Islam Din-e-Amn ya Din-e-Fasad?

حصہ اول: اسلام کی تعلیمات امن اور انسداد فتنۂ خوارج

سوال نمبر 1: کیا اِسلام دینِ اَمن ہے؟

جواب:

جی ہاں! اسلام خود بھی امن و سلامتی کا دین ہے اور دوسروں کو بھی امن و عافیت کے ساتھ رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ اسلام کے دینِ امن و سلامتی ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بھیجے ہوئے دین کے لیے نام ہی ’اسلام‘ پسند کیا ہے۔ لفظِ اسلام سَلَمَ یا سَلِمَ سے ماخوذ ہے، جس کے معنی امن وسلامتی اور خیر و عافیت کے ہیں۔ اسلام اپنے لغوی معنی کے اعتبار سے سراسر امن (peace) ہے۔ گویا امن و سلامتی کا معنی لفظِ اسلام کے اندر ہی موجود ہے۔ لہٰذا اپنے معنی کے اعتبار سے ہی اسلام ایک ایسا دین ہے جو خود بھی سراپا سلامتی ہے اور دوسروں کو بھی امن و سلامتی، محبت و رواداری، اعتدال و توازن اور صبر و تحمل کی تعلیم دیتا ہے۔

قرآن و حدیث میں اگر مسلم اور مومن کی تعریف تلاش کی جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول مکرم ﷺ کے نزدیک مسلمان صرف وہ شخص ہے جو تمام انسانیت کے لیے پیکرِ امن و سلامتی ہو اور مومن بھی وہی شخص ہے جو امن و آشتی، تحمل و برداشت، بقاء باہمی اور احترامِ آدمیت جیسے اوصاف سے متصف ہو؛ یعنی اجتماعی سطح سے لے کر انفرادی سطح تک ہر کوئی اس سے محفوظ و مامون ہو۔

1۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے مسلمان کی تعریف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِهٖ وَیَدِهٖ۔

  1. أحمد بن حنبل، المسند، 2: 379، رقم: 8918
  2. نسائي، السنن، کتاب الإیمان وشرائعه، باب صفة المؤمن، 8: 104، رقم: 4995
  3. نسائی، السنن الکبری، 6: 530، رقم: 11726
  4. ابن ماجه، السنن، کتاب الفتن، باب حرمة دم المؤمن وماله، 2: 1298، رقم: 3934

(بہترین) مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے تمام لوگ محفوظ رہیں۔

2۔ ایک روایت میں حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا:

اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِهٖ وَیَدِهٖ.

  1. بخاري، الصحیح، کتاب الإیمان، باب من سلم المسلمون من لسانہ وید، 1: 13، رقم: 10
  2. مسلم، الصحیح، کتاب الإیمان، باب بیان تفاضل الإسلام وأيّ اًُمورہ أفضل، 1: 65، رقم: 41
  3. أحمد بن حنبل، المسند، 3: 440، رقم: 15673
  4. ترمذی، السنن، کتاب الإیمان، باب ما جاء في أن المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویده، 5: 17، رقم: 2627

مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان سلامت رہیں۔

3۔ حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا:

اَلْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلٰی أَنْفُسِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ.

  1. أحمد بن حنبل في المسند، 6: 21، رقم: 24004
  2. ابن ماجه، السنن، کتاب الفتن، باب حرمة دم المؤمن وماله، 2: 1298، رقم: 3934
  3. حاکم، المستدرک علی الصحیحین، 1: 54، رقم: 24
  4. طبرانی، المعجم الأوسط، 1: 81، رقم: 232

مومن وہ ہے جس کے پاس لوگ اپنے جان و مال کو مامون سمجھیں (اور اسے ان پر امین بنائیں)۔

سوال نمبر 2: مسلمانوں اور غیر مسلموں کی جانوں کی حرمت کے بارے میں اِسلام کیا کہتا ہے؟

جواب:

سیاسی، فکری یا اِعتقادی اِختلافات کی بنا پر مسلمانوں کی اکثریت (large majority) کو کافر، مشرک اور بدعتی قرار دیتے ہوئے انہیں بے دریغ قتل کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول ﷺ کے نزدیک مومن کے جسم و جان اور عزت و آبرو کی کیا اَہمیت ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے ایک مومن کی حرمت کو کعبے کی حرمت سے زیادہ محترم و معزز قرار دیا ہے۔ امام ابن ماجہ سے مروی حدیثِ مبارکہ ملاحظہ ہو:

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رضى الله عنهما، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ یَطُوْفُ بِالْکَعْبَةِ، وَیَقُوْلُ: مَا أَطْیَبَکِ وَأَطْیَبَ رِيْحَکِ، مَا أَعْظَمَکِ وَأَعْظَمَ حُرْمَتَکِ، وَالَّذِيْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِهٖ، لَحُرْمَةُ الْمُؤْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللهِ حُرْمَةً مِنْکِ مَالِهٖ وَدَمِهٖ، وَأَنْ نَظُنَّ بِهٖ إِلَّا خَيْرًا.

  1. ابن ماجه، السنن، کتاب الفتن، باب حرمة دم المؤمن وماله، 2: 1297، رقم: 3932
  2. طبراني، مسند الشامیین، 2: 396، رقم: 1568

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا اور یہ فرماتے سنا: (اے کعبہ!) تو کتنا عمدہ ہے اور تیری خوشبو کتنی پیاری ہے! تو کتنا عظیم المرتبت ہے اور تیری حرمت کتنی زیادہ ہے! قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! مومن کے جان و مال کی حرمت اللہ تعالیٰ کے ہاں تیری حرمت سے بھی زیادہ ہے اور ہمیں مومن کے بارے میں نیک گمان ہی رکھنا چاہیے۔

فولادی اور آتشیں اسلحہ سے لوگوں کو قتل کرنا ناقابلِ معافی جرم ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے تو اہلِ اِسلام کو اپنے مسلمان بھائی کی طرف اسلحہ سے محض اشارہ کرنے والے کو بھی ملعون و مردود قرار دیا ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرو ی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

لَا یُشِيْرُ أَحَدُکُمْ إِلٰی أَخِيْهِ بِالسِّلَاحِ، فَإِنَّهٗ لَا یَدْرِيْ أَحَدُکُمْ لَعَلَّ الشَّيْطَانَ یَنْزِعُ فِي یَدِهٖ، فَیَقَعُ فِي حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ.

  1. مسلم، الصحیح، کتاب البر والصلة والآداب، باب النهي عن إشارة بالسلاح، 4: 2020، رقم: 2617
  2. حاکم، المستدرک علی الصحیحین، 3: 587، رقم: 6176
  3. بیهقی، السنن الکبری، 8: 23، رقم: 2617

تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کرے، تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ شاید شیطان اس کے ہاتھ کو ڈگمگا دے اور وہ (قتلِ ناحق کے نتیجے میں) جہنم کے گڑھے میں جا گرے۔

اسلام نہ صرف مسلمانوں بلکہ بلا تفریقِ رنگ و نسل تمام انسانوں کے قتل کی سختی سے ممانعت کرتا ہے۔ اسلام میں کسی انسانی جان کی قدر و قیمت اور حرمت کا اندازہ یہاں سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے بغیر کسی وجہ کے ایک فرد کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا ہے۔ اللہ عزوجل نے تکریم انسانیت کے حوالے سے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا:

مَنْ قَتَلَ نَفْسًام بِغَيْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيْعًا.

المائدة، 5: 32

جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد انگیزی (کی سزا) کے بغیر (ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا۔

اِس آیت مبارکہ میں انسانی جان کی حرمت کا مطلقاً ذکر کیا گیا ہے جس میں عورت یا مرد، چھوٹے بڑے، امیر و غریب حتیٰ کہ مسلم اور غیر مسلم کسی کی تخصیص نہیں کی گئی۔ مدعا یہ ہے کہ قرآن مجید نے کسی بھی انسان کو بلاوجہ قتل کرنے کی نہ صرف سخت ممانعت فرمائی ہے بلکہ اسے پوری انسانیت کا قتل ٹھہرایا ہے۔ جہاں تک قانونِ قصاص وغیرہ میں قتل کی سزا، سزاے موت (capital punishment) ہے، تو وہ انسانی خون ہی کی حرمت و حفاظت کے لیے مقرر کی گئی ہے۔

حضرت عبد اللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

قَتْلُ الْمُؤْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللهِ مِنْ زَوَالِ الدُّنْیَا.

  1. نسائي، السنن، کتاب تحریم الدم، باب تعظیم الدم، 7: 82، 83، رقم: 3988-3990
  2. طبراني، المعجم الصغیر، 1: 355، رقم: 594
  3. بیهقي، السنن الکبری، 8: 22، رقم: 15647

مومن کو قتل کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام دنیا کے برباد ہونے سے بڑا ہے۔

کسی ایک مومن کو قصداً قتل کرنے والے کے لیے ذلت آمیز سزا کی وعید سنائی گئی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَمَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَھَنَّمُ خَالِدًا فِيْھَا وَغَضِبَ اللهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهٗ وَاَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِيْمًاo

النساء، 4: 93

اور جو شخص کسی مسلمان کو قصداً قتل کرے تو اس کی سزا دوزخ ہے کہ مدتوں اس میں رہے گا اور اس پر اللہ غضب ناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور اس نے اس کے لیے زبردست عذاب تیار کر رکھا ہےo

ایک مومن کو قصداً قتل کرنے والے کی سزا کی ذلت اور سختی کا اندازہ اس سے لگا لیں کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ایک ہی آیت میں نہ صرف ایسے قاتل کے لیے دوزخ کی سزا کا ذکر کیا ہے بلکہ خَالِدًا، غَضِبَ، لَعَنَہٗ اور عَذَابًا عَظِيْمًا فرما کر اس کی شدّت و حدّت میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔ اسلام نے انسانی جانوں کی حرمت کے بارے میں مسلم اور غیر مسلم کی تفریق نہیں کی بلکہ تمام انسانوں کی جان کی حرمت یکساں رکھی ہے۔

سوال نمبر 3: حضور ﷺ نے دوسرے مذاہب کے پیروکاروں سے کیا سلوک کیا؟

جواب:

حضور نبی اکرم ﷺ کے دوسرے مذاہب سے برتاؤ کو قرآن مجید کی اس آیت کے ذریعے بہتر طور پر بیان کیا جاسکتا ہے:

لَکُمْ دِيْنُکُمْ وَلِیَ دِيْنِo

 الکافرون، 109: 6

(سو) تمہارا دین تمہارے لیے اور میرا دین میرے لیے ہے۔

حضور نبی اکرم ﷺ کے دور میں جزیرہ نما عرب وہ خطہ تھا جس میں مختلف مذاہب کے ماننے والے موجود تھے۔ ان میں عیسائی، یہودی، آتش پرست، مشرکین اور ایسے لوگ بھی شامل تھے جو کسی مذہب کو نہیں مانتے۔ جب ایک شخص حضور ﷺ کی سیرتِ مطہرہ کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ آپ ﷺ کی انتہا درجے کی رواداری اور برداشت کا نظارہ کر سکتا ہے جو آپ ﷺ نے دوسرے مذاہب کے لوگوں سے روا رکھی۔

اِس برداشت اور رواداری کو سمجھنے اور اس کا ادراک کرنے کے لیے اس مخصوص زمانہ پر نظر رکھنا نہایت ضروری ہے کہ جب اسلام نے باقاعدہ ریاست کی شکل اختیار کر لی تھی اور جس میں پیغمبر اسلام ﷺ نے مذہب کے سائبان تلے مخصوص قانون سازی فرمائی۔ قبل ازیں تیرہ سالہ مکی زندگی میں کوئی شخص بھی آپ ﷺ کی رواداری اور بردباری کی سیکڑوں مثالیں دیکھ سکتا ہے۔ تاہم آپ ﷺ کی رواداری اور برداشت پر اصل بحث کو صرف اس دورانیے پر مخصوص کیا جاتا ہے جب آپ ﷺ ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے اور خصوصاً جب باقاعدہ دستور تشکیل دے دیا گیا۔

حضور نبی اکرم ﷺ کی طرف سے دوسرے مذاہب کے لیے رواداری و برداشت کی بہترین مثال بذاتِ خود دستورِ مدینہ ہے۔ جب پیغمبر اسلام ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تو آپ ﷺ مذہبی لیڈر سے زیادہ ایک ایسی ریاست کے سیاسی رہنما تھے جو اسلامی قواعد و ضوابط کے تحت قائم ہو چکی تھی اور اس امر کی متقاضی تھی کہ ریاستی اُمور چلانے کے لیے واضح قانون سازی کی جائے تاکہ معاشرے میں کئی دہائیوں کی جنگ سے پھیلے خوف و خطر کی فضا کو ہم آہنگی، امن اور احساسِ تحفظ میں تبدیل کیا جاسکے۔ نیز اس بات کو یقینی بنانا انتہائی ضروری تھا کہ مسلمانوں، یہودیوں، عیسائیوں اور مشرکین کے درمیان پرامن بقاے باہمی کی فضا قائم ہو۔ اس ضرورت کے باعث پیغمبر اسلام ﷺ نے ایک دستور بنایا جس میں مدینہ منورہ کی رہائشی تمام پارٹیوں کی ذمہ داریوں کی تفصیل، ان کے ایک دوسرے کے ساتھ باہمی قواعد و ضوابط اور بعض پابندیاں جو ہر ایک کے لیے ضروری تھیں، بیان کی گئی ہیں۔ سب کو پابند کیا گیا کہ جو کچھ دستور میں بیان کیا گیا ہے اس پر مکمل طور پر عمل پیرا ہوں۔ اس کی کسی شق (article) کی خلاف ورزی دھوکہ دہی تصور ہوگی۔

اس دستور کا پہلا اور دوسرا آرٹیکل یہ تھا کہ مدینہ منورہ کے تمام رہائشی - جس میں مسلمان اور اس معاہدے میں شامل ہونے والے یہودی، عیسائی اور بت پرست شامل ہیں - سب ایک قوم متصور ہوں گے، اور بلا لحاظِ مذہب، قوم و نسب مدینہ منورہ کے شہری تصور کیے جائیں گے۔

هٰذَا کِتَابٌ مِنْ مُحَمّدٍ النّبِيِّ (رَسُوْلِ اللهِ)، بَيْنَ الْـمُؤْمِنِینَ وَالْـمُسْلِمِینَ مِنْ قُرَيْشٍ وَ(أَهْلِ) یَثْرِبَ، وَمَنْ تَبِعَهُمْ فَلَحِقَ بِهِمْ وَجَاهَدَ مَعَهُمْ۔ إِنَّهُمْ أمَّةٌ وَاحِدَةٌ مِنْ دُونِ النَّاسِ.

  1. أبو عبید القاسم بن سلام، کتاب الأموال، 166، 260، رقم: 328، 518
  2. حمید بن زنجویه، کتاب الأموال، 1: 331، رقم: 508
  3. حمید بن زنجویه، کتاب الأموال، 2: 466، رقم: 750
  4. بیہقی، السنن الکبری، 8: 106، 16147
  5. ابن هشام، السیرة النبویة، 3: 31-32

یہ (دستوری) دستاویز (اللہ کے) نبی (اور رسول) حضرت محمد ﷺ کی طرف سے جاری کردہ ہے۔ یہ (اس معاہدہ پر مبنی ہے جو) قریش اور اہل یثرب کے مومنین و مسلمین اور اُن لوگوں کے مابین طے پایا ہے، جو اِن کی پیروی کرتے ہوئے ان کے اتحاد میں شامل ہوئے ہیں (یا بعد ازاں شامل ہوں گے) اور ان کے ساتھ مل کر جد و جہد کریں گے۔ (اس اتحاد کی بدولت) باقی اقوام و قبائل سے الگ یہ سب مل کر ایک قوم تشکیل پا گئے ہیں۔

مشکل وقت میں مسلمانوں کی طرح دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کی بھی مکمل حفاظت کی جائے گی جیسا کہ آرٹیکل نمبر 19 میں یوں بیان کیا گیا ہے:

وَإِنَّهٗ مَنْ تَبِعَنَا مِنْ یَهُودَ، فَإِنَّ لَهُ النَّصْرَ وَالْأسْوَةَ غَيْرَ مَظْلُومِینَ وَلَا مُتَنَاصِرِینَ عَلَيْهِمْ.

  1. أبو عبید قاسم بن سلام، کتاب الأموال: 262، رقم: 518
  2. حمید بن زنجویه، کتاب الأموال، 2: 468، رقم: 750
  3. ابن هشام، السیرة النبویة، 3: 33

اور یہود میں سے جو بھی ہمارے معاہدے پر عمل درآمد کرے گا اس کی مدد کی جائے گی اور اس کے ساتھ برابری کا سلوک کیا جائے گا۔ ان (یہود) پر ظلم اور نا انصافی ممکن نہ ہوگی اور نہ ہی ان کے خلاف کسی (دشمن) کی مدد کی جائے گی۔ (اس دستور کے تحت ہر وفادار شہری کو معاشی، معاشرتی اور قانونی مساوات کا حق حاصل ہے۔)

اس سے قبل ہر قبیلہ مدینہ کے اندر اور باہر اپنے اپنے حلیف اور دشمن رکھتا تھا۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے مختلف قبائل کو ایک طرزِ حکومت کے اندر متحد کر دیا جس میں حلیفوں کے ساتھ کیے گئے سمجھوتوں کو بھی برقرار رکھا گیا۔

علاوہ ازیں ان تمام موجود قبائل میں سے ہر قبیلے کو انفرادی حیثیت سے کیے گئے اتحادیوں سے قطع تعلق ہو کر اجتماعی طور پر ایک ہو کر کام کرنا ہوگا۔ کسی دوسرے کے مذہب یا قبیلے پر حملہ ریاست اور مسلمانوں پر حملہ متصور ہوگا۔ نیز مسلم معاشرے میں دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کی زندگیوں کو بھی مکمل تحفظ دیا جائے گا۔ آرٹیکل نمبر 29 میں بیان کیا گیا ہے:

وَإِنَّ یَهُودَ بَنِي عَوْفٍ أمَّةٌ مَعَ الْـمُؤْمِنِینَ، لِلْیَهُودِ دِینُهُمْ وَلِلْمُسْلِمِيْنِ دِینُهُمْ، مَوَالِیهِمْ وَأَنْفُسُهُمْ إِلَّا مَنْ ظَلَمَ وَأَثِمَ، فَإِنَّهُ لا یُوتِغُ إِلَّا نَفْسَهُ وَأَهْلَ بَيْتِهٖ.

  1. أبو عبید القاسم بن سلام، کتاب الأموال: 263، رقم: 518
  2. حمید بن زنجویه، کتاب الأموال، 2: 469، رقم: 750
  3. ابن هشام، السیرة النبویة، 3: 34

اور بنو عوف کے یہود، مومنین کے ساتھ مل کر ایک امت یعنی قوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہود کے لیے ان کا اپنا دین ہے (یعنی انہیں اپنے مذہب کی مکمل آزادی حاصل ہے) اور مسلمانوں کے لیے ان کا اپنا دین، خواہ ان کے حلیف ہوں یا وہ بذاتِ خود۔ البتہ جو ظلم یا عہد شکنی کا ارتکاب کرے گا وہ اپنی ذات یا اہل خانہ کے سوا کسی اور کو مصیبت میں مبتلا نہیں کرے گا۔

ایک موقع پر پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا:

مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا لَمْ یَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ.

  1. بخاري، الصحیح، کتاب الجزیة، باب إثم من قتل معاهدا بغیر جرم، 3: 1155، رقم: 2995
  2. ابن ماجه، السنن، کتاب الدیات، باب من قتل معاهدا، 2: 896، رقم: 2686
  3. بزار، المسند، 6: 368، رقم: 2383

جس نے کسی غیر مسلم شہری (معاہد) کو قتل کیا تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھے گا۔

چونکہ مسلمانوں کو برتری حاصل تھی، اس لیے حضور نبی اکرم ﷺ نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ کوئی ناروا سلوک نہ کیا جائے۔ آپ ﷺ نے تاکیدا فرمایا:

أَلَا مَنْ ظَلَمَ مُعَاهِدًا، أَوِ انْتَقَصَهٗ، أَوْ کَلَّفَهٗ فَوْقَ طَاقَتِهٖ، أَوْ أَخَذَ مِنْهُ شَيْئًا بِغَيْرِ طِيْبِ نَفْسٍ، فَأَنَا حَجِيْجُهٗ یَوْمَ الْقِیَامَةِ.

  1. أبو داود، السنن، کتاب الخراج والفي والإمارة، باب في تعشیر أهل الذمة إذا اختلفوا بالتجارات، 3: 170، رقم: 3052
  2. بیهقي، السنن الکبری، 9: 205، رقم: 18511
  3. منذري، الترغیب والترهیب، 4: 7، رقم: 4558
  4. عجلوني نے ’کشف الخفاء (2: 342)‘ میں کہا ہے کہ اِس حدیث کی سند حسن ہے۔

خبر دار! جس نے کسی غیر مسلم شہری پر ظلم کیا یا اُس کا حق مارا یا اس پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ ڈالا یا اُس کی دلی رضامندی کے بغیر کوئی چیز اُس سے چھین لی تو قیامت کے دن میں اُس کی طرف سے جھگڑا کروں گا۔

اِس سے یہ امر بالکل ظاہر ہے کہ رواداری اور برداشت کے علاوہ کوئی دوسرا طرزِ عمل قبول نہیں کیا جا سکتا اور یہ کہ ریاست کے ہر شہری کو مذہبی آزادی حاصل ہے اور ہر ایک کو بغیر کسی رکاوٹ کے اپنی مذہبی رسومات بجالانے کا اختیار ہے۔ اس سلسلے میں کسی قسم کی اہانت اور چھیڑخانی کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

اس دستور میں کئی اور آرٹیکلز بھی ہیں جن پر تفصیلی بحث کی جا سکتی ہے لیکن یہاں آرٹیکل پر زور دیا جائے گا جو بیان کرتا ہے:

وَإِنّکُمْ مَهْمَا اخْتَلَفْتُمْ فِیهِ مِنْ شَيْئٍ، فَإِنَّ مَرَدَّهٗ إِلَی اللهِ وَإِلٰی مُحَمَّدٍ ﷺ.

  1. أبو عبید قاسم بن سلام، کتاب الأموال: 263، رقم: 518
  2. حمید بن زنجویه، کتاب الأموال، 2: 469، رقم: 750
  3. ابن هشام، السیرة النبویة، 3: 34

اور جب کبھی تم میں کسی چیز کے متعلق اختلاف پیدا ہو جائے تو اسے اللہ اور (اس کے رسول) محمد ﷺ کی طرف لوٹایا جائے گا۔

یہ شق اس امر کا بھی تعین کرتی ہے کہ ریاست کے تمام باشندوں کو ایک عظیم مصلح کی اتھارٹی کو ماننا ہوگا۔

ان تمام معاملات میں جو مختلف قبائل سے متعلق ہوں منصفانہ فیصلوں کے لیے قبائل کے انفرادی لیڈروں سے حل نہیں کروایا جائے گا۔ بلکہ اس کا فیصلہ لازمی طور پر ریاست کا سربراہ کرے گا یا اس کا نامزدہ کردہ نمائندہ۔ یہ اجازت دی گئی ہے کہ وہ قبائل جو مسلمان نہیں ہیں، اپنے ذاتی معاملات کے حوالے سے جو ان کے اپنے صحائف سے متعلق ہوں اپنے مذہبی علماء اور پیشواؤں سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ تاہم اگر وہ چاہیں تو وہ پیغمبر اسلام ﷺ کو درخواست کر سکتے ہیں کہ وہ ان کے باہمی معاملات کو حل کر دیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

فَاِنْ جَآءُوْکَ فَاحْکُمْ بَيْنَھُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ.

 المائدة، 5: 42

سو اگر (یہ لوگ) آپ کے پاس (کوئی نزاعی معاملہ لے کر) آئیں تو آپ (کو اختیار ہے کہ)ان کے درمیان فیصلہ فرما دیں یا ان سے گریز فرما لیں۔

حضور نبی اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں دستورِ مدینہ کے علاوہ بھی کئی اور مثالیں ایسی ہیں جو عملی طور پر اسلام کی دوسرے مذاہب کے بارے میں تصویر کشی کرتی ہیں۔

یہودی مدینہ منورہ میں حضور ﷺ کی موجود گی میں تحصیل علم کے لیے اپنے سکول رکھتے تھے مثلاً بیت المدارس جہاں وہ تورات کی تلاوت کرتے، عبادت کرتے اور اس کی تعلیم دیتے تھے۔

ایک موقع پر پیغمبر اسلام ﷺ نے نجران کے 60 افراد پر مشتمل ایک عیسائی وفد کا اپنی مسجد میں استقبال کیا۔ نجران یمن کا ایک حصہ تھا۔ جب ان عیسائیوں کی عبادت کا وقت آیا تو انہوں نے اپنا منہ مشرق کی طرف کر کے عبادت ادا کی۔

 ابن القیم، أحکام أهل الذمة، 1: 427؛ 2: 822

حضور نبی اکرم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں کئی ایسی مثالیں موجود ہیں جن میں آپ ﷺ نے سیاسی میدان میں دوسرے مذاہب کے لوگوں سے تعاون کیا۔ آپ ﷺ نے ایتھوپیا کے بادشاہ نیگس کے پاس بھیجنے کے لیے ایک غیر مسلم سفیر عمرو بن امیہ کو منتخب کیا۔

یہاں حضور ﷺ کی دوسرے مذاہب کے ساتھ رواداری اور برداشت کی صرف چند مثالیں دینے پر اکتفا کیا گیا ہے۔ حضور ﷺ کی حیات طیبہ کی یہ مثالیں قرآن مجید کی اس آیت کریمہ کا خلاصہ اور مجسم نمونہ ہیں جو مذہبی برداشت اور رواداری کو فروغ دیتی ہے اور مسلمانوں کے لیے دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ساتھ رابطہ رکھنے کے رہنما اُصول متعین کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

لَآ اِکْرَاهَ فِی الدِّيْنِ.

 البقره، 2: 256

دین میں کوئی زبردستی نہیں۔

اسلام اس زمین پر کئی مذاہب کے وجود کو تسلیم کرتا ہے اور لوگوں کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنے مرضی کی راہ منتخب کریں۔ مذہب کو کسی بھی شخص پر اس کی مرضی کے خلاف نہ تو مسلط کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ماضی میں کبھی مسلط کیا گیا ہے۔ یہی درس ہمیں حضور نبی اکرم ﷺ کی حیات طیبہ سے ملتا ہے.

 اِس موضوع پر تفصیلی مطالعہ کے لیے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی تصانیف ’’مسلمانوں اور غیر مسلموں کے باہمی تعلقات‘‘ اور ’’اِسلام اور اَہلِ کتاب (تعلیماتِ قرآن و سنت اور تصریحاتِ اَئمہ دین)‘‘ ملاحظہ فرمائیں۔

سوال نمبر 4: کیا خود کش حملے اسلام میں جائز ہیں؟

جواب:

قتل و غارت گری اور دہشت گردی پھیلانے کے لیے خودکش دھماکوں کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ خودکشی کے بارے میں اسلامی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ فعل حرام ہے۔ اِس کا مرتکب اللہ تعالیٰ کا نافرمان اور جہنمی ہے۔ قرآن و حدیث کے دلائل پر بحث سے قبل آئیے دیکھتے ہیں کہ اسلام نے اسے اتنا بڑا جرم کیوں قرار دیا ہے۔

درحقیقت انسان کا اپنا جسم اور زندگی اس کی ذاتی ملکیت اور کسبی نہیں بلکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی عطا کردہ امانت ہیں۔ زندگی اللہ تعالیٰ کی ایسی عظیم نعمت ہے جو بقیہ تمام نعمتوں کے لیے اساس کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی لیے اسلام نے جسم و جاں کے تحفظ کا حکم دیتے ہوئے تمام افرادِ معاشرہ کو اس امر کا پابند بنایا ہے کہ وہ بہر صورت زندگی کی حفاظت کریں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے خودکشی (suicide) کو حرام قرار دیا ہے۔ اسلام کسی انسان کو اپنی جان خود تلف کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔

جس طرح کسی دوسرے شخص کو موت کے گھاٹ اُتارنا پوری انسانیت کو قتل کرنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے، اُسی طرح اپنی زندگی کو ختم کرنا یا اسے بلا وجہ ہلاکت میں ڈالنا بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں انتہائی ناپسندیدہ فعل ہے۔ ارشادِ ربانی ہے:

وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَةِج وَاَحْسِنُوْاج اِنَّ اللهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَo

 البقرة، 2: 195

اور اپنے ہی ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اور نیکی اختیار کرو، بے شک اللہ نیکوکاروں سے محبت فرماتا ہےo

امام بغوی نے سورۃ النساء کی آیت نمبر 30 کی تفسیر کے ذیل میں سورۃ البقرۃ کی مذکورہ آیت نمبر 195 بیان کرکے لکھا ہے:

وقیل: أراد بہ قتل المسلم نفسہ.

 بغوی، معالم التنزیل، 1: 418

اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد کسی مسلمان کا خودکشی کرنا ہے۔

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

یٰاَیُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَکُمْ بَيْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَکُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْکُمْ قف وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَنْفُسَکُمْ ط اِنَّ اللهَ کَانَ بِکُمْ رَحِيْمًاo وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِکَ عُدْوَانًا وَّظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيْهِ نَارًاط وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللهِ یَسِيْرًاo

 النسائ، 4: 29-30

اے ایمان والو! تم ایک دوسرے کا مال آپس میں ناحق طریقے سے نہ کھاؤ سوائے اس کے کہ تمہاری باہمی رضا مندی سے کوئی تجارت ہو، اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو، بے شک اللہ تم پر مہربان ہےo اور جو کوئی تعدِّی اور ظلم سے ایسا کرے گا تو ہم عنقریب اسے (دوزخ کی) آگ میں ڈال دیں گے، اور یہ اللہ پر بالکل آسان ہےo

ایک موقع پر حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے:

فَإِنَّ لِجَسَدِکَ عَلَيْکَ حَقًّا، وَإِنَّ لِعَيْنِکَ عَلَيْکَ حَقًّا.

بخاری، الصحیح، کتاب الصوم، باب حق الجسم فی الصوم، 2: 697، رقم: 1874

تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری آنکھوں کا تم پر حق ہے۔

یہ حکمِ نبوی واضح طور پر اپنے جسم و جان اور تمام اعضاء کی حفاظت اور ان کے حقوق ادا کرنے کی تلقین کرتا ہے، تو کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ خودکش حملوں (suicide attacks) اور بم دھماکوں (bomb blasts) کے ذریعے اپنی جان کے ساتھ دوسرے پُراَمن شہریوں کی قیمتی جانیں تلف کرنے کی اجازت دے؟ حضور نبی اکرم ﷺ نے خود کشی جیسے بھیانک اور حرام فعل کے مرتکب کو فِي نَارِ جَہَنَّمَ یَتَرَدّٰی فِيْهِ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيْہَا أبَدًا (وہ دوزخ میں جائے گا، ہمیشہ اس میں گرتا رہے گا اور ہمیشہ ہمیشہ وہیں رہے گا) فرما کر دردناک عذاب کا مستحق قرار دیا ہے۔

1۔ خودکُش دُہرے عذاب کا مستحق ہے

احادیث مبارکہ میں حضور تاجدارِ کائنات ﷺ نے خودکشی کے مرتکب شخص کو دُہرے عذاب کی وعید سنائی ہے۔ ارشاداتِ نبوی ملاحظہ ہوں:

1۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضى الله عنه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: مَنْ تَرَدَّی مِنْ جَبَلٍ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَهُوَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، یَتَرَدَّی فِيْهِ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيْهَا أَبَدًا۔ وَمَنْ تَحَسَّی سُمًّا فَقَتَلَ نَفْسَهُ، فَسُمُّهُ فِي یَدِهِ یَتَحَسَّاهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيْهَا أَبَدًا۔ وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِحَدِيْدَةٍ، فَحَدِيْدَتُهُ فِي یَدِهِ یَجَأ بِهَا فِي بَطْنِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيْهَا أَبَدًا.

  1. 1۔ بخاری، الصحیح، کتاب الطب، باب شرب السم والدواء به وبما یخاف منه والخبیث، 5: 2179، رقم: 5442
  2. 2۔ مسلم، الصحیح، کتاب الإیمان، باب غلظ تحریم قتل الإنسان نفسه وإن من قتل نفسه بشيء عذب به في النار، 1: 103، رقم: 109
  3. 3۔ ترمذی، السنن، کتاب الطب، باب ما جاء فیمن قتل نفسه بسم أو غیره، 4: 386، رقم: 2044
  4. 4۔ أبو داود، السنن، کتاب الطب، باب الأدویة المکروهة، 4: 7، رقم: 3872

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے خود کو پہاڑ سے گرا کر ہلاک کیا تو وہ دوزخ میں جائے گا، ہمیشہ اس میں گرتا رہے گا اور ہمیشہ ہمیشہ وہیں رہے گا۔ اور جس شخص نے زہر کھا کر اپنے آپ کو ختم کیا تو وہ زہر دوزخ میں بھی اس کے ہاتھ میں ہوگا جسے وہ دوزخ میں کھاتا ہوگا اور ہمیشہ ہمیشہ وہیں رہے گا۔ اور جس شخص نے اپنے آپ کو لوہے کے ہتھیار سے قتل کیا تو وہ ہتھیار اس کے ہاتھ میں ہوگا جسے وہ دوزخ کی آگ میں ہمیشہ اپنے پیٹ میں مارتا رہے گا اور ہمیشہ ہمیشہ وہیں رہے گا۔

2۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضى الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ : الَّذِي یَطْعَنُ نَفْسَهُ إِنَّمَا یَطْعَنُهَا فِي النَّارِ، وَالَّذِي یَتَقَحَّمُ فِيْهَا یَتَقَحَّمُ فِي النَّارِ، وَالَّذِي یَخْنُقُ نَفْسَهُ یَخْنُقُهَا فِي النَّارِ.

  1. بخاري، الصحیح، کتاب الجنائز، باب ما جاء في قاتل النفس، 1: 459، رقم: 1299
  2. أحمد بن حنبل، المسند، 2: 435، رقم: 9616
  3. طبراني، مسند الشامیین، 4: 285، رقم: 3311
  4. بیهقي، شعب الإیمان، 4: 350، رقم: 5362

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنی جان کو کوئی چیز چبا کر ختم کر لیتا ہے تو وہ دوزخ میں بھی (ہمیشہ) اسی طرح خود کو ختم کرتا رہے گا، اس طرح جو شخص اپنی جان کو گڑھے وغیرہ میں پھینک کر ختم کرتا ہے تو وہ دوزخ میں بھی ایسے ہی کرتا رہے گا، اور جو شخص اپنی جان کو پھانسی کے ذریعے ختم کرتا ہے تو وہ دوزخ میں بھی ایسے ہی کرتا رہے گا۔

3۔ عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاکِ رضى الله عنه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيئٍ عُذِّبَ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ.

  1. بخاری، الصحیح، کتاب الأدب، باب من أکفر أخاه بغیر تأویل فهوکما قال، 5: 2264، رقم: 5754
  2. مسلم، الصحیح، کتاب الإیمان، باب غلظ تحریم قتل الإنسان نفسه، 1: 104، رقم: 110
  3. أحمد بن حنبل، المسند، 4: 33، 34، رقم: 16434-16438
  4. أبو داود، السنن، کتاب الأیمان والنذور، باب ما جاء في الحلف بالبراء ة وبملة غیر الإسلام، 3: 224، رقم: 3257
  5. نسائي، السنن، کتاب الأیمان والنذور، باب الحلف بملة سوی الإسلام، 7: 5، 6، رقم: 3770، 3771

حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے کسی بھی چیز کے ساتھ خود کشی کی تو وہ جہنم کی آگ میں (ہمیشہ) اسی چیز کے ساتھ عذاب دیا جاتا رہے گا۔

مندرجہ بالا احادیث مبارکہ کے کلمات - جن میں حضور نبی اکرم ﷺ نے خودکشی کے عمل کو دوزخ میں بھی جاری رکھنے کا اشارہ فرمایا ہے - دراصل اس فعلِ حرام کی انتہائی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں؛ یعنی بہت سے ناجائز اُمور کی سزا تو جہنم ہوگی مگر خودکشی کے مرتکب کو بار بار اس تکلیف کے عمل سے گزارا جائے گا۔ گویا یہ دُہرا عذاب ہے جو ہر خودکش کا مقدر ہوگا۔ (العیاذ باللہ۔)

2۔ خودکشی کا حکم دینے والے اُمراء کی مذمت

مذکورہ بالا احادیث مبارکہ میں خود کشی کی عمومی حرمت وارِد ہوئی ہے۔ ذیل میں کچھ احادیث خصوصی اہمیت کی حامل ہیں جن میں بعض امراء اور حکمرانوں کی غیر شرعی اطاعت سے ممانعت کی گئی ہے جس سے انسانی زندگیاں بلاوجہ خطرے سے دوچار ہوسکتی ہیں۔ ایسے بہت سے نوجوانوں کو میڈیا پر بات کرتے ہوئے سنا گیا ہے جو خودکشی کا سبب اپنے امیر کے حکم کو گردانتے ہیں، ان کے ذہنوں میں امیر کی اطاعت تو بٹھائی جاتی ہے لیکن انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اسلام میں اس اطاعت کی حدود و قیود بھی ہیں۔ محض اس لیے اپنی اور دوسروں کی قیمتی جانیں تلف کر دی جائیں کہ ’امیر‘ کا حکم ہے، انتہائی نادانی، ناسمجھی اور جہالت ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسے رہنماؤں اور ان کے کارکنوں کے بارے میں کیا حکم دیا ہے:

1۔ عَنْ عَلِيٍّ رضى الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ بَعَثَ جَيْشًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا، فَأَوْقَدَ نَارًا، وَقَالَ: ادْخُلُوهَا۔ فَأَرَادُوا أَنْ یَدْخُلُوهَا، وَقَالَ آخَرُونَ: إِنَّمَا فَرَرْنَا مِنْهَا۔ فَذَکَرُوا لِلنَّبِيِّ ﷺ، فَقَالَ لِلَّذِینَ أَرَادُوا أَنْ یَدْخُلُوهَا: لَوْ دَخَلُوهَا لَمْ یَزَالُوا فِیهَا إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَةِ۔ وَقَالَ لِلْآخَرِینَ: لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِیَةٍ، إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ.

 بخاری، الصحیح، کتاب الأحکام، باب السمع والطاعة للإمام ما لم تکن معصیة، 6: 2649، رقم: 6830

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ایک فوجی دستہ روانہ کیا اور (انصار کے) ایک آدمی کو اُس پر امیر مقرر فرمایا۔ پس اُس نے آگ جلائی اور اپنے ماتحت لوگوں سے کہا کہ اس میں داخل ہو جائو۔ کچھ لوگوں نے اس میں داخل ہونے کا ارادہ کیا تو بعض نے کہا: ہم آگ ہی سے تو بھاگے ہیں۔ جب حضور نبی اکرم ﷺ سے اِس کا ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے اُن لوگوں سے فرمایا جنہوں نے آگ میں داخل ہونے کا ارادہ کیا تھا: اگر وہ اس کے اندر داخل ہو جاتے تو قیامت تک کبھی اس سے باہر نہ نکلتے۔ پھر آپ ﷺ نے ان لوگوں کو مخاطب کرکے ارشاد فرمایا (جنہوں نے آگ میں داخل ہونے کا ارادہ نہیں کیا تھا): گناہ کے کاموں میں کسی کی اِطاعت و فرمانبرداری لازم نہیں۔ (حکمران کی) اِطاعت و فرمانبرداری تو صرف بھلائی کے کاموں میں لازم ہے۔

2۔ ’صحیح مسلم‘ میں یہ روایت مزید وضاحت کے ساتھ یوں بیان کی گئی ہے:

عَنْ عَلِيٍّ رضى الله عنه قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ ﷺ سَرِيَّةً وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ یَسْمَعُوا لَهُ وَیُطِیعُوا، فَأَغْضَبُوهُ فِي شَيْئٍ، فَقَالَ: اجْمَعُوا لِي حَطَبًا۔ فَجَمَعُوا لَهُ، ثُمَّ قَالَ: أَوْقِدُوا نَارًا۔ فَأَوْقَدُوا، ثُمَّ قَالَ: أَلَمْ یَأمُرْکُمْ رَسُولُ اللهِ ﷺ أَنْ تَسْمَعُوا لِي وَتُطِیعُوا؟ قَالُوا: بَلٰی۔ قَالَ: فَادْخُلُوهَا۔ قَالَ: فَنَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَی بَعْضٍ، فَقَالُوا: إِنَّمَا فَرَرْنَا إِلَی رَسُولِ اللهِ ﷺ مِنَ النَّارِ۔ فَکَانُوا کَذَلِکَ، وَسَکَنَ غَضَبُهُ، وَطُفِئَتِ النَّارُ، فَلَمَّا رَجَعُوا، ذَکَرُوا ذَلِکَ لِلنَّبِيِّ ﷺ، فَقَالَ: لَوْ دَخَلُوهَا مَا خَرَجُوا مِنْهَا، إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ.

 مسلم، الصحیح، کتاب الإمارة، باب وجوب طاعة الأمرائ، 3: 1469، رقم: 1840

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ایک فوجی دستہ روانہ کیا اور اُس کا امیر انصار کے ایک آدمی کو مقرر فرمایا اور لشکر کو یہ حکم دیا کہ وہ امیر کے احکام سنیں اور اس کی اطاعت کریں۔ (اتفاق سے) وہ امیر اُن پر کسی چیز سے ناراض ہوگیا اور اس نے کہا: میرے لیے لکڑیاں جمع کرو۔ لشکر نے لکڑیاں جمع کیں تو اس نے کہا: ان میں آگ جلاؤ۔ انہوں نے آگ جلائی تو امیر نے کہا: کیا حضور نبی اکرم ﷺ نے آپ لوگوں کو میری اطاعت کرنے کا حکم نہیں فرمایا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: کیوں نہیں! امیر نے حکم دیا: تو پھر اس آگ کے اندر کود جاؤ۔ راوی بیان کرتے ہیں: اِس پر وہ کھڑے ہو کر ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔ اُن میں سے بعض نے کہا: آگ ہی سے بچنے کے لیے تو ہم نے حضور نبی اکرم ﷺ کی اتباع کی ہے (پھر کیوں اس میں داخل ہوں)؟ ابھی وہ اسی کشمکش میں تھے کہ امیر کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا اور آگ بجھا دی گئی۔ پس جب وہ لوٹے تو اُنہوں نے حضور نبی اکرم ﷺ سے اس واقعے کا ذکر کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر وہ اس کے اندر داخل ہو جاتے تو کبھی اس سے باہر نہ نکلتے کیونکہ اطاعت تو صرف نیک باتوں میں لازم ہے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی مذکورہ بالا متفق علیہ حدیث مبارکہ کی روشنی میں اُن خود کش بمباروں کو اپنے فعل پر غور کرنا چاہیے جو اپنے نام نہاد کمانڈروں اور امیروں کی اِطاعت کے نشے میں ڈوب کر مذہب کے نام پر سول آبادیوں پر خود کش حملے کرتے ہیں اور یوں نہ صرف دیگر لوگوں کے قتل کا باعث بنتے ہیں بلکہ فرمانِ رسول ﷺ کے مطابق خود کو جہنم کا ایندھن بھی بناتے ہیں۔ خودکشی کا ارتکاب کرنے والوں اور اس پر اُکسانے والوں کے لیے یہ احادیثِ صحیحہ نہایت غور طلب ہیں۔

3۔ خود کشی کرنے والے پر جنت حرام ہے

کم سن نوجوانوں کی ذہن سازی (brain washing) کرکے اور انہیں شہادت اور جنت کے سبز باغ دکھا کر خود کش حملوں کے لیے تیار کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے خود کشی کرنے والے کے لیے جہنم کی دائمی سزا مقرر کی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ایسا کرنے والوں کے لیے حَرَّمْتُ عَلَيْهِ الْجَنَّۃَ فرما کر جنت حرام فرما دی ہے۔

1۔ حضرت جندب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے متفق علیہ حدیث مبارکہ مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

کَانَ فِيْمَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ رَجُلٌ بِهِ جُرْحٌ، فَجَزِعَ فَأَخَذَ سِکِّيْنًا، فَحَزَّ بِهَا یَدَهُ فَمَا رَقَأَ الدَّمُ حَتّٰی مَاتَ۔ قَالَ اللهُ تَعَالٰی: بَادَرَنِي عَبْدِي بِنَفْسِهٖ حَرَّمْتُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ.

  1. بخاري، الصحیح، کتاب الأنبیائ، باب ما ذکر عن بني إسرائیل، 3: 1272، رقم: 3276
  2. مسلم، الصحیح، کتاب الإیمان، باب غلظ تحریم قتل الإنسان نفسه وإن من قتل نفسه بشيء عذب به في النار، 1: 107، رقم: 113

تم سے پہلے لوگوں میںسے ایک آدمی زخمی ہو گیا۔ اس نے بے قرار ہو کر چھری لی اور اپنا زخمی ہاتھ کاٹ ڈالا، جس سے اس کا اتنا خون بہا کہ وہ مرگیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندے نے خود فیصلہ کر کے میرے حکم پر سبقت کی ہے، لہٰذا میں نے اس پر جنت حرام کر دی۔

2۔ حضرت حسن بصری، حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

إِنَّ رَجُلًا مِمَّنْ کَانَ قَبْلَکُمْ، خَرَجَتْ بِهٖ قُرْحَةٌ، فَلَمَّا آذَتْهُ انْتَزَعَ سَهْمًا مِنْ کِنَانَتِهٖ، فَنَکَأَهَا، فَلَمْ یَرْقَأ الدَّمُ حَتّٰی مَاتَ۔ قَالَ رَبُّکُمْ: قَدْ حَرَّمْتُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ.

  1. مسلم، الصحیح، کتاب الإیمان، باب غلظ تحریم قتل الإنسان نفسه وإن من قتل نفسه بشيء عذب به في النار، 1: 107، رقم: 113
  2. ابن حبان، الصحیح، 13: 329، رقم: 5989

پچھلی امتوں میں سے کسی شخص کے جسم پر ایک پھوڑا نکلا، جب اس میں زیادہ تکلیف محسوس ہونے لگی تو اس نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکال کر اس پھوڑے کو چیر ڈالا جس سے مسلسل خون بہنے لگا اور نہ رکا۔ اس کی وجہ سے وہ شخص مر گیا۔ تمہارے رب نے فرمایا: میں نے اس پر جنت حرام کر دی ہے۔

مذکورہ بالا روایات میں اِس اَمر کی بھی اِجازت نہیں دی گئی کہ اگر کسی کو کوئی تکلیف یا مرض لاحق ہو جائے تو وہ اس تکلیف سے چھٹکارا پانے کی غرض سے ہی اپنے آپ کو موت کے گھاٹ اتار دے۔ اگر کوئی شخص ایسا کرے گا تو اس کا یہ عمل مقبول نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے باعثِ جہنم بنے گا۔

4۔ حضور ﷺ نے خودکشی کرنے والے کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھائی

خود کشی کس قدر سنگین جرم ہے اس کا اندازہ حضور رحمتِ عالم ﷺ کے اِس عمل مبارک سے ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے سراپا رحمت ہونے کے باوُجود خودکشی کرنے والے کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھائی حالاں کہ آپ ﷺ نے ہمیشہ اپنے بد ترین دشمنوں کے لیے بھی دعا فرمائی، اور جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح حکم نہیں آگیا کسی منافق کی نماز جنازہ پڑھانے سے بھی انکار نہیں فرمایا۔

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

أتِيَ النَّبِيُّ ﷺ بِرَجُلٍ قَتَلَ نَفْسَهٗ بِمَشَاقِصَ، فَلَمْ یُصَلِّ عَلَيْهِ.

 مسلم، الصحیح، کتاب الجنائز، باب تَرْکِ الصَّلَاةِ عَلَی الْقَاتِلِ نَفْسَه، 2: 672، رقم: 978

حضور نبی اکرم ﷺ کے سامنے ایک شخص لایا گیا جس نے اپنے آپ کو نیزے سے ہلاک کر لیا تھا، تو آپ ﷺ نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھائی۔

سوال نمبر 5: کیا اسلام غیر مسلموں کی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کرتا ہے؟

جواب:

اِسلام دینِ اَمن ہے اور یہ معاشرے میں رہنے والے تمام افراد، خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب اور رنگ و نسل سے ہو، کو جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کی ضمانت عطا کرتا ہے۔ متعدد آیات قرآنی اور احادیث نبوی اس پر شاہد ہیں کہ ایک اسلامی ریاست میں آباد غیر مسلم اقلیتوں کی عزت اور جان و مال کی حفاظت کرنا مسلمانوں پر بالعموم اور اسلامی ریاست پر بالخصوص فرض ہے۔

اسلامی ریاست میں غیر مسلم شہریوں کو بھی وہی حقوق حاصل ہیں جو مسلمانوں کو حاصل ہیں۔ اُن حقوق میں سے پہلا حق جو اسلامی حکومت اور اسلامی معاشرہ کی طرف سے انہیں حاصل ہے وہ حقِ حفاظت ہے، جو انہیں ہر قسم کے خارجی اور داخلی ظلم و زیادتی کے خلاف میسر ہوگا تاکہ وہ مکمل طور پر امن و سکون کی زندگی بسر کر سکیں۔

حضور نبی اکرم ﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر پوری نسلِ انسانی کو عزت، جان اور مال کا تحفظ فراہم کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

إِنَّ دِمَائَ کُمْ وَأَمْوَالَکُمْ وَأَعْرَاضَکُمْ عَلَيْکُمْ حَرَامٌ، کَحُرْمَةِ یَوْمِکُمْ هَذَا، فِی شَهْرِکُمْ هَذَا، فِی بَلَدِکُمْ هَذَا، إِلَی یَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّکُمْ.

  1. بخاري، الصحیح، کتاب الحج، باب الخطبة أیام منی، 2: 620، رقم: 1654
  2. مسلم، الصحیح، کتاب القسامة والمحاربین والقصاص والدیات، باب تغلیظ تحریم الدماء والأعراض والأموال، 3: 1305، 1306، رقم: 1679

بے شک تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تم پر اِسی طرح حرام ہیں جیسے تمہارے اِس دن کی حرمت تمہارے اِس مہینے میں اور تمہارے اِس شہر میں (مقرر کی گئی) ہے۔ یہاں تک کہ تم اپنے رب سے ملو گے۔

لہٰذا کسی بھی اِنسان اور کسی بھی مذہب کے پیروکار کو ناحق قتل کرنا، اُس کا مال لوٹنا، اس کی عزت پر حملہ کرنا یا اس کی تذلیل کرنا نہ صرف حرام ہے بلکہ اس کے مرتکب شخص کو الم ناک سزا کی وعید سنائی گئی ہے۔ ذیل میں ہم قرآن و حدیث سے متعدد دلائل و براہین پیش کریں گے جس سے یہ حقیقت عیاں ہو جائے گی کہ اسلام نے کس طرح غیر مسلم شہریوں کے جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کی تلقین کی ہے۔

حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

مَنْ قَتَلَ مُعَاهِدًا فِي غَيْرِ کُنْهِهِ، حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ.

  1. أحمد بن حنبل، المسند، 5: 36، 38، رقم: 20393، 20419
  2. أبو داود، السنن، کتاب الجهاد، باب في الوفاء للمعاهد وحرمة ذمته، 3: 83، رقم: 2760
  3. نسائي، السنن، کتاب القسامة، باب تعظیم قتل المعاهد، 8: 24، رقم: 4747
  4. دارمي، السنن، 2: 308، رقم: 2504
  5. حاکم، المستدرک علی الصحیحین، 2: 154، رقم: 2631

امام حاکم نے فرمایا: یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔

جو مسلمان کسی غیر مسلم شہری (معاہد) کو ناحق قتل کرے گا اللہ تعالیٰ اُس پر جنت حرام فرما دے گا۔

اسلام میں جیسے مسلمان کی عزت و آبرو کی تذلیل حرام ہے ویسے ہی غیر مسلم شہری کی عزت کو پامال کرنا بھی جائز نہیں ہے۔ کسی مسلمان کو اجازت نہیں کہ وہ کسی غیر مسلم شہری کو گالی گلوچ کرے، اس پر تہمت لگائے، اس کی طرف جھوٹی بات منسوب کرے یا اس کی غیبت کرے۔ اسلام کسی مسلمان کو اس امر کی بھی اجازت نہیں دیتا کہ وہ کسی غیر مسلم شہری کے ایسے عیب کا تذکرہ کرے جس کا تعلق اس کی ذات، اس کے حسب و نسب یا اس کے جسمانی و اخلاقی عیب سے ہو۔

ابن عبد الحکم (م257ھ/ 871ء) اپنی کتاب ’فتوح مصر وأخبارہا‘ میں بیان کرتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے مطابق جب مصر کے گورنر حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے بیٹے نے ایک مصری نوجوان کو دوڑ جیتنے پر کوڑے مارے تو خلیفۃ المسلمین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے کو مدینہ طلب کر لیا اور اِقرارِ جرم پر حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے بیٹے کو اُسی مصری نوجوان کے ہاتھوں کوڑوں کی سزا دلوائی جسے اس نے کوڑے مارے تھے۔ اِس موقع پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے پوچھا:

مُذْ کَمْ تَعَبَّدْتُمُ النَّاسَ وَقَدْ وَلَدَتْھُمْ أُمَّھَاتُھُمْ أَحْرَارًا؟

  1. ابن عبد الحکم، فتوح مصر وأخبارها، ذکر حفر خلیج أمیر المؤمنین: 114-115
  2. هندی، کنز العمال، 12: 294، رقم: 36010

تم نے کب سے لوگوں کو اپنا غلام بنا رکھا ہے حالاں کہ ان کی ماؤں نے تو انہیں آزاد جنا تھا؟

غیر مسلموں کے حقوق کا تحفظ جس انداز میں عہد رسالت مآب ﷺ میں کیا گیا اس کی نظیر پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنے مواثیق، معاہدات اور فرامین کے ذریعے اس تحفظ کو آئینی اور قانونی حیثیت عطا فرما دی تھی۔ عہدِ نبوی میں اہلِ نجران سے ہونے والا معاہدہ مذہبی تحفظ اور آزادی کے ساتھ ساتھ جملہ حقوق کی حفاظت کے تصور کی عملی وضاحت کرتا ہے۔ اِسے امام ابو عبید قاسم بن سلام، امام حمید بن زنجویہ، ابن سعد اور بلاذری سب نے روایت کیا ہے۔ اِس میں حضور نبی اکرم ﷺ نے یہ تحریری فرمان جاری فرمایا تھا:

وَلِنَجْرَانَ وَحَاشِیَتِهَا ذِمَّةُ اللهِ وَذِمَّةُ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ رَسُوْلِ اللهِ، عَلٰی دِمَائِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ وَمِلَّتِهِمْ وَأَرْضِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ وَمِلَّتِهِمْ وَرہبانیتہم وأساقِفَتِهِمْ وَغَائِبِهِمْ وَشَاهِدِهِمْ وَغَيْرِھِمْ وَبَعْثِھِمْ وَأَمْثِلَتِھِمْ، لَا یُغَيَّرُ مَا کَانُوْا عَلَيْهِ، وَلَا یُغَيَّرُ حَقُّ مِنْ حُقُوقِھِمْ وَأَمْثِلَتِھِمْ، لَا یُفْتَنُ أُسْقُفٌ مِنْ أُسْقُفِيَّتِهِ، وَلَا رَاهِبٌ مِنْ رَهْبَانِيَّتِهِ، وَلَا واقف مِنْ وقافیتهٖ، عَلَی مَا تَحْتَ أَيْدِيْهِمْ مِنْ قَلِيْلٍ أَوْ کَثِيْرٍ، وَلَيْسَ عَلَيْھِمْ رَھَقُ.

  1. ابن سعد، الطبقات الکبری، 1: 288، 358
  2. أبو یوسف، کتاب الخراج: 78
  3. أبو عبید قاسم، کتاب الأموال: 244، 245، رقم: 503
  4. ابن زنجویه، کتاب الأموال: 449، 450، رقم: 732
  5. بلاذری، فتوح البلدان: 90

اللہ اور اُس کے رسول محمد رضی اللہ عنہ، اہلِ نجران اور ان کے حلیفوں کے لیے اُن کے خون، ان کی جانوں، ان کے مذہب، ان کی زمینوں، ان کے اموال، ان کے راہبوں اور پادریوں، ان کے موجود اور غیر موجود افراد، ان کے مویشیوں اور قافلوں اور اُن کے استھان (مذہبی ٹھکانے) وغیرہ کے ضامن اور ذمہ دار ہیں۔ جس دین پر وہ ہیں اس سے ان کو نہ پھیرا جائے گا۔ ان کے حقوق اور اُن کی عبادت گاہوں کے حقوق میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے گی۔ نہ کسی پادری کو، نہ کسی راہب کو، نہ کسی سردار کو اور نہ کسی عبادت گاہ کے خادم کو - خواہ اس کا عہدہ معمولی ہو یا بڑا - اس سے نہیں ہٹایا جائے گا، اور ان کو کوئی خوف و خطر نہ ہوگا۔

ان روایات اور اسی طرح کی اور بہت سی روایات موجود ہیں جن میں اسلامی ریاست میں بسنے والے غیر مسلم شہریوں کے حقوق کو واضح کیا گیا ہے۔ غیر مسلم شہریوں کے مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کا قانون صرف عہد نبوی میں ہی نہیں تھا بلکہ خلافت راشدہ کے زمانے میں اور اس کے بعد سے لے کر آج کے دور تک یہ احکام ہمارے لیے موجود ہیں۔ آج بھی ایک اسلامی ریاست انہی قوانین کو اختیار کرے گی جو پیغمبر اسلام ﷺ نے غیر مسلم شہریوں کے حقوق کے بارے میں لازم کر دیے ہیں۔

سوال نمبر 6: کیا اِسلام مسلم ممالک میں ہونے والی قتل و غارت کے جواب میں اِنتقاماً پُراَمن غیر مسلم شہریوں کو مارنے کی اجازت دیتا ہے؟

جواب:

سیاسی مسائل اور ناانصافی وہ اہم سبب ہے جو لوگوں کو قانون کی خلاف ورزی، انتہاپسندی اور دہشت گردی پر اُبھارتا ہے۔ جو دہشت گردی میں مبتلا ہوتے ہیں اُن میں سے ہر ایک کا ایسا موقف ہوتا ہے: ’فلاں فلاں ملک یا علاقے میں ہمارے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کو قتل کیا جارہا ہے‘۔ یہ دلیل مکمل طور پر غیر اسلامی ہے۔

قرآن و حدیث کے مطابق ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے۔ جس نے ظلم کیا حسبِ دستور بدلہ اور سزا کا وہی مستحق ہے، اس کے بدلے میں کوئی دوسرا نہیں۔ اس کے جرم کی سزا اس کے اہل و عیال، دوستوں یا اس کی قوم کے دیگر افراد کو نہیں دی جاسکتی۔ ارشادِ ربانی ہے:

وَلَا تَکْسِبُ کُلُّ نَفْسٍ اِلَّا عَلَيْهَاج وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰیج ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمْ مَّرْجِعُکُمْ فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَo

 الأنعام، 6: 164

اور ہر شخص جو بھی (گناہ) کرتا ہے (اس کا وبال) اسی پر ہوتا ہے اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ پھر تمہیں اپنے رب ہی کی طرف لوٹنا ہے پھر وہ تمہیں ان (باتوں کی حقیقت) سے آگاہ فرما دے گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھےo

اسلام اس امر کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ پُراَمن شہریوں کو دوسرے ظالم افراد کے ظلم کے عوض سزا دے۔ حضور نبی اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:

لَا یُؤْخَذُ مِنْهُمْ رَجُلٌ بِظُلْمٍ آخَرَ.

  1. أبو یوسف، الخراج: 78
  2. بلاذری، فتوح البلدان: 90

کسی امن پسند غیر مسلم شہری کو دوسرے غیر مسلم افراد کے ظلم کے عوض کوئی سزا نہیں دی جائے گی۔

لہٰذا ایسے دہشت گرد افراد جو انتقاماً مخالف قوم کے افراد کو قتل کریں، ان کا مال لوٹیں اور ان کی املاک تباہ کریں، وہ صریحاً قرآنی آیات اور ارشاداتِ نبوی کی مخالفت کرنے والے ہیں۔

موجودہ دہشت گردی پر مبنی کارروائیوں میں مسلمان ریاستوں سمیت غیر مسلم ممالک میں بھی لوگوں کو قتل کر دیا جاتا ہے۔ اس پر یہ لوگ غیر مسلم حکومتوں کی طرف سے جاری رکھے جانے والے معاندانہ سلوک کو دلیل بناتے ہیں کہ چونکہ غیر مسلم حکومتیں مسلمانوں کو قتل کرنے پر آمادہ ہیں اور اس کا ارتکاب کر رہی ہیں، اس لیے ہمیں بھی جوابی کارروائی کے طور پر ان کے شہروں میں قتال کرنا چاہیے۔ حالانکہ ان کی یہ دلیل بنیادی اسلامی تعلیمات اور اسلام کے عمومی مزاج کے سراسر خلاف ہے۔ اسلام اس طرح غیر مسلموں کا قتل عام تو کُجا دورانِ جنگ بھی بے قصور غیر مسلموں کے قتل کی سختی سے ممانعت کرتا ہے۔ اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے دورانِ جنگ بھی اسلامی فوجوں کے لیے باقاعدہ اصول و ضوابط کا تعین کیا۔ چنانچہ تعلیماتِ اسلام کے مطابق دورانِ جنگ بھی عورتوں کا قتل جائز نہیں ہے۔

1۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

وُجِدَتِ امْرَأَةٌ مَقْتُوْلَةً فِي بَعْضِ مَغَازِي رَسُوْلِ اللهِ ﷺ، فَنَهٰی رَسُوْلُ اللهِ ﷺ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْیَانِ.

  1. بخاري، الصحیح، کتاب الجهاد والسیر، باب قتل النساء في الحرب، 3: 1098، رقم: 2852
  2. مسلم، الصحیح، کتاب الجهاد والسیر، باب تحریم قتل النساء والصبیان في الحرب، 3: 1364، رقم: 1744
  3. أحمد بن حنبل، المسند، 2: 22، رقم: 4739
  4. ترمذي، السنن، کتاب السیر، باب ما جاء في النهي عن قتل النساء والصبیان، 4: 136، رقم: 1569
  5. ابن ماجه، السنن، کتاب الجهاد، باب الغارة والبیات وقتل النساء والصبیان، 2: 947، رقم: 2841

رسول اللہ ﷺ نے کسی غزوہ میں ایک عورت کو دیکھا جسے قتل کر دیا گیا تھا۔ اِس پر آپ ﷺ نے (سختی سے) عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت فرما دی۔

دورانِ جنگ حفاظت کا یہ حکم صرف غیر مسلم خواتین کے لیے ہی نہیں بلکہ دیگر غیر متحارب طبقات کو بھی شامل ہے۔

2۔ امام ابو داؤد حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

وَلَا تَقْتُلُوا شَيْخًا فَانِیًا وَلَا طِفْلًا وَلَا صَغِیرًا وَلَا امْرَأَةً.

  1. أبو داؤد، السنن، کتاب الجهاد، باب دعاء المشرکین، 3: 37، رقم: 2614
  2. ابن أبي شیبة، المصنف، 6: 483، رقم: 33118
  3. بیهقي، السنن الکبریٰ، 9: 90، رقم: 17932

نہ کسی بوڑھے کو قتل کرو، نہ شیر خوار بچے کو، نہ نابالغ کو اور نہ عورت کو۔

3۔ امام مسلم حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ فتحِ مکہ کے دن حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْیَانَ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ أَلْقَی السِّلَاحَ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ.

  1. مسلم، الصحیح، کتاب الجهاد والسیر، باب فتح مکة، 3: 1407، رقم: 1780
  2. أبو داؤد، السنن، کتاب الخراج والإمارة والفيئ، باب ما جاء في خبر مکة، 3: 162، رقم: 3021
  3. بزار، المسند، 4: 122، رقم: 1292

جو شخص ابو سفیان کے گھر میں داخل ہو جائے گا اُسے امان ہے، جو شخص ہتھیار پھینک دے اُسے امان ہے اور جو شخص اپنے گھر کے دروازے بند کر لے اُسے بھی امان ہے۔

ان تمام اقدامات سے امن کا عزم اور پیغام ظاہر ہوتا ہے اور یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ اسلام اپنے ماننے والوں کو کسی بھی صورت میں غیر مسلم شہری کی جان لینے کی اجازت نہیں دیتا۔ مسلم ممالک میں ہونے والی قتل و غارت اور ناانصافیوں کے باوجود اسلام کسی بھی شہری کو انفرادی طور پر ہتھیار اٹھانے اور پرامن شہریوں کو قتل کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیتا ہے۔

سوال نمبر 7: خوارج کون ہیں؟ کیا عہدِ حاضر کے دہشت گرد بھی خوارج ہیں؟

جواب:

وہ لوگ جنہوں نے قرآن و سنت کی تعلیمات کے خلاف ظالمانہ طریقے سے معصوم اور بے گناہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کو قتل کرنا شروع کر دیا اُنہیں خوارج کہتے ہیں۔

1۔ خوارج کی تعریف کرتے ہوئے امام نووی لکھتے ہیں:

الخوارج: صنف من المبتدعة یعتقدون أن من فعل کبیرة کفر، وخلد فی النار، ویطعنون لذلک فی الأئمة ولا یحضرون معهم الجمعات والجماعات.

 نووی، روضة الطالبین، 10: 51

خوارج بدعتیوں کا ایک گروہ ہے۔ یہ لوگ گناهِ کبیرہ کے مرتکب کے کافر اور دائمی دوزخی ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے مسلم اُمراء و حکام پر طعن زنی کرتے ہیں اور ان کے ساتھ جمعہ اور عیدین وغیرہ کے اجتماعات میں شریک نہیں ہوتے۔

2۔ علامہ ابنِ تیمیہ خوارج کے بارے میں لکھتے ہیں:

کانوا أهل سیف وقتال، ظهرت مخالفتهم للجماعة؛ حین کانوا یقاتلون الناس۔ وأما الیوم فلا یعرفهم أکثر الناس۔ … ومروقھم من الدین خروجھم باستحلالھم دماء المسلمین وأموالھم.

 ابن تیمیة، النبوات: 222

وہ اسلحہ سے لیس اور بغاوت پر آمادہ تھے، جب وہ لوگوں سے قتال کرنے لگے تو اُن کی صحابہ کرام l کی جماعت سے مخالفت و عداوت ظاہر ہوگئی۔ تاہم عصرِ حاضر میں (بظاہر دین کا لبادہ اوڑھنے کی وجہ سے) لوگوں کی اکثریت انہیں پہچان نہیں پاتی۔ … وہ دین سے نکل گئے ہیں کیوں کہ وہ مسلمانوں کے خون اور اَموال (جان و مال) کو حلال و مباح قرار دیتے تھے۔

3۔ حافظ ابنِ حجر عسقلانی فتح الباری میں لکھتے ہیں:

الخوارج: فہم جمع خارجة أی طائفة، وہم قوم مبتدعون سموا بذلک لخروجہم عن الدین، وخروجہم علی خیار المسلمین.

 ابن حجر عسقلانی، فتح الباری، 12: 283

خوارج، خارجۃ کی جمع ہے، جس کا مطلب ہے: گروہ۔ وہ ایسے لوگ ہیں جو بدعات کا ارتکاب کرتے ہیں۔ ان کو (اپنے نظریہ، عمل اور اِقدام کے باعث) دینِ اسلام سے نکل جانے اور خیارِ اُمت کے خلاف (مسلح جنگ اور دہشت گردی کی) کارروائیاں کرنے کی وجہ سے یہ نام دیا گیا ہے۔

قرآن حکیم نے کئی مقامات پر لوگوں کے ناحق بے دردانہ قتل، دہشت گردانہ بمباری، پُراَمن آبادیوں پر خود کش حملوں جیسے انتہائی سفاکانہ اقدامات اور انسانی قتل و غارت گری کی نفی کی ہے۔ دہشت گردی کی یہ ساری بہیمانہ صورتیں شرعی طور پر حرام اور اسلامی تعلیمات سے صریح اِنحراف ہیں اور اَز رُوئے قرآن بغاوت و محاربت، فساد فی الارض اور اِجتماعی قتلِ انسانی میں داخل ہیں۔ قرآن حکیم کا بغور مطالعہ کیا جائے تو ہمیں کئی مقامات پر بالصراحت خوارج کی علامات و بدعات اور ان کی فتنہ پروری و سازشی کارروائیوں اور بغاوت کے بارے میں واضح ارشادات ملتے ہیں۔

٭ سورۃ آل عمران میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

ھُوَ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلَيْکَ الْکِتٰبَ مِنْهُ اٰیٰتٌ مُّحْکَمٰتٌ ھُنَّ اُمُّ الْکِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِھٰتٌط فَاَمَّا الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِھِمْ زَيْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَآءَ تَاْوِيْـلِهٖج وَمَا یَعْلَمُ تَاْوِيْلَهٗٓ اِلاَّ اللهُ م وَالرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَاج وَمَا یَذَّکَّرُ اِلَّآ اُولُوا الْاَلْبَابِo

 آل عمرآن، 3: 7

وہی ہے جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی جس میں سے کچھ آیتیں محکم (یعنی ظاہراً بھی صاف اور واضح معنی رکھنے والی) ہیں وہی (احکام) کتاب کی بنیاد ہیں اور دوسری آیتیں متشابہ (یعنی معنی میں کئی احتمال اور اشتباہ رکھنے والی) ہیں۔ سو وہ لوگ جن کے دلوں میں کجی ہے اس میں سے صرف متشابہات کی پیروی کرتے ہیں (فقط) فتنہ پروری کی خواہش کے زیرِ اثر اور اصل مراد کی بجائے من پسند معنی مراد لینے کی غرض سے، اور اس کی اصل مراد کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور علم میں کامل پختگی رکھنے والے کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے، ساری (کتاب) ہمارے رب کی طرف سے اتری ہے، اور نصیحت صرف اہلِ دانش کو ہی نصیب ہوتی ہےo

1۔ امام ابنِ ابی حاتم آیت مذکورہ کے ذیل میں بیان کرتے ہیں:

عَنْ أَبِي أمَامَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ ﷺ : أَنَّهُمُ الْخَوَارِجُ.

 ابن أبی حاتم رازی، تفسیر القرآن العظیم، 2: 594

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ {فَأمَّا الَّذِيْنَ فِی قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ} ’سو وہ لوگ جن کے دلوں میں کجی ہے‘ کی تفسیر میں حضور نبی اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ اِن سے مراد خوارج ہیں۔

2۔ حافظ ابنِ کثیر نے بھی اس آیت کی تفسیر میں جو حدیث بیان فرمائی ہے، اس میں حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اہلِ زَیغ - جو متشابہات کی پیروی کرتے ہیں - سے مراد ’خوارج‘ ہیں.

 ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، 1: 347

٭ سورۃ الرعد میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَیُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِج اُولٰٓـئِکَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِo

 الرعد، 13: 25

اور زمین میں فساد انگیزی کرتے ہیں، انہی لوگوں کے لیے لعنت ہے اور ان کے لیے برا گھر ہےo

1۔ یہ آیت صراحتاً بتلا رہی ہے کہ زمین میں فساد پھیلانے والے خارجی ہیں۔ اس کی تائید درج ذیل روایت سے ہوتی ہے، جسے امام قرطبی نے بیان کیا ہے:

وقال سعد بن أبي وقاص: والله الذی لا إلہ إلا هو، إنہم الحروریة.

 قرطبي، الجامع لأحکام القرآن، 9: 314

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! فساد انگیزی کرنے والوں سے مراد الحروریہ یعنی خوارج ہیں۔

2۔ انسانی جان کی ہلاکت اور اموال و املاک کی تباہی فساد فی الارض ہے، جیسا کہ ابوحفص حنبلی کی درج ذیل روایت سے عیاں ہوتا ہے:

قال: {وَیُفْسِدُونَ فِی الأَرض} إما بالدعاء إلی غیر دین الله، وإما بالظلم کما فی النفوس والأموال وتخریب البلاد.

 أبو حفص الحنبلی، اللباب في علوم الکتاب، 9: 425

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: {اور زمین میں فساد انگیزی کرتے ہیں}۔ یا تو اللہ کے دین کے علاوہ کسی اور طرف جبراً دعوت دینے سے یا لوگوں کی جان و مال پر ظلم سے اور ملک میں تخریب کاری سے۔

٭ فتنہ خوارج کا آغاز دورِ رسالت مآب ﷺ میں ہی ہوگیا تھا۔ امام بخاری و مسلم کی متفق علیہ حدیث کے مطابق حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:

بَيْنَا النَّبِيُّ ﷺ یَقْسِمُ ذَاتَ یَوْمٍ قِسْمًا فَقَالَ ذُوالْخُوَيْصَرَةِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيْمٍ: یَا رَسُوْلَ اللهِ، اعْدِلْ، قَالَ: وَيْلَکَ مَنْ یَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ؟ فَقَالَ عُمَرُ: اِئْذَنْ لِي فَـلْأَضْرِبْ عُنُقَهُ، قَالَ: لَا، إِنَّ لَهُ أَصْحَابًا یَحْقِرُ أَحَدُکُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِھِمْ، وَ صِیَامَهُ مَعَ صِیَامِھِمْ، یَمْرُقُوْنَ مِنَ الدِّيْنِ کَمُرُوْقِ السَّھْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ.

  1. بخاری، الصحیح، کتاب الأدب، باب ماجاء في قول الرجل ویلک، 5: 2281، رقم: 5811
  2. بخاری، الصحیح، کتاب استتابة المرتدین والمعاندین وقتالهم، باب من ترک قتال الخوارج للتألف وأن لا ینفر الناس عنه، 6: 2540، رقم: 6534
  3. مسلم، الصحیح، کتاب الزکاة، باب ذکر الخوارج وصفاتهم، 2: 744، رقم: 1064

ایک روز حضور نبی اکرم ﷺ مالِ (غنیمت) تقسیم فرما رہے تھے تو بنو تمیم کے ذوالخویصرہ نامی شخص نے کہا: یا رسول اللہ! انصاف کیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تو ہلاک ہو، اگر میں انصاف نہیں کروں گا تو اور کون انصاف کرے گا؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: (یا رسول اللہ!) مجھے اجازت دیں کہ اس (گستاخ) کی گردن اڑا دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، (اس اکیلے کی گردن اُڑانا کیوں کر) بے شک اس کے (ایسے) ساتھی بھی ہیں کہ تم ان کی نمازوں کے مقابلے میں اپنی نمازوں کو حقیر جانو گے اور ان کے روزوں کے مقابلہ میں اپنے روزوں کو حقیر جانو گے۔ وہ دین سے اس طرح نکلے ہوئے ہوں گے جیسے شکار سے تیر نکل جاتا ہے۔

حافظ ابنِ حجر عسقلانی فتح الباری میں لکھتے ہیں کہ اِسی ذو الخویصرہ تمیمی کا ہم خیال گروہ ہی بعد ازاں خوارج کی صورت میں ظاہر ہوا تھا:

عن عبد الرزاق فقال: ذی الخویصرة التمیمی وهو حرقوص بن زہیر، أصل الخوارج.

 ابن حجر عسقلانی، فتح الباری، 12: 292

عبد الرزاق سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ذو الخویصرہ تمیمی کا اصل نام حرقوص بن زہیر تھا اور وہ خوارج کا بانی تھا۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت بیان کرتے ہیں:

أَيَّھَا النَّاسُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ یَقُوْلُ: یَخْرُجُ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي یَقْرَءُوْنَ الْقُرْآنَ لَيْسَ قِراءَتُکُمْ إِلَی قِرَاءَتِھِمْ بِشَيئٍ وَلَا صَلَاتُکُمْ إِلَی صَلَاتِھِمْ بِشَيئٍ وَلَا صِیَامُکُمْ إِلَی صِیَامِھِمْ بِشَيئٍ، یَقْرَئُوْنَ الْقُرْآنَ یَحْسِبُوْنَ أَنَّهُ لَھُمْ وَھُوَ عَلَيْھِمْ، لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُھُمْ تَرَاقِیَھُمْ، یَمْرُقُوْنَ مِنَ الإِسْلاَمِ کَمَا یَمْرُقُ السَّھْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ.

  1. مسلم، الصحیح، کتاب الزکاة، باب التحریض علی قتل الخوارج، 2: 748، رقم: 1066
  2. أحمد بن حنبل، المسند، 1: 91، رقم: 706
  3. أبو داود، السنن، کتاب السنة، باب في قتال الخوارج، 4: 244، رقم: 4768
  4. نسائي، السنن الکبری، 5: 163، رقم: 8571
  5. عبد الرزاق، المصنف، 10: 147
  6. بزار، المسند، 2: 197، رقم: 581

اے لوگو! میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: میری امت میں ایک گروہ ظاہر ہوگا وہ ایسا (خوبصورت) قرآن پڑھے گا کہ ان کے پڑھنے کے سامنے تمہارے قرآن پڑھنے کی کوئی حیثیت نہ ہوگی، ان کی نمازوں کے سامنے تمہاری نمازوں کی کچھ حیثیت نہ ہوگی، ان کے روزوں کے سامنے تمہارے روزوں کی کوئی حیثیت نہ ہوگی۔ وہ یہ سمجھ کر قرآن پڑھیں گے کہ وہ ان کے حق میں ہے حالانکہ وہ ان کے خلاف حجت ہوگا۔ نماز ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی اور وہ اسلام سے ایسے خارج ہوں گے جیسے تیر شکار سے خارج ہو جاتا ہے۔

خوارج عامۃ الناس کو گمراہ کرنے اور ورغلانے کے لیے بظاہر اسلام کا نعرہ بلند کریں گے لیکن ان کی نیت بری ہوگی۔ احادیث مبارکہ کی روشنی میں ان کی بظاہر اسلام پر مبنی باتوں اور ظاہری وضع قطع اور دین داری کو دیکھ کر دھوکا نہ کھایا جائے کیونکہ ان کا یہ مذہبی نعرہ اور عبادت گزاری در حقیقت اُمتِ مسلمہ میں مغالطہ، اِبہام اور اِفتراق و اِنتشار پیدا کرنے کے لیے ہوگا۔

’صحیح بخاری‘ اور ’صحیح مسلم‘ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

یَقُوْلُوْنَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ.

  1. بخاری، الصحیح، کتاب استتابة المرتدین والمعاندین وقتالهم، باب قتل الخوارج والملحدین بعد إقامة الحجة علیهم، 6: 2539، رقم: 6531
  2. مسلم، الصحیح، کتاب الزکاة، باب التحریض علی قتل الخوارج، 2: 746، رقم: 1066

وہ لوگوں کے سامنے (دھوکہ دہی کے لیے) ’اسلامی منشور‘ پیش کریں گے۔

 اِس موضوع پر تفصیلی مطالعہ کے لیے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی تصنیف ’’فتنۂ خوارِج {تاریخی، نفسیاتی، علمی اور شرعی جائزہ}‘‘ ملاحظہ فرمائیں۔

سوال نمبر 8: حضور نبی اکرم ﷺ نے خوارج کے بارے میں کیا پیش گوئیاں فرمائی ہیں؟

جواب:

حضور نبی اکرم ﷺ جس طرح اپنی چشمِ نبوت سے قیامت تک کے اَحوال کا مشاہدہ فرما رہے تھے اُسی طرح آنے والے وقتوں میں دین کے نام پر بپا ہونے والی دہشت گردی کو بھی ملاحظہ فرما رہے تھے۔ اس لیے آپ ﷺ نے نہ صرف جہاد اور قتال کا فرق واضح فرما دیا بلکہ دین کے نام پر غلو کرنے اور تشدد و غارت گری کا بازار گرم کرنے والوں سے بھی اُمتِ مسلمہ کو خبردار کر دیا۔ ان نام نہاد مجاہدین کے رویوں اور نشانیوں کو بھی واضح طور پر بیان فرما دیا تاکہ کسی قسم کا اشتباہ نہ رہے اور امت ان کی ظاہری مومنانہ وضع قطع اور کثرتِ عبادت و تلاوت سے دھوکا نہ کھا جائے۔ آپ ﷺ نے جہاں اپنی امت کو اس فتنے سے الگ رہنے کی تلقین فرمائی، وہاں اس ناقابل علاج سرطان زدہ حصے کو جسد ملت سے کاٹ دینے کا حکم بھی دیا۔

1۔ خوارج دہشت گردی کے لیے brain washed کم سِن لڑکوں کو استعمال کریں گے

حضور نبی اکرم ﷺ نے ان دہشت گرد خوارج کے ایک گروہ کی علامت یہ بھی بیان فرمائی ہے کہ یہ لوگ کم عمر ہوںگے اور دہشت گردی کے لیے ان دماغی طور پر ناپختہ (brain washed) کم عمر لڑکوں کو استعمال کیا جائے گا۔

’صحیح بخاری‘، ’صحیح مسلم‘ اور ’مسند احمد بن حنبل‘ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

سَیَخْرُجُ قَومٌ فِي آخِرِ الزَّمَانِ أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ سُفَھَاءُ الْأَحْلَامِ.

  1. بخاری، الصحیح، کتاب استتابة المرتدین والمعاندین وقتالهم، باب قتل الخوارج والملحدین بعد إقامة الحجة علیهم، 6: 2539، رقم: 6531
  2. مسلم، الصحیح، کتاب الزکاة، باب التحریض علی قتل الخوارج، 2: 746، رقم: 1066
  3. أحمد بن حنبل، المسند، 1: 81، 113، 131، رقم: 616، 912، 1086

عنقریب آخری زمانے میں ایسے لوگ ظاہر ہوں گے یا نکلیں گے جو کم سِن لڑکے ہوں گے اور وہ عقل سے کورے (brain washed) ہوں گے۔

2۔ خوارج کا ظہور مشرق سے ہوگا

حضور نبی اکرم ﷺ نے خوارج کے بارے میں یہ پیش گوئی بھی فرما دی تھی کہ ان کا ظہور مشرق کی طرف سے ہوگا۔

امام بخاری حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا:

یَخْرُجُ نَاسٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ وَیَقْرَءُوْنَ الْقُرْآنَ لَا یُجَاوِزُ تَرَاقِیَهُمْ یَمْرُقُوْنَ مِنَ الدِّيْنِ کَمَا یَمْرُقُ السَّھْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، ثُمَّ لَا یَعُوْدُوْنَ فِيْهِ حَتَّٰی یَعُوْدَ السَّھْمُ إِلٰی فُوْقِهٖ.

  1. بخاری، الصحیح، کتاب التوحید، باب قراء ة الفاجر والمنافق وأصواتهم وتلاوتهم لا تجاوز حناجرهم، 6: 2748، رقم: 7123
  2. أحمد بن حنبل، المسند، 3: 64، رقم: 11632

مشرق کی جانب سے کچھ لوگ نکلیں گے، وہ قرآن مجید پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے پار نکل جاتا ہے اور پھر وہ دین میں واپس نہیں آئیں گے جب تک تیر اپنی جگہ پر واپس نہ لوٹ آئے۔

3۔ خوارج دجال کے زمانے تک ہمیشہ نکلتے رہیں گے

احادیثِ مبارکہ میں یہ تصریح بھی فرما دی گئی ہے کہ خوارج قیامت تک ہر دور میں نکلتے رہیں گے حتی کہ ان کا آخری گروہ دجال کے زمانے میں ظاہر ہو گا جو اس کے ساتھ مل کر مسلمانوں کو قتل کرے گا۔

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

کُلَّمَا خَرَجَ قَرْنٌ قُطِعَ، أَکْثَرَ مِنْ عِشْرِینَ مَرَّةً، حَتّٰی یَخْرُجَ فِي عِرَاضِهِم الدَّجَّالُ.

 ابن ماجه، السنن، المقدمة، باب فی ذکر الخوارج، 1: 61، رقم: 174

گروہِ خوارج جب بھی ظاہر ہوگا اسے ختم کر دیا جائے گا۔ ایسا بیس سے زائد بار ہوگا، حتیٰ کہ (سب سے) آخری (گروہ) میں دجال ظاہر ہوگا۔

4۔ دہشت گرد خارجیوں کی عمومی علامات - مجموعی تصویر

اگر ہم تمام احادیث، اَقوالِ صحابہ اور ائمہ کی تصریحات جمع کریں جن میں خوارج کی معروف علامات اور واضح نشانیاں بیان کی گئی ہیں تو ان کا جامع تصور اور واضح تصویر ہمارے ذہنوں میں آجائے گی۔ ان کی عمومی علامات میں سے چند درج ذیل ہیں:

1۔ أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ.

  1. بخاری، الصحیح، کتاب استتابة المرتدین والمعاندین وقتالهم، باب قتل الخوارج والملحدین بعد إقامة الحجة علیهم، 6: 2539، رقم: 6531
  2. مسلم، الصحیح، کتاب الزکاة، باب التحریض علی قتل الخوارج، 2: 746، رقم: 1066

وہ کم سِن لڑکے ہوں گے۔

2۔ سُفَھَاءُ الْأَحْلَامِ.

  1. بخاری، الصحیح، کتاب استتابة المرتدین والمعاندین وقتالهم، باب قتل الخوارج والملحدین بعد إقامة الحجة علیهم، 6: 2539، رقم: 6531
  2. مسلم، الصحیح، کتاب الزکاة، باب التحریض علی قتل الخوارج، 2: 746، رقم: 1066

دماغی طور پر ناپختہ (brain washed) ہوں گے۔

3۔ کَثُّ اللِّحْیَةِ.

  1. بخاري، الصحیح، کتاب المغازي، باب بعث علی بن أبي طالب وخالد بن الولید إلی الیمن قبل حجة الوداع، 4: 1581، رقم: 4094
  2. مسلم، الصحیح، کتاب الزکاة، باب ذکر الخوارج وصفاتهم، 2: 742، رقم: 1064

(دین کے ظاہر پر عمل میں غلو سے کام لیں گے اور) گھنی ڈاڑھی رکھیں گے۔

4۔ مُشَمَّرُ الْإِزَارِ.

  1. بخاری، الصحیح، کتاب المغازی، باب بعث علی ابن أبی طالب و خالد بن الولید، إلی الیمن قبل حجة الوداع، 4: 1581، رقم: 4094
  2. مسلم، الصحیح، کتاب الزکاة، باب ذکر الخوارج وصفاتهم، 2: 742، رقم: 1064

بہت اونچا تہ بند باندھنے والے ہوں گے۔

5۔ یَخْرُجُ نَاسٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ.

 بخاری، الصحیح، کتاب التوحید، باب قراء ة الفاجر والمنافق وأصواتهم وتلاوتهم لا تجاوز حناجرهم، 6: 2748، رقم: 7123

یہ خارجی لوگ (حرمین شریفین سے) مشرق کی جانب سے نکلیں گے۔

6۔ لَا یَزَالُوْنَ یَخْرُجُوْنَ حَتّٰی یَخْرُجَ آخِرُهُمْ مَعَ الْمَسِيْحِ الدَّجَّالِ.

 نسائي، السنن، کتاب تحریم الدم، باب من شهر سیفہ ثم وضعہ في الناس، 7: 119، رقم: 4103

یہ ہمیشہ نکلتے رہیں گے یہاں تک کہ ان کا آخری گروہ دجال کے ساتھ نکلے گا۔

یعنی یہ خوارج دجّال کی آمد تک تاریخ کے ہر دور میں وقتاً فوقتاً ظہور پذیر ہوتے رہیں گے۔

7۔ لَا یُجَاوِزُ إِيْمَانُھُمْ حَنَاجِرَھُمْ.

  1. بخاری، الصحیح، کتاب استتابة المرتدین والمعاندین وقتالهم، باب قتل الخوارج والملحدین بعد إقامة الحجة علیهم، 6: 2539، رقم: 6531
  2. مسلم، الصحیح، کتاب الزکاة، باب التحریض علی قتل الخوارج، 2: 746، رقم: 1066

ایمان ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔

یعنی ان کا ایمان دکھلاوا اور نعرہ ہوگا، مگر اس کے اوصاف ان کے فکر و نظریہ اور کردار میں دکھائی نہیں دیں گے۔

8۔ یَتَعَمَّقُوْنَ وَیَتَشَدَّدُوْنَ فِی الْعِبَادَةِ.

  1. أبو یعلی، المسند، 1: 90، رقم: 90
  2. عبد الرزاق، المصنف، 10: 155، رقم: 18673

وہ عبادت اور دین میں بہت متشدد اور انتہا پسند ہوں گے۔

9۔ یَحْقِرُ أَحَدُکُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِھِمْ، وَصِیَامَهُ مَعَ صِیَامِھِمْ.

  1. بخاری، الصحیح، کتاب استتابة المرتدین والمعاندین وقتالهم، باب من ترک قتال الخوارج للتألف وأن لا ینفر الناس عنه، 6: 2540، رقم: 6534
  2. مسلم، الصحیح، کتاب الزکاة، باب ذکر الخوارج وصفاتهم، 2: 744، رقم: 1064

تم میں سے ہر ایک ان کی نمازوں کے مقابلے میں اپنی نمازوں کو حقیر جانے گا اور ان کے روزوں کے مقابلہ میں اپنے روزوں کو حقیر جانے گا۔

10۔ لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُھُمْ تَرَاقِیَھُمْ.

 مسلم، الصحیح، کتاب الزکاة، باب التحریض علی قتل الخوارج، 2: 748، رقم: 1066

نماز ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی۔

یعنی نماز کا کوئی اثر ان کے اخلاق و کردار پر نہیں ہوگا۔

11۔ یَقْرَءُوْنَ الْقُرْآنَ لَيْسَ قِراءَتُکُمْ إِلَی قِرَاءَتِھِمْ بِشَيئٍ.

 مسلم، الصحیح، کتاب الزکاة، باب التحریض علی قتل الخوارج، 2: 748، رقم: 1066

وہ قرآن مجید کی ایسے تلاوت کریں گے کہ ان کی تلاوتِ قرآن کے سامنے تمہیں اپنی تلاوت کی کوئی حیثیت دکھائی نہ دے گی۔

12۔ یَقْرَءُوْنَ الْقُرْآنَ لَا یُجَاوِزُ حُلُوْقَھُمْ.

  1. بخاری الصحیح، کتاب استتابة المرتدین والمعاندین وقتالهم، باب قتل الخوارج والملحدین بعد إقامة الحجة علیهم، 6: 2540، رقم: 6532
  2. مسلم، الصحیح، کتاب الزکاة، باب ذکر الخوارج وقتالهم، 2: 743، رقم: 1064

ان کی تلاوت ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی۔

یعنی اس کا کوئی اثر ان کے دل پر نہیں ہوگا۔

13۔ یَقْرَءُوْنَ الْقُرْآنَ یَحْسِبُوْنَ أَنَّهُ لَھُمْ، وَھُوَ عَلَيْھِمْ.

 مسلم، الصحیح، کتاب الزکاة، باب التحریض علی قتل الخوارج، 2: 748، رقم: 1066

وہ یہ سمجھ کر قرآن پڑھیں گے کہ اس کے احکام ان کے حق میں ہیں لیکن درحقیقت وہ قرآن ان کے خلاف حجت ہوگا۔

14۔ یَدْعُونَ إِلَی کِتَابِ اللهِ وَلَيْسُوا مِنْهُ فِي شَيْئٍ.

 أبو داود، السنن، کتاب السنة، باب في قتل الخوارج، 4: 243، رقم: 4765

وہ (بذریعہ طاقت) لوگوں کو کتاب اللہ کی طرف بلائیں گے لیکن قرآن کے ساتھ ان کا تعلق کوئی نہیں ہوگا۔

15۔ یَقُوْلُوْنَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ.

  1. بخاری، الصحیح، کتاب استتابة المرتدین والمعاندین وقتالهم، باب قتل الخوارج والملحدین بعد إقامة الحجة علیهم، 6: 2539، رقم: 6531
  2. مسلم، الصحیح، کتاب الزکاة، باب التحریض علی قتل الخوارج، 2: 746، رقم: 1066

وہ (بظاہر) بڑی اچھی باتیں کریں گے۔

یعنی دینی نعرے (slogans) بلند کریں گے اور اسلامی مطالبے کریں گے۔

(1) جیسے خلیفہ راشد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں خوارج نے لاَ حُکْمَ إِلاَّ لِلّٰہِ کا پُر کشش نعرہ لگایا تھا۔

16۔ یَقُوْلُوْنَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ قَوْلًا.

 طبراني، المعجم الأوسط، 6: 186، رقم: 6142

ان کے نعرے (slogans) اور ظاہری باتیں دوسرے لوگوں سے اچھی ہوں گی اور متاثر کرنے والی ہوں گی۔

17۔ یُسِيْئُوْنَ الْفِعْلَ.

 أبوداود، السنن، کتاب السنة، باب في قتال الخوارج، 4: 243، رقم: 4765

مگر وہ کردار کے لحاظ سے بڑے ظالم، خونخوار اور گھناؤنے لوگ ہوں گے۔

18۔ هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيْقَةِ.

 مسلم، الصحیح، کتاب الزکاة، باب الخوارج شر الخلق والخلیقة، 2: 750، رقم: 1067

وہ تمام مخلوق سے بدترین لوگ ہوں گے۔

19۔ یَطْعَنُوْنَ عَلٰی أمَرَائِهِمْ وَیَشْهَدُوْنَ عَلَيْهِمْ بِالضَّلَالَةِ.

  1. ابن أبي عاصم، السنة، 2: 455، رقم: 934
  2. هیثمي، مجمع الزوائد، 6: 228، وقال: رجالہ رجال الصحیح۔

وہ حکومتِ وقت یا حکمرانوں کے خلاف خوب طعنہ زنی کریں گے اور ان پر گمراہی و ضلالت کا فتویٰ لگائیں گے۔

20۔ یَخْرُجُوْنَ عَلٰی حِيْنِ فُرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ.

  1. بخاری، الصحیح، کتاب المناقب، باب علامات النبوة في الإسلام، 3: 1321، رقم: 3414
  2. مسلم، الصحیح، کتاب الزکاة، باب ذکر الخوارج وصفاتهم، 2: 744، رقم: 1064

وہ اس وقت منظرِ عام پر آئیں گے جب لوگوں میں تفرقہ اور اختلاف پیدا ہو جائے گا۔

21۔ یَقْتُلُوْنَ أَھْلَ الإِسْلَامِ وَیَدْعُوْنَ أَھْلَ الْأَوْثَانِ.

  • بخاری، الصحیح، کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالی: تعرج الملائکة والروح إلیه، 6: 2702، رقم: 6995
  • مسلم، الصحیح، کتاب الزکاة، باب ذکر الخوارج وصفاتهم، 2: 741، رقم: 1064

وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے۔

22۔ یَسْفِکُوْنَ الدَّمَ الْحَرَامَ.

 مسلم، الصحیح، کتاب الزکاة، باب التحریض علی قتل الخوارج، 2: 748، رقم: 1066

وہ ناحق خون بہائیں گے۔

یعنی مسلم اور غیر مسلم افراد کا قتل جائز سمجھیں گے۔

23۔ یَقْطَعُوْنَ السَّبِيْلَ وَیَسْفِکُوْنَ الدِّمَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ مِنَ اللهِ وَیَسْتَحِلُّوْنَ أَهْلَ الذِّمَّةِ۔ (من کلام عائشة رضى الله عنها)

 حاکم، المستدرک، 2: 166، رقم: 2657

وہ راہزن ہوں گے، ناحق خون بہائیں گے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم نہیں دیا اور غیر مسلم اقلیتوں کے قتل کو حلال سمجھیں گے۔ (یہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے۔)

ان روایات سے خوارج کی علامات بہت واضح انداز میں بیان کر دی گئی ہیں۔ ان روایات کی روشنی میں ہر دور میں موجود خوارج کی پہچان آسانی سے کی جا سکتی ہے۔

سوال نمبر 9: خوارج دوسرے لوگوں سے کیا سلوک روا رکھتے ہیں؟

جواب:

خوارج قرآنی آیات اور احادیثِ نبویہ کا خود ساختہ اطلاق کرتے اور غلط تاویل کے ذریعے اپنے مخالف مسلمانوں کو واجب القتل ٹھہراتے تھے۔ ذیل میں ان کی چند نمایاں بدعات درج کی جاتی ہیں جن میں سے اکثر کے بارے میں حضور نبی اکرم ﷺ نے پہلے ہی آگاہ فرما دیا تھا:

1۔ وہ کفار کے حق میں نازل ہونے والی آیات کا اطلاق مومنین پر کریں گے۔

 بخاری، الصحیح، کتاب، استتابة المرتدین والمعاندین وقتالهم، باب قتل الخوارج والملحدین بعد إقامة الحجة علیہم، 6: 2539

2۔ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے۔

 بخاری، الصحیح، کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالی: تعرج الملائکة والروح إلیه، 6: 2702، رقم: 6995

3۔ غیر مسلم اقلیتوں کے قتل کو حلال سمجھیں گے۔

 حاکم، المستدرک، 2: 166، رقم: 2657

4۔ عبادت میں بہت متشدد اور غلو کرنے والے (extremist) ہوں گے۔

 أبو یعلی، المسند، 1: 90، رقم: 90

5۔ گناہِ کبیرہ کے مرتکب کو دائمی جہنمی اور اس کا خون اور مال حلال قرار دیں گے۔

6۔ جس نے اپنے عمل اور غیر صائب رائے سے قرآن مجید کی نافرمانی کی وہ کافر ہے۔

7۔ ظالم اور فاسق حکومت کے خلاف مسلح بغاوت اور خروج کو فرض قرار دیں گے۔

  • عبد القاهر بغدادی، الفرق بین الفرق: 73
  • ابن تیمیه، مجموع فتاوی، 13: 31

سوال نمبر 10: مسلم ریاست کو دہشت گردوں سے کیا سلوک کرنا چاہیے؟ کیا وہ اُنہیں برداشت کرے یا سختی سے کچل دے؟

جواب:

دہشت گرد انسانیت کے دشمن ہیں۔ لہٰذا یہ لازم ہے کہ اُنہیں فرامینِ رسول ﷺ کے مطابق کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔ ایک اسلامی حکومت کو اِنہیں فوری طور پر ختم کرنا چاہیے اور ان کے نیٹ ورک کو توڑنا چاہیے تاکہ اُن کا مذہبی لبادہ اور لمبی داڑھیاں مسلمانوں کو گمراہ نہ کر سکیں۔

1۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

سَیَخْرُجُ قَومٌ فِي آخِرِ الزَّمَانِ أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ سُفَھَاءُ الْأَحْلَامِ یَقُوْلُوْنَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ، لاَ یُجَاوِزُ إِيْمَانُھُمْ حَنَاجِرَھُمْ، یَمْرُقُوْنَ مِنَ الدِّيْنِ کَمَا یَمْرُقُ السَّھْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، فَأَيْنَمَا لَقِيْتُمُوْھُمْ فَاقْتُلُوْھُمْ، فَإِنَّ فِي قَتْلِھِمْ أَجْرًا لِمَنْ قَتَلَھُمْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ.

  • بخاری، الصحیح، کتاب استتابة المرتدین والمعاندین وقتالهم، باب قتل الخوارج والملحدین بعد إقامة الحجة علیهم، 6: 2539، رقم: 6531
  • مسلم، الصحیح، کتاب الزکاة، باب التحریض علی قتل الخوارج، 2: 746، رقم: 1066
  • أحمد بن حنبل، المسند، 1: 81، 113، 131، رقم: 616، 912، 1086
  • نسائي، السنن، کتاب تحریم الدم، باب من شهر سیفہ ثم وضعہ في الناس، 7: 119، رقم: 4102
  • ابن ماجه، السنن، المقدمة، باب في ذکر الخوارج، 1: 59، رقم: 168

عنقریب آخری زمانے میں ایسے لوگ ظاہر ہوں گے یا نکلیں گے جو کم سِن لڑکے ہوں گے اور وہ عقل سے کورے (brain washed) ہوں گے۔ وہ ظاہراً (دھوکہ دہی کے لیے) اسلامی منشور پیش کریں گے، ایمان ان کے اپنے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ دین سے یوں خارج ہوں گے جیسے تیر شکار سے خارج ہو جاتا ہے۔ پس تم انہیں جہاں کہیں پائو تو قتل کر دینا کیونکہ ان کو قتل کرنے والوں کو قیامت کے دن ثواب ملے گا۔

2۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

إِنَّهُ یَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِیئِ ھَذَا قَوْمٌ … قَالَ: لَئِنْ أَدْرَکْتُھُمْ لَأَقْتُلَنَّھُمْ قَتْلَ ثَمُوْدَ.

  1. بخاری، الصحیح، کتاب المغازي، باب بعث علی بن أبي طالب وخالد بن الولید إلی الیمن قبل حجة الوداع، 4: 1581، رقم: 4094
  2. مسلم، الصحیح، کتاب الزکاة، باب ذکر الخوارج وصفاتهم، 2: 742، 743، رقم: 1064
  3. أحمد بن حنبل، المسند، 3: 4، رقم: 11021

اس کی نسل سے ایسے لوگ یعنی خوارج پیدا ہوں گے۔ … آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر میں ان لوگوں کو پائوں تو ضرور بالضرور اُنہیں قومِ ثمود کی طرح قتل کر دوں گا۔

3۔ ایک اور روایت میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

إِنَّ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمًا یَقْرَءُوْنَ الْقُرْآنَ لَا یُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ یَمْرُقُوْنَ مِنَ الإِسْلاَمِ مُرُوْقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، یَقْتُلُوْنَ أَھْلَ الْإِسْلَامِ وَیَدَعُونَ أَھْلَ الأَوْثَانِ، لَئِنْ أَدْرَکْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ.

  • بخاری، الصحیح، کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالی: تعرج الملائکة والروح إلیه، 6: 2702، رقم: 6995
  • بخاری، الصحیح، کتاب الأنبیائ، باب قول اللہ: وأما عاد فأهلکوا بریح صرصر شدیدة عاتیة، 3: 1219، رقم: 3166
  •  مسلم، الصحیح، کتاب الزکاة، باب ذکر الخوارج وصفاتهم، 2: 741، رقم: 1064
  • أبوداود، السنن، کتاب السنة، باب في قتال الخوارج، 4: 243، رقم: 4764
  • نسائي، السنن، کتاب تحریم الدم، باب من شہر سیفہ ثم وضعہ في الناس، 7: 118، رقم: 4101
  • نسائی، السنن، کتاب الزکاة، باب المؤلفة قلوبهم، 5: 87، رقم: 2578

اس شخص کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے کہ وہ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، وہ بت پرستوں کو چھوڑ کر مسلمانوں کو قتل کریں گے۔ اگر میں انہیں پاؤں تو قوم عاد کی طرح ضرور بالضرور قتل کر دوں گا۔

دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا کیونکہ یہ دہشت گردی کرتے وقت کسی مذہب کا لحاظ نہیں کرتے۔ ہر مذہب کے ماننے والوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ اس لیے مسلم ریاست کو بھی چاہیے کہ وہ ان پر سختی کرے اور ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹے۔

سوال نمبر 11: کیا دہشت گردوں سے جنگ کے دوران شہید ہو جانے والے مسلمان فوجیوں کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے اَجر عطا ہوگا یا اُن کا خون رائیگاں جائے گا؟

جواب:

خوارج کے ہاتھوں شہید ہونے والے مسلمان فوجیوں کے لیے حضور نبی اکرم ﷺ کی احادیث مبارکہ میں بار بار اجرِ عظیم کا وعدہ کیا ہے۔ مسلمان فوجیوں کو چاہیے کہ وہ ان بشارات کو سامنے رکھتے ہوئے دہشت گردوں اور ریاست کے باغیوں کے خلاف عظیم جذبہ ایمانی کے ساتھ جنگ لڑیں اور ان کا کلیتاً خاتمہ کر دیں۔

1۔ امام احمد بن حنبل حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

سَیَخْرُجُ قَوْمٌ أَحْدَاثٌ أَحِدَّاءُ أَشِدَّاءُ، ذَلِقَةٌ أَلْسِنَتُھُمْ بِالْقُرْآنِ، یَقْرَءُوْنَهُ لاَ یُجَاوِزُ تَرَاقِیَھُمْ۔ فَإِذَا لَقِيْتُمُوْھُمْ فَأَنِيْمُوْھُمْ، ثُمَّ إِذَا لَقِيْتُمُوْھُمْ فَاقْتُلُوْھُمْ، فَإِنَّهُ یُؤْجَرُ قَاتِلُھُمْ.

  • أحمد بن حنبل، المسند، 5: 36، 44
  • حاکم، المستدرک، 2: 159، رقم: 2645
  • ابن أبي عاصم، السنة، 2: 456، رقم: 937
  • عبد اللہ بن أحمد، السنة، 2: 637، رقم: 1519
  • بیهقي، السنن الکبری، 8: 187

عنقریب ایسے کم سِن لوگ نکلیں گے جو نہایت تیز طرار اور شدت پسند ہوں گے اور قرآن مجید کو بڑی روانی سے پڑھنے والے ہوں گے وہ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ سو جب تم ان سے ملو تو انہیں قتل کر دو، پھر جب (ان کا کوئی دوسرا گروہ نکلے اور) تم (میدانِ جنگ میں) انہیں ملو تو انہیں بھی قتل کر دو۔ یقینا ان کے قاتل کو اَجر (عظیم) عطا کیا جائے گا۔

جو معصوم لوگ ان خوارج کے ہاتھوں شہید ہو جائیں گے اُن کے لیے بھی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے اجرِ عظیم کا وعدہ کیا گیا ہے۔

2۔ حضرت عبد اللہ بن رباح انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیںکہ انہوں نے حضرت کعب رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا:

لِلشَّھِيْدِ نُوْرٌ وَلِمَنْ قَاتَلَ الْحَرُوْرِيَّةَ عَشْرَةُ أَنْوَارٍ (وفي روایة لابن أبي شیبة: فَضْلُ ثَمَانِیَةِ أَنْوَارٍ عَلَی نُوْرِ الشُّھَدَاءِ) وَکَانَ یَقُوْلُ لِجَھَنَّمَ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ ثَـلَاثَةٌ مِنْھَا لِلْحَرُوْرِيَّةِ.

  • عبد الرزاق، المصنف، 10: 155، رقم: 18673
  • ابن أبي شیبة، المصنف، 7: 557، رقم: 37911

شہید کے لیے ایک نور ہو گا اور اس شخص کے لیے دس نور ہوں گے جو حروریہ (خوارج) کے ساتھ جنگ کرے گا یعنی خوارج کے ساتھ جنگ کرتے ہوئے شہید ہوگا۔ [ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے: (دیگر) شہداء کے نور کے مقابلہ میں اس کا نور آٹھ گنا زیادہ ہو گا۔] اور آپ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ جہنم کے کل سات دروازے ہیں جن میں سے تین صرف حروریہ (یعنی خوارج) کے لیے مختص ہیں۔

خلاصہ کلام

اسلام امن، سلامتی اور حفاظت کا دین ہے۔ یہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ہر مسلمان دوسرے فرد خواہ وہ مرد، عورت یا بچہ کوئی بھی ہو اُس کی حفاظت کو یقینی بنائے، چاہے اُس کا مذہب کوئی بھی ہو اور وہ کسی بھی سماج یا قبیلے سے تعلق رکھتا ہو۔ اسلام میں کسی بے گناہ شخص کی جان لینا حرام ہے۔ اسلام مکمل طور پر انتہا پسندی اور دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور اس کو پروان چڑھانے والے نظریے کی بھی مخالفت کرتا ہے۔ بلکہ اس سے بڑھ کر مسلمان افواج کو اس بات پر اُبھارتا ہے کہ وہ معاشرے میں دہشت گردی اور لاقانونیت پھیلانے والوں کے خلاف جہاد کریں اور اُنہیں جڑ سے اُکھاڑ پھینکیں۔

Copyrights © 2024 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved