Arbain: Tafseel e Iman ka Bayan

فرشتوں پر ایمان لانا :فرشتوں پر ایمان لانا

اَلإِيْمَانُ بِالْمَـلَائِکَةِ

{فرشتوں پر اِیمان لانا}

الْقُرْآن

  1. وَاِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰٓئِکَةِ اِنِّيْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِيْفَةً ط قَالُوٓا اَتَجْعَلُ فِيْهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيْهَا وَيَسْفِکُ الدِّمَـآءَ ج وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ ط قَالَ اِنِّیٓ اَعْلَمُ مَا لاَ تَعْلَمُوْنَo

(البقرة، 2/ 30)

اور (وہ وقت یاد کریں) جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں، انہوں نے عرض کیا: کیا تُو زمین میں کسی ایسے شخص کو (نائب) بنائے گا جو اس میں فساد انگیزی کرے گا اور خونریزی کرے گا؟ حالاں کہ ہم تیری حمد کے ساتھ تسبیح کرتے رہتے ہیں اور (ہمہ وقت) پاکیزگی بیان کرتے ہیں، (اللہ نے) فرمایا: میں وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

  1. مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَمَلٰٓئِکَتِهِ وَرُسُلِهِ وَجِبْرِيْلَ وَمِيْکٰلَ فَاِنَّ اﷲَ عَدُوٌّ لِّلْکٰفِرِيْنَo

(البقرة، 2/ 98)

جو شخص اللہ کا اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں کا اور جبریل اور میکائیل کا دشمن ہوا تو یقینا اللہ (بھی ان) کافروں کا دشمن ہے۔

  1. اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ط کُلٌّ اٰمَنَ بِاﷲِ وَمَلٰٓـئِکَتِهِ وَکُتُبِهِ وَرُسُلِهِ قف لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهِ قف وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَاِلَيْکَ الْمَصِيْرُo

(البقرة، 2/ 285)

(وہ) رسول اس پر ایمان لائے (یعنی اس کی تصدیق کی) جو کچھ ان پر ان کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا اور اہلِ ایمان نے بھی، سب ہی (دل سے) اﷲ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے، (نیز کہتے ہیں: ) ہم اس کے پیغمبروں میں سے کسی کے درمیان بھی (ایمان لانے میں) فرق نہیں کرتے، اور (اﷲ کے حضور) عرض کرتے ہیں: ہم نے (تیرا حکم) سنا اور اطاعت (قبول) کی، اے ہمارے رب! ہم تیری بخشش کے طلبگار ہیں اور (ہم سب کو) تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔

  1. شَهِدَ اﷲُ اَنَّهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ وَالْمَلٰٓئِکَةُ وَاُولُوا الْعِلْمِ قَآئِمًام بِالْقِسْطِ ط لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَکِيْمُo

(آل عمران، 3/ 18)

اﷲ نے اس بات پر گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں اور فرشتوں نے اور علم والوں نے بھی (اور ساتھ یہ بھی) کہ وہ ہر تدبیر عدل کے ساتھ فرمانے والا ہے، اس کے سوا کوئی لائقِ پرستش نہیں وہی غالب حکمت والا ہے۔

  1. اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِيْنَ اَلَنْ يَّکْفِيَکُمْ اَنْ يُمِدَّکُمْ رَبُّکُمْ بِثَلٰـثَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰئِکَةِ مُنْزَلِيْنَo بَلٰٓی لا اِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا وَيَاْتُوْکُمْ مِّنْ فَوْرِهِمْ هٰذَا يُمْدِدْکُمْ رَبُّکُمْ بِخَمْسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِکَةِ مُسَوِّمِيْنَo

(آل عمران، 3/ 124-125)

جب آپ مسلمانوں سے فرما رہے تھے کہ کیا تمہارے لیے یہ کافی نہیں کہ تمہارا رب تین ہزار اتارے ہوئے فرشتوں کے ذریعے تمہاری مدد فرمائے۔ ہاں اگر تم صبر کرتے رہو اور پرہیزگاری قائم رکھو اور وہ (کفّار) تم پر اسی وقت (پورے) جوش سے حملہ آور ہو جائیں تو تمہارا رب پانچ ہزار نشان والے فرشتوں کے ذریعے تمہاری مدد فرمائے گا۔

  1. يٰٓـاَيُهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اٰمِنُوْا بِاﷲِ وَرَسُوْلِهِ وَالْکِتٰبِ الَّذِيْ نَزَّلَ عَلٰی رَسُوْلِهِ وَالْکِتٰبِ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ ط وَمَنْ يَّکْفُرْ بِاﷲِ وَمَلٰٓئِکَتِهِ وَکُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلاًم بَعِيْدًاo

(النساء، 4/ 136)

اے ایمان والو! تم اللہ پر اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل فرمائی ہے اور اس کتاب پر جواس نے (اس سے) پہلے اتاری تھی ایمان لاؤ اور جو کوئی اللہ کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کی کتابوں کا اور اس کے رسولوں کا اور آخرت کے دن کا انکار کرے تو بے شک وہ دور دراز کی گمراہی میں بھٹک گیا۔

  1. وَهُوَ الْقَهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْکُمْ حَفَظَةً ط حَتّٰی اِذَا جَآءَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُوْنَo

(الأنعام، 6/ 61)

اور وہی اپنے بندوں پر غالب ہے اور وہ تم پر (فرشتوں کو بطور) نگہبان بھیجتا ہے، یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کو موت آتی ہے (تو) ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) اس کی روح قبض کرلیتے ہیں اور وہ خطا(یا کوتاہی) نہیں کرتے۔

  1. وَلَوْ تَرٰٓی اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِيْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَالْمَلٰٓئِکَةُ بَاسِطُوْٓا اَيْدِيْهِمْ ج اَخْرِجُوْٓا اَنْفُسَکُمْ ط اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا کُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَی اﷲِ غَيْرَ الْحَقِّ وَکُنْتُمْ عَنْ اٰيٰـتِهِ تَسْتَکْبِرُوْنَo

(الأنعام، 6/ 93)

اور اگر آپ (اس وقت کا منظر) دیکھیں جب ظالم لوگ موت کی سختیوں میں (مبتلا) ہوں گے اور فرشتے (ان کی طرف) اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے ہوں گے اور (ان سے کہتے ہونگے)تم اپنی جانیں جسموں سے نکالو۔ آج تمہیں سزا میں ذلّت کا عذاب دیا جائے گا۔ اس وجہ سے کہ تم اﷲ پر ناحق باتیں کیا کرتے تھے اور تم اس کی آیتوں سے سرکشی کیا کرتے تھے۔

  1. اِنَّ الَّذِيْنَ عِنْدَ رَبِّکَ لَا يَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيُسَبِّحُوْنَهُ وَلَهُ يَسْجُدُوْنَo

(الأعراف، 7/ 206)

بے شک جو (ملائکہ مقربین) تمہارے رب کے حضور میں ہیں وہ (کبھی بھی) اس کی عبادت سے سرکشی نہیں کرتے اور (ہمہ وقت) اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں اور اس کی بارگاہ میں سجدہ ریز رہتے ہیں۔

  1. اِذْ تَسْتَغِيْثُوْنَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ اَنِّيْ مُمِدُّ کُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓـئِکَةِ مُرْدِفِيْنَo

(الأنفال، 8/ 9)

(وہ وقت یاد کرو) جب تم اپنے رب سے (مدد کے لیے) فریاد کر رہے تھے تو اس نے تمہاری فریاد قبول فرمالی (اور فرمایا) کہ میں ایک ہزار پے در پے آنے والے فرشتوں کے ذریعے تمہاری مدد کرنے والا ہوں۔

  1. وَلَوْ تَرٰٓی اِذْ يَتَوَفَّی الَّذِيْنَ کَفَرُوا الْمَلٰٓئِکَةُ يَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَاَدْبَارَهُمْ ج وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِo

(الأنفال، 8/ 50)

اور اگر آپ (وہ منظر) دیکھیں (تو بڑا تعجب کریں) جب فرشتے کافروں کی جان قبض کرتے ہیں وہ ان کے چہروں اور ان کی پشتوں پر (ہتھوڑے) مارتے جاتے ہیں اور (کہتے ہیں کہ دوزخ کی) آگ کا عذاب چکھ لو۔

  1. لَهُ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْم بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُوْنَهُ مِنْ اَمْرِ اﷲِ ط اِنَّ اﷲَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ ط وَاِذَآ اَرَادَ اﷲُ بِقَوْمٍ سُوْٓءً ا فَـلَا مَرَدَّ لَهُ ج وَمَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهِ مِنْ وَّالٍo

(الرعد، 13/ 11)

(ہر) انسان کے لیے یکے بعد دیگرے آنے والے (فرشتے) ہیں جو اس کے آگے اور اس کے پیچھے اﷲ کے حکم سے اس کی نگہبانی کرتے ہیں۔ بے شک اﷲ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا یہاں تک کہ وہ لوگ اپنے آپ میں خود تبدیلی پیدا کر ڈالیں، اور جب اﷲ کسی قوم کے ساتھ (اس کی اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے) عذاب کا ارادہ فرما لیتا ہے تو اسے کوئی ٹال نہیں سکتا، اور نہ ہی ان کے لیے اﷲ کے مقابلہ میں کوئی مددگار ہوتا ہے۔

  1. وَيُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ وَالْمَلٰٓـئِکَةُ مِنْ خِيْفَتِهِ ج وَيُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَيُصِيْبُ بِهَا مَنْ يَّشَآءُ وَهُمْ يُجَادِلُوْنَ فِی اﷲِج وَهُوَ شَدِيْدُ الْمِحَالِo

(الرعد، 13/ 13)

(بجلیوں اور بادلوں کی) گرج (یا اس پر متعین فرشتہ) اور تمام فرشتے اس کے خوف سے اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں، اور وہ کڑکتی بجلیاں بھیجتا ہے پھر جس پر چاہتا ہے اسے گرا دیتا ہے، اور وہ (کفار قدرت کی ان نشانیوں کے باوجود) اﷲ کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں، اور وہ سخت تدبیر و گرفت والا ہے۔

  1. الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰهُمُ الْمَلٰٓئِکَةُ طَيِّبِيْنَ يَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَيْکُمُ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَo

(النحل، 16/ 32)

جن کی روحیں فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ (نیکی و طاعت کے باعث) پاکیزہ اور خوش و خرم ہوں، (ان سے فرشتے قبضِ روح کے وقت ہی کہہ دیتے ہیں: ) تم پر سلامتی ہو، تم جنت میں داخل ہو جاؤ اُن (اَعمالِ صالحہ) کے باعث جو تم کیا کرتے تھے۔

  1. وَ ِﷲِ يَسْجُدُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ مِنْ دَآبَّةٍ وَّالْمَلٰٓئِکَةُ وَهُمْ لَا يَسْتَکْبِرُوْنَo يَخَافُوْنَ رَبَّهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَo

(النحل، 16/ 49-50)

اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے جملہ اور فرشتے، اللہ (ہی) کو سجدہ کرتے ہیں اور وہ (ذرا بھی) غرور و تکبر نہیں کرتےo وہ اپنے رب سے جو ان کے اوپر ہے ڈرتے رہتے ہیں اور جو حکم انہیں دیا جاتا ہے (اسے) بجا لاتے ہیں۔

  1. اَﷲُ يَصْطَفِيْ مِنَ الْمَلٰٓئِکَةِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ ط اِنَّ اﷲَ سَمِيْعٌم بَصِيْرٌo

(الحج، 22/ 75)

اﷲ فرشتوں میں سے (بھی) اور انسانوں میں سے (بھی اپنا) پیغام پہنچانے والوں کو منتخب فرما لیتا ہے۔ بے شک اﷲ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے۔

  1. وَاِنَّهُ لَتَنْزِيْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَo نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُo عَلٰی قَلْبِکَ لِتَکُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِيْنَo

(الشعراء، 26/ 192-194)

اور بے شک یہ (قرآن) سارے جہانوں کے رب کا نازل کردہ ہے۔ اسے روح الامین (جبرائیل علیہ السلام) لے کر اترا ہے۔ آپ کے قلبِ (انور) پر تاکہ آپ (نافرمانوں کو) ڈر سنانے والوں میں سے ہو جائیں۔

  1. هُوَ الَّذِيْ يُصَلِّيْ عَلَيْکُمْ وَمَلٰٓئِکَتُهُ لِيُخْرِجَکُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ ط وَکَانَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَحِيْمًاo

(الأحزاب، 33/ 43)

وہی ہے جو تم پر درود بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی، تاکہ تمہیں اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لے جائے، اور وہ مومنوں پر بڑی مہربانی فرمانے والا ہے۔

  1. اِنَّ اﷲَ وَمَلٰٓئِکَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِيِّ ط يٰٓـاَيُهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًاo

(الأحزاب، 33/ 56)

بے شک اللہ اور ا س کے (سب) فرشتے نبیِ (مکرمّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پر درود بھیجتے رہتے ہیں، اے ایمان والو! تم (بھی) اُن پر درود بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو۔

  1. اَلْحَمْدُ ِﷲِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ جَاعِلِ الْمَلٰٓئِکَةِ رُسُلًا اُولِيْٓ اَجْنِحَةٍ مَّثْنٰی وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ ط يَزِيْدُ فِی الْخَلْقِ مَا يَشَآءُ ط اِنَّ اﷲَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيْرٌo

(فاطر، 35/ 1)

تمام تعریفیں اﷲ ہی کے لیے ہیں جو آسمانوں اور زمین (کی تمام وسعتوں) کا پیدا فرمانے والا ہے، فرشتوں کو جو دو دو اور تین تین اور چار چار پَروں والے ہیں، قاصد بنانے والا ہے، اور تخلیق میں جس قدر چاہتا ہے اضافہ (اور توسیع) فرماتا رہتا ہے، بے شک اﷲ ہر چیز پر بڑا قادر ہے۔

  1. وَالصّٰفّٰتِ صَفًّاo فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًاo فَالتّٰلِیٰتِ ذِکْرًاo

(الصافات، 37/ 1-3)

قسم ہے قطار در قطار صف بستہ جماعتوں کی۔ پھر بادلوں کو کھینچ کرلے جانے والی یا برائیوں پر سختی سے جھڑکنے والی جماعتوں کی۔ پھر ذکر الٰہی (یا قرآن مجید) کی تلاوت کرنے والی جماعتوں کی۔

  1. وَ تَرَی الْمَلٰٓئِکَةَ حَآفِّيْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ ج وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَقِيْلَ الْحَمْدُ ِﷲِ رَبِّ الْعٰـلَمِيْنَo

(الزمر، 39/ 75)

اور (اے حبیب!) آپ فرشتوں کو عرش کے اردگرد حلقہ باندھے ہوئے دیکھیں گے جو اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہوں گے، اور (سب) لوگوں کے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ کُل حمد اللہ ہی کے لائق ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔

  1. اَلَّذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُوْنَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْاج رَبَّنَا وَسِعْتَ کُلَّ شَيْئٍ رَّحْمَةً وَّعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِيْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِيْلَکَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيْمِo

(المؤمن، 40/ 7)

جو (فرشتے) عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو اُس کے اِرد گِرد ہیں وہ (سب) اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اہلِ ایمان کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں (یہ عرض کرتے ہیں کہ) اے ہمارے رب! تو (اپنی) رحمت اور علم سے ہر شے کا احاطہ فرمائے ہوئے ہے، پس اُن لوگوں کو بخش دے جنہوں نے توبہ کی اور تیرے راستہ کی پیروی کی اور انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔

  1. اِذْ يَتَلَقَّی الْمُتَلَقِّيٰنِ عَنِ الْيَمِيْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيْدٌo مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَيْهِ رَقِيْبٌ عَتِيْدٌo

(قٓ، 50/ 17-18)

جب دولینے والے (فرشتے اس کے ہر قول و فعل کو تحریر میں) لے لیتے ہیں (جو) دائیں طرف اور بائیں طرف بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہ مُنہ سے کوئی بات نہیںکہنے پاتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان (لکھنے کے لیے) تیار رہتا ہے۔

  1. تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِکَةُ وَالرُّوْحُ اِلَيْهِ فِيْ يَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِيْنَ اَلْفَ سَنَةٍo

(المعارج، 70/ 4)

اس (کے عرش) کی طرف فرشتے اور روح الامین عروج کرتے ہیں ایک دن میں، جس کا اندازہ (دنیوی حساب سے) پچاس ہزار برس کا ہے۔

  1. وَالنّٰزِعٰتِ غَرْقًاo وَّ النّٰشِطٰتِ نَشْطًاo وَّ السّٰبِحٰتِ سَبْحًاo فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًاo فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًاo

(النازعات، 79/ 1-5)

ان (فرشتوں) کی قَسم جو (کافروں کی جان ان کے جسموں کے ایک ایک انگ میں سے) نہایت سختی سے کھینچ لاتے ہیں۔ اور ان (فرشتوں) کی قَسم جو (مومنوں کی جان کے) بند نہایت نرمی سے کھول دیتے ہیں۔ اور ان (فرشتوں) کی قَسم جو (زمین و آسمان کے درمیان) تیزی سے تیرتے پھرتے ہیں۔ پھر ان (فرشتوں) کی قَسم جو لپک کر (دوسروں سے) آگے بڑھ جاتے ہیں۔ پھر ان (فرشتوں) کی قَسم جو مختلف امور کی تدبیر کرتے ہیں۔

  1. اِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِيْمٍo ذِيْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَکِيْنٍo مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِيْنٍo

(التکوير، 81/ 19-21)

بے شک یہ (قرآن) بڑی عزت و بزرگی والے رسول کا (پڑھا ہوا) کلام ہے۔ جو (دعوتِ حق، تبلیغِ رسالت اور روحانی استعداد میں) قوت و ہمت والے ہیں (اور) مالکِ عرش کے حضور بڑی قدر و منزلت (اور جاہ و عظمت) والے ہیں۔ (تمام جہانوں کے لیے) واجب الاطاعت ہیں (کیوں کہ ان کی اطاعت ہی اللہ کی اطاعت ہے)، امانت دار ہیں (وحی اور زمین و آسمان کے سب اُلوہی رازوں کے حامل ہیں)۔

  1. کَلَّا بَلْ تُکَذِّبُوْنَ بِالدِّيْنِo وَ اِنَّ عَلَيْکُمْ لَحٰفِظِيْنَo کِرَامًا کَاتِبِيْنَo يَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَo

(الانفطار، 82/ 9-12)

حقیقت تو یہ ہے (اور) تم اِس کے برعکس روزِ جزا کو جھٹلاتے ہو۔ حالانکہ تم پر نگہبان فرشتے مقرر ہیں۔ (جو) بہت معزز ہیں (تمہارے اعمال نامے) لکھنے والے ہیں۔ وہ ان (تمام کاموں) کو جانتے ہیں جو تم کرتے ہو۔

  1. کَلَّآ اِنَّ کِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِيْ عِلِّيِّيْنَo وَ مَآ اَدْرٰ کَ مَا عِلِّيُوْنَo کِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌo يَّشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَo

(المطففین، 83/ 18-21)

یہ (بھی) حق ہے کہ بے شک نیکوکاروں کا نوشتۂ اعمال علّیین (یعنی دیوان خانۂِ جنت) میں ہے۔ اور آپ نے کیا جانا کہ علّیین کیا ہے؟ (یہ جنت کے اعلیٰ درجہ میں اس بڑے دیوان کے اندر) لکھی ہوئی (ایک) کتاب ہے (جس میں ان جنتیوں کے نام اور اعمال درج ہیں جنہیں اعلیٰ مقامات دیے جائیں گے)۔ اس جگہ (اللہ کے) مقرب فرشتے حاضر رہتے ہیں۔

  1. لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍo تَنَزَّلُ الْمَلٰٓئِکَةُ وَالرُّوْحُ فِيْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ ج مِّنْ کُلِّ اَمْرٍo

(القدر، 97/ 3-4)

شبِ قدر (فضیلت و برکت اور اَجر و ثواب میں) ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس (رات) میں فرشتے اور روح الامین (جبرائیل) اپنے رب کے حکم سے (خیر و برکت کے) ہر امر کے ساتھ اترتے ہیں۔

الْحَدِيْث

  1. عَنْ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ رضی الله عنه - فِي حَدِيْثِ جِبْرِيْلَ - عَنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم ، قَالَ: أَخْبِرْنِي عَنِ الإِيْمَانِ۔ قَالَ: أَنْ تُؤْمِنَ بِاﷲِ، وَمَـلَائِکَتِهِ، وَکُتُبِهِ، وَرُسُلِهِ، وَالْيَوْمِ الآخِرِ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ.

أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب الإيمان، باب سؤال جبريل النبي صلی الله عليه وآله وسلم عن الإيمان والإسلام والإحسانِ وعلم الساعة، 1/ 27، الرقم/ 50، ومسلم في الصحيح، کتاب الإيمان، باب بيان الإيمان والإسلام والإحسان، 1/ 36، الرقم/ 8-9، وأحمد بن حنبل في المسند، 1/ 51، الرقم/ 367، والترمذي في السنن، کتاب الإيمان، باب ما جاء في وصف جبريل للنبي صلی الله عليه وآله وسلم الإيمان والإسلام، 5/ 6، الرقم/ 2610، وأبو داود في السنن، کتاب السنة، باب في القدر، 4/ 223، الرقم/ 4695، والنسائي في السنن، کتاب الإيمان وشرائعه، باب نعت الإسلام، 8/ 97-98، الرقم/ 4990.

حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ طویل حدیثِ جبرائیل میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: مجھے ایمان کے بارے میں بیان فرمائیں؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر اور قیامت کے دن پر ایمان لائے اور اچھی بری تقدیر پر ایمان رکھے (کہ وہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ہے)۔

یہ حدیث متفق علیہ ہے اور مذکورہ الفاظ مسلم کے ہیں۔

  1. عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : خُلِقَتِ الْمَلَائِکَةُ مِنْ نُوْرٍ، وَخُلِقَ الْجَانُّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ، وَخُلِقَ آدَمُ مِمَّا وُصِفَ لَکُمْ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ.

أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الزهد والرقائق، باب في أحاديث متفرقة، 4/ 2294، الرقم/ 2996، وأحمد بن حنبل في المسند، 6/ 153، الرقم/ 25235، وأيضًا، 6/ 168، الرقم/ 25393، وابن حبان في الصحيح، 14/ 25، الرقم/ 6155، وعبد الرزاق في المصنف، 11/ 425، الرقم/ 20904، وابن راهويه في المسند، 2/ 277، الرقم/ 786، وعبد بن حميد في المسند، 1/ 430، الرقم/ 1479، والبيهقي في السنن الکبری، 9/ 3، الرقم/ 17487، وأيضًا في شعب الإيمان، 1/ 168، الرقم/ 143.

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فرشتوں کی تخلیق نور سے، جنوں کی آگ کے شعلہ سے اور آدم علیہ السلام کی تخلیق اُس شے سے ہوئی جس کے بارے میں تمہیں پہلے بتایا جاچکا ہے (یعنی سُلٰـلَةٌ مِّنْ طِيْنٍ ’مٹی کے کیمیائی اجزاء کے خلاصہ سے‘)۔

اِسے امام مسلم، احمد، ابن حبان اور عبد الرزاق نے روایت کیا ہے۔

  1. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: يَتَعَاقَبُوْنَ فِيْکُمْ مَـلَائِکَةٌ بِاللَّيْلِ، وَمَـلَائِکَةٌ بِالنَّهَارِ، وَيَجْتَمِعُوْنَ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ، وَصَلَاةِ الْفَجْرِ، ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِيْنَ بَاتُوْا فِيْکُمْ، فَيَسْأَلُهُمْ - وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ - کَيْفَ تَرَکْتُمْ عِبَادِي؟ فَيَقُوْلُوْنَ: تَرَکْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّوْنَ، وَأَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّوْنَ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَمَالِکٌ.

أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب التوحید، باب کلام الرب مع جبريل ونداء اﷲ الملائکة، 6/ 2721، الرقم/ 7048، والنسائي في السنن الکبری، 1/ 175، الرقم/ 459، ومالک في الموطأ، 1/ 170، الرقم/ 411، وأبو عوانة في المسند، 1/ 315، الرقم/ 1119، والبيهقي في شعب الإيمان، 3/ 50، الرقم/ 2836.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے تمہارے پاس باری باری آتے ہیں اور نمازِ عصر اور نمازِ فجرکے وقت اکٹھے ہوتے ہیں۔ پھر جنہوں نے تمہارے ساتھ رات گزاری تھی وہ آسمان کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ اللہ رب العزت اُن سے دریافت فرماتا ہے — حالانکہ وہ بہتر جانتا ہے — تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟ وہ عرض کرتے ہیں: ہم نے اُنہیں نماز پڑھتے چھوڑا اور جب ہم اُن کے پاس گئے تب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔

اسے امام بخاری، نسائی اور مالک نے روایت کیا ہے۔

  1. وَعَنْهُ رضی الله عنه ، عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: إِنَّ ِﷲِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی مَـلَائِکَةً سَيَّارََةً فُضُلًا، يَتَتَبَّعُوْنَ مَجَالِسَ الذِّکْرِ، فَإِذَا وَجَدُوْا مَجْلِسًا فِيْهِ ذِکْرٌ، قَعَدُوْا مَعَهُمْ، وَحَفَّ بَعْضُهُمْ بَعْضًا بِأَجْنِحَتِهِمْ، حَتّٰی يَمْلَئُوْا مَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ السَّمَاءِ الدُّنْيَا۔ فَإِذَا تَفَرَّقُوْا عَرَجُوْا وَصَعِدُوْا إِلَی السَّمَاءِ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ.

أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الذکر والدعا والتوبة والاستغفار، باب فضل مجالس الذکر، 4/ 2069، الرقم/ 2689، وأحمد بن حنبل في المسند، 2/ 252، الرقم/ 7420، وأيضًا، 2/ 382، الرقم/ 8960، وذکره المنذري في الترغيب والترهيب، 2/ 259، الرقم/ 2316، وأيضًا، 4/ 244، الرقم/ 5523.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو گشت کرتے رہتے ہیں اور (متعین کردہ فرشتوں سے) زائد ہیں۔ وہ مجالسِ ذکر کو ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ جب وہ ذکر کی کوئی مجلس دیکھتے ہیں تو ان (ذاکرین) کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں اور اپنے پروں سے ایک دوسرے کو (اوپر تلے) ڈھانپ لیتے ہیں۔ حتیٰ کہ زمین سے لے کر آسمانِ دنیا تک کی جگہ (ان کے نورانی وجود سے) بھر جاتی ہے۔ پھر جب ذاکرین مجلس سے اٹھ جاتے ہیں تو یہ فرشتے بھی آسمان کی طرف واپس چلے جاتے ہیں۔

اِسے امام مسلم اور احمد نے روایت کیا ہے۔

  1. عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رضی الله عنه قَالَ: رَأَيْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَوْمَ أُحُدٍ، وَمَعَهُ رَجُـلَانِ يُقَاتِـلَانِ عَنْهُ، عَلَيْهِمَا ثِيَابٌ بِيْضٌ، کَأَشَدِّ الْقِتَالِ۔ مَا رَأَيْتُهُمَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وَفِي رِوَايَةِ مُسْلِمٍ: يَعْنِي جِبْرِيْلَ وَمِيْکَائِيْلَ.

أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب المغازي، باب {إِذَ هَمَّتْ طَائِفَتَانِِ مِنْکُمْ أَنْ تَفْشَلاَ وَاللّٰهُ وَلِيُهُمَا وَعَلَی اﷲِ فَلْيَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ}، (آل عمران، 3/ 122)، 4/ 1489، الرقم/ 3828، وأیضًا في کتاب اللباس، باب الثیاب البیض، 5/ 2192، الرقم/ 5488، ومسلم في الصحيح، کتاب الفضائل، باب في قتال جبریل ومیکائیل عن النبي صلی الله عليه وآله وسلم یوم أحد، 4/ 1802، الرقم/ 2306، وأحمد بن حنبل في المسند، 1/ 171، الرقم/ 1468، والشاشي في المسند، 1/ 185، الرقم/ 133.

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ غزوہ اُحد کے روز میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دو ایسے آدمی دیکھے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب سے لڑ رہے تھے۔ اُنہوں نے سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے اور جرات و بہادری سے بر سرِ پیکار تھے۔ میں نے اُنہیں اِس سے پہلے کبھی دیکھا تھا نہ بعد میں۔

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

امام مسلم کی بیان کردہ روایت میں یہ وضاحت بھی ہے کہ وہ دو اَفراد جبرائیل اور میکائیل علیہم السلام تھے۔

وَفِي رِوَايَةِ رِفاَعَةَ بْنِ رَافِعٍ رضی الله عنه - وَکَانَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ، - قَالَ: جَاءَ جِبْرِيْلُ إِلَی النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم وَقَالَ: مَا تَعُدُّوْنَ أَهْلَ بَدْرٍ فِيْکُمْ؟ قَالَ: مِنْ أَفْضَلِ الْمُسْلِمِيْنَ أَوْ کَلِمَةً نَحْوَهَا. قَالَ: وَکَذٰلِکَ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْمَـلَائِکَةِ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَه.

وَلَفْظُهُمَا: فَقَالَ: مَا تَعُدُّوْنَ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا فِيْکُمْ؟ قَالُوْا: خِيَارَنَا. قَالَ: کَذٰلِکَ هُمْ عِنْدَنَا، خِيَارُ الْمَـلَائِکَةِ.

أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب المغازي، باب شهود الملائکة بدرا، 4/ 1467، الرقم/ 3771، وأحمد بن حنبل في المسند عن رافع بن خديج، 3/ 465، الرقم/ 15858، وابن ماجه في السنن عن رافع بن خديج، المقدمة، باب فضل أهل بدر، 1/ 56، الرقم/ 160، وابن أبي شيبة في المصنف، 7/ 364، الرقم/ 36725، 36731، وذکره ابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 2/ 291، والکناني في مصباح الزجاجة، 1/ 24، الرقم/ 58.

ایک روایت میں حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ - جو کہ بدری صحابہ میں سے ہیں - بیان فرماتے ہیں کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر دریافت کیا: (یا رسول اﷲ!) آپ غزوئہ بدر میں شرکت کرنے والے (صحابہ) کو کیسا سمجھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اُنہیں مسلمانوں میں سب سے افضل شمار کرتا ہوں یا ایسا ہی کوئی دوسرا کلمہ ارشاد فرمایا۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: غزوئہ بدر میں شمولیت کرنے والے فرشتے بھی (فضیلت کے اعتبار سے) دوسرے فرشتوں میں اِسی طرح ہیں۔

اِسے امام بخاری، احمد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

امام احمد اور ابن ماجہ کے الفاظ یوں ہیں: جبرائیل امین علیہ السلام نے عرض کیا: (یا رسول اﷲ!) آپ غزوئہ بدر میں شرکت کرنے والوں کو کیسا سمجھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ہمارے بہترین لوگ ہیں۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: اِسی طرح وہ فرشتے (جنہوں نے غزوئہ بدر میں شرکت کی) ہمارے نزدیک بہترین فرشتے ہیں۔

  1. عَنْ جَابِرٍ رضی الله عنه قَالَ: کَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم يَمْشُوْنَ أَمَامَهُ إِذَا خَرَجَ وَيَدَعُوْنَ ظَهْرَهُ لِلْمَـلَائِکَةِ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَه وَابْنُ حِبَّانَ. وَقَالَ الْکِنَانِيُّ: هٰذَا إِسْنَادٌ صَحِيْحٌ رِجَالُهُ ثِقَاتٌ. وَقَالَ الْمُنَاوِيُّ: قَالَ أَبُوْ نُعَيْمٍ: لِأَنَّ الْمَلَائِکَةَ يَحْرُسُوْنَهُ مِنْ أَعْدَائِهِ.

أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 3/ 302، الرقم/ 14274، ابن ماجه في السن، المقدمة، باب من کره أن یوطأ عقباه، 1/ 90، الرقم/ 246، وابن حبان في الصحيح، 14/ 218، الرقم/ 6312، وذکره ابن الجوزي في صفة الصفوة، 1/ 186، والهيثمي في موارد الظمآن، 1/ 514، الرقم/ 2099، والمناوي في فيض القدير، 5/ 161، والکناني في مصباح الزجاجة، 1/ 36، الرقم/ 97، والسیوطي في شرحه علی سنن ابن ماجه، 1/ 22، الرقم/ 244.

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب باہر تشریف لے جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ آپ کے سامنے چلتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت مبارک کو فرشتوں کے لیے چھوڑ دیتے تھے، (فرشتے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے پیچھے چلتے تھے)۔

اِسے امام احمد، ابن ماجہ اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔ امام کنانی نے فرمایا: اِس حدیث کی سند صحیح ہے اور اِس کے رجال ثقہ ہیں۔ اور مناوی فرماتے ہیں کہ امام ابو نعیم نے فرمایا: کیونکہ فرشتے دشمنوں سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت کیا کرتے تھے۔

  1. عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ رضی الله عنه أَنَّ کَعْبًا دَخَلَ عََلٰی عَائِشَةَ، فَذَکَرُوْا رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم فَقَالَ کَعْبٌ: مَا مِنْ يَوْمٍ يَطْلُعُ إِلَّا نَزَلَ سَبْعُوْنَ أَلْفًا مِنَ الْمَـلَائِکَةِ حَتّٰی يَحُفُّوْا بِقَبْرِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم يَضْرِبُوْنَ بِأَجْنِحَتِهِمْ، وَيُصَلُّوْنَ عَلٰی رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم ، حَتّٰی إِذَا أَمْسَوْا عَرَجُوْا وَهَبَطَ مِثْلُهُمْ فَصَنَعُوْا مِثْلَ ذٰلِکَ، حَتّٰی إِذَا انْشَقَّتْ عَنْهُ الْأَرْضُ خَرَجَ فِي سَبْعِيْنَ أَلْفًا مِنَ الْمَـلَائِکَةِ يَزِفُّوْنَهُ.

رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ.

أخرجه الدارمي في السنن، باب ما أکرم اﷲ تعالی نبيه بعد موته، 1/ 57، الرقم/ 94، وذکره ابن القيّم في جلاء الأفهام/ 135، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، في قول اﷲ تعالی: هو الذي يصلي عليکم وملائکته، 3/ 518، والسمهودي في وفاء الوفاء، 2/ 559، والقسطلاني في المواهب اللدنية، 4/ 625، والزرقاني في شرح المواهب اللدينية، 12/ 283-284، والصالحي في سبل الهدی والرشاد، 12/ 452-453.

حضرت نُبَیہ بن وہب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت کعب احبار رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ صدیقہ j کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اہلِ مجلس نے حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کیا۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: جب بھی دن نکلتا ہے (یعنی ہر روز) ستر ہزار فرشتے اُترتے ہیں یہاں تک کہ وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ انور کو (اپنے نورانی وجود سے) گھیر لیتے ہیں، (حصولِ برکت و توسل کے لیے) قبرِ اقدس سے اپنے پَر مس کرتے ہیں، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود (و سلام) بھیجتے ہیں اور شام ہوتے ہی آسمانوں پر چلے جاتے ہیں۔ اسی طرح شام کے وقت بھی اتنے ہی فرشتے مزید اُترتے ہیں اور وہ بھی دن والے فرشتوں کی طرح کا عمل دہراتے ہیں۔ حتیٰ کہ جب (روزِ قیامت) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ مبارک شق ہو گی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ستر ہزار فرشتوں کے جھرمٹ میں (میدانِ حشر میں) تشریف لائیں گے۔

اِسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔

وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ رضی الله عنه : أَنَّ کَعْبَ الْأَحْبَارِ، قَالَ: مَا مِنْ فَجْرٍ يَطْلُعُ إِلَّا نَزَلَ سَبْعُوْنَ أَلْفَ مَلَکٍ مِنَ الْمَـلَائِکَةِ حَتّٰی يَحُفُّوْا بِالْقَبْرِ يَضْرِبُوْنَ بِأَجْنِحَتِهِمْ وَيُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم حَتّٰی إِذَا أَمْسَوْا عَرَجُوْا وَهَبَطَ مِثْلُهُمْ فَصَنَعُوْا مِثْلَ ذٰلِکَ حَتّٰی إِذَا انْشَقَّتِ الْأَرْضُ خَرَجَ فِي سَبْعِيْنَ أَلْفًا مِنَ الْمَـلَائِکَةِ يُوَقِّرُوْنَهُ صلی الله عليه وآله وسلم تَسْلِيْمًا کَثِيْرًا.

رَوَاهُ ابْنُ حَيَّانَ وَالْبَيْهَقِيُّ وَأَبُوْ نُعَيْمٍ وَابْنُ الْجَوْزِيِّ.

أخرجه ابن حيان في العظمة، 3/ 1018-1019، الرقم/ 537، والبيهقي في شعب الإيمان، 3/ 492-493، الرقم/ 4170، وأبو نعيم في حلية الأولياء، 5/ 390، وابن النجاد في الرد علی من يقول القرآن مخلوق/ 63، الرقم/ 89، وابن الجوزي في الوفا/ 833، الرقم/ 1578.

ایک اور روایت میں حضرت نبیہ بن وہب ہی بیان کرتے ہیں کہ حضرت کعب الاحبار نے فرمایا: کوئی صبح ایسی طلوع نہیں ہوتی جس میں ستر ہزار فرشتے نہ اُترتے ہوں، یہاں تک کہ وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ انور کو اپنے پروں سے گھیر لیتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب شام ہو جاتی ہے۔ تو وہ آسمانوں کی طرف پرواز کر جاتے ہیں اور اُن جیسے دوسرے فرشتے اُتر کر یہی عمل دہراتے ہیں، یہاں تک کہ (قیامت کے دن) جب (آپ کی قبرِ انور) کی زمین کھُلے گی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ستر ہزار فرشتوں کے جھرمٹ میں (میدانِ حشر کی طرف) تشریف لے جائیں گے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے سلام پیش کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم و توقیر بجا لائیں گے۔

اِسے امام ابن حیان، بیہقی، ابو نعیم اور ابن جوزی نے روایت کیا ہے۔

  1. عَنْ عَبْدِ اﷲِ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : إِنَّ ِﷲِ مَـلَائِکَةً سَيَّاحِيْنَ فِي الْأَرْضِ، يُبَلِّغُوْنِي مِنْ أُمَّتِي السَّـلَامَ.

رَوَاهُ النَّسَائِيُّ والدَّارِمِيُّ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ. وَقَالَ الْحَاکِمُ: هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.

16: أخرجه النسائي في السنن کتاب السهو، باب السلام علی النبي صلی الله عليه وآله وسلم ، 3/ 43، الرقم/ 1282، وأيضًا في السنن الکبری، 1/ 380، الرقم/ 1205، وأيضًا، 6/ 22، الرقم/ 9894، والدارمي في السنن، 2/ 409، الرقم/ 2774، والحاکم في المستدرک، 2/ 456، الرقم/ 3576، وابن حبان في الصحيح، 3/ 195، الرقم/ 914، وعبد الرزاق في المصنف، 2/ 215، الرقم/ 3116، وابن أبي شيبة في المصنف، 2/ 253، 6/ 316، الرقم/ 8705، 31721.

حضرت عبد اﷲ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلا شبہ اﷲ تعالیٰ کی زمین میں بعض گشت کرنے والے فرشتے ہیں (جن کا کام یہی ہے کہ) وہ مجھے میری اُمت کا سلام پہنچاتے ہیں۔

اِسے امام نسائی، دارمی، ابن ابی شیبہ اور عبد الرزاق نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا: اِس حدیث کی سند صحیح ہے۔

وَفِي رِوَايَةِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رضی الله عنهما يَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : إِنَّ اﷲَ وَکَّلَ بِقَبْرِي مَلَکًا أَعْطَاهُ أَسْمَاعَ الْخَـلَائِقِ، فَـلَا يُصَلِّي عَلَيَّ أَحَدٌ إِلٰی يَوْمِ الْقِيَامَةِ، إِلَّا بَلَغَنِي بِاسْمِهِ وَاسْمِ أَبِيْهِ، هٰذَا فُـلَانُ بْنُ فُـلَانٍ قَدْ صَلّٰی عَلَيْکَ.

رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالْبُخَارِيُّ فِي الْکَبِيْرِ، وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ: فِيْهِ ابْنُ الْحِمْيَرِيِّ لَا أَعْرِفُهُ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيْحِ.

أخرجه البزار في المسند، (ابن الحِمْيَرِي)، 4/ 254-255، الرقم/ 1425، 1426، والبخاري في التاريخ الکبير، 6/ 416، الرقم/ 2831، وذکرہ الهيثمي في مجمع الزوائد، 10/ 162.

ایک روایت میں حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے میری قبر پر ایک فرشتہ مقرر کیا ہوا ہے، جسے اس نے تمام مخلوقات کی آوازیں سننے (اور سمجھنے)کی قوت عطا فرمائی ہے چنانچہ قیامت کے دن تک جو بھی مجھ پر درود پڑھے گا، وہ فرشتہ اس درود پڑھنے والے کا نام اور اس کے والد کا نام مجھے پہنچائے گا اور عرض کرے گا: (یا رسول اﷲ!) یہ فلاں بن فلاں ہے جس نے آپ پر درود پیش کیا ہے۔

اِسے امام بزار نے روایت کیا ہے۔ امام بخاری نے التاریخ الکبیر میں روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے فرمایا: اِس کی سند میں ابن حمیری (نامی) راوی کو میں نہیں جانتا، اِس کے علاوہ تمام رجال صحیح حدیث کے رجال ہیں۔

وَفِي رِوَايَةِ أَبِي أُمَامَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : مَنْ صَلّٰی عَلَيَّ، صَلَّی اﷲُ عَلَيْهِ عَشَرًا بِهَا، مَلَکٌ مُوَکَّلٌ بِهَا حَتّٰی يُبَلِّغَنِيْهَا.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْمُنْذِرِيُّ.

أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، باب الصاد، ما أسند أبو أمامة رضی الله عنه ، 8/ 134، الرقم/ 7611، وأيضًا في مسند الشاميين، 4/ 324، الرقم/ 3445، وذکره المنذري في الترغيب والترہيب، 2/ 326، الرقم/ 2569.

ایک روایت میں حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے عوض میں اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ ایک فرشتہ کے ذمہ یہ کام لگا دیا گیا ہے کہ وہ اس ہدیۂ درود کو میری خدمت میں پیش کیا کرے۔

اِسے امام طبرانی اور منذری نے روایت کیا ہے۔

  1. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: إِنَّ ِﷲِ فِي سَمَاءِ الدُّنْيَا مَـلَائِکَةً خُشُوْعًا لَا يَرْفَعُوْنَ رُؤُوْسَهُمْ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَةُ، فَإِذَا قَامَتِ السَّاعَةُ، رَفَعُوْا رُؤُوْسَهُمْ، قَالُوْا: رَبَّنَا مَا عَبَدْنَاکَ حَقَّ عِبَادَتِکَ، وَإِنَّ ِﷲِ فِي السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ مَـلَائِکَةً سُجُوْدًا، لَا يَرْفَعُوْنَ رُؤُوْسَهُمْ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَةُ، فَإِذَا قَامَتِ السَّاعَةُ، رَفَعُوْا رُؤُوْسَهُمْ. ثُمَّ قَالُوْا: رَبَّنَا مَا عَبَدْنَاکَ حَقَّ عِبَادَتِکَ.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَابْنُ حَيَّانَ وَالْبَيْهَقِيُّ.

17: أخرجه الحاکم في المستدرک، کتاب معرفة الصحابة، باب ومن مناقب أمير المؤمنين عمر بن الخطاب رضی الله عنه ، 3/ 93، الرقم/ 4502، وابن حيان في العظمة، 3/ 1015، الرقم/ 534، والبيهقي في شعب الإيمان، 1/ 183، الرقم/ 166، وذکره ابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 4/ 446.

حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک آسمانِ دنیا پر اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو بطورِ عبادت ہر وقت اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے سروں کو جھکائے رکھتے ہیں۔ وہ اپنے سر صرف روزِ قیامت ہی اُٹھائیں گے اور (اﷲ کی بارگاہ میں) عرض کریں گے: اے ہمارے رب! ہم تیری عبادت کا حق ادا نہیں کر سکے۔ اور دوسرے آسمان پر اﷲ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جن کے سر سجدے میں ہیں اور وہ سجدے سے اپنے سر روزِ قیامت ہی اُٹھائیں گے اور عرض کریں گے: اے ہمارے رب! ہم تیری عبادت کا حق ادا نہیں کر سکے۔

اِسے امام حاکم، ابن حیان اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ سَابِطٍ رضی الله عنه قَالَ: يُدَبِّرُ أَمْرَ الدُّنْيَا أَرْبَعَةٌ: جِبْرِيْلُ وَمِکَائِيْلُ وَمَلَکُ الْمَوْتِ وَإِسْرَافِيْلُ. فَأَمَّا جِبْرِيْلُ: فَوُکِّلَ بِالرِّيَاحِ وَالْجُنُوْدِ، وَأَمَّا مِيْکَائِيْلُ: فَوُکِّلَ بِالْقَطْرِ وَالنَّبَاتِ، وَأَمَّا مَلَکُ الْمَوْتِ: فَوُکِّلَ بِقَبْضِ الأَرْوَاحِ، وَأَمَّا إِسْرَافِيْلُ: فَهُوَ يَنْزِلُ بِالأَمْرِ عَلَيْهِمْ.

رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَالْبَيْهَقِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ.

أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف، 7/ 159، الرقم/ 34969، والبيهقي في شعب الإيمان، 1/ 176-177، الرقم/ 158، وابن حيان في العظمة، 3/ 808، 810، الرقم/ 376، 378، وذکره السيوطي في الدر المنثور، 8/ 405.

ایک روایت میں حضرت عبد الرحمن بن ساب ط رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دنیا کے اُمور کا انتظام چار فرشتوں کے ذمہ ہے۔ حضرت جبرائیل، حضرت میکائیل، ملک الموت اور اسرافیل۔ حضرت جبرائیل ہواؤں اور لشکروں پر مقرر ہیں۔ حضرت میکائیل بارش اور نباتات پر اور ملک الموت روحیں قبض کرنے پر مقرر ہیں جبکہ اسرافیل لوگوں پر عذاب نازل کرنے پر مقرر ہیں۔

اِسے امام ابن ابی شیبہ اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔ مذکورہ الفاظ بیہقی کے ہیں۔

  1. عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اﷲِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : مَا فِي السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ مَوضِعُ قَدَمٍ وَلَا شِبْرٍ وَلَا کَفٍّ إِلَّا وَفِيْهِ مَلَکٌ قَائِمٌ أَوْ مَلَکٌ رَاکِعٌ أَوْ مَلَکٌ سَاجِدٌ، فَإِذَا کَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ قَالُوْا جَمِيْعًا: سُبْحَانَکَ مَا عَبَدْنَاکَ حَقَّ عِبَادَتِکَ إِلَّا أَنَّا لَمْ نُشْرِکْ بِکَ شَيْئًا.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 2/ 184، الرقم/ 1751، وأيضًا في المعجم الأوسط، 4/ 44، الرقم/ 3568، وذکرہ الھيثمي في مجمع الزوائد، 1/ 51-52، وأيضًا، 10/ 358، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 4/ 446.

حضرت جابر بن عبد اﷲ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سات آسمانوں میں ایک قدم برابر، بالشت برابر اور ہتھیلی برابر بھی کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ حالتِ قیام یا حالتِ رکوع یا حالتِ سجدہ میں نہ ہو۔ جب قیامت کا دن ہوگا تو وہ تمام فرشتے عرض کریں گے: اے اﷲ! تو پاک ہے، ہم تیری عبادت کا حق ادا نہیں کر سکے مگر (اتنا عرض ہے کہ) بے شک ہم نے کبھی کسی کو تیرے ساتھ شریک نہیں ٹھہرایا۔

اِسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

  1. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ سَـلَامٍ رضی الله عنه ، قَالَ: إِنَّ أَعْظَمَ أَيَّامِ الدُّنْيَا يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيْهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيْهِ تَقُوْمُ السَّاعَةُ، وَإِنَّ أَکْرَمَ خَلِيْقَةِ اﷲِ عَلَی اﷲِ أَبُو الْقَاسِمِ صلی الله عليه وآله وسلم ۔ قَالَ: قُلْتُ: يَرْحَمُکَ اﷲُ فَأَيْنَ الْمَـلَائِکَةُ؟ قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيَّ وَضَحِکَ وَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، هَلْ تَدْرِي مَا الْمَـلَائِکَةُ؟ إِنَّمَا الْمَـلَائِکَةُ خَلْقٌ کَخَلْقِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَالرِّيَاحِ وَالسَّحَابِ وَسَائِرِ الْخَلْقِ الَّذِي لَا يَعْصِي اﷲَ شَيْئًا.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالْبَيْهَقِيُّ.

أخرجه الحاکم في المستدرک، 4/ 612، الرقم/ 8698، والبيهقي في شعب الإيمان، 1/ 172، الرقم/ 149.

حضرت عبد اﷲ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایامِ دنیا میں سے افضل ترین دن جمعہ کا ہے، اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کو تخلیق کیا گیا اور اِسی روز قیامت قائم ہو گی۔ اﷲ تعالیٰ کے نزدیک تمام مخلوق میں سب سے معزز ابو القاسم (حضرت محمد) صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ (راوی بِشر) بیان کرتے ہیں: میں نے (حضرت عبد اﷲ بن سلام رضی اللہ عنہ کی خدمت میں) عرض کیا: اﷲ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے، فرشتوں کا مقام کیا ہے؟ (راوی بِشر) بیان کرتے ہیں: اُنہوں نے میری طرف دیکھا اور مسکرائے۔ پھر فرمایا: اے بھتیجے! کیا تم جانتے ہو کہ فرشتے کون ہیں؟ فرشتے صرف زمین، آسمان، ہوا، بادل اور دیگر تمام مخلوقات کی طرح (اﷲ تعالیٰ کی) ایک مخلوق ہیں جو کسی معاملے میں اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتے۔

اِسے امام حاکم اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

  1. عَنْ أَبِي بَکْرَةَ رضی الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: يُحْمَلُ النَّاسُ عَلَی الصِّرَاطِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَتَقَادَعُ بِهِمْ جَنَبَةُ الصِّرَاطِ تَقَادُعَ الْفَرَاشِ فِي النَّارِ. قَالَ: فَيُنْجِي اﷲُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ. قَالَ: ثُمَّ يُؤْذَنُ لِلْمَلَائِکَةِ وَالنَّبِيِّيْنَ وَالشُّهَدَاءِ أَنْ يَشْفَعُوْا، فَيَشْفَعُوْنَ وَيُخْرِجُوْنَ، وَيَشْفَعُوْنَ وَيُخْرِجُوْنَ، وَيَشْفَعُوْنَ وَيُخْرِجُوْنَ، وَزَادَ عَفَّانُ مَرَّةً، فَقَالَ أَيْضًا: وَيَشْفَعُوْنَ وَيُخْرِجُوْنَ مَنْ کَانَ فِي قَلْبِهِ مَا يَزِنُ ذَرَّةً مِنْ إِيْمَانٍ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَابْنُ أَبِي عَاصِمٍ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيْرِ. وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ: رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيْحِ.

20: أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 5/ 43، الرقم/ 20457، والبزار في المسند، 9/ 122-123، الرقم/ 3671، والطبراني في المعجم الصغير، 2/ 142، الرقم/ 929، وابن أبي عاصم في السنة، 2/ 403، الرقم/ 837، وذکره الهيثمي في مجمع الزوائد، 10/ 359، وقال الألباني: إسناده حسن أو متحمل للتحسين رجاله کلهم ثقات.

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن لوگ پل صرا ط پر چلیں گے تو پل صرا ط کا کنارہ ان کو پتنگوں کے آگ میں گرنے کی طرح اس میں گرائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر اللہ اپنی رحمت سے جسے چاہے گا نجات دے گا۔ پھر فرشتوں، نبیوں، اور شہداء کو اجازت دی جائے گی کہ وہ شفاعت کریں۔ چنانچہ وہ شفاعت کریں گے اور لوگوں کو (دوزخ سے) نکالیں گے، پھر وہ شفاعت کریں گے اور (دوزخیوں) کو نکالیں گے، پھر وہ شفاعت کریں گے اور (دوزخیوں) کو نکالیں گے۔ عفان نے اس میں ایک مرتبہ کا اضافہ کیا ہے اور یہ بھی کہا ہے: وہ شفاعت کریں گے اور جس کے دل میں ذرہ بھر بھی ایمان ہو گا اس کو بھی (دوزخ سے) نکال لیں گے۔

اسے امام احمد، بزار اور ابنِ ابی عاصم نے اور طبرانی نے ’المعجم الصغیر‘ میں روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے کہا: اس حدیث کے رجال صحیح حدیث کے رجال ہیں۔

وَفِي رِوَايَةِ عَبْدِ اﷲِ رضی الله عنه قَالَ: أَوَّلُ شَافِعٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، جِبْرَائِيْلُ عليه السلام رُوْحُ الْقُدُسِ، ثُمَّ إِبْرَاهِيْمُ خَلِيْلُ الرَّحْمٰنِ عليه السلام، ثُمَّ مُوْسٰی أَوْ عِيْسٰی. قَالَ أَبُوالزَّعْرَاءِ: لَا أَدْرِي أَيُهُمَا قَالَ، قَالَ: ثُمَّ يَقُوْمُ نَبِيُکُمْ صلی الله عليه وآله وسلم رَابِعًا، فَـلَا يَشْفَعُ أَحَدٌ بِمِثْلِ شَفَاعَتِهِ وَهُوَ وَعْدُهُ الْمَحْمُوْدُ الَّذِي وَعَدَهُ.

رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْمُعْجَمِ الْکَبِيْرِ وَالْحَاکِمُ.

(1) أخرجه النسائي في السنن الکبری، 6/ 382، الرقم/ 11296، والحاکم في المستدرک، 4/ 641، الرقم/ 8772، وابن أبي شيبة في المصنف، 7/ 271، الرقم/ 36001، والطبراني في المعجم الکبير، 9/ 356، الرقم/ 9761.

ایک روایت میں حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: قیامت کے دن سب سے پہلے حضرت جبرائیل علیہ السلام، پھر خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام، پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام شفاعت کریں گے۔ ابو زَعراء کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ ان دونوں میں سے کون شفاعت کرے گا، (راوی) کہتے ہیں: آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر چوتھے (اور آخری مرحلے پر) آپ کے نبی مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (حتمی شفاعت کے لیے) قیام فرمائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت جیسی کوئی بھی شفاعت نہیں کر سکے گا اور یہی اللہ تعالیٰ کا کیا ہوا وہ وعدۂ مقام محمود ہے جو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کر رکھا ہے۔

اسے امام نسائی، ابنِ ابی شیبہ، طبرانی اور حاکم نے روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved