Book on Intermediation

باب پنجم - فصل اول :حضور نبی اکرم ﷺسے توسل

توسُّل بالنبی ﷺ کا عقیدہ

حضورﷺ کے اس دنیا سے وصال فرمانے کے بعد بھی آپﷺکی نبوت و رسالت جاری ہے۔ آپ ﷺبحیثیت نبی اور رسول اب بھی موجود ہیں اور قیامت تک آپ ﷺہی کی نبوت و رسالت جملہ احکام کے ساتھ باقی رہے گی۔ جب سارے احکام باقی ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ توسُّل کا حکم ختم ہوجائے۔ جب آپﷺ کی ظاہری حیات مبارکہ میں آپ ﷺ سے توسُّل کئے جانے کی بے شمار مثالیں موجود ہیں اور امت مسلمہ میں بالاتفاق آج بھی اس کے جواز کا اعتقاد پایا جاتا ہے، تو کیا وجہ ہے کہ آپﷺ کی نبوت و رسالت، جمیع احکام، اطاعت، اتباع اور ادب کے ہوتے ہوئے بعد از وصال سلسلۂ توسُّل کے منقطع ہونے کا کیا جواز رہ جاتا ہے جبکہ قرآن حکیم اور حدیث رسول میں کوئی نص بعد از وصال توسُّل کے انقطاع پر موجود نہیں۔ لہذا جن نصوص قرآنی سے آپﷺ کی حیات ظاہری میں توسُّل ثابت ہے ان ہی نصوص سے بعد از وصال بھی توسُّل ثابت ہوتا ہے۔

آپﷺ کی شانِ والا تو یہ ہے کہ آپ ﷺکی ولادت سے قبل بھی آپ ﷺ سے توسُّل کیا گیا۔ ائمہ و محدثین نے اپنی کتابوں میں ثقہ روایات کے ساتھ آپﷺ کے قبل از ولادت فیوض و برکات کو ثابت کیا ہے۔ اس باب میں ہم انشاء اللہ توسُّل بالنبی ﷺکی ممکنہ صورتوں کو دلائل کی روشنی میںثابت کر کے توسُّل کے بارے میں صحیح عقیدہ بیان کریں گے۔

توسُّل بالنبی ﷺکی ممکنہ صورتیں

حضور نبی اکرمﷺ کی ذاتِ با برکات سے توسُّل کی تین صورتیں ہیں :

1۔ التوسُّل بالنبیﷺ قبل ولادتہ (ولادت سے قبل نبی ا کرم ﷺ سے توسُّل)
2۔ التوسُّل بالنبیﷺ فی حیاتہ (نبی اکر م ﷺ سے ان کی ظاہری حیات میں توسُّل)
3۔ التوسُّل بالنبی ﷺ بعد وصالہ (نبی اکرم ﷺ سے ان کے وصال کے بعد توسُّل)

حضور نبی اکرم ﷺ کی حیات ظاہری میں توسُّل کرنا اور پھر آپ ﷺ کے ولادت سے پہلے اور وصال کے بعد حیات برزخی میں توسُّل کرنا، یہ تمام صورتیں قرآن و حدیث سے ثابت ہیں اور آج تک علماءِ کبار ان سے عقیدۂ توسُّل کا استنباط کرتے چلے آئے ہیں۔ قرآن و حدیث سے ٹھوس دلائل کے ساتھ ان تمام صورتوں کو آئندہ صفحات میں اجاگر کیا جائے گا۔

فصلِ اوّل: ولادت سے قبل نبی اکرمﷺ سے توسُّل

1۔ حضرت آدم علیہ السلام کا حضور نبی اکرم ﷺ کو وسیلہ بنانا

حضور نبی اکرمﷺ کی ذاتِ اقدس سے توسُّل کا عمل … آپﷺ کی تخلیق سے قبل، آپﷺ کی ظاہری حیات مبارکہ میں اور بعد از وصال … ہر دور میں جاری و ساری رہا ہے۔ اللہ ربّ العزت کی بارگاہ میں اپنی خطاؤں اور لغزشوں کی معافی کے لیے حضورﷺ کی ذات مبارک سے توسّل کرنا، ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام کی بھی سنت ہے۔ آپ علیہ السلام نے اپنی خطاء کی معافی کے لیے حضور نبی اکرمﷺ کی ذات مبارکہ کو ربّ کی بارگاہ میں بطور وسیلہ پیش کیا اور ربِ رحیم نے اپنے حبیب ﷺ کے صدقے ان کی بھول چوک کو معاف کردیا۔

امام طبرانی، ابن المنذر، سیوطی اور بیہقی نے حضرت عمرص اور حضرت علی رضی اللہ عنہ دونوں سے مرفوعاً جو حدیث روایت کی ہے وہ اس طرح ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام ابھی فکر توبہ میں مستغرق تھے کہ اس عالم ِاضطراب میں آپ علیہ السلام کو یاد آیا کہ میں نے اپنی پیدائش کے وقت عرش معلیٰ پر لا إلہ إلا اللہ محمد رسول اللہ (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں)، لکھا دیکھا تھا جو اس امر کا مظہرہے کہ بارگاہِ الٰہی میں جو مقام حضرت محمدﷺ کو حاصل ہے، وہ مقام کسی اور کو میسر نہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے عرش پر اپنے نام کے ساتھ ان کا اسم گرامی لکھا ہوا ہے۔ اس پر آپ علیہ السلام نے دعا میں کلمات توبہ کے ساتھ ان کلماتِ توسُّل کا اضافہ کر کے عرض کیا:

أسالک بحقِ محمدٍ إلَّا غَفَرَتْ لِی۔

(اے اللہ!) میں تجھ سے محمد (ﷺ) کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں کہ میری مغفرت فرما۔

ابن المنذر کی روایت میں مندرجہ ذیل کلمات درج ہیں :

اللهم! إنی أسألُکَ بجاہِ محمدٍ عبدکَ و کرامتہ علیک أن تَغفرلی خَطیئتی۔

1۔الدر المنثور،1 : 60

اے اللہ! میں تجھ سے تیرے محبوب بندے محمد (ﷺ) کے واسطے سے اور اس بزرگی کے وسیلے سے جو انہیں تیری بارگاہ میں حاصل ہے، سوال کرتا ہوں کہ تو میری خطا بخش دے۔

چنانچہ ان کلمات استغفار سے جو حضورﷺ کے وسیلے سے ادا ہوئے آپ علیہ السلام کی توبہ قبول ہوگئی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ’’واقعۃ‘‘ محمدﷺ مجھے تمام مخلوق سے زیادہ محبوب ہیں۔ تم نے ان کے واسطہ سے مجھ سے درخواست کی ہے میں نے تمہاری مغفرت کی اور اگر محمدﷺ نہ ہوتے تو میں تمہیں پیدا ہی نہ کرتا۔ طبرانی کی روایت میں مزید یہ الفاظ بھی آئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : و ہ تمہاری اولاد میں سب انبیاء سے آخری نبی ہیں۔

امام حاکم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں :

عن عمر بن الخطاب، قال : قال رسول اللہﷺ : لما اقتَرَفَ آدم الخطیئَۃَ قال : یا رب! أسألُکَ بحقِ محمدٍ ﷺ لما غفرت لی۔ فقال اللہ : یا آدم! و کیف عَرَفْتَ محمدًا و لم أخلُقْہ؟ قال : یا رب! لأنک لمّا خلقتنی بیدک و نفختَ فیّ من روحک رفعتُ رأسی فرأیتُ علی قوائمِ العرشِ مکتوباً : لا إلہ إلا اللہ، محمد رسول اللہ، فعلمتُ أنک لم تُضِفْ إلی اسمکَ إلا أحَبَّ الخلقِ إلیک۔ فقال اللہ : صدقتَ یا آدم! إٔنہ لأحَبُّ الخلقِ إلیّ ادعنی بحقہ، فقد غفرتُ لک، و لو لا محمدٌ ما خلقتُکَ۔

المستدرک، 2 : 615

یہ حدیث مختلف إسناد کے ساتھ مندرجہ ذیل کتب میں بھی روایت کی گئی ہے :

1۔ دلائل النبوہ للبیھقی، 5 : 489
2۔ تاریخ ابن عساکر، 2 : 60۔359
3۔ المعجم الاوسط للطبرانی، 7 : 259، رقم : 4698
4۔ المعجم الصغیر للطبرانی، 2 : 3۔82
5۔ مجمع الزوائد، 8 : 253
6۔ البدایہ و النھایہ، 1 : 131
7۔ الجوہر المنظم : 61

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : جب حضرت آدم علیہ السلام خطاء کے مرتکب ہوئے تو انہوں نے (اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں) عرض کیا : اے پروردگار! میں تجھ سے محمدﷺ کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں کہ میری مغفرت فرما۔ تو اس پر اللہ رب العزت نے فرمایا : اے آدم !تم نے محمدﷺکو کس طرح پہچان لیا حالانکہ ابھی تک میں نے انہیں تخلیق بھی نہیں کیا؟ اس پر حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کیا : مولا! جب تو نے اپنے دست قدرت سے مجھے تخلیق کیا اور اپنی روح میرے اندر پھونکی، میں نے اپنا سر اوپر اٹھا کر دیکھا تو عرش کے ہر ستون پر لا إلہ إلا اللہ، محمد رسول اللہ لکھا ہوا دیکھا۔ تو میں نے جان لیا کہ تیرے نام کے ساتھ اسی کا نام ہوسکتا ہے جو تمام مخلوق میں سے تجھے سب سے زیادہ محبوب ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے آدم! تو نے سچ کہا ہے، مجھے ساری مخلوق میں سے سب سے زیادہ محبوب وہی ہیں۔ اب جبکہ تم نے اس کے وسیلہ سے مجھ سے دعا کی ہے تو میں نے تجھے معاف کردیا اور اگر محمدﷺ نہ ہوتے تو میں تجھے بھی تخلیق نہ کرتا۔

امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے، اگرچہ وہ اس کی سند میں عبدالرحمن بن زید بن أسلم کا ضعف جانتے تھے۔ تاہم یہ حدیث بیان کرتے وقت انہوں نے کہا : یہ حدیث صحیح ہے اور اس کتاب میں پہلی حدیث ہے جو میں نے عبدالرحمن بن زید بن اسلم سے روایت کی ہے۔ امام بُلقینی نے بھی اپنے ’فتاویٰ‘ میں اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ امام تقی الدین سبکی نے ’شفاء السقام فی زیارۃ خیر الأنام (ص : 1۔120) ‘ میں امام حاکم کے قول کی تصدیق کی ہے، اگرچہ وہ اس کے متعلق امام ابن تیمیہ کی تنقید اور رد جانتے تھے، مگر انہوں نے اسے مسترد کیا ہے۔

بہت سے علمائ، مفسرین اور محدثین نے اپنی کتب میں اس واقعے کو اور ان کلماتِ توسُّل کو بیان کیا ہے۔ واضح رہے کہ ان میں اور پہلے بیان کئے گئے کلمات پر مبنی روایات میں کوئی تضاد نہیں کیونکہ یہ کلمات بھی اسی دعا کا اضافی حصہ ہیں۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ حضور نبی اکرمﷺ کے وسیلہ اور واسطہ سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرنا سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کی سنت ہے اور یہ مبارک وسیلہ قبولیتِ دعا کے لئے اکسیرہے۔

امام احمد بن محمد قسطلانی نے حضرت آدم علیہ السلام کا حضور نبی اکرمﷺ سے توسُّل کرنا ’المواہب اللدنیۃ (1 : 2۔81، 4 : 594)‘ میں احادیث سے ثابت کیا ہے۔ اور امام زرقانی نے اس کی ’شرح (1 : 20۔118،12 : 21۔220)‘ میں اس کی تصدیق کی ہے۔

محدث ابن الجوزی نے اپنی کتاب ’الوفاء بأحوال المصطفی‘ کے پہلے باب (1 : 33) میں اسے بیان کیا ہے۔ کتاب کے تعارف میں وہ لکھتے ہیں : ’اس کتاب میں میں نے صحیح احادیث کو ضعیف کے ساتھ نہیں ملایا۔ اسی صفحہ پر انہوں نے ایک حدیث میسرۃ سے روایت کی ہے کہ جس میں حضورﷺ نے فرمایا : ’جب شیطان نے حضرت آدم و حوا علیہما السلام کو بہکایا تو انہوں نے توبہ کی اور میرے نام کے وسیلے سے اللہ سے معافی طلب کی۔‘ ابن الجوزی نے اسی کتاب کے باب ’نبیﷺ کی دوسرے انبیاء پر فضیلت (1 : 359)‘ میں لکھا ہے : ’یہ آپﷺ کی دوسرے انبیاء پر فضیلت (کی حقیقت) کے اظہار کا حصہ ہے کہ آدم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت محمدﷺ کو عطا کی جانیوالی حرمت( تقدس و پاکیزگی) کے وسیلہ سے اپنے رب سے معافی مانگی، جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا ہے۔

مولانا اشرف علی تھانوی نے ’نشر الطیب‘ کی دوسری فصل (ص : 20) کا آغاز ہی انہی احادیث کے بیان سے کیا ہے۔

حتی کہ حضرت آدم کو حضرت حوا علیہما السلام سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کے وقت بھی حضورﷺ پر درود شریف پڑھنے کا حکم دیا گیا اور اسی کو اس عقد میں وسیلہ بنایا گیا۔ اسے امام ابن الجوزی نے ’ سلوۃ الأحزان‘ میں بیان کیا ہے، اور امام صاوی نے اپنی تفسیر ’حاشیۃ الجلالین (1 : 23)‘میں لکھا ہے :

و إنما هو لیُظْهر قدر محمدٍ لآدم من أول قدم، إذ لولاہ ما تَمَتَّعَ بزوجہ، فهو الواسطۃ لکل واسطۃ حتی آدم۔

اور یہ (حکم الٰہی) اس لیے تھا کہ حضرت محمدﷺ کی قدر و منزلت پہلے ہی قدم پر حضرت آدم علیہ السلام پر آشکار ہوجائے۔ (اور وہ یہ جان لیں کہ) اگر حضورﷺ نہ ہوتے تو انہیں نعمتِ زوجیت بھی نہ ملتی، کیونکہ وہی ہر واسطہ کے لیے حقیقی واسطہ ہیں، حتی کہ آدم علیہ السلام کا بھی۔

مولانا اشرف علی تھانوی نے یہ روایت ’نشر الطیب (ص : 21)‘ میں نقل کی ہے۔

قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ نے ’الشفا (1 : 8۔227)‘ میں صحیح اور مشہور احادیث کے ساتھ حضرت آدم علیہ السلام کا نبی اکرمﷺ سے توسُّل کرنا بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ابو محمد المکی اور ابو اللیث السمرقندی نے اسے ذکر کیا ہے۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ اس حدیث سے بہت زیادہ ملتی جلتی حدیث الآجُری (متوفی 360 ھ) نے بھی بیان کی ہے، کہ جن کے متعلق ملا علی قاری کہتے ہیں : ’ الحلبی کا قول ہے کہ یہ (الآجُری) امام و مرشد ابوبکر محمد بن حسین بن عبداللہ البغدادی معلوم ہوتے ہیں کہ جنہوں نے ’الشریعۃ فی السنۃ‘، ’الأربعون‘ اور دوسری کتابیں تالیف کیں‘۔

شرح الشفاء لملا علی قاری، 1 : 6۔375

ملا علی قاری کے اس قول کی تصدیق امام ابن تیمیہ نے ان الفاظ میں کی ہے : ’یہ حدیث شیخ ابوبکر الآحبری نے اپنی کتاب ’الشریعۃ(ص : 427)‘ میں بیان کی ہے۔

زز قاعدۃ جلیلۃ فی التوسُّل و الوسیلۃ لابن تیمیہ : 5۔84

امام جلال الدین سیوطی نے یہ حدیث تفسیر ’الدر المنثور (1 : 58)‘ اور ’الخصائص الکبریٰ(1 : 6) ‘کے علاوہ ’الریاض الأنیقۃ فی شرح اسماء خیر الخلیقۃ (ص : 9۔48) ‘میں بھی بیان کی ہے، جہاں وہ کہتے ہیں کہ امام بیہقی نے اسے صحیح کہا ہے۔

اتنے بڑے پایہ کے علماء و محدثین کرام کا اس حدیث پاک کو روایت کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ توسُّلِ آدم علیہ السلام والی روایت بڑی قوی ہے۔ اس حدیث پاک کو نقل کرنے والے علماء میں ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنی کتاب کے لئے شرط لگائی کہ وہ کوئی موضوع روایت اس میں درج نہیں کریں گے۔

جیسا کہ امام بیہقی نے ’دلائل النبوۃ‘ کے تعارف میں کہا کہ انہوں نے اس کتاب میں صرف صحیح احادیث کو لیا ہے۔ عصرِ حاضر کے مشہور مکی عالم و محدث شیخ محمد بن علوی المالکی اپنی کتاب ’مفاہیم یجب أن تصحح‘ کے صفحہ 127 پر امام بیہقی کی ’دلائل النبوۃ‘ کے بارے میں امام ذہبی کا بے لاگ تبصرہ ان الفاظ کے ساتھ نقل کرتے ہیں :

علیک بہ فإنہ کلہ ہدی و نور۔

تم اس کو لازم پکڑو کیونکہ یہ مکمل ہدایت و نور ہے۔

علامہ زرقانی نے امام ذہبی کا یہ قول ’المواہب اللدنیۃ‘ کی ’شرح (1 : 120)‘ میں بیان کیا ہے۔

اسی طرح امام ابن تیمیہ کا اپنے ’فتاویٰ (2 : 150)‘میں اس کو نقل کرکے اس سے استشہاد کرنا بھی اس حدیث کے قوی ہونے کے لئے کافی ہے جبکہ عام طور پر ان کو متنازعہ سمجھا جاتا ہے۔ جیسا کہ وہ یہ حدیث اور ایک دوسری حدیث جو کہ میسرۃ سے مروی ہے، بیان کر کے کہتے ہیں : ’یہ دونوں احادیث اسی موضوع پر پائی جانے والی مستند احادیث کی تفسیر جیسی ہیں۔‘ اس قول کے بارے میں امام محمد بن علوی المالکی لکھتے ہیں :

فہذا یدل علی أن الحدیث عند ابن تیمیہ صالح للإستشہاد و الإعتبار، لأن الموضوع أو الباطل لا یستشہد بہ عند المحدثین۔

مفاہیم یجب أن تصحح : 122

پس (ابن تیمیہ کا یہ بات کہنا) اس پر دلالت کرتا ہے کہ یہ حدیث ان کے نزدیک معتبر ہے، کیونکہ موضوع یا باطل حدیث سے محدثین کے نزدیک استدلال نہیں کیا جاتا۔

اس بحث سے معلوم ہوا کہ توسُّل جائز امر ہے اور ضروری نہیں کہ جس ذات سے توسُّل کیا جائے وہ بوقتِ توسُّل موجود یا زندہ ہو اور یہ کہ عالَم میں حضو ر نبی اکرمﷺ کے وجودِ جسدی سے پہلے توسُّل کیا گیا ہے۔

اس حدیث مبارکہ میں حضرت آدم علیہ السلام جب ’أسالک بحقِ محمدٍ‘ کے الفاظ کے ذریعے رب کی بارگاہ میں اپنی خطا کی معافی کے لئے عرض کرتے ہیں تو رحمت باری تعالیٰ حضرت آدم علیہ السلام کے ان الفاظ کے انتخاب پر جوش میں آ جاتی ہے۔ اور فَقَدْ غَفَرْتُ لَکَ‘ کہہ کر انہیں بخشش و مغفرت کا مژدہ جانفزا سنا دیا جاتا ہے۔ گویا حضرت آدم علیہ السلام نے اپنی ساری ذریّت (اولاد) کو اپنے اس عمل سے یہ تعلیم دے دی ہے کہ جب بھی اللہ تبارک و تعالیٰ کی نا فرمانی و معصیت کے مرتکب ہوجاؤ اور تمہارا دامن گناہوں سے لت پت ہوجائے تو مایوس ہونے کی قطعا ضرورت نہیں، بارگاہ الوہیت میں پختہ توبہ کا ارادہ لے کر اس کے حبیب مکرم ﷺ کے وسیلے سے دعا مانگو، بارگاہ الوھیت سے تمہارے سارے گناہ اسی طرح معاف کردیئے جائیں گے، جس طرح میری خطا کو وسیلہ مصطفےﷺ سے معاف کردیا گیا ہے۔ قرآن حکیم نے اس پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہوئے فرمایا:

وَ لَوْ أَنَّھُمْ إِذْ ظَّلَمُوْآ أَنْفُسَھُمْ جَآء وْکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَھُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللهَ تَوَّاباً رَّحِیْماًo

النسائ، 4 : 64

اور (اے حبیب!) اگر وہ لوگ جب اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تھے آپ کی خدمت میں حاضر ہوجاتے اور اللہ سے معافی مانگتے اور رسول (ﷺ) بھی ان کیلئے مغفرت طلب کرتے تو وہ (اس وسیلہ اور شفاعت کی بناء پر) ضرور اللہ کو توبہ قبول فرمانے والا نہایت مہربان پاتے۔

2۔ یہود کا حضور نبی اکرمﷺ کو وسیلہ بنانا

حضور نبی اکرمﷺ کی ولادت سے پہلے یہود اپنے حریف مشرکینِ عرب پر فتح پانے کیلئے آپﷺ کے وسیلہ سے بارگاہ ِربّ العزت میں دعا کرتے جسکے نتیجے میں فتح سے ہمکنار ہوتے۔ اس بات پر نص قرآنی شاھد عادل ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

وَلَمَّا جَآء هُمْ کِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَھُمْ وَکَانُوْا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلیَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ج فَلَمَّا جَآء ھُمْ مَّا عَرَفُوْا کَفَرُوْا بِہٖ فَلَعْنَۃُ اللہ عَلَی الْکَافِریْنَo

البقرہ، 2 : 89

اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے وہ کتاب (قرآن) آئی جو اس کتاب (توراۃ) کی (اصلاً) تصدیق کرنے والی ہے جو ان کے پاس موجود تھی، حالانکہ اس سے پہلے وہ خود (نبی آخر الزمان حضرت محمدﷺ اور ان پر اترنے والی کتاب قرآن کے وسیلے سے) کافروں پر فتحیابی (کی دعا) مانگتے تھے، سو جب ان کے پاس وہی نبی (حضرت محمدﷺ اپنے اوپر نازل ہونے والی کتاب قرآن کے ساتھ ) تشریف لے آیا جسے وہ (پہلے ہی سے) پہچانتے تھے تو اسی کے منکر ہوگئے، پس (ایسے دانستہ) انکار کرنے والوں پر اللہ کی لعنت ہے۔

آیت کریمہ میں بیان ہو رہا ہے کہ وہ رسول جن کے وسیلہ جلیلہ سے مشرکینِ عرب پر فتح پانے کے لئے یہود بارگاہ الٰہی میں دعا مانگا کرتے تھے جب وہ بزم آراء ہستی ہوئے تو وہ اپنے تعصّب وعناد کی بنا پر آنے والے رسول کی کمال معرفت ہونے کے باوجود …جن کوان کی آمد کی علامات سے جانتے پہچانتے بھی تھے …ان کا انکار کر بیٹھے اور وادی کفر میں سرگرداں ہوگئے۔ جب انہوں نے اپنے کفر کا اظہار کیا تو غیرت حق جوش میں آ گئی اور فرمایا :

فَلَعْنَۃُ اللهِ عَلَی الْکَاِفریْنَo

البقرہ، 2 : 89

پس (ایسے دانستہ) انکار کرنے والوں پر اللہ کی لعنت ہے۔

بات چونکہ حضور نبی اکرم ﷺ کی عظمت و رفعت اور نبوت و رسالت کے انکار سے متعلق تھی اس لئے شعلۂ غضبِ الٰہی بھڑک اٹھا، اور وہ ملعون قرار پائے حالانکہ قرآن حکیم میں کئی مقامات پر کفار کا ذکر آیا ہے مگر لعنت کا ذکرہر مقام پر نہیں آیا کیونکہ اس کا ذکر اُس جگہ آتا ہے جہاں باری تعالیٰ کا غضب جوش مارنے لگے اور وہ جرم ناقابل معافی اور شدید مقامِ ناراضگی ہو۔ سورۃ البقرہ اور سورۃ الانفال میں حضور نبی اکرمﷺ کے منکرین پر جتنی کثرت کے ساتھ لعنت کی گئی ہے اتنی کثرت کے ساتھ کسی اور سورت میں نہیں کی گئی۔ ان آیات کے پس منظر اور سیاق و سباق کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ لعنت الہیہ کے نزول کی وجہ شان رسالت مآبﷺ کا انکار، اس کی عظمت و رفعت سے بیزاری اور اس کے ذکر میں بخل و حسد ہے۔

قرون اولیٰ سے لے کر آج تک مفسرین کی اکثریت نے اس آیت کریمہ کا جو معنی بیان کیا ہے وہ اصلاً حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ (تنویر المقباس : 13)۔ اس آیت کریمہ میں حضور نبی اکرم ﷺ کے واسطہ و وسیلہ سے دعا کرنے کی برکت کا ذکر ہے کہ خود اہلِ کتاب، حضور نبی اکرمﷺ کی بعثت سے پہلے، کفار و مشرکین عرب سے جنگوں کے دوران اللہ تعالیٰ سے اپنے کامیابی و کامرانی کی دعا، آنحضرت ﷺ کے وسیلے سے مانگا کرتے تھے۔ ان کی دعا کے کلمات یہ تھے :

اللھم! انصرنا بالنبی المبعوث فی آخر الزمان الذی نَجِدُ نعتَہ و صفتَہ فی التوراۃ۔

الکشاف، 1 : 123

اے اللہ! زمانہ آخر میں بھیجے جانے والے نبی (ﷺ) کہ جن کی تعریف اور صفات ہم تورات میں پاتے ہیں، کے وسیلے سے ہماری مدد فرما۔

بعض روایات میں حضور ﷺ کے اسم گرامی کے ساتھ قرآن مجید کا ذکر بھی آیا ہے۔ یہاں یہود کی مذمت اسی حوالے سے کی گئی ہے کہ مقامِ تأسف ہے کہ جب تک حضورﷺ کی بعثت نہ ہوئی تھی تو کامیابی کی دعائیں بھی انہی کے وسیلے سے مانگتے تھے مگر جب آپﷺ تشریف لے آئے تو ان کے منکر ہوگئے۔ مفسرین کرام نے اس حوالے سے جو روایات نقل کی ہیں ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں:

1۔ امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ

قال ابن عباس : کانت یھود خیبر تقاتل غَطَفان فلما التقوا ھزمت یهود، فعادت یهود بھذا الدعاء و قالوا : إنا نسألک بحق النبی الأمّیّ الذی وعدتنا أن تخرجه لنا فی آخر الزمان إلا تنصرنا علیهم۔ قال : فکانوا إذا التقوا دعوا بھذا الدعاء فھزموا غَطَفان، فلما بُعِث النبیﷺ کفروا، فأنزل الله تعالیٰ : {وَ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَی الَّذِیْنَ کَفَرُوْا} أی بک یا محمد۔

الجامع لأحکام القرآن، 2 : 27

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ خیبر کے یہودی غطفان قبیلے سے بر سر پیکار رہا کرتے تھے۔ پس جب دونوں کا آمنا سامنا ہوا تو یہودی شکست کھا گئے۔ پھر انہوں نے یہ دعا پڑھتے ہوئے دوبارہ حملہ کیا : ’’(الٰہی!) ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں اس نبی امیﷺکے وسیلہ سے جنہیں تونے آخری زمانہ میں ہمارے لیے بھیجنے کا ہم سے وعدہ کیا ہے، ان کے مقابلہ میں ہماری مدد فرما۔‘‘ ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب بھی وہ دشمن کے سامنے آئے تو انہوں نے یہی دعا پڑھی اور غطفان (قبیلہ) کو شکست دی۔ لیکن جب نبی اکرمﷺ مبعوث ہوئے تو انہوں نے( آپﷺ کا) انکار کیا۔اس پر اللہ تعالی نے یہ آیت اتاری : ’’حالانکہ اس سے پہلے وہ خود (نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ اور ان پر اترنے والی کتاب قرآن کے وسیلے سے) کافروں پر فتحیابی (کی دعا) مانگتے تھے۔‘‘ یعنی اے محمد! آپ کے وسیلہ سے (فتح کی دعا مانگا کرتے تھے)۔

2۔ علامہ آلوسی

نزلت فی بنی قُرَیظَہ و النَّضِیر کانوا یستفتحون علی الأوْس و الخَزْرَجْ برسول اللہﷺ قبل مبعثہ۔ قالہ ابن عباس وقتادہ۔ و المعنی یطلبون من اللہ تعالیٰ أن ینصرھم بہ علی المشرکین، کما روی السُّدِّیّ أنھم کانوا إذا اشتد الحرب بینھم و بین المشرکین أخرجوا التوراۃ و وضعوا أیدیھم علی موضع ذکر النبیﷺ، و قالوا : اللھم! إنا نسألک بحق نبیک الذی وعدتنا أن تبعثہ فی آخر الزمان أن تنصرنا الیوم علی عدونا، فیُنصَرون۔

تفسیر روح المعانی،1 : 320

یہ آیت بنی قریظہ اور بنی نضیر کے بارے میں نازل ہوئی جو اوس اور خزرج پر حضور ﷺ کی بعثت سے قبل آپ ﷺکے وسیلے سے فتح یابی کی دعا مانگتے تھے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے اسی بات کو بیان کیا ہے۔ اور معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے مانگتے تھے کہ اس نبی کے وسیلے سے مشرکین کے خلاف ان کی نصرت فرمائے جیسا کہ السدی نے بیان کیا ہے کہ جب ان کے اور مشرکین کے درمیان لڑائی زوروں پر آجاتی تو وہ تورات شریف کھول کر اس مقام پر جہاں حضور نبی اکرم ﷺ کا ذکر ہوتا ہاتھ رکھ دیتے اور دعا کرتے : اے اللہ! ہم تجھ سے تیرے اس نبی کے صدقے دعا کرتے ہیں جنہیں تو نے آخری زمانے میں مبعوث فرمانے کا ہم سے وعدہ کیا ہے، آج ہمارے دشمنوں کے خلاف ہماری نصرت فرما۔ پس (اس دعا کی برکت سے) انکی مدد کی جاتی۔

3۔ امام رازی

أن الیهود من قبل مبعث محمد عليه السلام و نزول القرآن کانوا یستفتحون أی یسألون الفتح والنصرۃ، و کانوا یقولون : اللھم! افتح علینا و انصرنا بالنبی الأمی۔

التفسیر الکبیر، 3 : 180

حضرت محمد ﷺ کی بعثت اور نزول قرآن سے قبل یہود (ان کے وسیلے سے) فتح کی دعا مانگا کرتے تھے یعنی فتح اور مدد طلب کرتے تھے، اور یہ الفاظ کہا کرتے تھے : اے اللہ! ہمیں اُمّی نبیﷺ کے صدقے فتح و نصرت عطا فرما۔

4۔ امام جلال الدین محلی و امام جلال الدین سیوطی

اللھم! انصرنا علیهم بالنبی المبعوث فی آخر الزمان۔

تفسیر جلالین کلاں : 14

اے اللہ! آخری زمانے میں مبعوث ہونے والے نبی ﷺکے وسیلے سے ہمیں ان پر غلبہ عطا فرما۔

5۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی

یستنصرون، أی علی مشرکی العرب، ویقولون : اللھم! انصرنا علیهم بالنبی المبعوث فی آخر الزمان الذی نجد صفتہ فی التوراۃ۔

التفسیر المظہری، 1 : 94

وہ مشرکین عرب پر فتح مانگتے تھے اور کہتے : اے اللہ!آخری زمانے میں بھیجے جانے والے جس نبی کی صفت ہم (اپنی کتاب) تورات میں پاتے ہیں، ان کے وسیلہ سے ہمیں ان پر غلبہ عطا فرما۔

6۔ امام ابن کثیر

کانت الیهود تستنصر بمحمدﷺ علی مشرکی العرب۔

تفسیر القرآن العظیم، 1 : 124

یہود مشرکین عرب پر حضورﷺ کے وسیلہ سے غلبہ کی دعا مانگتے تھے۔

7۔ امام جلال الدین سیوطی

1۔ عن ابن عباس، قال : کانت یہود بنی قریظۃ و النضیر من قبل أن یبعث محمدﷺ یستفتحون اللہ، یدعون علی الذین کفروا، و یقولون : اللھم! إنا نستنصرک بحق النبی الأمی إلا نصرتنا علیہم، فیُنصَرون۔

الدر المنثور، 1 : 88

حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ بنی قریظہ اور بنی نضیر کے یہود حضرت محمد ﷺ کی بعثت سے قبل کفار پر غلبہ کی دعا مانگا کرتے تھے اور کہتے : اے اللہ! ہم اُمّی نبی ﷺ کے وسیلے سے تجھ سے مدد طلب کرتے ہیں کہ ہمیں ان پر غلبہ عطا فرما۔ پس ان کی مدد کی جاتی۔

اسی طرح یہ روایت بھی ہے :

2۔ عن ابن عباس، قال : کان یهود أھل المدینۃ قبل قدوم النبیﷺ إذا قاتلوا من یلیهم من مشرکی العرب من أسد و غطفان و جُھَینۃ وعُذرَۃ یستفتحون علیھم و یستنصرون یدعون علیهم باسم نبی اللہ، فیقولون : اللھم، ربنا! انصرنا علیهم باسم نبیک و بکتابک الذی تنزل علیہ الذی وعدتنا أنک باعثہ فی آخر الزمان۔

الدر المنثور، 1 : 88

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہودِ مدینہ حضور نبی اکرمﷺ کی (اس دنیا میں) تشریف آوری سے قبل جب وہ مشرکینِ عرب میں سے اسد، غطفان، جہینہ اور عذرہ سے جنگ کرتے تو حضور نبی اکرم ﷺ کے اسم گرامی کے صدقے اس پر فتح و نصرت حاصل کرنے کی دعا کرتے، اور کہتے : اے اللہ، ہمارے رب! اپنے اس نبی کے اسم گرامی اور ان پر نازل ہونے والی کتاب کے صدقے ہمیں نصرت عطا فرما، جن کی آخری زمانے میں بعثت کا تو نے ہم سے وعدہ فرمایا ہے۔

اسی طرح کی روایات مندرجہ ذیل کتبِ تفاسیر میں بھی بیان کی گئی ہیں:

1۔ تفسیر مجاہد، 1 : 83
2۔ تفسیر غریب القرآن : 58
3۔ جامع البیان فی تفسیر القرآن للطبری، 1 : 325
4۔ معالم التنزیل، 1 : 93
5۔ کشف الاسرار و عدۃ الابرار،1 : 272
6۔زاد المسیر فی علم التفسیر لابن الجوزی، 1 : 114
7۔ تفسیر البیضاوی، 1 : 122
8۔ المدارک (تفسیر النسفی)، 1 : 61
9۔ نظم الدرر فی تناسب الآیات والسُوَر، 2 : 7۔36
10۔ لباب التأویل فی معانی التنزیل، 1 : 65
11۔ تفسیر البحر المحیط، 1 : 303
12۔ جامع البیان فی تفسیر القرآن، 1 : 23
13۔ارشاد العقل السلیم إلی مزایا القرآن الکریم (تفسیر ابی السعود)، 1 : 128
14۔ تفسیر روح البیان، 1 : 179
15۔ الفتوحات الالہیۃ، 1 : 8۔77
16۔ فتح القدیر للشوکانی، 1 : 112
17۔ تفسیر المنار، 1 : 381
18۔تفسیر السراج المنیر، 1 : 76
19۔ التفسیر المنیر، 1 : 20۔219
20۔ کتاب التسہیل لعلوم التنزیل لابن جزی، 1 : 53
ا2۔ الجواہر فی تفسیر القرآن الکریم، 1 : 96

تفاسیر کے علاوہ اسی طرح کی روایات احادیث و سیرت کی کتب میں بھی بیان کی گئی ہیں :

1۔المستدرک للحاکم،2 : 263
2۔ الشریعۃ للآجُرّی : 8۔446
3۔ دلائل النبوۃ للبیہقی،2 : 7۔76
4۔ دلائل النبوۃ لابی نعیم : 5۔44
5۔ البدایۃ والنھایۃ، 2 : 5۔274

ان تمام روایات سے ثابت ہوا کہ آپﷺ کی بعثت سے قبل بھی اہل کتاب آپﷺ کی ذاتِ اقدس کو بطور وسیلہ اللہ کی بارگاہ میں پیش کرتے تھے۔ اگر ہم غور کریں تو معلوم ہوگا کہ تمام اجل معتمد اکابر محدثین اور مفسرین کرام نے اپنی کتب کو ان روایات سے زینت بخشی ہے۔ لہذا یہ غلط فہمی بھی دور ہونی چاہئے کہ شاید یہ روایات درجے کے اعتبار سے کم تر ہیں کیونکہ جو روایت تفسیر کے لئے قابل حجت ہوتی ہے وہ درجہ قبولیت میں ہوتی ہے۔ اور اس روایت کو تو ایک ہزار سال کے دوران جتنے بھی مفسرین گزرے ہیںسب نے نقل کیا ہے، کسی نے تفسیر القرآن بالقرآن اور کسی نے تفسیر القرآن بالحدیث کے تحت۔ مختلف ادوار میں مفسرین کرام، محدثین اور فقہاء و ائمہ کا اس پر متفق ہونا بڑا اہم اور قابل اعتماد امر ہے۔ اگر کوئی اعتراض کرے کہ یہ تو اسرائیلیات سے آئی ہیں تو اس حوالے سے بھی یہ امر ذہن نشین رہے کہ بنی اسرائیل سے روایات لینے میں کوئی حرج نہیں، جیسا کہ حضورﷺ کا ارشاد گرامی ہے :

حَدِّثوا عن بنی إسرائیل و لا حرج۔

1۔صحیح البخاری، 1 : 491
2۔سنن ابی داؤد، 2 : 159
3۔جامع الترمذی، 2 : 91
4۔مصنف ابن ابی شیبۃ، 9 : 62، رقم : 6536
5۔مسند احمد بن حنبل، 3 : 56
5۔مسند احمد بن حنبل، 2 : 502، 474، 202، 159
7۔مجمع الزوائد، 1 : 151
8۔المطالب العالیہ، 1 : 192،رقم : 688
9۔المطا لب العالیہ،3 : 280رقم : 3478

بنی اسرائیل سے روایات لو اور اس میں کوئی حرج نہیں۔

بعد از وصال توسُّل بالنبیﷺ کا جواز

جس طرح اس آیت کریمہ سے قبل از ولادت و بعثت آپﷺ سے توسُّل کا ثبوت ہے اسی طرح یہی آیت بعد از وصال بھی آپﷺ سے توسُّل پر شاھد عادل ہے۔ رہا یہ سوال کہ اس آیہ کریمہ سے بعد از وصال توسُّل بالنبیﷺ کا کیا ثبوت ہے؟ جواب یہ ہے کہ جب حضور نبی اکرمﷺ ابھی اس دنیا میں تشریف نہ لائے تھے اور اس وقت اگر وسیلہ جائز تھا تو اب وصال مبارک کے بعد وسیلہ کیسے ناجائز ہوسکتا ہے؟

ولادتِ مصطفےﷺ سے قبل حضور نبی اکرمﷺ کی ذاتِ اقدس کا توسُّل اور وسیلہ پکڑنے والے یہود اہل ایمان تھے، انبیاء و صلحاء کی قیادت میں جنگ لڑتے تھے اور یہ کافر تو اس وقت ہوئے جب نبی محمدﷺ نے اپنے قدوم میمنت لزوم سے اس سرزمین کو شرف بخشا۔ اس سے پہلے حضور نبی اکرمﷺ کے چرچے اور تذکرے خود اہل کتاب کیا کرتے تھے۔اپنے بچوں کو آپﷺ کا ذکر سناتے اور مدح کرتے اور آپﷺ کی بعثت کے منتظر تھے۔ مگر کیا ہوا؟ وہی نبی برحق ﷺ جن کا برسوں سے انتظار کر رہے تھے، شب و روز جن کے تذکرے کرتے تھے اور جن کے توسُّل سے فتح و کامرانی کیلئے دعائیں مانگتے تھے، جب وہ مبعوث ہوئے تو حسد اور تعصب و عناد کی وجہ سے کامل معرفت کے باوجود ان کی نبوت و رسالت کا انکار کر بیٹھے۔

غرضیکہ حضور نبی اکرمﷺ کی ذاتِ اقدس کا یہ توسُّل اور وسیلہ آپ ﷺکے ظہور ولادت سے پہلے کا ہے لیکن بیک وقت یہی آیت بعد از وصال آپﷺ کے توسُّل اور وسیلہ کے جائز ہونے پر بھی دلالت کرتی ہے۔

Copyrights © 2020 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved