Book on Oneness of Allah (vol. I)

توحید و شرک اور صفات و افعال میں اشتراک

باب دہم : توحید و شرک اورصفات و افعال میں اشتراک

اسماء و صفات میں اشتراک کی مثالیں

افعال میں اشتراک کی مثالیں

اﷲ رب العزت نے اپنے حبیبِ مکرم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جملہ خلائق سے زیادہ مقام و مرتبہ اور فضائل و خصائص عطا فرمائے ہیں۔ انہی صفات و مناقب حمیدہ کی بناء پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا درجہ تمام مخلوقات سے ارفع و اعليٰ ہے۔ بعض لوگ کج فہمی اور کوتاہ فکری کی بناء پر مقامِ خالق اور مقام مخلوق کے فرق کو خلط ملط کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف و توصیف کا بیان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (معاذ اﷲ) مقام و مرتبہِ الوہیت تک پہنچا دیتا ہے۔ واضح رہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف و توصیف از روئے نص محمود و مطلوب ہے۔ خود اﷲ تبارک و تعاليٰ نے اپنے پاک کلام میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت اور شان کا بیان فرمایا ہے لہٰذا ایک امتی کا فرض ہے کہ وہ بھی اپنے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان و عظمت کو خوب ذوق و شوق سے بیان کرے۔

عقیدہِ صحیحہ یہی ہے کہ وہ صفات جو ربوبیت کا خاصہ ہیں ان کو چھوڑ کر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جتنی تعظیم و توصیف کی جائے وہ نہ کفر ہے نہ شرک بلکہ طاعت و تقرب ہے۔

اَسماء و صفات میں اشتراک کی مثالیں

گذشتہ ابواب میں کئی مقامات پر یہ وضاحت ہو چکی ہے کہ ذاتِ باری تعاليٰ کی شان اور اس کے مقام کے لائق جو خاص صفات و افعال ہیں انہیں کسی مخلوق کے لئے ثابت کرنا شرک ہے لیکن بعض اوقات صفاتِ الٰہیہ اور صفاتِ عبدیہ میں اشتراک ہوتا ہے اس لئے وہ صفات و افعال جو رب تعاليٰ کا خاصہ نہیں اور باری تعاليٰ نے انہیں اپنے فضل اور اذن سے اپنے برگزیدہ بندوں کو عطا فرما کر احسان فرمایا ہے انہیں ایسی صفات و افعال سے متصف کرنا شرک نہیں۔ قرآن و حدیث میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں :

1. اَلشَّفَاعَةُ

شفاعت کا مالکِ حقیقی اﷲ تعاليٰ ہے، ارشاد فرمایا :

 قُل لِّلَّهِ الشَّفَاعَةُ جَمِيعًا لَّهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَo

’’فرما دیجئے : سب شفاعت (کا اِذن) اللہ ہی کے اختیار میں ہے ( جو اس نے اپنے مقرّبین کے لئے مخصوص کر رکھا ہے)، آسمانوں اور زمین کی سلطنت بھی اسی کی ہے، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گےo‘‘

(1) الزمر، 39 : 44

لیکن اﷲ رب العزت نے اپنے اذن سے شفاعت کا اختیار اپنے مقرب بندوں کو عطا کیا ہے، ارشاد فرمایا :

لَا يَمْلِکُوْنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاo

’’(اس دن) لوگ شفاعت کے مالک نہ ہوں گے سوائے ان کے جنہوں نے (خدائے) رحمن سے وعدہِ (شفاعت) لے لیا ہےo‘‘

(2) مریم، 19 : 87

2. عِلمُ الْغَيْبِ

عالم بالذات رب تعاليٰ ہے، ارشادِ ربانی ہے :

قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اﷲُط وَمَا يَشْعُرُوْنَ اَيَانَ يُبْعَثُوْنَo

’’فرمادیجئے کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں (از خود) غیب کا علم نہیں رکھتے سوائے اللہ کے (وہ عالم بالذّات ہے) اور نہ ہی وہ یہ خبر رکھتے ہیں کہ وہ (دوبارہ زندہ کر کے) کب اٹھائے جائیں گےo‘‘

(3) النمل، 27 : 65

لیکن اﷲ تعاليٰ اپنے رسولوں کو علم غیب عطا فرماتا ہے، ارشادِ باری تعاليٰ ہے :

وَمَا كَانَ اللّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَكِنَّ اللّهَ يَجْتَبِي مِن رُّسُلِهِ مَن يَشَاءُ فَآمِنُواْ بِاللّهِ وَرُسُلِهِ وَإِن تُؤْمِنُواْ وَتَتَّقُواْ فَلَكُمْ أَجْرٌ عَظِيمٌo

’’اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ (اے عامۃ الناس!) تمہیں غیب پر مطلع فرما دے لیکن اللہ اپنے رسولوں سے جسے چاہے (غیب کے علم کے لئے) چن لیتا ہے، سو تم اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور اگر تم ایمان لے آؤ اور تقويٰ اختیار کرو تو تمہارے لئے بڑا ثواب ہےo‘‘

(1) آل عمران، 3 : 179

دوسرے مقام پر فرمایا :

عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًاo إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِن رَّسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًاo

’’(وہ) غیب کا جاننے والا ہے، پس وہ اپنے غیب پر کسی(عام شخص) کو مطلع نہیں فرماتاo سوائے اپنے پسندیدہ رسولوںکے (اُنہی کو مطلع علی الغیب کرتا ہے کیونکہ یہ خاصہِ نبوت اور معجزہِ رسالت ہے)، تو بے شک وہ اس (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے آگے اور پیچھے (علمِ غیب کی حفاظت کے لئے) نگہبان مقرر فرما دیتا ہےo‘‘

(2) الجن، 72 : 26۔27

3. اَلْهِدَايَةُ

ہدایت کا مالکِ حقیقی اﷲ تعاليٰ ہے، ارشاد فرمایا :

إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَo

’’حقیقت یہ ہے کہ جسے آپ (راہِ ہدایت پر لانا) چاہتے ہیں اُسے راہِ ہدایت پر آپ خود نہیں لاتے بلکہ جسے اﷲ چاہتا ہے (آپ کے ذریعے) راہِ ہدایت پر چلا دیتا ہے، اور وہ راہِ ہدایت پانے والوں سے خوب واقف ہےo‘‘

(1) القصص، 28 : 56

دوسرے مقام پر اﷲ تعاليٰ نے اپنی ہدایت اور رسول کی ہدایت کو ایک ہی آیت میں ثابت فرمایا :

وَكَذَلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِّنْ أَمْرِنَا مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيْمَانُ وَلَكِن جَعَلْنَاهُ نُورًا نَّهْدِي بِهِ مَنْ نَّشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍo

’’سو اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اپنے حکم سے روحِ (قلوب و ارواح) کی وحی فرمائی (جو قرآن ہے)، اور آپ (وحی سے قبل اپنی ذاتی درایت و فکر سے) نہ یہ جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور نہ ایمان (کے شرعی احکام کی تفصیلات کو ہی جانتے تھے جو بعد میں نازل اور مقرر ہوئیں) مگر ہم نے اسے نور بنا دیا۔ ہم اِس (نور) کے ذریعہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں ہدایت سے نوازتے ہیں، اور بیشک آپ ہی صراطِ مستقیم کی طرف ہدایت عطا فرماتے ہیںo‘‘

(2) الشوريٰ، 42 : 52

4. اَلضَّلَالَةُ

1۔ گمراہ ٹھہرانے کے حوالے سے ارشادِ باری تعاليٰ ہے :

وَالَّذِينَ كَذَّبُواْ بِآيَاتِنَا صُمٌّ وَبُكْمٌ فِي الظُّلُمَاتِ مَن يَشَإِ اللّهُ يُضْلِلْهُ وَمَن يَشَأْ يَجْعَلْهُ عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍo

’’اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ بہرے اور گونگے ہیں، تاریکیوں میں (بھٹک رہے) ہیں۔ اﷲ جسے چاہتا ہے اسے (انکارِ حق اور ضد کے باعث) گمراہ ٹھہرا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اسے (قبولِ حق کے باعث) سیدھی راہ پر لگادیتا ہےo‘‘

(1) الانعام، 6 : 39

2۔ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا :

 بَلِ اتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَهْوَاءَهُم بِغَيْرِ عِلْمٍ فَمَن يَهْدِي مَنْ أَضَلَّ اللَّهُ وَمَا لَهُم مِّن نَّاصِرِينَo

’’بلکہ جن لوگوں نے ظلم کیا ہے وہ بغیر علم (و ہدایت) کے اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں، پس اس شخص کو کون ہدایت دے سکتا ہے جسے اﷲ نے گمراہ ٹھہرا دیا ہو اور ان لوگوں کے لئے کوئی مددگار نہیں ہےo‘‘

(2) الروم، 30 : 29

لیکن ایک مقام پر اﷲ تعاليٰ نے گمراہ کرنے کی نسبت ظالموں کی طرف فرمائی :

وَقَدْ أَضَلُّوا كَثِيرًا وَلَا تَزِدِ الظَّالِمِينَ إِلَّا ضَلَالًاo

’’اور واقعی انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کیا، سو (اے میرے رب!) تو (بھی ان) ظالموں کو سوائے گمراہی کے (کسی اور چیز میں) نہ بڑھاo‘‘

(3) نوح، 71 : 24

5. اَلْعِزَّةُ

1۔ حقیقی عزت کا سزاوار اﷲ تعاليٰ ہے، فرمایا :

الَّذِينَ يَتَّخِذُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ أَيَبْتَغُونَ عِندَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ العِزَّةَ لِلّهِ جَمِيعًاo

’’(یہ) ایسے لوگ (ہیں) جو مسلمانوں کی بجائے کافروں کو دوست بناتے ہیں۔ کیا یہ ان کے پاس عزت تلاش کرتے ہیں؟ پس عزت تو ساری اللہ (تعاليٰ) کے لئے ہےo‘‘

(1) النسائ، 4 : 139

 وَلاَ يَحْزُنكَ قَوْلُهُمْ إِنَّ الْعِزَّةَ لِلّهِ جَمِيعًا هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُo

’’(اے حبیبِ مکرّم!) ان کی (عناد و عداوت پر مبنی) گفتگو آپ کو غمگین نہ کرے۔ بیشک ساری عزت و غلبہ اللہ ہی کے لئے ہے (جو جسے چاہتا ہے دیتا ہے)، وہ خوب سننے والا جاننے والا ہےo‘‘

(2) یونس، 10 : 65

3. مَن كَانَ يُرِيدُ الْعِزَّةَ فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًا إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ وَالَّذِينَ يَمْكُرُونَ السَّيِّئَاتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَكْرُ أُوْلَئِكَ هُوَ يَبُورُo

’’جو شخص عزت چاہتا ہے تو اﷲ ہی کے لئے ساری عزت ہے، پاکیزہ کلمات اسی کی طرف چڑھتے ہیں اور وہی نیک عمل(کے مدارج) کو بلند فرماتا ہے، اور جو لوگ بُری چالوں میں لگے رہتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے اور ان کا مکر و فریب نیست و نابود ہو جائے گاo‘‘

(3) فاطر، 35 : 10

4۔ اللہ تعاليٰ نے درجِ ذیل آیتِ کریمہ میں عزت کی نسبت اپنی طرف، اپنے رسول( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی طرف بلکہ سارے مؤمنین کی طرف کی ہے۔ ارشاد فرمایا :

 يَقُولُونَ لَئِن رَّجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَعْلَمُونَo

’’وہ کہتے ہیں : اگر (اب) ہم مدینہ واپس ہوئے تو (ہم) عزت والے لوگ وہاں سے ذلیل لوگوں (یعنی مسلمانوں) کو باہر نکال دیں گے، حالانکہ عزت تو صرف اللہ کے لئے اور اس کے رسول( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے لئے اور مومنوں کے لئے ہے مگر منافقین (اس حقیقت کو) جانتے نہیں ہیںo‘‘

(1) المنافقون، 63 : 8

6. اَلرَّؤُوْفُ الرَّحِيْمُ

1۔ یہ دونوں اﷲ تعاليٰ کے اسمائے حسنيٰ ہیں، ارشادِ باری تعاليٰ ہے :

اِنَّ اﷲَ بِالنَّاسِ لَرئُ وْفٌ رَّحِيْمٌo

’’بیشک اﷲ لوگوں پر بڑی شفقت فرمانے والا مہربان ہے۔‘‘

(2) البقرۃ، 2 : 143

2۔ ایک اور مقام پر انہی الفاظ کو دہراتے ہوئے فرمایا :

اِنَّ اﷲَ بِالنَّاسِ لَرَئُ وْفٌ رَّحِيْمٌo

’’بیشک اﷲ تمام انسانوں کے ساتھ نہایت شفقت فرمانے والا بڑا مہربان ہےo‘‘

(3) الحج، 22 : 65

سورۃ توبہ میں یہی دونوں اسماء الحسنيٰ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے بیان کئے گئے ہیں۔ ارشاد فرمایا :

لَقَدْ جَآئَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ أَنْفُسِکُمْ عَزِيْزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيْصٌ عَلَيْکُمْ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَئُ وْفٌ رَّحِيْمٌo

’’بیشک تمہارے پاس تم میں سے (ایک باعظمت) رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) تشریف لائے۔ تمہارا تکلیف و مشقت میں پڑنا ان پر سخت گراں (گزرتا) ہے۔ (اے لوگو!) وہ تمہارے لئے (بھلائی اور ہدایت کے) بڑے طالب و آرزومند رہتے ہیں (اور) مومنوں کے لئے نہایت (ہی) شفیق بے حد رحم فرمانے والے ہیںo‘‘

(1) التوبۃ، 9 : 128

7. اَلْحَقُّ الْمُبِيْنُ

یہ دو نام بھی اﷲ تعاليٰ کے صفاتی ناموں میں سے ہیں۔ ارشادِ باری تعاليٰ ہے :

يَوْمَئِذٍ يُوَفِّيْهِمُ اﷲُ دِيْنَهُمُ الْحَقَّ وَيَعْلَمُوْنَ اَنَّ اﷲَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِيْنُo

’’اس دن اللہ انہیں ان (کے اعمال) کی پوری پوری جزا جس کے وہ صحیح حقدار ہیں دے دے گا اور وہ جان لیں گے کہ اللہ (خود بھی) حق ہے (اور حق کو) ظاہر فرمانے والا (بھی) ہےo‘‘

(2) النور، 24 : 25

۔ اﷲ تعاليٰ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی اَلْحَقُّ الْمُبِيْنُ فرمایا :

فَتَوَکَّلْ عَلَی اﷲِط اِنَّکَ عَلَی الْحَقِّ الْمُبِيْنِo

’’پس آپ اللہ پر بھروسہ کریں، بیشک آپ صریح حق پر (قائم اور فائز) ہیںo‘‘

(3) النمل، 27 : 79

21. كَيْفَ يَهْدِي اللّهُ قَوْمًا كَفَرُواْ بَعْدَ إِيمَانِهِمْ وَشَهِدُواْ أَنَّ الرَّسُولَ حَقٌّ وَجَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَاللّهُ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَo

’’اﷲ ان لوگوں کو کیونکر ہدایت فرمائے جو ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے حالانکہ وہ اس امر کی گواہی دے چکے تھے کہ یہ رسول سچا ہے اور ان کے پاس واضح نشانیاں بھی آ چکی تھیں، اور اﷲ ظالم قوم کو ہدایت نہیں فرماتاo‘‘

(1) آل عمران، 3 : 86

3. وَقُلْ إِنِّي أَنَا النَّذِيرُ الْمُبِينُo

’’اور فرما دیجئے کہ بیشک (اب) میں ہی (عذابِ الٰہی کا) واضح و صریح ڈر سنانے والا ہوں۔‘‘

(2) الحجر، 15 : 89

4. اَنّٰی لَهُمُ الذِّکْرٰی وَقَدْ جَآئَ هُمْ رَسُوْلٌ مُّبِيْنٌo

’’اب اُن کا نصیحت ماننا کہاں (مفید) ہو سکتا ہے حالانکہ ان کے پاس واضح بیان فرمانے والے رسول آ چکےo‘‘

(3) الدخان، 44 : 13

8. اَلنُّوْرُ

اﷲ تعاليٰ نور ہے۔ ارشاد فرمایا :

اَﷲُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْض ِ

’’اﷲ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔‘‘

(4) النور، 24 : 35

اﷲ تعاليٰ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام بھی نور رکھا چنانچہ فرمایا :

قَدْ جَآئَ کُمْ مِّنَ اﷲِ نُوْرٌ وَّ کِتٰبٌ مُّبِيْنٌo

’’بیشک تمہارے پاس اﷲ کی طرف سے ایک نور (یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) آگیا ہے اور ایک روشن کتاب (یعنی قرآن مجید)o‘‘

(1) المائدۃ، 5 : 15

9. اَلشَّهِيْدُ

اﷲ تعاليٰ کے مقدس ناموں میں ایک نام اَلشَّھِيْدُ ہے، چنانچہ فرمایا :

وَ اَرْسَلْنٰـکَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًاط وَ کَفٰی بِاﷲِ شَهِيْدًاo

’’اور (اے محبوب!) ہم نے آپ کو تمام انسانوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا ہے، اور (آپ کی رسالت پر) اللہ گواہی میں کافی ہےo

(2) النسائ، 4 : 79

1۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام بھی اﷲ تعاليٰ نے شہید رکھا، فرمایا :

وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰـکُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُهَدَآئَ عَلَی النَّاسِ وَيَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْکُمْ شَهِيْدًا

’’اور (اے مسلمانو!) اسی طرح ہم نے تمہیں (اعتدال والی) بہتر امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور (ہمارا یہ برگزیدہ) رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) تم پر گواہ ہو۔‘‘

(3) البقرۃ، 2 : 143

2۔ سورۃ النساء میں ارشاد فرمایا :

فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَـؤُلاَءِ شَهِيدًاo

’’پھر اس دن کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور (اے حبیب!) ہم آپ کو ان سب پر گواہ لائیں گےo‘‘

(4) النسائ، 4 : 41

10. اَلْکَرِيْمُ

اﷲ تعاليٰ کے اسماء الحسنيٰ میں سے ایک نام اَلْکَرِيْمُ ہے جیسا کہ فرمایا :

 يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِo

’’اے انسان! تجھے کس چیز نے اپنے ربِ کریم کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیاo‘‘

(1) الانفطار، 82 : 6

اﷲ تعاليٰ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام بھی اَلْکَرِيْمُ رکھا۔ ارشاد فرمایا :

إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِيْمٍo

’’بیشک یہ (قرآن) بڑی عزت و بزرگی والے رسول کا (پڑھا ہوا) کلام ہےo‘‘

(2) التکویر، 81 : 19

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

اَنَا اَکْرَمُ وَلَدِ آدَمَ.

’’میں اولادِ آدم میں سب سے زیادہ مکرم و معزز ہوں۔‘‘

  1. ترمذی، السنن، ابواب المناقب، باب ما جاء فی فضل النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، 5 : 585، رقم : 3610

  2. دارمی، السنن، 1 : 39، رقم : 47

  3. دیلمی، الفردوس بمأثور الخطاب، 1 : 47، رقم : 117

11. اَلْعَظِيْمُ

1۔ اﷲ تعاليٰ کے مبارک ناموں میں سے ایک اَلْعَظِيْمُ ہے، فرمایا :

وَ هُوَ الْعَلِيُ الْعَظِيْمُo

’’وہی سب سے بلند رتبہ بڑی عظمت والا ہےo‘‘

(1) البقرہ، 2 : 255

2. لَهُ مَا فِيْ السَّمٰوٰتِ وَمَا فِيْ الْاَرْضِ وَهُوَ الْعَلِيُ الْعَظِيْمُo

’’جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اسی کا ہے، اور وہ بلند مرتبت، بڑا با عظمت ہےo‘‘

(2) الشوريٰ، 42 : 4

2. فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِيْمِo

’’سو آپ اپنے ربِّ عظیم کے نام کی تسبیح کیا کریںo

(3) الواقعہ، 56 : 96

اﷲ تعاليٰ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ارشاد فرمایا :

وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِيْمٍo

’’اور بیشک آپ عظیم الشان خلق پر قائم ہیں (یعنی آدابِ قرآنی سے مزین اور اَخلاقِ اِلٰہیہ سے متصف ہیں)o‘‘

(4) القلم، 68 : 4

12. اَلْخَبِيْرُ

1۔ اﷲ تعاليٰ کے اسمائے حسنيٰ میں سے ایک اسمِ مبارک اَلْخَبِيْرُ ہے چنانچہ ارشاد باری تعاليٰ ہے :

وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِط وَهُوَ الْحَکِيْمُ الْخَبِيْرُo

’’اور وہی اپنے بندوں پر غالب ہے، اور وہ بڑی حکمت والا خبر دار ہےo‘‘

(1) الانعام، 6 : 18

2. عٰلِمُ الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِط وَ هُوَ الْحَکِيْمُ الْخَبِيْرُo

’’(وہی) ہر پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے، اور وہی بڑی حکمت والا خبردار ہےo‘‘

(2) الانعام، 6 : 73

درجِ ذیل دو آیات میں اﷲ تعاليٰ نے پہلے اپنے باخبر ہونے کا ذکر فرمایا اور پھر متصل اگلی آیت میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ’’خَبِيْر‘‘ قرار دیا، ارشاد فرمایا :

وَتَوَكَّلْ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ وَسَبِّحْ بِحَمْدِهِ وَكَفَى بِهِ بِذُنُوبِ عِبَادِهِ خَبِيرًاoالَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ الرَّحْمَنُ فَاسْأَلْ بِهِ خَبِيرًاo

’’اور آپ اس (ہمیشہ) زندہ رہنے والے (رب) پر بھروسہ کیجئے جو کبھی نہیں مرے گا اور اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہئے، اور اس کا اپنے بندوں کے گناہوں سے باخبر ہونا کافی ہےo جس نے آسمانی کرّوں اور زمین کو اور اس (کائنات) کو جو ان دونوں کے درمیان ہے چھ ادوار میں پیدا فرمایا پھر وہ (حسبِ شان) عرش پر جلوہ افروز ہوا (وہ) رحمن ہے (اے معرفتِ حق کے طالب) تو اس کے بارے میں کسی باخبر سے پوچھ (بے خبر اسکا حال نہیں جانتے)o‘‘

(3) الفرقان، 25 : 58۔59

13. اَلشَّکُوْرُ

یہ بھی اﷲ تعاليٰ کے پیارے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ ارشاد فرمایا :

وَاﷲُ شَکُوْرٌ حَلِيْمٌo

’’اور اللہ بڑا قدر شناس ہے بُردبار ہےo‘‘

(1) التغابن، 64 : 17

ایک مقام پر اپنے برگزیدہ نبی حضرت نوحں کی توصیف اس نام کے ساتھ فرمائی، ارشاد فرمایا :

ذُرِّيَةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ ط اِنَّهُ کَانَ عَبْدًا شَکُوْرًاo

’’(اے) ان لوگوں کی اولاد جنہیں ہم نے نوح ( علیہ السلام ) کے ساتھ (کشتی میں) اٹھا لیا تھا، بیشک نوح ( علیہ السلام ) بڑے شکر گزار بندے تھےo‘‘

(2) الاسرائ، 17 : 3

14. اَلْعَلِيْمُ

1۔ اَلْعَلِيْمُ بھی اﷲ تعاليٰ کا مبارک اسمِ گرامی ہے، ارشاد فرمایا :

وَاتَّقُوا اﷲَ وَاعْلَمُوْا اَنَّ اﷲَ بِکُلِّ شَيْئٍ عَلِيْمٌo

’’اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ بیشک اﷲ سب کچھ جاننے والا ہےo‘‘

(3) البقرۃ، 2 : 231

2. وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُo

’’اور وہ خوب سننے والا جاننے والا ہےo‘‘

(4) العنکبوت، 29 : 60

اﷲ تعاليٰ نے سیدنا یوسفں کے بارے میں فرمایا :

فَبَدَأَ بِأَوْعِيَتِهِمْ قَبْلَ وِعَاءِ أَخِيهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِن وِعَاءِ أَخِيهِ كَذَلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِي دِينِ الْمَلِكِ إِلاَّ أَن يَشَاءَ اللّهُ نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مِّن نَّشَاءُ وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌo

’’پس یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی کی بوری سے پہلے ان کی بوریوں کی تلاشی شروع کی پھر (بالآخر) اس (پیالے) کو اپنے (سگے) بھائی (بنیامین) کی بوری سے نکال لیا۔ یوں ہم نے یوسف ( علیہ السلام ) کو تدبیر بتائی۔ وہ اپنے بھائی کو بادشاہ (مصر) کے قانون کی رو سے (اسیر بنا کر) نہیں رکھ سکتے تھے مگر یہ کہ (جیسے) اﷲ چاہے۔ ہم جس کے چاہتے ہیں درجات بلند کر دیتے ہیں، اور ہر صاحبِ علم سے اوپر (بھی) ایک علم والا ہوتا ہےo‘‘

(1) یوسف، 12 : 76

15. اَلْمُعَلِّمُ وَ الْعَلَّامُ

الْعَلَّامُ اﷲ تعاليٰ کی ذاتِ حقیقی ہے اس کے ساتھ ساتھ اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے مخفی علوم کے اسرار و رموز سے نوازنے کے باعث اَلْمُعَلِّمُ بھی ہے۔ چنانچہ اپنی اسی صفت کے بارے میں ارشاد فرمایا :

وَ عَلَّمَکَ مَا لَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ ط وَ کَانَ فَضْلُ اﷲِ عَلَيْکَ عَظِيْمًاo

’’اور اس نے آپ کو وہ سب علم عطا کر دیا ہے جو آپ نہیں جانتے تھے، اور آپ پر اللہ کا بہت بڑا فضل ہےo‘‘

(2) النسائ، 4 : 113

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے اللہ تعاليٰ سے علم حاصل کیا اور پھر اسی علمی فیض کو امت میں ان کے حسبِ حال عطا کرنے والے بن گئے اور اَلْمُعَلِّمُ کے مقام پر فائز ہوئے۔ ارشادِ باری تعاليٰ ہے :

کَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْکُمْ رَسُوْلًا مِّنْکُمْ يَتْلُوْا عَلَيْکُمْ اٰيٰـتِنَا وَ يُزَکِّيْکُمْ وَيُعَلِّمُکُمُ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَةَ وَ يُعَلِّمُکُمْ مَّا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَo

’’اسی طرح ہم نے تمہارے اندر تمہیں میں سے (اپنا) رسول بھیجا جو تم پر ہماری آیتیں تلاوت فرماتا ہے اور تمہیں (نفسًا و قلبًا) پاک صاف کرتا ہے اور تمہیں کتاب کی تعلیم دیتا ہے اور حکمت و دانائی سکھاتا ہے اور تمہیں وہ (اسرارِ معرفت وحقیقت) سکھاتا ہے جو تم نہ جانتے تھےo‘‘

(1) البقرۃ، 2 : 151

16. اَلْوَلِيُ وَ الْمَوْلٰی

1۔ اَلْوَلِيُ اور اَلْمَوْلٰی بھی اﷲ تعاليٰ کے مقدس اسماء الحسنيٰ میں سے ہیں، فرمایا :

واﷲُ وَلِيُ الْمُوْمِنِيْنَo

’’اور اللہایمان والوں کا ولی ہےo‘‘

(2) آل عمران، 3 : 68

2. بَلِ اﷲُ مَوْلٰـکُم ْج وَهُوَ خَيْرُ النّٰصِرِيْنَo

’’بلکہ اللہ تمہارا موليٰ ہے، اور وہ سب سے بہتر مدد فرمانے والا ہےo‘‘

(3) آل عمران، 3 : 150

3. هُنَالِکَ تَبْلُوْا کُلُّ نَفْسٍ مَّآ اَسْلَفَتْ وَرُدُّوْا اِلَی اﷲِ مَوْلٰهُمُ الْحَقِّ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا کَانُوْا يَفْتَرُوْنَo

’’اس (دہشت ناک) مقام پر ہر شخص ان (اعمال کی حقیقت) کو جانچ لے گا جو اس نے آگے بھیجے تھے اور وہ اللہ کی جانب لوٹائے جائیں گے جو ان کا مالکِ حقیقی ہے اور ان سے وہ بہتان تراشی جاتی رہے گی جو وہ کیا کرتے تھےo‘‘

(4) یونس، 10 : 30

دوسرے مقامات پر اﷲ تعاليٰ نے اپنی اس صفت کو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، جبرائیلں اور صالحین کے لئے ثابت فرمایا، ارشادِ باری تعاليٰ ہے :

1. اِنَّمَا وَلِيُکُمُ اﷲُ وَرَسُوْلُهُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوا الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّکٰوةَ وَهُمْ رٰکِعُوْنَo

’’بیشک تمہارا (مددگار) دوست تواﷲ اور اس کا رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ہی ہے اور (ساتھ) وہ ایمان والے ہیں جو نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ(اﷲ کے حضور عاجزی سے)جھکنے والے ہیںo‘‘

(1) المائدۃ، 5 : 55

2. اَلنَّبِيُ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَاَزْوَاجُهُ اُمَّهٰتُهُمْ

’’یہ نبیّ (مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) مؤمنوں کے ساتھ اُن کی جانوں سے زیادہ قریب اور حقدار ہیں اور آپ کی ازواجِ (مطہّرات) اُن کی مائیں ہیں۔‘‘

(2) الاحزاب، 33 : 6

3. اِنْ تَتُوْبَآ اِلَی اﷲِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُکُمَا وَاِنْ تَظٰهَرَا عَلَيْهِ فَاِنَّ اﷲَ هُوَ مَوْلٰهُ وَجِبْرِيْلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِيْنَج وَالْمَلٰئِکَةُ بَعْدَ ذٰلِکَ ظَهِيْرٌo

’’اگر تم دونوں اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرو (تو تمہارے لئے بہتر ہے) کیونکہ تم دونوں کے دل (ایک ہی بات کی طرف) جھک گئے ہیں، اگر تم دونوں نے اس بات پر ایک دوسرے کی اعانت کی (تو یہ نبئ مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے باعثِ رنج ہوسکتا ہے)سو بیشک اللہ ہی اُن کا دوست و مددگار ہے، اور جبریل اور صالح مؤمنین بھی اور اس کے بعد (سارے) فرشتے بھی (اُن کے) مددگار ہیں۔‘‘

(3) التحریم، 66 : 4

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

أنَا اَوْلٰی بِالْمُوْمِنِيْنَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ.

’’میں مؤمنوں سے ان کی جانوں سے بھی زیادہ قریب ہوں۔‘‘

  1.  بخاری، الصحیح، کتاب الکفالۃ، باب الدین، 2 : 805، رقم : 2176

  2. مسلم، الصحیح، کتاب الفرائض، باب من ترک مالا فلورثہ، 3 : 1237، رقم : 1619

  3. احمد بن حنبل، المسند، 3 : 371

اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لئے فرمایا :

مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ.

’’میں جس کا مددگار ہوں اس کے علی مددگار ہیں۔‘‘

  1.  ترمذی، السنن، 5 : 633، أبواب المناقب عن رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، باب مناقب علي بن أبي طالب ص، رقم : 3713

17. اَلْعَفُوُّ

یہ اﷲ تعاليٰ کا پیارا نامِ نامی ہے، فرمایا :

1. اِنَّ اﷲَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌo

’’بیشک اﷲ درگزر فرمانے والا بڑا بخشنے والا ہےo‘‘

(3) الحج، 22 : 60

2. وَ اِنَّ اﷲَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌo

’’اور بیشک اﷲ ضرور درگزر فرمانے والا بڑا بخشنے والا ہےo‘‘

(1) المجادلۃ، 58 : 2

اﷲ تعاليٰ نے قرآن مجید میں اپنے حبیبِ مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف بھی اس نام کے ساتھ فرمائی ہے۔ ارشاد فرمایا :

1. خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِيْنَo

’’(اے حبیبِ مکرّم!) آپ درگزر فرمانا اختیار کریں، اور بھلائی کا حکم دیتے رہیں اور جاہلوں سے کنارہ کشی اختیار کرلیںo‘‘

(2) الاعراف، 7 : 199

2. فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاصْفَحْ ط اِنَّ اﷲَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَo

’’سو آپ انہیں معاف فرما دیجئے اور درگزر فرمائیے، بیشک اﷲ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہےo‘‘

(3) المائدۃ، 5 : 13

18. اَلْمُوْمِنُ

اﷲ تعاليٰ کے پاک ناموں میں سے ایک ’’اَلْمُوْمِنُ‘‘ ہے چنانچہ ارشاد فرمایا :

هُوَ اﷲُ الَّذِيْ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ اَلْمَلِکُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَکَبِّرُط سُبْحٰنَ اﷲِ عَمَّا يُشْرِکُوْنَo

’’وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، (حقیقی) بادشاہ ہے، ہر عیب سے پاک ہے، ہر نقص سے سالم (اور سلامتی دینے والا) ہے، امن و امان دینے والا (اور معجزات کے ذریعے رسولوں کی تصدیق فرمانے والا) ہے، محافظ و نگہبان ہے، غلبہ و عزّت والا ہے، زبردست عظمت والا ہے، سلطنت و کبریائی والا ہے، اللہ ہر اُس چیز سے پاک ہے جسے وہ اُس کا شریک ٹھہراتے ہیںo‘‘

(4) الحشر، 59 : 23

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بھی اسی صفت مؤمن کے ساتھ اللہ تعاليٰ نے تعریف فرمائی :

قُلْ اُذُنُ خَيْرٍ لَّکُمْ يُؤْمِنُ بِاﷲِ وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِيْنَ وَرَحْمَةٌ لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَالَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اﷲَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌo

’’فرما دیجئے : تمہارے لئے بھلائی کے کان ہیں وہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور اہلِ ایمان (کی باتوں) پر یقین کرتے ہیں اور تم میں سے جو ایمان لے آئے ہیں ان کے لئے رحمت ہیں، اور جو لوگ رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو (اپنی بد عقیدگی، بد گمانی اور بدزبانی کے ذریعے) اذیت پہنچاتے ہیں ان کے لئے دردناک عذاب ہےo‘‘

(1) التوبۃ، 9 : 61

مسلمان مردوں کو اور عورتوں کو بھی مؤمن کہا گیا۔ ارشادِ باری تعاليٰ ہے :

يَوْمَ تَرَی الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُوْمِنٰتِ يَسْعٰی نُوْرُهُمْ بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَبِاَيْمَانِهِمْ....

’’(اے حبیب!) جس دن آپ (اپنی امت کے) مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کو دیکھیں گے کہ ان کا نور ان کے آگے اور ان کے دائیں جانب تیزی سے چل رہا ہو گا...‘‘

(2) الحدید، 57 : 12

ایک اور جگہ فرمایا :

مُّطَاعٍ ثَمَّ أَمِيْنٍo

’’(تمام جہانوں کے لئے) واجب الاطاعت ہیں (کیونکہ ان کی اطاعت ہی اللہ کی اطاعت ہے)، امانت دار ہیں (وحی اور زمین و آسمان کے سب اُلوہی رازوں کے حامل ہیں)o‘‘

(1) التکویر، 81 : 21

19. اَلْمُهَيْمِنُ

اﷲ تعاليٰ کا ایک اسمِ مقدس اَلْمُهَيْمِنُ ہے جس کا ایک معنی شاہد بھی ہے چنانچہ سورۃ الحشر(58 : 23) میں فرمایا اَلمُهَيْمِنُ ’’یعنی محافظ و نگہبان‘‘

دوسرے مقام پر اﷲ تعاليٰ نے اپنے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شانِ شاہدیت کا ذکر یوں فرمایا :

يٰـاَيُهَا النَّبِيُ اِنَّآ اَرْسَلْنٰـکَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِيْرًاo

’’اے نبیّ (مکرّم!) بیشک ہم نے آپ کو (حق اور خَلق کا) مشاہدہ کرنے والا اور (حُسنِ آخرت کی) خوشخبری دینے والا اور (عذابِ آخرت کا) ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہےo‘‘

(2) الاحزاب، 33 : 45

20. اَلْمُبَشِّرُ

1۔ اﷲ تعاليٰ نے صفتِ بشارت کے ساتھ اپنی تعریف فرمائی۔ ارشاد ہوا :

اَنَّ اﷲَ يُبَشِّرُکَ بِيَحْيٰ.

’’بیشک اﷲ آپ کو (فرزند) یحیيٰ (ں) کی بشارت دیتا ہے۔‘‘

(3) آل عمران، 3 : 39

2. يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَرِضْوَانٍ وَّجَنّٰتٍ لَّهُمْ فِيْهَا نَعِيْمٌ مُّقِيْمٌo

’’ان کا رب انہیں اپنی جانب سے رحمت کی اور (اپنی) رضا کی اور (ان) جنتوں کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کے لئے دائمی نعمتیں ہیںo‘‘

(1) التوبۃ، 9 : 21

1۔ اﷲ رب العزت کے نبی حضرت عیسيٰں نے بھی اسی صفت کو اپنی طرف منسوب کر کے فرمایا :

وَمُبَشِّرًام بِرَسُوْلٍ يَاْتِيْ مِنْم بَعْدِی اسْمُهُ اَحْمَدُ

’’اور اُس رسولِ (معظّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی (آمد آمد) کی بشارت سنانے والا ہوں جو میرے بعد تشریف لا رہے ہیں جن کا نام (آسمانوں میں اس وقت) احمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )ہے۔‘‘

(2) الصّف، 61 : 6

2۔ اﷲ تبارک و تعاليٰ نے قرآن حکیم میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبشر قرار دیتے ہوئے فرمایا :

وَمَآ أَرْسَلْنٰـکَ إِلاَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِيْرًاo

’’اور (اے حبیبِ مکرّم!) ہم نے آپ کو خوشخبری سنانے والا اور ڈر سنانے والا ہی بنا کر بھیجا ہےo‘‘

(3) بنی اسرائیل، 17 : 105

3. اِنَّآ اَرْسَلْنٰـکَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِيْرًاo

’’بیشک ہم نے آپ کو (روزِ قیامت گواہی دینے کے لئے اعمال و احوالِ امت کا) مشاہدہ فرمانے والا اور خوشخبری سنانے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہےo‘‘

(4) الفتح، 48 : 8

21. اَلْفَتَّاحُ

اﷲ تعاليٰ کے مبارک ناموں میں سے ایک اَلْفَتَّاحُ ہے۔ ارشاد فرمایا :

قُلْ يَجْمَعُ بَيْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَحُ بَيْنَنَا بِالْحَقِّ وَهُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِيْمُo

’’فرما دیجئے : ہم سب کو ہمارا رب (روزِ قیامت) جمع فرمائے گا پھر ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرمائے گا، اور وہ خوب فیصلہ فرمانے والا خوب جاننے والا ہےo‘‘

(1) سبا، 34 : 26

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی ’’اَلْفَتْحُ‘‘ قرار دیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فاتح اور خاتم ہیں، درج ذیل آیت مبارکہ میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف فتح کی ابتداء کرنے والے کے ساتھ فرمائی :

اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآئَ کُمُ الْفَتْحُ

’’(اے کافرو!) اگر تم نے فیصلہ کن فتح مانگی تھی تو یقینا تمہارے پاس (حق کی) فتح آ چکی.‘‘

(2) الانفال، 8 : 19

22. اَ لْاَوَّلُ وَالْآخِرُ

اﷲ تعاليٰ کے اسماء الحسنيٰ میں سے اَ لْاَوَّلُ وَالْآخِرُ بھی ہے۔ ارشاد فرمایا :

هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ وَ هُوَ بِکُلِِّ شَيْئٍ عَلِيْمٌo

’’وہی (سب سے) اوّل اور (سب سے) آخر ہے اور (اپنی قدرت کے اعتبار سے) ظاہر اور (اپنی ذات کے اعتبار سے) پوشیدہ ہے، اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہےo‘‘

(3) الحدید، 57 : 3

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی شانِ اولیت کے حامل اس صفت سے متصف ہیں، ارشادِ باری تعاليٰ ہے :

وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ وَمِنكَ وَمِن نُّوحٍ وَإِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَأَخَذْنَا مِنْهُم مِّيثَاقًا غَلِيظًاo

’’اور (اے حبیب! یاد کیجئے) جب ہم نے انبیاء سے اُن (کی تبلیغِ رسالت) کا عہد لیا اور (خصوصاً) آپ سے اور نوح سے اور ابراہیم سے اور موسيٰ سے اور عیسٰی ابن مریم (علیھم السلام) سے اور ہم نے اُن سے نہایت پختہ عہد لیاo‘‘

(1) الاحزاب، 33 : 7

1۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

نَحْنُ الْآخِرُوْنَ السَّابِقُوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

’’روزِ قیامت ہم ہی آخر اور سابق (اوّل) ہیں۔‘‘

  1.  بخاری، الصحیح، 1 : 305، کتاب الجمعۃ، باب ھل علی من لم یشھد الجمعۃ غسل من النساء والصبیان، رقم : 856

  2.  مسلم، الصحیح، 2 : 585،کتاب الجمعۃ، باب ھدایۃ ھذہ الأمۃ لیوم الجمعۃ، رقم : 855

2۔ اسی طرح فرمایا :

نَحْنُ الْآخِرُوْنَ وَالْاَوَّلُوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَ نَحْنُ اَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ.

’’روزِ قیامت ہم ہی اوّل اور آخر ہوں گے اور ہم ہی دخول جنت میں اول ہیں۔‘‘

(3) مسلم، الصحیح، 2 : 585، کتاب الجمعۃ، باب ھدایۃ ھذہ الامۃ لیوم الجمعۃ، رقم : 855

3۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

أنَا اَوَّلُ مَنْ يَنْشَقُّ عَنْهُ الْقَبْرُ، وَ اَوَّلُ شَافِعٍ وَ اَوَّلُ مَشَفَّعٍ

’’روزِ قیامت سب سے پہلے میری قبر شق ہو گی اور میں سب سے پہلے شفاعت کرنے والا ہوں گا اور سب سے پہلے میری شفاعت قبول کی جائے گی۔‘‘

  1.  مسلم، الصحیح، 4 : 1782، کتاب الفضائل، باب تفضیل نبینا علی جمیع الخلائق، رقم : 2278

4۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا :

کُنْتُ اَوَّلَ النَّبِی فِی الْخَلْقِ وَ آخِرَهُمْ فِی الْبَعْثِ.

’’میں پیدائش میں تمام انبیاء سے اوّل ہوں اور بعثت میں ان کا آخر۔‘‘

(2) دیلمی، الفردوس بمأثور الخطاب، 3 : 282، رقم : 4850

5. کُنْتُ اَوَّلَ النَّاسِ فِی الْخَلْقِ وَ آخِرَهُمْ فِی الْبَعْثِ.

’’میں تمام لوگوں میں بطورِ پیدائش اوّل ہوں اور بلحاظِ بعثت آخر ہوں۔‘‘

(3) ابن سعد، الطبقات الکبريٰ، 1 : 149

23. اَلْقَوِيُ

اﷲ تعاليٰ کے مبارک و مقدس ناموں میں سے ایک اَلْقَوِيُ ہے، ارشاد فرمایا :

1. اَﷲُ لَطِيْفٌم بِعِبَادِهِ يَرْزُقُ مَنْ يَشَآئُ وَهُوَ الْقَوِيُ الْعَزِيْزُo

’’اللہ اپنے بندوں پر بڑا لطف و کرم فرمانے والا ہے، جسے چاہتا ہے رِزق و عطا سے نوازتا ہے اور وہ بڑی قوت والا بڑی عزت والا ہےo‘‘

(4) الشوريٰ، 42 : 19

2. اِنَّ اﷲَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِيْنُo

’’بیشک اﷲ ہی ہر ایک کا روزی رساں ہے، بڑی قوت والا ہے، زبردست مضبوط ہے۔ (اسے کسی کی مدد و تعاون کی حاجت نہیں)o‘‘

(1) الذاریات، 51 : 58

اﷲتعاليٰ نے اپنے حبیبِ مکرم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں فرمایا :

1. ذِيْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَکِيْنٍo

’’جو (دعوتِ حق، تبلیغِ رسالت اور روحانی استعداد میں) قوت و ہمت والے ہیں (اور) مالکِ عرش کے حضور بڑی قدر و منزلت (اور جاہ و عظمت) والے ہیںo‘‘

(2) التکویر، 81 : 20

سیدنا موسيٰں کی بھی یہی صفت بیان فرمائی :

2. قَالَتْ اِحْدٰهُمَا يٰـاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُز اِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِيُ الْاَمِيْنُo

’’ان میں سے ایک (لڑکی) نے کہا : اے (میرے) والد گرامی! انہیں (اپنے پاس مزدوری) پر رکھ لیں بیشک بہترین شخص جسے آپ مزدوری پر رکھیں وہی ہے جو طاقتور امانتدار ہو (اور یہ اس ذمہ داری کے اہل ہیں)o‘‘

(3) القصص، 28 : 26

3۔ عفریت جن نے بھی اپنی طرف لفظِ قوی منسوب کیا تھا :

قَالَ عِفْرِيْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِيْکَ بِهِ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِکَ ج وَاِنِّيْ عَلَيْهِ لَقَوِیٌّ اَمِيْنٌo

’’ایک قوی ہیکل جِن نے عرض کیا : میں اسے آپ کے پاس لاسکتا ہوں قبل اس کے کہ آپ اپنے مقام سے اٹھیں اور بیشک میں اس (کے لانے) پر طاقتور (اور) امانتدار ہوںo‘‘

(4) النمل، 27 : 39

24. اَلْمَحْمُوْدُ

اﷲ تعاليٰ کے مبارک ناموں میں سے ایک اَلْحَمِيْدُ ہے جس کے معنی محمود ہیں، ارشاد فرمایا :

1. اِنَّهُ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌo

’’بیشک وہ قابلِ ستائش (ہے) بزرگی والا ہےo‘‘

(1) ھود ،11 : 73

2۔ دوسرے مقام پر فرمایا :

لَهُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَاِنَّ اﷲَ لَهُوَ الْغَنِيُ الْحَمِيْدُo

’’اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور بیشک اﷲ ہی بے نیاز قابلِ ستائش ہےo‘‘

(2) الحج، 22 : 64

اﷲ رب العزت نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی مقامِ محمود کی فضیلت عطا کی، ارشاد فرمایا :

عَسٰی اَنْ يَبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًاo

’’یقینا آپ کا رب آپ کو مقامِ محمود پر فائز فرمائے گا (یعنی وہ مقامِ شفاعتِ عظميٰ جہاں جملہ اوّلین و آخرین آپ کی طرف رجوع اور آپ کی حمد کریں گے)o‘‘

(3) الاسرائ، 17 : 79

حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اپنے اشعار میں اس طرف کیا خوب اشارہ فرمایا :

وَ شَقَّ لَهُ مِن اسْمِهِ لِيُجِلَّهُ
فَذُو الْعَرْشِ مَحْمُوْدٌ وَ هٰذَا مُحَمَّدٌ

(اﷲ تعاليٰ نے اپنے نام سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام نکالا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت ہو، پس صاحبِ عرش (اﷲل) محمود ہے اور آپ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔)

25. اَلْمُزَکِّيُ

اﷲ تعاليٰ کے مبارک ناموں میں سے ایک اَلْمُزَکِّيُ ہے، فرمایا :

اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِيْنَ يُزَکُّوْنَ اَنْفُسَهُمْ بَلِ اﷲُ يُزَکِّيْ مَنْ يَشَآئُ وَ لَا يُظْلَمُوْنَ فَتِيْـلًاo

’’کیا آپ نے ایسے لوگوں کو نہیں دیکھا جو خود کو پاک ظاہر کرتے ہیں، بلکہ اللہ ہی جسے چاہتا ہے پاک فرماتا ہے اور ان پر ایک دھاگہ کے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گاo‘‘

(1) النسائ، 4 : 49

1۔ اﷲ سبحانہ وتعاليٰ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس صفت سے متصف کر کے فرمایا :

کَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْکُمْ رَسُوْلًا مِّنْکُمْ يَتْلُوْا عَلَيْکُمْ اٰيٰـتِنَا وَ يُزَکِّيْکُمْ وَ يُعَلِّمُکُمُ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَةَ وَ يُعَلِّمُکُمْ مَّا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَo

’’اسی طرح ہم نے تمہارے اندر تمہیں میں سے (اپنا) رسول بھیجا جو تم پر ہماری آیتیں تلاوت فرماتا ہے اور تمہیں (نفسًا و قلبًا) پاک صاف کرتا ہے اور تمہیں کتاب کی تعلیم دیتا ہے اور حکمت و دانائی سکھاتا ہے اور تمہیں وہ (اسرارِ معرفت وحقیقت) سکھاتا ہے جو تم نہ جانتے تھےo‘‘

(2) البقرۃ، 2 : 151

2. لَقَدْ مَنَّ اﷲُ عَلَی الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰـتِهِ وَ يُزَکِّيْهِمْ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْکِتَابَ وَ الْحِکْمَةَج وَ اِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰـلٍ مُّبِيْنٍo

’’بیشک اللہ نے مسلمانوں پر بڑا احسان فرمایا کہ ان میں انہی میں سے (عظمت والا) رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) بھیجا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اگرچہ وہ لوگ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھےo‘‘

(1) آل عمران، 3 : 164

3. هُوَ الَّذِيْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهِ وَ يُزَکِّيْهِمْ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَةَق وَ اِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلَالٍ مُّبِيْنٍo

’’وہی ہے جس نے ان پڑھ لوگوں میں انہی میں سے ایک (باعظمت) رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو بھیجا وہ اُن پر اُس کی آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں اور اُن (کے ظاہر و باطن) کو پاک کرتے ہیں اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں بیشک وہ لوگ اِن (کے تشریف لانے) سے پہلے کھلی گمراہی میں تھےo‘‘

(2) الجمعۃ، 62 : 2

26. اَلسَّمِيْعُ

اﷲ تعاليٰ کا ایک نامِ مبارک اَلسَّمِيْعُ ہے، ارشاد فرمایا :

1. اِنَّهُ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُo

’’بیشک وہی خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہےo‘‘

(3) بنی اسرائیل، 17 : 1

2۔ دوسرے مقام پر فرمایا :

اِنَّ اﷲَ کَانَ سَمِيْعًا بَصِيْرًاo

’’بیشک اﷲ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہےo‘‘

(1) النسائ، 4 : 58

جبکہ سورۃ الدھر میں عام فردِ بشر کو اسی صفت کے ساتھ متصف کیا، ارشاد فرمایا :

فَجَعَلْنٰهُ سَمِيْعًا بَصِيْرًاo

’’پس ہم نے اسے سننے والا دیکھنے والا بنایا ہےo‘‘

(2) الدھر، 76 : 2

27. البَصِيْرُ

اﷲتعاليٰ کا ایک مقدس اسم البَصِيْرُہے۔ اور یہ اس کی شان کے لائق ہے۔

1۔ ارشادِ باری تعاليٰ ہے :

اِنَّهُ کَانَ بِعِبَادِهِ خَبِيْرًا بَصِيْرًاo

’’ بیشک وہ اپنے بندوں سے خوب آگاہ خوب دیکھنے والا ہےo‘‘

(3) الاسرائ، 17 : 96

2۔ ایک اور مقام پر فرمایا :

وَکَانَ اﷲُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرًاo

’’اور اﷲ ان کاموں کو جو تم کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہےo‘‘

(4) الفتح، 48 : 24

جبکہ انسان بھی اپنے حسبِ حال بصیرہے، ارشادِ باری تعاليٰ ہے :

1. بَلِ الْاِنْسَانُ عَلَی نَفْسِهِ بَصِيْرَةٌo

’’بلکہ اِنسان اپنے (اَحوالِ) نفس پر (خود ہی) آگاہ ہو گاo‘‘

(1) القیامۃ، 75 : 14

2۔ سورہ یوسف میں اﷲ کے برگزیدہ پیغمبر حضرت یوسف علیہ السلام نے کہا :

اِذْهَبُوْا بِقَمِيْصِيْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰی وَجْهِ اَبِيْ يَاْتِ بَصِيْرًا

’’میرا یہ قمیص لے جاؤ، سو اسے میرے باپ کے چہرے پر ڈال دینا، وہ بینا ہو جائیں گے۔‘‘

(2) یوسف، 12 : 93

3۔ پھر باری تعاليٰ نے بھی ان کے لیے لفظِ بَصِيْرارشاد فرمایا :

فَلَمَّآ اَنْ جَآئَ الْبَشِيْرُ اَلْقٰهُ عَلٰی وَجْهِهِ فَارْتَدَّ بَصِيْرًاo

’’پھر جب خوشخبری سنانے والا آپہنچا اس نے وہ قمیص یعقوب (ں) کے چہرے پر ڈال دیا تو اسی وقت ان کی بینائی لوٹ آئی،‘‘

(3) یوسف، 12 : 96

صفاتِ مشترکہ کی حقیقت

مذکورہ بالا صفاتِ مشترکہ کی حقیقت درج ذیل تین توضیحات میں مضمر ہے :

  1. یہ صفات اﷲ تعاليٰ کے لئے حقیقی معنی میں بیان ہوئی ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے یا دیگر معزز و مقرب مخلوق کے لئے مجازی معنی میں۔
  2. یہ صفات اﷲ تعاليٰ کے لئے ذاتی حیثیت سے بیان ہوئی ہیں اور مخلوق کے لئے عطائی حیثیت سے۔
  3. ان صفات کا معنی و اطلاق اﷲ تعاليٰ کے لئے اس کی شانِ خالقیت و مالکیت کے مطابق بیان ہوا ہے اور مخلوق کے لئے اس کی شانِ مخلوقیت و محبوبیت کے مطابق۔

الغرض ایسے اشتراک سے کبھی بھی شرک لازم نہیں آتا بلکہ انہیں توجیہہ اور تطبیق کرنی چاہئے۔

افعال میں اشتراک کی مثالیں

جس طرح مذکورہ بالا بحث میں صفات و اسمائے باری تعاليٰ میں اشتراک کی متعدد مثالیں بیان ہوئیں اسی طرح بعض افعال کے انتساب میں بھی اشتراک پایا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں ایسی مثالیں متعدد مقامات پر موجود ہیں جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں :

1۔ درحقیقت ایمان میں کمی یا زیادتی تو اللہ تعاليٰ خود فرماتا ہے لیکن درج ذیل آیتِ مبارکہ میں ایمان میں زیادتی کی نسبت آیاتِ قرآنی کی طرف جارہی ہے :

إِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ إِذَا ذُکِرَ اﷲُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ إِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ اٰيٰـتُهُ زَادَتْهُمْ إِيْمَانًا وَّ عَلٰی رَبِّهِمْ يَتَوَکَّلُوْنَo

’’ایمان والے (تو) صرف وہی لوگ ہیں کہ جب (ان کے سامنے) اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے (تو) ان کے دل (اس کی عظمت و جلال کے تصور سے) خوفزدہ ہو جاتے ہیں اور جب ان پر اس کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ (کلامِ محبوب کی لذت انگیز اور حلاوت آفریں باتیں) ان کے ایمان میں زیادتی کر دیتی ہیں اور وہ (ہر حال میں) اپنے رب پر توکل (قائم) رکھتے ہیں (اور کسی غیر کی طرف نہیں تکتے)o‘‘

(1) الانفال، 8 : 2

دوسرے مقام پر جنگِ احد کے تناظرمیں اﷲتعاليٰ نے منافقین کے طرزِ عمل کو صحابہ کرام کے ایمانی جذبوں میں اضافے کا سبب ٹھہراتے ہوئے فرمایا :

اَلَّذِيْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَـکُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيْمَانًا وَّ قَالُوْا حَسْبُنَا اﷲُ وَ نِعْمَ الْوَکِيْلُo

’’(یہ) وہ لوگ (ہیں) جن سے لوگوںنے کہا کہ مخالف لوگ تمہارے مقابلے کے لئے (بڑی کثرت سے) جمع ہو چکے ہیں سو ان سے ڈرو تو (اس بات نے) ان کے ایمان کو اور بڑھا دیا اور وہ کہنے لگے : ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ کیا اچھا کارساز ہےo‘‘

(1) آل عمران، 3 : 173

2۔ حقیقت میں افعال کا صدور اﷲ تعاليٰ کی طرف سے ہوتا ہے جیسا کہ ارشاد فرمایا :

وَاﷲُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَo

’’حالانکہ اﷲ نے تمہیں اور تمہارے (سارے) کاموں کو خَلق فرمایا ہےo‘‘

(2) الصافات، 37 : 96

لیکن قرآن میں ایک مقام پر اﷲ تعاليٰ نے پہلے بندوں کے فعل کی نسبت اپنی طرف فرمائی اور پھر حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کنکریاں پھینکنے کے عمل کو بھی اپنی طرف منسوب کیا۔ ارشادِ باری تعاليٰ ہے :

فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَلٰـکِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَلٰـکِنَّ اﷲَ رَمٰی وَلِيُبْلِيَ الْمُوْمِنِيْنَ مِنْهُ بَـلَآئً حَسَنًا اِنَّ اﷲَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌo

’’(اے سپاہیانِ لشکرِ اسلام) ان کافروں کو تم نے قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے انہیں قتل کر دیا اور (اے حبیبِ محتشم!) جب آپ نے (ان پر سنگریزے) مارے تھے (وہ) آپ نے نہیں مارے تھے بلکہ (وہ تو) اللہ نے مارے تھے اور یہ (اس لئے) کہ وہ اہلِ ایمان کو اپنی طرف سے اچھے انعامات سے نوازے، بیشک اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہےo‘‘

(3) الانفال، 8 : 17

3۔ روح قبض کرنا اﷲ تعاليٰ کا فعل ہے، ارشادِ باری تعاليٰ ہے :

1. اَﷲُ يَتَوَفَّی الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا.

’’اللہ جانوں کو اُن کی موت کے وقت قبض کر لیتا ہے۔‘‘

(1) الزمر، 39 : 42

2. وَاﷲُ خَلَقَکُمْ ثُمَّ يَتَوَفّٰکُمْ وَ مِنْکُمْ مَّنْ يُرَدُّ اِلٰی اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِکَيْ لَا يَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَيْئًا اِنَّ اﷲَ عَلِيْمٌ قَدِيْرٌo

’’اور اللہ نے تمہیں پیدا فرمایا ہے پھر وہ تمہیں وفات دیتا (یعنی تمہاری روح قبض کرتا) ہے۔ اور تم میں سے کسی کو ناقص ترین عمر (بڑھاپا) کی طرف پھیر دیا جاتا ہے تاکہ (زندگی میں بہت کچھ) جان لینے کے بعد اب کچھ بھی نہ جانے (یعنی انسان مرنے سے پہلے اپنی بے بسی و کم مائیگی کا منظر بھی دیکھ لے)، بیشک اللہ خوب جاننے والا بڑی قدرت والا ہےo‘‘

(2) النحل، 16 : 70

دوسرے مقام پر اسی فعل کی نسبت اپنے بندے (حضرت عزائیل ں) کی طرف کی، ارشاد فرمایا :

قُلْ يَتَوَفّٰکُمْ مَّلَکُ الْمَوْتِ الَّذِيْ وُکِّلَ بِکُمْ ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمْ تُرْجَعُوْنَo

’’آپ فرمادیں کہ موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر کیا گیا ہے تمہاری روح قبض کرتا ہے پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گےo‘‘

(3) السجدۃ، 32 : 11

4۔ حقیقت میں اولاد عطا کرنا اﷲ تعاليٰ کا فعل ہے، ارشاد فرمایا :

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ وَهَبَ لِيْ عَلَی الْکِبَرِ اِسْمٰعِيْلَ وَ اِسْحٰقَ اِنَّ رَبِّيْ لَسَمِيْعُ الدُّعَآئِo

’’سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحاق (علیھما السلام دو فرزند) عطا فرمائے، بیشک میرا رب دعا خوب سننے والا ہےo‘‘

(1) ابراہیم، 14 : 39

یہی وَھَب (عطا کرنے) کی نسبت اپنے بندے (حضرت جبرئیل ں) کی طرف کرتے ہوئے اللہ تعاليٰ نے فرمایا :

قَالَ اِنَّمَآ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّکِلا لِاَهَبَ لَکِ غُلٰمًا زَکِيًّاo

’’(جبرائیل علیہ السلام نے) کہا : میں تو فقط تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں، (اس لئے آیا ہوں) کہ میں تجھے ایک پاکیزہ بیٹا عطا کروںo‘‘

(2) مریم، 19 : 19

عطا کی نسبت ایک ہی آیت میں اﷲ نے اپنی اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف فرمائی :

وَلَوْ اَنَّهُمْ رَضُوْا مَآ اٰتٰهُمُ اﷲُ وَ رَسُوْلُهُ وَ قَالُوْا حَسْبُنَا اﷲُ سَيُؤْتِيْنَا اﷲُ مِنْ فَضْلِهِ وَ رَسُوْلُهُ لا اِنَّآ اِلَی اﷲِ رَاغِبُوْنَo

’’اور کیا ہی اچھا ہوتا اگر وہ لوگ اس پر راضی ہو جاتے جو ان کو اللہ اور اس کے رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے عطا فرمایا تھا اور کہتے کہ ہمیں اللہ کافی ہے۔ عنقریب ہمیں اللہ اپنے فضل سے اور اس کا رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزید) عطا فرمائے گا۔ بیشک ہم اللہ ہی کی طرف راغب ہیں (اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی کا واسطہ اور وسیلہ ہے، اس کا دینا بھی اللہ ہی کا دینا ہے۔ اگر یہ عقیدہ رکھتے اور طعنہ زنی نہ کرتے تو یہ بہتر ہوتا)o‘‘

(3) التوبۃ، 9 : 59

5۔ خالقِ حقیقی اﷲ رب العزت کی ذات ہے، فرمایا :

1. اَﷲُ خَالِقُ کُلِّ شَيْئٍذ وَّ هُوَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ وَّکِيْلٌo

’’اللہ ہر چیز کا خالق ہے اور وہ ہر چیز پر نگہبان ہےo‘‘

(4) الزمر، 39 : 62

اسی طرح بے جان جسم میں روح ڈالنا بھی اﷲ تعاليٰ کی صفت ہے، ارشاد فرمایا :

2. فَـإِذَا سَوَّيْتُهُ وَ نَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِيْ فَقَعُوْا لَهُ سٰجِدِيْنَo

’’پھر جب میں اس کی (ظاہری) تشکیل کو کامل طور پر درست حالت میں لا چکوں اور اس پیکر (بشری کے باطن) میں اپنی (نورانی) روح پھونک دوں تو تم اس کے لئے سجدہ میں گر پڑناo‘‘

(1) الحجر، 15 : 29

خلق کی ان تمام صفات کی نسبت ایک مقام پر حضرت عیسيٰ ں نے اپنی طرف کی، ارشادِ باری تعاليٰ ہے :

وَ رَسُوْلًا اِلٰی بَنِيْ اِسْرَآئِ يْلَلا اَنِّيْ قَدْ جِئْتُکُمْ بِاٰيَةٍ مِّنْ رَّبِّکُمْلا اَنِّيْ اَخْلُقُ لَکُمْ مِّنَ الطِّيْنِ کَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَاَنْفُخُ فِيْهِ فَيَکُوْنُ طَيْرًام بِاِذْنِ اﷲِج وَ اُبْرِئُ الْاَکْمَهَ وَالْاَبْرَصَ وَ اُحْیِ الْمَوْتٰی بِاِذْنِ اﷲِج وَ اُنَبِّئُکُمْ بِمَا تَاْکُلُوْنَ وَمَا تَدَّخِرُوْنَ فِيْ بُيُوْتِکُمْ اِنَّ فِيْ ذٰلِکَ لَاٰيَةً لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَo

’’اور وہ بنی اسرائیل کی طرف رسول ہو گا (ان سے کہے گا) کہ بیشک میں تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے ایک نشانی لے کر آیا ہوں میں تمہارے لئے مٹی سے پرندے کی شکل جیسا (ایک پُتلا) بناتا ہوںپھر میں اس میں پھونک مارتا ہوں سو وہ اﷲ کے حکم سے فوراً اڑنے والا پرندہ ہو جاتا ہے اور میں مادرزاد اندھے اور سفید داغ والے کو شفایاب کرتا ہوں اور میں اﷲ کے حکم سے مُردے کو زندہ کر دیتا ہوں، اور جو کچھ تم کھا کر آئے ہو اور جو کچھ تم اپنے گھروں میں جمع کرتے ہو میں تمہیں (وہ سب کچھ) بتا دیتا ہوں، بیشک اس میں تمہارے لئے نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہوo‘‘

آل عمران، 3 : 49

اﷲ تعالیٰ اور بندوں کی صفاتِ مشترکہ سے متعلق علامہ ابنِ تیمیہ کا مؤقف

چونکہ محبت، اطاعت، رضا اور عطا، اﷲ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دونوں کے لئے مشترکہ طور پر ثابت ہے۔ اسی طرح بہت سی صفات ایسی ہیں جو اﷲتعالیٰ اور مخلوق کے درمیان مشترک ہیں۔ اس اشتراک کو کبھی بھی کسی نے شرک نہیں بنایا۔ علامہ ابنِ تیمیہ نے ایک ہی جگہ اور ایک ہی عبارت میں ایسی 23 مشترکہ صفات کا ذکر کیا ہے اور ہر صفت کو قرآن سے مستنبط کیا ہے۔ علامہ ابنِ تیمیہ کا یہ ایمان افروز اقتباس مع ترجمہ ملاحظہ ہو:

الصفات المشترکۃ بین اﷲ و عبادہ

فقد سمی اﷲ نفسه حيّا، فقال : {اللّهُ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ} البقرة، 2 : 255 و سمی بعض عباده حيّا، فقال : {يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ} (الرُّوْم ، 30 : 19) و ليس هذا الحي مثل هذا الحي لأن قوله : {الْحَيُ} اسم ﷲ مختص به، و قوله : {يُخْرِجُ الْحَيَ مِنَ الْمَيّتِ} اسم للحي المخلوق مختص به و إنما يتفقان إذا أطلقا و جردا عن التخصيص، ولکن ليس للمطلق مسمی موجود في الخارج، ولکن العقل يفهم من المطلق قدراً مشترکاً بين المسميين، و عند الاختصاص يقيد ذلک بما يتميز به الخالق عن المخلوق والمخلوق عن الخالق. ولا بد من هذا في جميع أسماء اﷲ و صفاته، يفهم منها ما دل عليه الإسم بالمواطأة والاتفاق، وما دل عليه بالإضافة والاختصاص المانعة من مشارکة المخلوق للخالق في شيء خصائصه، سبحانه و تعالی.

اللہ تعاليٰ نے اپنا نام رکھا ہے حَيّ (ہمیشہ زندہ رہنے والا) فرمانِ باری تعاليٰ ہے : ’’اسکے سوا کوئی معبود نہیں ہمیشہ زندہ رہنے والا سب کو قائم رکھنے والا۔‘‘ اس نے اپنے بعض بندوں کو بھی حيّ (زندہ) فرمایا ہے۔ ارشاد فرمایا : ’’اور زندہ کو مُردہ (یعنی جاندار کو بے جان) سے کون نکالتا ہے اور مُردہ کو زندہ (یعنی بے جان کو جاندار) سے کون نکالتا ہے۔‘‘ یہ زندہ اس زندہ کی طرح تو نہیں ہو سکتا کیونکہ الحی خاص اللہ تعاليٰ کا نام ہے اور اس فرمان يُخْرِجُ الْحَيَ مِنَ الْمَيّتِ۔ خاص مخلوق کا نام ہے۔ یہ دونوں نام جب تخصیص سے خالی کر کے مطلقًا

و کذلک سمی اﷲ نفسه : {عَلِيمًا حَلِيمًا} الاحزاب، 33 : 51 وسمی بعض عبادت عليما، فقال : {وَ بَشَّرُوہُ بِغُـلَامٍ عَلِيمٍ} الذاریات، 51 : 28 يعني إسحاق، وسمی آخر حليما فقال : {فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِيمٍ} الصافات، 37 : 101 يعني إسماعيل، و ليس العليم کالعليم، ولا الحليم کالحليم.

یونہی اللہ تعاليٰ نے سورہِ احزاب میں اپنا نام علیم و حلیم بولا ہے اور یہی دو نام اپنے بعض بندوں کے لئے بھی استعمال کئے ہیں فرمایا : ’’فرشتوں نے ابراہیم ( علیہ السلام ) کو علم والے بیٹے (اسحاق) کی خوشخبری دی۔‘‘ اور دوسرے بیٹے کا نام حَلِيم رکھا۔ فرمایا : ’’پھر ہم نے ابراہیم ( علیہ السلام ) کو بردبار بیٹے کی خوشخبری سنائی۔‘‘ یعنی اسماعیل علیہ السلام کی حالانکہ یہ علیم اُس علیم کی طرح ہے نہ وہ حلیم اس حلیم کی طرح۔

و سمی نفسه : {سَمِيعًا بَصِيرًا} فقال : {اِنَّ اﷲَ يَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوْا الْاَمَانَاتِ اِلٰی اَهْلِهَا وَ اِذَا حَکَمْتُمْ بَينَ النَّاسِ اَنْ تَحْکُمُوْا بِالْعَدْلِ اِنَّ اﷲَ نِعِمَّ يَعِظُکُمْ بِهِ اِنَّ اﷲَ کَانَ سَمِيعًام بَصِيرًا} النسائ، 4 : 58 و سمی بعض عباده سميعاً بصيراً فقال: {اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِيعًام بَصِيرًا} الإنسان، 76 : 2 و ليس السميع کالسميع، ولا بصير کالبصير.

اس نے اپنا نام رکھا : سَمِيعًا بَصِيرًا۔ فرمایا : ’’بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں انہی لوگوں کے سپرد کرو جو ان کے اہل ہیں، اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کیا کرو، بیشک اللہ تمہیں کیا ہی اچھی نصیحت فرماتا ہے، بیشک اللہ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے۔‘‘ اور اس نے اپنے بعض بندوں کو بھی سَمِيعًا بَصِيرًا فرمایا۔ ارشاد فرمایا : ’’بے شک ہم نے انسان کو مخلوط نطفہ سے پیدا فرمایا جسے ہم (تولّد تک ایک مرحلہ سے دوسرے مرحلہ کی طرف) پلٹتے اور جانچتے رہتے ہیں، پس ہم نے اسے (ترتیب سے) سننے والا (پھر) دیکھنے والا بنایا ہے۔‘‘ حالانکہ ایک سمیع دوسرے سمیع کی طرح نہیں، نہ ایک بصیر دوسرے بصیر کی طرح۔

و سمی نفسه بالرء وف الرحيم، فقال : {اِنَّ اﷲَ بِالنَّاسِ لَرَؤُفٌ رَّحِيمٌ} البقرة، 2 : 143 و سمی بعض عباده بالرء وف الرحيم، فقال : {لَقَدْ جَآئَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ أَنْفُسِکُمْ عَزِيزٌ عَلَيهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيکُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَئُوفٌ رَّحِيمٌ} التوبة، 9 : 128 و ليس الرءوف کالرءوف، ولا الرحيم کالرحيم.

اور اس نے اپنا نام الرَّؤُفْ الرَّحِيم رکھا۔ فرمایا : ’’بیشک اﷲ لوگوں پر بڑی شفقت فرمانے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اس نے اپنے بعض بندوں کا نام رَّؤُفْ رَّحِيم۔ فرمایا : ’’بیشک تمہارے پاس تم میں سے (ایک باعظمت) رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) تشریف لائے۔ تمہارا تکلیف و مشقت میں پڑنا ان پر سخت گراں (گزرتا) ہے۔ (اے لوگو!) وہ تمہارے لئے (بھلائی اور ہدایت کے) بڑے طالب و آرزومند رہتے ہیں (اور) مومنوں کے لئے نہایت (ہی) شفیق بے حد رحم فرمانے والے ہیں۔‘‘ حالانکہ ایک رؤوف دوسرے رؤوف کی طرح نہیں، نہ ایک رحیم دوسرے رحیم کی مانند۔

و سمی نفسه بالملک، فقال : {اَلْمَلِکُ الْقُدُّوْسُ} (1) الحشر، 59 : 23 و سمی بعض عباده بالملک فقال : {وَکَانَ وَرَآئَ هُمْ مَّلِکٌ يَاْخُذُ کُلَّ سَفِينَةٍ غَصْبًا} (2) الکهف، 18 : 79 {وَقَالَ الْمَلِکُ ائْتُوْنِي بِهِ} (3) یوسف، 12 : 50 و ليس الملک کالملک.

اللہ تعاليٰ نے اپنا نام الملک بتایا ہے اور فرمایا : الْمَلِکُ الْقُدُّوسُ۔ اور اپنے بعض بندوں کو بھی الملک بتایا : فرمایا : ’’ان کے آگے ایک (جابر) بادشاہ (کھڑا) تھا جو ہر (بے عیب) کشتی کو زبردستی (مالکوں سے بلامعاوضہ) چھین رہا تھا۔‘‘ اور فرمایا : ’’اور (یہ تعبیر سنتے ہی) بادشاہ نے کہا : یوسف ( علیہ السلام ) کو (فورًا) میرے پاس لے آؤ۔‘‘ حالانکہ ایک مَلِک دوسرے مَلِک کی طرح نہیں۔

و سمی نفسه بالمؤمن المهيمن، و سمی بعض عباده بالمؤمن. فقال : { أَفَمَن كَانَ مُؤْمِنًا كَمَن كَانَ فَاسِقًا لَّا يَسْتَوُونَ} السجدة، 32 : 18 وليس المؤمن کالمؤمن.

یونہی اس نے اپنا نام بتایا المُؤْمِنُ الْمُھَيمِنُ اور اپنے کچھ بندوں کو بھی مؤمن فرمایا : ’’بھلا وہ شخص جو صاحبِ ایمان ہو اس کی مثل ہو سکتا ہے جو نافرمان ہو، (نہیں) یہ (دونوں) برابر نہیں ہو سکتے۔‘‘ حالانکہ ایک مؤمن دوسرے مؤمن کی طرح نہیں۔

وسمی نفسه بالعزيز، فقال : {الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَکَبِّرُ} (1) الحشر، 59 : 23. و سمی بعض عباده بالعزيز، فقال : {قَالَتِ امْرَاتُ الْعَزِيزِ} یوسف، 12 : 51 و ليس العزيز کالعزيز.

اس نے اپنا نام العزیز بتایا : فرمایا : العَزِيزُ الجَبَّارُ ’’غلبہ و عزّت والا ہے، زبردست عظمت والا ہے، سلطنت و کبریائی والا ہے۔‘‘ فرمایا : اور اپنے بعض بندوں کا نام بھی العزیز بتایا ہے : ’’عزیزِ مصر کی بیوی (زلیخا بھی) بول اٹھی۔‘‘ حالانکہ ایک عزیز دوسرے عزیز کی طرح نہیں۔

و سمی نفسه الجبار المتکبر، و سمی بعض خلقه بالجبار المتکبر، فقال : {کَذٰلِکَ يَطْبَعُ اﷲُ عَلٰی کُلِّ قَلْبِ مُتَکَبِّرٍ جَبَّارٍ} (3) غافر، 40 : 35 و ليس الجبار کالجبار، ولا المتکبر کالمتکبر، و نظائر هذا متعددة.

اس نے اپنا نامِ اقدس الجَبَّارُ الْمُتَکَبّر بتایا اور اپنی بعض مخلوق کا نام بھی الجَبَّار المُتَکَبّررکھا۔ فرمایا : ’’ اسی طرح اللہ ہر ایک مغرور (اور) سر کش کے دل پرمُہر لگا دیتا ہے۔‘‘ حالانکہ ایک جبار دوسرے جبار کی طرح اور ایک متکبر دوسرے متکبر کی طرح نہیں، اس کی متعدد مثالیں دی جا سکتی ہیں۔

وکذلک سمی صفاته بأسمائ، وسمی صفات عباده بنظير ذلک فقال : {وَلاَ يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلاَّ بِمَا شَاءَ} (1) البقرة، 2 : 255 {اَنْزَلَهُ بِعِلْمِهِ}النساء، 4 : 166.

یونہی اس نے اپنی صفات کے نام رکھے اور اسی طرح اپنے بندوں کی صفات کے۔ فرمایا : ’’اور وہ اس کی معلومات میں سے کسی چیز کا بھی احاطہ نہیں کر سکتے مگر جس قدر وہ چاہے۔‘‘ اور فرمایا : ’’اسے اپنے علم سے نازل فرمایا ہے۔‘‘

و قال : {اِنَّ اﷲَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّة الْمَتِينُ} الذاریات، 51 : 58 . و قال : {اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اﷲَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً}، (4) فصلت، 41 : 15 و سمی صفة المخلوق علماً و قوة فقال : {وَمَآ اُوْتِيتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيلًا} الاسرائ، 17 : 85 . و قال : {وَفَوْقَ کُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ}. یوسف، 12 : 76

اور فرمایا : ’’بیشک اﷲ ہی ہر ایک کا روزی رساں ہے، بڑی قوت والا ہے، زبردست مضبوط ہے۔‘‘ اور فرمایا : ’’اور کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اﷲ جس نے انہیں پیدا فرمایا ہے وہ اُن سے کہیں بڑھ کر طاقتور ہے۔‘‘

اور مخلوق کی صفت کو بھی علم اور قوۃ فرمایا : ’’ اور تمہیں بہت ہی تھوڑا سا علم دیا گیا ہے۔‘‘

اور فرمایا : ’’ہر صاحبِ علم سے اوپر (بھی) ایک علم والا ہوتا ہے۔‘‘

و قال : {فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ}. غافر، 40 : 83

اور فرمایا : ’’تو اُن کے پاس جو (دنیاوی) علم و فن تھا وہ اس پر اِتراتے رہے۔‘‘

و قال : {اَﷲُ الَّذِي خَلَقَکُمْ مِّنْ ضُعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْم بَعْدِ ضُعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْم بَعْدِ قُوَّةٍ ضُعْفًا وَّ شَيبَةً} الروم، 30 : 54

و قال : {وَّ يَزِدْکُمْ قُوَّةً اِلٰی قُوَّتِکُمْ}. هود، 11 : 52

اور فرمایا : ’’اﷲ ہی ہے جس نے تمہیں کمزور چیز (یعنی نطفہ) سے پیدا فرمایا پھر اس نے کمزوری کے بعد قوتِ (شباب) پیدا کی، پھر اس نے قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا پیدا کر دیا۔‘‘اور فرمایا : ’’اور تمہاری قوت پر قوت بڑھائے گا۔ ‘‘ا

و قال : {وَ السَّمَآئَ بَنَينٰهَا بِاَيدٍ} الذاریات، 51 : 47 أي بقوة، وقال : {وَاذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوُودَ ذَا الْأَيْدِ} ص، 38 : 17

أي ذا القوة، و ليس العلم کالعلم، ولا القوة کالقوة.

اور فرمایا : ’’اور آسمانی کائنات کو ہم نے بڑی قوت کے ذریعہ بنایا۔‘‘ اور فرمایا : ’’اور ہمارے بندے داؤد ( علیہ السلام ) کا ذکر کریں جو بڑی قوت والے تھے۔‘‘ حالانکہ ایک علم دوسرے علم اور ایک قوت دسری قوت کی مثل نہیں۔

و وصف نفسه بالمشيئة، ووصف عبده بالمشئة. فقال : {لِمَنْ شَآئَ مِنْکُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَo وَ مَا تَشَآؤُوْنَ إِلَّا أَنْ يَشَآئَ اﷲُ رَبُّ الْعَالَمِينَ} التکوير، 81 : 28.29 وقال : {اِنَّ هٰذِهِ تَذْکِرَةٌ فَمَنْ شَآئَ اتَّخَذَ اِلٰی رَبِّهِ سَبِيلاًo وَمَا تَشَآؤُوْنَ إِلَّآ أَنْ يَشَآئَ اﷲُط إِنَّ اﷲَ کَانَ عَلِيمًا حَکِيمًا}الدهر، 76 : 29.30

اور اللہ تعاليٰ نے اپنی صفت مشیئت بیان کی اور بندے کی صفت بھی مشیئت بیان فرمائی۔ اور فرمایا : ’’تم میں سے ہر اس شخص کے لئے (اس چشمہ سے ہدایت میسر آ سکتی ہے) جو سیدھی راہ چلنا چاہے اور تم وہی کچھ چاہ سکتے ہو جو اللہ چاہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔‘‘ اور فرمایا : ’’بے شک یہ (قرآن) نصیحت ہے، سو جو کوئی چاہے اپنے رب کی طرف (پہنچنے کا) راستہ اِختیار کر لے۔ اور تم خود کچھ نہیں چاہ سکتے سوائے اس کے جو اللہ چاہے، بے شک اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے۔‘‘

و کذلک وصف نفسه بالإرادة، ووصف عبده بالإرادة، فقال : {تُرِيدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاﷲُ يُرِيدُ الْاٰخِرَةَط وَاﷲُ عَزِيزٌ حَکِيمٌ} الانفال، 8 : 67

یونہی اللہ تعاليٰ نے اپنی صفت بیان فرمائی ارادہ کرنا۔ اور بندے کی صفت بھی ارادہ کرنا، فرمایا : ’’تم لوگ دنیا کا مال و اسباب چاہتے ہو، اور اللہ آخرت کی (بھلائی) چاہتا ہے اور اللہ خوب غالب حکمت والا ہے۔‘‘ا

و وصف نفسه بالمحبة ووصف عبده بالمحبة، فقال : {فَسَوْفَ يَاْتِی اﷲُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّوْنَهُ} المائدة، 5 : 54 وقال : {قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اﷲَ فَاتَّبِعُوْنِي يُحْبِبْکُمُ اﷲُ}آل عمران، 3 : 31

اور اس نے اپنی صفت بیان فرمائی محبت کرنا، اوراپنے بندے کی صفت بھی محبت بیان فرمائی۔ فرمایا : ’’تو عنقریب اﷲ (ان کی جگہ) ایسی قوم کو لائے گا جن سے وہ (خود) محبت فرماتا ہوگا اور وہ اس سے محبت کرتے ہوں گے۔‘‘ اور فرمایا : ’’(اے حبیب!) آپ فرما دیں : اگر تم اﷲ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو تب اﷲ تمہیں (اپنا) محبوب بنالے گا۔‘‘

ووصف نفسه بالرضا، ووصف عبده بالرضا، فقال : {رَضِيَ اﷲُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ} البينة، 98 : 8

اللہ تعاليٰ نے اپنی صفت رضا (راضی ہونا) بیان فرمائی اور اپنے بندے کی صفت بھی رضا بیان فرمائی۔ فرمایا : ’’اﷲ اُن سے راضی ہوگیا ہے اور وہ لوگ اس سے راضی ہیں۔‘‘

و معلوم أن مشيئة اﷲ ليست مثل مشيئة العبد، ولا إرادته مثل إرادته، ولا محبته مثل محبته، ولا رضاه مثل رضاه.

اور معلوم ہے کہ اللہ تعاليٰ کی مشیت بندے کی مشیت جیسی نہیں، نہ اس کا ارادہ اس کے ارادہ کی طرح، نہ اس کی محبت اس کی محبت جیسی، نہ اس کی رضا اس کی رضا جیسی۔

و کذلک وصف نفسه بأنه يمقت الکفار. ووصفهم بالمقت فقال : {اِنَّ الَّذِينَ کَفَرُوْا يُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اﷲِ اَکْبَرُ مِنْ مَّقْتِکُمْ اَنْفُسَکُمْ اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَی الْاِيمَانِ فَتَکْفُرُوْنَ} غافر، 40 : 10 و ليس المقت مثل المقت.

یونہی اس نے اپنی صفت بیان کی کہ وہ کافروں سے بیزار ہے پھر ان کی صفت بیان کی کہ وہ خود بھی اپنے آپ سے بیزار ہوں گے۔ ’’بے شک جنہوں نے کفر کیا انہیں پکار کر کہا جائے گا : (آج) تم سے اللہ کی بیزاری، تمہاری جانوں سے تمہاری اپنی بیزاری سے زیادہ بڑھی ہوئی ہے، جبکہ تم ایمان کی طرف بلائے جاتے تھے مگر تم انکار کرتے تھے۔‘‘ جبکہ ایک بیزاری دوسری کی طرح نہیں۔

و هکذا وصف نفسه بالمکر والکيد کما وصف عبده بذلک، فقال : {وَيَمْکُرُوْنََ وَ يَمْکُرُ اﷲُ} الأنفال، 8 : 30 و قال : {اِنَّهُمْ يَکِيدُوْنَ کَيدًاoوَاَکِيدُ کَيدًا} الطارق، 86 : 15.16 و ليس المکر کالمکر ولا الکيد کالکيد.

یونہی اس نے اپنی صفت بیان فرمائی مکر و کید جیسے بندے کی مکرو کید صفت بیان فرمائی۔ فرمایا : ’’اور (اِدھر) وہ سازشی منصوبے بنا رہے تھے اور (اُدھر) اللہ (ان کے مکر کے رد کے لئے اپنی) تدبیر فرما رہا تھا۔‘‘ اور فرمایا : ’’بیشک وہ (کافر) پُر فریب تدبیروں میں لگے ہوئے ہیں۔ اور میں اپنی تدبیر فرما رہا ہوں۔‘‘ حالانکہ ایک مکر دوسرے مکر اور ایک کید دوسرے کید کی طرح نہیں۔

ووصف نفسه بالعمل، فقال : {اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَيدِينَا اَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مَالِکُوْنَ} یس، 36 : 71 ووصف عبده بالعمل فقال : {تُجْزَوْنَ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ} الطور، 52 : 16 و ليس العمل کالعمل.

اس نے اپنی صفت بتائی عمل۔ فرمایا : ’’کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اپنے دستِ قدرت سے بنائی ہوئی (مخلوق) میں سے اُن کے لئے چوپائے پیدا کیے تو وہ ان کے مالک ہیں۔‘‘ اور اپنے بندے کی صفت بھی عمل بیان کی فرمایا : ’’تمہیں صرف انہی کاموں کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے رہے تھے۔‘‘ حالانکہ ایک عمل دوسرے کی مثل نہیں۔

ووصف نفسه بالمناداة والمناجاة، فقال : {وَنَادَينٰهُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَيمَنِ وَقَرَّبْنٰهُ نَجِيّا}مریم، 19 : 52 وقال : {وَ يَوْمَ يُنَادِيهِمْ} القصص، 28 : 62 و قال : {وَنَادٰهُمَا رَبُّهُمَا} الاعراف، 7 : 22 ووصف عباده بالمناداة والمناجاة، فقال : {اِنَّ الَّذِينَ يُنَادُوْنَکَ مِنْ وَّرَآئِ الْحُجُرَاتِ اَکْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ} الحجرات، 49 : 4) و قال : {اِذَا نَاجَيتُمُ الرَّسُوْلَ} المجادلة، 58 : 12 و قال : {اِذَا تَنَاجِيتُمْ فَـلَا تَتَنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ} المجادلة، 58 : 9 و ليس المناداة والمناجاة کالمناجاة والمناداة.

اور اس نے اپنی صفت بیان فرمائی منادات و مناجات. ’’اور ہم نے انہیں (کوہِ) طور کی دا ہنی جانب سے ندا دی اور راز و نیاز کی باتیں کرنے کے لئے ہم نے انہیں قربتِ (خاص) سے نوازا۔‘‘ اور فرمایا : ’’اور جس دن (اللہ) انہیں پکارے گا۔‘‘ اور فرمایا : ’’تو ان کے رب نے انہیں ندا فرمائی۔‘‘ اور اپنے بندوں کی صفت بھی مناداۃ و مناجات بیان فرمائی۔ ’’بیشک جو لوگ آپ کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر (آپ کے بلند مقام و مرتبہ اور آدابِ تعظیم کی) سمجھ نہیں رکھتے۔‘‘ اور فرمایا : ’’جب تم رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی راز کی بات تنہائی میں عرض کرنا چاہو۔‘‘ اور فرمایا : ’’جب تم آپس میں سرگوشی کرو تو گناہ اور ظلم و سرکشی کی سرگوشی نہ کیا کرو۔‘‘ حالانکہ ایک مناداۃ (پکار) و مناجات (سرگوشی) دوسری مناداۃ و مناجات کی طرح نہیں۔

ووصف نفسه بالتکليم في قوله : {وَکَلَّمَ اﷲُ مُوْسٰی تَکْلِيمًا} النسائ، 4 : 164 و قوله : {وَلَمَّا جَآئَ مُوْسٰی لِمِيقَاتِنَا وَ کَلَّمَهُ رَبُّهُ} الاعراف،7 : 143 و قوله : {تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَی بَعْضٍ مِنْهُمْ مَّنْ کَلَّمَ اﷲُ} البقرة، 2 : 253

اور اس نے اپنی صفت بیان کی کلام کرنا (تکلیم) ’’اور اﷲ نے موسيٰ ( علیہ السلام ) سے (بلاواسطہ ) گفتگو (بھی) فرمائی۔‘‘ اور فرمایا : ’’اور جب موسيٰ ( علیہ السلام ) ہمارے (مقرر کردہ) وقت پر حاضر ہوا اور اس کے رب نے اس سے کلام فرمایا۔‘‘ اور فرمایا : ’’یہ سب رسول (جو ہم نے مبعوث فرمائے) ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے، ان میں سے کسی سے اﷲ نے (براہِ راست) کلام فرمایا۔‘‘

ووصف عبده بالتکليم في قوله : {وَقَالَ الْمَلِکُ ائْتُوْنِي بِهِ اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِي فَلَمَّا کَلَّمَهُ قَالَ اِنَّکَ الْيَوْمَ لَدَينَا مَکِينٌ اَمِينٌ}

(4) یوسف، 12 : 54

اور اپنے بندے کی صفت بھی تکلیم (کلام کرنا) بیان فرمائی۔ ’’اور بادشاہ نے کہا : انہیں میرے پاس لے آؤ کہ میں انہیں اپنے لئے (مشیرِ) خاص کر لوں، سو جب بادشاہ نے آپ سے (بالمشافہ) گفتگو کی (تو نہایت متاثر ہوا اور) کہنے لگا (اے یوسف!) بیشک آپ آج سے ہمارے ہاں مقتدر (اور) معتمد ہیں (یعنی آپ کو اقتدار میں شریک کر لیا گیا ہے)۔‘‘

ووصف نفسه بالتنبئة، ووصف بعض الخلق بالتنبئة فقال : {وَاِذْ اَسَرَّ النَّبِيُ اِلٰی بَعْضِ اَزوَاجِهِ حَدِيثًا فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِهِ وَاَظْهَرَهُ اﷲُ عَلَيهِ عَرَّفَ بَعْضَهُ وَاَعْرَضَ عَنْم بَعْضٍج فَلَمَّا نَبَّاَهَا بِهِ قَالَتْ مَنْ اَنْبَاَکَ هٰذَا قَالَ نَبَّاَنِيَ الْعَلِيمُ الْخَبِيرُ} التحریم، 66 : 3 و ليس الإنباء کالإنبائ.

اور اللہ تعاليٰ نے اپنی صفت فرمائی اَلتُّنبئَۃُ (غیب بتانا) اور اپنی بعض مخلوق کی صفت بھی اَلتُّنبئَۃُ بتائی. ’’اور جب نبيّ (مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے اپنی ایک زوجہ سے ایک رازدارانہ بات ارشاد فرمائی، پھر جب وہ اُس (بات) کا ذکر کر بیٹھیں اور اللہ نے نبی( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پر اسے ظاہر فرما دیا تو نبی ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )نے انہیں اس کا کچھ حصّہ جِتا دیا اور کچھ حصّہ (بتانے) سے چشم پوشی فرمائی، پھر جب نبی ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے انہیں اِس کی خبر دے دی (کہ آپ راز افشاء کر بیٹھی ہیں) تو وہ بولیں : آپ کو یہ کِس نے بتا دیا ہے؟ نبی ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )نے فرمایا کہ مجھے بڑے علم والے بڑی آگاہی والے (رب) نے بتا دیا ہے.‘‘ حالانکہ ایک اِنْبَاء (غیب بتانا) دوسرے انباء کی طرح نہیں۔

ووصف نفسه بالتعليم، فقال : {اَلرَّحْمٰنُo عَلَّمَ الْقُرْاٰنَoخَلَقَ الْاِنْسَانَo عَلَّمَهُ الْبَيَانَ} الرحمن، 55 : 1.4 و قال : {تُعَلِّمُوْنَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَکُمُ اﷲُ} المائدة، 5 : 4 و قال : {لَقَدْ مَنَّ اﷲُ عَلَی الْمُؤْمِنِينَ اِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُوْلاً مِّنْ اَنْفُسِهِمْ يَتْلُوْا عَلَيهِمْ اٰيٰـتِهِ وَ يُزَکِّيهِمْ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْکِتَابَ وَ الْحِکْمَةَ} آل عمران، 3 : 164 و ليس التعليم کالتعليم.

اور اللہ تعاليٰ نے اپنی صفت بیان فرمائی تعلیم علم سکھانا۔ فرمایا : ’’(وہ) رحمن ہی ہے۔ جس نے (خود رسولِ عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو) قرآن سکھایا اُسی نے (اِس کامل) انسان کو پیدا فرمایا۔ اسی نے اِسے (یعنی نبيّ برحق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ماکان و ما یکون کا) بیان سکھایا۔‘‘ اور فرمایا : ’’تم انہیں (شکار کے وہ طریقے) سکھاتے ہو جو تمہیں اﷲ نے سکھائے ہیں۔‘‘ اور فرمایا : ’’بیشک اللہ نے مسلمانوں پر بڑا احسان فرمایا کہ ان میں انہی میں سے (عظمت والا) رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) بھیجا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔‘‘ حالانکہ ایک تعلیم دوسری تعلیم کی طرح نہیں۔

و هکذا وصف نفسه بالغضب فقال : {وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيهِمْ وَلَعَنَهُمْ} الفتح، 48 : 6 ووصف عبده بالغضب في قوله : {وَلَمَّا رَجَعَ مُوسٰی اِلٰی قَوْمِهِ غَضْبَانَ اَسِفًا} الاعراف، 7 : 150 و ليس الغضب کالغضب.

یونہی اللہ تعاليٰ نے اپنی صفت غضب بیان فرمائی۔ ’’اور ان پر اﷲ نے غضب فرمایا اور ان پر لعنت فرمائی۔‘‘ پھر اپنے بندے کی صفت غضب بیان فرمائی : ’’اور جب موسيٰ ( علیہ السلام ) اپنی قوم کی طرف نہایت غم و غصہ سے بھرے ہوئے پلٹے تو کہنے لگے۔‘‘ حالانکہ ایک غضب دوسرے کی مثل نہیں۔

ووصف نفسه بأنه استوی علی عرشه، فذکر ذلک في سبع مواضع من کتابه : استوی علی العرش، ووصف بعض خلقه بالاستواء علی غيره في مثل قوله : { لِتَسْتَوُوا عَلَى ظُهُورِهِ} الزخرف، 43 : 13 و قوله : {فَاِذَا اسْتَوَيتَ اَنْتَ وَمَنْ مَّعَکَ عَلَی الْفُلْکِ} المؤمنون، 23 : 28 و قوله : {وَاسْتَوَتْ عَلَی الْجُوْدِيّ} ھود، 11 : 44 و ليس الاستواء کالاستوائ.

اور اپنی صفت استواء علی العرش بیان کی کہ وہ اپنے عرش پرمتمکن ہوا۔ اور یہ بات قرآن کریم میں سات مقامات پر دھرائی اور اپنی بعض مخلوق کا کسی اور چیز پر متمکن ہوا بیان فرمایا مثلا ’’تاکہ تم ان کی پشتوں (یا نشستوں) پر درست ہو کر بیٹھ سکو۔‘‘ اور فرمایا : ’’پھر جب تم اور تمہاری سنگت والے (لوگ) کشتی میں ٹھیک طرح سے بیٹھ جائیں۔‘‘ اور فرمایا : ’’اور کشتی جودی پہاڑ پر جا ٹھہری۔‘‘ حالانکہ ایک استويٰ دوسرے استويٰ کی طرح نہیں۔

ووصف نفسه ببسط اليدين، فقال : {وَقَالَتِ الْيَهُوْدُ يَدُ اﷲِ مَغْلُوْلَةٌ غُلَّتْ اَيدِيهِمْ وَلُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا بَلْ يَدٰهُ مَبْسُوْطَتٰنِ يُنْفِقُ کَيفَ يَشَآئُ} المائدة، 5 : 64 ووصف بعض خلقه ببسط اليد في قوله : {وَلاَ تَجْعَلْ يَدَکَ مَغْلُوْلَةً اِلٰی عُنُقِکَ وَلاَ تَبْسُطْهَا کُلَّ الْبَسْطِ} الاسرائ، 17 : 29 و ليس اليد کاليد، ولا البسط کالبسط، و إذا کان المراد بالبسط الإعطاء والجود، فليس إعطاء اﷲ کإعطاء خلقه، ولا جوده کجودهم و نظائر هذا کثيرة.

فلا بد من إثبات ما أثبته اﷲ لنفسه و نفي مماثلته لخلقه، فمن قال : ليس ﷲ علم. ولا قوة ولا رحمة، ولا کلام ولا يحب، ولا يرضی ولا نادی، ولا ناجی، ولا استوی : کان معطلاً جاحداً، ممثلاً ﷲ بالمعدومات والجمادات.

ومن قال : له علم کعلمي، أو قوة کقوتي، أو حب کحبي، أو رضاء کرضائي، أو يدان کيداي، أو استواء کاستوائي : کان مشبهاً ممثلاً ﷲ بالحيوانات.

اور اس نے اپنی صفت بیان فرمائی کہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہیں۔ ’’اور یہود کہتے ہیں کہ اﷲ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے (یعنی معاذ اﷲ وہ بخیل ہے)، ان کے (اپنے) ہاتھ باندھے جائیں اور جو کچھ انہوں نے کہا اس کے باعث ان پر لعنت کی گئی، بلکہ (حق یہ ہے کہ) اس کے دونوں ہاتھ (جودو سخا کے لئے) کشادہ ہیں، وہ جس طرح چاہتا ہے خرچ (یعنی بندوں پر عطائیں) فرماتا ہے۔‘‘ اور اپنی کچھ مخلوق کی بھی یہ صفت بیان کی کہ ان کے ہاتھ کھلے ہیں فرمایا : ’’اور نہ اپنا ہاتھ اپنی گردن سے باندھا ہوا رکھو (کہ کسی کو کچھ نہ دو) اور نہ ہی اسے سارا کا سارا کھول دو۔‘‘ حالانکہ ہاتھ ہاتھ جیسا نہیں، نہ کھولنا کھولنے کی طرح۔ جب کھولنے سے مراد ہے جود و عطاء کرنا تو اللہ تعاليٰ کی عطاء مخلوق کی عطا کی مثل نہیں۔ نہ اس کی سخاوت مخلوق کی سخاوت کی سی اور اس کی مثالیں بہت ہیں۔

پس ضروری ہے کہ اللہ تعاليٰ نے جو اپنے لئے ثابت کیا ہے اُسے اُسی کے لئے ثابت مانا جائے اور مخلوق سے اس کی مماثلت کی نفی کی جائے۔ تو جس نے کہا اﷲ تعاليٰ کا علم نہیں قوت نہیں، رحمت نہیں کلام نہیں، وہ محنت نہیں کرتا، راضی نہیں ہوتا، آواز نہیں دیتا، سرگوشی نہیں کرتا، استويٰ نہیں کرتا، وہ اﷲ تعاليٰ کو معطل ماننے والا منکر ہے۔ وہ اﷲ کو معدومات و جمادات سے تشبیہ دینے والا ہےاور جس نے کہا اس کا علم میرے علم جیسا ہے اس کی قدرت میری قدرت جیسی ہے اس کی محبت میری محبت جیسی ہے، اس کی رضا میری رضا جیسی ہے یا اس کے ہاتھ میرے ہاتھوں جیسے ہیں یا اس کا متمکن ہونا میرے بیٹھنے کی طرح ہے۔ وہ اﷲ کو حیوانات سے تشبیہہ دینے والا ہے۔

بل لا بد من إثبات بلا تمثيل و تنزيه بلا تعطيل.

(1) ابن تیمیہ، الرسالۃ التدمریۃ : 21

بلکہ ضروری ہے کہ یہ سب کچھ بلامثال اور تنزیہہ (پاکی) بغیر تعطیل ثابت کی جائے۔

علامہ ابنِ تیمیہ کی تصنیف ’’العبودیۃ‘‘ کے شارح عبدالعزیز بن عبداﷲ الراجحی سورہ توبہ کی آیت : 24، 59 اور 62 کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

و هناک حقوق مشترکة بين اﷲ و بين الرسول، مثل المحبة فهذه تکون ﷲ و للرسول، و الطاعة تکون ﷲ و للرسول، و الإرضاء يکون ﷲ و للرسول، و الإيتاء يکون ﷲ و للرسول {وَلَوْ اَنَّهمْ رَضُوْا مَا آتَاهمُ اﷲُ وَ رَسُوْلُهُ} فلا يخلط الإنسان بين حقوق اﷲ الخاصة به و بين الحقوق المشترکة بين اﷲ و الرسول.

هناک حقوق خاصة بالرسول و هی التوقير، و التعظيم، و الإجلال، والتعزیز، کما قال اﷲ تعالٰی في سورة الفتح {اِنَّا اَرْسَلْنٰـکَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِيْرًاo لِّتُؤْمِنُوْا بِاﷲِ وَ رَسُوْلِهِ وَتُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ} تعزروه و توقروه هذا للرسول، و التعزیر و التوقير: أي التقدير و الإجلال، ثم قال {وَ تُسَبِّحُوْهُ بُکْرَةً وَّاَصِيْلًا} هذا خاص باﷲ، التسبيح و التکبير و التهليل هذا حق اﷲ لأنها عبادة، فلا تسبح الرسول و لا تهلل الرسول و لا تکبر الرسول، بل هذا خاص باﷲ، و هناک حقوق مشترکة بين اﷲ و بين الرسول و منها: المحبة و الطاعة و الإيتاء والإرضاء.

’’اﷲ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان بعض حقوق مشترکہ ہیں جیسے محبت، یہ اﷲ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دونوں کے لئے ثابت ہے۔ طاعت، یہ بھی اﷲ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دونوں کے لئے مشترک ہے۔ رضامندی، یہ بھی اﷲ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دونوں کے لئے مشترکہ طور پر ثابت ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ’’اور کیا ہی اچھا ہوتا اگر وہ لوگ اس پر راضی ہو جاتے جو ان کو اللہ اور اس کے رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے عطا فرمایا تھا‘‘ پس (اس صراحت کے بعد) کوئی بھی انسان اﷲ تعالیٰ کے حقوقِ خاصہ اور اﷲ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حقوقِ مشترکہ کے درمیان خلط ملط نہیں کر سکتا۔

اسی طرح بعض حقوق ایسے ہیں جو صرف رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ خاص ہیں وہ یہ ہیں، توقیر، تعظیم، اجلال اور تعزیر جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفتح میں فرمایا: ’’بیشک ہم نے آپ کو (روزِ قیامت گواہی دینے کے لئے اعمال و احوالِ امت کا) مشاہدہ فرمانے والا اور خوشخبری سنانے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ تاکہ (اے لوگو!) تم اﷲ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور ان (کے دین) کی مدد کرو اور ان کی بے حد تعظیم و تکریم کرو۔‘‘

تعزوہ و توقروہ یہ الفاظِ (تعظیم) صرف رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ہیں یعنی تعظیم و تکریم اور ادب و احترام رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حق ہے۔

اور پھر فرمایا: ’’ اور (ساتھ) اﷲ کی صبح و شام تسبیح کرو۔‘‘یہ الفاظ اللہ تعالیٰ کے لئے خاص ہیں۔ تسبیح تکبیر تہلیل یہ اللہ تعالیٰ کا حق ہے کیونکہ یہ عبادت ہے پس اللہ تعالیٰ کی طرح رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تسبیح پڑھی جائے نہ تہلیل اور نہ تکبیر۔ یہ (بطورِ عبادت) صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔ اسی طرح کچھ حقوق ایسے ہیں جواللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مابین مشترکہ ہیں ان میں سے بعض یہ ہیں۔ محبت، اطاعت، عطا اور رضا۔‘‘

  1. عبدالعزیز بن عبداﷲ الراجحی، شرح العبودیۃ: 21

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved