تعلیم اور تعلم کی فضیلت و تکریم

اللہ تعالیٰ روز قیامت علماء کی بخشش و مغفرت فرمائے گا

يَغْفِرُ اﷲُ لِلْعُلَمَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَة

{اﷲ تعاليٰ روزِ قیامت علماء کی بخشش ومغفرت فرمائے گا}

اَلْقُرْآن

  1. وَاِنَّ مِنْ اَهْلِ الْکِتٰبِ لَمَنْ يُؤمِنُ بِاﷲِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْکُمْ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِمْ خٰشِعِيْنَ لا ِﷲِ لَا يَشْتَرُوْنَ بِاٰيٰتِ اﷲِ ثَمَنًا قَلِيْلًا ط اُولٰٓئِکَ لَهُمْ اَجْرُ هُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ط اِنَّ اﷲَ سَرِيْعُ الْحِسَابِo

(آل عمران، 3/ 199)

اور بے شک کچھ اہلِ کتاب ایسے بھی ہیں جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کتاب پر بھی (ایمان لاتے ہیں) جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور جو ان کی طرف نازل کی گئی تھی اور ان کے دل اللہ کے حضور جھکے رہتے ہیں اور اللہ کی آیتوں کے عوض قلیل دام وصول نہیں کرتے، یہ وہ لوگ ہیں جن کا اجر ان کے رب کے پاس ہے، بے شک اللہ حساب میں جلدی فرمانے والا ہے۔

  1. وَاِذَا سَمِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَی الرَّسُوْلِ تَرٰٓی اَعْيُنَهُمْ تَفِيْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ ج يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اٰمَنَّا فَاکْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِيْنَo وَمَا لَنَا لَا نُؤمِنُ بِاﷲِ وَمَا جَآءَ نَا مِنَ الْحَقِّ لا وَنَطْمَعُ اَنْ يُدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصّٰلِحِيْنَo فَاَثَابَهُمُ اﷲُ بِمَا قَالُوْا جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ط وَذٰلِکَ جَزَآءُ الْمُحْسِنِيْنَo

(المائدة، 5/ 82-85)

اور (یہی وجہ ہے کہ ان میں سے بعض سچے عیسائی) جب اس (قرآن) کو سنتے ہیں جو رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی طرف اتارا گیا ہے تو آپ ان کی آنکھوں کو اشک ریز دیکھتے ہیں۔ (یہ آنسوؤں کا چھلکنا) اس حق کے باعث (ہے) جس کی انہیں معرفت (نصیب) ہوگئی ہے۔ (ساتھ یہ) عرض کرتے ہیں: اے ہمارے رب! ہم (تیرے بھیجے ہوئے حق پر) ایمان لے آئے ہیں سو تو ہمیں (بھی حق کی) گواہی دینے والوں کے ساتھ لکھ لےo اور ہمیں کیا ہے کہ ہم اللہ پر اور اس حق (یعنی حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرآن مجید) پر جو ہمارے پاس آیا ہے، ایمان نہ لائیں، حالانکہ ہم (بھی یہ) طمع رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ (اپنی رحمت و جنت میں) داخل فرما دےo سو اللہ نے ان کی اس (مومنانہ) بات کے عوض انہیں ثواب میں جنتیں عطا فرما دیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ (وہ) ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں، اور یہی نیکوکاروں کی جزا ہے۔

  1. اِنَّمَا يَخْشَی اﷲَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا ط اِنَّ اﷲَ عَزِيْزٌ غَفُوْرٌo

(الفاطر، 35/ 28)

بس اﷲ کے بندوں میں سے اس سے وہی ڈرتے ہیں جو (ان حقائق کا بصیرت کے ساتھ) علم رکھنے والے ہیں، یقینا اﷲ غالب ہے بڑا بخشنے والا ہے۔

اَلْحَدِيْثُ

  1. عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ الْحَکَمِ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم: يَقُوْلُ اﷲُ تَعَالٰی لِلْعُلَمَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِذَا قَعَدَ عَلٰی کُرْسِيِّهِ لِقَضَاءِ عِبَادِهِ: إِنِّي لَمْ أَجْعَلْ عِلْمِي وَحُکْمِي فِيْکُمْ إِلَّا وَأَنَا أُرِيْدُ أَنْ أَغْفِرَ لَکُمْ عَلٰی مَا کَانَ فِيْکُمْ وَلَا أُبَالِي.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرُوَاتُهُ ثِقَاتٌ.

أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 2/ 84، الرقم/ 1381، وذکره المنذري في الترغيب والترهيب، 1/ 57، الرقم/ 131، والهيثمي في مجمع الزوائد، 1/ 126، وقال: رواه الطبراني في الکبير ورجاله موثقون، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 3/ 142، وقال: إسناده جيد.

حضرت ثعلبہ بن حکم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روزِ قیامت جب اللہ تعاليٰ اپنے بندوں کے بارے میں فیصلہ فرمانے کیلئے اپنی کرسی پر (اپنی شان کے لائق) تشریف فرما ہو گا تو علماء سے فرمائے گا: میں نے تمہیں اپنا علم اورحکمت و دانائی صرف اس لئے عطا فرمائی تھی کہ تمہارے تمام گزشتہ گناہ معاف فرما دوں اور مجھے (ایسا کرنے میں) کچھ پرواہ نہیں۔

اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔ اس کے راوی ثقہ ہیں۔

وَفِي رِوَايَةِ أَبِي مُوْسَی الْأَشْعَرِيِّ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم: يَبْعَثُ اﷲُ الْعِبَادَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثُمَّ يُمَيِّزُ الْعُلَمَاءَ فَيَقُوْلُ: يَا مَعْشَرَ الْعُلَمَاءِ، إِنِّي لَمْ أَضَعْ فِيْکُمْ عِلْمِي وَأَنَا اُرِيْدُ أَنْ أُعَذِّبَکُمُ. اذْهَبُوْا فَقَدْ غَفَرْتُ لَکُمْ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ.

أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 4/ 302، الرقم/ 4264، وفي المعجم الصغير، 1/ 354، الرقم/ 591، والروياني في المسند، 1/ 353، الرقم/ 542، والبيھقي في المدخل إلی السنن الکبری، 1/ 343، الرقم/ 567، وذکره المنذري في الترغيب والترهيب، 1/ 57، الرقم/ 132، والهيثمي في مجمع الزوائد، 1/ 126.

حضرت ابو موسيٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعاليٰ قیامت کے روز اپنے بندوں کو اٹھائے گا پھر علماء کو ان سے الگ کرکے فرمائے گا: اے گروهِ علماء! میں نے تمہیں اپنا علم اس لیے نہیں دیا تھا کہ تمہیں عذاب دوں۔ جؤ میں نے تمہیں بخش دیا۔

اس حدیث کو اِمام طبرانی اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved