Falsafa-e-Sawm

باب 10 :حقیقت اعتکاف

وصالِ حق کے لئے تزکیہ نفس اور تصفیہ باطن کی خواہش ہر دور میں سعید روحوں کا شیوہ رہا ہے اور انسان اخلاقی و روحانی کمال کے حصول کے لئے مختلف نوعیت کی اضافی مشقتیں اور مجاہدات اپناتا چلا آیا ہے‘ چنانچہ حصولِ مقصد کی تگ و دو میں کبھی تو وہ جادئہ اعتدال پر گامزن رہا ہے اور کبھی افراط و تفریط کا شکار ہو گیا ہے۔ وصالِ محبوب کی خاطر تزکیہ نفس کے لئے کی جانے والی مختلف النوع کاوشوں میں سے ایک مسلمہ طریق مخلوق سے بے رغبتی اور کنارہ کشی ہے‘ جس میں افراط کی معروف صورت رہبانیت ہے جو مختلف امم سابقہ کا شیوہ رہا ہے۔

رہبانیت کیا ہے؟

اممِ سابقہ میں وصالِ حق کے متلاشیوں نے جب یہ محسوس کیا کہ وہ معمولات حیات اور دنیاوی مشاغل و مصروفیات جاری رکھتے ہوئے اپنی منزل کو نہیں پا سکتے اور نفس کی غفلتیں اور سماجی ذمہ داریوں کی الجھنیں انہیں وہ محنت و مشقت اور مجاہدہ نہیں کرنے دیتیں‘ جو معرفتِ حق اور وصالِ محبوب کے لئے ضروری ہے تو انہوں نے لذّات نفسانی سے دستبرداری اور علائق دنیوی سے کنارہ کشی کی راہ اپنائی۔ سماجی ذمہ داریوں سے راہِ فرار اختیار کرتے ہوئے جنگلوں اور ویرانوں کا رخ کیا۔ بیوی‘ بچوںاور معاشرتی زندگی کی دیگر مصروفیات سے منہ موڑ کر غاروں کی خلوتوں اور جنگلوں کی تنہائیوں میں جا ڈیرہ لگایا اور وہیں رہ کر کثرتِ عبادت و مجاہدہ بلکہ نفس کشی کے ذریعے وصالِ حق کی جستجو کرنے لگے۔ قرآن نے ان کے اس تصورِ حیات کو رہبانیت کے نام سے موسوم کیا ہے۔ قرآن کی رو سے یہ طرز زندگی وصال حق کی متلاشی روحوں نے ازخود اختیار کی تھا۔ یہ طریقہ ان پر فرض نہیں کیا گیا تھا‘ ارشاد ہوتا ہے:

وَ رَهْبَانِیَّةَ اَبْتَدَعُوْهَا مَا کَتَبْنٰهَا عَلَیْهِمْ اِلَّا ابْتِغَآءَ رِضْوَانِ ﷲِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَایَتِهَا فَاٰتَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ وَ کَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَO

(الحدید‘ 57: 27)

اور رہبانیت جس کی ابتدا خود انہوں نے کی‘ ہم نے اس کو ان پر فرض نہ کیا تھا‘ مگر انہوں نے اسے اللہ کی رضا مندی کے لئے اختیار کیا‘ لیکن جس طرح اس کو نبھانا چاہئے تھا‘ نباہ نہ سکے پھر (بھی) ان میں جو ایمان لائے ہم نے ان کو اجر دیا اور ان میں سے اکثر (تو) نافرمان ہی ہیں۔

آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ دینِ عیسوی میں اصلاً رہبانیت فرض نہ کی گئی تھی بلکہ اس کا تعلیماتِ مسیح ں میں سرے سے کوئی ذکر ہی نہ تھا۔ بعد کے لوگوں نے ازخود رضائے الٰہی کی خاطر زیادہ ریاضت و مجاہدہ اور عبادت و مشقت کی خاطر رہبانیت (ترکِ دنیا) کی صورت پیدا کر لی۔ چونکہ یہ کام بھی رضائے الٰہی کے نصب العین کے تحت کیا گیا تھا‘ اس لئے قرآنی بیان کے مطابق باری تعالیٰ نے اسے امرِ مستحسن سمجھ کر قبول کر لیا۔ اب ضروری تھا کہ رہبانیت کے جملہ تقاضے کماحقہ پورے کئے جاتے‘ تاکہ اس سے صحیح روحانی فائدہ میسر آتا ‘لیکن ان میں سے اکثر افراد بالالتزام ان تقاضوں کو پورا نہ کر سکے‘ اس لئے انہیں ’’نافرمان‘‘ قرار دیا گیا اور جنہوں نے اس کے تقاضوں کو صحیح طور پر پورا کیا ‘انہیں باری تعالیٰ نے اجر و ثواب سے بہرہ ور کیا۔

گویا جب تک رہبانیت میں مقصدیت کارفرما رہی اسے گوارا کیا جاتا رہا‘ لیکن جب وہ بھی محض رسمِ دنیا بن کر رہ گئی‘ اس کی روح فوت ہو گئی اور وہ مقصدیت جس کی وجہ سے اسے گوارا کر لیا تھا‘وہ پیش نظر نہ رہی تو اس کی افادیت بھی ختم ہو کر رہ گئی۔

ایک غور طلب نکتہ

یہاں ایک نکتہ جو قابل غور ہے‘ وہ یہ ہے کہ قرآن نے اس فعل کو کہیں حرام قرار نہیں دیا اور نہ ہی اسے کوئی ایسا فعل مذموم قرار دیا ہے‘ جس پر اللہ رب العزت کی نافرمانی لازم آتی ہو‘ بلکہ نہایت حکیمانہ انداز میں اس بات کی نشاندہی کی جا رہی ہے کہ ہم نے تو اس فعل کو گوارا بھی کر لیا تھا‘ لیکن محض اس لئے کہ اسے ہماری ہی رضا کے حصول کے لئے اپنایا گیا تھا اور ان لوگوں کا مقصود و مطلوب سوائے وصال حق کے اور کچھ نہ تھا‘ لہذا ہم نے ان پر نہی وارد نہ کی۔ گویا رہبانیت فی نفسہ کوئی مذموم اور ناپسندیدہ شعار زندگی نہیں تھا۔

اسلام میں رھبانیت کا تصور

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

لا رهبانیة فی الاسلام.

(کشف الخفا‘ 2: 528)

اسلام میں رہبانیت نہیں ہے۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشاد گرامی سے بالعموم یہ استنباط کیا جاتا ہے کہ اسلام نے رہبانیت کی نفی کر دی ہے‘ یا اسلام میں رہبانیت نام کی کسی شے کا کوئی وجود نہیں۔ یہ استنباط اپنی جگہ درست ہے‘ لیکن اگر بنظر ِغائر دیکھا جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اس فرمان اقدس کے ذریعے نفس کشی کے بیجا ضابطوں سے نجات عطا کر کے اپنی امت کو ایک بہت بڑی نعمت سے بہروہ ور کر دیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی زبان حال سے پوری امت کو یہ خوشخبری دے رہا ہے کہ اے شمع دین حق کے پروانو! تلاش حق کے راہ نوردو اور جلوہ محبوب کے متلاشیو! اب تمہیں اپنے محبوب کے دیدار و وصال کے لئے اپنی بیوی بچوں کو خیرباد کہنے کی ضرورت نہیں۔ اب تمہیں حصولِ منزل کے لئے جنگلوں‘ ویرانوں‘ غاروں کو اپنا مسکن بنانے کی حاجت نہیں۔ اب تمہیں تزکیۂ نفس اور تصفیہ باطن کے لئے معاشرتی زندگی اور سماجی ذمہ داریوں سے راہ ِفرار اختیار کرنے کی ضرورت نہیں۔ اسلام کی صورت میں ایک مکمل اور جامع نظامِ حیات ہوتے ہوئے رہبانیت جیسی بے جا مشقتوں کے بوجھ سے آزاد کر دیا گیا ہے۔ ہم حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع و اطاعت کے ذریعے اسی دنیا میں رہتے ہوئے‘ کاروبار زندگی کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے‘ بیوی بچوں اور دیگر افراد معاشرہ کے حقوق کی ادائیگی سے عہدہ برآ ہوتے ہوئے وصالِ یار اور قربِ الٰہی کی منزل کو پا سکتے ہیں۔حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رہبانیت کا نعم البدل اعتکاف کی صورت میں ہمیں عطا کر دیا ہے۔

اعتکاف کے ہوتے ہوئے ہمیں عبادت و ریاضت اور نفس کشی کے حصول کے لئے رہبانیت کے اختیار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

اسلام کا عمومی مزاج

اسلام دین فطرت ہے‘ جو انسان کے فطری داعیات اور نفسی مقتضیات کی رعایت رکھتے ہوئے ان کی تکمیل کے لئے حکیمانہ راہ تجویز کرتا ہے۔ اسلام اگر کسی چیز پر پابندی عائد کرتا ہے یا کسی تصور کو ختم کرتا ہے تو انسان کو اس کا بہتر بدل عطا کرتا ہے تاکہ اس تصور کی خوگر طبائع پر یہ تبدیلی گراں نہ گزرے اور اس تبدیلی کی نہ صرف افادیت مسلّم ہو جائے‘ بلکہ انسانی طبائع اس کی طرف بہ رغبت مائل بھی ہو۔

سود کا بدل... قرض حسنہ

مثال کے طور پر جب سودی لین دین جیسے انسانیت کش نظام کو معاشرے سے ختم کرنے کا ارادہ کیا گیا تو اس کے خاتمے سے پہلے زکوٰۃ و صدقات اور قرض حسنہ جیسے انسانیت پرور تصورات کو متعارف کرایا گیا۔ اگر زکوٰۃ و صدقات اور قرض حسنہ جیسے انسان پرور نظام کو رائج کئے بغیر سود کی لعنت سے چھٹکارا پانے کی کوشش کی جاتی تو یقینا مطلوبہ نتائج برآمد نہ ہو سکتے۔

نشہ شراب کا بدل ... نشہ شرابِ عشق الٰہی

اسلام نے شراب کو یکدم حرام قرار نہیں دیا‘ بلکہ اسلام جو دین فطرت ہے اور انسانی طبائع کی کمزوریوں سے بخوبی آگاہ ہے‘ شراب پر بتدریج پابندی عائد کی اور اس وقت تک اسے کلیتاً حرام قرار نہیں دیا‘ جب تک کہ شراب کے نشہ اور کیف و سرور کے رسیا طبائع کو عشق الٰہی کے نشہ سے متعارف نہیں کرا دیا۔ جب تک ذکر الٰہی اور دیدار مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نشے سے بہرہ ور نہیں کر دیا گیا اور لوگوں کو نشہ شراب کا نعم البدل عطا نہیں کر دیا گیا‘ شراب پر پابندی نہیں لگائی گئی۔

علی ہذا القیاس اسلام نے جن جن امور پر پابندی عائد کی ہے‘ فطرتِ انسانی مقتضیات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ان کا بہتر بدل انسان کو عطا کر دیا ہے۔

ایک سوال

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب اسلام مذموم امور پر بھی اس وقت تک پابندی عائد نہیں کرتا‘ جب تک اس کا بہتر بدل مہیا نہیں کر دیتا‘ تو رہبانیت جو فی نفسہ اتنی ناپسندیدہ اور مذموم چیز نہیں تھی‘ بلکہ معرفتِ حق اور وصالِ الٰہی کی طلب سے عبارت ایک باقاعدہ نظامِ حیات تھا‘ جب اسلام اس پر پابندی عائد کر رہا ہے تو کیا اس کا کوئی نعم البدل نہیں دیا گیا ہو گا۔ اسلام کی حکیمانہ تعلیمات کے پیش نظر یہ ممکن ہی نہیں کہ اس نے رہبانیت کا بہتر بدل امت مسلمہ کو فراہم نہ کر دیا ہو اور وہ نعم البدل جو جادئہ حق کے متلاشیوں کو اسلام نے عطا کیا ہے ’’اعتکاف‘‘ ہے۔

حقیقتِ اعتکاف ... خلوت نشینی

اعتکاف کی حقیقت خلوت نشینی ہے اور یہ رب العزت کا اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تصدق سے امتِ مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر خصوصی لطف و احسان ہے کہ وصالِ حق کی وہ منزل جو اممِ سابقہ کو زندگی بھر کی مشقتوں اور بے جا ریاضتوں کے نتیجے میں بھی حاصل نہیں ہو سکتی تھی‘ فقط چند روز کی خلوت نشینی سے میسر آ سکتی ہے۔ چنانچہ اعتکاف کی حقیقت یہ ہے کہ انسان چند روز کے لئے علائقِ دنیوی سے کٹ کر گوشہ نشین ہو جائے۔ ایک محدود مدت کے لئے خلوت گزیں ہو کر اللہ کے ساتھ اپنے تعلقِ بندگی کی تجدید کر لے۔ اپنے من کو آلائشِ نفسانی سے علیحدہ کر کے اپنے خالق و مالک کے ذکر سے اپنے دل کی دنیا آباد کر لے۔ مخلوق سے آنکھیں بند کر کے اپنے خالق کی طرف لو لگا لے۔ ان کیفیات سے مملو ہو کر جب انسان دنیا و مافیہا سے کٹ کر صرف اپنے خالق و مالک کے ساتھ لو لگا لیتا ہے تو اس کے یہ چند ایام سالوں کی عبادت اور محنت و مشقت پر بھاری قرار پاتے ہیں۔

خلوت نشینی کیوں؟

سوال پیدا ہوتا ہے آخر خلوت نشینی کا فلسفہ کیا ہے؟ انسان آخر خلوت نشینی کیوں اختیار کرے؟ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ انسان کا نفس انسان کو ہمہ وقت برائی کی طرف اکساتا رہتا ہے۔

اِنَّ النَّفْسَ لَاَ مَّارَةٌ بِالسُّوْءِ.

(یوسف‘ 12: 53)

بیشک نفس انسان کو برائی کی طرف ہی اکساتا رہتا ہے۔

ارشاد قرآنی کی رو سے تمرّد و انحراف انسانی نفس کا شیوہ اور اس کی فطرت میں شامل ہے۔ چنانچہ کاروبارِ حیات کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے انسان بالعموم غفلتوں کا شکار رہتا ہے‘ نتیجتاً انسان میں کسی کا بندہ ہونے کا شعور بیدار نہیں رہتا اور انسان مسلسل بغاوت و سرکشی پر مائل رہتا ہے۔ اسی شعور ِبندگی کو بیدار کرنے کے لئے اسلام نے اپنے ماننے والوں کو اس امر کی تعلیم دی ہے کہ دن کے چوبیس گھنٹوں میں تھوڑی دیر کے لئے گوشہ تنہائی میں بیٹھ کر اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور اپنے آپ کو ایک مجرم کی حیثیت سے اپنے آقا و مولا کی بارگاہ میں پیش کر کے اصلاح و احوال کا متمنی ہو۔ یہ معمول زندگی بھر رہنا چاہئے۔ لیکن رمضان المبارک چونکہ خصوصی رحمتوں کا مہینہ ہے‘ اس لئے اس ماہِ رحمت میں خلوت نشینی کے اس تصور کو ایک باقاعدہ ضابطے کے تحت اعتکاف کی صورت میں متعین کر دیا گیا‘ تاکہ سال بھر علائق دنیوی میں ملوث رہنے والا انسان چند روز کے لئے اپنے نفس کے متمرّد اور سرکش گھوڑے کو لگام ڈال سکے‘ نیز کثرتِ ذکرِ الٰہی اور ریاضت و مجاہدہ کے ذریعے تصفیۂ باطن کر کے خلوت میں جلوتِ محبوب کی دولت سے بہرہ ور ہو سکے۔

اعتکاف کی نیت کیا ہو؟

احوالِ نفس کے اختلاف کے پیش نظر اعتکاف کے لئے مختلف لوگوں کی نیت مختلف ہو سکتی ہے‘ مثلاً بعض لوگ اس نیت سے اعتکاف کرتے ہیں کہ اس کے ذریعے ہو ائے نفس کو علائقِ دنیوی سے پاک اور مخلوق کے شر سے خود کو بچائیں گے۔ اس نیت سے خلوت نشینی اختیار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا گناہوں کا گھر ہے اور مخلوق کے ساتھ میل ملاپ سراسر گھاٹے کا سودا ہے‘ لہذا خود کو اس شر سے محفوظ کرنے کے لئے انسان کو خلوت گزیں ہو جانا چاہئے۔ یہ نیت بھی درست ہے‘ لیکن اس میں پنہاں ایک بہت بڑا فساد بجائے خود نفس کے لئے ایک بہت بڑے تمرّد اور سرکشی کا باعث بن سکتا ہے۔ اس نیت سے اعتکاف کرنے کا مطلب یہ ہے کہ گویا انسان نے خود کو دوسروں سے بہتر جانا اور اپنے نفس کو مخلوقِ خدا کے شر سے بچانے کے لئے گوشہ تنہائی میں چلا گیا۔ اعتکاف کے لئے بہترین نیت یہ ہے کہ انسان اعتکاف کرتے ہوئے یہ نیت کرے کہ میرا نفس فتنہ و فساد کی آماجگاہ اور شر کا پیکر ہے۔ اس میں ہر آن بغاوت و سرکشی کے میلانات سر اٹھاتے رہتے ہیں‘ کیوں نہ میں کچھ عرصہ کے لئے گوشہ نشین ہو جائوں‘ تاکہ مخلوقِ خدا کچھ عرصہ کے لئے میرے نفس کی فتنہ سامانیوں اور اس کے شر کی ہلاکت خیزیوں سے محفوظ رہ سکے۔

ایک دلچسپ حکایت

ایک مرتبہ ایک خلوت گزیں درویش سے کسی نے گوشہ نشینی کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے بتایا کہ ’’میرے پاس ایک کتا ہے ‘جو نہایت خطرناک ہے‘ میں اس کے شر سے لوگوں کو بچانے کے لئے خلوت نشیں ہو گیا ہوں۔‘‘ پوچھا گیا ’’وہ کتا کہاں ہے؟‘‘ انہوں نے فرمایا ’’میرا نفس۔‘‘

حقیقتِ نفس

نفسِ انسانی اپنی خلقت کے اعتبار سے بہیمانہ خصلتوں کی مرقع ہے۔ حرص و ہوا‘ لالچ و مفاد پرستی‘ غرور و تکبر‘ خود غرضی و خود پسندی‘ بغض‘ حسد‘ کینہ و عداوت‘ عیاری و مکاری‘ دجل و فریب وغیرہ ‘یہ سب نفس کے خصائل ہیں‘ جن سے انسان کو ہمہ وقت اللہ کی پناہ مانگتے رہنا چاہئے۔ نفس کبھی عالم کو اپنے علم کے گھمنڈ پر اکساتا ہے ‘ تو کبھی عبادت گزار کو کثرتِ مجاہدہ کے تکبر پر‘ کبھی کسی سخی کو سخاوت کے زعم میں مبتلا کر کے ہلاکتوں میں ڈالتا ہے تو کبھی کسی مجاہد کو خودپسندی کے فریب میں۔ غرضیکہ یہ ظالم ہمہ وقت انسان پر حملہ آور ہوتا رہتا ہے اور ہر انسان پر اس کا حملہ اس کے حسبِ حال ہوتا ہے اور نیکو کاروں پر تو خودپسندی اور دوسروں کو حقیر سمجھنے کے فتور کی صورت میں ایسے ہلاکت خیز حملے کرتا ہے کہ آنِ واحد میں انسان کا خرِمنِ اعمال خاکستر ہو کر رہ جاتا ہے اور انسان کی مدتوں کی کمائی آناً فاناً لٹ کر رہ جاتی ہے۔ نفس کی ہلاکت خیزیوں کا یہ عالم ہے کہ انسان کبھی زندگی بھر اس کی غارت گری پر مطلع نہیں ہوپاتا اور جب اچانک پردہ اٹھتا ہے تو محسوس کرتا ہے کہ میں کس قدر فریب ِنفس میں مبتلا رہا اور یہ ظالم نفس کس طرح مجھے اپنے دام ِتزویر میں شکار کئے ہوئے تھا؟

مقصودِ خلوت نشینی

خلوت نشینی کا مقصود یہ ہے کہ انسان گوشہ تنہائی میں داخل ہو کر خود کو مخلوق سے قلباً جدا کر لے اور جب خلوت نشینی سے باہر آئے ‘نفس سے خود کو جدا کر چکا ہو۔ نفس سے جدا ہونے کا مطلب خصائلِ نفس سے اپنے آپ کو مبرا کر لینا ہے۔ درست ہے کہ نفس کثرت ِریاضت و مجاہدہ سے بھی کمزور ہوتا ہے‘ لیکن ان معمولات سے کہیں زیادہ ندامت کے آنسوؤں اور کثرتِ گریہ و زاری سے کمزور پڑتا ہے۔ کثرت ِرقت و گریہ زاری نفس کی تمام آلائشوں کو دھو دیتی ہے اور رفتہ رفتہ انسان خصائلِ نفس سے جدا ہوتا چلا جاتا ہے۔ جب نفسِ انسانی اپنی خصلتوں سے جدا ہو جاتا ہے تو اسے اپنے محبوب و مطلوب کی جلوت نصیب ہو جاتی ہے اور وہ اپنے من کی مراد پا لیتا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ جب تک انسان نفس کی معیت میں رہتا ہے‘ رب کی معیت سے محروم رہتا ہے اور جب بندہ نفس اور اس کی خصلتوں سے جدا ہو جاتا ہے تو اسے اپنے رب کی صحبت نصیب ہو جاتی ہے۔ حضرت مالک بن مسعود رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھاکہ حضرت آپ کو خلوت سے وحشت نہیں ہوتی؟ تو فرمانے لگے کبھی صحبتِ محبوب میں بھی کسی کو وحشت ہوتی ہے۔ میں خلوت میں اپنے محبوب کی جلوت سے بہرہ ور ہوتا ہوں۔ ان پرکیف اور سرور آفریں لمحات میں وحشت کیسی؟

حاصلِ کلام یہ کہ جب تک انسان نفس کے شر کے تابع رہتا ہے‘ وصال ِیار سے محروم رہتا ہے اور جب علائقِ دنیوی سے کچھ دیر منہ موڑ کر تزکیہ نفس کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور قلباً وحالاً جلوت سے خلوت آرا ہو جاتا ہے تو اسے اپنے محبوب کے وصال کی دولت بے بہا حاصل ہو جاتی ہے۔ گویا یہ خلوتیں اسے رب ِجلیل کی جلوتیں عطا کر دیتی ہیں اور اگر انسان کثرتِ ذکر و فکر‘ عبادت و ریاضت اور گریہ و زاری کو اپنا مستقل شعار بنا لینے کے ساتھ ساتھ محاسبہ نفس کی راہ پر استقامت سے چل نکلے تو ان جلوتوں کو دوام بھی نصیب ہو سکتا ہے اور جب ان کیفیات کو دوام مل جاتا ہے تو پھر انسان اس آیت قرآنی کا مصداق بن جاتا ہے:

رِجَالٌ لَا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّلَا بَیْعٌ عَنْ ذِکْرِ ﷲِ.

(النور‘ 24: 37)

اللہ کے بندے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جنہیں تجارت اور بیع و فروخت ذکر الہی سے غافل نہیں کر سکتی۔

اس مقام پر جلوتِ یار کی کیفیت نفسِ انسانی میں یوں رچ بس جاتی ہے کہ وہ مخلوق کی جلوت میں رہتے ہوئے بھی جلوتِ محبوب کی حلاوت پاتا ہے۔ انسان کا ظاہر مخلوق کے ساتھ ہوتا ہے جب کہ باطن اپنے آقا و مولا کے ساتھ اور یوں وہ انجمن میں بھی خلوت کے مزے لوٹتا ہے۔

اعتکاف کے مسائل

عبادت کی نیت سے اللہ تعالی کے لئے مسجد میں ٹھہرنے کا نام اعتکاف ہے‘ اعتکاف کی تین قسمیں ہیں:

  1. اعتکاف واجب
  2. اعتکاف سنت
  3. اعتکاف مستحب

اعتکاف واجب

کسی نے یہ منت مانی کہ میرا فلاں کام ہو جائے تو میں ایک دن یا دو دن کا اعتکاف کروں گا اور اس کا کام ہو گیا۔ یہ اعتکاف واجب ہے اور اس کا پورا کرنا ضر وری ہے۔ یاد رکھو کہ اعتکاف واجب کے لئے روزہ شرط ہے۔ بغیر روزہ کے اعتکاف واجب صحیح نہیں ہے۔

(در مختار‘ 2: 129)

اعتکاف سنت موکدہ

یہ اعتکاف رمضان المبارک کے آخری دس دنوں میں کیا جاتا ہے‘ یعنی بیسویں رمضان کو سورج ڈوبنے سے پہلے اعتکاف کی نیت سے مسجد میں داخل ہو جائے تو تیسویں رمضان کو سورج ڈوبنے کے بعد یا انتیسویں رمضان کو چاند ظاہر ہونے کے بعد مسجد سے نکلے۔ یاد رہے کہ اعتکاف سنت موکدہ کفایہ ہے‘ یعنی اگر محلہ کے سب لوگ چھوڑ دیں گے تو سب آخرت کے مواخذہ میں گرفتار ہوں گے اور اگر ایک آدمی نے بھی اعتکاف کر لیا تو سب آخرت کے مواخذہ سے بری ہو جائیں گے۔ اس اعتکاف میں بھی روزہ شرط ہے مگر وہی رمضان کے روزے کافی ہیں۔

(در مختار‘ 2: 130)

اعتکاف مستحب

اعتکاف مستحب یہ ہے کہ جب کبھی بھی دن یا رات میں مسجد کے اندر داخل ہو تو اعتکاف کی نیت کرے جتنی دیر مسجد میں رہے گا‘ اعتکاف کا ثواب پائے گا۔ نیت کے لئے صرف دل میں اتنا خیال کر لینا اور منہ سے کہہ لینا کافی ہے کہ میں نے خدا کے لئے اعتکاف مسجد کی نیت کی۔

(فتاویٰ عالمگیری‘ 1: 197)

اعتکاف کے چند دیگر مسائل

  • اعتکاف کرنے والوں کے لئے بلاعذر مسجد سے نکلنا حرام ہے‘ اگر نکلے تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا‘ چاہے قصداً نکلے یا بھول کر۔ اس طرح عورت نے جس گھر میں اعتکاف کیا ہے‘ اس کا بھی اس گھر سے نکلنا حرام ہے۔ اگر عورت اس مکان سے باہر نکل گئی تو خواہ وہ قصداً نکلی ہو یا بھول کر اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔ (درمختار‘ 2: 133)
  • مرد کے لئے ضروری ہے کہ وہ مسجد میں اعتکاف کرے اور عورت اپنے اس گھر میں اس جگہ اعتکاف کرے‘ جو جگہ اس نے نماز پڑھنے کے لئے مقرر کی ہو۔
  • (درمختار‘ 2: 129)
  • اعتکاف کرنے والا دو عذروں کے سبب سے مسجد سے باہر نکل سکتا ہے۔ ایک عذر ِطبعی جیسے رفع حاجت‘ غسل فرض اور وضو کے لئے‘ دوسرا عذر ِشرعی جیسے نماز جمعہ کے لئے جانا اگر مسجد میں نماز جمعہ نہ ہوتی ہو۔ ان دونوں عذروں کے سوا کسی اور وجہ سے مسجد سے نکلا تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا‘ اگرچہ بھول کر ہی نکلے۔ (درمختار‘ 2: 133)
  • اعتکاف کرنے والا دن رات مسجد میں ہی رہے گا۔ وہیں کھائے‘ پیئے‘ سوئے مگر احتیاط رکھے کہ کھانے پینے سے مسجد گندی نہ ہونے پائے۔ معتکف کے سوا کسی اور کو مسجد میں کھانے پینے اور سونے کی اجازت نہیں ہے۔ اس لئے اگر کوئی آدمی مسجد میں کھانا پینا اور سونا چاہئے تو اس کو چاہئے کہ اعتکاف مستحب کی نیت کر کے مسجد میں داخل ہو اور نماز پڑھے یا ذکر الٰہی کرے‘ پھر اس کے لئے کھانے پینے اور سونے کی بھی اجازت ہے۔ (درمختار‘ 2: 134)
  • اگر اعتکاف میں بیٹھتے وقت یہ شرط کر لی کہ مریض کی عیادت و نماز جنازہ میں جائے گا تو یہ شرط جائز ہے۔ اب اگر ان کاموں کے لئے مسجد سے باہر گیا تو اعتکاف فاسد نہ ہو گا‘ مگر دل میں نیت کر لینا کافی نہیں بلکہ زبان سے کہنا بھی ضروری ہے۔ (بہار شریعت‘ 1: 474)
  • اگر مسجد گر گئی یا کسی نے زبردستی مسجد سے نکال دیا اور وہ فوراً ہی کسی دوسری مسجد میں چلا گیا تو اعتکاف فاسد نہ ہو گا۔
  • اعتکاف کرنے والا بالکل ہی چپ نہ رہے اور نہ لوگوں سے بہت زیادہ بات چیت کرے ‘بلکہ اس کو چاہئے کہ نفل نمازیں زیادہ پڑھے‘ تلاوت کرے‘ علم ِدین کا درس دے‘ اولیاء و صالحین کے حالات سنے اور دوسروں کو سنائے‘ کثرت سے درود شریف پڑھے اور ذکرِ الٰہی کرے۔ اکثر باوضو رہے اور دنیاداری کے خیالات سے دل کو پاک و صاف رکھے اور بکثرت رو رو کر اور گڑگڑا کر خداوند تعالی سے دعا مانگے۔
  • اعتکاف کی قضا صرف قصداً اعتکاف توڑنے ہی سے نہیں ہوتی‘ بلکہ اگر عذر کی وجہ سے بھی اعتکاف چھوڑ دیا ‘مثلاً بیمار ہو گیا یا بلااختیار چھوٹا جیسے عورت کو حیض یا نفاس آیا ‘جنون یا بے ہوشی طاری ہوئی‘ ان صورتوں میں بھی قضا واجب ہے۔
  • معتکف اگر بہ نیت عبادت بالکل چپ رہے کہ چپ رہنے کو ثواب سمجھے تو یہ مکروہ تحریمی ہے اور اگر چپ رہنے کو ثواب کی بات سمجھ کر نہ چپ رہے تو حرج نہیں اور بری باتوں سے چپ رہا تو یہ چپ رہنا مکروہ نہیں‘ بلکہ یہ تو اعلی درجے کی بات ہے ۔کیونکہ بری باتوں سے زبان کو روکے رکھنا بہرحال واجب ہے اور جس بات میں نہ ثواب ہو نہ گناہ یعنی مباح باتیں تو یہ بھی بلاضرورت معتکف کو مکروہ ہیں‘ کیونکہ بلاضرورت مسجد میں مباح کلام بھی نیکیوں کو اس طرح کھا لیتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔ (بہار شریعت‘ 1: 474)
  • سب سے اہم اور ضروری بات یہ ہے کہ اعتکاف ہو یا کوئی بھی عبادت اس میں صرف رضائے الہی کی نیت رکھے۔ دکھاوا‘ نیک نامی اور شہرت کو ہرگز ہرگز دخل نہ دے ‘ورنہ ہر عبادت بے نور و بے رونق بلکہ ضائع و غارت ہو جائے گی اور ثواب کی جگہ گناہ نامہ اعمال میں لکھا جائے گا۔

Copyrights © 2024 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved