Authentic Saying about the Awaited Imam: Mahdi (A.S.)

فصل سوم

امام مہدی علیہ السلام زمین پر معاشی عدل کا وہ نظام نافذ فرمائیں گے کہ اہلِ ارض و سماء سب خوش ہوں گے

1. عن ابي سعيد نالخدري رضي الله عنه قال قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم المهدي مني اجلي الجبهة اقني الانف يملأ الارض قسطا و عدلا کما ملئت ظلما و جورا و يملک سبع سنين.

ابوداؤد، السنن، 4 : 107، رقم : 4285

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مہدی مجھ سے ہوں گے (یعنی میری نسل سے ہوں گے) ان کا چہرہ خوب نورانی، چمک دار اور ناک ستواں و بلند ہوگی۔ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے، جس طرح پہلے وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی۔ (مطلب یہ ہے کہ مہدی کی خلافت سے پہلے دنیا میں ظلم و زیادتی کی حکمرانی ہوگی اور عدل و انصاف کا نام و نشان تک نہ ہوگا۔)

2. عن ابي سعيد نالخدري رضي الله عنه ان رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قال تملأ الارض جورا و ظلما فيخرج رجل من عترتي فيملک سبعا او تسعا فيملأ الأرض عدلا و قسطا کما ملئت جورا و ظلما.

قال ابو عبداﷲ هذا حديث صحيح علي شرط مسلم ولم يخرجاه

i. احمد بن حنبل، المسند، 3 : 70، رقم : 11683
ii. الحاکم، المستدرک، 4 : 601، رقم : 8674

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا (آخری زمانہ میں) زمین جور و ظلم سے بھر جائے گی تو میری اولاد سے ایک شخص پیدا ہوگا اور سات سال یا نو سال خلافت کرے گا (اور اپنے زمانۂ خلافت میں) زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح اس سے پہلے وہ جورو ظلم سے بھر گئی ہوگی۔

3. عن ابي سعيد رضي الله عنه قال ذکر رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم بلاء يصيب هذه الامة حتي لا يجد الرجل ملجأ يلجأ اليه من الظلم فيبعث اﷲ رجلا من عترتي و اهل بيتي فيملأ به الارض قسطا کما ملئت ظلما و جورا يرضي عنه ساکن السماء و ساکن الارض لاتدع السماء من قطرها شيئا الا صبته مدرارا ولا تدع الارض من ماء ها شيئا الا اخرجته حتي تتمني الاحياء الاموات يعيش في ذالک سبع سنين او ثمان سنين او تسع سنين.

i. حاکم، المستدرک، 4 : 512، رقم : 8438
ii. معمربن راشد الازدي، الجامع، 11 : 371
iii. نعيم بن حماد، الفتن، 1 : 258، رقم : 1038
iv. ابو عمر والداني، السنن الواده في الفتن، 5 : 1049، رقم : 564

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بڑی آزمائش کا ذکر فرمایا جو اس امت کو پیش آنے والی ہے۔ ایک زمانے میں اتنا شدید ظلم ہوگا کہ کہیں پناہ کی جگہ نہ ملے گی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ میری اولاد میں ایک شخص کو پیدا فرمائے گا جو زمین کو عدل و انصاف سے پھر ویسا ہی بھر دیگا جیسا وہ پہلے ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔ زمین اور آسمان کے رہنے والے سب ان سے راضی ہوں گے، آسمان اپنی تمام بارش موسلادھار برسائے گا اور زمین اپنی سب پیداوار نکال کر رکھ دے گی یہاں تک کہ زندہ لوگوں کو تمنا ہوگی کہ ان سے پہلے جو لوگ تنگی و ظلم کی حالت میں گذر گئے ہیں کاش وہ بھی اس سماں کو دیکھتے اسی برکت کے حال پر وہ سات یا آٹھ یا نو سال تک زندہ رہیں گے۔

4. عن ابن مسعود رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : لو لم يبق من الدنيا إلا ليلة لطول اﷲ تلک ليلة حتي يملک رجل من أهل بيتي يواطي، اسمه اسمي وا سم أبيه اسم أبي، يملؤها قسطا وعدلا کما ملئت ظلماً و جوراً، ويقسم المال بالسوية، ويجعل اﷲ الغني في قلوب هذه الأمة، فيمکث سبعا أو تسعا، ثم لا خير في عيش الحياة بعد المهدي.

i. سيوطي، الحاوي للفتاوي، 2 : 64
ii. طبراني، المعجم الکبير، 10 : 133، رقم : 10216
iii. طبراني، المعجم الکبير، 10 : 135، 1024
iv. ابو عمرو الداني، السنن الوارده في الفتن، 5 : 1055، رقم : 572

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’اگر دنیا (کے زمانہ) میں صرف ایک رات ہی باقی رہ گئی تو بھی اللہ رب العزت اس رات کو لمبا فرما دے گا یہاں تک کہ میری اہل بیت میں سے ایک شخص بادشاہ بنے گا جس کا نام میرے نام اور جس کے والد کا نام میرے والد کے نام جیسا ہوگا۔ وہ زمین کو انصاف اور عدل سے لبریز کر دیں گے جس طرح وہ ظلم و زیادتی سے بھری ہوئی تھی اور وہ مال کو برابر تقسیم کریں گے اور اللہ رب العزت اس امت کے دلوں میں غنا رکھ (پیدا فرما) دے گا۔ وہ سات یا نو سال (تشریف فرما) رہیں گے۔ پھر (امام ) مہدی کے (زمانے کے) بعد زندگی میں کوئی خیر (بھلائی) باقی نہیں رہے گی۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved