیکھا کہ ہمارے گھر میں ایک سفید گھوڑا بندھا ہوا ہے جسے میں نے بڑے پیار سے بچپن سے پالا تھا۔ اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ کہیں سے دو آدمی ظاہر ہوئے اور گھوڑے کو لے کر مغرب کی جانب ہوا میں اُڑ گئے۔ میں نے خواب میں یہ ماجرا اپنے دادا جان سے بیان کیا تو فرمانے لگے۔ ’’فرید الدین دیکھو پیچھے کیا چھوڑ گئے ہیں‘‘ جب میں نے پیچھے دیکھا تو چارپائی پر ایک میت لیٹی ہوئی پائی۔ میری نگاہ اس میت کے دائیں ہاتھ پر پڑی تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس کا دائیاں ہاتھ کچھ پکڑنے کی حالت میں بند ہے میں یہ دیکھ کر حیران و پریشان ہوگیا اور اس کے ساتھ میری آنکھ کھل گئی‘‘ یہ خواب بیان کر کے قبلہ والد صاحب مجھ سے فرمانے لگے’’بیٹا اس خواب کی کیا تعبیر ہے؟میں نے عرض کیا، ’’خواب بڑا واضح ہے کہ گھوڑے سے مراد وہ مرد ہے جسے آپ نے بڑی محبت سے بچپن سے لے کر جوانی تک پالا ہے یہاں تک تو ٹھیک ہے لیکن دائیں ہاتھ کا اس طرح بند ہونا چہ معنی دارد؟‘‘ یہ میں نہیں سمجھ سکا۔‘‘

اگلے دن صبح دروازے پر دستک ہوئی باہر جا کر دیکھا تو ڈسکے سے کوئی پولیس کا انسپکٹر اطلاع دینے آیا تھا کہ آپ کے چچا جان کا انتقال ہوگیا ہے میں نے پوچھا کیسے تو وہ کہنے لگا ’’دفتر میںان کو دل کا دورہ پڑا جس سے ان کی موت واقع ہوگئی‘‘ جب ہم وہاں پہنچے تو یہ دیکھ کر حیرت کی انتہاء نہ رہی کہ جب میت کو ٹرک سے اُتارا گیا اور کپڑا ہٹایا گیا تو ان کے دائیں ہاتھ کی مٹھی اسی طرح بند تھی جس طرح خواب میں دیکھا گیا تھا۔

تفصیلات دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ چچا جان ان دنوں ڈسکہ ریلیف کیمپ میں تعینات تھے، شکر گڑھ سے جو لوگ ریلیف کیمپ میں آئے تھے وہ انہیں پیسوں کی ادائیگی اپنے ہاتھ سے کرتے تھے اور رجسٹر پر اپنے ہاتھ سے نام لکھ کر انگوٹھا لگواتے تھے۔ وہ اس وقت کسی کا ہاتھ پکڑ کر انگوٹھا لگوا رہے تھے کہ اسی حالت میں ان کی موت واقع ہوگئی۔ واضح رہے کہ والد صاحب قبلہ نے خواب 8 جون کو دیکھا تھا اور 9 جون کو مجھے بیان کر دیا تھا جبکہ چچا جان کی موت دس جون کو ہوئی۔ یہ رویت صادقہ اور قبل از وقت کشف کا معاملہ تھا اور یہ کوئی اتنی تعجب کی بات نہیں ہے کیونکہ اولیاء و صلحاء پر کشف کی صورت میں مستقبل میں رونما ہونے والے واقعات منکشف ہوجایا کرتے ہیں۔

شب بیداری کا معمول

آپ رحمہ اللّٰہ راتوں کو اُٹھ کر اپنے مولا کے حضور گریہ و زاری کرتے اور رو رو کر دعائیں مانگتے۔ خشوع و خضوع کے ساتھ بارگاہ صمدیت میں سلسلہ آہ و فغاں جاری رہتا۔ قائد انقلاب اپنی پانچ سال عمر یعنی سن شعور سے قبل کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں’’جب میں چھوٹا تھا تو رات کو اچانک آنکھ کھلنے پر میں دیکھتا کہ والد گرامی رحمہ اللّٰہ نصف شب کے بعد مصلیٰ پر عبادت میں مشغول ہیں اور زار و قطار روتے چلے جا رہے ہیں۔ مجھے وہ زمانہ یاد ہے کہ میں اپنی والدہ ماجدہ سے اس وقت پوچھتا تھا کہ ابا جان کیوں رو رہے ہیں وہ مجھے فرماتیں بیٹا! یہ عبادت کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں رو رو کر اپنی التجائیں کرتے ہیں۔‘‘

اوراد و وظائف اور معمولات

آپ رحمہ اللّٰہ شب زندہ دار تھے۔ رات کو بہت تھوری دیر کے لئے سوتے اور نصف شب کے بعد نماز فجر سے بہت پہلے بیدار ہو جاتے۔ پھر تہجد سے لے کر نماز اشراق اور نماز چاشت تک مسلسل مصلیٰ پر چھ سات گھنٹے اللہ کی عبادت میں گزرتے۔ ان کا معمول تھا کبھی کھڑے ہو کر اور کبھی بیٹھ کر قصیدہ بردہ شریف کے 162 شعار ہر رات دست بستہ ہو کر اور مدینہ طیبہ کی طرف متوجہ ہو کر ایک خاص لے میں مخصوص ترنم کے ساتھ پڑھتے۔ حضور سیدنا غوث الاعظمؓ کی طرف متوجہ ہو کر قصیدہ غوثیہ شریف کا ورد کرتے۔

حیاتِ مستعار کا آخری دور

صاحبان عرفان ہر وقت خاموش اور پُرسکون لبوں سے فریضۂ دائمی میں مستغرق رہتے ہیں۔ واصلان حق ہر وقت بارگاہ صمدیت میں حاضر اور رب کائنات کے حج میں مصروف و مشغول رہتے ہیں۔ اس عالم کیف و سرور میں انہیں سوائے اپنے مولا کے کسی کا وہم و خیال تک نہیں رہتا۔ اور ہمہ وقت ان پر عجیب طرح کی معصومیت جلوہ گر رہتی ہے۔ حضرت فرید ملت رحمہ اللّٰہ کی زندگی کے آخری دور میں جو تادم وصال رہا ان پر یہی کیفیت طاری رہی۔ ان کی زندگی کا یہ دور سراسر روحانی دور تھا جس میں صوفیانہ ذوق عروج پر تھا۔ اس دور میں آپ پر عشق و مستی درد و سوز اور گریہ وزاری کی کثرت انتہا تک پہنچ چکی تھی۔ان کی یہ حالت سراسر عشق مصطفی ﷺ میں مکمل محویت کی عکاس تھی۔ اس دور میں مطالعہ کا ذوق جو سالہا سال پر محیط تھا آپ نے سمیٹ کر ایک طرف رکھ دیا۔ یہ قرآن و حدیث کے علاوہ صرف ایک کتاب ان کی رفیق رہ گئی اور وہ تھی مثنوی مولانا روم رحمہ اللّٰہ جسے رات گئے تک آپ رحمہ اللّٰہ اپنے ایک مخصوص مترنم انداز میں پڑھتے رہتے۔ اور ساتھ ہی ہچکیاں لے کے روتے جاتے۔ رات کو مقرر وقت پر مثنوی شریف پڑھتے اورادووظائف کرنے کے بعد مصلیٰ پر کھڑے ہو جاتے اور مسلسل چھ ساتھ گھنٹے اسی پر گذار دیتے۔

ہم عصر اہل اللہ کے دل میں آپ کا احترام

جھنگ میں صالح محمد نامی ایک اہل قلب و نظر بزرگ تھے۔ جو سو سال تک پرانی عیدگاہ جھنگ میں امامت کراتے رہے۔ خود اپنے ہاتھ سے عیدگاہ کی جاروب کشی کرنا ان کا معمول تھا۔ یہاں جھاڑو دینے کے دوران ہی ایک دفعہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے عالم بیداری میں انہیں شرف زیارت بخشا۔ حضرت صالح محمد رحمہ اللّٰہ کو ملائکہ کی بھی زیارت ہوتی تھی۔ اور روحانیت کے بڑے بلند مرتبہ پر فائز تھے۔ ان کے ایک شیخ نے جو مجذوب تھے انہیں بڑے کٹھن مجاہدوں میں سے گزارا تھا۔ ان کایہ عالم تھا کہ ہمیشہ جب بھی حضرت فرید ملت رحمہ اللّٰہ کو گلی سے گزرتا دیکھتے ہاتھ باندھ کر دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑے ہو جاتے۔ مبادا انہیں پشت نہ ہو جائے۔ آپ کے وہاں سے گذر جانے کے بعد وہاںسے چل پڑتے ایسا کرنے کی وجہ یہ بتاتے کہ (اللہ تعالیٰ نے انہیں بہت اونچے درجات عطا کر رکھے ہیں۔ ہم ان کو بڑے بڑے اولیاء اللہ کی مجالس میں دیکھتے ہیں۔ بڑی بڑی کچہریوں میں یہ حاضر ہوتے ہیں مگر کچھ حکمتیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں ان کے درجات کو پوشیدہ رکھا ہوا ہے اللہ تعالیٰ جب چاہے گا ان کی شہرت کا اظہار فرما دے گا)۔

آخری ایام

آخری آیام میں آپ کا شب بیداری کا معمول بڑھ گیا تو نوافل کثرت سے پڑھنے لگے گریہ زاری میں اضافہ ہوگیا۔ کافی کافی دیر تک رقت طاری رہنے لگی۔ رمضان شریف کی ستائیسویں تاریخ تھی۔ تراویح میں قرآن پاک کی تلاوت جاری تھی کہ دل کا دورہ پڑا اس علالت کے نتیجے میں جان جان آفریں کے سپرد کی۔ آخری لمحات میں سر اقدس قائد انقلاب کی گود میں تھا۔ اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُونَ.

آخری وصیتیں

وصال مبارک کے وقت آپ نے جو وصیتیں فرمائیں ان میں سے کچھ خصوصی طور پر قائد انقلاب سے متعلقہ تھیں جن کا پتہ نہیں چل سکا البتہ ان میں سے ایک جو معلوم ہو سکی اس میں آپرحمہ اللّٰہ نے قائد انقلاب کو فرمایا ’’بیٹے، زندگی میں ہر حال میں صدقہ ضرورت کرتے رہنا، پاس کچھ ہو یا نہ ہو صدقہ ضرور کرتے رہنا یہ حضور نبی اکرم ﷺ کی پسندیدہ ترین سنتوں میں سے ہے۔‘‘

کیفیات بعد از وصال

محمد اقبال منہاس جو بہت عرصہ ریلوے میںمجسٹریٹ رہے۔ اب ریٹائر ہو چکے ہیں ان کے حضرت فرید ملت رحمہ اللّٰہ کے ساتھ دوستانہ مراسم تھے، کشف قبور کے عامل ہیں۔ آپ رحمہ اللّٰہ کے وصال پر تعزیت کے لئے آئے اور وہاں پر موجود ہزاروں افراد کی موجودگی میں جن برزخی حالات کا وہ حضرت فرید ملت رحمہ اللّٰہ کی قبر مبارک پر مشاہدہ کر چکے تھے۔ وہ مشاہدات انہوں نے رو رو کر بیان کرتے ہوئے کہا ’’میں نے ایک بہت ہی وسیع و عریض اور عالیشان میدان دیکھا ہے جس میں حد نگاہ تک درخت ہی درخت ہیں۔ اور ڈاکٹر فرید الدین رحمہ اللّٰہ کو اللہ تعالیٰ نے بڑے اعلیٰ مدارج اور بلند مقامات عطا کر رکھے ہیں جو جلیل القدر اولیاء اللہ عظیم المرتبت فقراء اور بڑے بڑے عشاق کو نصیب ہوتے ہیں۔‘‘

بعد از وصال قائد انقلاب کو شرف زیارت اور ہدایت و رہنمائی

فرید ملت رحمہ اللّٰہ کے وصال کے دس روز بعد قائد انقلاب کو خواب میں ان کی زیارت کا شرف حاصل ہوا تو آپ نے والد گرامی سے تین سوالات کئے:

  1. ’’جنازے کے بعد جب ہم نے آپ کے چہرہ مبارک کی زیارت کی تو آپ مسکرا رہے تھے مسکراہٹ کا سبب کیا تھا؟
  2. وصال کے دس روز بعد آج آپ سے شرف ملاقات نصیب ہوا دس روز تک ملاقات نہ ہوسکنے کی کیا وجہ تھی؟
  3. تیسرا سوال یہ تھا کہ حدیث پاک میں مذکور ہے کہ قبر میں نکیرین میت سے آکر پوچھتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے؟ تیرا نبی کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے؟ تو آپ فرمائیں کہ آپ نے کیا جواب دیا اور وہ معاملہ کیسے ہوا۔‘‘

ان تینوں سوالات کے جواب میں آپ نے فرمایا:

  1. ’’مسکراہٹ کا سبب یہ تھا کہ جنازہ کے فوراً ہی بعد میری عالم بالا کی سیر شروع ہوگئی تھی۔ اس وقت تمام پردے اُٹھا دئیے گئے، عالم آخرت اور عالم عقبیٰ کے مقامات، باغات جنت اور علییّن کی اعلیٰ سیرگاہیں اللہ پاک نے مجھے دکھانا شروع کر دی تھیں ان خصوصی انعامات کو دیکھ کر میں ہنس اور مسکرا رہا تھا۔
  2. ’’دس روز تک نہ ملنے کا سبب بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ مجھے دس روز تک ہی عالم کی سیر کرائی جاتی رہی۔ آج ہی اس سے فارغ ہوا ہوں اور ملنے کے لئے آگیا ہوں۔‘‘
  3. ’’تیسرے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا بیٹے، جب نکیرین سوال کے لئے میری قبر پر آئے تو میں اس وقت نماز عصر پڑھ رہا تھا۔ مجھے نماز پڑھتے دیکھا تو واپس چلے گئے اور مڑ کر نہیں آئے۔‘‘

قائد انقلاب کی اہلیہ محترمہ اختناق الرحم کی مرض میں مبتلا ہوگئیں۔ گھر کا سارا سکون برباد ہوگیا۔ چھ سات ماہ تک مسلسل ہر قسم کا ایلوپیتھک، ہومیو پیتھک اور حکیموں کا بہترین سے بہترین علاج کروانے کے باوجود صحت یاب نہ ہوئیں۔ بڑی پریشانی لاحق ہوگئی۔ فکر و اندوہ کے اسی عالم میں ایک شب خواب میں حضرت فرید ملت رحمہ اللّٰہ نے قائد انقلاب کو شرف زیارت بخشا اور خواب ہی میں انہیں اپنے قلمی مخطوطہ موسوم بہ ’’تفرید الفرید‘‘ جو گھر میں موجود تھا، لانے کے لئے کہا اور اس کے خاص صفحات پر تحریر شدہ نسخہ استعمال کرانے کی ہدایت فرمائی اور باقی تما م ادویات ترک کر دینے کا حکم دیا۔ اس نسخہ کے استعمال سے دو تین ماہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے محترمہ مکمل طور پر صحت یاب ہوگئیں۔ آج طویل عرصہ بیت جانے کے باوجود دوبارہ تکلیف نہیں ہوئی۔ وہ نسخہ جب حکیم مہر محمد شفیق افضل جو کہ جھنگ کے معروف اور کامیاب معالج تھے کو دکھایا گیا تو یہ واقعہ سن کر اور نسخہ دیکھ کر ورطہ حیرت میں پڑ گئے۔ اور کہا کہ اس مرض میں یہ نسخہ اپنی تخلیق کا شاہکار ہے انہوں نے آئندہ اس مرض کے تمام مریضوں کو یہی نسخہ استعمال کرانا شروع کر دیا۔

اسی طرح قائد انقلاب کی ہمشیرہ محترمہ مسرت جبیں کا دماغی توازن مختل ہوگیا۔ گھر میں ڈاکٹر محمد احسن ایم ایس جھنگ کے زیر علاج رہیں۔ دیگر ڈاکٹروں اور معالجین سے بھرپور علاج کروایا، تمام ڈاکٹروں نے مرض کو لاعلاج قرار دیا۔ لاہور کے دماغی امراض کے ہسپتال سے بھی علاج کروایا، مگر کوئی افاقہ نہ ہوا، ساری رات اسے پکڑ کر گذارتے، وہ چیختیں اور اُٹھ ااُٹھ کر بھاگتیں، موصوفہ مسلسل ایک سال ناقابل بیان کرب و اذیت میں مبتلا رہیں۔ ان کی اس مرض نے گھر کا سکون برباد کر دیا۔ جب پریشانی انتہاء کو پہنچ گئی تو حضرت شیخ الاسلام کو خواب میں والد گرامی حضرت فرید الدین رحمہ اللّٰہ تشریف لائے اور انہیں ہومیو پیتھک میڈیسن کالی فاس، ایکس 6 جو کسی جرمنی فرم کی تیارشدہ تھی استعمال کرانے کے لئے کہا۔ صبح اُٹھ کر قائد انقلاب نے وہ نام نوٹ کر لیا اور جھنگ کے ایک معالج ڈاکٹر خالد اکبر حیات صاحب (جو کہ رانا جاوید مجید القادری کے ہم زلف ہیں) سے اس نسخہ کے بارے میں پوچھا انہوں نے فیصل آباد کی ایک فارمیسی کا پتہ بتایا۔ جہاں سے وہ دوائی مل گئی۔ اور بفضلہ تعالیٰ دو تین کورس سے انہیں مکمل صحت یابی ہوگئی اور پھر دوبارہ کبھی تکلیف نہیں ہوئی۔

Copyrights © 2024 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved