Islam and modern science

کرۂ ارضی پر اِرتقائے حیات

کائنات کی وسیع و عریض ساخت میں زمین ایک اَیسے سورج کا اَدنیٰ سا سیارہ ہے جو لاکھوں کہکشاؤں کی ریل پیل میں سے ایک کہکشاں ’’ملکی وے‘‘ کے ایک کھرب ستاروں میں ایک کنارے پر واقع ہے۔

سورج نیوکلیائی اِخراج کا ایسا دیوقامت منبع ہے، جو ڈیڑھ کروڑ (1,50,00,000) سینٹی گریڈ درجۂ حرارت کے ساتھ چمک رہا ہے۔ اُس کا قطر زمین کے قطر سے 100 گنا بڑا ہے اور زیادہ تر کائنات کے ہلکے ترین عناصر ہائیڈروجن اور ہیلئم پر مشتمل ہونے کے باوجود اُس کی کمیّت زمین سے 3 لاکھ گنا زیادہ ہے۔

ہمارا سورج ملکی وے کی دُوسری یا تیسری نسل کا نمائندہ سِتارہ ہے، جو آج سے تقریباً 4 ارب 6 کروڑ سال پیشتر اپنے سے پہلے عظیم نوتارے (supernova) کے ملبے پر مشتمل گھومتی ہوئی گیس کے بادل سے معرضِ وُجود میں آیا تھا۔ اُس گیس اور گرد و غبار کے زیادہ تر ایٹم اپنے اندر نو ساختہ ہائیڈروجن اور ہیلئم کے کثیف گولے کی طرف اِکٹھے ہونے لگے اور یوں وہ ستارہ وُجود میں آ گیا جسے آج ہم سب سورج کے نام سے جانتے ہیں۔ اُس گھومتے ہوئے گیسی مادّے کا باقی حصہ نوزائیدہ سورج کے گِرد چکر لگانے لگا، اور سب سے پہلے اُس مادّے سے نظامِ شمسی کے چاروں بڑے سیارے مُشتری، زُحل، یورینس اور نیپچون تشکیل پائے۔ زمین سمیت باقی تمام چھوٹے سیارے اور سیارچے کافی عرصہ بعد گرد و غبار کے باقی ماندہ ذرّات سے پیدا ہوئے۔

زمین پر زندگی کے آغاز کے پہلے باہمی اِنحصار کے اﷲ ربّ العزت کے تخلیق کردہ توازُن، ہم آہنگی اور تعاونِ باہمی نے پوری کائنات میں قوانینِ فطرت کو جنم دِیا اور پروان چڑھایا، جن کے تحت تمام کہکشائیں، ستارے، سیارے اور مختلف سیاروں پر زِندگی گزارنے والی مخلوقات اپنا وُجود برقرار رکھے ہوئے ہیں اور باہمی اِنحصار کے ساتھ مصروفِ عمل ہیں۔

کائنات کی اس شکل و صورت کو قرآنِ مجید یوں بیان کرتا ہے :

1. أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ أَفَلَا يُؤْمِنُونَO

(الانبياء، 21 : 30)

اور کیا کافر لوگوں نے نہیں دیکھا کہ جملہ آسمانی کائنات اور زمین (سب) ایک اِکائی کی شکل میں جڑے ہوئے تھے، پس ہم نے اُنہیں پھاڑ کر جدا کر دِیا، اور ہم نے (زمین پر) ہر زِندہ چیز (کی زندگی) کی نمود پانی سے کی، تو کیا وہ (اِن حقائق سے آگاہ ہو کر اَب بھی) اِیمان نہیں لاتےo

2. وَجَعَلْنَا فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَن تَمِيدَ بِهِمْ وَجَعَلْنَا فِيهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَO

(الانبياء، 21 : 31)

اور ہم نے زمین میں مضبوط پہاڑ بنا دیئے تاکہ ایسا (نہ) ہو کہ کہیں (زمین اپنے مدار میں) حرکت کرتے ہوئے اُنہیں لے کر کانپنے لگے اور ہم نے اس (زمین) میں کشادہ راستے (درّے) بنائے تاکہ لوگ (مختلف منزلوں تک پہنچنے کے لئے) راہ پا سکیںo

3. وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوظًا وَهُمْ عَنْ آيَاتِهَا مُعْرِضُونَO

(الانبياء، 21 : 32)

اور ہم نے سمآء (یعنی زمین کے بالائی کرّوں) کو محفوظ چھت بنایا (تاکہ اہلِ زمین کو خلا سے آنے والی مُہلک قوّتوں اور جارحانہ لہروں کے مُضر اَثرات سے بچائیں) اور وہ اُن (سماوِی طبقات کی) نشانیوں سے رُوگرداں ہیںo

4. وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَO

(الانبياء، 21 : 33)

اور وُہی (اﷲ) ہے جس نے رات اور دِن کو پیدا کیا اور سورج اور چاند کو (بھی)، تمام (آسمانی کرّے) اپنے اپنے مدار کے اندر تیزی سے تیرتے چلے جاتے ہیںo

5. وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِن فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَاءً لِّلسَّائِلِينَO

(فصلت، 41 : 10)

اور اُس نے اس (زمین کے) اندر بڑی برکت رکھی (قسم قسم کی کانیں اور نشوونما کی قوتیں) اور اُس میں (اپنی مخلوق کیلئے) چار مراحل میں (زمین) میں اُس کے ذرائعِ نِعَم رکھے، جو ہر طلبگار کیلئے برابر ہیںo

6. ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْضِ اِئْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَO

(فصلت، 41 : 11)

پھر وہ (اﷲ تعالیٰ) آسمان کی طرف متوجہ ہوا کہ وہ (اُس وقت) دُھواں (سا) تھا۔ پھر اُسے اور زمین کو حکم دِیا کہ تم دونوں (باہمی اِنحصار کے توازُن کے لئے) خوشی سے آؤ یا ناخوشی سے، اُن دونوں نے کہا کہ ہم (فطری نظام کے تحت) خوشی سے حاضر ہیںo

7. فَقَضَاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ فِي يَوْمَيْنِ وَأَوْحَى فِي كُلِّ سَمَاءٍ أَمْرَهَا وَزَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَحِفْظًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِO

(فصلت، 41 : 12)

پھر دو (خاص) مراحل میں سات آسمان بنا دیئے اور ہر آسمان کے اَحکام اُس میں بھیج دیئے، اور ہم نے آسمانِ دُنیا کو چراغوں سے رَونق بخشی اور اُس کو محفوظ (بھی) کر دِیا، یہ اِنتظام ہے زبردست (اور) علم والے ربّ کاo

تخلیقِ زمین اور اُس کا فطری اِرتقاء

  1. زمین اِبتدائی طور پر بے اِنتہا گرم تھی اور اِس پر کسی قسم کی فضا موجود نہ تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ ٹھنڈی ہوتی چلی گئی اور چٹانوں سے نکلنے والی گیسوں کے اِخراج سے اُس کے چاروں طرف ہوا کا ایک غلاف چڑھ گیا۔ زمین کے اِبتدائی دَور کی فضا ہرگز اِس قابل نہ تھی کہ ہم اُس میں زِندہ رہ سکتے۔ اُس میں آکسیجن بالکل نہیں تھی بلکہ ہائیڈروجن سلفائیڈ جیسی زہریلی گیسیں تھیں۔
  2. اُس وقت اﷲ ربّ العزّت نے زِندگی کچھ ایسی اِبتدائی حالتوں میں پیدا کی تھی جو سمندروں میں ہی پنپ اور پروان چڑھ سکتی تھی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اُس دوران میں ایٹموں کے ملنے کے نتیجے میں ایسی بڑی بڑی ساختیں پیدا ہونے لگ گئی ہوں گی، جنہیں ’میکرومالیکیولز‘ (macromolecules) کہا جاتا ہے، اور وہ امرِباری تعالیٰ سے سمندروں میں موجود دُوسرے ایٹموں سے ایسی ہی مزید ساختیں پیدا کرنے کے قابل ہو گئے ہوں گے۔ نئے مالیکیولوں نے مزید مالیکیولز کو جنم دِیا اور یوں اﷲ تعالیٰ نے زِندہ اَجسام کی خودکار اَفزائشِ نسل کو وُجود بخشا۔
  3. زِندگی کی اُن اِبتدائی شکلوں نے بہت سے زہریلے مادّے تحلیل کر دیئے اور آکسیجن کو جنم دِیا۔ یوں آہستہ آہستہ فضا اُن ترکیبی عناصر میں تبدیل ہوتی چلی گئی، جو آج رُوئے زمین پر بکثرت پائے جاتے ہیں اور اُس نو ترکیب شدہ فضا نے زِندگی کی اَعلیٰ اَقسام : حشرات، مچھلیوں، ممالیہ جانوروں اور بالآخر اَشرفُ المخلوقات نسلِ اِنسانی کو ترقی پذیر ہونے کا موقع فراہم کیا، تب اﷲ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو کرۂ ارضی کی خلافت کا تاج پہنا کر مبعوث فرمایا۔

مراحلِ تخلیقِ اَرض

زمین بھی اُنہی دو مراحل میں تخلیق ہوئی جن کا ذِکر پہلے گزر چکا ہے۔ قرآنِ مجید میں اِسے زمینی تخلیق کے ضمن میں یوں بیان کیا گیا ہے :

قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُ أَندَادًا ذَلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَO

(فصلت، 41 : 9)

آپ (اُن سے) پوچھئے کہ کیا تم اُس ذات کے مُنکر ہو جس نے زمین کو دو مراحل میں تخلیق کیا؟ اور (دُوسروں کو) اُس کا ہمسر ٹھہراتے ہو؟ وُہی تو تمام جہانوں کا پروردگار ہےo

جدید سائنسی تحقیقات کے محتاط اندازے کے مطابق زمین کی تخلیق آج سے کم و بیش 4 ارب 60 کروڑ سال پہلے گیس اور گرد و غبار کے بادل سے عمل میں آئی۔ اصل حقیقت سے اﷲ تعالیٰ ہی بہتر آگاہ ہے۔ یہاں ہمیں جدید سائنس قرآنِ مجید کے پیش کردہ حقائق کی بھی تصدیق کرتی نظر آتی ہے۔ علمِ طبقاتُ الارض (geology) کے جدوَل کے مطابق ظہورِ حیات سے پہلے کے مرحلے کو اَیزویک اِیرا (asoic era) کہتے ہیں۔ اُس دَور کے بارے میں یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ وہ تقریباً 4 ارب 5 کروڑ سالوں پر محیط تھا۔ اُس زمانے میں زمین کسی بھی نوعِ حیات کے لئے قابلِ سکونت نہ تھی۔ پھر آج سے تقریباً ساڑھے پانچ کروڑ سال قبل اِذنِ اِلٰہی سے زمین کے حالات کو اِبتدائی اَنواعِ حیات کے قابل بنایا گیا اور کرۂ ارضی پر حیات بیکٹیریا (bacteria) اور ایلجی (algee) کی شکل میں رُونما ہونے لگی۔ یہیں سے عملِ تخلیق کے دُوسرے مرحلے کا آغاز ہوتا ہے۔

مرحلۂ مابعدِ ظہورِ حیات

کرۂ ارضی پر ظہورِ حیات کے بعد کا مرحلہ چار اَدوار میں منقسم ہے۔ قرآنِ مجید اِس بارے میں یوں گویا ہوتا ہے :

وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَاءً لِّلسَّائِلِينَO

(فصلت، 41 : 10)

اور اُس نے اس (زمین کے) اندر بڑی برکت رکھی (قسم قسم کی کانیں اور نشوونما کی قوتیں) اور اُس میں (اپنی مخلوق کیلئے) چار مراحل میں (زمین) میں اُس کے ذرائعِ نِعَم رکھے، جو ہر طلبگار کیلئے برابر ہیںo

یہ جان کر اِسلام پر ہمارا یقین مزید پختہ ہوتا چلا جاتا ہے کہ جدید سائنس قرآنِ حکیم میں پیش کئے جانے والے اوّلین ظہورِ حیات کے بعد زِندگی کے چار مراحل کی مکمل طور پر بھرپور حمایت کرتی ہے۔

سائنسی تحقیقات جن چار اَدوار کو بیان کرتی ہیں وہ یہ ہیں :

  1. مرحلۂ ماقبلِ عہدِ حجری Proterozoic Era
  2. مرحلۂ حیاتِ قدیم Palaeozoic Era
  3. مرحلۂ حیاتِ وُسطیٰ Mesozoic Era
  4. مرحلۂ حیاتِ جدید Cainozoic Era

1۔ مرحلۂ ماقبلِ عہدِ حجری

اِس دَور کو Proterozoic Era کے علاوہ Precambrian Time کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ یہ stone age سے پہلے کا دور ہے۔ اُس دوران میں زمینی زندگی چار ابتدائی آثار کی شکل میں نمودار ہوئی :

i. First Life Cells iii. Protista
ii. Monera iv. Metazoa

2۔ مرحلۂ حیاتِ قدیم

یہ دورِ قدیم کی زِندگی (ancient life) کہلاتی ہے جس کا آغاز آج سے 55,00,00,000 سال پہلے ہوا تھا۔ یہ وہ دَور ہے جب کرۂ ارضی شروع شروع میں اِس قابل ہوا کہ اُس پر زندگی کا آغاز ہو سکے، تب اﷲ تعالیٰ نے زِندگی کو اُس کی سادہ ترین شکلوں میں سمندروں اور بعد اَزاں خشکی پر بھی پروان چڑھانا شروع کیا۔

اس دَور کو مزید درج ذیل حصوں (periods) میں تقسیم کیا گیا ہے :

i. Cambrian Period
ii. Ordovician Period
iii. Silurian Period
iv. Devonian Period
v. Carboniferous Period
vi. Permian Period

3۔ مرحلۂ حیاتِ وُسطیٰ

یہ زندگی کا وسطانی دَور ہے، جسے middle life کہتے ہیں۔ یہ وہ دَور ہے جب کرۂ ارضی پر ہر طرف عظیمُ الجثہ جانوروں کی فرمانروائی تھی۔ ڈائنوسار اُسی دَور میں پائے جاتے تھے۔ یہ دَور آج سے 24,80,00,000 سال پہلے شروع ہوا اور 18,30,00,000 سال تک قائم رہنے کے بعد آج سے تقریباً ساڑھے چھ کروڑ سال قبل اپنے اِختتام کو پہنچا۔

اُس دَور کے درج ذیل 3 نمایاں حصے ہیں :

i. Triassic Period
ii. Jurassic Period
iii. Cretaceous Period

4۔ مرحلۂ حیاتِ جدید

زندگی کی پیچیدہ شکلوں ڈائنوسار وغیرہ کی تباہی کے بعد ’مرحلہ حیاتِ جدید‘ کا آغاز ہوا جسے "modern life" کہتے ہیں۔ زندگی کے اِس مرحلے کو شروع ہوئے 6,50,00,000 سال بیت چکے ہیں۔ ہمیں سائنسی تحقیقات کی بدولت سب سے زیادہ معلومات اُسی دَور کے متعلق حاصل ہو سکی ہیں۔

اِس کی تقسیم مزید درج ذیل حصوں (periods) میں یوں کی گئی ہے :

i. Palaeocene Period
ii. Eocene Period
iii. Oligocene Period
iv. Miocene Period
v. Pliocene Period
vi. Pleistocene Period
vii. Holocene Period

اِن چاروں اَدوار میں رفتہ رفتہ زمین اِس قابل ہوتی چلی گئی کہ اُس پر اعلیٰ مخلوقات زندگی بسر کر سکیں۔ بیکٹیریا (Bacteria) اور ایلجی (Algae) سے شروع ہونے والے ’دورِ حیاتِ قدیم‘ کے بعد وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اِبتدائی پودوں اور سمندری مخلوقات کی تخلیق عمل میں آتی چلی گئی حتی کہ ’وسطی دورِ حیات‘ میں ڈائنوسار جیسے عظیمُ الجثہ دیو قامت جانور بھی پیدا ہوئے۔ تخلیقِ ارضی سے لے کر آج کے دِن تک کرئہ ارضی پر چار برفانی دَور بھی گزر چکے ہیں، جن میں سے آخری آج سے تقریباً 20,000 سال قبل رونما ہوا تھا۔ اسی اثناء میں جب زمینی ماحول اِس قابل ہوا کہ اُس پر حضرتِ انسان زندگی بسر کر سکے تو اﷲ ربّ العزت نے سیدنا آدم علیہ السلام کو خلافتِ ارضی کی خلعت سے سرفراز فرماتے ہوئے مبعوث فرمایا۔ آدم علیہ السلام کی تخلیق ’’خلقِ آخر‘‘ ہونے کے ناطے تخلیقِ خاص (special creation) ہے۔

جدید سائنسی تحقیقات کا دار و مدار اَزمنہ قدیم سے وابستہ حجری آثار (fossils) سے ہے جو کئی ملین سال کی قدامت کے حامل ہیں۔ قدیم جانوروں اور پودوں کی وہ باقیات جو پتھروں میں محفوظ ہیں اُن کے مطالعہ سے زمین پر رہنے والی قدیم مخلوقات کے ساتھ ساتھ ہمیں اِس بات کا بھی بخوبی اَندازہ ہوتا ہے کہ کرئہ ارض پر کس دَور میں کس قسم کے موسمی و جغرافیائی حالات رہے ہیں۔ مرنے والے اکثر جانوروں کے جسم دُوسرے جانوروں کی خوراک کی نظر ہو جاتے یا پھر گل سڑ کر ختم ہو جاتے مگر بعض دفعہ مُردہ جسم مکمل طور پر فنا ہو جانے سے قبل کسی دلدل یا ریت میں دفن ہو جاتا۔ اِرد گرد کی ریت وغیرہ سے معدنی ذرّات اُس مُردہ جسم میں شامل ہو کر اُسے سخت اور محفوظ بنا دیتے۔ اور یوں کروڑوں سال بعد آج ہم نے اُن جسموں کو پتھروں میں سے نکال کر اپنی تحقیق کا موضوع بنا لیا اور اُن فوسلز کی مدد سے بے شمار قرآنی حقائق بعینہ ثابت ہوتے دِکھائی دے رہے ہیں۔ جوں جوں معدُومیات (fossils) پر تحقیق میں پیش رفت ہوتی جا رہی ہے توں توں اﷲ ربّ العزّت کی خالقیت نکھر کر سامنے آ رہی ہے۔ وہ دِن دُور نہیں جب سائنس خود اِنسان کو اللہ تعالیٰ کی دہلیز تک کھینچ لائے گی اور اِنسان پکار اُٹھے گا :

رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلاً.

(آل عمران، 3 : 191)

اے ہمارے ربّ! تو نے یہ سب کچھ بے حکمت اور بے تدبیر نہیں بنایا۔

زمینی زندگی کا پانی سے آغاز

اِس عنصرِ تخلیق کی وضاحت بھی قرآن نے کر دی ہے۔ جس میں اِس اَمر کی صراحت ہے کہ زِندگی کا آغاز پانی سے ہوا ہے، بلکہ زیریں اور بالائی کائنات کی تخلیق کے وقت بھی ہر سو پانی ہی پانی تھا۔

ارشادِ ربانی ہے :

وَهُوَ الَّذِي خَلَق السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ.

(هود، 11 : 7)

اور وُہی (اﷲ) ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ اَدوار میں پیدا فرمایا اور (اُس سے قبل) اُس کا تختِ اِقتدار پانی پر تھا۔

اِس آیتِ کریمہ سے واضح طور پر پانی کا جملہ مظاہرِ حیات پر مقدّم ہونا ثابت ہوتا ہے۔ یعنی زمین و آسمان کی تخلیق سے پہلے (عالمِ مادّی میں صرف) پانی تھا۔

ایک اور مقام پر اِرشاد فرمایا :

وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ أَفَلَا يُؤْمِنُونَO

(الانبياء، 21 : 30)

اور ہم نے (زمین پر) ہر زندہ چیز (کی زندگی) کی نمود پانی سے کی۔ کیا وہ (اِس حقیقت سے آگاہ ہو کر بھی) اِیمان نہیں لاتے؟o

اِس آیتِ قرآنی نے بہت بڑی سائنسی حقیقت (scientific fact) کو بیان کیا ہے جس کی تائید دورِ جدید کی سائنس نے آج کر دی ہے۔

تخلیقِ ارضی سے تخلیقِ حیات تک کا درمیانی زمانہ جو "Azoic Era" کہلاتا ہے اور جسے قرآن مجید نے یَوْمَیْن (two periods) سے تعبیر کیا ہے وہ زمانہ قبلِ ظہورِ حیات ہے۔ جو پانی (water) اور پہاڑوں و چٹانوں (mountains & rocks) کا زمانہ ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ پہاڑوں کا وجود تو زمین کے معرضِ وُجود میں آنے کے بعد عمل میں آیا مگر پانی اس وقت سے تھا جب زمین وآسمان پر مشتمل طبیعی کائنات کی تقسیم بھی عمل میں نہیں آئی تھی۔

زمین پر زندگی کے آغاز کے اِبتدائی زمانے میں بھی زندگی کے آثار اور مظاہر خشکی پر نظر نہیں آتے بلکہ صرف پانی میں نظر آتے ہیں۔ جدید سائنسی تحقیق نے اِس قرآنی امر کو ثابت کر دیا ہے کہ اُس دَور کے پہلے زمانے (Pre-Cambrian Era) میں زندگی کے جملہ مظاہر وآثار فقط سمندروں تک ہی محدُود تھے اور اُن کا خشکی پر کوئی وُجود نہ تھا۔ قدیم حیات کے دُوسرے دَور Palaeozoic Era میں بھی اِبتداءً زِندگی فقط پانی تک محدُود تھی اور خشکی پر اُس کا نام و نشان تک نہ تھا۔

جدید سائنسی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ Palaeozoic Era کے شروع میں Cambrian Period اور Ordovician Period کے دونوں عرصوں میں آبی حیات تو کرۂ ارضی پر موجود تھی مگر اُس عرصے میں خشکی کی زِندگی کا کوئی سراغ نہیں ملتا، لہٰذا یہ بات سائنسی تحقیق سے بھی پایۂ تحقیق کو پہنچ چکی ہے کہ قرآنِ مجید کا اِعلان بر حق ہے کہ ’’ہم نے زندگی کے جملہ مظاہر کا آغاز پانی سے کیا ہے‘‘۔ خشکی پر زندگی کا آغاز Silurian Period میں ہوا، جس میں سب سے پہلے Cooksonia نامی پودے معرضِ وُجود میں آئے۔ یہ آج سے تقریباً 43,80,00,000 سال پہلے کی بات ہے۔ یہ پودے بغیر پتوں کے تھے اور سمندروں کے کناروں پر اُگے یعنی زندگی کی پہلی علامات جو خشکی پر ظہور پذیر ہوئیں وہ بھی پانی سے ہی وجود میں آئیں جبکہ اُس وقت تک پانی میں زِندگی پودوں، کیڑوں، لارووں، مچھلیوں اور دِیگر چھوٹے چھوٹے جانوروں کی شکل میں کئی اِرتقائی منازِل طے کر چکی تھی۔ پھر اُس سے 3 کروڑ سال بعد اگلے عرصے Devonian Period میں زمین کے خشک حصوں پر کافی حد تک سبزہ نظر آنے لگا۔ اِسی عرصے میں درختوں کو وُجود ملااَور اُسی آخری حصے میں خشکی پر بھی بغیر پروں کے کیڑے مکوڑے (wingless insects)، مکڑیاں (spiders) اور دیگر چھوٹے جانور ظہور پذیر ہوئے۔

اِن تاریخی شواہد پر کی جانے والی سائنسی تحقیقات سے اِس اَمر کی مکمل طور پر تصدیق ہو جاتی ہے کہ زمینی زِندگی کا آغاز پانی ہی سے ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ اِبتداء سے اَب تک زمین کا غالب حصہ پانی پر ہی مشتمل ہے۔ ابھی تک زمین کا 29 فیصد حصہ خشکی پر مشتمل ہے اور باقی دو تہائی سے بھی زیادہ حصہ پانی ہے۔ قرآنِ مجید نے سورۃُ الانبیاء میں آج سے صدیوں قبل جب کوئی اِن حقائق کا تصوّر بھی نہیں کر سکتا تھا اِس حقیقت کا اِعلان کرتے ہوئے سوال کیا :

أَفَلَا يُؤْمِنُونَ؟

(الأنبياء، 21 : 30)

کیا وہ (اِن حقائق سے آگاہ ہو کر بھی) ایمان نہیں لاتے؟

یہ وہ چیلنج ہے جسے عالمِ کفر تک پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے، مگر یہ اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک مسلمان علماء ومفسرین خود سائنسی علوم اور تحقیقات سے کماحقہ آگہی حاصل نہیں کریں گے۔ دَورِ جدید کے اِن سائنسی حقائق اور اِنکشافات کا بغور مطالعہ کئے بغیر قرآنِ مجید کی عظمت وحقانیت کے اَیسے ہزاروں گوشے ہماری نظروں میں نہیں آ سکتے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved