Arba‘in: The Virtues of Supererogatory Fasting

الاحادیث النبویۃ

اَلْأَحَادِيْثُ النَّبَوِيَّةُ

1. عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : مَا مِنْ عَبْدٍ يَصُوْمُ يَوْمًا فِي سَبِيْلِ اﷲِ، إِلَّا بَاعَدَ اﷲُ بِذٰلِکَ الْيَوْمِ، وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِيْنَ خَرِيْفًا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ.

1: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب الجهاد والسير، باب فضل الصوم في سبيل اﷲ، 3 / 1044، الرقم: 2685، ومسلم في الصحيح، کتاب الصيام، باب فضل الصيام في سبيل اﷲ لمن يطيقه بلا ضرر ولا تفويت حق، 2 / 808، الرقم: 1153، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 26، الرقم: 11226، والترمذي في السنن، کتاب فضائل الجهاد، باب ما جاء في فضل الصوم في سبيل اﷲ، 4 / 166، الرقم: 1622، والنسائي في السنن، کتاب الصيام، باب ثواب من صام يوما في سبيل اﷲ u، 4 / 172، الرقم: 2244، وابن ماجه في السنن، کتاب الصيام، باب في صيام يوم في سبيل اﷲ u، 1 / 547، الرقم: 1717.

’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بھی ایک دن اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے روزہ رکھے تو اللہ تعالیٰ اس ایک دن کے بدلے اس کے چہرے کو آگ سے ستر سال کی مسافت تک دور کر دیتا ہے۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے اور مذکورہ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں۔

2. عَنْ عَبْدِ اﷲِ رضی الله عنه، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمُ الْبَاءَ ةَ فَلْيَتَزَوَّجْ. فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ. وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ، وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ.

2: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب النکاح، باب من لم يستطع الباء ة فليصم، 5 / 1950، الرقم: 4779، وأيضًا في کتاب الصوم، باب الصوم لمن خاف علی نفسه العزبة، 2 / 673، الرقم: 1806، ومسلم في الصحيح، کتاب النکاح، باب استحباب النکاح لمن تاقت نفسه إليه ووجده مؤنة، 2 / 1018. 1019، الرقم: 1400، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 425، الرقم: 4035، وأبوداود في السنن، کتاب النکاح، باب التحريض علی النکاح، 2 / 219، الرقم: 2046، والنسائي في السنن، کتاب الصيام، باب في فضل الصائم، 4 / 8169، الرقم: 2239، 2241، وابن ماجه في السنن، کتاب النکاح، باب ما جاء في فضل النکاح، 1 / 592، الرقم: 1845.

’’حضرت عبد اﷲ (بن مسعود) رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرمایا: اے نوجوانو! تم میں سے جو عورتوں کے حقوق ادا کرنے کی طاقت رکھتا ہو تو وہ ضرور نکاح کرے، کیونکہ یہ نگاہ کو جھکاتا اور شرمگاہ کی حفاظت کرتا ہے، اور جو نکاح کی طاقت نہ رکھے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ روزے رکھے، بے شک یہ روزہ اس کے لیے ڈھال ہے۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے اور مذکورہ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں۔

3. عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رضی الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم، قَالَ: مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيْلِ اﷲِ، جَعَلَ اﷲُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّارِ خَنْدَقًا کَمَا بَيْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلاَ ثَةِ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ.

3: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب فضائل الجهاد، باب ما جاء في فضل الصوم في سبيل اﷲ، 4 / 167، الرقم: 1624، والطبراني في المعجم الکبير، 8 / 235، الرقم: 7921، وفي المعجم الأوسط، 5 / 112، الرقم: 4826، وفي المعجم الصغير، 1 / 273، الرقم: 449.

’’حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھے تو اللہ تعالیٰ اس کے اور جہنم کے درمیان زمین وآسمان کے درمیان فاصلے جتنی خندق بنا دیتا ہے۔‘‘

اسے امام ترمذی نے جبکہ امام طبرانی نے تینوں معاجم میں اسناد حسن کے ساتھ بیان کیا ہے۔

4. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه، أنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: مَنْ صَامَ يَوْمًا اِبْتِغَاءَ وَجْهِ اﷲِ بَعَّدَهُ اﷲُ مِنْ جَهَنَّمَ کَبُعْدِ غُرَابٍ طَارَ وَهُوَ فَرْخٌ، حَتّٰی مَاتَ هَرِمًا.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلٰی وَالطَّبَرَانِيُّ.

4: أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 2 / 526، الرقم: 10820، وأبو يعلی عن سلمة بن قيصر، 2 / 222، الرقم: 921، والطبراني في المعجم الکبير عن سلامة بن قيصر، 7 / 56، الرقم: 6365، وفي المعجم الأوسط، 3 / 271، الرقم: 3118، والبيهقي في شعب الإيمان عن سلمة بن فيض، 3 / 299، الرقم: 3590.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ایک دن روزہ رکھے تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے اس قدر دور کر دیتا ہے، جیسے کوئی کوا جب اُڑا تو بچہ تھا اور وہ مسلسل اُڑتا رہا یہاں تک کہ بڑھاپے کے عالم میں اُسے موت آ گئی۔‘‘

اِس حدیث کو امام احمد، ابو یعلی اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔

5. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : لِکُلِّ شَيئٍ زَکَاةٌ. وَزَکَاةُ الْجَسَدِ الصَّوْمُ.

زَادَ مُحْرِزٌ فِيْ حَدِيْثِهِ، وَقَالَ رَسُولُ اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم : اَلصِّيَامُ نِصْفُ الصَّبْرِ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ.

5: أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب الصيام، باب في الصوم زکاة الجسد، 1 / 555، الرقم:1745، والطبراني في المعجم الکبير، 6 / 193، الرقم: 5973، والقضاعي في مسند الشهاب، 1 / 162، الرقم: 229، والبيهقي في شعب الإيمان، 3 / 292، الرقم: 3577، والديلمي في مسند الفردوس، 2 / 419، الرقم: 3817.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر شے کی زکوٰۃ ہے اور جسم کی زکوٰۃ روزہ ہے۔‘‘

’’حضرت محرز کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روزہ آدھا صبر ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام ابن ماجہ، طبرانی اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

6. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيْلِي صلی الله عليه وآله وسلم بِثَلاَثٍ: صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَامٍ مِنْ کُلِّ شَهْرٍ، وَرَکْعَتَيِ الضُّحٰی، وَأَنْ أُوْتِرَ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

6: أخرجه البخاری في الصحيح، کتاب الصوم، باب صيام أيام البيض ثلاث عشرة وأربع عشرة وخمس عشرة، 2 / 699، الرقم:1880، ومسلم في الصحيح، کتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب استحباب صلاة الضحی وأن أقلها رکعتان وأکملها ثمان رکعات وأوسطها أربع رکعات أوست والحث علی المحافظة عليها، 1 / 499، الرقم:721، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 402، الرقم: 9206، والنسائي في السنن، کتاب قيام الليل وتطوع النهار، باب الحث علی الوتر قبل النوم، 3 / 229، الرقم: 1677.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میرے خلیل حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے تین چیزوں کی وصیت فرمائی: ہر مہینے میں تین روزے رکھنا، چاشت کی دو رکعتیں ادا کرنا اور سونے سے پہلے وتر پڑھ لینا۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

7. عَنْ قَتَادَةَ بْنِ مِلْحَانَ رضی الله عنه قَالَ: کَانَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَأمُرُنَا أَنْ نَصُومَ الْبِيْضَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ. قَالَ: وَقَالَ: هُنَّ کَهَيْئَةِ الدَّهْرِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاؤدَ.

7: أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 5 / 28، الرقم: 20335، وأبوداود في السنن، کتاب الصوم، باب في صوم الثلاث من کل شهر، 2 / 328، الرقم: 2449.

’’حضرت قتادہ بن ملحان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں اَیامِ بیض (یعنی ہر قمری ماہ کی) تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کے روزے رکھنے کا حکم دیا کرتے تھے اور فرماتے: یہ عمر بھر روزے رکھنے کے برابر ہے۔‘‘

اِس حدیث کو امام احمد بن حنبل اور ابو داود نے روایت کیا ہے۔

8. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی الله عنهما، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم لَا يُفْطِرُ أَيَامَ الْبِيْضِ فِي حَضَرٍ وَلَا سَفَرٍ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ.

8: أخرجه النسائي في السنن، کتاب الصيام، باب صوم النبي صلی الله عليه وآله وسلم بأبي هو وأمي وذکر اختلاف الناقلين للخبر في ذلک، 4 / 198، الرقم: 2345، وأيضًا في السنن الکبریٰ، 2 / 118، الرقم: 2654، والمقدسي في الأحاديث المختارة، 10 / 102، الرقم: 99.

’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایامِ بیض (ہر قمری ماہ کی 13، 14 اور 15) کے روزے حضر میں چھوڑتے نہ سفر کی حالت میں چھوڑتے۔‘‘ اس حدیث کو امام نسائی نے اسنادِحسن کے ساتھ روایت کیا ہے۔

9. عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ رضی الله عنها : أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اﷲِ، أَفْتِنَا عَنِ الصَّومِ. فَقَالَ: مِنْ کُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةُ أَيَامٍ، مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَصُوْمَهُنَّ فَإِنَّ کُلَّ يَوْمٍ يُکَفِّرُ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ، وَأَنَّهُ يُنَقّٰی مِنَ الإِثْمِ کَمَا يُنَقِّي الْمَائُ الثَّوْبَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

9: أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 25 / 35، الرقم:60، وذکره المنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 75، الرقم: 1558، والهيثمي في مجمع الزوائد، 3 / 197.

’’حضرت میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اﷲ! آپ روزے کے متعلق ہمیں کچھ بتائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (اگر) استطاعت رکھنے والا شخص ہر ماہ تین دن روزے رکھے تو ایک روزہ دس (دن کی) برائیوں کا کفارہ ہو گا، اور وہ شخص گناہ سے ایسے صاف ہو جائے گا جیسے پانی کپڑے کو صاف کرتا ہے۔‘‘ اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

10. عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ: بَلَغَنِي عَنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: صَلُّوْا تَنْجَحُوْا، وَزَکُّوْا تُفْلِحُوْا، وَصُوْمُوْا تَصِحُّوْا، وَسَافِرُوْا تَغْنَمُوْا.

رَوَاهُ الرَّبِيْعُ.

10: أخرجه الربيع في المسند، 1 / 122، الرقم: 291.

’’ابو عبیدہ نے کہا: مجھے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ حدیث مبارکہ پہنچی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز پڑھو کامیاب ہو جاؤ گے، زکوٰۃ ادا کرو فلاح پا جاؤ گے، روزے رکھو صحت وتندرستی پاؤ گے، اور سفر کرو غنیمت پاؤ گے۔‘‘

اس حدیث کو امام ربیع نے بیان کیا ہے۔

11. عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی الله عنهما قَالَ: نَهٰی رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم عَنِ الْوِصَالِ، قَالُوْا: إِنَّکَ تُوَاصِلُ. قَالَ: إِنِّي لَسْتُ مِثْلَکُمْ، إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقٰی.

مُتَّفَقٌٌ عَلَيْهِ.

11: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب الصوم، باب الوصال ومن قال: ليس في اللّيلِ صيامٌ، 2 / 693، الرقم: 1861، ومسلم في الصحيح، کتاب الصيام، باب النهي عن الوصال في الصوم، 2 / 774، الرقم: 1102، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 102، الرقم: 5795، وأبوداود في السنن، کتاب الصوم، باب في الوصال، 2 / 306، الرقم: 2360، والنسائي في السنن الکبری، 2 / 241، الرقم: 3263، ومالک في الموطأ، 1 / 300، الرقم: 667.

’’حضرت (عبد اﷲ) بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صومِ وِصال (یعنی سحری واِفطاری کے بغیر مسلسل روزے رکھنے) سے منع فرمایا۔ صحابہ کرام نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ بھی تو وصال کے روزے رکھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ہرگز تمہاری مثل نہیں ہوں، مجھے تو (اپنے رب کے ہاں) کھلایا اور پلایا جاتا ہے۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

12. عَنْ عَائِشَةَ رضی الله عنها قَالَتْ: نَهٰی رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم عَنِ الْوِصَالِ رَحْمَةً لَهُمْ. فَقَالُوا: إِنَّکَ تُوَاصِلُ؟ قَالَ: إِنِّي لَسْتُ کَهَيْئَتِکُمْ، إِنِّي يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

12: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب الصوم، باب الوصال ومن قال: ليس في اللّيل صيامٌ، 2 / 693، الرقم: 1863، وأيضًا في کتاب التمني، باب ما يَجُوْزُ مِنَ اللَّوْ، 6 / 2645، الرقم: 6815، ومسلم في الصحيح، کتاب الصيام، باب النهي عن الوصال في الصوم، 2 / 776، الرقم: 1105، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 153، الرقم: 6413.

’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں پر شفقت کے باعث انہیں وصال کے روزے رکھنے سے منع فرمایا تو صحابہ کرام l نے عرض کیا: (یا رسول اﷲ!) آپ بھی تو وصال کے روزے رکھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ہرگز تم جیسا نہیں ہوں، مجھے تو میرا رب کھلاتا بھی ہے اور پلاتا بھی ہے۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

13. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العَاصٍ رضی الله عنهما : أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ لَ.هُ: أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَی اﷲِ صَلَاةُ دَاؤدَ، وَأَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَی اﷲِ صِيَامُ دَاؤدَ، وَکَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ وَيَقُومُ ثُلُثَهُ، وَيَنَامُ سُدُسَهُ، وَيَصُوْمُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

13: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب التهجد، باب من نام عند السحر، 1 / 380، الرقم: 1079، وأيضًا في کتاب الأنبياء، باب أحب الصلاة إلی اﷲ داود وأحب الصيام إلی اﷲ صيام داود، 3 / 1257، الرقم: 3238، ومسلم في الصحيح، کتاب الصيام، باب النهي عن صوم الدهر لمن تضرر به، 2 / 816، الرقم: 1159، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 160، الرقم: 6491، وأبوداود في السنن، کتاب الصوم، باب في صوم يوم وفطر يوم، 2 / 327، الرقم:2448، والنسائي في السنن، کتاب قيام اليل وتطوع النهار، باب ذکر صلاة نبي اﷲ دواد بالليل، 3 / 214، الرقم:1630، وفي کتاب الصيام، باب صوم نبي اﷲ داود، 4 / 198، الرقم: 2344، وابن ماجه في السنن، کتاب الصيام، باب ما جاء في صيام داود، 1 / 546، الرقم: 1712.

’’حضرت عبد اﷲ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا: اﷲ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ نماز داود e کی نماز ہے اور پسندیدہ روزے داؤد e کے روزے ہیں۔ وہ آدھی رات تک سوتے، پھر تہائی رات قیام کرتے، پھر رات کا چھٹا حصہ سو جاتے تھے، اور ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن چھوڑتے تھے۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

14. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عَمْرٍو رضی الله عنهما، أَنَّ رَسُولَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ لَهُ: صُمْ يَوْمًا، وَلَکَ أَجْرُ مَا بَقِيَ. قَالَ: إِنِّي أُطِيْقُ أَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ. قَالَ: صُمْ يَوْمَيْنِ، وَلَکَ أَجْرُ مَا بَقِيَ. قَالَ: إِنِّي أُطِيْقُ أَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ. قَالَ: صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَامٍ وَلَکَ أَجْرُ مَا بَقِيَ. قَالَ: إِنِّي أُطِيْقُ أَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ، قَالَ: صُمْ أَرْبَعَةَ أَيَامٍ وَلَکَ أَجْرُ مَا بَقِيَ. قَالَ: إِنِّي أُطِيقُ أَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ. قَالَ: صُمْ أَفْضَلَ الصِّيَامِ عِنْدَ اﷲِ صَوْمَ دَاؤدَ کَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا. رَوَاهُ مُسْْلِمٌ.

14: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الصيام، باب النهی عن صوم الدهر لمن تضرر به أو فوت به حقا أو لم يفطر العيدين والتشريق وبيان تفضيل صوم يوم وإفطار يوم، 2 / 817، الرقم: 1159، والطيالسي في المسند، 1 / 302، وأبو عوانة في المسند، 2 / 248، الرقم: 3035.

’’حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ایک دن روزہ رکھو، تمہیں باقی ایام کا بھی اجر مل جائے گا۔ انہوں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم دو دن روزہ رکھو اور تمہیں باقی روزوں کا اجر مل جائے گا۔ انہوں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین دن روزے رکھو اور تمہیں باقی روزوں کا اجر مل جائے گا۔ انہوں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چار دن کے روزے رکھو اور تمہیں باقی روزوں کا اجر مل جائے گا۔ انہوں نے پھر عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ روزے رکھو جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ ہیں اور وہ داؤد e کے روزے ہیں، جو ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔‘‘

اس حدیث کو امام مسلم نے بیان کیا ہے۔

15. عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رضی الله عنه أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ، کَانَ کَصِيَامِ الدَّهْرِ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وأَبُوْ دَاودَ.

15: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الصيام، باب استحباب صوم ستة أيام من شوال إتباعا لرمضان، 2 / 822، الرقم:1164، وأبوداود في السنن، کتاب الصوم، باب في صوم ستة أيام من شوال، 2 / 324، الرقم: 2433، والترمذي في السنن، کتاب الصوم، باب ما جاء في صيام ستة أيام من شوال، 3 / 132، الرقم: 759، وابن ماجه في السنن، کتاب الصيام، باب صيام ستة أيام من شوال، 10 / 547، الرقم: 1716.

’’حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیںکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص رمضان المبارک کے روزے رکھے، پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو گویا اس نے عمر بھر کے روزے رکھے۔‘‘

اِس حدیث کو امام مسلم اور ابوداود نے روایت کیا ہے۔

16. عَنْ ثَوْبَانَ رضی الله عنه مَوْلٰی رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم، عَنْ رَسُولِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم أَنَّهُ قَالَ: مَنْ صَامَ سِتَّةَ أَيَامٍ بَعْدَ الْفِطْرِ، کَانَ تَمَامَ السَّنَةِ. ﴿مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا﴾. رَوَاهُ ابْن مَاجَه وَالطَّبَرَانِيُّ.

16: أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب الصيام، باب صيام ستة أيام من شوال، 1 / 547، الرقم: 1715، والطبراني في المعجم الأوسط، 7 / 315، الرقم: 7607.

’’رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے عید کے بعد چھ روزے رکھے، تو گویا (اُس کے) پورے سال کے روزے ہو گئے (کیونکہ) جو ایک نیکی کرتا ہے اسے دس گنا ثواب ملتا ہے۔‘‘ اِس حدیث کو امام ابن ماجہ اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔

17. عَنْ ثَوْبَانَ رضی الله عنه أَنَّهُ سَمِعَ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ: جَعَلَ اﷲُ الْحَسَنَةَ بِعَشْرٍ فَشَهْرٌ بِعَشْرَةِ أَشْهُرٍ، وَسِتَّةُ أَيَامٍ بَعْدَ الْفِطْرِ تَمَامُ السَّنَةِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ.

17: أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 5 / 280، الرقم: 22465، والنسائي في السنن الکبری، 2 / 163، الرقم:2861، والدارمي في السنن، 2 / 34، الرقم:1755، والبيهقي في السنن الکبریٰ، 4 / 293، الرقم:8216، وأيضًا في شعب الإيمان، 3 / 349، الرقم: 3736.

’’حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ ایک نیکی کو دس گنا زیادہ کر دیتا ہے۔ رمضان کا ایک مہینہ (ثواب کے اعتبار سے ) دس مہینے کے برابر ہے اور عید الفطر کے بعد چھ دن (روزہ رکھنے سے) پورے سال (روزہ رکھنے) کا ثواب پورا ہو جاتا ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام احمد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور مذکورہ الفاظ نسائی کے ہیں۔

18. عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی الله عنهما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَأَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ، خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ کَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

18: أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 8 / 275، الرقم: 8622، والهيثمي في مجمع الزوائد، 3 / 184، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 67، الرقم: 1515.

’’حضرت (عبد اﷲ) بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے رمضان المبارک کے روزے رکھے اور اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو وہ اپنے گناہوں سے ایسے پاک ہو گیا جیسے اپنی پیدائش کے دن تھا۔‘‘ اِس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

19. عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی الله عنهما، قَالَ: صَامَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم عَاشُورَاءَ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ تُرِکَ. وَکَانَ عَبْدُ اﷲِ لَا يَصُوْمُهُ إِلَّا أَنْ يُوَافِقَ صَوْمَهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

19: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب الصوم، باب وجوب صوم رمضان، 2 / 669، الرقم: 1793، ومسلم عن ابن عباس رضی الله عنهما في الصحيح کتاب الصيام، باب أي يوم يصام في عاشوراء، 2 / 797، الرقم: 1134، وأبوداود في السنن، کتاب الصوم، باب ما روي أن عاشوراء اليوم التاسع، 2 / 327، الرقم: 2445.

’’حضرت (عبد اﷲ) بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عاشورہ (دس محرم) کے دن روزہ رکھا اور اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ جب رمضان المبارک فرض کیا گیا تو یہ روزہ چھوڑ دیا گیا۔ اور حضرت عبد اﷲ (بن عمر) رضی اللہ عنہما اس دن کا روزہ نہ رکھتے، ہاں اگر ان کے معمول کے روزوں کے دوران میں یہ دن آ جاتا تو روزہ رکھتے۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

20. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی الله عنهما : أَنَّ رَسُولَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَدِمَ الْمَدِيْنَةَ فَوَجَدَ الْيَهُودَ صِيَامًا يَوْمَ عَاشُورَاءَ. فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : مَا هٰذَا الْيَومُ الَّذِي تَصُوْمُونَهُ؟ فَقَالُوْا: هٰذَا يَوْمٌ عَظِيْمٌ. أَنْجَی اﷲُ فِيْهِ مُوْسٰی وَقَوْمَهُ، وَغَرَّقَ فِرْعَوْنَ وَقَوْمَهُ. فَصَامَهُ مُوْسٰی شُکْرًا، فَنَحْنُ نَصُوْمُهُ. فَقَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : فَنَحْنُ أَحَقُّ وَأَولیٰ بِمُوْسٰی مِنْکُمْ. فَصَامَهُ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم، وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ.

20: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب الأنبياء، باب قول اﷲ تعالی: وهل أتٰک حديث موسی، وکلم اﷲ موسی تکليما، 3 / 1244، الرقم: 3216، ومسلم في الصحيح، کتاب الصيام، باب صوم يوم عاشوراء، 2 / 796، الرقم: 1130، وأبوداود في السنن، کتاب الصوم، باب في صوم يوم عاشوراء، 2 / 326، الرقم: 2444، وابن ماجه في السنن، کتاب الصيام، باب صيام يوم عاشوراء، 1 / 552، الرقم: 1734.

’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو دیکھا کہ یہودی یوم عاشور کا روزہ رکھتے ہیں۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: اس دن تمہارے روزہ رکھنے کا کیا سبب ہے؟ انہوں نے عرض کیا: یہ ایک عظیم دن ہے، اس دن اﷲ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ e اور ان کی قوم کو نجات دی اور فرعون اور اس کی قوم کو غرق کر دیا، حضرت موسیٰ نے شکر ادا کرنے کے لئے اس دن روزہ رکھا، پس ہم بھی روزہ رکھتے ہیں۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم تم سے زیادہ موسیٰ e کے قریب ہیں۔ موسیٰ کی وجہ سے شکر ادا کرنے کا تم سے زیادہ ہمارا حق ہے۔ پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن کا روزہ رکھا اور اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے اور مذکورہ الفاظ مسلم کے ہیں۔

21. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی الله عنهما قَالَ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم يَتَحَرّٰی صِيَامَ يَوْمٍ فَضَّلَهُ عَلٰی غَيْرِهِ إِلَّا هٰذَا الْيَوْمَ، يَوْمَ عَاشُورَاءَ،(1) وَهٰذَا الشَّهْرَ، يَعْنِي شَهْرَ رَمَضَانَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَالنَّسَائِيُّ.

21: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب الصوم، باب صيام يوم عاشوراء، 2 / 705، الرقم: 1902، والنسائي في السنن، کتاب الصيام، باب صوم النبي صلی الله عليه وآله وسلم، 4 / 204، الرقم: 2370، والحميدي في المسند، 1 / 226، الرقم: 484.

’’حضرت (عبد اﷲ) بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ کسی دن کو دوسرے پر فضیلت دے کر روزہ رکھتے ہوں مگر اِس روز یعنی عاشورہ کو اور اس مہینہ یعنی ماہ رمضان کو.‘‘

اس حدیث کو امام بخاری اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

(1) قوله: يوم عاشوراء، وقال الشيخ ابن الهمام (فيشرح فتح القدير، 2 / 350): يستحب صوم يوم عاشوراء ما لم يظن إلحاقه بالواجب، کذا في المرقات (4 / 468) واختلفوا في حکمه أول الإسلام، فقال أبو حنيفة: کان واجبا، فلما نزل صوم رمضان صار مستحبا . قاله في عمدة القاري (11 / 118).

’’حدیث کے الفاظ یوم عاشوراء کے بارے میں علامہ ابن ہمام نے شرح فتح القدیر (2: 350) میں کہا: یوم عاشورہ کا روزہ رکھنا مستحب ہے جب تک اسے واجب سمجھ کر رکھنے کا خیال نہ آئے۔ اسی طرح مرقاۃ (4: 468) میں ہے۔ ابتدائِ اسلام میں اس کے حکم کے بارے ائمہ کا اختلاف ہے۔ پس امام اعظم ابو حنیفہ نے کہا: یہ واجب تھا مگر جب رمضان المبارک کے روزے فرض ہوئے تو یہ مستحب ہو گیا۔ اسی بات کو علامہ عینی نے عمدۃ القاری (11: 118) میں بیان کیا ہے۔‘‘

22. عَنْ أَبِي مُوْسٰی رضی الله عنه قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم الْمَدِينَةَ، وَإِذَا أُنَاسٌ مِنَ الْيَهُودِ يُعَظِّمُوْنَ عَاشُورَاءَ وَيَصُوْمُوْنَهُ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : نَحْنُ أَحَقُّ بِصَوْمِهِ. فَأَمَرَ بِصَوْمِهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

22: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب فضائل الصحابة، باب إتيان اليهود النبي صلی الله عليه وآله وسلم، حين قدم المدينة، 3 / 1434، الرقم: 3726.

’’حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہود کو عاشورہ کی تعظیم کرتے اور اس کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا۔ پس حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم اس دن کے روزے کے زیادہ حق دار ہیں۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔‘‘

اِس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

23. عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رضی الله عنه : قَالَ: کَانَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَأمُرُنَا بِصِيَامِ يَوْمِ عَاشُوْرَاءَ. وَيَحُثُّنَا عَلَيْهِ. وَيَتَعَاهَدُنَا عِنْدَهُ. فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ، لَمْ يَأمُرْنَا، وَلَمْ يَنْهَنَا، وَلَمْ يَتَعَاهَدْنَا عِنْدَهُ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ.

23: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الصيام، باب صوم يوم عاشوراء، 2 / 794، الرقم: 1128، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 96، الرقم: 20946، و5 / 105، الرقم: 21046، والطيالسي في المسند، 1 / 106، الرقم: 784، وأبو عوانة في المسند، 2 / 240، الرقم: 2998.

’’حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں عاشورہ کے روزہ کا حکم دیتے تھے اور ہمیں اس کی ترغیب دیتے تھے اور اس کا اہتمام کرتے تھے، پھر جب رمضان فرض ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس دن کے روزے کا حکم دیا نہ اس سے روکا اور نہ اس کا اہتمام کیا۔‘‘

اِس حدیث کو امام مسلم اور احمد نے روایت کیا ہے۔

24. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی الله عنهما عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم فِي صَوْمِ يَوْمِ عَاشُوْرَاءَ: صُوْمُوْهُ، وَصُوْمُوْا قَبَلَهُ يَوْمًا أَوْ بَعْدَهُ يَوْمًا وَلَا تَتَشَبَّهُوْا بِالْيَهُوْدِ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّحَاوِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ.

24: أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 1 / 241، الرقم: 2154، والطحاوي في شرح معاني الآثار، 2 / 78، وابن خزيمة في الصحيح، 3 / 290، الرقم: 2095، والديلمي في مسند الفردوس، 2 / 393، الرقم: 3746.

’’حضرت (عبد اﷲ) بن عباس رضی اللہ عنہما نے یوم عاشورہ کے روزہ کے حوالے سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث مبارکہ بیان کی ہے کہ عاشورہ کا روزہ رکھو. اور اس سے پہلے یا بعد میں ایک دن کو ملا لو اور یہودیوں کی مشابہت نہ اختیار کرو.‘‘

اس حدیث کو احمد بن حنبل اور امام طحاوی نے مذکورہ الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔

(1) قوله صلی الله عليه وآله وسلم : صوموا قبله الخ، وقال الشيخ ابن الهمام: يستحب صوم يوم عاشوراء، ويستحب أن يصوم قبله يوما أو بعده يوما، فإن أفرده فهو مکروه للمتشبه باليهود (ابن همام، شرح فتح القدير، 2 / 350، وملا علي القاری، مرقاة المفاتيح، 4 / 469)، وروی أحمد خبر صوموا يوم عاشوراء وخالفوا اليهود وصوموا قبله يوما وبعده يوما.

’’آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان کہ یوم عاشور سے پہلے (یا بعد میں) بھی ایک دن کا روزہ رکھو. علامہ ابن ہمام نے کہا: یوم عاشور کا روزہ رکھنا مستحب ہے اور یہ بھی مستحب ہے کہ اس سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد کا بھی روزہ رکھا جائے، فقط اسی ایک دن کا روزہ یہود کے ساتھ مشابہت کی بناء پر مکروہ ہے۔ اور امام احمد نے اس حدیث کو روایت کیاہے کہ یوم عاشور کا روزہ رکھو اور یہودیوں کی مخالفت کرو اور اس سے ایک دن قبل اور ایک دن بعد کا روزہ بھی رکھو.‘‘

وَفِي رِوَايَةٍ: عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عَبَّاسٍ رضی الله عنهما يَقُوْلُ: حِيْنَ صَامَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ، قَالُوا: يَا رَسُوْلَ اﷲِ! إِنَّهُ يَوْمٌ تُعَظِّمُهُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارٰی. فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : فَإِذَا کَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ، إِنْ شَاءَ اﷲُ، صُمْنَا الْيَوْمَ التَّاسِعَ. قَالَ: فَلَمْ يَأتِ الْعَامُ الْمُقْبِلُ، حَتّٰی تُوُفِّيَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم .

أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الصيام، باب أي يوم الصيام في عاشوراء، 2 / 797، الرقم: 1134، وأبوداود في السنن، کتاب الصوم، باب ما روي أن عاشوراء اليوم التاسع، 2 / 327، الرقم: 2445، وأبوعوانة في المسند، 2 / 241، الرقم: 2999.

’’اور ایک روایت میں ہے: حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عاشورہ کا روزہ رکھا اور اس روزے کا حکم دیا تو صحابہ کرام l نے عرض کیا: یا رسول اﷲ! اس دن کی تو یہود اور نصاریٰ تعظیم کرتے ہیں۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اگلا سال آئے گا تو ہم ان شاء اﷲ نویں تاریخ کا بھی روزہ رکھیں گے۔ راوی کہتے ہیں: ابھی اگلا سال آنے نہ پایا تھا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وصال فرما گئے۔‘‘

25. عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْاَنْصَارِيِّ رضی الله عنه، أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم سُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُوْرَاءَ، فَقَالَ: يُکَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَأَبُوْدَاؤدَ وَالتِّرْمِذِيُّ.

25: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الصيام، باب استحباب صيام ثلاثة أيام من کل شهر وصوم يوم عرفة وعاشوراء، والإثنين والخميس 2 / 819، الرقم: 1162، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 308، الرقم: 22674، وأبوداود في السنن، کتاب الصيام، باب في صوم الدهر تطوعا، 2 / 321، الرقم: 2425، والترمذي في السنن، کتاب الصوم، باب ما جاء في الحث صوم يوم عاشوراء، 3 / 126، الرقم: 752، وابن ماجه في السنن، کتاب الصيام، باب صيام يوم عاشوراء، 1 / 553، الرقم: 1738، والنسائي في السنن الکبریٰ، 2 / 150، الرقم: 2796.

’’حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عاشورہ کے روزے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ روزہ گزشتہ سال کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام مسلم، احمد، ابواود اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔

26. عَنْ عَائِشَةَ رضی الله عنها، قَالَتْ: لَمْ يَکُنِ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم يَصُوْمُ شَهْرًا أَکْثَرَ مِنْ شَعْبَانَ، فَإِنَّهُ کَانَ يَصُوْمُ شَعْبَانَ کُلَّهُ.(1)

وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: کَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلَّا قَلِيْلا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

26: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب الصوم، باب صوم شعبان، 2 / 695، الرقم: 1869، ومسلم في الصحيح، کتاب الصيام، باب صيام النبي صلی الله عليه وآله وسلم رمضان واستحباب أن لا يخلي شهر عن صوم، 2 / 811، الرقم:1156، وأحمد بن حنبل في المسند، 6 / 143، الرقم: 25144، والنسائي في السنن، کتاب الصيام، باب ذکر اختلاف ألفاظ الناقلين لخبر عائشة فيه، 4 / 151، الرقم:2179.2180، وابن ماجه في السنن، کتاب الصيام، باب ما جاء في صيام النبي صلی الله عليه وآله وسلم، 1 / 545، الرقم: 1710.

’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شعبان سے زیادہ کسی اور مہینے میں (نفلی) روزے نہیں رکھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شعبان کا سارا مہینہ روزے رکھتے تھے۔‘‘

اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چند دن چھوڑ کر شعبان کا سارا مہینہ روزے رکھتے تھے۔‘‘یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

(1) قوله: ’’کَانَ يَصُوْمُ شَعْبَانَ کُلَّه‘‘ قال في فتح القدير: ومن صام شعبان ووصله برمضان فحسن، (ابن همام، شرح فتح القدير، 2 / 350). والمرغوبات من الصيام أنواع: أولها صوم المحرم، والثاني صوم رجب، والثالث صوم شعبان وصوم عاشوراء وهو اليوم العاشر من المحرم عند عامة العلماء والصحابة، کذا في الظهرية (قاله في الفتاوٰی الهندیة، 1 / 202). فإن قلت: ما وجه تخصيصه بشعبان بکثرة الصوم قلت لکون أعمال العباد ترفع فيه، ففي النسائي من حديث أسامة قلت: يا رسول اﷲ: أراک لا تصوم من شهر من الشهور ما تصوم من شعبان؟ قال: ذاک شهر ترفع فيه الأعمال إلی رب العالمين فأحب أن يرفع عملی وأنا صائم. قاله العلامة العيني في عمدة القاري (11 / 83).

’’راوی کا قول کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شعبان کا پورا مہینہ روزے رکھتے تھے، فتح القدیر میں اس حوالے سے ابن ہمام نے فرمایا: اور جس نے شعبان کا روزہ رکھا اور اسے رمضان کے ساتھ ملا دیا تو یہ بہتر ہے۔

’’نفلی روزوں کی درجے کے اعتبار سے کئی قسمیں ہیں: ان میں پہلا محرم کا روزہ ہے، دوسرا رجب کا روزہ، تیسرا شعبان اور عاشوراء کا روزہ، اور عام علماء کرام اور صحابہ کے نزدیک یہ محرم کا دسواں دن ہے . اسی طرح ظہیریہ میں ہے۔ اگر تو یہ کہے: کثرتِ صوم کو شعبان کے ساتھ کیوں مختص کیا گیا ہے؟، میں کہتا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ماہ میں بندوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہوتے ہیں، پس نسائی شریف میں حضرت اسامہ کی حدیث ہے: میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں آپ کو دیکھتا ہوں آپ شعبان میں جتنے روزے رکھتے ہیں کسی اور ماہ میں نہیں رکھتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایسا مہینہ ہے کہ جس میں اعمال اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہوتے ہیں، پس مجھے یہ پسند ہے کہ میرے اعمال حالتِ روزہ میں پیش ہوں۔‘‘

27. عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رضی الله عنه، قَالَ: قَالَ: رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : إِذَا کَانَتْ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَقُوْمُوْا لَيْلَهَا وَصُوْمُوْا نَهَارَهَا. فَإِنَّ اﷲَ يَنْزِلُ فِيْهَا لِغُرُوْبِ الشَّمْسِ إِلٰی سَمَائِ الدُّنْيَا. فَيَقُوْلُ: أَلاَ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ لِي فَاغْفِرَ لَهُ؟ أَ لَا مُسْتَرْزِقٌ فَأَرْزُقَهُ؟ أَلاَ مُبْتَلًی فَأُعَافِيَهُ؟ أَ لَا کَذَا أَ لَا کَذَا؟ حَتّٰی يَطْلُعَ الْفَجْرُ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه.

27: أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب إقامة الصلاة والسنة فيها، باب ما جاء في ليلة النصف من شعبان، 1 / 444، الرقم: 1388، وذکره الکناني في مصباح الزجاجة، 2 / 10، الرقم: 491، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 74، الرقم:1550.

’’حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب پندرہ شعبان کی رات ہو تو اس رات میں قیام کیا کرو اور دن کو روزہ رکھا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ غروبِ آفتاب کے وقت آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور فرماتا ہے: کیا کوئی میری بخشش کا طالب ہے کہ میں اسے بخش دوں؟ کیا کوئی رزق مانگنے والا ہے کہ میں اسے رزق دوں؟ کیا کوئی مصیبت زدہ ہے کہ میں اسے عافیت دے دوں؟ کیا کوئی ایسے ہے؟ ایسے ہے؟ یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے۔‘‘

اسے امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

28. عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ رضی الله عنه، أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم سُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَومِ الِْاثْنَيْنِ، فَقَالَ: ذَاکَ يَومٌ وُلِدْتُ فِيْهِ، وَيَوْمٌ بُعِثْتُ، أَوْ أُنْزِلَ عَلَيَّ فِيْهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ.

28: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الصيام، باب استحباب صيام ثلاثة أيام من کل شهر وصوم يوم عرفة وعاشوراء والاثنين والخميس، 2 / 819، الرقم: 1162، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 297، الرقم: 22594، والنسائي في السنن الکبری، 2 / 146، الرقم: 2777.

’’حضرت ابوقتادہ الانصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پیر کے دن کے روزے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ دن ہے جس میں میری ولادتِ باسعادت ہوئی اور اسی دن میں مبعوث ہوا یا اسی دن مجھ پر قرآن نازل کیا گیا۔‘‘ اس حدیث کو امام مسلم، احمد اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

29. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه، أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: تُعْرَضُ الْأَعْمَالُ يَوْمَ الإِثْنَيْنِ وَالْخَمِيْسِ، فَأُحِبُّ أَنْ يُعْرَضَ عَمَلِي، وَأَنَا صَائِمٌ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ.

29: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب الصوم، باب ما جاء في صوم يوم الاثنين والخميس، 3 / 122، الرقم: 747، وعبد الرزاق في المصنف، 4 / 314، الرقم: 7917، وذکره المنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 78، الرقم: 1569.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پیر اور جمعرات کو اعمال (بارگاہِ الٰہی میں) پیش کیے جاتے ہیں۔ پس مجھے یہ پسند ہے کہ میرا عمل جب پیش کیا جائے تو میں روزے کی حالت میں ہوں۔‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی اور عبدالرزاق نے بیان کیا ہے اور امام ترمذی نے کہا: یہ حدیث حسن غریب ہے۔

30. عَنْ عُبَيْدِ اﷲِ بْنِ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ أَوْ سُئِلَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم عَنْ صِيَامِ الدَّهْرِ، فَقَالَ: إِنَّ لِأَهْلِکَ عَلَيْکَ حَقًّا، صُمْ رَمَضَانَ، وَالَّذِي يَلِيْهِ، وَکُلَّ أَرْبِعَاءَ وَخَمِيْسٍ، فَإِذَا أَنْتَ قَدْ صُمْتَ الدَّهْرَ.

رَوَاهُ أَبُوْدَاؤدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ بِإِسْنَادٍ رِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

30: أخرجه أبوداود في السنن، کتاب الصوم، باب في صوم شوال، 2 / 324، الرقم: 2432، والترمذي في السنن، کتاب الصوم، باب ما جاء في صوم يوم الأربعاء والخميس، 2 / 123، الرقم: 748، والنسائی في السنن الکبری، 2 / 147، الرقم: 2779، والبيهقي في شعب الإيمان، 3 / 396، الرقم: 3869.

’’حضرت عبید اﷲ بن مسلم قرشی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے یا کسی اور شخص نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زندگی بھر (مسلسل) روزہ رکھنے کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (یہ جائز نہیں ہے)، تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے۔ رمضان کے روزے رکھ اور اس کے بعد آنے والے مہینے (شوال) کے روزے رکھ اور ہر بدھ اور جمعرات کو روزہ رکھ، اس طرح (گویا) تو نے عمر بھر روزے رکھے۔‘‘

اس حدیث کوامام ابو داود، ترمذی اور نسائی نے ثقہ رجال والی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

31. عَنْ عَائِشَةَ رضی الله عنها، قَالَتْ: کَانَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَصُوْمُ مِنَ الشَّهْرِ: السَّبْتَ، وَالْأَحَدَ وَالْإِثْنَيْنَ: وَمِنَ الشَّهْرِ الْآخَرِ: الثُّ.لَاثَاءَ، وَالْأَرْبِعَاءَ، وَالْخَمِيسَ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَرَویٰ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ مَهْدِيٍّ هٰذَا الْحَدِيثَ، عَنْ سُفْيَانَ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ.

31: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب الصوم، باب ما جاء في صوم يوم الاثنين والخميس، 3 / 122، الرقم: 746، وعبد الرزاق في المصنف، 4 / 314، الرقم: 7914.

’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ماہ ہفتہ، اتوار اور پیر کا روزہ رکھتے اور دوسرے ماہ منگل، بدھ اور جمعرات کا روزہ رکھتے۔‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی اور عبد الرزاق نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے اور عبدالرحمن بن مہدی نے اسے سفیان سے غیر مرفوع روایت کیا ہے۔

32. عَنْ مَوْلٰی أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ انْطَلَقَ مَعَ أُسَامَةَ إِلٰی وَادِي الْقُرٰی فِي طَلَبِ مَالٍ لَهُ، فَکَانَ يَصُوْمُ يَوْمَ الْاِثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيْسِ، فَقَالَ لَهُ مَوْلَاهُ: لِمَ تَصُوْمُ يَوْمَ الْاِثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيْسِ وَأَنْتَ شَيْخٌ کَبِيرٌ؟ فَقَالَ: إِنَّ نَبِيَّ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم کَانَ يَصُوْمُ يَوْمَ الْاِثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيْسِ، وَسُئِلَ عَنْ ذٰلِکَ، فَقَالَ: إِنَّ أَعْمَالَ الْعِبَادِ تُعْرَضُ يَوْمَ الْاِثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيْسِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَاللَّفْظُ لَهُ.

32: أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 5 / 200، الرقم: 21792، وأبوداود في السنن، کتاب الصوم، باب في صوم الاثنين والخميس، 2 / 325، الرقم: 2436.

’’اسامہ بن زید کے آزاد کردہ غلام سے روایت ہے کہ وہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے اونٹ تلاش کرنے کے لئے وادی القریٰ گئے۔ چنانچہ وہ (حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ ) پیر اور جمعرات کا روزہ رکھا کرتے تھے۔ ان کے آزاد کردہ غلام نے ان سے کہا: آپ پیر اور جمعرات کو روزہ کیوں رکھتے ہیں حالانکہ آپ بہت بوڑھے ہوگئے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: بے شک اﷲ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی پیر اور جمعرات کو روزہ رکھا کرتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا سبب پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پیر اور جمعرات کو بندوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کئے جاتے ہیں۔‘‘

اِس حدیث کو امام احمد بن حنبل اور ابو داود نے مذکورہ الفاظ سے روایت کیا ہے۔

33. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه، أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم کَانَ يَصُوْمُ الِْاثْنَيْنِ وَالْخَمِيْسَ. فَقِيْلَ: يَا رَسُولَ اﷲِ، إِنَّکَ تَصُومُ الِْاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ؟ فَقَالَ: إِنَّ يَوْمَ الِْاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ يَغْفِرُ اﷲُ فِيهِمَا لِکُلِّ مُسْلِمٍ إِلَّا مُتَهَاجِرَيْنِ. يَقُولُ: دَعْهُمَا حَتّٰی يَصْطَلِحَا. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه.

33: أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب الصيام، باب صيام يوم الاثنين والخميس، 1 / 553، الرقم: 1740.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! آپ پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پیر اور جمعرات کے روز اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کی مغفرت فرماتا ہے سوائے باہم قطع تعلق کرنے والوں کے، ان کے لیے حکم فرماتا ہے: انہیں چھوڑ دو تاوقتیکہ یہ دونوں صلح کر لیں۔‘‘

اس حدیث کو امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

34. عَنِ أَبِي أُمَامَةَ رضی الله عنه قَالَ: سَمِعتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ: مَنْ صَامَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءَ وَالْخَمِيْسَ وَالْجُمُعَةَ بَنَی اﷲُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ، يُرٰی ظَاهِرُهُ مِنْ بَاطِنِهِ وَبَاطِنُهُ مِنْ ظَاهِرِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادِهِ.

34: أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 8 / 250، الرقم:7981، وأيضًا في المعجم الأوسط، 1 / 86، الرقم:253، وذکره المنذري في الترغيب والترهيب، 2:80، الرقم: 1576، والهيثمي في مجمع الزوائد، 3 / 198.

’’حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص بدھ، جمعرات اور جمعہ کا روزہ رکھتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ایسا (صاف وشفاف)گھر بناتا ہے جس کا بیرونی حصہ اندر سے دیکھا جا سکتا ہے اور اندرونی حصہ باہر سے۔‘‘

اس حدیث کو امام طبرانی نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

35. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه : أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُولُ: مَنْ صَامَ الْأَرْبِعَاءَ، وَالْخَمِيْسَ، وَالْجُمُعَةَ، بَنَی اﷲُ لَهُ قَصْرًا فِي الْجَنَّةِ مِنْ لُؤْلُؤٍ، وَيَاقُوْتٍ، وَزَبَرْجَدٍ، وَکَتَبَ لَهُ بَرَاءَ ةً مِنَ النَّارِ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادِهِ وَالْبَيْهَقِيُّ.

35: أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 1 / 87، الرقم:254، وأيضًا في مسند الشاميين، 2 / 366، الرقم:1506، والبيهقي في شعب الإيمان، 3 / 397، الرقم:3873.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو شخص بدھ، جمعرات اور جمعہ کا روزہ رکھتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں موتی، یاقوت اور زمرد کا گھر بنا دیتا ہے اور اس کے لیے دوزخ سے نجات لکھ دیتا ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام طبرانی نے اپنی سند کے ساتھ اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

36. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ: لَا يَصُوْمَنَّ أَحَدُکُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَّا يَوْمًا قَبْلَهُ أَوْ بَعْدَهُ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

36: أخرجه البخاری في الصحيح،کتاب الصوم، باب الصوم يوم الجمعة. . .، 2 / 700، الرقم: 1884، وابن أبي شيبة في المصنف، 2 / 302، الرقم: 9246.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے کوئی صرف جمعہ کا روزہ نہ رکھے سوائے اس کے کہ اس سے پہلے یا بعد والے دن کا بھی ساتھ روزہ رکھے۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

37. عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ رضی الله عنه قَالَ: نَهَی النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَالنَّحْرِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

37: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب الصوم، باب صوم يوم الفطر، 2 / 702، الرقم:1890، ومسلم في الصحيح، کتاب الصيام، باب النهي عن صوم يوم الفطر ويوم الأضحٰی، 2 / 799، الرقم: 1138، وأحمد بن حنبل في المنسد، 3 / 85، الرقم: 11821، وابن ماجه في السنن، کتاب الصيام، باب في النهي عن صيام يوم الفطر والأضحی، 1 / 549، الرقم: 1721، والأصبهاني في مسند أبي حنيفة، 1 / 163.

’’حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عید الفطر اور قربانی کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

38. عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رضی الله عنه، قَالَ: قالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : يَوْمُ عَرَفَةَ، وَيَوْمُ النَّحْرِ، وَأَيَامُ التَّشْرِيقِ عِيْدُنَا، أَهْلَ الْإِسْلَامِ، وَهِيَ أَيَامُ أَکْلٍ وَشُرْبٍ. رَوَاهُ أَبُوْدَاؤدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ.

38: أخرجه أبوداود في السنن، کتاب الصوم، باب صيام أيام التشريق، 2 / 320، الرقم: 2419، والترمذي في السنن، کتاب الصوم، باب في کراهية الصوم في أيام التشريق، 3 / 143، الرقم: 773، والنسائی في السنن، کتاب مناسک الحج، باب النهي عن صوم يوم عرفة، 5 / 252، الرقم: 3004، والدارمي في السنن، کتاب الصوم، باب في صيام يوم عرفة، 2 / 37، الرقم: 1764، وابن أبي شيبة في المصنف، 3 / 394، الرقم: 15270، وابن خزيمة في الصحيح، 3 / 292، الرقم: 2100، والبيهقي في السنن، 4 / 298، الرقم: 8245.

’’حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یوم عرفہ، قربانی کا دن اور ایام تشریق (عید الاضحی کے بعد تین دن) ہم مسلمانوں کی عید اور کھانے پینے کے دن ہیں۔‘‘

اِس حدیث کو امام ابوداود، ترمذی اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

39. عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم نَهٰی عَنْ صَوْمِ خَمْسَةِ أَيّامٍ فِي السَّنَةِ: يَوْمِ الفِطْرِ، وَيَوْمِ النَّحْرِ، وَثَ.لَاثَةِ أَيَامِ التَّشْرِيقِ.

رَوَاهُ الدَّارَ قُطْنِيُّ.

39: أخرجه الدارقطني في السنن، کتاب الصيام، باب طلوع الشمس بعد الإفطار، 2 / 212، الرقم: 34، وأبو يعلی في المسند، 7 / 149، الرقم: 4117.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سال میں پانچ دن کے روزوں سے منع فرمایا: یوم الفطر، یوم اضحی، اور تین دن تشریق کے۔‘‘

اس حدیث کو امام دارقطنی نے روایت کیا ہے۔

40. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه : أَنَّ رَسُولَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: لَا يَحِلُّ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تَصُوْمَ وَزَوْجُهَا شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ، وَلَا تَأذَنَ فِي بَيْتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ، وَمَا أَنفَقَتْ مِنْ نَفَقَةٍ عَنْ غَيْرِ أَمْرِهِ فَإِنَّهُ يُؤَدّٰی إِلَيْهِ شَطْرُهُ.

رَوَاهُ الْبُخَاريُّ.

40: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب النکاح، باب لا تأذن المرأة في بيت زوجها لِأَحَدٍ إلا بإذنه، 5 / 1994، الرقم: 4899، وابن حبان في الصحيح، 9 / 478، الرقم: 4170، وأبوعوانة في المسند، 2 / 228، الرقم: 2948، والحميدي في المسند، 2 / 443، الرقم: 1016، والطبراني في المعجم الأوسط، 1 / 93، الرقم: 282، وأبويعلی في المسند، 11 / 156، الرقم: 6273، والبيهقي في شعب الإيمان، 7 / 509، الرقم: 11155.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ اپنے خاوند کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ رکھے۔ اور کسی کو اس کے گھر میں آنے نہ دے، مگر اس کی اجازت سے۔ اور اگر وہ خاوند کی اجازت کے بغیر مال خرچ کر لے گی، تو وہ اُس کو ادا کیا جائے گا۔‘‘ اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

41. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی الله عنهما قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلٰی رَسُولِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم فَقَالَتْ: يَا رَسُوْلَ اﷲِ، إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ نَذْرٍ. أَفَأَصُومُ عَنْهَا؟ قَالَ: أَرَأَيْتِ لَوْ کَانَ عَلَی أُمِّکِ دَيْنٌ فَقَضَيْتِهِ، أَکَانَ يُؤَدّٰی ذٰلِک عَنْهَا؟ قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: فَصُومِي عَنْ أُمِّکِ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

41: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الصيام، باب قضاء الصيام عن الميت، 2 / 804، الرقم: 1148، وابن حبان في الصحيح، 10 / 240، الرقم: 4396، والنسائي في السنن الکبریٰ، 2 / 174، الرقم: 2917، وأبو نعيم في المسند المستخرج علی صحيح مسلم، 3 / 224، الرقم: 2606.

’’حضرت (عبد اﷲ) بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک عورت نے حاضر ہو کر کہا: یا رسول اللہ! میری ماں فوت ہو گئی ہے اور اس پر نذر کا روزہ تھا، کیا میں اس کی طرف سے روزہ رکھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کیا دیکھتی ہو کہ اگر تمہاری ماں پر قرض ہوتا پھر تم اس کی طرف سے قرض ادا کرتیں تو کیا وہ اُسی کی طرف سے ادائیگی شمار کیا جاتا؟ اس نے عرض کیا: جی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (پھر اللہ تعالیٰ قرض ادا کیے جانے کا زیادہ حقدار ہے) پس تم اپنی ماں کی طرف سے روزہ رکھو.‘‘ اِس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved