Al-Fuyudat al-Muhammadiyya

باب 3 :وظائف النسبات

(راهِ سلوک میں روحانی نسبتوں کے حصول کے وظائف)

اس باب میں اُن سات نسبتوں کا بیان ہے جو سالک کو راهِ سلوک میں حسبِ حال نصیب ہوتی ہیں۔ کسی شخص میں ایک، کسی میں دو اور بعضوں میں ساتوں نسبتوں کا اجتماع بھی ہوجاتا ہے۔

ان نسبتوں کی طرف میلان کا اندازہ کسی بھی شخص کو اس کے اپنے روحانی مزاج، قلبی، باطنی اور طبعی رغبت اور کیفیت کے جائزہ سے بآسانی ہوسکتا ہے۔ لہٰذا جو شخص جس نسبت کا ملکہ اپنی طبیعت میں محسوس کرے وہ اس نسبت کا وظیفہ شروع کرے۔ اگر کسی کے اندر ایک سے زائد نسبتوں کا مَلکہ پایا جائے تو ان میں سے جس نسبت کی طرف رغبت زیادہ ہو اس کا وظیفہ شروع کرے اور اگر دو نسبتوں کی طرف برابر میلان ہو تو دونوں وظیفوں کا معمول اپنائیں۔

علمی اور فنی حوالے سے ان نسبتوں کا بیان انشاء اللہ آئندہ کسی ایڈیشن میں شامل کیا جائے گا۔ وہ سات نسبتیں یہ ہیں:

  1. نسبتِ طہارت
  2. نسبتِ طاعت
  3. نسبتِ اویسیہ
  4. نسبتِ یادداشت
  5. نسبتِ توحید
  6. نسبتِ عشق
  7. نسبتِ وجد

جبکہ پہلے زمانوں میں ان نسبتوں کے علاوہ بھی اولیاء کرام کو کئی نسبتیں حاصل تھیں:

  1. بعض اولیاء و صلحاء کو ’’نسبتِ احسان‘‘ حاصل تھی۔
  2. بعض نے ’’نسبت تجرد‘‘ پائی تھی۔
  3. بعض نے ’’نسبتِ جذب‘‘ کے ذریعے کمال پایا تھا۔ اور
  4. بعض میں دو یا دو سے زیادہ نسبتوں کا اجتماع بھی ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ سب اولیاء و صلحاء کے احوال یکساں نہیں ہوتے۔

اب مذکورہ بالا سات نسبتوں کی تفصیل بیان کی جاتی ہے:

پہلی نسبت: نسبتِ طہارت

نسبتِ طہارت کے حصول کے وظائف

نسبتِ طہارت کے حصول کے لئے دلجمعی اور قلبی شوق و محبت کے ساتھ درج ذیل اسماء اور آیات کا بطور وظیفہ کثرت سے پڑھنا مفید ہے۔

  1. یَا نُوْرُ یَا مُنَوِّرُ

  2. یَا طَاهِرُ یَا مُطَهِرُ

  3. آیۃ النور کا کثرت سے وِرد

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO

اللهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط مَثَلُ نُوْرِهٖ کَمِشْکٰوةٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌ ط اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَةٍ ط اَلزُّجَاجَةُ کَأَنَّهَا کَوْکَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَکَةٍ زَیْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِیَّةٍ وَّلَا غَرْبِیَّةٍ یَّکَادُ زَیْتُهَا یُضِٓیْئُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ ط نُوْرٌ عَلٰی نُوْرٍ ط یَھْدِی اللهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ ط وَ یَضْرِبُ اللهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ ط وَاللهُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌO (النور، 24: 35)

’’اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے اس کے نور کی مثال ( جو نور محمدی ﷺ کی شکل میں دنیا میں روشن ہوا) اس طاق (نما سینۂ اقدس) جیسی ہے جس میں چراغ (نبوت روشن ) ہے (وہ) چراغ فانوس (قلب محمدی) میں رکھا ہے (یہ) فانوس (نور الٰہی کے پرتو سے اس قدر منور ہے) گویا ایک درخشندہ ستارہ ہے (یہ چراغ نبوت) جو زیتون کے مبارک درخت سے روشن ہوا ہے نہ (فقط) شرقی ہے اور نہ غربی (بلکہ اپنے فیض نور کی وسعت میں عالمگیر ہے اس چراغ نبوت کی مثال یوں ہے جیسے) اس کا تیل چمک رہا ہو اگرچہ ابھی اسے (روحی ربانی اور معجزات آسمانی کی )آگ نے چھوا بھی نہ ہو (تو وہ ) نور کے اوپر ایک نور ہے اللہ جسے چاہتا ہے اپنے نور (کی معرفت) تک پہنچا دیتا ہے اور اللہ لوگوں (کی ہدایت) کے لئے مثالیں بیان فرماتا ہے اور اللہ ہر چیز سے خوب آگاہ ہے۔‘‘

  1. دعائے نور جو حضور ﷺ کے خصوصی اوراد سے ہے

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ لِیْ نُوْرًا فِیْ قَلْبِیْ، وَ نُوْرًا فِیْ قَبْرِیْ، وَ نُوْرًا مِنْ بَیْنَ یَدَیَّ، وَ نُوْرًا مِنْ خَلْفِیْ، وَ نُوْرًا عَنْ یَمِیْنِیْ، وَ نُوْرًا عَنْ شِمَالِیْ، وَ نُوْرًا مِنْ فَوْقِیْ، وَ نُوْرًا مِنْ تَحْتِیْ، وَ نُوْرًا فِیْ سَمْعِیْ، وَ نُوْرًا فِیْ بَصَرِیْ، وَ نُوْرًا فِیْ شَعْرِیْ، وَ نُوْرًا فِیْ بَشَرِیْ، وَ نُوْرًا فِیْ لَحْمِیْ، وَ نُوْرًا فِیْ دَمِیْ، وَ نُوْرًا فِیْ عِظَامِیْ. اَللّٰھُمَّ! أَعْظِمْ لِیْ نُوْرًا، وَ أَعْطِنِیْ نُوْرًا، وَ اجْعَلْ لِّیْ نُوْرًا.

  1. ترمذی، الجامع الصحیح، 5: 482، ابواب الداعوات، رقم: 3419
  2. بخاری، الصحیح، 5: 2327،کتاب الدعوات، رقم: 5957
  3. مسلم، الصحیح، 1: 526، کتاب صلاۃ المسافرین، رقم: 763

’’اے اللہ! میرے دل میں نور بھردے، میری قبر میںنور بھر دے، میرے آگے نور کردے، میرے پیچھے نور کر دے، میرے دائیں نور کر دے، میرے بائیںنور کر دے، میرے اوپر نور کر دے، میرے نیچے نورکردے، میری سماعت میں نور کر دے، میری بصارت میں نور کر دے، میرے بالوں میں نور کر دے، میری جلدمیں نور بھر دے، میرے گوشت میں نور بھر دے، میرے خون میں نور بھر دے اور میری ہڈیوں میں نور بھر دے۔ اے اللہ! میرے لئے نور کو بڑھا دے، مجھے نور عطا فرما اور مجھے نور ہی نور بنا دے۔‘‘

  1. سورۃ البقرۃ

إِنَّ اللهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِرِیْنَO (البقرۃ، 2: 222)

’’بیشک اللہ بہت توبہ کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے اور خوب پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔‘‘

  1. سورۃ المائدۃ

یٰآ أَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا إِذَا قُمْتُمْ إِلَی الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَکُمْ وَ أَیْدِیَکُمْ إِلَی الْمَرَافِقِ وَ امْسَحُوْا بِرُؤُوْسِکُمْ وَ أَرْجُلَکُمْ إِلَی الْکَعْبَیْنِ ط (المائدة، 5: 6)

’’اے ایمان والو! جب (تمہارا) نماز کے لیے کھڑے (ہونے کا ارادہ) ہو تو (وضو کے لیے) اپنے چہروں کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لو اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں (بھی) ٹخنوں سمیت (دھو لو)۔‘‘

قَدْ جَآئَکُمْ مِّنَ اللهِ نُورٌ وَّ کِتَابٌ مُّبِیْنٌO (المائدۃ، 5: 15)

’’بیشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور (یعنی حضرت محمد ﷺ ) آگیا ہے اور ایک روشن کتاب (یعنی قرآن مجید)۔

  1. سورۃ الأنعام

فَمَنْ یُّرِدِ اللهُ أَنْ یَّھْدِیَهٗ یَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْإِسْلَامِO (الانعام، 6: 125)

’’پس اللہ جس کسی کو (فضلاً) ہدایت دینے کا ارادہ فرماتا ہے (تو) اس کا سینہ اسلام کے لیے کشادہ فرما دیتا ہے۔‘‘

  1. سورۃ الأعراف

فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْٓ أُنْزِلَ مَعَهٗٓ أُولٰـئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَO (الاعراف، 7: 157)

’’پس جو لوگ ( برگزیدہ رسول ﷺ ) پر ایمان لائیں گے اور ان کی تعظیم و توقیر کریں گے اور ان (کے دین) کی مدد و نصرت کریں گے اور اس نور کی پیروی کریں گے جو ان کے ساتھ اتارا گیا ہے وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔‘‘

  1. سورۃ التوبۃ

یُرِیْدُوْنَ أَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللهِ بِأَفْوَاھِهِمْ وَیَاْبَی اللهُ اِلآَّ أَنْ یُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَ لَوْ کَرِهَ الْکَافِرُوْنَO (التوبہ، 9: 32)

’’وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کا نور اپنی پھونکوں سے بجھا دیں اور اللہ (یہ بات) قبول نہیں فرماتا مگر یہ (چاہتا ہے) کہ وہ اپنے نور کو کمال تک پہنچادے اگرچہ کفار(اسے) ناپسند ہی کریں۔‘‘

لَا تَقُمْ فِیْهِ أَبَدًا ط لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَی التَّقْوٰی مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ أَحَقُّ أَنْ تَقُوْمَ فِیْهِ ط فِیْهِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ أَنْ یَّتَطَهَّرُوْا وَاللّٰهُ یُحِبُّ الْمُطَّهِرِیْنَO (التوبہ، 9: 108)

’’(اے حبیب!) آپ اس (مسجد کے نام پربنائی گئی عمارت) میں کبھی بھی کھڑے نہ ہوں۔ البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے ہی دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے حقدار ہے کہ آپ اس میں قیام فرما ہوں۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو (ظاہراً و باطناً) پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ طہارت شعار لوگوں سے محبت فرماتا ہے۔‘‘

  1. سورۃ القصص

فَلَمَّا قَضٰی مُوْسَی الْأَجَلَ وَ سَارَ بِأَھْلِهٖٓ اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا ج قَالَ لِاَھْلِهِ امْکُثُوْٓا إِنِّیْٓ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْٓ اٰتِیْکُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ أَوْ جَذْوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّکُمْ تَصْطَلُوْنَO فَلَمَّآ أَتٰهَا نُوْدِیَ مِنْ شَاطِیئِ الْوَادِ الْاَیْمَنِ فِی الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَکَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ أَنْ یّٰمُوْسٰٓی إِنِّیْٓ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعَالَمِیْنَO (القصص، 28: 29۔30)

’’پھر جب موسیٰ نے مقررہ مدت پوری کرلی اور اپنے گھر والوں کو لے کر چلے تو کوهِ طور کی طرف سے ایک آگ دیکھی (وہ مانوس سا شعلہ محبت جو کسی اورکو نظر نہ آیا اور)اپنے گھروالوں سے کہا: ذرا ٹھہرو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے۔ شاید میں تمہارے پاس وہاں سے کوئی خبر لاؤں (کہ ہم کہاں ہیں اورکدھر جا رہے ہیں) یا آگ کا ایک انگارہ ہی لے آؤں تاکہ تم (اس سردی کی رات میں ہاتھ) سینکو۔ پھر جب اس (روشنی) کے قریب پہنچے تو (پہلی قربت کی علامت یہ تھی کہ) میدان کے داہنی جانب ایک مبارک مقام میں ایک درخت سے یہ آواز آئی کہ اے موسیٰ میں ہی اللہ ہوں سب جہانوں کا پالنے والا۔‘‘

  1. سورۃ الأحزاب

إِنَّمَا یُرِیْدُ اللهُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَھْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِرَکُمْ تَطْهِیْرًاO (الاحزاب، 33: 33)

’’اے (نبی کے) گھر والو اللہ چاہتا ہے کہ تم سے (ہر طرح کی ) آلودگی دور کر دے اور تم کو خوب پاک و صاف کردے۔ـ‘‘

ھُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْکُمْ وَ مَلَآئِکَتُهُ لِیُخْرِجَکُمْ مِّنَ الظُّلُمَاتِ اِلَی النُّوْرِ ط وَکَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًاO (الاحزاب، 33: 43)

’’وہی تو ہے جو تم پر اپنی رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی (دعائے مغفرت کرتے ہیں) تاکہ اللہ تعالیٰ تم کو تاریکیوں سے نور کی طرف لے آئے (ایمان کے بعد عالم انوار میں تم کو رواں دواں لے جائے تاکہ کسی ایک مقام میں ٹھہر جانے سے بھی ظلمت نہ آئے) اور اللہ مؤمنوں پر (آخرت میں بھی) بہت رحم فرمانے والا ہے (وہ ان کے گناہ بخشے گا انہیں بلند سے بلند تر مقام عطا فرمائے گا)۔‘‘

  1. سورۃ الزمر

أَفَمَنْ شَرَحَ اللهُ صَدْرَهٗ لِلْإِسْلَامِ فَھُوَ عَلٰی نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖ ط فَوَیْلٌ لِّلْقَاسِیَةِ قُلُوْبُھُمْ مِّنْ ذِکْرِ اللهِ ط أَولٰـئِکَ فِیْ ضَلَالٍ مُّبِیْنٍO (الزمر، 39: 22)

’’بھلا جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کشادہ کردیا ہو وہ تو اپنے رب کی طرف سے نور پر ہے (سر تا پا ہدایت بن جاتا ہے، سراپا نور ہوجاتا ہے، اس کا اس کافر سے کیا مقابلہ جو مبتلائے کفر ہے)، پس خرابی ہے ان کے لیے جن کے دل اللہ کی یاد کی طرف سے سخت ہوگئے ہیں، یہی لوگ صریح گمراہی میں ہیں۔‘‘

  1. سورۃ الشوریٰ

وَ کَذٰلِکَ أَوْحَیْنَآ إِلَیْکَ رُوْحًا مِّنْ أَمْرِنَا ط مَا کُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْکِتَابُ وَلَا الْإِیْمَانُ وَلٰـکِنْ جَعَلْنَاهُ نُوْرًا نَّھْدِیْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا ط وَ إِنَّکَ لَتَھْدِیْٓ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍO (الشوریٰ، 42: 52)

’’اور اسی طرح (اے حبیب!) ہم نے آپ کی طرف ایک جاں فزا حقیقت (یعنی قرآن) کو اپنے حکم سے بھیجا، (وہ کتاب جو تمام کتب سماویہ کا نچوڑ ہے) اور آپ (تو جمال الٰہی کے شیدائی تھے، آپ) نہ یہ جانتے تھے کہ کتاب (اللہ) کیا ہے اور نہ آپ کو یہ خبر تھی کہ (کمالِ) ایمان کیا ہے (تفصیلات میں اس کے انوار کی لذت کیا ہے) لیکن (اے حبیب) ہم نے اس (کتاب) کو نور (و انوار کا خزینہ) بنا دیا ہے اور اس کے ذریعہ ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں ہدایت دیتے ہیں (آپ جسے چاہیں نور و نورانیت میں لاکر راہ ہدایت دکھا سکتے ہیں) اور اس میںکچھ شبہ نہیں کہ آپ راهِ حق کی ہدایت کر رہے ہیں۔‘‘

  1. سورۃ الحدید

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

یَوْمَ تَرَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ یَسْعٰی نُوْرُھُمْ بَیْنَ أَیْدِیْھِمْ وَ بِأَیْمَانِھِمْ بُشْرَاکُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْھٰرُ خَالِدِیْنَ فِیْهَا ط ذٰلِکَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُO یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنَافِقُوْنَ وَالْمُنَافِقَاتُ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِکُمْ ج قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَٓائَکُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا ط فَضُرِبَ بَیْنَھُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ ط بَاطِنُهٗ فِیْهِ الرَّحْمَةُ وَ ظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُOط (الحدید، 57: 12،13)

’’جس دن آپ (اپنے) مؤمن مردوں اورمؤمن عورتوں کو دیکھیں گے کہ ان کے آگے (آگے) اور ان کے داہنے جانب ان کا نور دوڑتا ہوا چلا جا رہا ہو گا (جو ان کے ماحول کو روشن کیے ہو گا یہ ان کے ایمان اورعمل صالح کا نورہوگا۔ ان سے کہا جائے گا: لو) آج تم کو بشارت ہے ایسے باغوں کی جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں جہاں تم ہمیشہ رہوگے (اور اس جنت کا مل جانا اور پاجانا) یہی بڑی کامیابی ہے۔ (اس روز منافق اس روشنی کی تمنا کریں گے جس سے آج یہ منہ پھیر رہے ہیں۔) اس روز منافق مرد اور منافق عورتیں اہل ایمان سے کہیں گے کہ ذرا ٹھہرو تو (کیسی تیزی سے جا رہے ہو ذرا ہم کو بھی ساتھ لے لو) کہ ہم بھی تمہارے نور سے کچھ روشنی حاصل کرلیں، ان سے کہا جائے گا: (حصولِ نورکی جگہ، دنیا تھی، ہوسکے تو) تم پیچھے لوٹ جاؤ پھر (وہاں) روشنی تلاش کرو پھر ان کے (اور اہل ایمان کے) درمیان ایک دیوارکھڑی کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہو گا، اس کے اندر کی جانب رحمت ہوگی اور اس کے سامنے باہر کی طرف (جدھر منافق،کافر ہوں گے) عذاب ہو گا۔‘‘

  1. سورۃ التحریم

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

یٰٓا اَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْٓا اِلَی اللهِ تَوْبَۃً نَّصُوْحًا ط عَسٰی رَبُّکُمْ أَنْ یُّکَفِّرَعَنْکُمْ سَیِّئٰاتِکُمْ وَ یُدْخِلَکُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْھٰرُ یَوْمَ لَا یُخْزِی اللهُ النَّبِیَّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ ج نُوْرُھُمْ یَسْعٰی بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَ بِاَیْمَانِھِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ أَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَ اغْفِرْلَنَا ج إِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌO (التحریم، 66: 8)

’’اے ایمان والو! اللہ کے آگے سچے دل سے توبہ کرلو (یعنی گناہ کا خیال بھی نہ آئے اس میں کوئی لذت ہی باقی نہ رہے) امید ہے کہ تمہارا رب (معاف فرما کر) تمہارے گناہ تم سے دور کردے گا اور تم کو جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی (یہ وہ دن ہوگا) جس دن اللہ اپنے نبی کو اور ان لوگوں کو جو آپ کے ساتھ ایمان لائے رسوا نہ کرے گا (اس روز) ان کا نورِ (ایمان) ان کے آگے اور ان کے داہنی طرف دوڑتا چلا جاتا ہوگا، وہ دعا کرتے ہوں گے: اے ہمارے رب! ہمارا نورہمارے لیے مکمل فرما دے (عرش سے فرش تک منور ہوجائے سب نظر آئے) اور ہم کو بخش دے، بیشک تو ہر بات پر قادرہے۔‘‘

  1. سورۃ المدثر

یٰٓا اَیُّهَا الْمُدَّثِّرُO قُمْ فَاَنْذِرْO وَ رَبَّکَ فَکَبِّرْO وَ ثِیَابَکَ فَطَھِّرْO (المدثر، 74: 1۔4)

’’اے کپڑے میں لپٹنے والے (محبوب ﷺ !)۔ اٹھیے (اور پھر) لوگوں کو خدا کا خوف دلائیے (تاکہ وہ اپنے اعمالِ بد کے نتائج سے ڈریں)۔ اور اپنے پروردگار کی بڑائی (اور عظمت) بیان فرمائیے۔ اور اپنا لباس پاک رکھیئے۔‘‘

دوسری نسبت: نسبتِ طاعت

اسے نسبتِ سکینہ بھی کہتے ہیں۔

نسبتِ طاعت کے حصول کے وظائف

نسبتِ طاعت کے تین شعبہ جات ہیں:

1۔ حلاوتِ مناجات

2۔ شمولِ رحمت

3۔ انوارِ اسمائے الٰہیہ

1۔ حلاوتِ مناجات

اس کیلئے درج ذیل وظائف کا کثرت سے کرنا نہایت مفید ہے۔

1۔ کثرتِ نماز و عبادت

2۔ کثرتِ اذکار و تسبیحات

3۔ کثرتِ دعا اور کثرتِ توبہ و استغفار

4۔ کثرتِ مناجات

5۔ کثرتِ تعوذات

نوٹ: مناجات پر مشتمل بعض مجرب اَوراد اِسی کتاب کے حصہ چہارُم میں دیئے جا رہے ہیں۔

2۔ شمولِ رحمت

کثرت سے امور خیر اور اعمالِ صالحہ کی انجام دہی اور اخلاق حسنہ سے اس نسبت کا حصول بآسانی ممکن ہو جاتا ہے، مثلاً:

i۔ مجالس ذکر میں کثرت سے شرکت کرنا

ii۔ مجالس وعظ و علم میں کثرت سے شرکت کرنا

iii۔ صدقہ و خیرات کثرت سے کرنا

iv۔ قربانی، سخاوت، ایثار کثرت سے کرنا

v۔عیادت مریض، نماز جنازہ کا معمول رکھنا

vi ۔ غرباء و مساکین کی امداد اور دلجوئی کرنا

vii۔کعبۃ اللہ کی زیارت اور طواف وغیرہ کے اعمال کا ادا کرنا

3۔ انوارِ اسمائے الٰہی

اس کے حصول کے لئے دلجمعی اور قلبی شوق و محبت کے ساتھ درج ذیل اسماء اور آیات کا بطورِ وظیفہ کثرت سے پڑھنا مفید ہے:

  1. سب سے زیادہ مؤثر ذکر اللہ کا ہے۔

تازہ وضو کر کے اسم اللہ کا ذکر ایک نشست میں ایک ہزار (1000) مرتبہ کیا جائے۔ درمیانی ’’لام‘‘ کی شد(۔ّ) پر زور دینا لازمی ہے۔ آخر میں درود شریف حسبِ توفیق پڑھا جائے۔

    اَلْقُدُّوْسُ الرَّئُوْفُ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ الْغَفَّارُ الْوُدُوْدُ الْهَادِیُ الرَّزَّاقُ الْوَهَابُ الْوَاحِدُ الْقَهَارُ الْبَاقِیُ الْاَوَّلُ الْاٰخِرُ الْظَّاهِرُ الْبَاطِنُ الْتَّوَّابُ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ الْحَقُّ الْسَّلَامُ وغیرها کی طرح تمام اسمائے صفات کا کثرت سے ورد کرنا اس نسبت کا حصول اور تحقق آسان کر دیتا ہے۔

  1. آیۃ الکرسی کی بکثرت تلاوت

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO

اللهُ لَآ إِلٰهَ إِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لاَ نَوْمٌ ط لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ إِلَّا بِإِذْنِهٖ ط یَعْلَمُ مَا بَیْنَ أَیْدِیْھِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَلَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْئٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ إِلَّا بِمَا شَآءَ وَسِعَ کُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَا یَؤُوْدُهٗ حِفْظُھُمَا وَ ھُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُO (البقرۃ، 2: 255)

’’اللہ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے، (سارے عالم کو اپنی تدبیر سے) قائم رکھنے والا ہے نہ اس کو اونگھ آتی ہے اور نہ نیند، جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے، کون ایسا شخص ہے جو اس کے حضور اس کے اذن کے بغیر سفارش کر سکے، جو کچھ مخلوقات کے سامنے (ہو رہا ہے یا ہو چکا) اور جو کچھ ان کے بعد (ہونے والا) ہے (وہ) سب جانتا ہے اور وہ اس کی معلومات میں سے کسی چیز کا بھی احاطہ نہیں کر سکتے مگر جو وہ چاہے اور اس کی کرسی (سلطنت و قدرت) تمام آسمانوں اور زمین کو محیط ہے اور اس پر ان دونوں (یعنی زمین و آسمان) کی حفاظت ہرگز دشوار نہیں وہی سب سے بلند رتبہ بڑی عظمت والا ہے۔‘‘

  1. سورۃ ص

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَھُمَا الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُO (ص، 38: 66)

’’(وہی) آسمانوں اور زمین کا اور جو اس کے درمیان ہے سب کا پروردگار ہے بڑا زبردست، بڑا بخشنے والا ہے۔‘‘

  1. سورۃ الزمر

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

أَمَّنْ ھُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیْلِ سَاجِدًا وَّ قَآئِمًا یَّحْذَرُ الْاٰخِرَۃَ وَ یَرْجُوْا رَحْمَۃَ رَبِّهٖ ط قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ ط إِنَّمَا یَتَذَکَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِO قُلْ یَا عِبَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّکُمْ ط لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ ھٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ ط وَ اَرْضُ اللهِ وَاسِعَةٌ ط اِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوْنَ أَجْرَھُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍO قُلْ إِنِّیْٓ أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَO وَ اُمِرْتُ ِلاَنْ اَکُوْنَ اَوَّلَ الْمُسْلِمِیْنَO (الزمر، 39: 9۔12)

’’بھلا جو شخص بندگی میں لگا ہوا ہے رات کی گھڑیوں میں (بارگاهِ رب العزت میں) مصروف سجدہ اور قیام ہے۔ خوفِ آخرت رکھتا ہے۔ اپنے رب کی رحمت کا امید وار ہے (بھلا اس بندہ مومن کا اور کافر کا کیا مقابلہ) آپ فرما دیجئے کہ سمجھ والے اور بے سمجھ کہیں برابر ہوتے ہیں (لیکن یہ بات تو) وہی سوچتے ہیں (اور سمجھتے ہیں) جو صاحب عقل ہیں (وہی حصول علم میں کوشاں اور معرفت الٰہی کے جویا ہیں)۔ آپ (میری طرف سے) فرما دیجئے کہ اے میرے بندو جو ایمان لے آئے ہو اپنے رب سے ڈرتے رہو۔ (یاد رکھو کہ) جن لوگوں نے اس دنیا میں نیک کام کئے ان کے لئے (آخرکار) بھلائی ہے اور اللہ کی زمین (ان کے لئے) کشادہ ہے (وہ صبر سے حالات کا مقابلہ کریں یا ہجرت کریں بہر صورت) بلاشبہ صبر کرنے والوں ہی کو ان کے صبر کا پورا (اور) بے شمار اجر ملے گا۔ (اس دنیا میں تھوڑے صبر کا بڑا اجر ہے۔ اللہ خود صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے)۔ آپ فرما دیجئے کہ مجھے تو حکم ملا ہے کہ میں خلوص کے ساتھ اللہ کی عبادت محض اس کے لئے کروں۔ اور یہ بھی حکم ملا ہے کہ سب سے پہلے مسلمان میں ہوں۔‘‘

قُلْ یَا عِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓی أَنْفُسِھِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللهِ ط إِنَّ اللهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا ط إِنَّهٗ ھُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُO (الزمر، 39: 53)

’’آپ فرما دیجئے (میری طرف سے لوگوں سے کہہ دیجئے) اے میرے بندو جنہوں نے (کچھ الٹے سیدھے کام کرکے) اپنے آپ پر زیادتیاں کی ہیں ( حد سے گزرے ہیں) اللہ کی رحمت سے نا امید مت ہو۔ بیشک اللہ سب گناہ بخش دے گا بیشک وہ بڑا بخشنے (اور) بڑا رحم فرمانے والا ہے۔‘‘

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّھُمْ اِلَی الْجَنَّةِ زُمَرًا ط حَتّٰیٓ اِذَا جَآئُوْهَا وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَھُمْ خَزَنَتُهَا سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِیْنَO وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ وَ اَوْرَثَنَا الْأَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّةِ حَیْثُ نَشَآءُ ط فَنِعْمَ اَجْرُ الْعَامِلِیْنَO وَ تَرَی الْمَلَآئِکَۃَ حَآفِّیْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّھِمْ وَ قُضِیَ بَیْنَھُمْ بِالْحَقِّ وَ قِیْلَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَO (الزمر، 39: 73۔75)

’’اور جو لوگ اللہ سے ڈرتے رہے وہ جنت کی طرف (ذوق و شوق سے) گروہ در گروہ لے جائے جائیں گے۔ یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچیں گے اور اس کے دروازے کھول دیئے جائیں گے (تو ان کا خیر مقدم کیا جائے گا) اور اس کے محافظ (فرشتے) کہیں گے تم پر سلام ہو تم پاکیزہ لوگ ہو پس اس میںہمیشہ رہنے کے لیے داخل ہو جاؤ۔ اور وہ کہیں گے اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے اپنا وعدہ سچا کیا اور ہم کو اس زمین کا وارث بنایا کہ ہم جنت میں جہاں چاہیں رہیں (جنت میں بھی خاکساری پیش نظر رہی ارض کا ذکر کیا) پس (دنیا میںنیک) عمل کرنے والوں کا کیا خوب بدلہ ہے۔ اور آپ (اس دن) فرشتوں کو دیکھیں گے کہ عرش کے گرد حلقہ باندھے ہوئے اپنے پروردگار کی حمدو ثنا کی ساتھ پاکی بیان کرتے ہوں گے اور (اس دن) لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور (ہر طرف سے یہی صدا آئے گی، یہی) کہا جائے گا کہ تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔‘‘

  1. سورۃ حم السجدۃ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO

إِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلَآئِکَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَO نَحْنُ أَوْلِیَآؤُکُمْ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ ج وَلَکُمْ فِیْهَا مَا تَشْتَھِیٓ أَنْفُسُکُمْ وَلَکُمْ فِیْهَا مَا تَدَّعُوْنَO نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍO (حم السجدہ، 41: 30۔32)

’’بیشک جن لوگوں نے اقرار کیا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر (اس پر) قائم رہے ان پر فرشتے اترتے ہیں (جو ان سے کہتے ہیں: ) تم مت ڈرو، اور غم نہ کھاؤ اور تم جنت کی خوشخبری سنو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ اور ہم تمہارے دنیا میں رفیق ہیں اور آخرت میں اور تمہارے لیے وہاں وہ سب موجود ہے جو تمہارا جی چاہے اور تمہارے لیے وہ سب بھی جو تم مانگو موجود ہے۔ یہ مہمانی ہے بخشنے والے، رحم فرمانے والے (پروردگار) کی طرف سے۔‘‘

  1. سورۃ الذاریات

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

اٰخِذِیْنَ مَآ اٰتٰھُمْ رَبُّهُمْ ط إِنَّهُمْ کَانُوْا قَبْلَ ذٰلِکَ مُحْسِنِیْنَO کَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّیْلِ مَا یَھْجَعُوْنَO وَ بِالْأَسْحَارِ ھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَO وَ فِیْٓ أَمْوَالِهِمْ حَقٌ لِّلسَّآئِلِ وَلْمَحْرُوْمِO وَ فِی الْأَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَO وَ فِیْٓ أَنْفُسِکُمْ ط اَفَلَا تُبْصِرُوْنَO (الذاریات، 51: 16۔21)

’’اپنے پروردگار کی عطاؤں سے سرفراز ہوں گے، بیشک یہ لوگ اس سے قبل نیکو کار تھے۔ وہ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے۔ اور صبح کے وقتوں میں (اپنے رب سے) بخشش طلب کیا کرتے تھے۔ اور ان کے مال میںہر مانگنے ولے اور نہ مانگنے والے کا حق ہوتا تھا۔ اور (یوں تو) یقین رکھنے والوں کے لیے زمین میں (بے شمار) نشانیاں ہیں۔ اور (اے لوگو!) خود تمہارے نفسوں میں بھی (اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں) پھر کیا تم غور نہیں کرتے۔‘‘

اِنَّ اللّٰهَ ھُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِیْنُO (الذاریات، 51: 58)

’’ یقینا اللہ ہی روزی دینے والا بڑا زور آور (قادر اور) توانا ہے۔‘‘

  1. سورۃ الحدید

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَ ھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُO لَهٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌO ھُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَ الظَّاھِرُ وَ الْبَاطِنُ وَ ھُوَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌO ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ ط یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا ط وَ ھُوَ مَعَکُمْ اَیْنَ مَا کُنْتُمْ ط وَ اللهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌO لَهٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط وَ إِلَی اللهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُO یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ ط وَ ھُوَ عَلِیْمٌم بِذَاتِ الصُّدُوْرِO (الحدید، 57: 1۔6)

’’ اللہ ہی کی تسبیح کرتے ہیں جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہی زبردست (اور) حکمت والا ہے (یہ بھی اس کی قدرت کاملہ کا نتیجہ ہے کہ اس نے اپنی مخلوق کو تسبیح و حمد و ثنا کے آداب ان کے حال و مقام کے مطابق سکھا دیئے)۔ اسی کے لئے آسمانوں اور زمین کی حکومت ہے (سب اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہیں) وہی جلاتا اور مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ (سب سے) پہلا اور (سب سے) آخر اور (اپنی قدرت کے اعتبار سے) ظاہر اور (اپنی ذات کے اعتبار سے) پوشیدہ ہے اور (اس سے اول و آخر، ظاہر و باطن کی کوئی بات پوشیدہ نہیں) وہ سب کچھ خوب جانتا ہے۔ وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں (بتدریج مختلف منازل میں یا چھ ادوار میں) پیدا کیا پھر اپنے تخت (قدرت و حکمت) پر قیام فرمایا ( تمام کائنات کو ایک مقصد کے تحت ایک نظام میں منظم فرمایا) وہ جانتا ہے جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ اس کی طرف چڑھتا ہے (غرض زمین و آسمان کی کوئی شے اس کے اندر ہو یا باہر ہو اوپر ہو یا نیچے ایسی نہیں جو اس کے احاطہ علمی میں نہ ہو) اور (حقیقت تو یہ ہے کہ) وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو( اس کی معیت، علم و قدرت سے عموماً اور فضل و رحمت سے خصوصاً اپنے بندے کے ساتھ ہے) اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔ اور آسمانوں اور زمین کی حکومت اسی کی ہے اور اسی کی طرف سب امور رجوع ہوتے ہیں (آخر کار سب کام اسی کی طرف لوٹ جائیں گے اور قیامت کے دن کا فیصلہ وہیں سے ہو گا)۔ (وہی) رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور جو کچھ سینوں میں ( پوشیدہ ) ہے وہ اس سے بھی باخبر ہے۔‘‘

  1. سورۃ الحشر

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO

ھُوَ اللهُ الَّذِیْ لَآ إِلٰهَ إِلَّا ھُوَ ج عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُO ھُوَ اللهُ الَّذِیْ لَآ إِلٰهَ إِلَّا ھُوَ ج اَلْمَلِکُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَکَبِّرُ ط سُبْحَانَ اللهِ عَمَّا یُشْرِکُوْنَO ھُوَ اللهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی ط یُسَبِّحُ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَ ھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُO (سورۃ الحشر، 59: 22۔24)

’’اللہ وہی تو ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں (وہی) چھپے اور کھلے کا جاننے والا ہے وہ بے حد مہربان نہایت رحم والا ہے۔ اللہ وہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ (سب کا) بادشاہ ہے پاک ہے (ہر عیب و نقص سے، خود سلامت اور عالم کو) سلامتی دینے والا ہے امن دینے والا، نگہبانی کرنے والا، زبردست (اور شکستہ قلوب کو) جوڑنے والا صاحب عظمت ہے (اس کی ذات، صفات، افعال میں شرکت کا کیا سوال) اللہ لوگوں کے شرک سے پاک ہے۔ وہی اللہ (تمام مخلوقات کا) پیدا کرنے والا (بے نمونہ کے عالم کو) بنانے والا ( ہر مخلوق کو مناسب) صورت عطا کرنے والا ہے، اچھے اچھے نام اسی کے ہیں (اور) جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے سب اسی کی تسبیح کرتے ہیں اور وہی زبردست حکمت والا ہے (یہ کارخانہ خدا کی اسی قدرت و حکمت کاملہ سے چل رہا ہے اور اس کے حکم اور اذن کے بموجب یہ قافلہ ہستی رواں دواں ہے)۔‘‘

  1. سورۃ البروج

إِنَّهُ ھُوَ یُبْدِءُ وَ یُعِیْدُO وَ ھُوَ الْغَفُوْرُ الْوَدُوْدُO ذُو الْعَرْشِ الْمَجِیْدُO فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُO (البروج،85: 13۔16)

’’بیشک وہی پہلی بار پیدا فرماتا ہے اور وہی دوبارہ پیدا فرمائے گا۔ اور وہ بڑا بخشنے والا بہت محبت فرمانے والا ہے ۔ مالک عرش بڑی شان والا ہے۔ وہ جو بھی ارادہ فرماتا ہے (اسے) خوب کر دینے والا ہے۔ ‘‘

  1. سورۃ الیل

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO

وَالَّیْلِ اِذَا یَغْشٰیO وَ النَّهَارِ إِذَا تَجَلّٰیO وَ مَا خَلَقَ الذَّکَرَ وَ الْأُنْثٰیO إِنَّ سَعْیَکُمْ لَشَتّٰیO فَأَمَّا مَنْ أَعْطٰی وَ اتَّقٰیO وَ صَدَّقَ بِالْحُسْنٰیO فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْیُسْرٰیO وَ أَمَّا مَنْم بَخِلَ وَ اسْتَغْنٰیO وَ کَذَّبَ بِالْحُسْنٰیO فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْعُسْرٰیO وَ مَا یُغْنِیْ عَنْهُ مَالُهٗ إِذَا تَرَدّٰیO إِنَّ عَلَیْنَا لَلْھُدٰیO وَ إِنَّ لَنَا لَلْاٰخِرَۃَ وَالْاُوْلٰیO فَأَنْذَرْتُکُمْ نَارًا تَلَظّٰیO (الیل، 92: 1۔21)

’’رات کی قسم جب وہ چھا جائے (اور ہر چیز کو اپنی تاریکی میں چھپا لے)۔ اور دن کی قسم جب وہ چمک اٹھے۔ اور اس ذات کی (قسم) جس نے (ہر چیز میں) نر اور مادہ کو پیدا فرمایا۔ بیشک تمہاری کوشش مختلف (اور جداگانہ) ہے۔ پس جس نے (اپنا مال اللہ کی راہ میں) دیا اور پرہیز گاری اختیار کی۔ اور اس نے (انفاق و تقویٰ کے ذریعے) اچھائی (یعنی دین حق اور آخرت) کی تصدیق کی۔ تو ہم عنقریب اسے آسانی (یعنی رضائے الٰہی) کے لئے سہولت فراہم کر دیں گے۔ اور جس نے بخل کیا اور بے پرواہ رہا۔ اور اس نے (یوں) اچھائی (یعنی دین حق اور آخرت) کو جھٹلایا۔ تو ہم عنقریب اسے سختی (یعنی عذاب کی طرف بڑھنے) کے لئے سہولت فراہم کر دیں گے۔ اور اس کا مال اس کے کسی کام نہیں آئے گا جب وہ ہلاکت (کے گڑھے) میں گرے گا۔ بیشک راہ (حق) کو دکھانا ہمارے ذمہ ہے۔ اور بیشک ہم ہی آخرت اور دنیا کے مالک ہیں۔ سو میں نے تمہیں (دوزخ کی) آگ سے ڈرا دیا ہے جو بھڑک رہی ہے۔‘‘

  1. سورۃ البیّنۃ

وَ مَآ اُمِرُوْا إِلَّا لِیَعْبُدُوا اللهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَ یُؤْتُوا الزَّکَاۃَ وَ ذٰلِکَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِO (البینہ، 98: 5)

’’اور انہیں فقط یہی حکم دیا گیا تھا کہ صرف اسی کے لیے اپنے دین کو خالص کرتے ہوئے اللہ کی عبادت کریں (ہر باطل سے جدا ہو کر) حق کی طرف یکسوئی پیدا کریں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیا کریں اور یہی سیدھا اور مضبوط دین ہے۔‘‘

  1. سورۃ الاخلاص

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO

قُلْ ھُوَ اللهُ اَحَدٌO اَللّٰهُ الصَّمَدُO لَمْ یَلِدْ5لا وَ لَمْ یُوْلَدْO وَ لَمْ یَکُنْ لَّهٗ کُفُوًا اَحَدٌO (الاخلاص، 1۔4)

’’ (اے نبی مکرم) آپ فرما دیجئے وہ اللہ ہے۔ جو یکتا ہے اللہ سب سے بے نیاز، سب کی پناہ اور سب پر فائق ہے۔ نہ اس سے کوئی پیدا ہوا ہے اور نہ ہی وہ پیدا کیا گیا ہے۔ اور نہ ہی اس کا کوئی ہمسر ہے۔‘‘

تیسری نسبت: نسبتِ اویسیہ

نسبتِ اویسیہ کے حصول کے وظائف

اس کے حصول اور پختگی کے لئے اولیائِ کاملین اور مشائخِ صالحین کے ساتھ محبت، ان میں سے کسی کی طرف غیر معمولی رغبت، روحانی توجہ اور ان کے ’’روحانی تصور کا مراقبہ‘‘ کرنا نہایت مفید وظیفہ ہے۔ مثلاً

1۔ حضور نبی اکرم ﷺ کی صورتِ مثالیہ یا آپ ﷺ کی قبر انور کا تصور اور مراقبہ

2۔ امام الاولیاء سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کی طرف روحانی توجہ اور مراقبہ

3۔ سیدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی طرف روحانی توجہ اور مراقبہ۔ مذکورہ بالا تینوں ذواتِ مقدسہ کی ارواح مبارکہ حسبِ ترتیب توجہ اور فیض رسانی میں جمیع ارواح میں سب سے زیادہ قوی الاثر ہیں۔

4۔ دیگر اکابر اولیاء کرام جو بانیانِ سلاسل اور پیشوایانِ طرق ہیں ان کی طرف روحانی توجہ مثلاً

حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رضی اللہ عنہ

بطورِ خاص سلسلہ چشتیہ کے مریدین کے لئے

حضرت شہاب الدین عمر سہروردی رضی اللہ عنہ

بطورِ خاص سلسلہ سہروردیہ کے مریدین کے لئے

حضرت خواجہ بہاء الدین شاهِ نقشبند رضی اللہ عنہ

بطورِ خاص سلسلہ نقشبندیہ کے مریدین کے لئے

حضرت شیخ ابو الحسن شاذلی رضی اللہ عنہ

بطورِ خاص سلسلہ شاذلیہ کے مریدین کے لئے

حضرت شیخ سید احمد رفاعی رضی اللہ عنہ

بطورِ خاص سلسلہ رفاعیہ کے مریدین کے لئے

علاوہ ازیں پاک وہند میں

حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رضی اللہ عنہ

حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رضی اللہ عنہ

حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رضی اللہ عنہ

حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی رضی اللہ عنہ

ایسے دیگر مشائخ عظام کے مزارات کی زیارت، مراقبہ اور ان کی ارواح کے ساتھ روحانی توجہ بھی نسبتِ اویسیہ کے حصول کے لئے ممد و معاون ہے۔

الغرض اپنے سلسلہ طریقت میں بھی جن مشائخ کاملین سے زیادہ قلبی رغبت اور روحانی محبت ہو ان کی طرف ’’توجہ‘‘ کے ذریعے بھی نسبت پیدا کرنا مفید ہو سکتا ہے۔

وظیفہ:

اس نسبت کے حصول کے لئے جس بھی روح کی طرف روحانی توجہ مرکوز کی جائے اور اس کا مراقبہ کیا جائے اس دوران سورۃ القدر کا ورد کثرت سے کرنا نہایت مفید ہے۔

اس وظیفہ کا عدد 12 مرتبہ یا 40 مرتبہ بوقتِ مراقبہ ہے۔

سورۃ القدر

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO

اِنَّآ أَنْزَلَنٰهُ فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْرِO وَ مَآ أَدْرٰکَ مَا لَیْلَةُ الْقَدْرِO لَیْلَةُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَھْرٍO تَنَزَّلُ الْمَلَآئِکَةُ وَ الرُّوْحُ فِیْهَا بِإِذْنِ رَبِّھِمْ مِّنْ کُلِّ أَمْرٍO سَلٰمٌ قف ھِیَ حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْرِO

(القدر، 98: 1۔5)

’’بیشک ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں اتارا ہے۔ اور آپ کیا سمجھتے ہیں (کہ) شب قدر کیا ہے؟۔ شب قدر (فضیلت و برکت اور اجر و ثواب میں) ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس (رات) میں فرشتے اور روح الامین (جبرئیلں) اپنے رب کے حکم سے (خیر و برکت کے) ہر امر کے ساتھ اترتے ہیں۔ یہ (رات) طلوع فجر تک (سراسر) سلامتی ہے۔‘‘

چوتھی نسبت: نسبتِ یادداشت

نسبتِ یادداشت کے حصول کے وظائف

اس نسبت کے حصول و تحقق کیلئے ’’دوام مراقبہ‘‘ نہایت مفید ہے جس کا وظیفہ درج ذیل ہے۔

لَا مَطْلُوْبَ اِلَّا اللهُ

لَا مَحْبُوْبَ اِلَّا اللهُ

لَا مَقْصُوْدَ اِلَّا اللهُ

لَا مَوْجُوْدَ اِلَّا اللهُ

ان مراقبات کے ذریعے دل کو ’’مقامِ بے نشانی‘‘ کی طرف مائل کرنا ہی اس وظیفہ کا مقصد ہے۔

پانچویں نسبت: نسبتِ توحید

نسبتِ توحید کے حصول کے وظائف

اس نسبت کے حصول کیلئے ’’ذکر اللہ اورتفکر فی خلق اللہ‘‘ خاص وظائف ہیں۔

اس مقصد کے حصول کے لئے کثرت سے دلجمعی اور قلبی شوق و محبت کے ساتھ درج ذیل اسماء اور آیات کا بطورِ وظیفہ پڑھنا مفید ہے:

وظیفۂ ذکر کے لئے اسماء اور آیات

  1. یَا اَحَدُ یَا وَاحِدُ
  2. یَا صَمَدُ یَا حَقُّ
  3. یَا مُحْیِی یَا مُمِیْتُ
  4. یَا اوَّلُ یَا آخِرُ
  5. یَا اللهُ یَا خَالِقُ
  6. یَا بَارِئُ یَا مُصَوِّرُ
  7. یَا مُبْدِئُ یَا مُعِیْدُ
  8. سورۃ اٰل عمران

إِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْهُ ط ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌO

(آل عمران، 3: 51)

’’بیشک اللہ میرا رب ہے اور تمہارا بھی (وہی) رب ہے پس اسی کی عبادت کرو، یہی سیدھا راستہ ہے۔‘‘

  1. سورۃ الأنفال

وَ إِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوْٓا أَنَّ اللهَ مَوْلَاکُمْ نِعْمَ الْمَوْلٰی وَ نِعْمَ النَّصِیْرُO (الانفال، 8: 40)

’’اور اگر انہوں نے (اطاعت حق سے) روگردانی کی، تو جان لو کہ بیشک اللہ ہی تمہارا مولیٰ (یعنی حمایتی) ہے (وہی) بہتر حمایتی اور بہتر مدد گار ہے۔‘‘

  1. سورۃ التوبۃ

قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَآ إِلَّا مَا کَتَبَ اللهُ لَنَا ھُوَ مَوْلَانَا وَ عَلَی اللهِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَO (التوبہ، 9: 51)

’’(اے حبیب ﷺ ) آپ فرما دیجئے کہ ہمیں ہرگز (کچھ) نہیں پہنچے گا مگر وہی کچھ جو اللہ نے ہمارے لئے لکھ دیا ہے وہی ہمارا کارساز ہے اور اللہ ہی پر ایمان والوں کو بھروسہ کرنا چاہئے۔‘‘

  1. سورۃ یونس

وَ إِنْ یَّمْسَسْکَ اللهُ بِضُرٍّ فَلَا کَاشِفَ لَہُٓ إِلَّا ھُوَ وَ إِنْ یُّرِدْکَ بِخَیْرٍ فَلاَ رَآدَّ لِفَضْلِهٖ ط یُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ ط وَ ھُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُO (یونس، 10: 107)

’’ اور اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اسے دور کرنے والا نہیں اور اگر وہ تمہارے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمائے تو کوئی اس کے فضل کو رد کرنے والا نہیں وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اپنا فضل پہنچاتا ہے اور وہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘

  1. سورۃ ھود

مَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا ھُوَ اٰخِذٌ م بِنَاصِیَتِهَا ط إِنَّ رَبِّیْ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍO (ھود، 11: 56)

’’اور کوئی چلنے والا (جاندار) ایسا نہیں مگر وہ اسے اس کی چوٹی سے پکڑے ہوئے ہے (یعنی مکمل طور پر اس کے قبضہ قدرت میں ہے) بیشک میرا رب (حق و عدل میں) سیدھی راہ پر (چلنے سے ملتا ) ہے۔‘‘

  1. سورۃ الأسراء

وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَم یَکُنْ لَّهٗ شَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ وَ لَمْ یَکُنْ لَّهٗ وَ لِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَ کَبِّرْهُ تَکْبِیْرًاO (بنی اسرائیل، 17: 111)

’’ اور فرمائیے کہ سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جس نے نہ تو (اپنے لئے) کوئی بیٹا بنایا اورنہ ہی (اس کی) سلطنت و فرمانروائی میں کوئی شریک ہے اور نہ کمزوری کے باعث اس کا کوئی مددگار ہے( اے حبیب) آپ اسی کو بزرگ ترجان کر اس کی خوب بڑائی (بیان) کرتے رہیئے۔‘‘

  1. سورۃ مریم

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَھُمَا فَاعْبُدْهُ وَ اصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖ ط هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِیًّاO (مریم، 19: 65)

’’ (وہ) آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ اس کے درمیان ہے( سب) کا رب ہے پس اس کی عبادت کیجئے اور اس کی عبادت میں ثابت قدم رہیئے کیا آپ اس کا کوئی ہم نام جانتے ہیں؟ ۔‘‘

  1. سورۃ طٰـہٰ

إِنَّمَآ إِلٰهُکُمُ اللهُ الَّذِیْ لَآ إِلٰهَ إِلَّا هُوَ ط وَسِعَ کُلَّ شَیْئٍ عِلْمًاO (طہ، 20: 98)

’’ (لوگو!) تمہارا معبود صرف (وہی) اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ہر چیز کو (اپنے) علم کے احاطہ میں لئے ہوئے ہے۔‘‘

  1. سورۃ الأنبیاء

لَوْ کَانَ فِیْهِمَآ اٰلِهَةٌ إِلَّا اللهُ لَفَسَدَتَا فَسُبْحَانَ اللهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَO (الانبیاء، 21: 22)

’’ اور اگر ان دونوں (زمین و آسمان) میں اللہ کے سوا اور (بھی) معبود ہوتے تو یہ دونوں تباہ ہو جاتے پس اللہ جو عرش کا مالک ہے ان (باتوں) سے پاک ہے جو یہ (مشرک) بیان کرتے ہیں ۔‘‘

  1. سورۃ القصص

وَلَا تَدْعُ مَعَ اللهِ اِلٰـھًا اٰخَرَم لَآ إِلٰهَ إِلَّا هُوَ کُلُّ شَیْئٍ هَالِکٌ إِلَّا وَجْهَهُ ط لَهُ الْحُکْمُ وَ إِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَO (القصص، 28: 88)

’’ اور تم اللہ کے ساتھ کسی دوسرے (خود ساختہ) معبود کو نہ پکارو، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اس کی ذات کے سوا ہر چیز فانی ہے حکم اسی کا ہے اور تم (سب) اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘

  1. سورۃ فاطر

یَآ أَیُّهَا النَّاسُ أَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ إِلَی اللهِ وَاللهُ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُO (فاطر، 35: 15)

’’ اے لوگو (اللہ تمہاری عبادت کا محتاج نہیں) تم ہی اللہ کے محتاج ہو، اور اللہ ہی بے نیاز اور سزاوار حمد (و ثنا) ہے۔‘‘

  1. سورۃ الزمر

اللهُ خَالِقُ کُلِّ شَیْئٍ وَّ هُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ وَّکِیْلٌO (الزمر، 39: 62)

’’(جنت و دوزخ، آسمان و زمین، یہ کائنات اللہ کی تخلیق ہے) اللہ ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی ہر شے کا نگہبان ہے۔‘‘

  1. سورۃ الجاثیۃ

فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْأَرْضِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَO وَلَهُ الْکِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُO (الجاثیۃ، 45: 36،37)

’’ پس تمام خوبیاں اللہ ہی کے لئے ہیں جو آسمانوں کا رب ہے اور زمین کا رب ہے (اور وہی) سب جہانوں کا پروردگار ہے۔ اور اسی کے لئے بڑائی ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور وہی زبردست حکمت والا ہے۔‘‘

  1. سورۃ الرحمٰن

کُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍO وَّ یَبْقٰی وَجْهُ رَبِّکَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِO (الرحمٰن، 55: 26-27)

’’ جو کچھ بھی زمین پر ہے سب فنا ہو جانے والا ہے۔ اور صرف آپ کے پروردگار کی ذات باقی رہ جائے گی جو نہایت بزرگی اور عظمت والی ہے۔‘‘

  1. سورۃ الملک

أَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ ط وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُO (الملک، 67: 14)

’’ بھلا جس نے پیدا کیا، کیا وہ نہ جانے گا (اس کو تو اپنے بندوں کی ہر بات کی خبر ہے) اور وہ تو بڑا باریک بیں (خوش تدبیر، باطن سے آگاہ اور ظاہر و باطن سے) بڑا باخبر ہے۔‘‘

  1. سورۃ المزمل

وَ اذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ وَ تَبَتَّلْ إِلَیْهِ تَبْتِیْلًاO رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَآ إِلٰهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَکِیْلاًO (المزمل، 73: 8،9)

’’اور آپ اپنے رب کے نام کا ذکر کرتے رہیے اور سب کو چھوڑ کر (سب سے الگ ہو کر) اسی کے ہو جائیے۔ (وہی آپ کا رب) مشرق و مغرب کا مالک ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو( پھر) اسی کو آپ اپنا کارساز بنائے رکھئے۔ ‘‘

  1. سورۃ الدہر

وَمَا تَشَآؤُوْنَ إِلَّآ أَنْ یَّشَآءَ اللهُ ط إِنَّ اللهَ کَانَ عَلِیْمًا حَکِیْمًاO (الدھر، 76: 30)

’’ اور (لوگو) تم کچھ بھی نہیں چاہ سکتے بجز اس کے جو خدا ہی کو منظور ہو، بیشک اللہ (سب کچھ) جاننے والا، بڑا حکمت والا ہے۔‘‘

وظیفۂ مراقبہ کے لئے آیات

نسبتِ توحید کے حصول کے لئے درج ذیل آیات کی تلاوت اور ان کے معنی و معارف میں مراقبات نہایت مفید ہیں۔

  1. سورۃ اٰل عمران

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

إِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّهَارِ لَاٰیَاتٍ لِّأُولِی الألْبَابِO الَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللهَ قِیَامًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰی جُنُوْبِهِمْ وَ یَتَفَکَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِO (اٰل عمران، 3: 190۔191)

’’بیشک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور شب و روز کی گردش میں عقل سلیم والوں کے لئے (اللہ کی قدرت کی) نشانیاں ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو (سراپا نیاز بن کر) کھڑے اور (سراپا ادب بن کر) بیٹھے اور (ہجر میں تڑپتے ہوئے) اپنی کروٹوں پر (بھی) اللہ کو یاد کرتے رہتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق (میں کار فرما اس کی عظمت اورحسن کے جلوؤں) میں فکر کرتے رہتے ہیں (پھر اسکی معرفت سے لذت آشنا ہو کر پکار اٹھتے ہیں) اے ہمارے رب! تو نے یہ (سب کچھ) بے حکمت اوربے تدبیر نہیں بنایا تو (سب کوتاہیوں اور مجبوریوں سے) پاک ہے، ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔‘‘

  1. سورۃ حم السجدۃ

سَنُرِیْهِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْٓ أَنْفُسِهِمْ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّO (حم السجدہ، 41: 53)

’’عنقریب ہم انہیں اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھائیں گے(عالم کے) اطراف میں اور ان کے نفسوں میں یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے کہ یقینا وہی (قرآن) حق ہے۔‘‘

  1. سورۃ الدھر

هَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ یَکُنْ شَیْئًا مَّذْکُوْرًاO (الدهر، 76: 1)

’’یقینا انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت بھی آچکا ہے جس میں وہ قابل ذکر چیز نہ تھا۔‘‘

  1. سورۃ المرسلات

أَلَمْ نَخْلُقْکُّم مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍO فَجَعَلْنَاهُ فِیْ قَرَارٍ مَّکِیْنٍO إِلٰی قَدَرٍ مَّعْلُوْمٍO فَقَدَرْنَا فَنِعْمَ الْقَادِرُوْنَO (المرسلات، 77: 20۔23)

’’کیا ہم نے تمہیں ایک بے قدر پانی سے پیدا نہیں فرمایا۔ پھر ہم نے اسے ایک محفوظ جگہ (رحم مادر) میں رکھا۔ ایک معلوم و معین انداز سے (مدت) تک۔ پھر ہم نے (اگلے ہر ہر مرحلے کے لئے ) اندازہ فرمایا۔ پس ہم کیا ہی اچھے قادر ہیں۔‘‘

  1. سورۃ الإنفطار

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO

یَآ أَیُّهَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الْکَرِیْمِO الَّذِیْ خَلَقَکَ فَسَوَّاکَ فَعَدَلَکَO فِیْ أَیِّ صُوْرَةٍ مَّا شَآءَ رَکَّبَکَO (الانفطار، 82: 6۔8)

’’اے انسان تجھے اپنے بزرگی والے رب سے کس چیز نے سرکش کر دیا۔ جس نے تجھے تخلیق کیا پھر تیرا تسویہ کیا( یعنی تجھے بالکل ٹھیک حالت پر لایا) پھر اس نے تیری تعدیل کی (یعنی تجھے جسمانی اعضاء کے تناسب کے ذریعے ہموار کیا)۔ پھر جس صورت میں چاہاتجھے ترکیب دیا۔‘‘

  1. سورۃ الأعلٰی

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلَیO الَّذِیْ خَلَقَ فَسَوّٰیO وَالَّذِیْ قَدَّرَ فَهَدٰیO وَالَّذِیْٓ أَخْرَجَ الْمَرْعٰیO فَجَعَلَهُ غُثَآءً أَحْوٰیO (الاعلیٰ، 87: 1۔5)

’’اپنے رب کے نام کی تسبیح کریں جو سب سے بلند ہے۔ جس نے (کائنات کی ہر چیز کو) پیدا کیا پھر اسے (جملہ تقاضوں کی تکمیل کے ساتھ) درست توازن دیا۔اور جس نے (ہر ہر چیز کیلئے) قانون مقرر کیا پھر (اسے اپنے اپنے نظام کے مطابق رہنے اور چلنے کا) راستہ بتایا۔ اور جس نے (زمین سے) چارہ نکالا۔ پھر اسے سیاہی مائل خشک کر دیا۔‘‘

چھٹی نسبت: نسبتِ عشق

نسبتِ عشق کے حصول کے وظائف

اس نسبت کے حصول کے لئے دلجمعی اور قلبی شوق و محبت کے ساتھ درج ذیل آیات بطور وظیفہ کثرت سے پڑھنا مفید ہے:

  1. سورۃ البقرۃ

وَ لِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ ط إِنَّ اللهَ وَاسِعٌ عَلِیْمٌO (البقرۃ، 2: 115)

’’ اور مشرق و مغرب (سب) اللہ ہی کا ہے، پس تم جدھر بھی رخ کرو ادھر ہی اللہ کی توجہ ہے (یعنی ہر سمت ہی اللہ کی ذات جلوہ گر ہے) بیشک اللہ بڑی وسعت والا سب کچھ جاننے والا ہے۔‘‘

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللهِ أَنْدَادًا یُّحِبُّوْنَهُمْ کَحُبِّ اللهِ ط وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا أَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ ط وَلَوْ یَرَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْٓا إِذْ یَرَوْنَ الْعَذَابَ أَنَّ الْقُوَّۃَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا وَّ أَنَّ اللهَ شَدِیْدُ الْعَذَابِO (البقرۃ، 2: 165)

’’ اور لوگوں میں بعض ایسے بھی ہیں جو اللہ کے غیروں کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں اور ان سے ’’اللہ سے محبت‘‘ جیسی محبت کرتے ہیں، اورجو لوگ ایمان والے ہیں وہ (ہر ایک سے بڑھ کر) اللہ سے بہت ہی زیادہ محبت کرتے ہیں، اوراگر یہ ظالم (وہ وقت دنیا ہی میں دیکھ لیتے) کہ جب (اخروی) عذاب ان کی آنکھوں کے سامنے ہوگا (تو جان لیتے) کہ ساری قوتوں کا مالک اللہ ہے (تو کبھی شرک نہ کرتے) اور بیشک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘

  1. سورۃ المائدۃ

وَ إِذَا سَمِعُوْا مَآ أُنْزِلَ إِلَی الرَّسُوْلِ تَرٰٓی أَعْیُنَهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اٰمَنَّا فَاکْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِیْنَ O (المائدة، 5: 83)

’’اور (یہی وجہ ہے کہ ان میں سے بعض سچے عیسائی) جب اس (قرآن) کو سنتے ہیں جو رسول کی طرف اتارا گیا ہے تو آپ ان کی آنکھوں کو اشک ریز دیکھتے ہیں (یہ آنسوؤں کا چھلکنا) اس حق کے باعث (ہے) جس کی انہیں معرفت (نصیب) ہوگئی ہے (ساتھ یہ عرض کرتے ہیں: ) اے ہمارے رب! ہم (تیرے بھیجے ہوئے حق پر) ایمان لے آئے ہیں سو تو ہمیں (بھی حق کی) گواہی دینے والوں کے ساتھ لکھ لے۔‘‘

  1. سورۃ الأعراف

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO

وَلَمَّا جَآءَ مُوْسٰی لِمِیْقَاتِنَا وَ کَلَّمَهٗ رَبُّهٗ قَالَ رَبِّ أَرِنِیْٓ أَنْظُرْ إِلَیْکَ ط قَالَ لَنْ تَرَانِیْ وَلٰـکِنِ انْظُرْ إِلَی الْجَبَلِ فَإِنِ اسْتَقَرَّ مَکَانَهٗ فَسَوْفَ تَرَانِیْ فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَکًّا وَّ خَرَّ مُوْسٰی صَعِقًا ج فَلَمَّآ أَفَاقَ قَالَ سُبْحَانَکَ تُبْتُ إِلَیْکَ وَ أَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَO (الاعراف، 7: 143)

’’اور جب موسیٰ ہمارے (مقرر کردہ) وقت پر حاضر ہوا اور اس کے رب نے اس سے کلام فرمایا تو (کلام ربانی کی لذت پا کر دیدار کا آرزو مند ہوا اور) عرض کرنے لگا اے رب! مجھے (اپنا جلوہ) دکھا کہ میں تیرا دیدار کر لوں ارشاد ہوا تم مجھے (براہ راست) ہرگز دیکھ نہ سکو گے مگر پہاڑ کی طرف نگاہ کرو پس اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا تو عنقریب تم میرا جلوہ کر لو گے پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر (اپنے حسن کا) جلوہ فرمایا تو (شدت انوار سے) اسے ریزہ ریزہ کردیا اور موسیٰ بے ہوش ہو کر گر پڑا پھر جب اسے افاقہ ہوا تو عرض کیا تیری ذات پاک ہے میں تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلا ایمان لانے والا ہوں۔‘‘

  1. سورۃ الأنفال

إِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ إِذَا ذُکِرَ اللهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ إِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰـتُهٗ زَادَتْهُمْ إِیْمَانًا وَّ عَلٰی رَبِّهِمْ یَتَوَکَّلُوْنَO (الانفال، 8: 2)

’’ایمان والے (تو) صرف وہی لوگ ہیں کہ جب (ان کے سامنے) اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے (تو) ان کے دل (اس کی عظمت و جلال کے تصور سے) خوفزدہ ہو جاتے ہیںاور جب ان پراسکی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ (کلام محبوب کی لذت انگیز اور حلاوت آفریں باتیں) ان کے ایمان میں زیادتی کر دیتی ہیں اور وہ (ہر حال میں) اپنے رب پر توکل (قائم) رکھتے ہیں (اور کسی غیر کی طرف نہیں تکتے)۔‘‘

  1. سورۃ بنی اسرائیل

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO

قُلْ اٰمِنُواْ بِهٖٓ أَوْلَا تُؤْمِنُوْا ط إِنَّ الَّذِیْنَ أُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖٓ إِذَا یُتْلٰی عَلَیْهِمْ یَخِرُّوْنَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًاO وَّ یَقُوْلُوْنَ سُبْحَانَ رَبِّنَآ إِنْ کَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًاO وَ یَخِرُّوْنَ لِلْأَذْقَانِ یَبْکُوْنَ وَ یَزِیْدُهُمْ خُشُوْعًاO (بنی اسرائیل، 17: 109۔107)

’’فرما دیجئے تم اس پر ایمان لاؤ یا ایمان نہ لاؤ بیشک جن لوگوں کو اس سے قبل علم (کتاب) عطا کیا گیا تھا جب یہ (قرآن) انہیں پڑھ کر سنایا جاتا ہے وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدہ میں گر پڑتے ہیں۔ اور کہتے ہیں ہمارا رب پاک ہے بیشک ہمارے رب کا وعدہ پورا ہو کر ہی رہنا تھا۔ اور ٹھوڑیوں کے بل گرتے ہیں، گریہ و زاری کرتے ہیں اور یہ (قرآن) ان کے خشوع و خضوع میں مزید اضافہ کرتا چلا جاتا ہے۔‘‘

  1. سورۃ الکہف

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO

وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَلَا تَعْدُ عَیْنَاکَ عَنْهُمْ تُرِیْدُ زِیْنَةَ الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِکْرِنَا وَ اتَّبَعَ هَوَاهُ وَ کَانَ أَمْرُهٗ فُرُطًا O (الکهف، 18: 28)

’’(اے میرے بندے) تو اپنے آپ کو ان لوگوں کی سنگت میں جمائے رکھا کر جو صبح و شام اپنے رب کو یاد کرتے ہیں اس کی رضا کے طلبگار رہتے ہیں تیری (محبت اور توجہ کی) نگاہیں ان سے نہ ہٹیں، کیا تو (ان فقیروں سے دھیان ہٹا کر) دنیوی زندگی کی آرائش چاہتا ہے اور تو اس شخص کی اطاعت (بھی) نہ کر جس کے دل کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل کردیا ہے اور وہ اپنی ہوائے نفس کی پیروی کرتا ہے اور اس کا حال حد سے گزر گیا ہے۔‘‘

  1. سورۃ الحج

فَاِلٰهُکُمْ إِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗٓ أَسْلِمُوْا ط وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَO الَّذِیْنَ إِذَا ذُکِرَ اللهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَالصَّابِرِیْنَ عَلٰی مَآ أَصَابَهُمْ وَالْمُقِیْمِی الصَّلَاةِ وَ مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ یُنْفِقُوْنَO (الحج، 22: 34۔ 35)

’’سو تمہارا معبود ایک (ہی) معبود ہے پس تم اسی کے فرمانبردار بن جاؤ اور (اے حبیب) عاجزی کرنیوالوں کو خوشخبری سنادیں۔ (یہ) وہ لوگ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے (تو) ان کے دل ڈرنے لگتے ہیں اور جو مصیبتیں انہیں پہنچتی ہیں ان پر صبر کرتے ہیں اورنماز قائم رکھنے والے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔‘‘

  1. سورۃ العنکبوت

مَنْ کَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ اللهِ فَإِنَّ أَجَلَ اللهِ لَاٰتٍ ط وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُO (العنکبوت، 29: 5)

’’جو شخص اللہ سے ملاقات کی امید رکھتا ہے تو بیشک اللہ کا مقرر کردہ وقت ضرور آنے والا ہے اور وہی سننے والا جاننے والا ہے۔‘‘

  1. سورۃ السجدۃ

فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ أُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ أَعْیُنٍ جَزَآءً م بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَO (السجدہ، 32: 17)

’’پس کوئی نفس نہیں جانتا کہ ان کے لیے کیسی آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے (ہم نے کس کے لیے کیا چھپا کر رکھا ہے یہ وہ چیزیںہیں جن کا وہ تصور ہی نہیں کر سکتے) یہ ان کے (نیک) اعمال کا صلہ ہے۔‘‘

  1. سورۃ ص

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ O

وَاذْکُرْ عَبْدَنَآ أَیُّوبَم إِذْ نَادٰی رَبَّهٗٓ أَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطَانُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍO اُرْکُضْ بِرِجْلِکَ هٰذَا مُغْتَسَلٌم بَارِدٌ وَّ شَرَابٌO وَ وَهَبْنَا لَهٗٓ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَ ذِکْرٰی لِاُولِی الْأَلْبَابِO وَ خُذْ بِیَدِکَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّہٖ وَلَا تَحْنَثْ ط إِنَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرًا ط نِعْمَ الْعَبْدُ ط إِنَّهٗٓ أَوَّابٌO وَاذْکُرْ عِبَادَنَآ إبْرَاهِیْمَ وَ إِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَالْأَبْصَارِO إِنَّآ أَخْلَصْنَاهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِکْرَی الدَّارِO وَ إِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْأَخْیَارِO وَاذْکُرْ إِسْمَاعِیْلَ وَالْیَسَعَ وَذَا الْکِفْلِ ط وَ کُلٌّ مِّنْ الْأَخْیَارِO هٰذَا ذِکْرٌ ط وَ إِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍO (ص، 38: 41۔49)

’’اور ہمارے بندے ایوب (کے واقعہ) کا ذکر کیجئے جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ (اے میرے رب) مجھ کو شیطان نے ایذا اور تکلیف پہنچائی ہے۔ (چنانچہ حکم ہوا) زمین پر ٹھوکر مارو (یہ دیکھو ایک چشمہ پھوٹ نکلا) یہ ٹھنڈا پانی نہانے اور پینے کا ہے۔ اور (ان کی جملہ تکلیفیں بھی دور کر دی گئیں) ہم نے ان کو ان کا کنبہ (جو چھت سے دب کر مر گیا تھا) عطا کیا اور ان کے ساتھ (گنتی میں) ان کے برابر اور بھی (دیئے) اپنے لطف خاص کے سبب اور عقلمندوں کے واسطے یادگار رہنے کے باعث۔ اور اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا سینکوں کا لے لو پھر اس سے (بی بی کو) مارو اور قسم نہ توڑو۔ بیشک ہم نے ان کو (ہر تکلیف اور ہر حال میں) ثابت قدم پایا (اور) وہ بہت خوب بندہ تھا در حقیقت وہ (ہر حال میں ہماری طرف) رجوع رہنے والا تھا۔ اور ہمارے بندے ابراہیم و اسحق اور یعقوب کا ذکر کیجئے جو ہاتھوں اور آنکھوں (یعنی قوت عملیہ و قوت نظریہ) کے مالک تھے (اللہ کی بندگی بھی کرتے اور صاحب بصیرت بھی تھے)۔ ہم نے ان (تمام انبیائ) کو بالخصوص (آخرت کے) گھر کی یاد کے لئے چن لیا تھا۔ اور وہ (سب) ہماری بارگاہ میں منتخب اور نیک لوگوں میں سے تھے۔ اور (اسی طرح) اسمٰعیل اور الیسع اور ذوالکفل کا ذکر کیجئے اور یہ سبھی نیک لوگوں میں سے تھے۔ اور یہ (واقعات جن کا بیان کیا گیا ہے بذات خود) نصیحت ہیں اور ( اس بات کی شہادت ہیں کہ) بیشک پرہیزگاروں کے لئے بہت اچھا ٹھکانا ہے۔‘‘

  1. سورۃ الزمر

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ O

اللهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِیْثِ کِتَابًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِیَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُهُمْ وَ قُلُوْبُهُمْ اِلٰی ذِکْرِ اللهِ ط ذٰلِکَ هُدَی اللهِ یَهْدِیْ بِہٖ مَنْ یَّشَآءُ ط وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍO (الزمر، 39 : 23)

’’اللہ نے اتارا بہترین کلام (ایسی) کتاب جس کی سب باتیں آپس میں ایک جیسی ہیں باربار دہرائی ہوئی اس سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ان لوگوں کے جسموں پر جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں پھر ان کی کھالیں اور ان کے دل نرم ہوجاتے ہیں اللہ کے ذکر کی طرف، یہ اللہ کی ہدایت ہے جسے چاہے اس کے ذریعے رہنمائی فرماتا ہے اور جسے اللہ گمراہ کردے تو اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔‘‘

  1. سورۃ ق

نَحْنُ أَقْرَبُ إِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِO (ق، 50: 16)

’’ہم تو اس کی رگِ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں۔‘‘

  1. سورۃ الحدید

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO

أَلَمْ یَأْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ أَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِکْرِ اللهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ وَلَا یَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ أُوْتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْهِمُ الْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُهُمْ ط وَ کَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فَاسِقُوْنَO (الحدید، 57: 16)

’’کیا وہ وقت نہیں آیا ایمان والوں کیلئے کہ ان کے دل جھک جائیں اللہ کی یاد اور اس حق کے لیے جو نازل ہوا اور ان کی طرح نہ ہوں جنہیں (اس سے) پہلے کتاب دی گئی پھر ان پر ایک طویل زمانہ گزر گیا تو ان کے دل (انتہائی) سخت ہوگئے اور ان میں بہت سے لوگ نافرمان ہیں۔‘‘

  1. سورۃ القیامۃ

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌO إِلٰی رَبِّهَا نَاظِرَةٌO (القیامۃ، 75: 22۔23)

’’کتنے چہرے اس روز ترو تازہ ہوں گے۔ اپنے پروردگار کے دیدار میں محو ہوں گے۔‘‘

  1. سورۃ عبس

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌO ضَاحِکَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌO (عبس، 80: 38۔39)

’’اس دن بہت سے چہرے چمک رہے ہوں گے۔(وہ) مسکراتے ہنستے (اور) خوشیاں مناتے ہوں گے۔‘‘

  1. سورۃ الفجر

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO

یَآ أَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُO ارْجِعِیْٓ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةًO فَادْخُلِیْ فِیْ عِبَادِیْO وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْO (الفجر، 89: 27۔30)

’’ اے اطمینان پا جانے والے نفس۔ تو اپنے رب کی طرف اس حال میں لوٹ آکہ تو اس کی رضا کا طالب بھی ہو اور اس کی رضا کا مطلوب بھی۔ پس تو میرے (کامل) بندوں میں شامل ہو جا۔ اور میری جنت (قربت و دیدار) میں داخل ہو جا۔‘‘

  1. سورۃ الروم

نمازِ فجر کے بعد روزانہ درج ذیل تین آیات کی تین تین مرتبہ تلاوت کریں۔

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO

فَسُبْحَانَ اللهِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَO وَلَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ وَ عَشِیًّا وَّ حِیْنَ تُظْهِرُوْنَO یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ یُحْیِی الأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ط وَ کَذٰلِکَ تُخْرَجُوْنَO (الروم، 30: 17۔19)

’’پس (اللہ سے کیوں غافل ہو؟) پاک اللہ کو یاد کیا کرو جب (صبح سے) شام کرو اور جب (شام سے) صبح کرو (یا جب صبح ہوجائے اور جب شام ہوجائے)۔اور آسمانوں اور زمین میں سب تعریف اسی کی ہے اور تیسرے پہر اور ظہر کے وقت (تم بھی اللہ کی حمدکیا کرو)۔ وہ (اللہ ہی ہے جو) زندہ کومردے سے نکالتا ہے اور (وہی) مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور (خشک) زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ (سرسبز و شاداب) کرتا ہے اور اسی طرح (ایک دن اپنی اپنی جگہوں سے) تم نکالے جاؤگے (یہ اللہ کا وعدہ ہے جو ہوکر رہے گا)۔‘‘

  1. سورۃ النبا

بعد نماز عصر ’’سورہ نباء‘‘ کی تلاوت پانچ (5) مرتبہ روزانہ کریں۔ اس سے نسبتِ عشق نصیب ہوگی۔

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO

عَمَّ یَتَسَآئَلُوْنَO عَنِ النَّبَإِ الْعَظِیْمِO الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ مُخْتَلِفُوْنَO کَلَّا سَیَعْلَمُوْنَO ثُمَّ کَلَّا سَیَعْلَمُوْنَO أَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِهَادًاO وَّالْجِبَالَ أَوْتَادًاO وَّ خَلَقْنَاکُمْ أَزْوَاجًاO وَّ جَعَلْنَا نَوْمَکُمْ سُبَاتًاO وَّ جَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًاO وَّ جَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًاO وَّ بَنَیْنَا فَوْقَکُمْ سَبْعًا شِدَادًاO وَّ جَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَاجًاO وَّ أَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرَاتِ مَآئً ثَجَّاجًاO لِّنُخْرِجَ بِہٖ حَبًّا وَّ نَبَاتًاO وَّ جَنَّاتٍ أَلْفَافًاO إِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ کَانَ مِیْقَاتًاO یَّوْمَ یُنفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَأْتُوْنَ أَفْوَاجًاO وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَکَانَتْ أَبْوَابًاO وَّ سُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَکَانَتْ سَرَابًاO إِنَّ جَهَنَّمَ کَانَتْ مِرْصَادًاO لِّلطَّاغِیْنَ ماٰبًاO لَّابِثِیْنَ فِیهَآ أَحْقَابًاO لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا بَرْدًا وَّلَا شَرَابًاO إِلَّا حَمِیْمًا وَّ غَسَّاقًاO جَزَآءً وِّفَاقًاO إِنَّهُمْ کَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ حِسَابًاO وَّ کَذَّبُوْا بِاٰ یَاتِنَا کِذَّابًاO وَ کُلَّ شَیْئٍ أَحْصَیْنَاهُ کِتَابًاO فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِیْدَکُمْ إِلَّا عَذَابًاO إِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مَفَازًاO حَدَآئِقَ وَ أَعْنَابًاO وَّ کَوَاعِبَ أَتْرَابًاO وَّ کَأْسًا دِهَاقًاO لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّلَا کِذَّابًاO جَزَآءً مِّنْ رَّبِّکَ عَطَآءً حِسَابًاO رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَیْنَهُمَا الرَّحْمٰنِ لَا یَمْلِکُوْنَ مِنْهُ خِطَابًاO یَوْمَ یَقُوْمُ الرُّوْحُ وَالْمَلَآئِکَةُ صَفًّا لَّا یَتَکَلَّمُوْنَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ قَالَ صَوَابًاO ذٰلِکَ الْیَوْمُ الْحَقُّ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰی رَبِّہٖ مَاٰ بًاO إِنَّآ أَنْذَرْنَاکُمْ عَذَابًا قَرِیْبًا یَّوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ یَدَاهُ وَ یَقُوْلُ الْکَافِرُ یَالَیْتَنِیْ کُنْتُ تُرَابًاO (النباء، 78: 1۔40)

’’یہ لوگ آپس میں کس چیز سے متعلق سوال کرتے ہیں ؟۔(کیا) اس عظیم خبر سے متعلق (پوچھ گچھ کررہے ہیں) ۔جس کے بارے میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔ ہرگز (وہ خبر لائق انکار) نہیں وہ عنقریب (اس حقیقت کو) جان جائیںگے۔ (ہم) پھر (کہتے ہیں اختلاف و انکار) ہرگز (درست) نہیں وہ عنقریب جان جائیں گے۔ کیا ہم نے زمین کو (زندگی کے) قیام اور کسب و عمل کی جگہ نہیں بنایا ۔اور (کیا) پہاڑوں کو (اس میں) ابھار کر کھڑا (نہیں) کیا۔اور (غور کرو) ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا فرمایا (ہے)۔ اور ہم نے تمہاری نیند کو (جسمانی) راحت (کا سبب ) بنایا (ہے)۔ اور ہم نے رات کو ( اس کی تاریکی کے باعث) پردہ پوش بنایا (ہے)۔ اور ہم نے دن کو (کسب ) معاش (کا وقت) بنایا (ہے)۔ اور ہم نے تمہارے اوپر سات مضبوط (طبقات) بنائے ۔اور ہم نے (سورج کو) روشنی اور حرارت کا (زبردست) منبع بنایا۔ اور ہم نے بھرے بادلوں سے موسلا دھار پانی برسایا۔ تاکہ ہم اس (بارش) کے ذریعے (زمین سے) اناج اور سبزہ نکالیں۔ اور گھنے گھنے باغات (اگائیں)۔ بیشک فیصلہ کا دن (قیامت بھی) ایک مقررہ وقت ہے۔ جس دن صور پھونکا جائے گا تو تم گروہ در گروہ ( اللہ کے حضور) چلے آؤ گے۔ اور آسمان(کے طبقات) پھاڑ دیئے جائیں گے تو (پھٹنے کے باعث) (گویا) وہ دروازے ہی دروازے ہو جائیں گے۔ اور پہاڑ (غبار بنا کر فضا میں ) اڑا دیئے جائیں گے سو وہ سراب کی طرح (کالعدم) ہو جائیں گے۔ بیشک دوزخ ایک گھات ہے۔ (وہ) سرکشوں کا ٹھکانا ہے۔ (وہ) ختم نہ ہونے والی پے در پے مدتیں اسی میں پڑے رہیں گے۔ نہ وہ اس میں ( کسی قسم کی) ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے اور نہ کسی پینے کی چیز کا۔ سوائے کھولتے ہوئے گرم پانی اور(دوزخیوں کے زخموںسے) بہتے ہوئے پیپ کے۔ (یہی ان کی سرکشی کے) موافق بدلہ ہے ۔ اس لئے کہ وہ قطعاً حساب (آخرت) کا خوف نہیں رکھتے تھے۔ اور وہ ہماری آیتوں کو خوب جھٹلایا کرتے تھے۔ اور ہم نے ہر (چھوٹی بڑی) چیز کو لکھ کر محفوظ کر رکھا ہے۔ (اے منکرو!) اب تم (اپنے کئے کا ) مزہ چھکو اب ہم تم پر عذاب ہی کو بڑھاتے جائیں گے۔ بے شک پرہیزگاروں کے لئے کامیابی ہے۔ (ان کے لئے) باغات اور انگور (ہوں گے)۔ اور جواں سال ہم عمر دوشیزائیں(ہوںگی)۔ اور (شراب طہور کے) چھلکتے ہوئے جام (ہوں گے)۔ وہاں یہ (لوگ) نہ کوئی بے ہودہ بات سنیں گے اور نہ (ایک دوسرے کو) جھٹلانا (ہو گا)۔ یہ آپ کے رب کی طرف سے صلہ ہے جو (اعمال کے حساب سے) کافی (بڑی) عطا ہے۔ (وہ) آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے (سب) کا پروردگار ہے بڑی ہی رحمت والا ہے اس سے بات کرنے کا (مخلوقات میں سے) کسی کو (بھی) یارا نہ ہو گا۔ جس دن جبریل (روح الامین) اور (تمام)فرشتے صف بستہ کھڑے ہونگے کوئی لب کشائی نہ کرے گا سوائے اس شخص کے جسے خدائے رحمان نے اذن (شفاعت ) دے رکھا تھا اور اس نے (زندگی میں تعلیمات اسلام کے مطابق) بات بھی درست کہی تھی۔ یہ روزِ حق ہے پس جو شخص چاہے اپنے رب کے حضور (رحمت و قربت کا) ٹھکانا بنا لے۔ بلا شبہ ہم نے تمہیں عنقریب آنے والے عذاب سے ڈرا دیا ہے اس دن ہر آدمی ان (اعمال) کو جو اس نے آگے بھیجے، دیکھ لے گا اور (ہر) کافر کہے گا اے کاش میں مٹی ہوتا (اور اس عذاب سے بچ جاتا)۔‘‘

ساتویں نسبت: نسبتِ وجد

نسبت وجدکے حصول کے وظائف

اس نسبت کے حصول کیلئے درج ذیل وظائف و معمولات مفید ہیں۔

1۔ درد و سوز اور مؤثر لحن کے ساتھ بکثرت تلاوت قرآن کرنا، سننا اور اس سے ذوق پیدا کرنا۔

2۔ محافل میلاد اور مجالس نعت میں نعتیہ اور عارفانہ کلام کا سننا اور اس سے ذوقی کیفیت حاصل کرنا۔

3۔ آداب کے ساتھ محفل سماع میں شرکت کرنا۔ اور اس سے وجدانی کیفیت حاصل کرنا۔

4۔ رقت آمیز احادیث، انبیائ، اولیاء اور صالحین کی ایسی حکایات اور تذکروں کا پڑھنا جو دل پر اثر انداز ہوں اور روحانی کیفیت پیدا کریں۔

5۔ کتب تصوف سے احوال صوفیاء کے جذب انگیز مضامین کا مطالعہ کرنا۔

6۔ سمندروں، دریاؤں، جھیلوں، پہاڑوں، سرسبز وادیوں اور چشموں وغیرہ کو دیکھنا اور ان خوبصورت مناظر، فطرت کے نظاروں سے قلب و روح میں تازگی، روحانی جوش اور وجد انگیز کیفیات کا پیدا کرنا۔

اس سلسلے میں بطورِ خاص

7۔ قرآن مجید میں بخشش و رحمت اور انعاماتِ اخروی کے پراثر اور پرکیف مقامات کی تلاوت کرنا نہایت مفید ہے۔

8۔ جنت و دوزخ کے اثر آفریں مقامات کی تلاوت کرنا اور ان کے معانی و مطالب کی تاثیرات، تصورات اور کیفیات میں کھوجانا۔ اس نسبت کے حصول کے لئے درج ذیل آیات بطور وظیفہ کثرت سے دلجمعی اور قلبی شوق و محبت کے ساتھ پڑھنا مفید ہے۔

چند آیات درج ذیل ہیں:

  1. سورۃ الصافات

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO

وَمَا تُجْزَوْنَ إِلَّا مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَO إِلَّا عِبَادَ اللهِ الْمُخْلَصِیْنَO اُوْلٰـئِکَ لَهُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌO فَوَاکِهُ وَ هُمْ مُّکْرَمُوْنَO فِیْ جَنَّاتِ النَّعِیْمِO عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقَابِلِیْنَO یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِکَأْسٍ مِّن مَّعِیْنٍمO بَیْضَآءَ لَذَّةٍ لِّلشَّارِبِیْنَO لَا فِیْهَا غَوْلٌ وَّلَا هُمْ عَنْهَا یُنْزَفُوْنَO وَ عِنْدَهُمْ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ عِیْنٌO کَأَنَّهُنَّ بَیْضٌ مَّکْنُوْنٌO (الصافات، 37: 39۔49)

’’اور تم کو بدلہ ویسا ہی ملے گا جیسا کہ تم (دنیا میں) عمل کیا کرتے تھے۔ مگر جو اللہ کے مخلص بندے ہیں (ان پراللہ کے انعامات اور نوازشیں ہوں گی)۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے واسطے (اللہ کے یہاں) روزی مقرر ہے۔ (ان کے لئے) میوے ہوں گے اور ان کی عزت (کے ساتھ مہمان نوازی) ہو گی۔ (وہ) نعمت کے باغوں میں (مقیم ہوں گے)۔ تختوں پر آمنے سامنے (جلوہ افروز ہوں گے)۔ شراب لطیف کا جام ان کے درمیان گردش میں ہو گا۔ (یہ) سفید (پرکیف شراب) پینے والوں کے لئے (عجیب) لذت بخشنے والی (ہو گی)۔ نہ اس کو پی کر سر چکرائے گا اور نہ اس کو پی کر لوگ بہکیں گے۔ اور ان کے پاس عورتیں ہوں گی نیچی نگاہ والی (اور) بڑی آنکھوں والی۔ (خوش رنگ) گویا وہ محفوظ انڈوں کی سی ہیں (جن کو اللہ نے خوش رنگ اور دلکش بنایا ہے اور جن کی دل کشی کا محافظ رہا ہے)۔‘‘

  1. سورۃ ص

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO

هٰذَا ذِکْرٌ ط وَ إِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍO جَنَّاتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّھُمُ الْأَبْوَابُO مُتَّکِئِیْنَ فِیْهَا یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِفَاکِهَةٍ کَثِیْرَةٍ وَّ شَرَابٍO وَ عِنْدَهُمْ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ أَتْرَابٌO هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِیَوْمِ الْحِسَابِO إِنَّ هٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهٗ مِنْ نَّفَادٍO هٰذَا وَ إِنَّ لِلطَّاغِیْنَ لَشَرَّ مَاٰبٍO جَهَنَّمَ یَصْلَوْنَهَا فَبِئْسَ الْمِهَادُO هٰذَا فَلْیَذُوْقُوْهُ حَمِیْمٌ وَّ غَسَّاقٌO وَّ اٰخَرُ مِنْ شَکْلِہٖٓ أَزْوَاجٌO (ص، 38: 49۔58)

’’اور یہ (واقعات جن کا بیان کیا گیا ہے بذات خود) نصیحت ہیں اور (اس بات کی شہادت ہیں کہ) بیشک پرہیزگاروں کے لئے بہت اچھا ٹھکانہ ہے۔ (ان کے لئے) ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوں گے۔ وہ وہاں (اپنی مسندوں پر) تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے اور طرح طرح کے میوے اور مشروبات کا حکم کرتے ہوں گے۔ اور ان کے پاس نیچی نگاہوں والی (با حیا) کمسن (حوریں) ہوں گی۔ (اور تم دیکھ لو گے کہ) یہ وہی (نعمت) ہے جس کا تم سے روزِ حساب آنے پر وعدہ کیا گیا تھا۔ یہ ہمارا دیا ہوا رزق ہے جو (کبھی) ختم ہونے والا نہیں۔ یہ (تو ہوا متقیوں کا حال) اور بلاشبہ سرکشوں کے لئے برا ٹھکانہ ہے۔ (یعنی) دوزخ جس میں وہ ڈالے جائیں گے وہ تو بہت ہی بری جگہ ہے۔ (ان سے کہا جائے گا) یہ ہے (وہ) کھولتا ہوا پانی اور پیپ (جو تمہارے اعمال کا بدلہ ہے) اس کا مزہ چکھو۔ اور (اسی پر کیا منحصر ہے) دوسری بھی اسی قسم کی طرح طرح کی چیزیں (ان کے لئے دوزخ میں موجود ہوں گی)۔‘‘

  1. سورۃ الطور

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO

إِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنَّاتٍ وَّ نَعِیْمٍO فَاکِهِیْنَ بِمَآ اٰتَاهُمْ رَبُّهُمْ وَوَقَاهُمْ رَبُّهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِO کُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِٓیْئًا م بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَO مُتَّکِئِیْنَ عَلٰی سُرُرٍ مَّصْفُوْفَةٍ وَّ زَوَّجْنَاهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍO وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّیَّتُهُمْ بِإِیْمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَمَآ أَلَتْنَاهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَیْئٍ ط کُلُّ امْرِئٍم بِمَا کَسَبَ رَهِیْنٌO وَ أَمْدَدْنَاهُمْ بِفَاکِهَةٍ وَّلَحْمٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَO یَتَنَازَعُوْنَ فِیْهَا کَأْسًا لَّا لَغْوٌ فِیْهَا وَلَا تَأْثِیْمٌO وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ غِلْمَانٌ لَّهُمْ کَأَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَّکْنُوْنٌO وَ أَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَّتَسَآئَلُوْنَO قَالُوْآ إِنَّا کُنَّا قَبْلُ فِیْٓ أَهْلِنَا مُشْفِقِیْنَO فَمَنَّ اللهُ عَلَیْنَا وَ وَقَانَا عَذَابَ السَّمُوْمِO إِنَّا کُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوْهُ ط إِنَّهٗ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِیْمُO (الطور، 52: 17۔28)

’’بیشک اللہ سے ڈرنے والے جنتوں اور نعمتوں میں (شاداں) ہوں گے۔ ان کے پروردگار نے جو انہیں عطا فرمایا اس سے خوش ہوں گے اور (ان کے لیے سب سے زیادہ باعثِ مسرت یہ بات ہوگی کہ) ان کے رب نے ان کو جہنم کے عذاب سے بچا لیا۔ (ان سے کہا جائے گا اب جو تمہارا دل چاہے) بڑے مزے سے کھاؤ پیو یہ بدلہ ہے تمہارے ان کاموں کا جو تم کیا کرتے تھے۔ (اور اہل جنت، جنت میں نہایت عزت و شان کے ساتھ) قطار سے بچھے ہوئے تختوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے اور بڑی (دلکش) آنکھوں والی حوروں کو ہم ان کی بیویاں بنائیں گے۔ اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کی اولاد نے ایمان کے ساتھ ان کی اتباع کی ہم جنت میں ان کی اولاد کو ان سے ملادیں گے اور ہم ان کے اعمال (کی جزا) میں کچھ کمی نہ کریں گے (لیکن جہاں تک کافر اولاد کا تعلق ہے) ہر شخص اپنے اعمال کی پاداش میں گرفتار ہو گا۔ اور (جنت میں مہمان نوازیوں کا یہ عالم ہوگا کہ) ہم اہل جنت کو دم بدم میوے گوشت اور جو وہ چاہیں گے دیتے رہیں گے۔ (شرابِ طہور کے) جام (لطف و محبت کے ساتھ) ایک دوسرے سے بڑھ کر لیتے ہوں گے (وہ پاکیزہ جام) جس میں نہ بکواس ہوگی اور نہ فتورِ عقل۔ اور ان کے اردگرد خدمت گار لڑکے ہوں گے (جن کی صفائی اور پاکیزگی کا یہ حال ہوگا) گویا وہ موتی ہیں جو غلاف کے اندر رکھے ہیں۔ (اس خوشگوار اور پرلطف فضا میں اہل جنت ایک دوسرے سے ہم کلام ہوں گے۔) اور ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوکر پوچھیں گے۔کہیں گے اس سے قبل ہم (بھی) اپنے گھر (یعنی دنیا) میں ڈرے (اور سہمے) رہتے تھے (کہ نہ معلوم مرنے کے بعد کیا ہو)۔ دراصل اللہ نے ہم پر بڑا احسان فرمایا اور ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچا لیا (اس کی بھاپ تک نہ لگی)۔ بیشک ہم اس سے قبل (دنیا میں) اس (اللہ) سے دعائیں مانگا کرتے تھے (اس نے کرم فرمایا کہ ہماری التجا سن لی) بیشک وہ بڑا احسان کرنے والا مہربان ہے (کہ اس لطف و کرم سے ہمیں رکھاہے)۔‘‘

  1. سورۃ الرحمٰن

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO

وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتَانِO فَبِأَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِO ذَوَاتَآ أَفْنَانٍO فَبِأَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِO فِیْهِمَا عَیْنَانِ تَجْرِیَانِO فَبِأَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِO فِیْهِمَا مِنْ کُلِّ فَاکِهَةٍ زَوْجَانِO فَبِأَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِO مُتَّکِئِیْنَ عَلٰی فُرُشٍم بَطَآئِنُهَا مِنْ إِسْتَبْرَقٍ ط وَجَنَا الْجَنَّتَیْنِ دَانٍO فَبِأَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِO فِیْهِنَّ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ لَمْ یَطْمِثْهُنَّ إِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَآنٌّO فَبِأَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِO کَأنَّهُنَّ الْیَاقُوْتُ وَالْمَرْجَانُO فَبِأَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِO هَلْ جَزَآئُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُO فَبِأَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِO وَمِنْ دُوْنِھِمَا جَنَّتَانِO فَبِأَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِO مُدْهَآمَّتَانِO فَبِأَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِO فِیْهِمَا عَیْنَانِ نَضَّاخَتَانِO فَبِأَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِO فِیْهِمَا فَاکِهَةٌ وَّ نَخْلٌ وَّ رُمَّانٌO فَبِأَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِO فِیْهِنَّ خَیْرَاتٌ حِسَانٌO فَبِأَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِO حُوْرٌ مَّقْصُوْرَاتٌ فِی الْخِیَامِO فَبِأَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِO لَمْ یَطْمِثْهُنَّ إِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَآنٌّO فَبِأَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِO مُتَّکِئِیْنَ عَلٰی رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَّ عَبْقَرِیٍّ حِسَانٍO فَبِأَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِO تَبَارَکَ اسْمُ رَبِّکَ ذِی الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِO (الرحمٰن، 55: 46۔78)

’’اور جو شخص اپنے رب کے حضور (پیشی کے لئے) کھڑا ہونے سے ڈرتا ہے اُس کے لئے دو جنتیں ہیں۔ پس تم دونوں اپنے رب کی کِن کِن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ جو دونوں (سرسبز و شاداب) گھنی شاخوں والی (جنتیں) ہیں۔ پس تم دونوں اپنے رب کی کِن کِن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ ان دونوں میں دو چشمے بہہ رہے ہیں۔ پس تم دونوں اپنے رب کی کِن کِن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ ان دونوں میں ہر پھل (اور میوے) کی دو دو قِسمیں ہیں۔ پس تم دونوں اپنے رب کی کِن کِن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ اہلِ جنت ایسے بستروں پر تکیئے لگائے بیٹھے ہوں گے جن کے استرنفِیس اور دبیز ریشم (یعنی اطلس) کے ہوں گے، اور دونوں جنتوں کے پھل (اُن کے) قریب جھک رہے ہوں گے۔ پس تم دونوں اپنے رب کی کِن کِن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ اور اُن میں نیچی نگاہ رکھنے والی (حوریں) ہوں گی جنہیں پہلے نہ کسی انسان نے ہاتھ لگایا اور نہ کسی جِن نے۔ پس تم دونوں اپنے رب کی کِن کِن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ گویا وہ (حوریں) یا قوت اور مرجان ہیں۔ پس تم دونوں اپنے رب کی کِن کِن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ پس تم دونوں اپنے رب کی کِن کِن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ اور (اُن کے لئے) اِن دو کے سوا دو اور بہشتیں بھی ہیں۔ پس تم دونوں اپنے رب کی کِن کِن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ وہ دونوں گہری سبز رنگت میں سیاہی مائل لگتی ہیں۔ پس تم دونوں اپنے رب کی کِن کِن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ اُن دونوں میں (بھی) دو چشمے ہیں جو خوب چھلک رہے ہوں گے۔ پس تم دونوں اپنے رب کی کِن کِن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ ان دونوں میں (بھی) پھل اور کھجوریں اور انار ہیں۔ پس تم دونوں اپنے رب کی کِن کِن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ ان میں (بھی) خوب سیرت و خوب صورت (حوریں) ہیں۔ پس تم دونوں اپنے رب کی کِن کِن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ ایسی حوریں جو خیموں میں پردہ نشین ہیں۔ پس تم دونوں اپنے رب کی کِن کِن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ انہیں پہلے نہ کسی انسان ہی نے ہاتھ سے چُھوا ہے اور نہ کسی جِن نے۔ پس تم دونوں اپنے رب کی کِن کِن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ (اہلِ جنت) سبز قالینوں پر اور نادر و نفیس بچھونوں پر تکیئے لگائے (بیٹھے) ہوں گے۔ پس تم دونوں اپنے رب کی کِن کِن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ آپ کے رب کا نام بڑی برکت والا ہے، جو صاحبِ عظمت و جلال اور صاحبِ اِنعام و اِکرام ہے۔‘‘

  1. سورۃ الواقعۃ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO

إِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُO لَیْسَ لِوَقْعَتِهَا کَاذِبَةٌO خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌO إِذَا رُجَّتِ الْأَرْضُ رَجًّاO وَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاO فَکَانَتْ هَبَآئً مُّنْبَثًّاO وَّ کُنْتُمْ أَزْوَاجًا ثَلٰـثَةًO فَأَصْحَابُ الْمَیْمَنَةِ مَآ أَصْحَابُ الْمَیْمَنَةِO وَ أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَآ أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِO وَالسَّابِقُوْنَ السَّابِقُوْنَO اُولٰـئِکَ الْمُقَرَّبُوْنَO فِیْ جَنَّاتِ النَّعِیْمِO ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِیْنَO وَ قَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَO عَلٰی سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍO مُّتَّکِئِیْنَ عَلَیْهَا مُتَقَابِلِیْنَO یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَO بِأَکْوَابٍ وَّ أَبَارِیْقَ وَ کَأْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍO لَّا یُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا وَلَا یُنْزِفُوْنَO وَ فَاکِهَةٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَO وَلَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَO وَ حُوْرٌ عِیْنٌO کَأمْثَالِ اللُّؤْلُوْئِ الْمَکْنُوْنِO جَزَآئًم بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُونَO لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِیْمًاO إِلَّا قِیْلًا سَلَامًا سَلَامًاO وَ أَصْحَابُ الْیَمِیْنِ مَآ أَصْحَابُ الْیَمِیْنِO فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍO وَّطَلْحٍ مَّنْضُوْدٍO وَّ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍO وَّمَآئٍ مَّسْکُوْبٍO وَّ فَاکِهَةٍ کَثِیْرَةٍO لَّا مَقْطُوْعَةٍ وَّلَا مَمْنُوْعَةٍO وَّ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَةٍO إِنَّآ أَنْشَأْنَاهُنَّ إِنْشَآءًO فَجَعَلْنَاهُنَّ أَبْکَارًاO عُرُبًا أَتْرَابًاO لِّاَصْحَابِ الْیَمِیْنِO ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِیْنَO وَ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَO وَ أَصْحَابُ الشِّمَالِ مَآ أَصْحَابُ الشِّمَالِO فِیْ سَمُوْمٍ وَّ حَمِیْمٍO وَّ ظِلٍّ مِّنْ یَّحْمُوْمٍO لَّا بَارِدٍ وَّلَا کَرِیْمٍO إِنَّهُمْ کَانُوْا قَبْلَ ذٰلِکَ مُتْرَفِیْنَO وَ کَانُوْا یُصِرُّوْنَ عَلَی الْحِنْثِ الْعَظِیْمِO وَ کَانُوْا یَقُوْلُوْنَ أَئِذَا مِتْنَا وَ کُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا أَئِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَO أَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَO قُلْ إِنَّ الْأَوَّلِیْنَ وَالْاٰخِرِیْنَO لَمَجْمُوْعُوْنَ اِلٰی مِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍO ثُمَّ إِنَّکُمْ أَیُّهَا الضَّآلُّوْنَ الْمُکَذِّبُوْنَO لَاٰکِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍO فَمَالِؤُوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَO فَشَارِبُوْنَ عَلَیْهِ مِنَ الْحَمِیْمِO فَشَارِبُوْنَ شُرْبَ الْهِیْمِO هٰذَا نُزُلُهُمْ یَوْمَ الدِّیْنِO نَحْنُ خَلَقْنَاکُمْ فَلَوْلَا تُصَدِّقُوْنَO أَفَرَأَیْتُمْ مَّا تُمْنُوْنَO أَأَنْتُمْ تَخْلُقُوْنَهُٓ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُوْنَO نَحْنُ قَدَّرْنَا بَیْنَکُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَO عَلٰٓی أَنْ نُّبَدِّلَ أَمْثَالَکُمْ وَ نُنْشِئَکُمْ فِیْ مَا لَا تَعْلَمُوْنَO وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُوْلٰی فَلَوْلَا تَذَکَّرُوْنَO أَفَرَأَیْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَO أَ أَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَهُٓ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُوْنَO لَوْ نَشَآئُ لَجَعَلْنَاهُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَکَّهُوْنَO إِنَّا لَمُغْرَمُوْنَO بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَO أَفَرَأَیْتُمُ الْمَآءَ الَّذِیْ تَشْرَبُوْنَO أَ أَنْتُمْ أَنزَلْتُمُوْهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَO لَوْ نَشَآءُ جَعَلْنَاهُ أُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْکُرُوْنَO أَفَرَأَیْتُمُ النَّارَ الَّتِیْ تُوْرُوْنَO أَ أَنْتُمْ أَنشَأْتُمْ شَجَرَتَهَآ أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِؤُوْنَO نَحْنُ جَعَلْنَاهَا تَذْکِرَةً وَّ مَتَاعًا لِّلْمُقْوِیْنَO فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِO فَـلَآ أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُوْمِO وَ اِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِیْمٌO اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ کَرِیْمٌO فِیْ کِتَابٍ مَّکْنُوْنٍO لَّا یَمَسُّهٗٓ إِلَّا الْمُطَهَرُوْنَO تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعَالَمِیْنَO أَفَبِهٰذَا الْحَدِیْثِ أَنْتُمْ مُّدْهِنُوْنَO وَ تَجْعَلُوْنَ رِزْقَکُمْ أَنَّکُمْ تُکَذِّبُوْنَO فَلَولَآ إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَO وَ أَنْتُمْ حِیْنَئِذٍ تَنْظُرُوْنَO وَ نَحْنُ أَقْرَبُ إِلَیْهِ مِنْکُمْ وَلٰـکِنْ لَّا تُبْصِرُوْنَO فَلَوْ لَآ إِنْ کُنْتُمْ غَیْرَ مَدِیْنِیْنَO تَرْجِعُوْنَهَآ إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَO فَأَمَّآ إِنْ کَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَO فَرَوْحٌ وَّ رَیْحَانٌ وَّ جَنَّةُ نَعِیْمٍO وَ أَمَّآ إِنْ کَانَ مِنْ أَصْحَابِ الْیَمِیْنِO فَسَلَامٌ لَّکَ مِنْ أَصْحَابِ الْیَمِیْنِO وَ أَمَّآ إِنْ کَانَ مِنَ الْمُکَذِّبِیْنَ الضَّآلِّیْنَO فَنُزُلٌ مِّنْ حَمِیْمٍ O وَّ تَصْلِیَةُ جَحِیْمٍO إِنَّ هٰذَا لَهُوَ حَقُّ الْیَقِیْنِO فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِO (الواقعۃ، 56: 1۔96)

’’(یاد رکھو کہ) جب قیامت واقع ہو جائے گی۔ (کہ) اس کے واقع ہونے میں کچھ بھی جھوٹ نہیں (تم اس کو آنکھوں سے دیکھ لو گے۔ شک و شبہ کی گنجائش نہ رہے گی)۔ ( کسی کو) پست کرنے والی (اور کسی کو) بلند کرنے والی ہوگی (خود پرستوں کو پست کر دے گی خدا پرستوں کو بلند کر دے گی)۔ جب زمین کپکپا کر لرزنے لگے گی (یعنی زمین جلال الٰہی سے لرز رہی ہو گی)۔ اور پہاڑ ٹوٹ پھوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ پھر غبار ہو کر اڑنے لگیں گے۔ اور تم لوگ (اس روز) تین قسموں میں بٹ جاؤ گے۔ یعنی (ایک) داہنے ہاتھ والے کیا کہنا ان داہنے ہاتھ والوں کا (یہ عرش عظیم کے داہنے جانب ہوں گے)۔ اور (دوسرے) بائیں ہاتھ واے (جو عرش عظیم کے بائیں جانب، بائیں ہاتھ میں اپنا نامہ اعمال لئے کھڑے ہوں گے) کیا برا حال ہو گا (ان) بائیں ہاتھ والوں کا۔ اور (تیسرے) سبقت لے جانے والے (یعنی جو ہر عمل صالح میں سبقت لے گئے۔ ہجرت کے لئے پہلے تیار ہوئے، جہاد کے لئے پہلے نکل کھڑے ہوئے، اسلام قبول کرنے والوں کی صف اوّل میں رہے۔ ہر کار خیر میں آگے ہی بڑھتے رہے تو قیامت کے دن بھی وہ انعامات الٰہی میں بھی) سبقت ہی لے جانے والے ہوں گے (جنت میں بھی پہلے ہی داخل ہوں گے)۔ یہی مقرب بارگاہ ہیں (ان کو اللہ کا قرب حاصل ہو گا وہ سرکار دوعالم کے نزدیک ہوں گے)۔ (وہ) نعمتوں سے معمور جنتوں میں (ہوں گے)۔ ایک بڑا گروہ اگلوں میں سے۔ اور کچھ پچھلوں میں سے (ان جنتوں میں ہوں گے)۔ (یہ مقربین) سونے کے مرصع تختوں پر۔ ایک دوسرے کے آمنے سامنے تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے۔ نوجوان خدمت گار جو ہمیشہ ایک حالت پر رہیں گے ان کے درمیان لئے پھرتے ہوں گے۔ آبخورے اور آفتابے اور پاکیزہ شراب کے پیالے۔ جس سے نہ دردِ سر ہو گا اور نہ عقل ہی میں فتور آئے گا (کہ انسان ان کو پی کر فضول بکواس کرنے لگے، یہ تو لذت و سرور کے جام ہوں گے)۔ اور میوے جو وہ پسند کریں۔ اور پرندوں کا گوشت جس کی وہ خواہش کریں۔ اور حوریں کشادہ آنکھوں والی۔ جیسے (محفوظ) پوشیدہ رکھے ہوئے موتی۔ یہ اجر ہو گا ان کے (نیک) اعمال کا۔ اس(جنت) میں نہ وہ فضول بکواس سنیں گے اور نہ وہ گناہ کی باتیں (جو ان کے دل آزاری کا سبب بنیں)۔ بس ہر طرف سے سلام ہی سلام کی آواز آئے گی۔ اور داہنے (ہاتھ یا عرش عظیم کے داہنی جانب) والے کیا کہنا ان داہنے (ہاتھ) والوں کا (جن کے نامۂ اعمال ان کے داہنے ہاتھ میں ہوں گے)۔ بے خار بیریوں میں (جن کی ڈالیاں پھلوں کے بوجھ سے جھک رہی ہوں گی)۔ اور تہ بہ تہ کیلوں میں۔ اور لمبے لمبے سایوں میں۔ اور پانی کے جھرنوں میں۔ اور کثرت سے میوؤں کے باغوں میں ہوں گے۔ جس کی نہ فصل ختم ہو گی اور نہ (وہاں کوئی) روک ٹوک ہو گی۔ اور اونچے (دبیز اور پرشکوہ) فرش ہوں گے۔ اور ان کی ہم جلیس وہ عورتیں ہوں گی کہ ہم نے ان کو خاص طور پر (حسین اور لطیف انداز پر) پیدا کیا ہے۔ یعنی ہم نے ان کو کنواریاں (ہی) بنایا۔ پیار دلانے والیاں ہم عمر۔ اصحاب یمین کے واسطے (کہ اہل جنت ان کو دیکھ کر اور وہ ان کو دیکھ کر خوش ہوں اور ان پر کیفیت فضاؤں میں ان کی مسرتوں میں ان کی شریک ہوں)۔ (اور ان داہنے ہاتھ والوں کا) ایک بڑا گروہ اگلوں میں سےO اور ایک بڑا گروہ پچھلوں میں سے ہو گا۔ اور بائیں ہاتھ والے (جن کے نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں ہوں گے) کیسے برے حال میں ہوں گے یہ بائیں جانب والے۔ گرم ہوا اور کھولتے ہوئے پانی میں۔ اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں ہوں گے۔ نہ اس میں ٹھنڈک ہو گی اور نہ وہ فرحت بخش (ہو گا)۔ بیشک وہ (اہل دوزخ) اس سے پہلے بڑے خوش حال لوگ تھے (ان کو طرح طرح کی نعمتیں حاصل تھیں لیکن انہوں نے ان نعمتوں کی قدر نہ کی)۔ اور وہ گناہ عظیم (یعنی شرک، کفر) پر مصر رہتے تھے۔ اور (یہی) کہا کرتے تھے کہ کیا جب ہم مرگئے اور مٹی اور ہڈیاں ہو گئے تو کیا ہم پھر زندہ کئے جائیں گے۔ (اور ) کیا ہمارے آباؤ اجداد کو بھی (پھر زندہ کیا جائے گا جو بہت پہلے مر چکے یہ کیسے ہو سکتا ہے)۔ آپ فرمادیجئے کہ بیشک اگلوں کو بھی اور پچھلوں کو بھی۔ (یعنی) سب کو جمع کیا جائے گا ایک مقرر دن کے مقرر وقت پر۔ پھر اے جھٹلانے والے گمراہو تم کو۔ یقینا تھوہڑ کے درخت سے کھانا ہو گا۔ پھر اسی سے پیٹ بھرنا ہو گا۔ پھر اس پر گرم پانی پینا ہو گا۔ پھر تم (اسے) ایسے پیو گے جیسے پیاس کا مارا ہوا اونٹ (جو ایک سانس میں پانی چڑھاتا ہی چلا جاتا ہے)۔ یہ ہو گی قیامت کے دن ان کی مہمانی (اسی کے وہ مستحق تھے)۔ (سوچو) ہم ہی نے تم کو پیدا کیا (کیوں اس عذاب میں پڑنا چاہتے ہو) پھر کیوں اس (حیات بعد الممات) کو سچ نہیں سمجھتے۔ بھلا دیکھو جس نطفہ کو تم ٹپکاتے ہو (اس سے انسان کون بناتا ہے؟)۔ کیا اس کو تم (انسان) بناتے ہو یا اس کے بنانے والے ہم ہیں۔ ہم ہی نے تمہارے درمیان موت کو مقرر کیا ہے (جب جس کا وقت آتا ہے وہ اٹھتا جاتا ہے) اور ہم (اب بھی) عاجز نہیں۔ اس بات سے کہ (تم کو اس دنیا سے اٹھالیں اور) تمہاری طرح کے اور لوگ تمہاری جگہ لے آئیں اور تم کو ایسی حالت (صورت یا ایسے جہان) میں پیدا کریں جس کو تم نہیں جانتے۔ اور تم کو تو پہلی پیدائش کا علم ہے ہی (اس میں تو شک کی گنجائش نہیں) پھر تم کیوں نہیں سوچتے (آخرت پر یقین کیوں نہیں لاتے اللہ کو کیوں یاد نہیںکرتے)۔ بھلا دیکھو تو جو تم بوتے ہو۔ کیا تم اسے اگاتے ہو یا اس کے اگانے والے ہم ہیں۔ اگر ہم چاہیں تو اس (تمہاری کھیتی) کو چورا چورا کر ڈالیں پھر تم باتیں بناتے رہ جاؤ۔ (یہی کہو کہ) ہم تو تاوان میں پڑگئے (قرضدار بھی ہوئے اور کچھ نہ ملا)۔ بلکہ ہم تو محروم (اور بدنصیب) ہی رہے۔ بھلا (اس) پانی کو تو دیکھو جو تم پیتے ہو۔ کیا تم نے اس کو بادلوں سے اتارا ہے یا (اس کے) اتارنے والے ہم ہیں۔ اگر ہم چاہیں تو اسے کھاری بنا دیں پھر تم شکر کیوں ادا نہیں کرتے۔ بھلا آگ ہی کو دیکھو جس کو تم سلگاتے ہو۔ کیا اس کا درخت (جس سے تم آگ نکالتے ہو) تم نے پیدا کیا یا (اس کے) پیدا کرنے والے ہم ہیں۔ ہم ہی نے تو اس (درخت) کو (اپنی قدرت و حکمت کی) یاد دلانے والا اور مسافروں کے لئے نفع کی چیز بنایا۔ پس آپ پروردگار کے نام کی پاکی بیان فرمائیے جو بڑی عظمت والا ہے۔پس میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے ڈوبنے کی (یا منزلوں کی) ۔ اور بیشک یہ ایک بڑی قسم ہے اگر تم سمجھو۔ بلا شبہ یہ قرآن کریم ہے (بڑی بزرگی بڑی عزت والا)۔ لوحِ محفوظ میں (لکھا ہوا ہے) ۔ اسے دل و دماغ کی پاکی ہی سے پایا جا سکتا ہے اس کو وہی چھوتے ہیں (وہی اس کی لذت کو پاتے ہیں) جو پاک (دل، پاک صفات) ہیں۔(یہ قرآن) پروردگارِ عالم کی طرف سے نازل کیاگیا ہے۔اب کیا اس بات سے تم منکر ہو۔ اور تم نے (اس کی) تکذیب کو اپنا حصہ (اپنا نصیبہ) بنالیا ہے۔ پس جب (تمہاری جان) حلق تک آپہنچتی ہے۔اور تم اس وقت (یاس و نا امیدی سے) تکتے رہ جاتے ہو (تم کو اپنی مجبوری کا شدید احساس ہوتا ہے)۔اور ہم (اس وقت بھی) تمہاری نسبت اس (مرنے والے) سے زیادہ قریب ہوتے ہیں لیکن تم نہیں دیکھتے (اور نہیں سمجھتے)۔پس (سوچوکہ) اگر تم کسی کے اختیار میں نہیں (تو اپنے مرتے ہوئے عزیز کو دیکھ کر)۔ اس کی روح کو کیوں نہیںلوٹا لیتے، اگر تم (اپنے دعووں میں) سچے ہو۔پس اگر وہ (اللہ کے) مقرب بندوںمیں سے ہے۔ تو اس (کی روح) کے لیے روح (یعنی راحت اور وہ کیفیت مسرت ہے جو جملہ مسرتوں کا خلاصہ، تمام ظاہری اور باطنی مسرتوں کا نچوڑ ہے) اور خوشبودار کھانے اور نعمتوں والی جنت ہے۔ اور اگر وہ اصحابِ یمین (داہنے ہاتھ والوں) میں سے ہے (جن کے اعمال اللہ کے یہاںمقبول ہوگئے جن کی لغزشوں سے درگذرکیا گیا) تو (ان کی طرف سے بھی خاطر جمع رکھو۔ اس مرنے والے سے کہا جائے گا)۔ تیرے لیے سلامتی اور امن ہے کہ توداہنے (ہاتھ) والوں میںسے ہے۔اگر وہ جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہے۔ تو کھولتے پانی سے اس کی مہمانی ہو گی۔ اور اس کو) دوزخ میں داخل ہونا ہوگا۔ بیشک یہ (جو کچھ مقربین، مسلمین اور مکذوبین کے لیے بیان کیا گیا) یقینا حق ہے (اس میں کسی قسم کے شبہ کی گنجائش نہیں) ۔اے حبیب! پس آپ اپنے رب کی پاکی بیان کرتے رہیے جوبڑی عظمت والا ہے۔‘‘

  1. سورۃ الحاقۃ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO

فَإِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌO وَّ حُمِلَتِ الْأَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُکَّتَا دَکَّةً وَّاحِدَةًO فَیَوْمَئِذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعةَO وَانْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَهِیَ یَوْمَئِذٍ وَّاهِیَةٌO وَالْمَلَکُ عَلٰٓی أَرْجَآئِهَا ط وَ یَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّکَ فَوْقَهُمْ یَوْمَئِذٍ ثَمَانِیَةٌO یَوْمَئِذٍ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰی مِنْکُمْ خَافِیَةٌO فَأَمَّا مَنْ أُوْتِیَ کِتَابَهُ بِیَمِیْنِہٖ فَیَقُوْلُ هَآؤُمُ اقْرَءُ وْا کِتَابِیَهْO إِنِّیْ ظَنَنْتُ أَنِّیْ مُلَاقٍ حِسَابِیَهْO فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍO فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍO قُطُوْفُهَا دَانِیَةٌO کُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِٓیْئًا م بِمَآ أَسْلَفْتُمْ فِی الْأَیَّامِ الْخَالِیَةِO وَ أَمَّا مَنْ أُوْتِیَ کِتَابَهٗ بِشِمَالِہٖ فَیَقُوْلُ یَا لَیْتَنِیْ لَمْ أُوْتَ کِتَابِیَهْO وَلَمْ أَدْرِ مَا حِسَابِیَهْO یَا لَیْتَهَا کَانَتِ الْقَاضِیَةَO مَآ أَغْنٰی عَنِّیْ مَالِیَهْO هَلَکَ عَنِّیْ سُلْطَانِیَهْO خُذُوْهُ فَغُلُّوْهُO ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوْهُO ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُکُوْهُO إِنَّهٗ کَانَ لَا یُؤْمِنُ بِاللهِ الْعَظِیْمِO وَلَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِO فَلَیْسَ لَهُ الْیَوْمَ هَاهُنَا حَمِیْمٌO وَّلَا طَعَامٌ إِلَّا مِنْ غِسْلِیْنٍO لَا یَأْکُلُهٗٓ إِلَّا الْخَاطِؤُوْنَO (الحاقہ، 69: 13۔37)

’’پھر جب صور میںایک بار پھونک مار دی جائے گی (یعنی پہلی بار جب صور پھونکا جائے گا)۔ اور زمین اور پہاڑ اٹھائے جائیں گے پھر ایک بارگی (پٹک کر) ریزہ ریزہ کر دیئے جائیں گے۔ پس اسی وقت وہ جس کا ہونا یقینی ہے واقع ہو جائے گی۔ اور آسمان پھٹ جائے گا پھر اس دن وہ بالکل بودا (بے حقیقت) ہو جائے گا۔ اور (جب آسمان پھٹنا شروع ہو گا تو) فرشتے اس کے کناروں پر ہو جائیں گے اور آپ کے رب کے عرش (قدرت) کو اس دن آٹھ (فرشتے) اپنے اوپر اٹھائے ہوں گے۔ (لوگو) اس دن تم (اللہ کے روبرو) حاضر کئے جاؤ گے تمہاری کوئی پوشیدہ بات چھپی نہ رہے گی۔ پھر جس کو اس دن اس کا نامۂ اعمال داہنے ہاتھ میں دیا گیا تو وہ (دوسروں سے خوش ہو کر) کہے گا لو میرا نامہ اعمال پڑھو۔ (دیکھو اللہ نے کیسا فضل فرمایا، مجھ کو دنیا میں کیسی ہدایت دی)۔ مجھے (دنیا ہی میں) یقین تھا کہ ایک دن (میرا حساب و کتاب ہونے والا ہے) میرا نامہ اعمال مجھے ملے گا۔ پس (آخرت میں) وہ خاطر خواہ زندگی بسر کرے گا۔ (یعنی) جنت کے عالی شان باغ میں ہو گا۔ جس کے میوے (پک کر) جھکے ہوئے ہوں گے (گویا توڑنے کی دعوت دے رہے ہوں گے اوراتنے قریب ہوں گے کہ آسانی سے توڑے جا سکیں)۔ (ان سے کہا جائے گا کہ اب جنت میں) خوب لطف سے کھاؤ پیو یہ ان اعمال کا صلہ ہے جو تم گزشتہ دنوں میں بھیج چکے ہو۔ اور جس کو اس کا نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا گیا تو وہ کہے گا کاش مجھے میرا نامہ اعمال دیا ہی نہ جاتا۔ اور مجھے خبر ہی نہ ہوتی کہ میرا حساب کیا ہے۔ اے کاش (میری) موت (ہمیشہ کے لئے) مجھے ختم کر گئی ہوتی (کہ یہ روز دیکھنا ہی نہ پڑتا)۔ (افسوس) میرا مال بھی میرے کچھ کام نہ آیا۔ مجھ سے میری حکومت بھی جاتی رہی۔ (حکم ہو گا) اس کو پکڑ لو پھر زنجیر میں جکڑ دو۔ پھر دوزخ (کی آگ) میں اسے جھونک دو۔ تو پھر (اس دوزخ میںبھی) ایک زنجیر سے جس کا طول ستر گز ہے اس کو جکڑ دو۔ کیونکہ وہ خدائے بزرگ و برتر پر ایمان نہیں رکھتا تھا۔ اور نہ محتاجوں کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا (نہ اس نے اللہ کے حقوق ادا کئے نہ اس کے بندوں سے ہمدردی کی)۔ پس آج اس کا بھی یہاں کوئی ہمدرد نہیں۔ اور اس کے لئے کوئی غذا بجز زخموں کے دھوون کے نہیں۔ جس کو سوائے گنہگاروں کے کوئی نہ کھائے گا۔‘‘

  1. سورۃ المعارج

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO

سَأَلَ سَآئِلٌ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍO لِّلْکَافِرِیْنَ لَیْسَ لَهٗ دَافِعٌO مِّنَ اللهِ ذِی الْمَعَارِجِO تَعْرُجُ الْمَلَآئِکَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِیْنَ أَلْفَ سَنَةٍO فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًاO إِنَّھُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًاO وَّ نَرَاهُ قَرِیْبًاO یَوْمَ تَکُوْنُ السَّمَآءُ کَالْمُھْلِO وَ تَکُوْنُ الْجِبَالُ کَالْعِھْنِO وَ لَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًاO یُّبَصَّرُوْنَھُمْ ط یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍم بِبَنِیْهِO وَ صَاحِبَتِہٖ وَ أَخِیْهِO وَ فَصِیْلَتِهِ الَّتِیْ تُئْوِیْهِOوَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا ثُمَّ یُنْجِیْهِO کَلَّا ط إِنَّھَا لَظٰیO نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰیO تَدْعُوْا مَنْ أَدْبَرَ وَ تَوَلّٰیO وَ جَمَعَ فَأَوْعٰیO (المعارج، 70: 1۔18)

’’ایک طلب کرنے والے نے (سرکارِ دوعالم ﷺ سے ازراهِ انکار) اس عذاب کو طلب کیا جو واقع ہو کر رہے گا۔ (اور) جو منکروں کے واسطے ہے جس کو ٹالا نہ جا سکے گا۔ (وہ اس) اللہ کی طرف سے ہو گا جو بلندیوں کا مالک ہے۔ (یہ وہ وقت ہو گا جب) فرشتے اور جبریل اس کی طرف عروج کریں گے (اور یہ عذاب) اس دن(ہو گا) جس کا اندازہ (دنیا کے) پچاس ہزار سال ہے۔ (پس آپ ان کے سوال سے آزردہ خاطر نہ ہوں اور) صبر فرمائیں (وہ ) صبر جمیل (جو آپ کی ذات کے ساتھ خاص ہے)۔ وہ ان لوگوں کی نگاہ میں دور ہے۔ اور ہماری نظر میں قریب ہے۔ (یہ وہ دن ہو گا) جس دن آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی مانند ہو گا۔ اور پہاڑ رنگین اون کے گالے کی طرح ہوں گے (ہلکے اور مختلف رنگ کے)۔ اور کوئی دوست کسی دوست کا پرسان حال نہ ہو گا۔ حالانکہ ایک دوسرے کو دیکھتے بھی ہوں گے (مگر کوئی کسی کا ہمدرد نہ ہو گا دوست ہو یا عزیز اور) گنہگار تمنا کرے گا کہ کسی طرح اس روز کے عذاب سے بچنے کے لئے(بدلے میں) اپنے بیٹے دے دے۔ اور اپنی بیوی اور اپنے بھائی کو بھی۔ اور اپنے (کل) خاندان کو جن میں وہ (دن رات) رہتا تھا۔ اور جو لوگ زمین میں ہیں (بس چلے تو) سب کو دے دے، پھر (کسی طرح) اپنے کو (اس عذاب الٰہی سے) بچا لے۔ (لیکن ایسا) ہرگز نہیں (ہو سکتا عذاب الٰہی سے اسے کوئی چیز نہیں بچا سکتی ان کے لئے) وہ بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔ جو کھال ادھیڑ ڈالنے والی ہے (وہ اس میں جھونکے جائیں گے)۔ وہ ہر اس شخص کو پکارے گی جس نے (اللہ کے حکم سے دنیا میں) پیٹھ پھیری اور روگردانی کی ہو گی۔ اور (مال و دولت) جمع کیا اور اس کو سنبھال (سنبھال) کر رکھا ہو گا۔‘‘

  1. سورۃ الدھر

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO

إِنَّ الْأَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ کَاْسٍ کَانَ مِزَاجُھَا کَافُوْرًاO عَیْنًا یَّشْرَبُ بِھَا عِبَادُ اللّٰهِ یُفَجِّرُوْنَھَا تَفْجِیْرًاO یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوْنَ یَوْمًا کَانَ شَرُّهٗ مُسْتَطِیْرًاO وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ أَسِیْرًاO إِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْکُمْ جَزَآءً وَّلَا شُکُوْرًاO إِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًاO فَوَقَاھُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِکَ الْیَوْمِ وَ لَقَّاھُمْ نَضْرَةً وَّ سُرُوْرًاO وَ جَزَاھُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاO مُّتَّکِئِیْنَ فِیْھَا عَلَی الْاَرَآئِکِ لَا یَرَوْنَ فِیْھَا شَمْسًا وَّلَا زَمْھَرِیْرًاO وَ دَانِیَةً عَلَیْھِمْ ظِلَالُھَا وَ ذُلِّلَتْ قُطُوْفُھَا تَذْلِیْلًاO وَ یُطَافُ عَلَیْھِمْ بِاٰنِیَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّ أَکْوَابٍ کَانَتْ قَوَارِیْرَاO قَوَارِیْرَا مِنْ فِضَّةٍ قَدَّرُوْھَا تَقْدِیْرًاO وَ یُسْقَوْنَ فِیْھَا کَأْسًا کَانَ مِزَاجُھَا زَنْجَبِیْلًاO عَیْنًا فِیْھَا تُسَمّٰی سَلْسَبِیْلًاO وَ یَطُوْفُ عَلَیْھِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ ج إِذَا رَأَیْتَهُمْ حَسِبْتَھُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًاO وَ إِذَا رَأَیْتَ ثُمَّ رَأَیْتَ نَعِیْمًا وَّ مُلْکًا کَبِیْرًاO عٰلِیَهُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّ إِسْتَبْرَقٌ وَّ حُلُّوْآ أَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ ج وَ سَقَاھُمْ رَبُّھُمْ شَرَابًا طَھُوْرًاO إِنَّ ھٰذَا کَانَ لَکُمْ جَزَآءً وَّ کَانَ سَعْیُکُمْ مَّشْکُوْرًاO (الدھر، 76: 5۔22)

’’البتہ نیکوکار ایسے جام پئیں گے جس میں کافور کی آمیزش ہو گی (جس کی ٹھنڈک، نورانیت و فرحت اپنی مثال آپ ہو گی، وہ کافور کیا ہے؟)۔ ایک چشمہ ہے جس سے اللہ کے (خاص) بندے (جو اللہ نے ان کے لئے مقدر فرمایا ہے) پئیں گے (اور دوسروں کو بھی اس میں سے پلائیں گے اور اپنی نظر التفات سے) جہاں چاہیں گے اسے بہا کر لے جائیں گے۔ اپنی منتوں کو پورا کرتے ہیں اور اس (قیامت کے) دن سے ڈرتے ہیں جس (دن) کی مصیبت پھیل پڑے گی۔ اور( یہ وہ لوگ ہیں جو) مسکین، یتیم اور قیدی کو اس کی (یعنی اللہ کی) محبت میں کھانا کھلاتے ہیں۔ (ان کا کہنا یہ ہوتا ہے کہ) ہم تم کو محض اللہ کی خوشنودی کے لئے کھانا کھلاتے ہیں نہ ہم تم سے کوئی معاوضہ چاہتے ہیں اور نہ شکریہ۔ ہم تو اپنے پروردگار سے اس دن(کے بارے میں) ڈرتے ہیں جو نہایت اداس کرنے والا (اور) سخت ہو گا۔ پھر اللہ ان کو (ان کے اس خدشہ اور خوف کے باعث) اس دن کے شر سے بچالے گا اور ان کو (یعنی ان کے چہروں کو) شگفتگی اور (دلوں کو) سرور عطا فرمائے گا۔ اور ان کے صبر کے بدلے ان کو جنت اور ریشمی پوشاک عطا ہو گی۔ وہ لوگ اس میں تختوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے وہاں نہ تو وہ (گرمی کی) تپش محسوس کریں گے نہ (سردی کی) ٹھٹھرن (ایک خوشگوار موسم ہو گا)۔ اور اس کے (درختوں کے) سائے ان سے قریب ہوں گے اور میوؤں کے گچھے جھکے ہوئے لٹک رہے ہوں گے (کہ جس طرح چاہیں وہ ان سے لطف اندوز ہوں)۔ اور( خدام) ان کے اردگرد چاندی کے ظروف اور شیشے کے (سے صاف ستھرے) گلاس لئے پھرتے ہوں گے۔ اور شیشے بھی چاندی کے جن کو انہوں نے (خدام نے) ٹھیک انداز سے (اور ہر شخص کی خواہش کے مطابق) بھرا ہو گا۔ اور ان (جنتیوں) کو وہاں ایسے جام پلائے جائیں گے جن میں زنجبیل کی آمیزش ہو گی (جو اپنی لذت اور فرحت میں اپنی مثال آپ ہو گی اس کا قیاس دنیا کی زنجبیل اور جنجر پر نہ کرنا چاہئے)۔ (یہ تو جنت کا) ایک چشمہ ہے جس کا نام سلسبیل ہے۔ اور ان کے پاس(پیارے پیارے) بچے آئیں جائیں گے جو ہمیشہ ویسے ہی رہیں گے اگر تو ان کو دیکھے تو سمجھے کہ (گویا) موتی ہیں جو بکھر گئے ہیں۔ اور (اے مخاطب اس کا حال یوں سمجھ کہ) اس میں تو(جدھر نظر اٹھا کر) دیکھے گا تجھے نعمت ہی نعمت اور بڑی بادشاہت نظر آئے گی(جو ہر جنتی کو نصیب ہو گی اور)۔ ان ( جنتیوں) کے جسم پر باریک سبز ریشم اور دبیز ریشم کے کپڑے ہوں گے اور ان کو (بطور اعزاز خاص کے) چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا پروردگار انہیں پاکیزہ شراب پلائے گا (جو قلب کو منور سے منور تر کر دے)۔ (اور ان سے کہا جائے گا کہ اے اہل جنت) یہ ہے تمہارا صلہ اور تمہاری محنت (جو تم دنیا میں اللہ کو راضی کرنے کے لئے کیا کرتے تھے آج) ٹھکانے لگی۔‘‘

  1. سورۃ المرسلات

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO

وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًاO فَالْعٰصِفٰتِ عَصْفًاO وَّ النَّاشِرَاتِ نَشْرًاO فَالْفَارِقَاتِ فَرْقًاO فَالْمُلْقِیَاتِ ذِکْرًاO عُذْرًا أَوْ نُذْرًاO اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِعٌO فَإِذَا النُّجُوْمُ طُمِسَتْO وَ إِذَا السَّمَآءُ فُرِجَتْO وَ إِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْO وَ إِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْO لِأَیِّ یَوْمٍ اُجِّلَتْO لِیَوْمِ الْفَصْلِO وَ مَا اَدْرٰکَ مَا یَوْمُ الْفَصْلِO وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَO اَلَمْ نُھْلِکِ الْاَوَّلِیْنَO ثُمَّ نُتْبِعُھُمُ الْاٰخِرِیْنَO کَذٰلِکَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَO وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَO أَلَمْ نَخْلُقْکُّمْ مِّنْ مَّآءٍ مَّھِیْنٍO فَجَعَلْنٰهُ فِیْ قَرَارٍ مَّکِیْنٍO إِلٰی قَدَرٍ مَّعْلُوْمٍO فَقَدَرْنَا فَنِعْمَ الْقَادِرُوْنَO وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَO أَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ کِفَاتًاO أَحْیَآءً وَّ أَمْوَاتًاO وَّ جَعَلْنَا فِیْھَا رَوَاسِیَ شٰمِخٰتٍ وَّ أَسْقَیْنَاکُمْ مَّآءً فُرَاتًاO وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَO اِنْطَلِقُوْآ إِلٰی مَا کُنْتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَO اِنْطَلِقُوْآ إِلٰی ظِلٍّ ذِیْ ثَلٰثِ شُعَبٍO لَّا ظَلِیْلٍ وَّلَا یُغْنِیْ مِنَ اللَّھَبِO إِنَّھَا تَرْمِیْ بِشَرَرٍ کَالْقَصْرِO کَأَنَّهٗ جِمٰلَتٌ صُفْرٌO وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَO ھٰذَا یَوْمُ لَا یَنْطِقُوْنَO وَلَا یُؤْذَنُ لَھُمْ فَیَعْتَذِرُوْنَO وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَO ھٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ جَمَعْنَاکُمْ وَالْاَوَّلِیْنَO فَاِنْ کَانَ لَکُمْ کَیْدٌ فَکِیْدُوْنِO وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَO إِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ ظِلاَلٍ وَّ عُیُوْنٍO وَّ فَوَاکِهَ مِمَّا یَشْتَھُوْنَO کُلُوْا وَ اشْرَبُوْا ھَنِٓیْئًام بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَO إِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَO وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَO کُلُوْا وَ تَمَتَّعُوْا قَلِیْلًا إِنَّکُمْ مُّجْرِمُوْنَO وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَO وَ إِذَا قِیْلَ لَھُمُ ارْکَعُوْا لَا یَرْکَعُوْنَO وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَO فَبِأَیِّ حَدِیْثٍم بَعْدَهٗ یَؤْمِنُوْنَO (المرسلٰت، 77)

’’ قسم ہے ان نرم خوشگوار ہواؤں کی جو (انسان کے نفع اور فرحت کے لئے) بھیجی جاتی ہیں۔ پھر (قسم ہے) تندو تیز ہواؤں کی (جو انتشار کا سبب بنتی ہیں)۔ اور قسم ہے ان (ہواؤں) کی جو (بادلوں کو ہر طرف) پھیلا دیتی ہیں۔ پھر ان کی جو (بادلوں کو) پھاڑ کر جدا جدا کر دیتی ہیں۔ پھر قسم ہے ان فرشتوں کی جو وحی کو اتار کر لاتے ہیں۔ حجت تمام کرنے یا ڈرانے کے لئے۔ بیشک تم سے جو وعدہ کیا جاتا ہے وہ ضرور (پورا) ہو کر رہے گا ( یعنی قیامت واقع ہو کر رہے گی)۔ پھر (یہ وہ وقت ہو گا) جب تارے بے نور ہو جائیں گے۔ اور جب آسمان پھٹ جائے گا۔ اور جب پہاڑ (ریزہ ریزہ ہو کر) اڑتے پھریں گے۔ اور جب رسولوں کو وقت معین پر جمع کیا جائے گا (کہ وہ ایک ترتیب سے اپنی اپنی امتوں کو لے کر رب العزت کے سامنے حاضر ہوں)۔ ( جانتے ہو کہ یہ سب کچھ) کس دن کے لئے ملتوی رکھا گیا ہے؟۔ فیصلہ کے دن کے لئے (جو روز قیامت ہے)۔ اور (اے مخاطب) تجھ کو کیا معلوم کہ وہ فیصلہ کا دن کیسا ہے۔ اس دن جھٹلانے والوں کے لئے بڑی خرابی(سخت تباہی) ہے۔کیا ہم نے اگلوں کو (جنہوں نے حق کو جھٹلایا تھا) ہلاک نہیں کر ڈالا۔ پھر ہم ان پچھلوں کو بھی (جو دین کی تکذیب پر مصر ہیں) انہیں کے پیچھے بھیج دیں گے (یہ بھی انہیں کے ساتھ رہیں گے)۔ گنہگاروں کے ساتھ ہم ایسا ہی (سلوک) کیا کرتے ہیں۔ (یقینا) اس دن جھٹلانے والوں کے لئے بڑی خرابی ہے۔ (لوگو تم اپنی پیدائش پر غور کیوں نہیں کرتے؟) کیا ہم نے تم کو حقیر پانی (کی ایک بوند) سے پیدا نہیں کیا۔ پھر اس کو ایک محفوظ جگہ (رحم مادر) میں رکھا۔ ایک وقت معین تک۔ پھر ہم نے ایک اندازہ ٹھہرایا (کہ وقت مقررہ میں ایک پانی کے قطرہ سے بتدریج انسان بنے) پس ہم کیا خوب اندازہ ٹھہرانے والے ہیں۔ جھٹلانے والوں کے لئے اس دن سخت خرابی (سخت عذاب ہے)۔ (ذرا یہ لوگ زمین کی تخلیق ہی پر غور کریں) کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنایا۔ زندوں کے لئے اور مردوں کے لئے (یعنی زندوں کے لئے یہی زمین بقائے زیست کا سامان لئے ہوئے ہے اور مردوں کے لئے گوشہ قبر)۔ اور ہم نے زمین پراونچے اونچے پہاڑ رکھ دیئے اور (اسی زمین میں شیریں چشمے جاری کر دئیے اور) ہم نے تم کو میٹھا پانی پلایا۔ اس دن جھٹلانے والوں کے لئے بڑی تباہی ہے۔ (ان سے کہا جائے گا کہ اب) اس (عذاب) کی طرف چلو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ تم (دوزخ کے دھویں کے) اس سائے کی طرف چلو جس کے تین حصے ہیں۔ جس میں نہ (ٹھنڈا) سایہ ہو گا اور نہ وہ (آگ کی) لپٹ سے بچائے گا۔ (بلکہ) وہ (ایسے) انگارے برسائے گا (جس کی چنگاریاں اور شعلے اتنے بڑے ہوں گے) جیسے محل (تو اندازہ کرو کہ وہ دوزخ کیا ہو گی)۔ (ان شعلوں کو دیکھ کر ایسا معلوم ہو گا) گویا یہ زرد اونٹوں کی قطاریں ہیں (جن کو ان کفار نے اکثر دیکھا ہے لیکن آج ان پر یہ سواری کی تمنا نہ کریں گے)۔ (یاد رکھو کہ) جھٹلانے والوں کے لئے اس دن بڑی خرابی (سخت تباہی) ہے۔ یہ وہ دن ہوگا کہ نہ وہ بول ہی سکیں گے۔ اور نہ ان کو یہی اجازت ہوگی کہ عذر پیش کریں۔ (خوب سن لیں کہ) جھٹلانے والوں کے لئے اس دن بڑی تباہی ہے۔ (اے حق کی تکذیب کرنے والو) یہ فیصلہ کا دن ہے (جس میں) ہم نے تم کو اور اگلوں کو جمع کر لیا ہے (تاکہ فیصلہ کے وقت سب کو ایک دوسرے کا حال معلوم ہو اور پھر سزا بھگتنے کے لئے اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں)۔ پھر اگر تمہارے پاس (عذاب سے بچنے کی) کوئی تدبیر ہو تومجھ سے کر چلو۔ اس دن جھٹلانے والوں کے لئے بڑی خرابی ہے۔ بلاشبہ (اللہ سے) ڈرنے والے (اس کی رحمت کے) سایوں اور چشموں میں ہوں گے (ہر سمت رحمت ہی رحمت ہو گی)۔ اور (وہ) ان میوؤں میں ہوں گے جو وہ پسند کریں۔ (ان سے کہا جائے گا) اب مزے سے کھاؤ پیو ان اعمال کے صلہ میں جو تم کیا کرتے تھے۔ (اور) ہم نیکو کاروں کو یوں ہی صلہ دیا کرتے ہیں۔ (حق کی) تکذیب کرنے والوں کے لئے اس دن بڑی خرابی ہے۔ (اے حق سے انکار کرنے والو! اس دنیا میں) تم تھوڑے دن کھا (پی) لو اور فائدہ اٹھا لو بیشک تم مجرم ہو۔ اس دن جھٹلانے والوں کے لئے سخت تباہی ہے۔ اور (ان کفار کا تو یہ حال ہے کہ) جب ان سے کہا جاتا ہے کہ (اللہ کے سامنے) جھکو (اس کا حکم مانو، اس کی عبادت کرو تو) یہ نہیں جھکتے۔ اس دن جھٹلانے والوں کے لئے سخت عذاب ہے (دوزخ کا ایک مخصوص گڑھا ان کا منتظر ہے)۔ آخر اس (قرآن و حدیث) کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے۔‘‘

  1. سورۃ النازعات

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO

وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًاO وَّ النَّاشِطَاتِ نَشْطًاO وَّ السَّابِحَاتِ سَبْحًاO فَالسَّابِقَاتِ سَبْقًاO فَالْمُدَبِّرٰتِ أَمْرًاO یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُO تَتْبَعُھَا الرَّادِفَةُO قُلُوْبٌ یَّوْمَئِذٍ وَّاجِفَةٌO أَبْصَارُھَا خَاشِعَةٌO یَقُوْلُوْنَ أَئِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِی الْحَافِرَةِO ئَ اِذَا کُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةًO قَالُوْا تِلْکَ إِذًا کَرَّةٌ خَاسِرَةٌO فَإِنَّمَا ھِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌO فَإِذَا ھُمْ بِالسَّاھِرَةِO (النازعات، 79: 1۔14)

’’ان (فرشتوں) کی قسم جو (کافروں کی جان انکے جسموں کے ایک ایک انگ میں سے ) نہایت سختی سے کھینچ لاتے ہیں۔ اور ان (فرشتوں) کی قسم جو (مومنوں کی جان کے) بند نہایت نرمی سے کھول دیتے ہیں۔ اور ان (فرشتوں) کی قسم جو (زمین و آسمان کے درمیان) تیزی سے تیرتے پھرتے ہیں۔ پھر ان (فرشتوں) کی قسم جو لپک کر (ایک دوسروں سے) آگے بڑھ جاتے ہیں۔ پھر ان (فرشتوں) کی قسم جو مختلف امور کی تدبیر کرتے ہیں۔ اس دن (کائنات کی) ہر متحرک چیز شدید حرکت میں آ جائے گی۔ پیچھے آنے والا ایک اور زلزلہ اس کے پیچھے آئے گا۔ اس دن (لوگوں کے) دل خوف و اضطراب سے دھڑکتے ہوں گے۔ ان کی آنکھیں (خوف و ہیبت سے) جھکی ہوں گی۔ (کفار) کہتے ہیں کیا ہم پہلی زندگی کی طرف پلٹائے جائیں گے۔ کیا جب ہم بوسیدہ (کھوکھلی) ہڈیاں ہو جائیںگے (تب بھی زندہ کئے جائیں گے؟)۔ وہ کہتے ہیں یہ (لوٹنا) تو اس وقت بڑے خسارے کا لوٹنا ہو گا۔ پھر تو یہ ایک ہی بار شدید ہیبت ناک آواز کے ساتھ (کائنات کے تمام اجرام کا ) پھٹ جانا ہو گا۔ پھر وہ (سب لوگ) یکایک کھلے میدان (حشر) میں آ موجود ہوں گے۔‘‘

  1. سورۃ التکویر

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO

إِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْO وَ إِذَا النُّجُوْمُ انْکَدَرَتْO وَ إِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْO وَ إِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْO وَ إِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْO وَ إِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْO وَ إِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْO وَ إِذَا الْمَوْؤٗدَةُ سُئِلَتْO بِأَیِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْO وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْO وَ اِذَا السَّمَآءُ کُشِطَتْO وَ إِذَا الْجَحِیْمُ سُعِّرَتْO وَ إِذَا الْجَنَّةُ أُزْلِفَتْO عَلِمَتْ نَفْسٌ مّآ أَحْضَرَتْO فَـلَآ أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِO الْجَوَارِ الْکُنَّسِO وَالَّیْلِ إِذَا عَسْعَسَO وَ الصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَO إِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍO ذِیْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَکِیْنٍO مُّطَاعٍ ثَمَّ أَمِیْنٍO وَ مَا صَاحِبُکُمْ بِمَجْنُوْنٍO وَلَقَدْ رَاٰهُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِO وَمَا ھُوَ عَلَی الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍO وَ مَا ھُوَ بِقَوْلِ شَیْطَانٍ رَّجِیْمٍO فَأَیْنَ تَذْهَبُوْنَO إِنْ ھُوَ إِلَّا ذِکْرٌ لِّلْعَالَمِیْنَO لِمَنْ شَآءَ مِنْکُمْ أَنْ یَّسْتَقِیْمَO وَ مَا تَشَآؤُوْنَ إِلَّا أَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الْعَالَمِیْنَO (التکویر، 81)

’’جب سورج لپیٹ کر بے نور کر دیا جائے گا۔ اور جب ستارے (اپنی کہکشاؤں سے) گر پڑیں گے۔ اور جب پہاڑ (غبار بنا کر فضا میں) چلا دیئے جائیں گے۔ اور جب حاملہ اونٹنیاں بیکار چھوٹی پھریں گی۔ اور جب وحشی جانور (خوف کے مارے) جمع کر دیئے جائیں گے۔ جب سمندر اور دریا (سب) ابھار دیئے جائیں گے۔ اور جب روحیں (بدنوں سے) ملا دی جائیں گی۔ اور جب زندہ دفن کی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا۔ کہ وہ کس گناہ کے باعث قتل کی گئی تھی۔ اور جب اعمال نامے کھول دیئے جائیں گے۔ اور جب سماوی طبقات کو پھاڑ کر اپنی اپنی جگہوں سے ہٹا دیا جائے گا۔ اور جب دوزخ (کی آگ) بھڑکائی جائے گی۔ اور جب جنت قریب کر دی جائے گی۔ ہر شخص جان لے گا جو کچھ اس نے حاضر کیا ہے۔ تو میں قسم کھاتا ہوں ان (آسمانی کروں) کی جو (ظاہر ہونے کے بعد) پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ جو بلاروک ٹوک چلتے رہتے ہیں (پھر ظاہر ہو کر) چھپ جاتے ہیں۔ اور رات کی قسم جب اس کی تاریکی جانے لگے۔ اور صبح کی قسم جب اس کی روشنی آنے لگے۔ بیشک یہ (قرآن) بڑی عزت و بزرگی والے رسول کا (پڑھا ہوا) کلام ہے۔ جو قوت و ہمت والے ہیں (اور) مالک عرش کے حضور بڑی قدر و منزلت (اور جاہ و عظمت) والے ہیں۔ (تمام جہانوں کے لئے) واجب الاطاعت ہیں (کیونکہ ان کی اطاعت ہی اللہ کی اطاعت ہے) امانتدار ہیں۔ اور (اے لوگو!) یہ تمہیں اپنی صحبت سے نوازنے والے (محمد ﷺ ) دیوانے نہیں (جو فرماتے ہیں وہ حق ہوتا ہے)۔ اور بیشک انہوں نے اس (مالک عرش کے حسن مطلق) کو (لامکان کے) روشن کنارے پر دیکھا ہے۔ اور وہ (نبی اکرم) غیب (کے بتانے) پر بالکل بخیل نہیں ہیں (مالک عرش نے ان کے لئے کوئی کمی نہیں چھوڑی)۔ اور وہ (قرآن) ہرگز کسی شیطان مردود کا کلام نہیں ہے۔ پھر (اے بدبختو!) تم (اتنے بڑے خزانے کو چھوڑ کر) کدھر چلے جا رہے ہو۔ یہ (قرآن) تو تمام جہانوں کے لئے (صحیفہ) نصیحت ہے۔ تم میں سے ہر اس شخص کے لئے (اس چشمہ سے ہدایت میسر آ سکتی ہے) جو سیدھی راہ چلنا چاہے۔ اور تم وہی کچھ چاہ سکتے ہو جو اللہ چاہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔‘‘

  1. سورۃ الإنفطار

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO

إِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْO وَ إِذَا الْکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْO وَ إِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْO وَ إِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْO عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ أَخَّرَتْO یٰٓا أَیُّھَا الْإِنْسَانُ مَا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الْکَرِیْمِO الَّذِیْ خَلَقَکَ فَسَوّٰکَ فَعَدَلَکَO فِیْٓ أَیِّ صُوْرَةٍ مَّا شَآءَ رَکَّبَکَO کَلَّا بَلْ تُکَذِّبُوْنَ بِالدِّیْنِO وَ إِنَّ عَلَیْکُمْ لَحَافِظِیْنَO کِرَامًا کَاتِبِیْنَO یَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَO إِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍO وَ ِإنَّ الْفُجَّارَ لَفِیْ جَحِیْمٍO یَّصْلَوْنَھَا یَوْمَ الدِّیْنِO وَ مَا ھُمْ عَنْھَا بِغَآئِبِیْنَO وَ مَآ أَدْرَاکَ مَا یَوْمُ الدِّیْنِO ثُمَّ مَآ اَدْرَاکَ مَا یَوْمُ الدِّیْنِO یَوْمَ لَا تَمْلِکُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَیْئًاط وَالْاَمْرُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰهِO (الانفطار، 82: 1۔19)

’’جب (سب ) آسمانی کرّے پھٹ جائیں گے۔ اور جب سیارے گر کر بکھر جائیں گے۔ اور جب سمندر (اور دریا) ابھر کر بہہ جائیں گے۔ اور جب قبریں زیر و زبر کر دی جائیں گی۔ تو ہر شخص جان لے گا کہ کیا عمل اس نے آگے بھیجا اور (کیا) پیچھے چھوڑ آیا تھا۔ اے انسان! تجھے کس چیز نے اپنے رب کریم کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیا۔ جس نے تجھے پیدا کیا پھر اس نے تجھے درست اور سیدھا کیا پھر وہ تیری ساخت میں متناسب تبدیلی لایا۔ جس صورت میں بھی چاہا اس نے تجھے ترکیب دے دیا۔ حقیقت تو یہ ہے (اور) تم اس کے برعکس روز جزا کو جھٹلاتے ہو۔ حالانکہ تم پر نگہبان فرشتے مقرر ہیں۔ (جو) بہت معزز ہیں (تمہارے اعمال نامے) لکھنے والے ہیں۔ وہ ان ( تمام کاموں) کو جانتے ہیں جو تم کرتے ہو۔ بیشک نیکو کار جنت نعمت میں ہوں گے۔ اور بیشک بدکار دوزخ (سوزاں) میں ہوں گے۔ وہ اس میں قیامت کے روز داخل ہوں گے۔ اور وہ اس(دوزخ) سے (کبھی بھی ) غائب نہ ہو سکیں گے۔ او ر آپ نے کیا سمجھا کہ روز جزا کیا ہے؟۔ پھر آپ نے کیا جانا کہ روز جزا کیا ہے؟۔ (یہ) وہ دن ہے جب کوئی شخص کسی کے لئے کسی چیز کا مالک نہ ہو گا اور حکم فرمائی اس دن اللہ ہی کی ہو گی۔‘‘

  1. سورۃ المطففین

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO

کَلَّآ إِنَّ کِتَابَ الْاَبْرَارِ لَفِیْ عِلِّیِّیْنَO وَ مَآ أَدْرَاکَ مَا عِلِّیُّوْنَO کِتَابٌ مَّرْقُوْمٌO یَّشْھَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَO إِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍO عَلَی الْأَرَآئِکِِ یَنْظُرُوْنَO تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْھِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِیْمِO یُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِیْقٍ مَّخْتُوْمٍO خِتَامُهٗ مِسْکٌ ط وَ فِیْ ذٰلِکَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَO وَ مِزَاجُهٗ مِنْ تَسْنِیْمٍO عَیْنًا یَّشْرَبُ بِھَا الْمُقَرَّبُوْنَO (المطففین، 83: 18۔28)

’’یہ (بھی) حق ہے کہ بیشک نیکوکاروں کا نوشتۂِ اعمال علّییّن(یعنی دیوان خانۂ جنت) میں ہے۔ اور آپ نے کیا جانا کہ علّییّن کیا ہے؟۔ (یہ جنت کے اعلیٰ درجہ میں اس بڑے دیوان کے اندر) لکھی ہوئی (ایک) کتاب ہے۔ اس جگہ (اللہ کے) مقرب فرشتے حاضر رہتے ہیں۔ بیشک نیکوکار (راحت و مسرت سے) نعمتوں والی جنت میں ہوں گے۔ تختوں پر بیٹھے نظارے کر رہے ہوں گے۔ آپ ان کے چہروں سے ہی نعمت و راحت کی رونق اور شگفتگی معلوم کر لیں گے۔ انہیں سر بہ مہر بڑی لذیز شراب طہور پلائی جائے گی۔ اس کی مہک کستوری کی سی ہو گی اور (یہی وہ شراب ہے) جس کے حصول میں شائقین کو جلد کوشش کرکے سبقت لینی چاہئے۔ اور اس (شراب) میں آب تسنیم کی آمیزش ہو گی۔ (یہ تسنیم) ایک چشمہ ہے جہاں سے صرف اہل قربت پیتے ہیں۔‘‘

  1. سورۃ الإنشقاق

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO

إِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْO وَ أَذِنَتْ لِرَبِّھَا وَ حُقَّتْO وَ إِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْO وَ أَلْقَتْ مَا فِیْھَا وَ تَخَلَّتْO وَ أَذِنَتْ لِرَبِّھَا وَحُقَّتْO یَآأَیُّھَا الْإِنْسَانُ إِنَّکَ کَادِحٌ إِلٰی رَبِّکَ کَدْحًا فَمُلٰقِیْهِO فَأَمَّا مَنْ أُوْتِیَ کِتَابَهٗ بِیَمِیْنِہٖO فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًاO وَّ یَنْقَلِبُ إِلٰٓی أَهْلِہٖ مَسْرُوْرًاO وَ أَمَّا مَنْ أُوْتِیَ کِتَابَهٗ وَرَآءَ ظَھْرِہٖO فَسَوْفَ یَدْعُوْا ثُبُوْرًاO وَّ یَصْلٰی سَعِیْرًاO إِنَّهٗ کَانَ فِیْٓ أَھْلِہٖ مَسْرُوْرًاO إِنَّهٗ ظَنَّ أَنْ لَّنْ یَّحُوْرَO بَلٰٓی إِنَّ رَبَّهٗ کَانَ بَہٖ بَصِیْرًاO (الانشقاق، 84: 1۔15)

’’جب (سب) آسمانی کرّے پھٹ جائیں گے۔ اور اپنے رب کا حکم (انشقاق) بجا لائیں گے اور (یہی تعمیل امر) اس کے لائق ہے۔ اور جب زمین (ریزہ ریزہ کر کے) پھیلا دی جائے گی۔ اور جو کچھ اس کے اندر ہے وہ اسے نکال باہر پھینکے گی اور خالی ہو جائے گی۔ اور (وہ بھی) اپنے رب کا حکم (انشقاق) بجا لائے گی اور (یہی اطاعت) اس کے لائق ہے۔ اے انسان! تو اپنے رب تک پہنچنے میں سخت مشقتیں برداشت کرتا ہے بالآخر تجھے اسی سے جا ملنا ہے۔ پس جس شخص کا نامۂ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا۔ تو عنقریب اس سے آسان سا حساب لیا جائے گا۔ اور وہ اپنے اہل خانہ کی طرف مسرور و شاداں پلٹے گا۔ اور البتہ وہ شخص جس کا نامۂ اعمال اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا۔ تو وہ عنقریب موت کو پکارے گا۔ اور دوزخ کی بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہو گا۔ بیشک وہ (دنیا میں ) اپنے اہل خانہ میں خوش و خرم رہتا تھا۔ بیشک اس نے یہ گمان کر لیا تھا کہ وہ حساب کے لئے (اللہ کے پاس) ہرگز لوٹ کر نہ جائے گا۔ کیوں نہیں بیشک اس کا رب اس کو خوب دیکھنے والا ہے۔‘‘

  1. سورۃ الغاشیۃ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO

ھَلْ أَتَاکَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَةِO وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌO عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌO تَصْلٰی نَارًا حَامِیَةًO تُسْقٰی مِنْ عَیْنٍ اٰنِیَةٍO لَیْسَ لَھُمْ طَعَامٌ إِلَّا مِنْ ضَرِیْعٍO لَّا یُسْمِنُ وَلَا یُغْنِیْ مِنْ جُوْعٍO وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاعِمَةٌO لِّسَعْیِھَا رَاضِیَةٌO فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍO لاَّ تَسْمَعُ فِیْھَا لَاغِیَةًO فِیْھَا عَیْنٌ جَارِیَةٌO فِیْھَا سُرُرٌ مَّرْفُوْعَةٌO وَّ أَکْوَابٌ مَّوْضُوْعَةٌO وَّ نَمَارِقُ مَصْفُوْفَةٌO وَّ زَرَابِیُّ مَبْثُوْثَةٌO (الغاشیۃ، 88: 1۔16)

’’کیا آپ کو (ہر چیز پر ) چھا جانے والی قیامت کی خبر پہنچی ہے۔ اس دن کتنے ہی چہرے ذلیل و خوار ہوں گے۔ (اللہ کو بھول کر دنیاوی) محنت کرنے والے (چند روزہ عیش و آرام کی خاطر سخت) مشقتیں جھیلنے والے۔ دہکتی ہوئی آگ میں جا گریں گے۔ (انہیں) کھولتے ہوئے چشمہ سے (پانی) پلایا جائے گا۔ ان کے لئے خاردار خشک زہریلی جھاڑیوں کے سوا کچھ کھانا نہ ہو گا۔ (یہ کھانا) نہ فربہ کرے گا اور نہ بھوک ہی دور کرے گا۔ ( اس کے برعکس) اس دن بہت سے چہرے (حسین) بارونق اور تروتازہ ہوں گے۔ اپنی (نیک) کاوشوں کے باعث خوش و خرم ہوں گے۔ عالیشان جنت میں(قیام پذیر) ہوں گے۔ اس میں کوئی لغویات نہ سنیں گے۔ اس میں بہتے ہوئے چشمے ہوں گے۔ اس میں اونچے (بچھے ہوئے) تخت ہوں گے۔ اور جام ( بڑے قرینے سے) رکھے ہوئے ہوں گے۔ اور غالیچے اور گاؤ تکیے قطار در قطار لگے ہوں گے۔ اور نرم و نفیس قالین اور مسندیں بچھی ہوں گی۔‘‘

  1. سورۃ القارعۃ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO

اَلْقَارِعَةُO مَا الْقَارِعَةُO وَ مَآ اَدْرَاکَ مَا الْقَارِعَةُO یَوْمَ یَکُوْنُ النَّاسُ کَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِO وَ تَکُوْنُ الْجِبَالُ کَالْعِھْنِ الْمَنْفُوْشِO فَأَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ O فَھُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍO وَ أَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗO فَاُمُّهٗ ھَاوِیَةٌO وَ مَآ اَدْرَاکَ مَاھِیَهْO نَارٌ حَامِیَةٌO (القارعۃ، 101: 1۔11)

’’کھڑکھڑا دینے والا شدید جھٹکا اور کڑک۔ وہ (ہر شے کو) کھڑ کھڑا دینے والا شدید جھٹکا اور کڑک کیا ہے؟۔ اور آپ کیا سمجھے ہیں کہ (ہر شے کو) کھڑ کھڑا دینے والے شدید جھٹکے اور کڑک سے مراد کیا ہے؟۔ (اس سے مراد) وہ یوم قیامت ہے جس دن (سارے) لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہو جائیں گے۔ اور پہاڑ رنگ برنگی دھنکی ہوئی اون کی طرح ہو جائیں گے۔ پس وہ شخص کہ جس (کے اعمال) کے پلڑے بھاری ہوں گے۔ تو وہ خوشگوار عیش و مسرت میں ہو گا۔ اور جس شخص کے (اعمال کے) پلڑے ہلکے ہوں گے۔ تو اس کا ٹھکانہ ہاویہ (جہنم کا گڑھا) ہو گا۔ اور آپ کیا سمجھے ہیں کہ ہاویہ کیا ہے؟۔ (وہ جہنم کی) سخت دہکتی ہوئی آگ (کا انتہائی گہرا گڑھا) ہے۔‘‘

Copyrights © 2024 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved