Arba‘in: The Prophet (PBUH) is Alive

الاحادیث النبویہ

اَلأَحَادِيْثُ النَّبَوِيَّةُ

1. عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِکُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فِيْهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيْهِ قُبِضَ، وَفِيْهِ النَّفْخَةُ، وَفِيْهِ الصَّعْقَةُ، فَأَکْثِرُوْا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيْهِ، فَإِنَّ صَلَاتَکُمْ مَعْرُوْضَةٌ عَلَيَّ، قَالَ : قَالُوْا : يَا رَسُوْلَ اﷲِ، کَيْفَ تُعْرَضُ صَـلَاتُنَا عَلَيْکَ وَقَدْ أَرِمْتَ؟ قَالَ : يَقُوْلُوْنَ : بَلِيْتَ. قَالَ : إِنَّ اﷲَ عزوجل حَرَّمَ عَلَی الْأَرْضِ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ.

وفي رواية : فَقَالَ : إِنَّ اﷲَ جَلَّ وَعَـلَا حَرَّمَ عَلَی الْأَرْضِ أَنْ تَأْکُلَ أَجْسَامَنَا.

رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَاءِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَالدَّارِمِيُّ وَأَحْمَدُ وَابْنُ خُزَيْمَةَ وَابْنُ حِبَّانَ. وَقَالَ الْحَاکِمُ : هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ عَلٰی شَرْطِ الْبُخَارِيِّ. وَقَالَ الْوَادِيَاشِيُّ : صَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ. وَقَالَ الْعَسْقَـلَانِيُّ : وَصَحَّحَهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ. وَقَالَ الْعَجْلُوْنِيُّ : رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ بِإِسْنَادٍ جَيِّدٍ. وَقَالَ ابْنُ کَثِيْرٍ : وَقَدْ صَحَّحَ هٰذَا الْحَدِيْثَ بْنُ خُزَيْمَةَ، وَابْنُ حِبَّانَ، وَالدَّارَ قُطْنِيُّ، وَالنَّوَوِيُّ فِي الْأَذْکَارِ.

1 : أخرجه أبو داود في السنن،کتاب الصلاة، باب فضل يوم الجمعة وليلة الجمعة،1 / 275، الرقم : 1047، وأيضًا في کتاب الصلاة، باب في الاستغفار، 2 / 88، الرقم : 1531، والنسائي في السنن، کتاب الجمعة، باب بإکثار الصلاة علی النبي صلی الله عليه وآله وسلم يوم الجمعة، 3 / 91، الرقم : 1374، وأيضًا في السنن الکبری،1 / 519، الرقم : 1666، وابن ماجه في السنن،کتاب إقامة الصلاة، باب في فضل الجمعة،1 / 345، الرقم : 1085، والدارمي في السنن،1 / 445، الرقم : 1572، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 8، الرقم : 16207، وابن أبي شيبة في المصنف، 2 / 253، الرقم : 8697، وابن خزيمة في الصحيح، 3 / 118، الرقم : 1733.1734، وابن حبان في الصحيح، 3 / 190، الرقم : 910، والحاکم في المستدرک،1 / 413، الرقم : 1029، والبزار في المسند، 8 / 411، الرقم : 3485، والطبراني في المعجم الأوسط، 5 / 97، الرقم : 4780، وأيضًا في المعجم الکبير،1 / 261، الرقم : 589، والبيهقي في السنن الصغری، 1 / 371، الرقم : 634، وأيضًا في السنن الکبری، 3 / 248، الرقم : 5789، وأيضًا في شعب الإيمان، 3 / 109، الرقم : 3029، والجهضمي في فضل الصلاة علی النبي صلی الله عليه وآله وسلم / 37، الرقم : 22، والوادياشي في تحفة المحتاج، 1 / 524، الرقم : 661، والعسقلاني في فتح الباري، 11 / 370، والعجلوني في کشف الخفائ، 1 / 190، الرقم : 501، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 3 / 515.

’’حضرت اَوس بن اَوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بیشک تمہارے دنوں میں سے جمعہ کا دن سب سے بہتر ہے اِس دن حضرت آدم علیہ السلام پیدا ہوئے اور اسی دن انہوں نے وفات پائی اور اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اسی دن سخت آواز ظاہر ہو گی. پس اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ! ہمارا درود آپ کے وصال کے بعد آپ کو کیسے پیش کیا جائے گا؟ کیا آپ کا جسدِ مبارک خاک میں نہیں مل چکا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (نہیں ایسا نہیں ہے) اللہ تعالیٰ نے زمین پر اَنبیاء کرام (علیھم السلام) کے جسموں کو (کھانا یا کسی بھی قسم کا نقصان پہنچانا) حرام فرما دیا ہے۔‘‘

’’ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک اللہ بزرگ و برتر نے زمین پر حرام قرار دیا ہے کہ وہ ہمارے جسموں کو کھائے۔‘‘

اِس حدیث کو امام ابو داود، نسائی، ابن ماجہ، دارمی، احمد ابن خزیمہ اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا : یہ حدیث امام بخاری کی شرائط پر صحیح ہے اور امام وادیاشی نے بھی فرمایا : اِسے امام ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے۔ اور امام عسقلانی نے فرمایا : اِسے امام ابن خزیمہ نے صحیح قرار دیا ہے اور امام عجلونی نے فرمایا : اِسے امام بیہقی نے جید سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ علامہ ابن کثیر نے فرمایا : اِسے امام ابن خزیمہ، ابن حبان، دار قطنی اور نووی نے الاذکار میں صحیح قرار دیا ہے۔

2. عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِصلی الله عليه وآله وسلم : أَکْثِرُوْا الصَّلَاةَ عَلَيَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَإِنَّهُ مَشْهُوْدٌ تَشْهَدُهُ الْمَـلَاءِکَةُ، وَإِنَّ أَحَدًا لَنْ يُصَلِّيَ عَلَيَّ إِلَّا عُرِضَتْ عَلَيَّ صَلَاتُهُ حَتّٰی يَفْرُغَ مِنْهَا. قَالَ : قُلْتُ : وَبَعْدَ الْمَوْتِ؟ قَالَ : وَبَعْدَ الْمَوْتِ، إِنَّ اﷲَ حَرَّمَ عَلَی الْأَرْضِ أَنْ تَأْکُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ، فَنَبِيُّ اﷲِ حَيٌّ يُرْزَقُ.

رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه بِإِسْنَادٍ صَحِيْحٍ. وَقَالَ الْمُنْذِرِيُّ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه بِإِسْنَادٍ جَيِّدٍ. وَقَالَ الْمُنَاوِيُّ : قَالَ الدَّمِيْرِيُّ : رِجَالُهُ ثِقَاتٌ. وَقَالَ الْعَجْلُوْنِيُّ : حَسَنٌ.

2 : أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب الجنائز، باب ذکر وفاته ودفنه صلی الله عليه وآله وسلم، 1 / 524، الرقم : 1637، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 328، الرقم : 2582، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 3 / 515، 4 / 493، والمناوي في فيض القدير، 2 / 87، والعجلوني في کشف الخفائ،1 / 190، الرقم : 501.

’’حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو، یہ یوم مشہود (یعنی میری بارگاہ میں فرشتوں کی خصوصی حاضری کا دن) ہے۔ اِس دن فرشتے (خصوصی طور پر کثرت سے میری بارگاہ میں) حاضر ہوتے ہیں، جب کوئی شخص مجھ پر درود بھیجتا ہے تو اُس کے فارغ ہونے تک اُس کا درود میرے سامنے پیش کر دیا جاتا ہے۔ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : (یا رسول اﷲ!) اور آپ کے وصال کے بعد (کیا ہو گا)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں (میری ظاہری) وفات کے بعد بھی (میرے سامنے اسی طرح پیش کیا جائے گا کیوں کہ) اللہ تعالیٰ نے زمین کے لیے انبیائے کرام علیھم السلام کے جسموں کا کھانا حرام کر دیا ہے۔ پس اﷲ تعالیٰ کا نبی زندہ ہوتا ہے اور اُسے رزق بھی عطا کیا جاتا ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام ابن ماجہ نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ امام منذری نے فرمایا : اِسے امام ابن ماجہ نے جید اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے اور امام مناوی نے بیان کیا کہ امام دمیری نے فرمایا : اِس کے رجال ثقات ہیں۔ امام عجلونی نے بھی اسے حدیثِ حسن کہا ہے۔

3. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ : إِنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : مَا مِنْ أَحَدٍ يُسلِّمُ عَلَيَّ إِلَّا رَدَّ اﷲُ عَلَيَّ رُوْحِي حَتّٰی أَرُدَّ عَلَيْهِ السَّـلَامَ.

رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَأَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ. وَقَالَ الْعَسْقَـلَانِيُّ : رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَرُوَاتُهُ ثِقَاتٌ. وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ : وَفِيْهِ عَبْدُ اﷲِ بْنُ يَزِيْدَ الإِسْکَنْدَرَانِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ وَمَهْدِيُّ بْنُ جَعْفَرٍ ثِقَةٌ…وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

3 : أخرجه أبو داود في السنن، کتاب المناسک، باب زيارة القبور، 2 / 218، الرقم : 2041، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 527، الرقم : 10867، والطبراني في المعجم الأوسط، 3 / 262، الرقم : 3092، 9329، والبيهقي في السنن الکبری، 5 / 245، الرقم : 10050، وأيضًا في شعب الإيمان، 2 / 217، الرقم : 5181. 4161، وابن راهويه في المسند، 1 / 453، الرقم : 526، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 162.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (میری اُمت میں سے کوئی شخص) ایسا نہیں جو مجھ پر سلام بھیجے مگر اﷲتعالیٰ نے مجھ پر میری روح واپس لوٹا دی ہوئی ہے یہاں تک کہ میں ہر سلام کرنے والے (کو اُس) کے سلام کا جواب دیتا ہوں۔‘‘

اِس حدیث کو امام ابو داود، اَحمد، طبرانی اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔ نیز امام عسقلانی نے فرمایا : اِسے امام ابوداود نے روایت کیا ہے اور اِس کے راوی ثقہ ہیں۔ امام ہیثمی نے بھی فرمایا : اِس کی سند میں عبد اللہ بن یزید الاسکندرانی راوی کو میں نہیں جانتا جبکہ مہدی بن جعفر اور دیگر تمام راوی ثقات ہیں۔

4. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : أَتَيْتُ، (وفي رواية هدّاب : ) مَرَرْتُ عَلٰی مُوْسٰی لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عِنْدَ الْکَثِيْبِ الْأَحْمَرِ وَهُوَ قَاءِمٌ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالنَّسَاءِيُّ.

4 : أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الفضائل، باب من فضائل موسی عليه السلام، 4 / 1845، الرقم : 2375، والنسائي في السنن، کتاب قيام الليل وتطوع النهار، باب ذکر صلاة نبي اﷲ موسی عليه السلام، 3 / 215، الرقم : 161.1632، وأيضًا في السنن الکبری، 1 / 419، الرقم : 1328.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : معراج کی شب میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا، (اور ھدّاب کی ایک روایت کے مطابق) سرخ ٹیلے کے پاس سے میرا گزر ہوا (تومیں نے دیکھا کہ) حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قبر میں کھڑے مصروفِ صلاۃ تھے۔‘‘

اِس حدیث کو امام مسلم، نسائی، اَحمد اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔

5. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : اَلْأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِي قُبُوْرِهِمْ يُصَلُّوْنَ.

رَوَاهُ أَبُوْ يَعْلٰی وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَابْنُ عَدِيٍّ وَالْبَيْهَقِيُّ وَالدَّيْلَمِيُّ. وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : وَأَرْجُوْ أَنَّهُ لَا يَأْسَ بِهِ. وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ : رِجَالُ أَبِي يَعْلٰی ثِقَاتٌ. وَقَالَ الشَّوْکَانِيُّ : فَقَدْ صَحَّحَهُ الْبَيْهَقِيُّ وَأَلَّفَ فِي ذَالِکَ جُزْئًا. وَقَالَ الزُّرْقَانِيُّ : وَجَمَعَ الْبَيْهَقِيُّ کِتَابًا لَطِيْفًا فِي حَيَاةِ الأَنْبِيَاءِ وَرَوَی فِيْهِ بِإِسْنَادٍ صَحِيْحٍ عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه مَرْفُوْعًا.

5 : أخرجه أبو يعلی في المسند، 6 / 147، الرقم : 3425، وابن عدي في الکامل، 2 / 327، الرقم : 460، والديلمي في مسند الفردوس،1 / 119، الرقم : 403، والعسقلاني في فتح الباري، 6 / 487، وأيضًا في لسان الميزان، 2 / 175، 246، الرقم : 787، 1033، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8 / 211، والسيوطي في شرحه علی سنن النسائي، 4 / 110، والعظيم آبادي في عون المعبود، 6 / 19، وقال : وألفت عن ذالک تأليفا سميته : انتباه الأذکياء بحياة الأنبيائ، والمناوي في فيض القدير، 3 / 184، والشوکاني في نيل الأوطار، 5 / 178، والزرقاني في شرحه علی موطأ الإمام مالک، 4 / 357.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : انبیاءِ کرام علیہم السلام اپنی اپنی قبروں میں حیات ہیں اور نماز بھی پڑھتے ہیں۔‘‘

اِس حدیث کو امام ابو یعلی، ابن عدی، بیہقی اور دیلمی نے ثقہ راویوں سے بیان کیا ہے۔ اور امام ابن عدی نے فرمایا : اِس حدیث کی سند میں کوئی نقص نہیں ہے۔ اور امام ہیثمی نے بھی فرمایا : امام ابو یعلی کے رجال ثقات ہیں۔ اور علامہ شوکانی نے فرمایا : اسے امام بیہقی نے صحیح قرار دیا ہے اور حیاتِ انبیاء علیہم السلام پر انہوں نے ایک جزء (صحیح اَحادیث کی مختصر سی کتاب) بھی تالیف کی ہے۔ اسی طرح امام زرقانی نے بھی فرمایا کہ امام بیہقی نے حیاتِ انبیاء علیہم السلام پر ایک نہایت لطیف کتاب تالیف کی ہے جس میں انہوں نے حضرت اَنس رضی اللہ عنہ کی مرفوع روایات اِسنادِ صحیح کے ساتھ بیان کی ہیں۔

وقال العسقـلاني في ’’الفتح‘‘ : قَدْ جَمَعَ الْبَيْهَقِيُّ کِتَابًا لَطِيْفًا فِي حَيَاةِ الْأَنْبِيَاءِ فِي قُبُوْرِهِمْ أَوْرَدَ فِيْهِ حَدِيْثَ أَنَسٍ ص : اَلْأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِي قُبُوْرِهِمْ يُصَلُّوْنَ. أَخْرَجَهُ مِنْ طَرِيْقِ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيْرٍ وَهُوَ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيْحِ عَنِ الْمُسْتَلِمِ بْنِ سَعِيْدٍ وَقَدْ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ عَنِ الْحَجَّاجِ الْأَسْوَدِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي زِيَادِ الْبَصْرِيُّ وَقَدْ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَعِيْنٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْهُ وَأَخْرَجَهُ أَيْضًا أَبُوْ يَعْلٰی فِي مُسْنَدِهِ مِنْ هٰذَا الْوَجْهِ وَأَخْرَجَهُ الْبَزَّارُ وَصَحَّحَهُ الْبَيْهَقِيُّ.

ذکره العسقلاني في فتح الباري، 6 / 487.

’’امام عسقلانی فتح الباری میں بیان کرتے ہیں کہ امام بیہقی نے انبیاء کرام علیہم السلام کے اپنی قبروں میں زندہ ہونے کے بارے میں (صحیح اَحادیث پر مشتمل) ایک خوبصورت کتاب لکھی ہے جس میں انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث بھی وارد کی ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام اپنی قبور میں (حیاتِ ظاہری کی طرح ہی) زندہ ہوتے ہیں اور صلاۃ بھی ادا کرتے ہیں۔ یہ حدیث اُنہوں نے یحیی بن ابی کثیر کے طریق سے روایت کی ہے اور وہ صحیح حدیث کے راویوں میں سے ہیں۔ اُنہوں نے مستلم بن سعید سے روایت کی اور امام احمد بن حنبل نے بھی انہیں ثقہ قرار دیا ہے۔ امام ابن حبان نے یہ حدیث حجاج اسود سے روایت کی ہے اور وہ ابن ابی زیاد البصری ہیں اور اُنہیں بھی امام اَحمد بن حنبل نے ثقہ قرار دیا ہے۔ امام ابن معین نے بھی حضرت ثابت سے یہ حدیث روایت کی ہے۔ امام ابو یعلی نے بھی اپنی مسند میں اسی طریق سے یہ حدیث روایت کی ہے اور امام بزار نے بھی اس کی تخریج کی ہے اور امام بیہقی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔‘‘

6. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : فَرَضَ اﷲُ عزوجل عَلٰی أُمَّتِي خَمْسِيْنَ صَـلَاةً، فَرَجَعْتُ بِذَالِکَ، حَتّٰی مَرَرْتُ عَلٰی مُوْسٰی، فَقَالَ : مَا فَرَضَ اﷲُ لَکَ عَلٰی أُمَّتِکَ؟ قُلْتُ : فَرَضَ خَمْسِيْنَ صَـلَاةً، قَالَ : فَارْجِعْ إِلٰی رَبِّکَ، فَإِنَّ أُمَّتَکَ لَا تُطِيْقُ ذَالِکَ، فَرَاجَعَنِي فَوَضَعَ شَطْرَهَا، فَرَجَعْتُ إِلٰی مُوْسٰی، قُلْتُ : وَضَعَ شَطْرَهَا، فَقَالَ : رَاجِعْ رَبَّکَ، فَإِنَّ أُمَّتَکَ لَا تُطِيْقُ، فَرَاجَعْتُ فَوَضَعَ شَطْرَهَا، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ : اِرْجِعْ إِلٰی رَبِّکَ، فَإِنَّ أُمَّتَکَ لَا تُطِيْقُ ذَالِکَ، فَرَاجَعْتُهُ، فَقَالَ : هِيَ خَمْسٌ وَهِيَ خَمْسُوْنَ، لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ، فَرَجَعْتُ إِلٰی مُوْسٰی، فَقَالَ : رَاجِعْ رَبَّکَ، فَقُلْتُ : اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَبِّي ثُمَّ انْطَلَقَ بِي حَتّٰی انْتَهٰی بِي إِلٰی سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰی وَغَشِيَهَا أَلْوَانٌ لَا أَدْرِي مَا هِيَ، ثُمَّ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ، فَإِذَا فِيْهَا حَبَاءِلُ اللُّؤْلُؤِ، وإِذَا تُرَابُهَا الْمِسْکُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

6 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب الصلاة، باب کيف فرضت الصلاة في الإسرائ، 1 / 136، الرقم : 342، وأيضًا في کتاب الأنبيائ، باب ذکر إدريس وهو جد أبي نوح ويقال جد نوح، 3 / 1217، الرقم : 3164، ومسلم في الصحيح، کتاب الإيمان، باب الإسراء برسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم إلی السماوات وفرض الصلوات، 1 / 148، الرقم : 163.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (شبِ معراج) اللہ تعالیٰ نے میری اُمت پر پچاس نمازیں فرض کیں تو میں ان (نمازوں) کے ساتھ واپس آیا یہاں تک کہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انہوں نے سوال کیا : اللہ تعالیٰ نے آپ کی اُمت کے لیے آپ پر کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا : اﷲ تعالیٰ نے پچاس نمازیں فرض کی ہیں۔ انہوں نے کہا : اپنے ربّ کی طرف واپس جائیے کیوں کہ آپ کی اُمت اِس (کی ادائیگی) کی طاقت نہیں رکھتی۔ پس انہوں نے مجھے واپس لوٹا دیا۔ (میری درخواست پر) اﷲ تعالیٰ نے ان کا ایک حصہ کم کر دیا۔ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف واپس گیا اور کہا کہ اﷲ تعالیٰ نے ایک حصہ کم کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا : اپنے ربّ کی طرف (پھر) جائیے کیوں کہ آپ کی اُمت میں ان کی (ادائیگی کی) طاقت بھی نہیں ہے۔ پس میں واپس گیا تو اﷲ تعالیٰ نے ان کا ایک حصہ اور کم کر دیا۔ میں ان کی طرف آیا تو انہوں نے پھر کہا : اپنے ربّ کی طرف جائیے کیونکہ آپ کی امت میں ان کی ادائیگی کی طاقت بھی نہیں ہے۔ میں واپس لوٹا تو (اﷲ تعالیٰ نے) فرمایا : یہ (ہیں تو) پانچ (نمازیں) مگر (ثواب کے اعتبار سے) پچاس (کے برابر) ہیں۔ میرے ہاں اَحکامات تبدیل نہیں ہوا کرتے. میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انہوں نے کہا : اپنے ربّ کی طرف جائیے (اور مزید کمی کے لیے درخواست کیجیے) میں نے کہا : مجھے اب اپنے ربّ سے حیا آتی ہے۔ پھر (جبرائیل علیہ السلام) مجھے لے کر چلے یہاں تک کہ سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچے جسے مختلف رنگوں نے ڈھانپ رکھا تھا، نہیں معلوم کہ وہ کیا ہیں؟ پھر مجھے جنت میں داخل کیا گیا جس میں موتیوں کے ہار ہیں اور اس کی مٹی مشک (کی مانند خوشبودار) ہے۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

7. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ لَقِيْتُ مُوْسٰی قَالَ : فَنَعَتَهُ فَإِذَا رَجُلٌ حَسِبْتُهُ. قَالَ : مُضْطَرِبٌ رَجِلُ الرَّأْسِ کَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوْءَةَ قَالَ : وَلَقِيْتُ عِيْسٰی فَنَعَتَهُ النَّبيُّ صلی الله عليه وآله وسلم فَقَالَ : رَبْعَةٌ أَحْمَرُ کَأَنَّمَا خَرَجَ مِنْ دِيْمَاسٍ يَعْنِي الْحَمَّامَ وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيْمَ وَأَنَا أَشْبَهُ وَلَدِهِ بِهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

7 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب الأنبيائ، باب قول اﷲ تعالی : واذکر في الکتاب مريم، 3 / 1269، الرقم : 3254، ومسلم في الصحيح، کتاب الإيمان، باب الإسراء برسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم إلی السماوات، 1 / 154، الرقم : 168.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : شبِ معراج میری حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا وصف یوں بیان فرمایا : وہ دبلے پتلے، دراز قد، گھنگریالے بالوں والے ایسے آدمی ہیں جیسے قبیلہ شنوء ہ کے لوگ. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میری حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بھی ملاقات ہوئی. پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن کا حلیہ بیان فرمایا کہ یہ درمیانہ قد، سرخ رنگ والے (اور ایسے تروتازہ ہیں) گویا ابھی حمام سے (نہاکر) نکلے ہیں اور میں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بھی ملا اور میں اُن کی ساری اولاد میں سب سے زیادہ اُن سے مشابہ ہوں۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

8. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه يَقُوْلُ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِصلی الله عليه وآله وسلم : لَيَهْبِطَنَّ عِيْسَی ابْنُ مَرْيَمَ حَکَمًا عَدْلًا وَإِمَامًا مُقْسِطًا، وَلَيَسْلُکَنَّ فَجًّا حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا أَوْ بِنِيَّتِهِمَا، وَلَيَأْتِيَنَّ قَبْرِي حَتّٰی يُسَلِّمَ عَلَيَّ وَلَأَرُدَّنَّ عَلَيْهِ. يَقُوْلُ أَبُوْ هُرَيْرَةَ : أَي بَنِي أَخِي، إِنْ رَأَيْتُمُوْهُ فَقُوْلُوْا : أَبُوْ هُرَيْرَةَ يُقْرِءُ کَ السَّلَامَ.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَابْنُ عَسَاکِرَ وَقَالَ الْحَاکِمُ : هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.

8 : أخرجه الحاکم في المستدرک، 2 / 651، الرقم : 4162، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 47 / 493، والهندي في کنز العمال، 14 / 146، الرقم : 38851.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام عادل حاکم اور منصف امام کے طور پر ضرور اتریں گے. وہ فوری طور پر حج یا عمرہ یا دونوں کی نیت سے چل پڑیں گے اور میری قبر پر ضرور آئیں گے، مجھے سلام کریں گے اور میں اُنہیں ضرور جواب دوں گا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے (راوی سے) فرمایا : اے میرے بھتیجے! اگر آپ کو ان کی زیارت کی سعادت حاصل ہو تو ان سے عرض کرنا کہ ابو ہریرہ نے آپ کی خدمت میں سلام عرض کیا ہے۔‘‘

اِس حدیث کو امام حاکم، ابن عساکر اور متقی ہندی نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا : اس حدیث کی سند صحیح ہے۔

9. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : لَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي الْحِجْرِ، وَقُرَيْشٌ تَسْأَلُنِي عَنْ مَسْرَايَ، فَسَأَلَتْنِي عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ لَمْ أُثْبِتْهَا، فَکُرِبْتُ کُرْبَةً مَا کُرِبْتُ مِثْلَهُ قََطُّ، قَالَ : فَرَفَعَهُ اﷲُ لِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ. مَا يَسْأَلُوْنِي عَنْ شَيئٍ إِلَّا أَنْبَأْتُهُمْ بِهِ. وَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي جَمَاعَةٍ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، فَإِذَا مُوْسٰی عليه السلام قَاءِمٌ يُصَلِّي، فَإِذَا رَجُلٌ ضَرْبٌ جَعْدٌ کَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوْءَةَ. وَإِِذَا عِيْسَی ابْنُ مَرْيَمَ عليهما السلام قَاءِمٌ يُصَلِّي، أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُوْدٍ الثَّقَفِيُّ. وَإِذَا إِبْرَاهِيْمُ عليه السلام قَاءِمٌ يُصَلِّي، أَشْبَهُ النَّاسِ بِهِ صَاحِبُکُمْ (يَعْنِي نَفْسَهُ) فَحَانَتِ الصَّلَاةُ فَأَمَمْتُهُمْ فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنَ الصَّلَاةِ، قَالَ قَاءِلٌ : يَا مُحَمَّدُ، هٰذَا مَالِکٌ صَاحِبُ النَّارِ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ. فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ فَبَدَأَنِي بِالسَّـلَامِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالنَّسَاءِيُّ.

9 : أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الإيمان، باب ذکر المسيح ابن مريم والمسيح الدجال، 1 / 156، الرقم : 178، والنسائي في السنن الکبری، 6 / 455، الرقم : 11480.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (شبِ معراج) میں نے خود کو حطیم کعبہ میں پایا اور قریش مجھ سے سفرِ معراج کے بارے میں سوالات کر رہے تھے. اُنہوں نے مجھ سے بیت المقدس کی کچھ چیزیں پوچھیں جنہیں میں نے (یاد داشت میں) محفوظ نہیں رکھا تھا جس کی وجہ سے میں اتنا پریشان ہوا کہ اس سے پہلے کبھی اتنا پریشان نہیں ہوا تھا، تب اﷲ تعالیٰ نے بیت المقدس کو اُٹھا کر میرے سامنے رکھ دیا۔ وہ مجھ سے بیت المقدس کے متعلق جو بھی چیز پوچھتے میں (دیکھ دیکھ کر) انہیں بتاتا چلا گیااور میں نے خود کو انبیاء کی ایک جماعت میں پایا۔ میں نے دیکھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کھڑے مصروفِ صلاۃ تھے، اور وہ قبیلہ شنوء ہ کے لوگوں کی طرح گھنگریالے بالوں والے تھے اور پھر حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کھڑے مصروفِ صلاۃ تھے اور عروہ بن مسعود ثقفی اُن سے بہت مشابہ ہیں، اور پھر حضرت ابراہیم عليہ السلام کھڑے مصروفِ صلاۃ تھے اور تمہارے آقا (یعنی خود حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہ ہیں پھر نماز کا وقت آیا، اور میں نے ان سب اَنبیاء علیہم السلام کی امامت کرائی۔ جب میں نماز سے فارغ ہوا تو مجھے ایک کہنے والے نے کہا : یہ مالک ہیں جو جہنم کے داروغہ ہیں، انہیں سلام کیجیے۔ پس میں ان کی طرف متوجہ ہوا تو انہوں نے (مجھ سے) پہلے مجھے سلام کیا۔‘‘

اِسے امام مسلم اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

10. عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضی الله عنه قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ وَهُوَ يَصِفَ يُوْسُفَ عليه السلام حِيْنَ رَآهُ فِي السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ قَالَ : رَأَيْتُ رَجُـلًا صُوْرَتُهُ کَصُوْرَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ. فَقُلْتُ : يَا جِبْرِيْلُ، مَنْ هٰذَا؟ قَالَ : هٰذَا أَخُوْکَ يُوْسُفُ. قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ : وَکَانَ اﷲُ قَدْ أَعْطٰی يُوْسُفَ مِنَ الْحُسْنِ وَالْهَيْبَةِ مَا لَمْ يُعْطِ أَحْدًا مِنَ الْعَالَمِيْنَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ حَتّٰی کَانَ يُقَالُ وَاﷲِ، أَعْلَمُ أَنَّهُ أُعْطِيَ نِصْفَ الْحُسْنِ وَقُسِّمَ النِّصْفُ الآخَرُ بَيْنَ النَّاسِ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَابْنُ قُتَيْبَةَ.

10 : أخرجه الحاکم في المستدرک، 2 / 623، الرقم : 4087، وابن قتببة في تأويل مختلف الحديث، 1 / 321.

’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت یوسف علیہ السلام کے اَوصاف بیان کر رہے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں (معراج کی رات) تیسرے آسمان پر دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں نے ایک : ایسے شخص کو دیکھا جس کی صورت چودھویں رات کے چاند کی طرح تھی۔ پس میں نے پوچھا : اے جبرائیل! یہ کون ہیں؟ انہوں نے عرض کیا : یہ آپ کے بھائی حضرت یوسف علیہ السلام ہیں۔ ابن اسحاق کہتے ہیں : اﷲ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو وہ حسن و رعب عطا کر رکھا تھا جو عالمین میں سے آپ سے پہلے اور نہ آپ کے بعد کسی کو عطا کیا گیا۔ یہاں تک کہ کہا جاتا تھا کہ اﷲ کی قسم! میں یہ جانتا ہوں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو پورے حسن کا آدھا حصہ اور دوسرا آدھا حصہ (تمام دنیا کے) لوگوں کو عطا ہوا۔‘‘

اِس حدیث کو امام حاکم اور ابن قتیبہ نے روایت کیا ہے۔

11. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلٰی مُوْسَی ابْنِ عِمْرَانَ عليه السلام فِي هٰذَا الْوَادِي مُحْرَمًا بَيْنَ قِطْوَانِيَّتَيْنِ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَبُوْ يَعْلٰی وَقَالَ الْمُنْذِرِيُّ وَالْهَيْثَمِيُّ : إِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

11 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 10 / 142، الرقم : 10255، وأيضًا في المعجم الأوسط، 6 / 308، الرقم : 6487، وأبو یعلی في المسند، 9 / 27، الرقم : 5093، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 118، الرقم : 1740، والهيثمي في مجمع الزوائد، 3 / 221، وأيضًا، 8 / 204.

’’حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : گویا میں (اس وقت بھی) حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام کو اس وادی میں دو قطوانی چادروں میں حالتِ اِحرام میں دیکھ رہا ہوں۔‘‘

اِس حدیث کو امام طبرانی، ابویعلی اور ابو نعیم نے روایت کیا ہے۔ امام منذری اور ہیثمی نے فرمایا : اس کی اِسناد حسن ہے۔

12. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم أَتٰی عَلٰی وَادِي الْأَزْرَقِ فَقَالَ : مَا هٰذَا؟ قَالُوْا : وَادِي الْأَزْرَقِ. فَقَالَ : کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلٰی مُوْسَی بْنِ عِمْرَانَ مُهْبِطًا لَهُ خُوَارٌ إِلَی اﷲِ بِالتَّکْبِيْرِ. ثُمَّ أَتٰی عَلٰی ثَنِيَّةٍ فَقَالَ : مَا هٰذِهِ الثَّنِيَّةُ؟ قَالُوْا : ثَنِيَّةُ کَذَا وَکَذَا. فَقَالَ : کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلٰی يُوْنُسَ بْنِ مَتّٰی عَلٰی نَاقَةٍ حَمْرَاءَ جَعْدَةٍ خِطَامُهَا لِيْفٌ وَهُوَ يُلَبِّي وَعَلَيْهِ جُبَّةُ صُوْفٍ.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَابْنُ حِبَّانَ وَأَبُوْ نُعَيْمٍ وَأَبُوْ عَوَانَةَ وَالطَّبَرَانِيُّ. وَقَالَ الْحَاکِمُ : هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ عَلٰی شَرْطِ مُسْلِمٍ.

12 : أخرجه الحاکم في المستدرک، 2 / 373،638، الرقم : 3313، 4123، وابن حبان في الصحيح، 14 / 103، الرقم : 6219، والطبراني في المعجم الکبير، 12 / 159، الرقم : 12756، وأبو نعيم في حلية الأوليائ، 2 / 223، 3 / 96، وأبو عونة في المسند، 2 / 421، الرقم : 3682.

’’حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادیِ اَزرق کی طرف تشریف لائے اور دریافت فرمایا : یہ کیا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : (یا رسول اﷲ!) یہ وادیِ اَزرق ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : گویا کہ میں موسیٰ بن عمران علیہ السلام کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ وہ اس وادی میں اﷲ تعالیٰ کی کبریائی بیان کرتے ہوئے اتر رہے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک پہاڑی راستے کی طرف تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا : یہ کون سا پہاڑی راستہ ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : یہ فلاں فلاں پہاڑی راستہ ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : گویا میں حضرت یونس بن متی علیہ السلام کو سرخ گنگریالے بالوں والی اُونٹنی پر بیٹھا ہوا دیکھ رہا ہوں. اُس اونٹنی کی لگام کھجور کی چھال کی ہے اور آپ تلبیہ کہہ رہے ہیں اور آپ نے اُون کا جبہ زیب تن کیا ہوا ہے۔‘‘

اِس حدیث کو امام حاکم، ابن حبان، ابو نعیم، ابو عوانہ اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا : یہ حدیث امام مسلم کی شرائط پر صحیح ہے۔

13. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما أَنَّهُ قَالَ : لَقَدْ سَلَکَ فَجَّ الرَّوْحَاءِ سَبْعُوْنَ نَبِيًّا حُجَّاجًا عَلَيْهِمْ ثِيَابُ الصُّوْفِ، وَلَقَدْ صَلّٰی فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ سَبْعُوْنَ نَبِيًّا.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ. وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ : رِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

13 : أخرجه الحاکم في المستدرک، 2 / 653، الرقم : 4169، والطبراني في المعجم الکبير، 12 / 474، الرقم : 13525، والبيهقي في السنن الکبری، 5 / 177، الرقم : 9618، والفاکهي في أخبار مکة، 4 / 266، الرقم : 2594، والهيثمي في مجمع الزوائد، 3 / 297.

’’حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ روحاء کے راستے پر ستر انبیاء کرام علیہم السلام حج کی غرض سے گزرے ہیں جو اُون کے کپڑے زیب تن کیے ہوئے تھے اور مسجد خیف میں ستر انبیاء علیہم السلام نے نماز ادا کی.‘‘

اس حدیث کو امام حاکم، طبرانی اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے فرمایا : اس کے رجال ثقہ ہیں۔

14. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : صَلَّٰی فِي الْمَسْجِدِ الْخَيْفِ سَبْعُوْنَ نَبِيًّا مِنْهُمْ مُوْسٰی عليه السلام کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ وَعَلَيْهِ عِبَاءَ تَانِ قِطْوَانِيَّتَانِ وَهُوَ مُحْرَمٌ عَلٰی بَعِيْرٍ مِنْ إِبِلِ شَنُوَّةَ مَخْطُوْمٌ بِخُطَامِ لِيْفٍ لَهُ ضِفْرَانٍ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَبُوْ نُعَيْمٍ وَالْفَاکِهِيُّ. وَقَالَ الْهَيْثَمِيُ : رِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

14 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 11 / 452، الرقم : 12283، وأبو نعیم في حلية الأوليائ، 2 / 10، وابن عدي في الکامل، 6 / 58، والفاکهي في أخبار مکة، 4 / 266، الرقم : 2593، والديلمي في مسند الفردوس، 2 / 392، الرقم : 3740، والهيثمي في مجمع الزوائد، 3 / 221، 297.

’’حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مسجدِ خیف میں ستر انبیاء کرام علیہم السلام نے نماز ادا کی جن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی شامل تھے، گویا میں (اس وقت بھی) ان کی طرف دیکھ رہا ہوں اور ان پر دو قطوانی چادریں تھیں اور وہ حالتِ احرام میں قبیلہ شنوہ کے اُونٹوں میں سے ایک اونٹ پر سوار تھے جس کی نکیل کھجور کی چھال کی تھی جس کی دو رسیاں تھیں۔‘‘

اِس حدیث کو امام طبرانی، ابو نعیم اور فاکہی نے روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے فرمایا : اس کے رجال ثقات ہیں۔

15. عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رضي اﷲ عنهما يَقُوْلُ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : إِنَّ اﷲَ وَکَّلَ بِقَبْرِي مَلَکًا أَعْطَاهُ أَسْمَاعَ الْخَـلَاءِقِ، فَـلَا يُصَلِّي عَلَيَّ أَحَدٌ إِلٰی يَوْمِ الْقِيَامَةِ، إِلَّا بَلَغَنِي بِاسْمِهِ واسْمِ أَبِيْهِ، هٰذَا فُـلَانُ بْنُ فُـلَانٍ قَدْ صَلّٰی عَلَيْکَ.

رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالْبُخَارِيُّ فِي الْکَبِيْرِ، وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ : فِيْهِ ابْنُ الْحِمْيَرِيِّ لَا أَعْرِفُهُ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيْحِ.

وروی أبو الشیخ ابن حَيَّانَ وَلَفْظُهُ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : إِنَّ ِﷲِ تَبَارَکَ وَتعَالٰی مَلَکًا أَعْطَاهُ أَسْمَاعَ الْخَـلَاءِقِ کُلِّهِمْ، فَهُوَ قَاءِمٌ عَلٰی قَبْرِي، إِذَا مُتُّ إِلٰی يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي صَلّٰی عَلَيَّ صَـلَاةً إِلَّا سَمَّاهُ بِاسْمِهِ وَاسْمِ أَبِيْهِ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ، صَلّٰی عَلَيْکَ فُـلَانٌ، فَيُصَلِّي الرَّبُّ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عَلٰی ذَالِکَ الرَّجُلِ بِکُلِّ وَاحِدٍ عَشَرًا.

15 : أخرجه البزار في المسند، 4 / 255، الرقم : 1425، 1426، والبخاري في التاريخ الکبير، 6 / 416، الرقم : 2831، وابن حيان في العظمة، 2 / 762، الرقم : 1، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 162.

’’حضرت عمار بن یاسر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ نے میری قبر پر ایک فرشتہ مقرر کیا ہوا ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کی آوازیں سننے (اور سمجھنے)کی قوت عطاء فرمائی ہے، پس روزِ قیامت تک جو بھی مجھ پر درود پڑھے گا، وہ فرشتہ اس درود پڑھنے والے کا نام اور اس کے والد کا نام مجھے پہنچائے گا، اور عرض کرے گا : یا رسول اﷲ! فلاں بن فلاں نے آپ پر درود بھیجا ہے۔‘‘

اِس حدیث کو امام بزار اور بخاری نے التاریخ الکبیر میں اور منذری نے بھی روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے فرمایا : اِس کی سند میں ابن حمیری راوی کو میں نہیں جانتا، اِس کے علاوہ تمام رجال صحیح حدیث کے رجال ہیں۔

’’ابو شیخ ابن حیان کی روایت کے الفاظ یوں ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک اﷲ تبارک و تعالیٰ کا ایک فرشتہ ہے، جسے اﷲ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کی آواز سننے (اور سمجھنے) کی قوت عطا فرمائی ہے، پس وہ فرشتہ میرے وصال کے بعد میری قبر پر قیامت تک کھڑا رہے گا۔ پس میری امت میں سے جو شخص بھی مجھ پر درود بھیجے گا، وہ فرشتہ اس کا نام اور اس کے باپ کا نام لے گا اور کہے گا : یا محمد! (میرے آقا!) فلاں شخص نے آپ کی خدمت میں درود بھیجا ہے۔ پس اﷲ تعالیٰ اس شخص پر ہر ایک درود کے بدلے میں دس رحمتیں نازل فرمائے گا۔‘‘

16. عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِ الْقَارِءِ أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رضی الله عنه وَهُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ يُعَلِّمُ النَّاسَ التَّشَهُدَ يَقُوْلُ : قُوْلُوْا : اَلتَّحِيَّاتُ ِﷲِ، الزَّاکِيَّاتُ ِﷲِ الطَّیِبَاتُ الصَّلَوَاتُ ِﷲِ، السَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اﷲِ وَبَرَکَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اﷲِ الصَّالِحِيْنَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ.

رَوَاهُ مَالِکٌ وَالشَّافِعِيُّ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ وَالطَّحَاوِيُّ. وَقَالَ الْحَاکِمُ : هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ عَلٰی شَرْطِ مُسْلِمٍ.

وفي رواية : عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما، عَنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم أَنَّهُ قَالَ فِي التَّشَهُدِ : اَلتَّحِيَّاتُ ِﷲِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، اَلسَّـلَامُ عَلَيْکَ أَيُهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اﷲِ ….

رَوَاهُ الدَّارَ قُطْنِيُّ وَمَالِکٌ. وَقَالَ الدَّارَ قُطْنِيُّ : هٰذَا إِسْنَادٌ صَحِيْحٌ.

وفي رواية : عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما قَالَ : کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يُعَلِّمُنَا التَّشَهُدَ : اَلتَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الزَّاکِيَّاتُ ِﷲِ، اَلسَّـلَامُ عَلَيْکَ أَيُهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اﷲِ وَبَرَکَاتُهُ…فذکر الحديث بنحوه.

رَوَاهُ الدَّارَ قُطْنِيُّ وَالْحَاکِمُ : عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اﷲِ رضي اﷲ عنهما. وَقَالَ الدَّارَ قُطْنِيُّ : وَهٰذَا إِسْنَادٌ مُتَّصِلٌ حَسَنٌ. وَقَالَ الْحَاکِمُ : صِحَّتُهُ عَلٰی شَرْطِ مُسْلِمٍ.

وفي رواية : عَنْ عَاءِشَةَ رضي اﷲ عنها، زَوْجِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم کَانَتْ تَقُوْلُ إِذَا تَشَهَدَتْ…فذکره الحديث بنحوه.

رَوَاهُ مَالِکٌ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.

16 : أخرجه مالک في الموطأ، کتاب النداء بالصلاة، باب التشهد في الصلاة، 1 / 90.91، الرقم : 203.206، والشافعي في المسند، 1 / 237، وابن أبي شيبة في المصنف،1 / 261، الرقم : 2992، وعبد الرزاق في المصنف، 2 / 202، الرقم : 3067، 3073، والطحاوي في شرح معاني الآثار،1 / 261، والدار قطني في السنن، 1 / 351، الرقم : 6.9، والحاکم في المستدرک، 1 / 398، 399، الرقم : 978.983، والبيهقي في السنن الکبری، 2 / 142، الرقم : 2655.2667، وابن عبد البر في الاستذکار، 1 / 484.

’’حضرت عبد الرحمن بن عبد القاری سے روایت ہے کہ اُنہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو منبر پر لوگوں کو تشہد سکھاتے ہوئے سنا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یوں کہو : ’’تمام قولی اور فعلی عبادتیں، اور تمام پاکیزہ چیزیں اﷲ تعالیٰ کے لیے ہیں، اور سلامتی ہو آپ پر، اے نبیِ مکرم ! اور اﷲ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی برکات (کا نزول ہو) اور سلامتی ہو ہم پر اور اﷲ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر. میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اﷲ تعالیٰ کے (پیارے) بندے اور اُس کے رسول ہیں۔‘‘

اِس حدیث کو امام مالک، شافعی، عبد الرزاق اور طحاوی نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا : یہ حدیث امام مسلم کی شرائط پر صحیح ہے۔

’’اور ایک روایت میں حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تشہد میں یہ پڑھو : تمام قولی اور فعلی عبادتیں اور تمام پاکیزہ کلمات اﷲ تعالیٰ کے لیے خاص ہیں، اے نبیِ مکّرم! آپ پر سلامتی اور اﷲ تعالیٰ کی رحمت ہو۔۔۔‘‘

اِس حدیث کو امام دار قطنی اور مالک نے روایت کیا ہے۔

’’اور ایک روایت میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں یوں تشہد سکھایا کرتے تھے. تمام قولی فعلی عبادات اور تمام عمدہ کلمات اﷲ تعالیٰ کے لیے خاص ہیں۔ اے نبیِ محتشم! آپ پر سلامتی، اور اﷲ تعالیٰ کی رحمت اور برکات ہوں۔۔۔الحدیث.‘‘

اِس حدیث کو امام دارقطنی اور حاکم نے حضرت جابر بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنہما سے روایت کیا ہے۔ امام دار قطنی نے فرمایا : یہ سند متصل حسن ہے۔ امام حاکم نے بھی فرمایا : یہ حدیث امام مسلم کی شرائط پر صحیح ہے۔

’’اور ایک روایت میں ہے کہ اُمّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہما تشہد میں مذکورہ بالا دعا ہی پڑھا کرتی تھیں۔‘‘

اِس حدیث کو امام مالک اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔

17. عَنْ عُبَيْدِ اﷲِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيْهِ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : يَا بُرَيْدَةُ، إِذَا جَلَسْتَ فِي صَـلَاتِکَ، فَـلَا تَتْرُکَنَّ التَّشَهُدَ وَالصَّلَاةَ عَلَيَّ فَإِنَّهَا زَکَاةُ الصَّلَاةِ، وَسَلِّمْ عَلٰی جَمِيْعِ أَنْبِيَاءِ اﷲِ وَرُسُلِهِ، وَسَلِّمْ عَلٰی عِبَادِ اﷲِ الصَّالِحِيْنَ. رَوَاهُ الدَّارَ قُطْنِيُّ وَالدَّيْلَمِيُّ.

17 : أخرجه الدار قطني في السنن، 1 / 355، الرقم : 3، والديلمي في مسند الفردوس، 5 / 392، الرقم : 8527، والهيثمي في مجمع الزوائد، 2 / 132.

’’حضرت عبید اﷲ بن بریدہ اپنے والد حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے بریدہ! جب تم اپنی نماز پڑھنے بیٹھو تو تشہد اور مجھ پر درود بھیجنا کبھی ترک نہ کرنا، وہ نماز کی زکاۃ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے تمام انبیاء اور رسولوں پر اور اُس کے نیک بندوں پر بھی سلام بھیجا کرو.‘‘

اِس حدیث کو امام دار قطنی اور دیلمی نے روایت کیا ہے۔

18. عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ أَوْ أَبِي أُسَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ رضی الله عنه يَقُوْلُ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِصلی الله عليه وآله وسلم : إِذَا دَخَلَ أَحَدُکُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَی النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم ثُمَّ لِيَقُلْ : اَللّٰهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِکَ، فَإِذَا خَرَجَ فَلْيَقُلْ : اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ ماجه وَالدَّارِمِيُّ.

وَقَالَ الرَّازِيُّ : قَالَ أَبُوْ زُرْعَةَ : عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ وَأَبِي أُسَيْدٍ کِـلَاهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم أَصَحُّ. وَقَالَ الْمُنَاوِيُّ : إِذَا دَخَلَ أَحَدُکُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُسَلِّمْ نُدْبًا مُؤَکَّدًا أَوْ وُجُوْبًا عَلَی النَّبِيّ صلی الله عليه وآله وسلم لِأَنَّ الْمَسَاجِدَ مَحَلُّ الذِّکْرِ، وَالسَّـلَامُ عَلَی النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم مِنْهُ.

18 : أخرجه أبو داود في السنن، کتاب الصلاة، باب فيما يقوله الرجل عند دخوله المسجد، 1 / 126، الرقم : 465، وابن ماجه في السنن، کتاب المساجد والجماعات، باب الدعاء عند دخول المسجد، 1 / 254، الرقم : 772، والدارمي في السنن،1 / 377، الرقم : 1394، وابن حبان في الصحيح، 5 / 397، الرقم : 2048، والرازي في علل الحديث، 1 / 178، الرقم : 509.

’’حضرت ابو حمید الساعدی یا ابو اُسید الانصاری رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو اُسے چاہیے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام بھیجے پھر کہے : اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے اور جب مسجد سے باہر نکلے تو کہے : اے اﷲ! میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں۔‘‘

اِس حدیث کو امام ابو داود، ابن ماجہ اور دارمی نے روایت کیا ہے۔ امام ابو حاتم رازی نے بیان کیا کہ امام ابو زُرعہ نے فرمایا : حضرت ابو حمید اور ابو اسید رضی اﷲ عنہما دونوں سے مروی روایات صحیح تر ہوتی ہیں۔ اور امام مناوی نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو اسے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں سلام کو محبوب، ضروری اور لازم سمجھتے ہوئے عرض کرنا چاہیے کیوں کہ مساجد ذکر کرنے کی جگہ ہیں اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں سلام عرض کرنا بھی ذکر الٰہی ہی ہے۔

19. عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ رضي اﷲ عنهما عَنْ جَدَّتِهَا فَاطِمَةَ الْکُبْرٰی رضي اﷲ عنها قَالَتْ : کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ صَلّٰی عَلٰی مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ وَقَالَ : رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوْبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِکَ وَإِذَا خَرَجَ صَلّٰی عَلٰی مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ وَقَالَ : رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوْبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِکَ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ.

وفي رواية : يَقُوْلُ : بِسْمِ اﷲِ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اﷲِ … فذکر الحديث نحوه. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.

وفي رواية : قَالَتْ : کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ صَلّٰی عَلٰی مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ…وَإِذَا خَرَجَ صَلّٰی عَلٰی مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ … فذکر الحديث بنحوه. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ يَعْلٰی وَالطَّبَرَانِيُّ.

وفي رواية : قَالَتْ : قَالَ : السَّـلَامُ عَلَيْکَ أَيُهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اﷲِ وَبَرَکَاتُهُ، اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوْبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رِزْقِکَ.

رَوَاهُ أَبُوْ يَعْلٰی فِي الْمُعْجَمِ.

19 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب الصلاة، باب ما جاء ما يقول عند دخول المسجد، 2 / 127، الرقم : 314، وابن ماجه في السنن، کتاب المساجد والجماعات، باب الدعاء عند دخول المسجد، 1 / 253، الرقم : 771، وابن أبي شيبة في المصنف، 1 / 298، الرقم : 3412، وأيضًا، 6 / 96، الرقم : 29764، وعبد الرزاق في المصنف، 1 / 425، الرقم : 1664، وأحمد بن حنبل في المسند، 6 / 282.283، الرقم : 26459.26462، وأبو يعلی في المسند، 12 / 121، 199، الرقم : 6754، 6822، وأيضًا في المعجم، 1 / 54، الرقم : 24، والطبراني في المعجم الکبير، 22 / 424، الرقم : 1044، وأيضًا في الدعائ، 1 / 150، الرقم : 423.426.

’’حضرت فاطمہ بنت حسین رضی اﷲ عنہما اپنی دادی جان سیدہ کائنات فاطمہ الکبری سلام اﷲ علیہا سے روایت کرتی ہیں، انہوں نے فرمایا : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوتے وقت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر صلاۃ و سلام پڑھتے اور اُس کے بعد یہ دعا مانگتے : اے ربّ! میرے لیے میرے (یعنی امت کے) گناہ بخش دے اور میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے، اور باہر تشریف لاتے وقت بھی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر صلاۃ و سلام پڑھتے اور پھر یوں دعا مانگتے : اے میرے ربّ! میرے لئے میرے (امت کے) گناہ بخش دے اور میرے لیے اپنے فضل کے دروازے کھول دے۔‘‘

اِس حدیث کو امام ترمذی، اَحمد اور عبد الرزاق نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا : حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہا کی حدیث حسن ہے۔

’’اور ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے : اﷲ کے نام سے شروع کرتا ہوں اور اﷲ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بھی سلام ہو اس کے بعد اسی طرح حدیث بیان کی.‘‘ اِسے امام ابن ماجہ اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔

’’ایک اور روایت میں سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مسجد میں داخل ہوتے تو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام بھیجتے ۔۔۔ اور اسی طرح مسجد سے نکلتے وقت بھی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام بھیجتے۔۔۔اس کے بعد سابقہ حدیث کی دعا بیان کی.‘‘ اِسے امام احمد، ابو یعلی اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔

’’اور ایک روایت میں ہے کہ سیدہ کائنات رضی اﷲ عنہا نے بیان فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوں فرماتے : اے اﷲ کے نبی! آپ پر سلامتی ہو. اور اﷲ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں۔‘‘ اِس حدیث کو امام ابو یعلی نے المعجم میں روایت کیا ہے۔

20. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِصلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : إِذَا دَخَلَ أَحَدُکُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَی النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم وَلْيَقُلْ : اَللّٰهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِکَ، وَإِذَا خَرَجَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَی النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم وَلْيَقُلْ : اَللّٰهُمَّ اعْصِمْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ. وفي رواية : وَلْيَقُلْ : اَللّٰهُمَّ بَاعِدْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ.

رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَالنَّسَاءِيُّ وَالْبُخَارِيُّ فِي الْکَبِيْرِ. وَقَالَ الْحَاکِمُ : هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ عَلٰی شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ. وَقَالَ الْکِنَانِيُّ : هٰذَا إِسْنَادٌ صَحِيْحٌ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

20 : أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب المساجد والجماعات، باب الدعاء عند دخول المسجد،1 / 254، الرقم : 773، والنسائي في السنن الکبری، 6 / 27، الرقم : 9918، والبخاري في التاريخ الکبير، 1 / 159، الرقم : 470، والحاکم في المستدرک، 1 / 325، الرقم : 747، والکناني في مصباح الزجاجة، 1 / 97، الرقم : 293.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو اسے چاہیے کہ وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں سلام عرض کرے اور (اس کے بعد) یہ کہے : اے اﷲ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے. اور جب مسجد سے باہر نکلے تو تب بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں سلام عرض کرے اور (اس کے بعد) کہے : اے میرے اﷲ! مجھے شیطان مردود سے بچا۔‘‘

’’اور ایک روایت کے مطابق فرمایا : اُسے چاہیے کہ وہ (سلام عرض کرنے کے بعد) کہے : اے اﷲ! مجھے شیطان مردود سے دور رکھ۔‘‘

اِس حدیث کو امام ابن ماجہ، نسائی اور بخاری نے التاریخ الکبیر میں روایت کیا ہے۔ اور امام حاکم نے فرمایا : یہ حدیث امام بخاری اور مسلم کی شرائط پر صحیح ہے۔ امام کنانی نے فرمایا : اِس حدیث کی سند صحیح اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔

21. عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ رضی الله عنه أَنَّ عَبْدَ اﷲِ بْنَ سَـلَامٍ رضی الله عنه کَانَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ سَلَّمَ عَلَی النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم وَقَالَ : اَللّٰهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِکَ وَإِذَا خَرَجَ سَلَّمَ عَلَی النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم وَتَعَوَّذَ مِنَ الشَّيْطَانِ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.

22. وفي رواية : عَنْ عَلْقَمَةَ رضی الله عنه أَنَّهُ کَانَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ قَالَ : اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اﷲِ وَبَرَکَاتُهُ صَلَّی اﷲُ وَمَـلَاءِکَتُهُ عَلٰی مُحَمَّدٍ صلی الله عليه وآله وسلم . رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.

23. وفي رواية : عَنْ إِبْرَاهِيْمَ رضی الله عنه کَانَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ قَالَ : بِسْمِ اﷲِ وَالصَّـلَاةُ عَلٰی رَسُوْلِ اﷲِ وَإِذَا دَخَلَ بَيْتًا لَيْسَ فِيْهِ أَحَدٌ قَالَ : اَلسَّلَامُ عَلَيْکُمْ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.

21-23 : أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف، 1 / 298، الرقم : 3416-3418.

’’حضرت محمد بن عبد الرحمن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ جب کبھی مسجد میں داخل ہوتے تھے، تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام بھیجتے اور پھر کہتے : ’’اَللّٰهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِکَ‘‘ (اے اللہ! مجھ پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دے) اور جب مسجد سے باہر نکلتے تو تب بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام بھیجتے اور پھر شیطان مردود سے پناہ مانگتے (ان کا یہ عمل حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال مبارک کے بعد ہمیشہ ہوا کرتا تھا).‘‘

اِس حدیث کو امام ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔

’’اور ایک روایت میں حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ مسجد میں داخل ہوتے تھے، تو کہتے تھے : ’’اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اﷲِ وَبَرَکَاتُهُ صَلَّی اﷲُ وَمَـلَاءِکَتُهُ عَلٰی مُحَمَّدٍ صلی الله عليه وآله وسلم .‘‘ (اے نبی محتشم! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اور برکات ہوں، (ہمیشہ) اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت اور اس کے فرشتوں کی طرف سے بھی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و برکات ہوں۔‘‘

اِس حدیث کو امام ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔

’’اور ایک روایت میں حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب وہ مسجد میں داخل ہوتے تو کہتے : ’’بِسْمِ اﷲِ وَالصَّـلَاةُ عَلٰی رَسُوْلِ اﷲِ‘‘ (اللہ تعالیٰ کے نام اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے ساتھ (میں اس مسجد میں داخل ہوتا ہوں). اور جب کسی ایسے گھر میں داخل ہوتے جس میں کوئی بھی نہ ہوتا تو کہتے : ’’اَلسَّلَامُ عَلَيْکُمْ‘‘ (آپ پر سلامتی ہو).‘‘

اِس حدیث کو امام ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔

24. عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ سَعْدٍ رضی الله عنه قَالَ : کُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما فَخَدِرَتْ رِجْلُهُ فَقُلْتُ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، مَا لِرِجْلِکَ؟ قَالَ : اجْتَمَعَ عَصَبُهَا مِنْ هَاهُنَا. فَقُلْتُ : اُدْعُ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَيْکَ. فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ، فَانْبَسَطَتْ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الْأَدَبِ وَابْنُ السُّنِّيِّ وَاللَّفْظُ لَهُ.

24-27 : أخرجه البخاري في الأدب المفرد / 335، الرقم : 964، وابن الجعد في المسند، 1 / 369، الرقم : 2539، وابن سعد في الطبقات الکبری، 4 / 154، وابن السني في عمل اليوم والليلة / 141.142، الرقم : 168.170،172.

’’حضرت عبد الرحمن بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما کے ساتھ تھے کہ ان کا پاؤں سن ہوگیا تو میں نے ان سے عرض کیا : اے ابو عبد الرحمن! آپ کے پاؤں کو کیا ہوا ہے؟ اُنہوں نے فرمایا : یہاں سے میرے پٹھے کھینچ گئے ہیں تو میں نے عرض کیا : تمام لوگوں میں سے جو ہستی آپ کو سب سے زیادہ محبوب ہو اس کا ذکر کریں، تو انہوں نے یا محمد (صلی اﷲ علیک وسلم) کا نعرہ بلند کیا (راوی بیان کرتے ہیں کہ) اسی وقت ان کے اعصاب کھل گئے۔‘‘

اِس حدیث کو امام بخاری نے الآدب المفرد میں اور ابن السنی نے مذکورہ الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔

25. وفي رواية : عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ رضی الله عنه قَالَ : کُنْتُ أَمْشِي مَعْ ابْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما فَخَدِرَتْ رِجْلُهُ، فَجَلَسَ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : اُذْکُرْ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَيْکَ. فَقَالَ : يَا مُحَمَّدَاه، فَقَامَ فَمَشٰی. رَوَاهُ ابْنُ السُّنِّيِّ.

’’ایک روایت میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما کے ساتھ چل رہا تھا کہ اُن کی ٹانگ سن ہو گئی اور وہ بیٹھ گئے، پھر اُنہیں کسی نے کہا کہ لوگوں میں سے جو آپ کو سب سے زیادہ محبوب ہے، اس کا ذکر کرو. تو انہوں نے کہا : یا محمداہ! (اے محمد صلی اﷲ علیک وسلم!) اُن کا یہ کہنا تھا کہ وہ (ٹھیک ہو گئے اور) اُٹھ کر چلنے لگ گئے۔‘‘

اِس حدیث کو امام ابن السنی نے روایت کیا ہے۔

26. وفي رواية : خَدِرَتْ رِجْلُ رَجُلٍ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما : اُذْکُرْ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَيْکَ. فَقَالَ : مُحَّمَدٌ صلی الله عليه وآله وسلم، فَذَهَبَ خَدِرُهُ. رَوَاهُ ابْنُ السُّنِّيِّ.

27. وفي رواية : عَنِ الْهَيْثَمِ بْنِ حَنَشٍ قَالَ : کُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما فَخَدِرَتْ رِجْلُهُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : اُذْکُرْ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَيْکَ. فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ صلی اﷲ عليک وسلم، فَقَالَ : فَقَامَ فَکَأَنَّمَا نُشِّطَ مِنْ عِقَالٍ. رَوَاهُ ابْنُ السُّنِّيِّ.

’’ایک روایت میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اﷲ عنہما کے پاس بیٹھے کسی شخص کی ٹانگ سن ہو گئی تو اُنہوں نے اس شخص سے فرمایا : لوگوں میں سے جو تمہیں سب سے زیادہ محبوب ہے، اس کا ذکر کرو، تو اُس شخص نے یا محمد (صلی اﷲ علیک وسلم) کا نعرہ لگایا تو اُسی وقت اُس کے پاؤں کا سن ہونا جاتا رہا۔‘‘

اِس حدیث کو امام ابن السنی نے روایت کیا ہے۔

’’اور ایک روایت میں حضرت ہیثم بن حنش رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اُنہوں نے بیان کیا کہ ہم حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما کے پاس تھے کہ ایک آدمی کی ٹانگ سن ہوگئی، تو اس سے کسی شخص نے کہا : لوگوں میں سے جو شخص تجھے سب سے زیادہ محبوب ہے، اس کا ذکر کر، تو اس نے کہا : یا محمد صلی اﷲ علیک وسلم. راوی بیان کرتے ہیں : پس وہ شخص یوں اُٹھ کھڑا ہوا گویا باندھی ہوئی رسی سے آزاد ہو کر مستعد ہو گیا ہو.‘‘ اِس حدیث کو امام ابن السنی نے روایت کیا ہے۔

28. عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ رضی الله عنه عَنْ عَمِّهِ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ رضی الله عنه أَنَّ رَجُـلًا کَانَ يَخْتَلِفُ إِلٰی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رضی الله عنه فِي حَاجَةٍ لَهُ، فَکَانَ عُثْمَانُ لَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِ، وَلَا يَنْظُرُ فِي حَاجَتِهِ، فَلَقِيَ ابْنَ حُنَيْفٍ، فَشَکٰی ذَالِکَ إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ : اِئْتِ الْمِيْضَأَةَ فَتَوَضَّأْ، ثُمَّ ائْتِ الْمَسْجِدَ، فَصَلِّ فِيْهِ رَکْعَتَيْنِ، ثُمَّ قُلْ : اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْکَ بِنَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ، نَبِيِّ الرَّحْمَةِ، يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي أَتَوَجَّهُ بِکَ إِلٰی رَبِّي، فَتَقْضِي لِي حَاجَتِي، وَتَذَکَّرْ حَاجَتَکَ، وَرُحْ حَتّٰی أَرُوْحَ مَعَکَ، فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ فَصَنَعَ مَا قَالَ لَهُ، ثُمَّ أَتٰی بَابَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ص، فَجَاءَ الْبَوَّابُ حَتّٰی أَخَذَ بِيَدِهِ، فَأَدْخَلَهُ عَلٰی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ص، فَأَجْلَسَهُ مَعَهُ عَلَی الطُّنْفُسَةِ، فَقَالَ : حَاجَتُکَ؟ فَذَکَرَ حَاجَتَهُ وَقَضَاهَا لَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ : مَا ذَکَرْتَ حَاجَتَکَ، حَتّٰی کَانَ السَّاعَةَ وَقَالَ : مَا کَانَتْ لَکَ مِنْ حَاجَةٍ فَاذْکُرْهَا، ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ، فَلَقِيَ عُثْمَانَ بْنَ حُنَيْفٍ، فَقَالَ لَهُ : جَزَاکَ اﷲُ خَيْرًا، مَا کَانَ يَنْظُرُ فِي حَاجَتِي، وَلَا يَلْتَفِتُ إِلَيَّ حَتّٰی کَلَّمْتَهُ فِيَّ، فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ : وَاﷲِ مَا کَلَّمْتُهُ، وَلٰـکِنِّي شَهِدْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم، وَأَتَاهُ ضَرِيْرٌ، فَشَکٰی إِلَيْهِ ذِهَابَ بَصَرِهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : فَتَصْبِرُ. فَقَالَ : يَا رَسُوْلَ اﷲِ، لَيْسَ لِي قَاءِدٌ وَقَدْ شَقَّ عَلَيَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : اِئْتِ الْمِيْضَأَةَ، فَتَوَضَّأْ، ثُمَّ صَلِّ رَکْعَتَيْنِ، ثُمَّ اُدْعُ بِهٰذِهِ الدَّعَوَاتِ. قَالَ ابْنُ حُنَيْفٍ : فَوَاﷲِ، مَا تَفَرَّقْنَا، وَطَالَ بِنَا الْحَدِيْثُ، حَتّٰی دَخَلَ عَلَيْنَا الرَّجُلُ کَأَنَّهُ لَمْ يَکُنْ بِهِ ضَرٌّ قَطُّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ. وَقَالَ الْمُنْذِرِيُّ : وَالْحَدِيْثُ صَحِيْحٌ.

28 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 9 / 30، الرقم : 8311، وأيضًا في المعجم الصغير، 1 / 183، الرقم : 508، وأيضًا في الدعائ / 320، الرقم : 1050، والبيهقي في دلائل النبوة، 6 / 167، والمنذري في الترغيب والترهيب،1 / 32، 274، الرقم : 1018، والسبکي في شفاء السقام / 125، والهيثمي في مجمع الزوائد، 2 / 279، والسيوطي في الخصائص الکبری، 2 / 201.

’’حضرت ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ اپنے چچا حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس کسی ضرورت سے آتا رہا لیکن حضرت عثمان صاُس کی طرف متوجہ نہ ہوتے تھے اور اس کی حاجت پر غور نہ فرماتے تھے۔ وہ شخص (عثمان) بن حنیف رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے اپنے مسئلہ کی بابت شکایت کی۔ عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا : لوٹا لاؤ اور وضو کرو، اس کے بعد مسجد میں آ کر دو رکعت نماز پڑھو، پھر (یہ دعا) پڑھو : اے اﷲ! میں آپ سے سوال کرتا ہوں اور آپ کی طرف اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نبی رحمت کے وسیلے سے متوجہ ہوتا ہوں، یا محمد! میں آپ کے وسیلے سے اپنے ربّ کی طرف متوجہ ہوتا ہوں کہ وہ میری یہ حاجت پوری فرما دے۔ اور پھر اپنی حاجت کو یاد کرو۔ (اور یہ دعا پڑھ کر حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ) یہاں تک کہ میں بھی تمہارے ساتھ آ جاؤں۔ پس وہ آدمی گیا اور اس نے وہی کیا جو اسے کہا گیا تھا۔ پھر وہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دروازے پر آیا تو دربان نے اس کا ہاتھ تھاما اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس لے گیا۔ حضرت عثمان صنے اسے اپنے پاس چٹائی پر بٹھایا اور پوچھا : تیری کیا حاجت ہے؟ تو اس نے اپنی حاجت بیان کی اور انہوں نے اسے پورا کر دیا۔ پھر اُنہوں نے اُس سے کہا : تو نے اپنی اس حاجت کے بارے میں آج تک بتایا کیوں نہیں؟ آئندہ تمہاری جو بھی ضرورت ہو مجھے بیان کرو۔ پھر وہ آدمی آپ رضی اللہ عنہ کے پاس سے چلا گیا اور حضرت عثمان بن حنیف سے ملا اور ان سے کہا : اﷲ تعالیٰ آپ کو جزاے خیر عطا فرمائے، اگر آپ میرے مسئلہ کے بارے میں حضرت عثمان سے بات نہ کرتے تو وہ میری حاجت پر غور کرتے نہ میری طرف متوجہ ہوتے۔ حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ نے کہا : بخدا میں نے ان سے تمہارے بارے میں بات نہیں کی۔ بلکہ میں نے اﷲ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ ایک نابینا آدمی آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنی بینائی ختم ہو جانے کا شکوہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا : تو صبر کر. اس نے عرض کیا : یا رسول اﷲ! میرا کوئی خادم نہیں اور مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : لوٹا لے کر آؤ اور وضو کرو (اور اسے یہی عمل تلقین فرمایا)، حضرت ابن حنیف رضی اللہ عنہ نے کہا : خدا کی قسم! ہم لوگ نہ تو ابھی مجلس سے دور ہوئے اور نہ ہی ہمارے درمیان لمبی گفتگو ہوئی، حتی کہ وہ آدمی ہمارے پاس (اس حالت میں) آیا کہ گویا اُسے کبھی اندھا پن تھا ہی نہیں۔‘‘

اِس حدیث کو امام طبرانی اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔ امام منذری نے فرمایا : یہ حدیث صحیح ہے۔

29. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه … وَحَمَلَ خَالِدُ بْنُ وَلِيْدٍ رضی الله عنه حَتّٰی جَاوَزَهُمْ وَسَارَ لِجِبَالِ مُسَيْلَمَةَ وَجَعَلَ يَتَرَقَّبُ أَنْ يَصِلَ إِلَيْهِ فَيَقْتُلَهُ ثُمَّ رَجَعَ ثُمَّ وَقَفَ بَيْنَ الصَّفَّيْنِ وَدَعَا الْبِرَازَ. وَقاَلَ : أَنَا ابْنُ الْوَلِيْدِ الْعُوْدِ، أَنَا ابْنُ عَامِرٍ وَزَيْدٍ. ثُمَّ نَادٰی بِشِعَارِ الْمُسْلِمِيْنَ، وَکَانَ شِعَارُهُم يُوْمَءِذٍ ’’يَا مُحَمَّدَاه‘‘. رَوَاهُ الطَّبَرِيُّ وَابْنُ کَثِيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ.

29 : أخرجه الطبري في تاريخ الأمم والملوک، 2 / 281، وابن کثير في البداية والنهاية، 6 / 324.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (طویل روایت میں) بیان کرتے ہیں کہ ’’(جنگ یمامہ کے موقع پر حضرت حذیفہص کی شہادت کے بعد) حضرت خالد بن ولیدص نے (اسلامی لشکر کا) عَلم سنبھالا اور لشکر سے گزر کر مسیلمہ کذاب کے مستقر پہاڑ کی طرف چل دیئے اور وہ اِس انتظار میں تھے کہ مسیلمہ تک پہنچ کر اُسے قتل کر دیں. پھر وہ لوٹ آئے اور دونوں لشکروں کے درمیان کھڑے ہو کر دعوتِ مبارزت دی اور بلند آواز سے پکارا : میں ولید کا بیٹا ہوں، میں عامر و زید کا بیٹا ہوں. پھر اُنہوں نے مسلمانوں کا مروجہ نعرہ بلند کیا اور اُن دنوں اُن کا جنگی نعرہ ’’یا محمداہ صلی اﷲ علیک وسلم‘‘ ( یا محمد! مدد فرمائیے) تھا۔‘‘

اِس حدیث کو امام طبری اور ابن کثیر نے مذکورہ الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔

30. عَنْ مَالِکٍ الدَّارِ رضی الله عنه قَالَ : أَصَابَ النَّاسَ قَحْطٌ فِي زَمَنِ عُمَرَ ص، فَجَاءَ رَجُلٌ إِلٰی قَبْرِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم فَقَالَ : يَا رَسُوْلَ اﷲِ، اسْتَسْقِ لِأُمَّتِکَ فَإِنَّهُمْ قَدْ هَلَکُوْا، فَأَتَی الرَّجُلَ فِي الْمَنَامِ فَقِيْلَ لَهُ : ائْتِ عُمَرَ فَأَقْرِئْ هُ السَّلَامَ، وَأَخْبِرْهُ أَنَّکُمْ مَسْقِيُوْنَ وَقُلْ لَهُ : عَلَيْکَ الْکَيْسُ، عَلَيْکَ الْکَيْسُ، فَأَتَی عُمَرَ، فَأَخْبَرَهُ، فَبَکَی عُمَرُ، ثُمَّ قَالَ : يَا رَبِّ، لَا آلُوْ إِلَّا مَا عَجَزْتُ عَنْهُ.

رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّلَاءِلِ. وَقَالَ ابْنُ کَثِيْرٍ : إِسْنَادُهُ صَحِيْحٌ. وَقَالَ الْعَسْقَـلَانِيُّ : رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ بِإِسْنَادٍ صَحِيْحٍ.

30 : أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 356، الرقم : 32002، والبيهقي في دلائل النبوة، 7 / 47، وابن عبد البر في الاستيعاب، 3 / 1149، والسبکي في شفاء السقام / 130، والهندي في کنز العمال، 8 / 431، الرقم : 23535، وابن تيمية في اقتضاء الصراط المستقيم / 373، وابن کثير في البداية والنهاية، 5 / 167، والعسقلاني في الإصابة، 3 / 484.

’’حضرت مالک دار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں لوگ قحط سالی میں مبتلا ہو گئے تو ایک صحابی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر اطہر پر حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اﷲ! آپ (اﷲ تعالیٰ سے) اپنی اُمت کے لیے سیرابی کی دعا فرمائیں کیوں کہ وہ (قحط سالی کے باعث) تباہ ہو گئی ہے تو خواب میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس صحابی کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : عمر کے پاس جاؤ اسے میرا سلام کہو اور اسے بتاؤ کہ تم سیراب کیے جاؤ گے اور عمر سے (یہ بھی) کہہ دو کہ (دشمن تمہاری جان لینے کے درپے ہیں ان سے) ہوشیار رہو، ہوشیار رہو. پھر وہ صحابی حضرت عمرص کے پاس آئے اور انہیں خبر دی تو حضرت عمرص رو پڑے اور کہا : اے اﷲ! میں کوتاہی نہیں کرتا مگر یہ کہ کوئی کام میرے بس میں نہ رہے۔‘‘

اِس حدیث کو امام ابن ابی شیبہ نے اور بیہقی نے دلائل النبوۃ میں روایت کیا ہے۔ امام ابن کثیر نے فرمایا : اِس کی اسناد صحیح ہے۔امام عسقلانی نے بھی فرمایا : امام ابن ابی شیبہ نے اسے اسنادِ صحیح کے ساتھ روایت کیا ہے۔

31. عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي صَالِحٍ قَالَ : أَقْبَلَ مَرْوَانُ يَوْمًا فَوَجَدَ رَجُـلًا وَاضِعًا وَجْهَهُ عَلٰی الْقَبْرِ، فَقَالَ : أَتَدْرِي مَا تَصْنَعُ؟ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ فَإِذَا هُوَ أَبُوْ أَيُوْبَ رضی الله عنه فَقَالَ : نَعَمْ، جِئْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم وَلَمْ آتِ الْحَجَرَ (وفي رواية : وَلَا الْخَدَرَ) سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : لَا تَبْکُوْا عَلٰی الدِّيْنِ إِذَا وَلِيَهُ أَهْلُهُ وَلٰـکِنِ ابْکُوْا عَلَيْهِ إِذَا وَلِيَهُ غَيْرُ أَهْلِهِ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَقَالَ الْحَاکِمُ : هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.

31 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 5 / 422، الرقم : 23632، والحاکم في المستدرک، 4 / 560، الرقم : 8571، والطبراني في المعجم الکبير، 4 / 158، الرقم : 3999، وأيضًا في المعجم الأوسط،1 / 94، الرقم : 284، وأيضًا، 9 / 144، الرقم : 9366، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 57 / 249، 250، والسبکي في شفاء السقام / 113، والهيثمي في مجمع الزوائد، 5 / 245، والهندي في کنز العمال، 6 / 88، الرقم : 14967.

’’حضرت داود بن ابی صالح رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک روز (خلیفہ وقت) مروان آیا اور اس نے دیکھا کہ ایک آدمی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ انور پر اپنا چہرہ رکھے ہوئے کھڑا ہے، تو اس آدمی سے کہا : کیا تو جانتا ہے کہ کیا کررہا ہے؟ جب اُس شخص نے مروان کی طرف رُخ کیا تو وہ (صحابی رسول) حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ تھے، اُنہوں نے (جواب میں) فرمایا : ہاں (میں جانتا ہوں کہ) میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوا ہوں، کسی پتھر کے پاس نہیں آیا۔ (ایک روایت کے الفاظ ہیں : میں کسی بے حس اور بے جان شے کے پاس نہیں آیا۔) میں نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے : دین پر مت رؤو جب اس کا ولی اس کا اہل ہو، ہاں دین پر اس وقت رؤو جب اس کا ولی نا اہل ہو.‘‘

اِس حدیث کو امام اَحمد اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا : یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔

32. عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُوْنٍ الْأَوْدِيِّ رضی الله عنه قَالَ : رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رضی الله عنه قَالَ : يَا عَبْدَ اﷲِ بْنَ عُمَرَ، اِذْهَبْ إِلٰی أُمِّ الْمُؤْمِنِيْنَ عَاءِشَةَ رضي اﷲ عنها فَقُلْ : يَقْرَأُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَيْکِ السَّـلَامَ، ثُمَّ سَلْهَا أَنْ أُدْفَنَ مَعَ صَاحِبَيَّ قَالَتْ : کُنْتُ أُرِيْدُهُ لِنَفْسِي فَـلَأُوْثِرَنَّهُ الْيَوْمَ عَلٰی نَفْسِي. فَلَمَّا أَقْبَلَ قَالَ لَهُ : مَا لَدَيْکَ؟ قَالَ : أَذِنَتْ لَکَ يَا أَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ، قَالَ : مَا کَانَ شَيءٌ أَهَمَّ إِلَيَّ مِنْ ذَالِکَ الْمَضْجَعِ، فَإِذَا قُبِضْتُ فَاحْمِلُوْنِي ثُمَّ سَلِّمُوْا، ثُمَّ قُلْ : يَسْتَأْذِنُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ. فَإِنْ أَذِنَتْ لِي فَادْفِنُوْنِي وَإِلَّا فَرُدُّوْنِي إِلٰی مَقَابِرِ الْمُسْلِمِيْنَ … الحديث. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.

32 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب الجنائز، باب ما جاء في قبر النبي صلی الله عليه وآله وسلم وأبي بکر وعمر، 1 / 469، الرقم : 1328، وأيضًا في کتاب المناقب، باب قصة البيعة والاتفاق علی عثمان بن عفان ص، 3 / 1353.1355، الرقم : 3497، ونحوه ابن أبي شيبة في المصنف، 3 / 34، الرقم : 11858، وأيضًا، 7 / 435. 436، الرقم : 37059، 37074.

’’حضرت عمرو بن میمون اَودی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے بیان کیا : میں نے دیکھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (بوقتِ وصال اپنے صاحبزادے سے) فرمایا : اے عبد اﷲ بن عمر! اُمّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کے پاس جاو اور عرض کرو کہ عمر بن خطاب آپ کو سلام کہتا ہے اور عرض کرتا ہے کہ مجھے میرے دونوں رفقاء کے ساتھ (روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں) دفن ہونے کی اجازت دی جائے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما نے جب اُمّ المومنین حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کی خدمت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی یہ درخواست پیش کی تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا : وہ جگہ میں اپنے لیے رکھنا چاہتی تھی لیکن آج میں انہیں (یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو) اپنی ذات پر ترجیح دیتی ہوں۔ جب حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما واپس گئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت فرمایا : کیا خبر لائے ہو؟ انہوں نے عرض کیا : اے امیر المومنین! اُمّ المومنین نے آپ کے لیے اجازت دے دی ہے، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس (متبرک و مقدس) مقام سے زیادہ میرے لیے (بطور آخری آرام گاہ) کوئی جگہ اہم نہیں تھی۔ سو جب میرا وصال ہو جائے تو مجھے اٹھا کر وہاں لے جانا اور سلام عرض کرنا۔ پھر عرض کرنا (آقا!) عمر بن خطاب اجازت چاہتا ہے۔ اگر مجھے اجازت مل جائے تو وہاں دفن کر دینا ورنہ مجھے عام مسلمانوں کے قبرستان میں لے جا کر دفن کر دینا۔‘‘ اِس حدیث کو امام بخاری اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔

33. عَنْ عَاءِشَةَ رضي اﷲ عنها قَالَتْ : کُنْتُ أَدْخُلُ بَيْتِي الَّذِي دُفِنَ فِيْهِ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم وَأَبِي فَأَضَعُ ثَوْبِي فَأَقُوْلُ : إِنَّمَا هُوَ زَوْجِي وَأَبِي، فَلَمَّا دُفِنَ عُمَرُ مَعَهُمْ فَوَاﷲِ، مَا دَخَلْتُ إِلَّا وَأَنَا مَشْدُوْدَةٌ عَلَيَّ ثِيَابِي حَيَائً مِنْ عُمَرَ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْحَاکِمُ. وَقَالَ الْحَاکِمُ : هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ عَلٰی شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ. وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ : رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيْحِ. وَقَالَ الزَّرْکَشِيُّ : صَحِيْحٌ عَلٰی شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ.

33 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 6 / 202، الرقم : 25701، والحاکم في المستدرک، 3 / 63، الرقم : 4402، وأيضًا، 4 / 8، الرقم : 6721، والزرکشي في الإجابة لما استدرکت عائشة / 68، الرقم : 68، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8 / 26، وأيضًا، 9 / 37.

’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب میں اُس حجرہ مبارک میں داخل ہوتی جہاں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور میرے والد (حضرت ابو بکر صدیق ص) مدفون ہیں تو میں پردے کا کپڑا اُتار دیتی تھی اور کہتی تھی : بے شک وہاں میرے خاوند اور میرے والد ہیں (جن سے پردہ ضروری نہیں ہوتا) لیکن جب وہاں اُن کے ساتھ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی مدفون ہو گئے تو میں وہاں حضرت عمر سے حیاء کی خاطر مکمل حجاب میں داخل ہوتی تھی۔‘‘

اِس حدیث کو امام اَحمد اور حاکم نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا : یہ حدیث بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ اور امام ہیثمی نے بھی فرمایا : اِس کے رجال صحیح حدیث کے رجال ہیں۔ اور امام زرکشی نے بھی فرمایا : یہ حدیث بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔

34. عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رضی الله عنه قَالَ : لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا بَکْرٍ الْوَفَاةُ أَقْعَدَنِي عِنْدَ رَأْسِهِ وَقَالَ لِي : يَا عَلِيُّ، إِذَا أَنَا مِتُّ فَغَسِّلْنِي بِالْکَفِّ الَّذِي غَسَّلْتَ بِهِ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم وَحَنِّطُوْنِي وَاذْهَبُوْا بِي إِلَی الْبَيْتِ الَّذِي فِيْهِ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم فَاسْتَأْذَنُوْا فَإِنْ رَأَيْتُمُ الْبَابَ قَدْ يُفْتَحُ فَادْخُلُوْا بِي وَإِلَّا فَرُدُّوْنِي إِلٰی مَقَابِرِ الْمُسْلِمِيْنَ حَتّٰی يَحْکُمَ اﷲُ بَيْنَ عِبَادِهِ قَالَ : فَغُسِّلَ وَکُفِّنَ وَکُنْتُ أَوَّلَ مَنْ يَأْذُنُ إِلَی الْبَابِ فَقُلْتُ : يَا رَسُوْلَ اﷲِ، هٰذَا أَبُوْ بَکْرٍ مُسْتَأْذِنٌ فَرَأَيْتُ الْبَابَ قَدْ تَفَتَّحَ وَسَمِعْتُ قَاءِـلًا يَقُوْلُ : أَدْخِلُوا الْحَبِيْبِ إِلٰی حَبِيْبِهِ فَإِنَّ الْحَبِيْبَ إِلَی الْحَبِيْبِ مُشْتَاقٌ. رَوَاهُ بْنُ عَسَاکِرَ وَالسُّيُوْطِيُّ.

34 : أخرجه ابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق،30 / 436، والسيوطي في الخصائص الکبری، 2 / 492.

’’حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے بیان فرمایا : جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے مجھے اپنے سرہانے بٹھایا اور فرمایا : اے علی! جب میں فوت ہو جاؤں تو آپ خود مجھے اپنے ان ہاتھوں سے غسل دینا جن ہاتھوں سے آپ نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غسل دیا تھا اور مجھے (بھی وہی) خوشبو لگانا اور (میری میت) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضہ اقدس کے پاس لے جانا اگر تم دیکھو کہ (خود بخود) دروازہ کھول دیا گیا ہے تو مجھے وہاں دفن کر دینا ورنہ واپس لا کر عام مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دینا اس وقت تک کہ جب اﷲ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ نہ فرما دے (یعنی قیامت نہ آ جائے۔ اور پھر ان کی خواہش کے مطابق ہی) انہیں غسل اور (متبرک خوشبو والا) کفن دیا گیا اور (حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ) سب سے پہلے میں نے روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازے پر پہنچ کر اجازت طلب کی اور عرض کیا : یارسول اﷲ ! یہ ابو بکر ہیں جو اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں؟ پھر میں نے دیکھا کہ روضہ اَقدس کا دروازہ (خود بخود) کھل گیا اور میں نے سنا کہ کوئی کہنے والا کہہ رہا ہے۔ حبیب کو اس کے حبیب کے ہاں داخل کردو۔ بے شک حبیب بھی ملاقاتِ حبیب کے لیے مشتاق ہے۔‘‘

اِسے امام ابن عساکر اور سیوطی نے روایت کیا ہے۔

35. عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْقُرَشِيِّ رضی الله عنه يَقُوْلُ : کَانَ عِنْدَنَا رَجُلٌ بِالْمَدِيْنَةِ إِذْ رَأَی مُنْکَرًا لَا يُمْکِنُهُ أَنْ يُغَيِّرَهُ أَتَی الْقَبْرَ فَقَالَ :

أَيَا قَبْرَ النَّبِيِّ وَصَاحِبَيْهِ
أَلَا يَا غَوْثَنَا لَوْ تَعْلَمُوْنَا

رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ.

35 : أخرجه البيهقي في شعب الإيمان، 3 / 495، الرقم : 4177.

’’حضرت ابو اسحاق قرشی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہاں مدینہ منورہ میں ہمارے پاس ایک آدمی تھا جب وہ کوئی ایسی برائی دیکھتا جسے وہ اپنے ہاتھ سے روکنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا تو وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور کے پاس آتا اور (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں یوں) عرض کرتا :

’’اے (سرورِ دوعالم) صاحب قبر! (اور اپنی قبور میں آرام فرما) آپ کے دونوں رفقاء! اور اے ہمارے مددگار (اور ہمارے آقا و مولا) کاش آپ ہماری (حالتِ زار پر) نظر کرم فرمائیں۔‘‘

اِس حدیث کو امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔

36. عَنِ الْحَسَنِ رضی الله عنه يَقُوْلُ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : افْرِشُوْا لِي قَطِيْفَتِي فِي لَحْدِي، فَإِنَّ الْأَرْضَ لَمْ تُسَلَّطْ عَلٰی أَجْسَادِ الْأَنْبِيَاءِ.

رَوَاهُ ابْنُ سَعْدٍ وَالْهِنْدِيُّ.

36 : أخرجه ابن سعد في الطبقات الکبری، 2 / 299، والهندي في کنز العمال، 15 / 577، الرقم : 42245، والسيوطي في شرحه علی سنن النسائي، 4 / 84، وأيضًا في الخصائص الکبری، 2 / 278.

’’حضرت حسن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میرے لیے لحد میں میری مخملیں چادر بچھا دینا، بیشک زمین کو انبیاء کرام علیھم السلام کے اجسام پر تسلط نہیں دیا گیا۔‘‘ اِسے امام ابن سعد اور ہندی نے روایت کیا ہے۔

37. عَنِ الْحَسَنِ رضی الله عنه يَقُوْلُ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : لَا تَأْکُلُ الْأَرْضُ جَسَدَ مَنْ کَلَّمَهُ رُوْحُ الْقُدُسِ.

رَوَاهُ الْجَهْضَمِيُّ وَابْنُ الْقَيِّمِ، وَقَالَ ابْنُ کَثِيْرٍ : مُرْسَلٌ حَسَنٌ.

وفي رواية عنه : قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : مَنْ کَلَّمَهُ رُوْحُ الْقُدُسِ، لَمْ يُؤْذَنْ لِلْأَرْضِ أَنْ تَأْکُلَ مِنْ لَحْمِهِ. رَوَاهُ الْمَقْرِيْزِيُّ وَالسُّيُوْطِيُّ.

37 : أخرجه الجهضمي في فضل الصلاة علی النبي صلی الله عليه وآله وسلم، 1 / 38، الرقم : 23، وابن القيّم في جلاء الإفهام / 41، الرقم : 59، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 3 / 515، والسخاوي في القول البديع / 169، والمقريزي في إمتاع الأسماع، 10 / 306، والسيوطي في الخصائص الکبری، 2 / 280، وأيضًا في الدر المنثور، 1 / 87.

’’حضرت حسن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس سے روح القدس (جبرائیل) نے کلام کیا ہو، زمین اُس کا جسم نہیں کھائے گی.‘‘

اِسے امام جہضمی، ابن القیم نے روایت کیا ہے۔ حافظ ابن کثیر نے کہا ہے : یہ حدیث مرسل حسن ہے۔

’’حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے آپ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس سے رُوح القدس نے کلام کیا ہو، زمین کو اُس کا گوشت کھانے کی اِجازت نہیں دی گئی.‘‘ اِسے امام مقریزی اور سیوطی نے روایت کیا ہے۔

قَالَ الْعَـلَّامَةُ الشُّرَنْبَـلَالِيُّ فِي الإِيْضَاحِ فِي فَصْلِ زِيَارَةِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم : وَمِمَّا هُوَ مُقَرَّرٌ عِنْدَ الْمُحَقَّقِيْنَ أَنَّهُ صلی الله عليه وآله وسلم حَيٌّ يُرْزَقُ مُمَتَّعٌ بِجَمِيْعِ الْمَـلَاذِّ وَالْعِبَادَاتِ غَيْرَ أَنَّهُ حُجِبَ عَنْ أَبْصَارِ الْقَاصِرِيْنَ عَنْ شَرِيْفِ الْمَقَامَاتِ.

ذکره الشرنبلالي في نور الإيضاح / 391.

’’علامہ شرنبلالی نے اپنی کتاب ’’نور الاِیضاح‘‘ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کی فصل قائم کی ہے جس میں اُنہوں نے فرمایا : محققین کے نزدیک یہ اَمر طے شدہ ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حیات ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان کے لائق) رزق دیا جاتا ہے اور آپ جملہ حلاوتوں اور عبادات سے مستفید ہوتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے اُن لوگوں کی نگاہوں سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اوجھل ہیں جو مقاماتِ عالیہ سے قاصر ہیں۔‘‘

38. عَنْ سَعِيْدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيْزِص قَالَ : لَمَّا کَانَ أَيَّامُ الْحَرَّةِ لَمْ يُؤَذَّنْ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم ثَـلَاثًا وَلَمْ يُقَمْ وَلَمْ يَبْرَحْ سَعِيْدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ رضی الله عنه مِنَ الْمَسْجِدِ، وَکَانَ لَا يَعْرِفُ وَقْتَ الصَّـلَاةِ إِلَّا بِهَمْهَمَةٍ يَسْمَعُهَا مِنْ قَبْرِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم فَذَکَرَ مَعْنَاهُ.

رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ وَالْخَطِيْبُ التَّبْرِيْزِيُّ.

38 : أخرجه الدارمي في السنن، 1 / 56، الرقم : 93، والخطيب التبريزي في مشکاة المصابيح، 2 / 400، الرقم : 5951، والسيوطي في شرح سنن ابن ماجه، 1 / 291، الرقم : 4029.

’’حضرت سعید بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ایام حرّہ (جن دنوں یزید نے مدینہ منورہ پر حملہ کروایا تھا) کا واقعہ پیش آیا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد میں تین دن تک آذان اور اقامت نہیں کہی گئی اور حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ نے (جو کہ جلیل القدر تابعی ہیں اُنہوں نے مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں پناہ لی ہوئی تھی اور انہوں نے تین دن تک) مسجد نہیں چھوڑی تھی اور وہ نماز کا وقت نہیں جانتے تھے مگر ایک دھیمی سی آواز کے ذریعے جو وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور سے سنتے تھے۔ پھر انہوں نے اس کا معنی بھی بیان کیا۔‘‘

اِس حدیث کو امام دارمی اور خطیب تبریزی نے روایت کیا ہے۔

39. وفي رواية عنه، قَالَ : وَمَا يَأْتِي وَقْتَ صَلَاةٍ إِلَّا سَمِعْتُ الْأَذَانَ مِنَ الْقَبْرِ. رَوَاهُ أَبُوْ نُعَيْمٍ وَالسُّيُوْطِيُّ.

39 : أخرجه أبو نعيم في دلائل النبوة / 496، والسيوطي في الخصائص الکبری، 2 / 280، وأيضًا في الحاوي للفتاوی، 2 / 266، والمقريزي في إمتاع الأسماع، 14 / 615، والزرقاني في شرح أيضًا، 7 / 365، والشيخ عبد الحق الدهلوي في جذب القلوب إلی ديار المحبوب / 44.

’’اور آپ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ایک روایت میں ہے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کسی نماز کا وقت بھی ایسا نہیں آیا کہ میں نے (حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی) قبرِ انور سے اذان کی آواز نہ سنی ہو.‘‘ اِسے امام ابو نعیم اور سیوطی نے روایت کیا ہے۔

40. وفي رواية عنه قَالَ : فَکُنْتُ إِذَا حَانَتِ الصَّلَاةُ أَسْمَعُ أَذَانًا يَخْرُجُ مِنْ قِبَلِ الْقَبْرِ الشَّرِيْفِ. رَوَاهُ ابْنُ سَعْدٍ.

وفي رواية عنه قَالَ : لَمْ أَزَلْ أَسْمَعُ الْأَذَانَ وَالإِقَامَةَ مِنْ قَبْرِ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم أَيَّامَ الْحَرَّةِ حَتّٰی عَادَ النَّاسُ. رَوَاهُ الْمَقْرِيْزِيُّ وَالسُّيُوْطِيُّ.

40 : أخرجه ابن سعد في الطبقات الکبری، 5 / 132، والسيوطي في الرسائل التسع / 238.239، وأيضًا في الحاوي للفتاوی، 2 / 266، وأيضًا في الخصائص الکبری، 2 / 281، والمقريزي في إمتاع الأسماع، 14 / 616، والزرقاني في شرح أيضًا، 7 / 365.

’’اور آپ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ فرمایا : جب نماز کا وقت آتا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ انور کی جانب سے اذان کی آواز سنتا تھا۔‘‘

اِسے امام ابن سعد نے روایت کیا ہے۔

’’اور اُن ہی سے مروی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں ایام حَرّہ کے دوران مسلسل حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ اَنور سے اَذان اور اِقامت کی آواز سنتا رہا، یہاں تک کہ لوگوں (کے حالات) معمول کی صورت حال پر واپس لوٹ آئے (یعنی مسجد نبوی میں باقاعدہ آذان و اِقامت شروع ہو گئی).‘‘

اِسے امام مقریزی اور سیوطی نے روایت کیا ہے۔

41. عَنْ عُرْوَةَ رضی الله عنه لَمَّا سَقَطَ عَلَيْهِمُ الْحَاءِطُ فِي زَمَانِ الْوَلِيْدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ أَخَذُوْا فِي بِنَائِهِ فَبَدَتْ لَهُمْ قَدَمٌ فَفَزِعُوْا وَظَنُّوْا أَنَّهَا قَدَمُ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم فَمَا وَجَدُوْا أَحَدًا يَعْلَمُ ذَالِکَ حَتّٰی قَالَ لَهُمْ عُرْوَةُ : لَا وَاﷲِ مَا هِيَ قَدَمُ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم مَا هِيَ إِلَّا قَدَمُ عُمَرَ رضي الله عنه.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَابْنُ سَعْدٍ.

41 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب الجنائز، باب ما جاء في قبر النبي صلی الله عليه وآله وسلم وأبي بکر وعمر، 1 / 468، الرقم : 1326، وابن سعد في الطبقات الکبری، 3 / 368.

’’حضرت عروہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے کہ جب ولید بن عبد الملک کے زمانے میں (حجرہ مبارک کی) دیوار اُن (لوگوں) پر گری تو ایک قدم ظاہر ہوا۔ لوگ ڈر گئے اور سمجھے کہ شاید یہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قدم مبارک ہے۔ اُنہیں پہچاننے والا کوئی نہ ملا یہاں تک کہ حضرت عروہ رضی اللہ عنہ نے (پہچان لیا اور) کہا : خدا کی قسم، یہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قدم مبارک نہیں بلکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قدم ہے۔‘‘

اسے امام بخاری اور ابن سعد نے روایت کیا ہے۔

وقال المـلا علي القاري في ’’الوسائل‘‘ : إِنَّهُ لَمْ يَقُلْ أَحَدٌ أَنَّ قُبُوْرَهُمْ خَالِيَةٌ عَنْ أَجْسَادِهِمْ، وَأَرْوَاحِهِمْ غَيْرَ مُتَعَلَّقَةٍ بِأَجْسَامِهِمْ، لِئَـلَّا يَسْمَعُوْا سَلَامَ مَنْ يُسَلِّمُ عَلَيْهِمْ، وَکَذَا وَرَدَ أَنَّ الْأَنْبِيَاءَ يُلَبُّوْنَ وَيَحُجُّوْنَ، فَنَبِيُنَا صلی الله عليه وآله وسلم أَوْلٰی بِهٰذِهِ الْکَرَامَاتِ.

ذکره الملا علي القاري في جمع الوسائل، 2 / 300.

’’ملا علی قاری نے اپنی کتاب ’’جمع الوسائل في شرح الشمائل‘‘ میں فرمایا : بیشک کسی نے یہ نہیں کہا کہ اُن کی قبریں اُن کے جسموں سے خالی ہیں اور اُن کی اَرواح کا اُن کے اجسام سے کوئی تعلق نہیں اور جو کوئی اُن پر سلام پیش کرتا ہے وہ اُسے نہیں سنتے. تو ایسا ہی انبیاء کے بارے میں آیا ہے کہ بیشک انبیاء کرام علیہم السلام تلبیہ کہتے ہیں اور حج کرتے ہیں، اور ہمارے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے تو یہ کرامات بدرجہ اَولیٰ ثابت ہیں۔‘‘

وقال القَسطـلاني في ’’المواهب‘‘ : وَقَدْ ثَبَتَ أَنَّ الْأَنْبِيَاءَ يَحُجُّوْنَ وَيُلَبُّوْنَ. فَإِنْ قُلْتَ : کَيْفَ يُصَلُّوْنَ وَيُحُجُّوْنَ وَيُلَبُّوْنَ وَهُمْ أَمْوَاتٌ فِي الدَّارِ الآخِرَةِ، وَلَيْسَتْ دَارِ عَمَلٍ؟ فَالْجَوَابُ : أَنَّهُمْ کَالشُّهَدَاءِ، بَلْ أَفْضَلُ مِنْهُمْ، وَالشُّهَدَاءُ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُوْنَ، فَـلَا يَبْعُدُ أَنْ يَحُجُّوْا وَيُصَلُّوْا.

ذکره القسطلاني في أيضًا، 2 / 695، والزرقاني في شرح أيضًا، 7 / 365.366.

’’اور امام قسطلانی نے ’’المواھب‘‘ میں فرمایا : بیشک یہ ثابت ہو چکا ہے کہ انبیاءِ کرام علیھم السلام حج کرتے ہیں اور تلبیہ کہتے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ وہ وفات پا چکے ہیں اور اُخروی گھر میں ہیں نہ کہ دار العمل میں تو اِس بات کا جواب یہ ہے کہ اُن کا حال شہداء کی طرح بلکہ اُن سے بھی افضل ہے۔ جب شہداء اپنے ربّ کے ہاں زندہ ہیں اور اُنہیں (اُن کی شان کے لائق) رزق دیا جاتا ہے، تو اگر انبیاء کرام علیھم السلام حج کریں اور نماز پڑھیں تو اِس میں کیا بعید ہے!‘‘

وقال العـلامه محمد أنور شاه الکاشميري : وَاعْلَمْ أَنَّهُ قَدْ تَکَلَّمْنَا مَرَّةً فِي مَعْنٰی حَيَاةِ الشُّهَدَاءِ وَالْأَنْبِيَاءِ عليهم السلام، وَحَاصِلُهُ أَنَّ الْحَيَاةَ بِمَعْنٰی أَفْعَالِ الْحَيَاةِ، وَإِلَّا فَالْأَرْوَاحُ کُلُّهَا أَحْيَاءٌ، وَلَوْ کَانَتْ أَرْوَاحُ الْکُفَّارِ.

ذکره أنور شاه الکشميري في فيض الباري، 3 / 425.

’’علامہ محمد انور شاہ کاشمیری نے کہا : جان لو! ہم پہلے حیاتِ انبیاء اور حیاتِ شہداء کے متعلق بحث کر چکے ہیں، جس کا ماحصل یہ ہے کہ اُن کے زندہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ زندوں جیسے اَفعال بجا لاتے ہیں، اور رہ گئیں اَرواح، وہ تو تمام کی تمام (برزخ میں) زندہ ہیں اگرچہ وہ کافروں کی اَرواح ہی کیوں نہ ہوں۔‘‘

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved