Arbain: Fazilat o Farziyat e Namaz awr Tark per Waeed

ارکان نماز کی اطمنان سے ادائیگی کا وجوب :ارکان نماز کی اطمنان سے ادائیگی کا وجوب

وُجُوْبُ تَعْدِيْلِ الْأَرْکَانِ فِي الصَّلاةِ

{اَرکانِ نماز کی اطمینان سے ادائیگی کا وجوب}

اَلْقُرْآن

  1. وَاِذَا قَامُوْٓا اِلَی الصَّلٰوةِ قَامُوْا کُسَالٰی لا يُرَآئُوْنَ النَّاسَ وَلَا يَذْکُرُوْنَ اﷲَ اِلاَّ قَلِيلاًo

(النساء، 4/ 142)

اور جب وہ ( منافقین) نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو سستی کے ساتھ (محض) لوگوں کو دکھانے کے لیے کھڑے ہوتے ہیں اور اللہ کویاد (بھی) نہیں کرتے مگر تھوڑا۔

  1. وَمَا مَنَعَهُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقٰتُهُمْ اِلَّآ اَنَّهُمْ کَفَرُوْا بِاﷲِ وَبِرَسُوْلِهِ وَلَا يَاْتُوْنَ الصَّلٰوةَ اِلَّا وَهُمْ کُسَالٰی وَلَا يُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَهُمْ کٰرِهُوْنَo

(التوبة، 9/ 54)

اور ان سے ان کے نفقات (یعنی صدقات) کے قبول کیے جانے میں کوئی (اور) چیز انہیں مانع نہیں ہوئی سوائے اس کے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منکر ہیں اور وہ نماز کی ادائیگی کے لیے نہیں آتے مگر کاہلی و بے رغبتی کے ساتھ اور وہ (اللہ کی راہ میں) خرچ (بھی) نہیں کرتے مگر اس حال میں کہ وہ ناخوش ہوتے ہیں۔

  1. فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّيْنَo الَّذِيْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَo الَّذِيْنَ هُمْ يُرَآئُوْنَo

(الماعون، 107/ 4-6)

پس افسوس (اور خرابی) ہے ان نمازیوں کے لیے۔ جو اپنی نماز (کی روح) سے بے خبر ہیں (یعنی انہیں محض حقوق اﷲ یاد ہیں حقوق العباد بھلا بیٹھے ہیں)۔ وہ لوگ (عبادت میں) دکھلاوا کرتے ہیں (کیوں کہ وہ خالق کی رسمی بندگی بجا لاتے ہیں اور پسی ہوئی مخلوق سے بے پرواہی برت رہے ہیں)۔

اَلْحَدِيْث

  1. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: أَقِيمُوا الرُّکُوعَ وَالسُّجُودَ، فَوَاﷲِ، إِنِّي لَأَرَاکُمْ مِنْ بَعْدِي، وَرُبَّمَا قَالَ: مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي إِذَا رَکَعْتُمْ وَسَجَدْتُمْ.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب صفة الصلاة، باب الخشوع في الصلاة، 1/ 259، الرقم/ 709، ومسلم في الصحيح، کتاب الصلاة، باب الأمر بتحسين الصلاة وإتمامها والخشوع فيها، 1/ 319، الرقم/ 425، وأحمد بن حنبل في المسند، 3/ 115، الرقم/ 12169.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رکوع اور سجدے (اچھی طرح) ادا کیا کرو۔ اللہ کی قسم، بے شک میں تمہیں اپنے پیچھے بھی دیکھتا ہوں، اور کئی دفعہ فرمایا:جب تم رکوع اور سجدہ کرتے ہو تو میں تمہیں اپنی پشت کے پیچھے بھی (دیکھتا ہوں)۔

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

  1. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّی فَسَلَّمَ عَلَی النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم، فَرَدَّ وَقَالَ: ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ، فَرَجَعَ يُصَلِّي کَمَا صَلَّی، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَی النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم فَقَالَ: ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ، ثَـلَاثًا، فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا أُحْسِنُ غَيْرَهُ فَعَلِّمْنِي، فَقَالَ: إِذَا قُمْتَ إِلَی الصَّلَاةِ فَکَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْکَعْ حَتّٰی تَطْمَئِنَّ رَاکِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتّٰی تَعْدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتّٰی تَطْمَئِنَّ جَالِسًا، وَافْعَلْ ذٰلِکَ فِي صَلَاتِکَ کُلِّهَا.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب صفة الأذان، باب وجوب القراء ة للإمام والمأموم في الصلوات کلها في الحضر والسفر وما یجهر فيها وما يخافت، 1/ 263، الرقم/ 724، کتاب الإستئذان، باب من رد فقال: عليک السلام، 5/ 2307، الرقم/ 5897وأيضًا فيکتاب الأيمان والنذور، باب إذا حنث ناسيًا في الأيمان، 6/ 2455، الرقم:6290، ومسلم في الصحيح، کتاب الصلاة، باب وجوب قراء ة الفاتحة في کل رکعة وإنه إذا لم يحسن الفاتحة ولا أمکنه تعلمها قرأ ما تيسر له من غيرها، 1/ 298، الرقم/ 397، وأحمد بن حنبل في المسند، 2/ 437، الرقم/ 9633، وأبو داود في السنن، کتاب الصلاة، باب صلاة من لا يقيم صلبه في الرکوع والسجود، 1/ 226، الرقم/ 856، والترمذي في السنن، کتاب الصلاة، باب ما جاء في وصف الصلاة، 2/ 103، الرقم/ 303، والنسائي في السنن، کتاب الافتتاح، باب فرض التکبيرة الأولی، 2/ 124، الرقم/ 884، والبيهقي في السنن الکبری، 2/ 15، الرقم/ 2091، وأبويعلی في المسند، 11/ 449، الرقم/ 6577.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف لائے تو ایک آدمی داخل ہوا اور اس نے نماز ادا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: واپس جا کر نماز پڑھو، کیونکہ تمہاری نماز نہیں ہوئی، وہ واپس گیا اور اسی طرح نماز پڑھی جیسے پہلے پڑھی تھی پھر حاضر ہوا اورآپa کی خدمت میں سلام عرض کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: واپس جاؤ اور نماز ادا کرو۔ کیونکہ تمہاری نماز نہیں ہوئی۔ (ایسا) تین مرتبہ فرمایا۔ وہ عرض گزار ہوا۔ (یارسول اﷲ) قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، مجھے اس سے بہتر نماز ادا کرنا نہیں آتا، لہٰذا سکھا دیجئے۔ فرمایا کہ جب تم نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہو تو تکبیر کہو۔ پھر قرآن مجید میں سے جو حصہ تمہارے لئے آسان ہو وہ پڑھو۔ پھر اطمینان کے ساتھ رکوع کرو۔ پھر سر اٹھا کر سیدھے کھڑے ہو جاؤ۔ پھر اطمینان کے ساتھ سجدہ کرو۔ پھر سر اٹھاؤ تو اطمینان سے بیٹھ جاؤ اور ساری نماز میں اسی طرح کرو۔

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ رضی الله عنه قَالَ: صَلّٰی بِنَا رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَوْمًا، ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ: يَا فُـلَانُ، أَلَا تُحْسِنُ صَلَاتَکَ؟ أَلَا يَنْظُرُ الْمُصَلِّي إِذَا صَلّٰی کَيْفَ يُصَلِّي؟ فَإِنَّمَا يُصَلِّي لِنَفْسِهِ. إِنِّي وَاﷲِ، لَأُبْصِرُ مِنْ وَرَائِي کَمَا أُبْصِرُ مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالنَّسَائِيُّ وَأَبُوْعَوَانَةَ وَالْبَيْهَقِيُّ.

أخرجه مسلم في الصحيح کتاب الصلاة باب الأمر بتحسين الصلاة وإتماميا والخشوع فييا، 1/ 319، الرقم/ 423، والنسائي في السنن، کتاب الإمامة، باب الرکوع دون الصف، 2/ 118، الرقم/ 872، وفي السنن الکبری، 1/ 303، الرقم/ 944، وأبو عوانة في المسند، 1/ 434، الرقم/ 1614، والبييقي في السن الکبری، 2/ 290، الرقم/ 3398.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک روز ہمیں نماز پڑھائی، پھر (پیچھے) مڑے اور فرمایا: اے فلاں! تم اپنی نماز کو اچھی طرح اداکیوں نہیں کرتے؟ کیا نمازی نماز پڑھتے وقت یہ غور نہیں کرتا کہ وہ کس طرح نماز پڑھ رہا ہے؟ وہ محض اپنے لیے ہی نماز پڑھتا ہے۔ اللہ کی قسم! بے شک میں تمہیں اپنے پیچھے بھی ایسے ہی دیکھتا ہوں جیسا کہ سامنے سے دیکھتا ہوں۔

اس حدیث کو امام مسلم، نسائی، ابوعوانہ اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

وَفِي رِوَايَةِ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: اجْتَمَعَ أَبُو حُمَيْدٍ وَأَبُو أُسَيْدٍ وَسَهْلُ بْنُ سَعْدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، فَذَکَرُوا صَلَاةَ رَسُولِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: أَنَا أَعْلَمُکُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم، إِنَّ رَسُولَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم رَکَعَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلٰی رُکْبَتَيْهِ کَأَنَّهُ قَابِضٌ عَلَيْهِمَا، وَوَتَّرَ يَدَيْهِ فَنَحَّاهُمَا عَنْ جَنْبَيْهِ.

قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ. قَالَ التِّرْمِذِيُّ: حَدِيثُ أَبِي حُمَيْدٍ حَدِیثٌ حَسَنٌ صَحِیحٌ وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ أَهْلُ الْعِلْمِ أَنْ يُجَافِيَ الرَّجُلُ يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ فِي الرُّکُوعِ وَالسُّجُودِ.

رَوَاهُ أَبُودَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ وَالْبَيْهَقِيُّ وَهٰذَا لَفْظُ التِّرْمِذِيِّ.

أخرجه أبوداود في السنن، کتاب الصلاة، باب افتتاح الصلاة، 1/ 196، الرقم/ 734، الترمذي في السنن، کتاب الصلاة، باب ما جاء أنه يجافي يديه عن جنبيه في الرکوع 2/ 45، الرقم/ 260، والدارمي في السنن، 1/ 341، الرقم/ 1307 وابن حبان في الصحيح، 5/ 189، الرقم/ 1871 والبيهقي في السنن الکبری 2/ 73، الرقم/ 2348.

عباس بن سہل بن سعد کہتے ہیں ابو حُمید، ابو اُسید، سہل بن سعد اور محمد بن مسلمہ ایک جگہ اکٹھے ہوئے اور حضور نبی اکرم کی نماز کا ذکر کرنے لگے، ابو حمید نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کو تم سب سے زیادہ جانتا ہوں (پھر انہوں نے بیان کرتے ہوئے کہا:) ’’اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع فرمایا اور اپنے دستِ مبارک کو اپنے زانوؤں پر اسی طرح رکھا گویا کہ آپ نے ان کو پکڑا ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بازوؤں کو کمان کی طرح رکھتے ہوئے پہلوؤں سے جدا رکھا۔

اس باب میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ابو حمید کی حدیث حسن صحیح ہے اور علماء کا یہی مختارمذہب ہے کہ آدمی رکوع اور سجدہ میں اپنے ہاتھوں کو پہلوؤں سے جدا رکھے۔‘‘

اس حدیث کو امام ابو داود، ترمذی، دارمی، ابن حبان اور بیہقی نے روایت کیا ہے ۔مذکورہ الفاظ ترمذی کے ہیں۔

  1. عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: رَمَقْتُ الصَّلَاةَ مَعَ مُحَمَّدٍ صلی الله عليه وآله وسلم، فَوَجَدْتُ قِيَامَهُ، فَرَکْعَتَهُ، فَاعْتِدَالَهُ بَعْدَ رُکُوعِهِ، فَسَجْدَتَهُ، فَجَلْسَتَهُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ، فَسَجْدَتَهُ، فَجَلْسَتَهُ مَا بَيْنَ التَّسْلِیمِ وَالاِنْصِرَافِ، قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَأَبْوْ دَاؤدَ وَالنَّسَائِيُّوَالدَّارِمِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ.

أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الصلاة، باب اعتدال أرکان الصلاة وتخفيفها في تمام، 1/ 343، الرقم/ 471، وأحمد بن حنبل في المسند، 4/ 294، الرقم/ 18621، وأبو داود في السنن، کتاب الصلاة، باب طول القيام من الرکوع وبين السجدتين، 1/ 225، الرقم/ 854، والنسائي في السنن، کتاب الافتتاح، باب جلسة الإمام بين التسليم والانصراف، 3/ 66، الرقم/ 1332، وفي السنن الکبری، 1/ 396، الرقم/ 1255، والدارمي في السنن، 1/ 352، الرقم/ 1334، والبيهقي في السنن الکبری، 2/ 123، الرقم/ 2588.

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کو غور سے دیکھا تو میںنے مشاہدہ کیا کہ آپ کا قیام، رکوع، رکوع کے بعد سیدھے کھڑے ہونا پھر سجدہ، دو سجدوں کے درمیان بیٹھنا پھر سجدہ اور سلام اور نماز سے فارغ ہونے تک بیٹھنا یہ تمام افعال اپنی اپنی حیثیت کے اعتبار سے تقریباً برابر تھے۔

اس حدیث کو امام مسلم، احمد، ابوداؤد، نسائی، دارمی اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved