Arba‘in: Virtues of the Rightly-Guided Caliphs

الاحادیث النبویۃ

اَلاَحَادِيْثُ النَّبَوِيَۃُ

1. عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رضي اﷲ عنهما يَقُوْلُ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : خَيْرُ أُمَّتِي قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ. ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ، قَالَ عِمْرَانُ : فَلَا أًدْرِي : أَذَکَرَ بَعْدَ قَرْنِه قَرْنَيْنِ أَوْ ثَلَاثاً. ثُمَّ إِنَّ بَعْدَکُمْ قَوْمًا يَشْهَدُوْنَ وَلَا يُسْتَشْهَدُوْنَ، وَيَخُوْنُوْنَ وَلَا يُؤْتَمَنُوْنَ، وَيَنْذُرُوْنَ وَلَا يَفُوْنَ، وَيَظْهَرُ فِيْهِمُ السِّمَنُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

1 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب فضائل الصحابة، باب فضائل أصحاب النبي صلی الله عليه وآله وسلم ، 3 / 1335، الرقم : 3450، ومسلم في الصحيح، کتاب فضائل الصحابة، باب فضل الصحابة ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم، 4 / 1964، الرقم : 5235.

’’حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میری بہترین امت میرے زمانہ کی ہے پھر ان کے زمانہ کے بعد کے لوگ اور پھر ان کے زمانہ کے بعد کے لوگ (حضرت عمران رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے زمانہ کے بعد دو زمانوںکا ذکر فرمایا یا تین زمانوں کا). (فرمایا:) پھر تمہارے بعد ایسی قوم آئے گی کہ وہ گواہی دیں گے حالانکہ ان سے گواہی طلب نہیں کی جائے گی. وہ خیانت کریں گے اور ان پر اعتماد نہیں کیا جائے گا. وہ نذریں مانیں گے مگر ان کو پورا نہیں کریں گے اور ان میں موٹاپا ظاہر ہو گا. ‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے.

2. عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رضی الله عنه قَالَ : وَعَظَنَا رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَوْمًا بَعْدَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ مَوْعِظَةً بَلِيْغَةً ذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُوْنُ وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوْبُ، فَقَالَ رَجُلٌ : إِنَّ هٰذِه مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ فَمَاذَا تَعْهَدُ إِلَيْنَا يَا رَسُوْلَ اﷲِ؟ قَالَ : أُوْصِيْکُمْ بِتَقْوَی اﷲِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَإِنْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ، فَإِنَّه مَنْ يَعِشْ مِنْکُمْ يَرَی اخْتِلَافًا کَثِيْرًا، وَإِيَاکُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْاُمُوْرِ، فَإِنَّهَا ضَلَالَةٌ، فَمَنْ أَدْرَکَ ذَالِکَ مِنْکُمْ، فَعَلَيْکُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَائِ الرَّاشِدِيْنَ الْمَهْدِيِّيْنَ، عَضُّوْا عَلَيْهَا بَالنَّوَاجِذِ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه وَأَحْمَدُ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ. وَقَالَ الْحَاکِمُ : هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ لَيْسَ لَه عِلَّةٌ.

2 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب العلم، باب ما جاء في الأخذ بالسنة واجتناب البدع، 5 / 44، الرقم : 2676، وأبو داود في السنن، کتاب السنة، باب في لزوم السنة، 4 / 200، الرقم : 4607، وابن ماجه في السنن، المقدمه، باب اتباع سنة الخلفاء الراشدين المهديين، 1 / 15، الرقم : 42، واحمد بن حنبل في المسند، 4 / 126، والحاکم في المستدرک، 1 / 174، الرقم : 329.

’’حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فجر کی نماز کے بعد ہمیں نہایت فصیح و بلیغ وعظ فرمایا، جس سے آنکھوں میں آنسو جاری ہو گئے اور دل کانپنے لگے. ایک شخص نے کہا : یہ تو الوداع ہونے والے شخص کے وعظ جیسا (خطاب) ہے. یا رسول اﷲ! آپ ہمیں کیا وصیت فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں تمہیں پرہیزگاری اور سننے اور ماننے کی وصیت کرتا ہوں، خواہ تمہارا حاکم حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو. اس لیے کہ تم میں سے جو زندہ رہے گا وہ بہت سے اختلاف دیکھے گا. خبردار (شریعت کے خلاف) نئی باتوں سے بچنا کیوں کہ یہ گمراہی کا راستہ ہے لہٰذا تم میں سے جو یہ زمانہ پائے تو وہ میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت کو اختیار کر لے، تم لوگ (میری سنت کو) دانتوں سے مضبوطی سے پکڑ لینا (یعنی اس پر سختی سے کاربند رہنا).‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی، ابو داود، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے. امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے. اور امام حاکم نے فرمایا : یہ حدیث صحیح ہے اور اس میں کوئی علت نہیں ہے.

3. عَنْ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رضی الله عنه يَقُوْلُ : وَعَظَنَا رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم مَوْعِظَةً ذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُوْنُ وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوْبُ فَقُلْنَا : يَا رَسُوْلَ اﷲِ، إِنَّ هٰذِه لَمَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ فَمَاذَا تَعْهَدُ إِلَيْنَا؟ قَالَ : قَدْ تَرَکْتُکُمْ عَلَی الْبَيْضَائِ لَيْلُهَا کَنَهَارِهَا لَا يَزِيْغُ عنها بَعْدِي إِلَّا هَالِکٌ مَنْ يَعِشْ مِنْکُمْ فَسَيَرَی اخْتِلَافًا کَثِيْرًا فَعَلَيْکُمْ بِمَا عَرَفْتُمْ مِنْ سُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَائِ الرَّاشِدِيْنَ الْمَهْدِيِّيْنَ عَضُّوْا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ وَعَلَيْکُمْ بِالطَّاعَةِ وَإِنْ عَبْدًا حَبَشِيًّا فَإِنَّمَا الْمُؤْمِنُ کَالْجَمَلِ الْاَنِفِ حَيْثُمَا قِيْدَ انْقَادَ.

رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَأَحْمَدُ وَأَبُوْ نُعَيْمٍ وَالْحَاکِمُ، وَقَالَا : وَهٰذَا حَدِيْثٌ جَيِّدٌ مِنْ صَحِيْحِ حَدِيْثِ الشَّامِيِّيْنِ.

3 : أخرجه ابن ماجه في السنن، المقدمه، باب اتباع سنة الخلفاء الراشدين المهديين، 1 / 16، الرقم : 43، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 126، الرقم : 17182، وأبو نعيم في المسند المستخرج، 1 / 35-36، الرقم : 2، والحاکم في المستدرک، 1 / 175، الرقم : 331، والطبراني في المعجم الکبير، 18 / 247، الرقم : 619.

’’حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایسی نصیحت فرمائی جس سے لوگوں کی آنکھیں بہنے لگیں اور دل دہل گئے، ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ! آپ نے تو ہمیں ایسی نصیحت فرمائی جیسے آپ ہمیں رخصت فرما رہے ہوں. ہم سے کوئی عہد بھی لے لیجیے. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں تمہیں ایسے منور دین پر چھوڑے جا رہا ہوں جس کے شب و روز برابر ہیں، اس دین سے وہی رُوگردانی کرے گا جس کی قسمت میں بربادی ہے، تم میں سے جو لوگ میرے بعد زندہ رہیں گے وہ ایک زبردست اختلاف دیکھیں گے تو تم میری سنت اور خلفائے راشدین کی سنت کو پہچان کر دانتوں سے مضبوط پکڑ لینا اور اطاعت کو اپنے اوپر لازم کر لینا اگرچہ تمہارا امیر ایک حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، کیوں کہ مومن کی مثال اونٹ کی طرح ہے کہ جس کے ہاتھ اس کی نکیل ہو اس کا مطیع فرمانبردار ہوتا ہے.‘‘

اس حدیث کو امام ابن ماجہ، احمد، ابو نعیم اور حاکم نے روایت کیا ہے. امام حاکم اور ابو نعیم نے اس کے رواۃ کو ثقات کہا ہے اور اس حدیث کو شامیوں کی صحیح روایات میں سے جید قرار دیا.

4. عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم صَعِدَ اُحُدًا، وَاَبُوْ بَکْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ، فَرَجَفَ بِهِمْ، فَقَالَ : اثْبُتْ اُحُدُ، فَإِنَّمَا عَلَيْکَ نَبِيٌّ وَصِدِّيْقٌ، وَشَهِيْدَانِ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ وَاَبُوْ دَاوُدَ.

4 : اخرجه البخاري في الصحيح، کتاب فضائل اصحاب النبي صلی الله عليه وآله وسلم ، باب فضائل أبي بکر، 3 / 1344، الرقم : 3472، والترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب في مناقب عثمان بن عفان، 5 / 624، الرقم : 3697، وابو داود في السنن، کتاب السنة، باب في الخلفاء، 4 / 212، الرقم : 4651.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جبلِ اُحد پر تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان (رضی اللہ عنہ) بھی تھے، اچانک پہاڑ اُن (کی آمد) کے باعث (جوشِ مسرت سے) جھومنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے اُحد! ٹھہر جا، تیرے اوپر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں.‘‘

اسے امام بخاری، ترمذی اور ابوداود نے روایت کیا ہے.

5. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲُ عنهما قَالَ : إِنِّي لَوَاقِفٌ فِي قَوْمٍ فَدَعَوا اﷲَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَقَدْ وُضِعَ عَلٰی سَرِيْرِه، إِذًا رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي قَدْ وَضَعَ مِرْفَقَه عَلٰی مَنْکِبِي يَقُوْلُ : رَحِمَکَ اﷲُ، إِنْ کُنْتُ لَارْجُوْ انْ يَجْعَلَکَ اﷲُ مَعَ صَاحِبَيْکَ، لِانِّي کَثِيْرًا مِمَّا کُنْتُ اسْمَعُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : کُنْتُ وَابُوْ بَکْرٍ وَعُمَرُ، وَفَعَلْتُ وَابُوْ بَکْرٍ وَعُمَرُ، وَانْطَلَقْتُ وَابُوْ بَکْرٍ وَعُمَرُ فَإِنْ کُنْتُ لَارْجُوْ انْ يَجْعَلَکَ اﷲُ مَعَهُمَا، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

5 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب المناقب، باب قول النبي صلی الله عليه وآله وسلم : لو کنت متخذا خلیلا، 3 / 1345، الرقم : 3474، ومسلم في الصحيح، کتاب فضائل الصحابة، باب من فضائل عمر ص، 4 / 1858، الرقم : 2389.

’’حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا : (حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد) میں لوگوں کے ہمراہ کھڑا تھا جنہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے لیے اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کی. اس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ (کی میت) کو چارپائی پر رکھا جا چکا تھا، اچانک ایک شخص میرے پیچھے سے آیا اور اپنی کہنی میرے کندھے پر رکھ کر (حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو میت سے مخاطب ہو کر) کہنے لگا : اﷲ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے، میں امید کرتا تھا کہ اﷲ تعالیٰ آپ کو اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ رکھے گا کیوں کہ میں اکثر سنتا تھا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے : میں، ابو بکر اور عمر تھے، اور میں نے ابو بکر اور عمر نے (فلاں کام)کیا، میں، ابو بکر اور عمر (فلاں جگہ) گئے. مجھے امیدِ واثق ہے کہ اﷲ تعالیٰ آپ کو اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ رکھے گا. (حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ) میں اُس شخص کی طرف متوجہ ہوا تو ( کیا دیکھتا ہوں) وہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے.‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے.

6. عَنْ أَبِي مُوْسَی الْاشْعَرِيِّ رضی الله عنه قَالَ : بَيْنَمَا رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم فِي حَائِطٍ مِنْ حَائِطِ الْمَدِيْنَةِ، هُوَ مُتَّکِيئٌ يَرْکُزُ بِعُوْدٍ مَعَه بَيْنَ الْمَائِ وَالطِّيْنِ، إِذَا اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ. فَقَالَ : افْتَحْ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ قَالَ : فَإِذَا أَبُوْ بَکْرٍ. فَفَتَحْتُ لَه وَبَشَّرْتُه بِالْجَنَّةِ. قَالَ : ثُمَّ اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ آخَرُ. فَقَالَ : افْتَحْ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ، قَالَ : فَذَهَبْتُ فَإِذَا هُوَ عُمَرُ. فَفَتَحْتُ لَه وَبَشَّرْتُه بِالْجَنَّةِ. ثُمَّ اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ آخَرُ. قَالَ : فَجَلَسَ النَّبِيّ صلی الله عليه وآله وسلم فَقَالَ : افْتَحْ وَبَشِّرْه بِالْجَنَّةِ عَلٰی بَلْوٰی تَکُوْنُ قَالَ : فَذَهَبْتُ فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ. قَالَ : فَفَتَحْتُ وَبَشَّرْتُه بِالْجَنَّةِ. قَالَ : وَقُلْتُ الَّذِي قَالَ : فَقَالَ : اَللّٰهُمَّ، صَبْرًا. أَوِ اﷲُ الْمُسْتَعَانُ.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ.

6 : اخرجه البخاري في الصحيح، کتاب فضائل الصحابة، باب مناقب عمر بن الخطاب ص، 3 / 1350، الرقم : 3490، ومسلم في الصحيح، کتاب فضائل الصحابة ث، باب من فضائل عثمان بن عفان ص، 4 / 1867، الرقم : 2403.

’’حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ کے ایک باغ میں تکیہ لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، اور ایک لکڑی سے گیلی مٹی کھرچ رہے تھے، ایک شخص نے دروازہ پر دستک دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : دروازہ کھول کر اس (آنے والے) کو جنت کی بشارت دے دو، حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا : آنے والے حضرت ابوبکر تھے، میں نے دروازہ کھول کر ان کو جنت کی بشارت دے دی. پھر ایک شخص نے دروازہ پر دستک دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : دروازہ کھول کر اس (آنے والے) کو (بھی) جنت کی بشارت دے دو، حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں گیا تو وہ حضرت عمر تھے، میں نے دروازہ کھول کر ان کو بھی جنت کی بشارت دے دی، پھر ایک شخص نے دروازہ پر دستک دی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ گئے اور فرمایا دروازہ کھول دو اور اس (آنے والے) کو مصیبتوں کے ساتھ جنت کی بشارت دے دو، میں نے جاکر دروازہ کھولا تو وہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے، میں نے دروازہ کھولا اور ان کو جنت کی بشارت دی، اور جو کچھ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا وہ بھی کہہ دیا تو انہوں نے کہا : اے اللہ صبر عطا فرما، یا اللہ تجھ ہی سے مدد طلب کی گئی ہے.‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے اور مذکورہ الفاظ مسلم کے ہیں.

7. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما انَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : ارِيْتُ فِي الْمَنَامِ انِّي انْزِعُ بِدَلْوِ بَکْرَةٍ عَلٰی قَلِيْبٍ فَجَائَ ابُوْ بَکْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوْبًا اوْ ذَنُوْبَيْنِ نَزْعًا ضَعِيْفًا وَاﷲُ يَغْفِرُ لَهُ، ثُمَّ جَائَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا فَلَمْ ارَ عَبْقَرِيًّا يَفْرِي فَرِيَهُ حَتّٰی رَوِيَ النَّاسُ وَضَرَبُوْا بِعَطَنٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

7 : اخرجه البخاري في الصحيح، کتاب المناقب، مناقب عمر بن الخطاب ص، 3 / 1347، الرقم : 3479، ومسلم في الصحيح، کتاب فضائل الصحابة، باب من فضائل عمر ص، 4 / 1860.

’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : خواب میں مجھے دکھایا گیا کہ میں ایسے کنوئیں سے ڈول کے ساتھ پانی نکال رہا ہوں، جس پر چرخی لگی ہوئی ہے. پھر ابوبکر آئے اور انہوں نے ایک یا دو ڈول نکالے لیکن کمزوری کے ساتھ، اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرمائے. اس کے بعد عمر بن خطاب آئے تو وہ ڈول ایک بڑے ڈول میں بدل گیا اور میں نے کسی بھی جوان مرد کو اس طرح کام کرتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ تمام لوگ جانوروں کو سیراب کر کے ان کے ٹھکانے پر لے گئے.‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے.

8. عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَةِ قَالَ : قُلْتُ لِابِي : ايُّ النَّاسِ خَيْرٌ بَعْدَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم ؟ قَالَ : ابُوْ بَکْرٍ، قُلْتُ : ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ : ثُمَّ عُمَرُ. وَخَشِيْتُ أَنْ يَقُوْلَ عُثْمَانُ، قُلْتُ : ثُمَّ انْتَ؟ قَالَ : مَا انَا إِلَّا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَابُوْ دَاوُدَ وَأَحْمَدُ.

8 : اخرجه البخاري في الصحيح، کتاب أصحاب النبي صلی الله عليه وآله وسلم ، باب قول النبي صلی الله عليه وآله وسلم : لو کنت متخذا خلیلا، 3 / 1342، الرقم : 3468، وابو داود في السنن، کتاب السنة، باب في التفضیل، 4 / 206، الرقم : 4629، وأحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، 1 / 321، الرقم : 445.

’’حضرت محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا : میں نے اپنے والد (حضرت علی رضی اللہ عنہ) سے دریافت کیا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سب سے بہتر کون شخص ہے؟ انہوں نے فرمایا : ابوبکر رضی اللہ عنہ پھر میں نے کہا : ان کے بعد؟ انہوں نے فرمایا : عمر رضی اللہ عنہ. تو میں نے اس خوف سے کہ اب وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا نام لیں گے خود ہی کہہ دیا کہ پھر آپ ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے (بطور عاجزی) فرمایا : نہیں میں تو مسلمانوں میں سے ایک عام مسلمان ہوں.‘‘

اس حدیث کو امام بخاری، ابوداود اور احمد نے روایت کیا ہے.

9. عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي اﷲُ عنهما قَالَ : کُنَّا نَقُوْلُ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم لَا نَعْدِلُ بِأَبِي بَکْرٍ أَحَدًا ثُمَّ عُمَرَ ثُمَّ عُثمَانَ ثُمَّ نَتْرُکُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم لَا نُفَاضِلُ بَيْنَهُمْ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَابُوْدَاوُدَ.

9 : اخرجه البخاري في الصحيح، کتاب فضائل أصحاب النبي صلی الله عليه وآله وسلم ، باب مناقب عثمان بن عفان، 3 / 1352، الرقم : 3494، وابو داود في السنن، کتاب السنة، باب في التفضيل، 4 / 206، الرقم : 4627.

’’حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنھما سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا : ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہِ اقدس میں حضرت ابو بکر کے برابر کسی کو شمار نہیں کرتے تھے. پھر اُن کے بعد حضرت عمر کو، پھر ان کے بعد حضرت عثمان کو اُن کے بعد ہم باقی اصحابِ رسول کو ایک دوسرے پر فضیلت نہیں دیتے تھے.‘‘

اس حدیث کو امام بخاری اور ابوداود نے روایت کیا ہے.

10. عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ رضی الله عنه أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُوْلَ اﷲِ، إِنِّي رَأَيْتُ کَأَنَّ دَلْوًا دُلِّيَ مِنَ السَّمَائِ فَجَائَ أَبُوْ بَکْرٍ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيْهَا، فَشَرِبَ شُرْبًا ضَعِيْفًاَ ثُمَّ جَائَ عُمَرُ فَاخَذَ بِعَرَاقِيْهَا، فَشَرِبَ حَتّٰی تَضَلَّعَ، ثُمَّ جَائَ عُثْمَانُ فَاخَذَ بِعَرَاقِيْهَا، فَشَرِبَ حَتّٰی تَضَلَّعَ، ثُمَّ جَائَ عَلِيٌّ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيْهَا فَانْتَشَطَتْ وَانْتَضَحَ عَلَيْهِ مِنْهَا شَيئٌ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَابُوْ دَاوُدَ وَاللَّفْظُ لَه وَأَحْمَدُ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.

10 : اخرجه مسلم في الصحيح، کتاب فضائل الصحابة ث، باب من فضائل عمر ص، 4 / 1861، الرقم : 2392، وابو داود في السنن، کتاب السنة، باب في الخلفاء، 4 / 208، الرقم : 4637، واحمد بن حنبل في المسند، 5 / 21، الرقم : 23873، وابن ابي شیبۃ في المصنف، 6 / 356، الرقم : 32001.

’’حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض گزار ہوا : یا رسول اﷲ! میں نے (خواب میں) دیکھا کہ گویا ایک ڈول آسمان سے لٹکایا گیا ہے. پس حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور اس کو کناروں سے پکڑ کر بمشکل پیا. (مراد ان کے دور خلافت کی مشکلات ہیں). پھر حضرت عمرصآئے اور اسے کناروں سے پکڑ کر پیا یہاں تک کہ خوب شکم سیر ہو گئے. پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آئے اور اس کوکناروں سے پکڑ کر پیا. پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے اسے کناروں سے پکڑا تو وہ ہل گیا اور اس میں سے کچھ پانی ان کے اوپر گر گیا.‘‘

اس حدیث کو امام مسلم، ابوداود، احمد اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے مذکورہ الفاظ ابوداود کے ہیں.

11. عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم کَانَ يَخْرُجُ عَلٰی أَصْحَابِه مِنَ الْمُهَاجِرِيْنَ وَالْانْصَارِ. وَهُمْ جُلُوْسٌَوفِيْهِمْ أَبُوْبَکْرٍ وَعُمَرُ. فَلَا يَرْفَعُ إِلَيْهِ أَحَدٌ مِنْهُمْ بَصَرَهُ إِلَّا أَبُوْ بَکْرٍ وَعُمَرُ. فَإِنَّهُمَا کَانَا يَنْظُرَانِ إِلَيْهِ، وَيَنْظُرُ إِلَيْهِمَا، وَيَتَبَسَّمَانِ إِلَيْهِ وَيَتَبَسَّمُ إِلَيْهِمَا.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ وَابْنُ حُمَيْدٍ وَالْحَاکِمُ.

11 : اخرجه الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب في مناقب أبي بکر وعمر رضي اﷲ عنهما کليهما، 5 / 612، الرقم : 3668، واحمد بن حنبل في المسند، 3 / 150، الرقم : 12538، وعبد بن حميد في المسند، 1 / 388، الرقم : 1298، والحاکم في المستدرک، 1 / 209، الرقم : 418.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مہاجرین و انصار صحابہ کرام ث کی مجلس میں تشریف لایا کرتے. (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) بیٹھے ہوتے اور ان میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اورحضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود ہوتے. ان صحابہ کرام ث میں سے کوئی بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف نظریں اُٹھا کر نہیں دیکھتا تھا سوائے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے. سو یہ دونوں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دیکھا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان دونوں کی طرف دیکھا کرتے. وہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دیکھ کر مسکراتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان دونوں کی طرف دیکھ کر تبسم فرمایا کرتے تھے.‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی، احمد، ابن حمید اور حاکم نے روایت کیا ہے.

12. عَنْ ابِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا لَهُ وَزِيْرَانِ مِنْ أَهْلِ السَّمَائِ وَوَزِيْرَانِ مِنْ أَهْلِ الْارْضِ، فَأَمَّا وَزِيْرَايَ مِنْ أَهْلِ السَّمَائِ فَجِبْرِيْلُ وَمِيْکَائِيْلُ، وَأَمَّا وَزِيْرَايَ مِنْ أَهْلِ الْارْضِ فَأَبُوْ بَکْرٍ وَعُمَرُ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ الْجَعْدِ وَأَحْمَدُ وَالْحَاکِمُ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ.

12 : اخرجه الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب في مناقب ابي بکر وعمر رضي اﷲ عنهما کليهما، 5 / 616، الرقم : 3680، وابن الجعد في المسند، 1 / 298، الرقم : 2026، وأحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، 1 / 164، الرقم : 152، والحاکم في المستدرک، 2 / 290، الرقم : 3047.

’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہر نبی کے لیے دو وزیر آسمان والوں میں سے اور دو وزیر زمین والوں میں سے ہیں. سو آسمان والوں میں سے میرے دو وزیر، جبرائیل و میکائیل علیہما السلام ہیں اور زمین والوں میں سے میرے دو وزیر ابوبکر اور عمر ہیں‘‘.

اس حدیث کو امام ترمذی، ابن الجعد، احمد اور حاکم نے روایت کیا ہے. امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے.

13. عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : إِنَّ أَهْلَ الدَّرَجَاتِ الْعُلٰی لَيَرَاهُمْ مَنْ تَحْتَهُمْ کَمَا تَرَوْنَ النَّجْمَ الطَّالِعَ فِي أُفُقِ السَّمَائِ، وَإِنَّ أَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ مِنْهُمْ وَأُنْعِمَا.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَأَحْمَدُ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ.

13 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب مناقب أبي بکر الصديق، 5 / 607، الرقم : 3658، وابن ماجه في السنن، المقدمه، باب فضل أبي بکر الصديق، 1 / 37، الرقم : 96، واحمد بن حنبل في المسند، 3 / 93، الرقم : 11900، وأيضًا في فضائل الصحابة، 1 / 168، الرقم : 162.

’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اعلیٰ اور بلند درجات والوں کو نچلے درجات والے ایسے دیکھیں گے جیسے تم آسمان کے افق پر طلوع ہونے والے ستارے کو دیکھتے ہو اور بیشک ابوبکر و عمر اُن (بلند درجات والوں) میں سے ہیں اور نہایت اچھے ہیں‘‘.

اس حدیث کو امام ترمذی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے. امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن ہے.

14. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ حَنْطَبٍ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم رَأٰی أَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ فَقَالَ : هٰذَانِِ السَّمْعُ وَالْبَصَرُ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ وَابْنُ قَانِعٍ، وَقَالَ الْحَاکِمُ : هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.

14 : اخرجه الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب في مناقب ابي بکر وعمر رضي اﷲ عنهما کليهما، 5 / 613، الرقم : 3671، وأحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، 1 / 432، الرقم : 686، وابن قانع في معجم الصحابة، 2 / 100، الرقم : 550، والحاکم في المستدرک، 3 / 73، الرقم : 4432.

’’حضرت عبد اﷲ بن حنطب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اﷲ عنہما کو دیکھا تو فرمایا : یہ دونوں (میرے لیے) کان اور آنکھ کی حیثیت رکھتے ہیں.‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی، احمد اور ابن قانع نے روایت کیا ہے. امام حاکم نے فرمایا : اس کی سند صحیح ہے.

15. عَنْ انَسٍ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم لِابِي بَکْرٍ وَعُمَرَ : هٰذَانِ سَيِّدَا کُهُوْلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْاوَّلِيْنَ وَالْآخِرِيْنَ إِلَّا النَّبِيِّيْنَ وَالْمُرْسَلِيْنَ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَاحَمَدُ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ.

15 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب مناقب أبي بکر وعمر رضي اﷲ عنهما کليهما، 5 / 610، الرقم : 3664، وابن ماجه في السنن، المقدمه، باب فضل أبي بکر الصدیق ص، 1 / 38، الرقم : 100، واحمد بن حنبل في المسند، 1 / 80، الرقم : 602، وأبو يعلی في المسند، 1 / 405، الرقم : 533.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے بارے میں فرمایا : یہ دونوں انبیاء و مرسلین کے علاوہ اولین و آخرین میں سے تمام عمر رسیدہ جنتیوں کے سردار ہیں.‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے. امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے.

16. عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ : کُنَّا جُلُوْسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم فَقَالَ : إِنِّي لَا أَدْرِي مَا قَدْرُ بَقَائِي فِيْکُمْ؟ فَاقْتَدُوْا بِالَّذِيْنِ مِنْ بَعْدِي وَأَشَارَ إِلٰی أَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَاحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ.

16 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب مناقب عمار بن یاسر رضي اﷲ عنهما، 5 / 668، الرقم : 3799، وأیضًا في کتاب المناقب، باب مناقب أبي بکر وعمر رضي اﷲ عنهما کليهما، 5 / 610، الرقم : 3663، وابن ماجه في السنن، المقدمة، باب فضل أبي بکر الصدیق ص، 1 / 37، الرقم : 97، واحمد بن حنبل في المسند، 5 / 385، الرقم : 23324، وابن حبان في الصحيح، 15 / 328.

’’حضرت حُذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے. انہوں نے بیان کیا : ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بیشک میں (اپنے آپ) نہیں جانتا کہ کتنی مدت تمہارے درمیان رہوں گا. سو تم میرے بعد اِن لوگوں کی پیروی کرنا. یہ فرماتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی طرف اشارہ فرمایا.‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی، ابن ماجہ، احمد اور ابن حبان نے روایت کیا ہے. امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن ہے.

وفي رواية : عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيْرِيْنَ قَالَ : مَا أَظُنُّ رَجُلًا يَنْتَقِصُ أَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ يُحِبُّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم .

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ : هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ.

اخرجه الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب في مناقب عمر بن الخطاب ص، 5 / 618، الرقم : 3685، وابن عدي في الکامل، 4 / 243، الرقم : 1071، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 44 / 382.

’’ایک روایت میں امام محمد بن سیرین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں یہ خیال نہیں کرتاکہ جو شخص حضرت ابو بکر و عمر رضی اﷲ عنہما کی تنقیص کرتا ہے وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت رکھتا ہو.‘‘

اسے امام ترمذی نے روایت کیا اور فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے.

17. عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : أَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عنه الْارْضُ ثُمَّ أَبُوْ بَکْرٍ ثُمَّ عُمَرُ، ثُمَّ آتِي أَهْلَ الْبَقِيْعِ فَيُحْشَرُوْنَ مَعِي، ثُمَّ أَنْتَظِرُ أَهْلَ مَکَّةَ. حَتّٰی أُحْشَرَ بَيْنَ الْحَرَمَيْنِ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ وَأَحْمَدُ. وَقَالَ الْحَاکِمُ : هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.

17 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب في مناقب عمر بن الخطاب ص، 5 / 622، الرقم : 3692، وابن حبان في الصحيح، 15 / 324، الرقم : 6899، وأحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، 1 / 351، الرقم : 507، والحاکم في المستدرک، 2 / 505، الرقم : 4732، وأيضًا، 3 / 72، الرقم : 4429.

’’حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (قیامت کے دن) سب سے پہلے جس کے لیے زمین کھلے گی وہ میں ہوں پھر ابوبکر کے لیے اور پھر عمر کے لیے پھر اہل بقیع کی باری آئے گی اور ان کو میرے ساتھ اکٹھا کیا جائے گا پھر میں اہل مکہ کا انتظار کروں گا یہاں تک کہ حرمین شریفین کے درمیان لوگوں کے ساتھ جمع کیا جاؤں گا.‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی، ابن حبان اور احمد نے روایت کیا ہے. امام حاکم نے فرمایا : اس حدیث کی سند صحیح ہے.

18. عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اﷲِ رضي اﷲ عنهما أَنَّهُ کَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : أُرِيَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ صَالِحٌ، انَّ ابَا بَکْرٍ نِيْطَ بِرَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم ، وَنِيْطَ عُمَرُ بِأَبِي بَکْرٍ، وَنِيْطَ عُثْمَانُ بِعُمَرَ. قَالَ : جَابِرٌ : فَلَمَّا قُمْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قُلْنَا : أَمَّا الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَرَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم ، وَأَمَّا تَنَوُّطُ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ، فَهُمْ وُلَاةُ هٰذَا الْامْرِ الَّذِي بَعَثَ اﷲُ بِه نَبِيَه صلی الله عليه وآله وسلم .

رَوَاهُ ابُوْ دَاوُدَ وَأَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ. وَقَالَ الْحَاکِمُ : هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.

18 : أخرجه ابو داود في السنن، کتاب السنة، باب في الخلفاء، 4 / 208، الرقم : 4636، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 355، الرقم : 14863، وابن حبان في الصحيح، 15 / 343، الرقم : 6913، والحاکم في المستدرک، 3 / 75، الرقم : 4439.

’’حضرت جابر بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : گزشتہ رات ایک نیک آدمی کو خواب دکھایاگیا کہ ابوبکر کو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ منسلک کر دیا گیا اور عمر کو ابوبکر کے ساتھ اور عثمان کو عمر کے ساتھ. حضرت جابرص کا بیان ہے کہ جب ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس سے اٹھے تو ہم نے کہا : اس نیک آدمی سے مراد تو خود حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی ہیں. رہا بعض کا بعض سے منسلک ہونا تو وہ ان کا اس ذمہ داری کو سنبھالنا ہے جس کے لیے اﷲ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث فرمایا تھا.‘‘

اس حدیث کو امام ابو داود، احمد اور ابن حبان نے روایت کیا ہے. امام حاکم نے فرمایا : اس حدیث کی سند صحیح ہے.

19. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رضی الله عنه يَقُوْلُ : خَيْرُ النَّاسِ بَعْدَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم أَبُوْ بَکْرٍ، وَخَيْرُ النَّاسِ بَعْدَ أَبِي بَکْرٍ، عُمَرُ.

رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَأَبُوْ نُعَيْمٍ وَابْنُ عَدِيٍّ. وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : وَلِحَبِيْبِ بْنِ ابِي الْعَالِيَةِ احَادِيْثُ وَلَيْسَتْ بِالْکَثِيْرَةِ وَارْجُوْ انَّه لاَ بَاسَ بِه وَبِرِوَايَاتِه.

19 : أخرجه ابن ماجه في السنن، المقدمة، باب فضل عمر، 1 / 39، الرقم : 106، وابو نعيم في حلية الاولياء، 7 / 199. 200، وابن عدي في الکامل، 2 / 408، الرقم : 527، والخطيب البغدادي في تاريخ بغداد، 5 / 213، الرقم : 2686، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 44 / 216.

’’حضرت عبد اﷲ بن سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا، آپ فرما رہے تھے : رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد لوگوں میں سب سے افضل حضرت ابوبکرص ہیں اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعدسب سے افضل حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں.‘‘

اس حدیث کو امام ابن ماجہ، ابو نعیم اور ابن عدی نے روایت کیا ہے. امام ابن عدی نے فرمایا : حبیب بن عالیہ نے کثرت سے احادیث روایت نہیں کیں اور میں امید رکھتا ہوں کہ اس میں اور اس کی مرویات میں کوئی حرج نہیں ہے.

20. عَنْ عُبَيْدِ اﷲِ بْنِ ابِي يَزِيْدَ قَالَ : کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما، إِذَا سُئِلَ عَنِ الامْرِ فَکَانَ فِي الْقُرْآنِ، اخْبَرَ بِه، وَإِنْ لَمْ يَکُنْ فِي الْقُرْآنِ وَکَانَ عَنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم ، اخْبَرَ بِه، فَإِنْ لَمْ يَکُنْ، فَعَنْ ابِي بَکْرٍ وَعُمَرَ رضي اﷲ عنهما فَإِنْ لَمْ يَکُنْ، قَالَ فِيْهِ بِرَايه.

رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ وَابْنُ ابِي شَيْبَةَ وَالْحَاکِمُ. وَقَالَ الْحَاکِمُ : هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ عَلٰی شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ.

20 : اخرجه الدارمي في السنن، باب الفتيا وما فيه من الشدة، 1 / 71، الرقم : 166، وابن ابي شيبة في المصنف، 4 / 544، الرقم : 22994، والحاکم في المستدرک، 1 / 216، الرقم : 439، وابن سعد في الطبقات الکبری، 2 / 366، وابن عبد البر في جامع بيان العلم وفضله، 2 / 57.58، والخطيب البغدادي في الفقيه والمتفقه، 1 / 497. 498.

’’حضرت عبید اللہ بن ابی یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے جب کسی مسئلے کے بارے میں دریافت کیا جاتا تو اگر وہ قرآن میں موجود ہوتا تو وہ اس حوالے سے بتا دیتے تھے اگر وہ قرآن میں موجود نہ ہوتا اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت مبارکہ سے منقول ہوتا تو وہ اس سے بتا دیتے اگر ایسا بھی نہ ہوتا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ یا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے منقول ہو تو وہ اس سے بتا دیتے اور اگر یہ بھی نہ ہوتا تو پھر وہ اپنی رائے کے مطابق جواب دیتے.‘‘

اسے امام دارمی، ابن ابی شیبہ اور حاکم نے روایت کیا ہے. امام حاکم نے فرمایا : یہ حدیث امام بخاری اور مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے.

21. عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم ذَاتَ غَدَاةٍ بَعْدَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ فَقَالَ : رَأَيْتُ قُبَيْلَ الْفَجْرِ کَأَنِّي أُعْطِيْتُ الْمَقَالِيْدَ وَالْمَوَازِيْنَ. فَامَّا الْمَقَالِيْدُ فَهٰذِهِ الْمَفَاتِيْحُ، وَأَمَّا الْمَوَازِيْنُ، فَهِيَ الَّتِي تَزِنُوْنَ بِهَا، فَوُضِعْتُ فِي کِفَّةٍ وَوُضِعَتْ أُمَّتِي فِي کِفَّةٍ فَوُزِنْتُ بِهِمْ، فَرَجَحْتُ. ثُمَّ جِيئَ بِأَبِي بَکْرٍ، فَوُزِنَ بِهِمْ، فَوَزَنَ ثُمَّ جِيئَ بِعُمَرَ، فَوُزِنَ بِهِمْ، فَوَزَنَ، ثُمَّ جِيئَ بِعُثْمَانَ فَوُزِنَ بِهِمْ، ثُمَّ رُفِعَتْ.

رَوَاهُ احْمَدُ وابْنُ ابِي شَيْبَةَ . وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ : وَرِجَالُه ثِقَاتٌ.

21 : اخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 2 / 76، الرقم : 5469، وابن ابي شيبة في المصنف، 6 / 176، الرقم : 30484، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 38 / 116، والھيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 58.59.

’’حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک دن سورج طلوع ہونے کے بعد حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف تشریف لائے اور فرمایا : میں نے فجرسے تھوڑا پہلے خواب میں دیکھا گویا مجھے چابیاں اور ترازو عطاء کیے گئے ہیں. مقالید تو یہ چابیاں ہیں اور ترازو وہ ہیں جن کے ساتھ تم وزن کرتے ہو. سو مجھے ایک پلڑے میں رکھا گیا اور میری امت کو دوسرے پلڑے میں پھر وزن کیا گیا تو میرا پلڑا بھاری تھا. پھر ابو بکر کو لایا گیا پھر اس کا وزن میری امت کے ساتھ کیا گیا تو ان کا پلڑا بھاری تھا. پھر عمر کو لایا گیا اور ان کا وزن میری امت کے ساتھ کیا گیا تو ان کا پلڑا بھاری تھا. پھر عثمان کو لایا گیا اور ان کا وزن میری امت کے ساتھ کیا گیا پھر وہ پلڑا اٹھا لیا گیا.‘‘

اس حدیث کو امام احمد اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے. امام ہیثمی نے فرمایا : اس کے رجال ثقات ہیں.

22. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عَمْرٍو رضي اﷲ عنهما قَالَ : ثَ.لَاثَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَصْبَحُ قُرَيْشٍ وُجُوْهًا، وَأَحْسَنُهَا أَخْ.لَاقًا، وَأَثْبَتُهَا حَيَائً، إِنْ حَدَّثُوْکَ لَمْ يَکْذِبُوْکَ، وَإِنْ حَدَّثْتَهُمْ لَمْ يُکَذِّبُوْکَ : أَبُوْ بَکْرٍ الصِّدِّيْقُ، وَأَبُوْ عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَبُوْ نُعَيْمٍ. وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ : إِسْنَادُه حَسَنٌ.

22 : اخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 1 / 56، الرقم : 16، وابو نعيم في حلية الأولياء، 1 / 56، والهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 157.

’’حضرت عبد اﷲبن عمرو رضی اﷲ عنھما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا : قریش میں سے تین افراد ایسے ہیں جو سب سے زیادہ روشن چہرے والے ، سب سے زیادہ حسنِ اخلاق کے حامل اور حیاء کے اعتبار سے سب سے زیادہ ثابت قدم ہیں. اگر وہ تمہارے ساتھ بات کریں تو جھوٹ نہیں بولیں گے اور اگر تم اُن کے ساتھ بات کرو گے تو تمہیں نہیں جھٹلائیں گے، وہ حضرت ابو بکر، حضرت ابو عبید ہ بن الجراح اور حضرت عثمان بن عفان ث ہیں.‘‘

اس حدیث کو امام طبرانی اور ابو نعیم نے روایت کیا ہے. امام ہیثمی نے فرمایا : اس کی اسناد حسن ہے.

23. عَنْ ابِي جُحَيْفَةَ قَالَ : کُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ رضی الله عنه وَهُوَ مُسَجًّی بِثَوْبِه قَدْ قَضٰی نَحْبَهُ فَجَائَ عَلِيٌّ رضی الله عنه فَکَشَفَ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِه ثُمَّ قَالَ : رَحْمَةُ اﷲِ عَلَيْکَ ابَا حَفْصٍ، فَوَ اﷲِ، مَا بَقِيَ بَعْدَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم احَدٌ احَبُّ إِلَيَّ مِنْ انْ الْقَی اﷲَ تَعَالٰی بِصَحِيْفَتِه مِنْکَ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ ابِي شَيْبَةَ وَأَبُوْ نُعَيْمٍ وَالْحَاکِمُ.

23 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 1 / 109، الرقم : 866، وأبو نعيم في مسند أبي حنيفة، 1 / 28، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 359، الرقم : 32018، وابن سعد في الطبقات الکبری، 3 / 370، والحاکم في المستدرک، 3 / 100، الرقم : 4523.

’’حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے (وصال کے بعد ان کے) پاس موجود تھا اس حال میں کہ انہیں کفن میں لپیٹا جا چکا تھا اور وہ (شہادت پا کر) اپنی نذر پوری کر چکے تھے کہ اسی دوران حضرت علی رضی اللہ عنہ وہاں تشریف لے آئے تو آپ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے چہرے سے کپڑا ہٹا کر (ان کو مخاطب کر کے ) کہا : اے ابا حفص! اﷲ تعالیٰ کی آپ پر رحمت ہو، اﷲ کی قسم! رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد مجھے کوئی شخص آپ سے زیادہ محبوب نہ رہا تھا کہ جس کے مصحف نما چہرے کو دیکھ کر اﷲ تعالیٰ سے ملاقات کرتا.‘‘

اس حدیث کو امام احمد، ابن ابی شیبہ، ابو نعیم اور حاکم نے روایت کیا ہے.

وفي رواية : عَنْ سَالِمٍ قَالَ : جَائَ أَهْلُ نَجْرَانَ إِلٰی عَلِيٍّ رضی الله عنه فَقَالُوْا : يَا أَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ، کِتَابُکَ بِيَدِکَ، وَشِفَاعَتُکُ بِلِسَانِکَ، أَخْرَجَنَا عُمَرُ مِنْ أَرْضِنَا فَارْدُدْنَا إِلَيْهَا فَقَالَ لَهُمْ عَلِيٌّ : وَيْحَکُمْ إِنَّ عُمَرَ کَانَ رَشِيْدَ الْامْرِ وَلَا أُغَيِّرُ صَنْعَةَ عُمَرَ.

رَوَاهُ ابْنُ ابِي شَيْبَةَ وَأَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ.

اخرجه ابن ابي شيبة في المصنف، کتاب الفضائل، ما ذکر في فضل عمر بن الخطاب، 6 / 357، الرقم : 32004، واحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، 1 / 366، الرقم : 537، والبيهقي في السنن الکبری، 10 / 120، الرقم : 20162، والخطيب البغدادي في تاريخ بغداد، 6 / 185، الرقم : 3240، والحموي في معجم البلدان، 5 / 269.

’’ایک روایت میں حضرت سالم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اہل نجران حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا : اے امیر المومنین! آپ کا نامہ اعمال آپ کے ہاتھ میں ہے اور آپ کی شفاعت آپ کی زبان میں ہے. ہمیں حضرت عمر نے ہماری زمین سے نکال دیا ہے آپ ہمیں ہماری زمین کی طرف لوٹا دیں. حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : تمہارا برا ہو! بے شک عمربالکل درست کام انجام دینے والے تھے اور میں ان کا کیا ہوا فیصلہ تبدیل نہیں کروں گا.‘‘

اس حدیث کو امام ابن ابی شیبہ، احمد اور بیہقی نے روایت کیا ہے.

وفي رواية : عَنْ أَبِي السَّفَرِ قَالَ : رُئِيَ عَلٰی عَلِيٍّ بُرْدٌ کَانَ يُکْثِرُ لُبْسَهُ، قَالَ : فَقِيْلَ لَه : إِنَّکَ لَتُکْثِرُ لُبْسَ هٰذَا الْبُرْدِ، فَقَالَ : إِنَّهُ کَسَانِيْهِ خَلِيْلِي وَصَفِيِّي وَصَدِيْقِي وَخَاصِّي عُمَرُ، إِنَّ عُمَرَ نَاصَحَ اﷲَ فَنَصَحَهُ اﷲُ ثُمَّ بَکٰی. رَوَاهُ ابْنُ ابِي شَيْبَةَ وَابْنُ أَبِي الدُّنْيَا.

اخرجه ابن ابي شيبة في المصنف، کتاب الفضائل، ما ذکر في فضل عمر بن الخطاب ص، 6 / 356، الرقم : 31997، وابن أبي الدنيا في الإخوان / 248، الرقم : 221، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 44 / 363.

’’ایک روایت میں حضرت ابو سفر بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ایسی چادر دیکھی گئی جو وہ اکثر پہنا کرتے تھے. راوی نے بیان کیا : تو ان سے کہا گیا کہ آپ کثرت سے یہ چادر(کیوں) پہنتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا : بے شک یہ مجھے میرے خلیل، نہایت عزیز اور خاص دوست عمر نے پہنائی تھی. بے شک عمر اﷲتعالیٰ کے لیے خالص ہوا تو اﷲتعالیٰ نے اس کے لیے خالص بھلائی چاہی پھر آپ رونے لگ گئے.‘‘

اس حدیث کو امام ابن ابی شیبہ اور ابن ابی دنیا نے روایت کیا ہے.

24. عَنْ عَائِشَةَ رضي اﷲ عنها قَالَتْ : خَرَجَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم غَدَاةً وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مُرَحَّلٌ، مِنْ شَعْرٍ اسْوَدَ. فَجَائَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رضي اﷲ عنهما فَادْخَلَهُ، ثُمَّ جَائَ الْحُسَيْنُ رضی الله عنه فَدَخَلَ مَعَه، ثُمَّ جَائَ تْ فَاطِمَةُ رضي اﷲ عنها فَادْخَلَهَا، ثُمَّ جَائَ عَلِيٌّ رضی الله عنه فَادْخَلَه، ثُمَّ قَالَ : ﴿إِنَّمَا يُرِيْدُ اﷲُ لِيُذْهِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِرَکُمْ تَطْهِيْرًا﴾.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَابْنُ ابِي شَيْبَةَ وَأَحْمَدُ وَابْنُ رَاهْوَيْه.

24 : أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب فضائل الصحابة، باب فضائل اهل بيت النبي صلی الله عليه وآله وسلم ، 4 / 1883، الرقم : 2424، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 370، الرقم : 36102، وأحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، 2 / 672، الرقم : 1149، وابن راهويه في المسند، 3 / 678، الرقم : 1271، والحاکم في المستدرک، 3 / 159، الرقم : 4707.

’’حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کے وقت اس حال میں باہر تشریف لائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک چادر اوڑھ رکھی تھی جس پر سیاہ اُون سے کجاووں کے نقش بنے ہوئے تھے. حضرت حسن بن علی رضی اﷲعنہما آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُنہیں اُس چادر میں داخل فرما لیا، پھر حضرت حسین رضی اللہ عنہ آئے اور ان کے ساتھ چادر میں داخل ہو گئے، پھر سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہاآئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں بھی چادر میں داخل فرما لیا، پھر حضرت علی کرم اﷲ وجہہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں بھی چادر میں داخل فرما لیا. پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت مبارکہ پڑھی : ’’اے اہلِ بیت! اﷲ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے (ہر طرح کی) آلودگی دُور کر دے اور تمہیں خوب پاک و صاف کر دے.‘‘

اس حدیث کو امام مسلم، ابن ابی شیبہ، احمد اور ابن راہویہ نے روایت کیا ہے.

25. عَنْ جَابِرٍ، قَالَ : دَعَا رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم عَلِيًّا يَوْمَ الطَّائِفِ فَانْتَجَاه، فَقَالَ النَّاسُ : لَقَدْ طَالَ نَجْوَاهُ مَعَ ابْنِ عَمِّه، فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : مَا انْتَجَيْتُه وَلٰ.کِنَّ اﷲَ انْتَجَاهُ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ أَبِي عَاصِمٍ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ.

25 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب مناقب علي بن أبي طالب ص، 5 / 639، الرقم : 3726، وابن أبي عاصم في السنة، 2 / 598، الرقم : 1321، والطبراني في المعجم الکبير، 2 / 186، الرقم : 1756.

’’حضرت جابرص سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ طائف کے موقع پر حضرت علیص کو بلایا اور ان سے سرگوشی کی، لوگ کہنے لگے آج آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چچا زاد بھائی کے ساتھ کافی دیر تک سرگوشی کی. تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں نے نہیں کی، بلکہ خود اﷲ نے اس سے سرگوشی کی ہے.‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی، ابن ابی عاصم اور طبرانی نے روایت کیا ہے. اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے.

26. عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما، قَالَ : آخَی رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم بَيْنَ أَصْحَابِه فَجَائَ عَلِيٌّ تَدْمَعُ عَيْنَاهُ، فَقَالَ : يَا رَسُوْلَ اﷲِ، آخَيْتَ بَيْنَ أَصْحَابِکَ وَلَمْ تُؤَاخِ بَيْنِي وَبَيْنَ أَحَدٍ. فَقَالَ لَه رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : أَنْتَ أَخِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْحَاکِمُ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هٰذَا حَدَيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ.

26 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب مناقب علي بن أبي طالب، 5 / 636، الرقم : 3720، والحاکم في المستدرک، 3 / 15، الرقم : 4288، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 42، الرقم : 51، والنووي في تهذيب الأسماء، 1 / 318.

’’حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ جب حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار و مہاجرین کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ روتے ہوئے حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اﷲ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام میں بھائی چارہ قائم فرمایا لیکن مجھے کسی کا بھائی نہیں بنایا. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا : (اے علی!) تم دنیا و آخرت میں میرے بھائی ہو.‘‘

اسے امام ترمذی اور حاکم نے روایت کیا ہے. امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے.

27. عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرِ التَّمِيْمِيِّ قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ عَمَّتِي عَلٰی عَائِشَةَ رضي اﷲ عنها فَسَئَلْتُ : أَيُّ النَّاسِ کَانَ أَحَبَّ إِلٰی رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم ؟ قَالَتْ : فَاطِمَةُ، فَقِيْلَ : مِنَ الرِّجَالِ؟ قَالَتْ : زَوْجُهَا، إِنْ کَانَ مَا عَلِمْتُ صَوَّامًا قَوَّامًا.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْحَاکِمُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ. وَقَالَ الْحَاکِمُ : هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.

27 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب فضل فاطمة بنت محمد صلی الله عليه وآله وسلم ، 5 / 701، الرقم : 3874، والحاکم في المستدرک، 3 / 171، الرقم : 4744، والطبراني في المعجم الکبير، 22 / 403، الرقم : 1008، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 42 / 263، والمزي في تهذيب الکمال، 4 / 512، الرقم : 906، وقال : حسن غريب.

’’حضرت جمیع بن عمیر تمیمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں اپنی خالہ کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے ان سے پوچھا : لوگوں میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب کون تھا؟ آپ نے فرمایا : حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہا. پھر کہا گیا : اور مردوں میں سے (کون سب سے زیادہ محبوب تھا)؟ آپ نے فرمایا : ان کے شوہر اگرچہ مجھے ان کا زیادہ روزے رکھنا اور زیادہ قیام کرنا معلوم نہیں.‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی، حاکم اور طبرانی نے روایت کیا ہے. امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے. امام حاکم نے فرمایا : اس حدیث کی سند صحیح ہے.

28. عَنْ عَائِشَةَ رضي اﷲ عنها أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ، وَعَلِيٌّ سَيِّدُ الْعَرَبِ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ، وَقَالَ : هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.

28 : أخرجه الحاکم في المستدرک، کتاب معرفة الصحابة ث، 3 / 133، الرقم : 4625، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 42 / 305، والسخاوي في مقاصد الحسنة، 1 / 394، الرقم : 578، وقال : صحيح.

’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں (تمام) اولاد آدم کا سردار ہوں اور علی (تمام) عرب کا سردار ہے.‘‘

اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا اور فرمایا : اس حدیث کی سند صحیح ہے.

29. عَنْ عَبْدِ اﷲِ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : اَلنَّظَرُ إِلٰی وَجْهِ عَلِيٍّ عِبَادَةٌ.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالطَّبَرَانِيُّ. وَقاَلَ الْحَاکِمُ : هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ، وَشَوَاهِدُه عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رضی الله عنه صَحِيْحَةٌ.

وفي رواية عنه : قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : اَلنَّظَرُ إِلٰی عَلِيٍّ عِبَادَةٌ. رَوَاهُ ابْنُ عَسَاکِرَ.

وفي رواية : عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، وَأَيضًا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : اَلنَّظَرُ إِلٰی وَجْهِ عَلِيٍّ عِبَادَةٌ. رَوَاهُ ابْنُ عَسَاکِرَ وَالدَّيْلَمِيُّ.

29 : اخرجه الحاکم في المستدرک، کتاب معرفة الصحابة ث، 3 / 152، الرقم : 4682، والطبراني في المعجم الکبير، 10 / 76، الرقم : 10006، وابو نعيم في حلية الاولياء، 5 / 58، والهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 119، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 42 / 351، 353، 355، والديلمي (عن معاذ بن جبل ص) في مسند الفردوس، 4 / 294، الرقم : 6865.

’’حضرت عبد اﷲ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : علی کے چہرے کو تکنا عبادت ہے.‘‘

اس حدیث کو امام حاکم اور طبرانی نے روایت کیا ہے. امام حاکم نے فرمایا : اس حدیث کی سند صحیح ہے اور حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی اس کے شواہدات صحیح ہیں.

ایک روایت میں حضرت عبد اﷲ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : علی کی طرف دیکھنا عبادت ہے.‘‘

اس حدیث کو امام ابن عساکر نے روایت کیا ہے.

ایک روایت میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور یہی روایت حضرت ابو ہریرہ ص، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : علی کے چہرے کو تکنا عبادت ہے.‘‘

اس حدیث کو امام ابن عساکر اور دیلمی نے روایت کیا ہے.

وفي رواية : عَنْ طَلِيْقِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ : رَايْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ رضی الله عنه يُحِدُّ النَّظَرَ إِلٰی عَلِيٍّ رضی الله عنه فَقِيْلَ لَه، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : اَلنَّظَرُ إِلٰی عَلِيٍّ عِبَادَةٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

وَعَنْ ثَوْبَانَ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اﷲِ رضي اﷲ عنهما قَالَا : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : اَلنَّظَرُ إِلٰی عَلِيٍّ عِبَادَةٌ. رَوَاهُ ابْنُ عَسَاکِرَ.

أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 18 / 109، الرقم : 207، والهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 109، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 42 / 355.

’’ایک روایت میں حضرت طلیق بن محمد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھ رہے تھے. کسی نے ان سے پوچھا (کہ آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟) انہوں نے فرمایا : میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : علی کی طرف دیکھنا عبادت ہے.‘‘ اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے.

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ اور حضرت جابر بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنہما دونوں نے بیان کیا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : علی کی طرف دیکھنا عبادت ہے.‘‘

اس حدیث کو امام ابن عساکر نے روایت کیا ہے.

30. وفي رواية : عَنْ عَائِشَةَ رضي اﷲ عنها قَالَتْ : رَأَيْتُ أَبَا بَکْرٍ يُکْثِرُ النَّظَرَ إِلٰی وَجْهِ عَلِيٍّ فَقُلْتُ لَه : يَا أَبَتِ، أَرَاکَ تُکْثِرُ النَّظَرَ إِلٰی وَجْهِ عَلِيٍّ فَقَالَ : يَا بُنَيَةُ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : اَلنَّظَرُ إِلٰی وَجْهِ عَلِيٍّ عِبَادَةٌ. رَوَاهُ ابْنُ عَسَاکِرَ.

وفي رواية : عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ الصِّدِّيْقَةِ ابْنَةِ الصِّدِّيْقِ، حَبِيْبَةِ حَبِيْبِ اﷲِ رضي اﷲ عنها قَالَتْ : قُلْتُ لِأَبِي : إِنِّي ارَاکَ تُطِيْلُ النَّظَرَ إِلٰی عَلِيِّ بْنِ ابِي طَالِبٍ؟ فَقَالَ لِي : يَا بُنَيَةُ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : اَلنَّظَرُ فِي وَجْهِ عَلِيٍّ عِبَادَةٌ. رَوَاهُ ابْنُ عَسَاکِرَ.

وفي رواية : عَنْ عَائِشَةَ رضي اﷲ عنها قَالَتْ : أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : اَلنَّظَرُ إِلٰی عَلِيٍّ عِبَادَةٌ. رَوَاهُ ابْنُ عَسَاکِرَ.

30 : أخرجه ابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 42 / 355، 350، والزمخشري في مختصر کتاب الموافقة / 14.

’’ایک روایت میں حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے اپنے والد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ کثرت سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے چہرے کی طرف دیکھا کرتے تھے. سو میں نے ان سے پوچھا : اے ابا جان! کیا وجہ ہے کہ آپ کثرت سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے چہرے کی طرف تکتے رہتے ہیں ؟ حضرت ابوبکر صدیق صنے فرمایا : اے میری بیٹی! میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا : علی کے چہرے کو تکنا عبادت ہے.‘‘

اس حدیث کو امام ابن عساکر نے بیان کیا ہے.

ایک روایت میں حضرت عروہ ص، حضرت عائشہ صدیقہ بنت صدیق، حبیبہ، حبیب اﷲ رضی اﷲ عنہا سے روایت بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : میں نے اپنے والد (حضرت ابو بکر ص) سے عرض کیا : بے شک میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھتے ہیں (اس کی کیا وجہ ہے)؟ تو انہوں نے فرمایا : اے میری بیٹی! میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے : علی کے چہرے کی تکنا عبادت ہے.‘‘

اس حدیث کو امام ابن عساکر نے بیان کیا ہے.

ایک روایت میں حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ آپ نے بیان کیا : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : علی کی طرف دیکھنا عبادت ہے.‘‘

اس حدیث کو امام ابن عساکر نے روایت کیا ہے.

31. وفي رواية : عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنها يَقُوْلُ : رَجَعَ عُثْمَانُ إِلٰی عَلِيٍّ فَسَالَهُ الْمَصِيْرَ إِلَيْهِ فَصَارَ إِلَيْهِ فَجَعَلَ يُحِدُّ النَّظَرَ إِلَيْهِ. فَقَالَ لَه عَلِيٌّ : مَا لَکَ يَا عُثْمَانُ، مَا لَکَ تُحِدُّ النَّظَرَ إِلَيَّ؟ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : اَلنَّظَرُ إِلٰی عَلِيٍّ عِبَادَةٌ. رَوَاهُ ابْنُ عَسَاکِرَ.

31 : أخرجه ابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 42 / 350.

’’ایک روایت میں حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمان ص، حضرت علی ص، کی طرف آئے اور انہیں اپنے پاس آنے کے لیے کہا، سو (جب) حضرت علی ص، ان کے پاس آئے تو وہ انہیں لگاتار (بغیر نظر ہٹائے) دیکھنے لگے. تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : اے عثمان! کیا ہوا؟ کیا وجہ ہے کہ آپ مجھے اس طرح مسلسل نگاہ جمائے دیکھ رہے ہیں؟ حضرت عثمان صنے کہا : میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : علی کی طرف دیکھنا عبادت ہے.‘‘ اس حدیث کو امام ابن عساکر نے روایت کیا ہے.

32. وفي رواية : عَنْ عَائِشَةَ رضي اﷲ عنها قَالَتْ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : ذِکْرُ عَلِيٍّ عِبَادَةٌ. رَوَاهُ الدَّيْلَمِيُّ وَابْنُ عَسَاکِرَ.

32 : أخرجه الديلمي في مسند الفردوس، 2 / 244، الرقم : 1351، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 42 / 356.

’’ایک روایت میں حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : علی کا ذکر کرنا عبادت ہے.‘‘

اس حدیث کو امام دیلمی اور ابن عساکر نے روایت کیا ہے.

33. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم کَانَ عَلٰی حِرَائَ هُوَ وَأَبُوْ بَکْرِ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَطَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ فَتَحَرَّکَتِ الصَّخْرَةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : إِهْدَأْ، فَمَا عَلَيْکَ إلاَّ نَبِيٌّ أَوْصِدِّيْقٌ أَوْشَهِيْدٌ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

33 : اخرجه مسلم في الصحيح، کتاب فضائل الصحابة ث، باب من فضائل طلحة والزبير رضي اﷲُ عنهما، 4 / 1880، الرقم : 2417، والترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب في مناقب عثمان بن عفان، 5 / 624، الرقم : 3696، والنسائی في السنن الکبری، 5 / 59، الرقم : 8207.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حرا پہاڑ پر تشریف فرما تھے اور آپ کے ساتھ حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر ث بھی تھے اتنے میں پہاڑ لرزاں ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ٹھہر جا، کیوں کہ تیرے اوپر نبی، صدیق اور شہید کے سوا کوئی اور نہیں ہے.‘‘

اِس حدیث کو امام مسلم، ترمذی اور نسائی نے روایت کیا ہے. اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث صحیح ہے.

34. عَنْ سَعِيْدِ بْنِ زَيْدٍ رضی الله عنه انَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : عَشَرَةٌ فِي الْجَنَّةِ : ابُوْ بَکْرٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ، وَالزُّبَيْرُ، وَطَلْحَةُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَابُوْ عُبَيْدَةَ، وَسَعْدُ بْنُ ابِي وَقَّاصٍ ث، قَالَ : فَعَدَّ هٰوُلَائِ التِّسْعَةَ وَسَکَتَ عَنِ الْعَاشِرِ فَقَالَ الْقَومُ : نَنْشُدُکَ بِاﷲِ يَا ابَا الْاعْوَرِ، مَنِ الْعَاشِرُ؟ قَالَ : نَشَدْتُمُونِي بِاﷲِ ابُو الْاعْوَرِ فِي الْجَنَّةِ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَاحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ وَالْبُخَارِيُّ فِي الْکَبِيْرِ : اصَحُّ.

34 : اخرجه الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب مناقب عبد الرحمن بن عوف، 5 / 648، الرقم : 3748، والنسائي في السنن الکبری، 5 / 56، الرقم : 8195، واحمد بن حنبل في المسند، 1 / 188، الرقم : 1631، وابن حبان في الصحيح، 15 / 463، الرقم : 7002، والبخاري في التاريخ الکبير، 5 / 273، الرقم : 884.

’’حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : دس آدمی جنتی ہیں، (اور وہ یہ ہیں) ابوبکر جنتی ہے، اور عمر جنتی ہے، اور عثمان، علی، زبیر، طلحہ، عبد الرحمن، ابو عبیدہ اور سعد بن ابی وقاص (ث) جنتی ہیں، راوی بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعید بن زید نو آدمیوں کا نام گن کر دسویں پر خاموش ہو گئے. لوگوں نے کہا : ابو اعور! ہم آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتے ہیں (بتائیے) دسواں آدمی کون ہے؟ انہوں نے فرمایا : تم نے مجھے اللہ تعالیٰ کی قسم دی ہے، (دسواں) ابو اعور (یعنی سعید بن زید خود) جنتی ہیں.‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی، نسائی، احمد اور ابن حبان نے روایت کیا ہے. امام ترمذی نے السنن میں اور امام بخاری نے التاریخ الکبیر میں اس حدیث کو اصح (صحیح ترین) کہا ہے.

35. عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : ابُوْ بَکْرٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَلِيُّ فِي الْجَنَّةِ . . . الحديث. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَأَحْمَدُ.

35 : اخرجه الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب مناقب عبد الرحمن بن عوف الزهري ص، 5 / 647، الرقم : 3747، والنسائي في السنن الکبری، 5 / 56، الرقم : 8194، وابن ماجه (عن سعيد بن زيد) في السنن، المقدمة، باب فضائل العشرة ث، 1 / 48، الرقم : 133، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 193، الرقم : 1675، وابن حبان في الصحيح، 15 / 463، الرقم : 7002، وابو يعلی في المسند، 2 / 147، الرقم : 835.

’’حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ابو بکر جنتی ہے، عمر جنتی ہے، عثمان جنتی ہے اور علی جنتی ہے. . . . الحدیث.‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے.

36. عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الاخْنَسِ رضی الله عنه انَّهُ کَانَ فِي الْمَسْجِدِ فَذَکَرَ رَجُلٌ عَلِيًّا فَقَامَ سَعِيْدُ بْنُ زَيْدٍ رضی الله عنه فَقَالَ : اشْهَدُ عَلٰی رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم انِّي سَمِعْتُهُ وَهُوَ يَقُوْلُ : عَشْرَةٌ فِي الْجَنَّةِ : النَّبِيّ صلی الله عليه وآله وسلم فِي الْجَنَّةِ، وَابُوْ بَکْرٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ . . . الحديث.

رَوَاهُ ابُوْ دَاوُدَ وَاحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ وَابْنُ ابِي شَيْبَةً.

36 : اخرجه ابو داود في السنن، کتاب السنة، باب في الخلفاء، 4 / 211، الرقم : 4649، واحمد بن حنبل في المسند، 1 / 188، الرقم : 1631، وابن حبان في الصحيح، 15 / 454، الرقم : 6993، وابن ابي شيبة في المصنف، 6 / 351، الرقم : 31953، والشاشي في المسند، 1 / 235، الرقم : 192، والطبراني في المعجم الاوسط، 4 / 339، الرقم : 4374.

’’حضرت عبد الرحمن بن اخنس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ مسجد میں تھے کہ ایک آدمی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا (غلط انداز سے) تذکرہ کیا تو حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور فرمایا : میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : دس آدمی جنتی ہیں، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (سب سے پہلے) جنتی ہیں اور ابو بکر جنتی ہیں، اور عمر جنتی ہیں، اور عثمان جنتی ہیں، اور علی جنتی ہیں.. . . الحدیث.‘‘

اس حدیث کو امام ابو داود، احمد، ابن حبان اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے.

37. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ ظَالِمٍِ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلٰی سَعِيْدِ بْنِ زَيْدٍ رضی الله عنه فَقُلْتُ : الاَ تَعْجَبُ مِنْ هٰذَا الظَّالِمِ اقَامَ خُطَبَائَ يَشْتُمُوْنَ عَلِيًّا فَقَالَ : اوَ قَدْ فَعَلُوْهَا؟ اشْهَدُ عَلَی التِّسْعَةِ انَّهُمْ فِي الْجَنَّةِ، وَلَوْ شَهِدْتُ عَلَی الْعَاشِرِ لَصَدَقْتُ کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم عَلٰی حِرَائٍ، فَتَحَرَّکَ فَقَالَ : اُثْبُتْ حِرَائُ، فَمَا عَلَيْکَ إِلَّا نَبِيٌّ اوْ صِدِّيْقٌ اوْ شَهِيْدٌ قُلْتُ : وَمَنْ کَانَ عَلٰی حِرَائٍ؟ فَقَالَ : رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم ، وَابُوْ بَکْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَعَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ، وَسَعْدٌ. قُلْنَا : فَمَنِ الْعَاشِرُ؟ قَالَ : انَا.

رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَاحَْمَدُ وَابْنُ ابِي شَيْبَةَ وَالْحَاکِمُ.

37 : اخرجه النسائي في السنن الکبری، 5 / 55، الرقم : 8190، وأيضًا في فضائل الصحابة، 1 / 27، الرقم : 87، واحمد بن حنبل في المسند، 1 / 188، الرقم : 1638، 1644، وابن ابي شيبة في المصنف، 6 / 351، الرقم : 31948، والبزار في المسند، 4 / 91، الرقم : 1263، والحاکم في المستدرک، 3 / 509، الرقم : 5898.

’’حضرت عبد اﷲ بن ظالم بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے ملاقات کے لیے حاضر ہوا تو میں نے عرض کیا : کیا آپ اس ظالم شخص سے تعجب نہیں کرتے جس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنے کے لیے خطباء مقرر کیے ہوئے ہیں، تو انہوں نے کہا : کیا واقعی اس نے ایسا کیا ہے؟ میں نو افراد کی گواہی دیتا ہوں کہ وہ جنتی ہیں اور اگر میں دسویں شخص (کے جنتی ہونے) کی بھی گواہی دوں تو یقینا میں سچا ہوں. ایک دفعہ ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حرا پہاڑ پر تھے تو وہ (مارے خوشی کے) تھرتھرانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے حرا! ٹھہرا جا، تجھ پر سوائے نبی یا صدیق یا شہیدکے اور کوئی نہیں ہے، میں نے عرض کیا : حرا پر کون کون تھا؟ تو آپ نے فرمایا : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس اور ابوبکر، اور عمر اور عثمان اور علی، اور زبیر اور عبد الرحمن بن عوف، اور سعد ث تھے، ہم نے کہا : سو دسواں آدمی کون ہے؟ تو انہوں نے فرمایا : دسواں آدمی میں ہوں.‘‘

اس حدیث کو امام نسائی، احمد، ابن ابی شیبہ اور حاکم نے روایت کیا ہے.

38. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : أَرْحَمُ أُمَّتِي بِامَّتِي أَبُوْ بَکْرٍ وَأَشَدُّهُمْ فِي أَمْرِ اﷲِ عُمَرُ وَأَصْدَقُهُمْ حَيَائً عُثْمَانُ . . . الحديث.

وَزَادَ ابْنُ مَاجَه وَأَبُوْ يَعْلٰی : وَأَقْضَاهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ص.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَالنَّسَائِيُّ وَأَحْمَدُ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ. وَقَالَ الْحَاکِمُ : هٰذَا إِسْنَادٌ صَحِيْحٌ عَلٰی شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ.

38 : اخرجه الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب مناقب معاذ بن جبل ص، 5 / 665، الرقم : 3791، وابن ماجه في السنن، المقدمة، باب فضائل أصحاب رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم ، 1 / 55، الرقم : 154، والنسائي في السنن الکبری، 5 / 67، الرقم : 8242، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 281، الرقم : 14022، وأبو يعلی في المسند، 10 / 141، الرقم : 5763، والحاکم في المستدرک، 3 / 477، الرقم : 5784.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میری امت پر سب سے زیادہ مہربان ابوبکر ہیں اور اﷲ کے احکامات کے معاملے میں سب سے زیادہ شدت کرنے والے عمر ہیں اور حیاء کے اعتبار سے سب سے سچے عثمان ہیں.‘‘

امام ابن ماجہ اور ابو یعلی نے ان الفاظ کا اضافہ کیا : ’’اور ان میں سب سے بہتر فیصلہ کرنے والے علی ہیں.‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی، ابن ماجہ، نسائی اور احمد نے روایت کیا ہے. امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے. امام حاکم نے بھی فرمایا : یہ حدیث بخاری و مسلم کی شرائط پر صحیح ہے.

وفي رواية : عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : أَرْحَمُ أُمَّتِي أَبُوْ بَکْرٍ، وَأَشَدُّهُمْ فِي اﷲِ عُمَرُ، وَأَکْرَمُ حَيَائً عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، وَأَقْضَاهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ. رَوَاهُ ابْنُ عَسَاکِرَ.

أخرجه ابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 41 / 64.

’’ایک روایت میں حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میری امت میں سب سے زیادہ رحم دل ابوبکر ہیں اور اللہ کے دین کے معاملے میں سب سے زیادہ سخت عمر ہیں اور حیا میں سب سے مکرم عثمان بن عفان ہیں اور سب سے بہتر فیصلہ کرنے والے علی ہیں.‘‘

اس حدیث کو امام ابن عساکر نے روایت کیا ہے.

39. عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اﷲِ رضي اﷲ عنهما قَالَ : مَشَيْتُ مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم إِلَی امْرَأَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَذَبَحَتْ لَ.نَا شَاةً فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : لَيَدْخُلَنَّ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَدَخَلَ أَبُوْ بَکْرٍ رضی الله عنه فَقَالَ : لَيَدْخُلَنَّ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَدَخَلَ عُمَرُ رضی الله عنه فَقَالَ : لَيَدْخُلَنَّ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَقَالَ : اَللّٰهُمَّ، إِنْ شِئْتَ فَاجْعَلْه عَلِيًّا، فَدَخَلَ عَلِيٌّ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَالطَّيَالِسِيُّ، وَقَالَ الْحَاکِمُ : هَذَا حَدِيثٌ صَحِيْحُ الإِْسْنَادِ.

39 : أخرجه احمد بن حنبل في المسند، 3 / 387، الرقم : 15201، والطيالسي في المسند، 1 / 234، الرقم : 1674، وابن ابي شيبة في المصنف، 6 / 351، الرقم : 31952، والحاکم في المستدرک، 3 / 146، الرقم : 4661، والطبراني في المعجم الأوسط، 8 / 41، الرقم : 7897.

’’حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک انصاری خاتون کے گھر گئے ،اس نے ہمارے لیے بکری ذبح کی. تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (ابھی یہاں) ضرور اہل جنت میں سے ایک شخص داخل ہو گا ، تو (اسی وقت) حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ داخل ہوئے. پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (ابھی یہاں) ضرور اہل جنت میں سے ایک شخص داخل ہو گا سو (اسی وقت) حضرت عمر رضی اللہ عنہ داخل ہوئے. پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (ابھی یہاں) ضرور اہل جنت میں سے ایک شخص تمہارے پاس آئے گا. پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا : اے اﷲ! اگر تیری رضا ہے تو آنے والا علی ہو تو (اسی وقت) حضرت علی رضی اللہ عنہ داخل ہوئے.‘‘

اس حدیث کو امام احمد، ابن ابی شیبہ اور طیالسی نے روایت کیا ہے. امام حاکم نے فرمایا : اس حدیث کی سند صحیح ہے.

40. عَنْ عَلِيٍّ رضی الله عنه قَالَ : قِيْلَ : يَا رَسُولَ اﷲِ، مَنْ يُؤَمَّرُ بَعْدَکَ؟ قَالَ : إِنْ تُؤَمِّرُوْا ابَا بَکْرٍ تَجِدُوْهُ امِيْنًا زَاهِدًا فِي الدُّنْيَا رَاغِبًا فِي الآخِرَةِ، وَإِنْ تُؤَمِّرُوْا عُمَرَ تَجِدُوْهُ قَوِيًّا امِيْنًا لَا يَخَافُ فِي اﷲِ لَومَةَ لَائِمٍ، وَإِنْ تُؤَمِّرُوْا عَلِيًّا وَلَا ارَاکُمْ فَاعِلِيْنَ تَجِدُوْهُ هَادِيا مَهْدِيًّا يَاخُذُ بِکُمُ الطَّرِيْقَ الْمُسْتَقِيْمَ.

رَوَاهُ احْمَدُ وَابْنُ احْمَدَ وَالْبَزَّارُ وَالْحَاکِمُ، وَقَالَ الْحَاکِمُ : هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ، وَقَالَ الْمَقْدِسِيُّ : إِسْنَادُه حَسَنٌ.

40 : اخرجه احمد بن حنبل في المسند، 1 / 108، الرقم : 859، وأيضًا في فضائل الصحابة، 1 / 231، الرقم : 284، وعبد اﷲ بن احمد في السنة، 2 / 541، الرقم : 1257، والبزار في المسند، 3 / 33، الرقم : 783، والحاکم في المستدرک، 3 / 73، الرقم : 4434، والمقدسي في الاحاديث المختارة، 2 / 86، الرقم : 463.

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عرض کیا گیا : یا رسول اﷲ! آپ کے بعد کس کو امیر بنایا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر تم ابو بکر کو امیر بناؤ تو اس کو امانت دار، دنیا سے بے رغبت اور آخرت کا طالب پاؤ گے اور اگر تم عمر کو امیر بناؤ تو اس کو امانت دار اور اللہ کی خاطر کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نڈر پاؤ گے، اور اگر علی کو امیر بناؤ اور مجھے نہیں لگتا کہ تم ایسا کرو گے تو اس کو ہدایت یافتہ اور ہدایت دینے والا پاؤ گے جو تمہیں سیدھی راہ پر چلائے گا.‘‘

اس حدیث کو امام احمد، عبد اﷲ بن احمد، بزار اور حاکم نے روایت کیا ہے. امام حاکم نے فرمایا : اس حدیث کی سند صحیح ہے. امام مقدسی نے بھی اس کی اسناد کو حسن قرار دیا.

41. عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُوْنٍ رضی الله عنه قَالَ : رَايْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رضی الله عنه فذکر الحديث في مقتله قَالَ : فَقَالُوْا : اوْصِ يَا امِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ : اسْتَخْلِفْ. قَالَ : مَا اجِدُ احَدًا احَقَّ بِهٰذَا مِنْ هٰؤُلَائِ النَّفَرِ اوِ الرَّهْطِ الَّذِيْنَ تُوُفِّيَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم وَهُوَ عنهمْ رَاضٍ، فَسَمّٰی عَلِيًّا وَعُثْمَانَ وَالزُّبَيْرَ وَطَلْحَةَ وَسَعْدًا وَعَبْدَ الرَّحْمٰنِ. . . الحديث.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُوْ يَعْلٰی.

41 : اخرجه البخاري في الصحيح، کتاب المناقب، باب قصة البيعة والاتفاق علی عثمان بن عفان، 3 / 1353.1355، الرقم : 3497، وابن حبان في الصحيح، 15 / 350.353، الرقم : 6917، وابن أبي شيبة في المصنف، 7 / 435.436، الرقم : 37059، وأبو يعلی في المسند، 1 / 181، الرقم : 205.

’’حضرت عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو (زخمی حالت میں) دیکھا، پھر راوی ان کے قتل کیے جانے کے بارے میں حدیث بیان کی. راوی بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا : اے امیر المومنین! اپنے جانشین کے لیے وصیت فرما دیں. آپ نے فرمایا : میں ان چند حضرات کے سوا اور کسی کو امرِ خلافت کا زیادہ حق دار نہیں پاتا کیوں کہ جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وصال فرمایا تھا تو ان سے راضی تھے پھر آپ رضی اللہ عنہ نے (ان حضرات کے) نام لیے (وہ) حضرت علی، حضرت عثمان، حضرت زبیر، حضرت طلحہ، حضرت سعد اور حضرت عبد الرحمن بن عوف ث تھے.‘‘

اس حدیث کو امام بخاری، ابن حبان، ابن ابی شیبہ اور ابو یعلی نے روایت کیا ہے.

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved