Islamic Teachings Series (5): Cleanliness and Prayer

نماز کا طریقہ اور مسائل

سوال نمبر 105: نماز کی ظاہری شرائط کیا ہیں؟

جواب: وہ شرائط جن کی بجا آوری کو نماز ادا کرنے کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے، پانچ ہیں:

  1. طہارت
  2. ستر
  3. پابندیِ وقت
  4. استقبالِ قبلہ
  5. نیت

ان پانچ ظاہری آداب و شرائط کی پابندی کیے بغیر شرعی اعتبار سے نماز نہیں ہوتی۔ اس لیے ظاہری آداب پر توجہ مرکوز کرنا ضروری ہے کیونکہ جب تک ظاہری تقاضے پورے نہ ہوں گے اس وقت تک نماز میں روحانی لذت اور معراج کے ثمرات و برکات تک رسائی نا ممکن ہے۔

نماز کے ظاہری آداب

نماز کی ظاہری پانچ شرائط کی تفصیل درج ذیل ہے:

1۔ طہارت

نماز کی سب سے پہلی شرط ’’پاکیزگی و طہارت‘‘ ہے جو اس بات کا متقاضی ہے کہ حالتِ نماز میں داخل ہونے سے پہلے جسم، جگہ اور لباس اچھی طرح سے پاک و صاف ہوں کیونکہ اس کے بغیر نماز کی ادائیگی کے شرعی تقاضے پورے نہیں کیے جا سکتے۔ قرآن حکیم میں ارشاد ہوتا ہے:

یٰـبَنِیْٓ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ.

الاعراف، 7: 31

’’اے اولادِ آدم! تم ہر نماز کے وقت اپنا لباسِ زینت (پہن) لیا کرو۔‘‘

2۔ ستر

نماز کی دوسری شرط ’’ستر‘‘ ہے یعنی جسم کے مخصوص حصے لباس سے ڈھکے ہوئے ہوں۔ فقہی اصطلاح میں اسے ’’ستر عورت‘‘ کہا جاتا ہے۔ مرد کے لیے ستر ناف سے لے کر گھٹنوں تک کا بدن اور عورت کے لیے چہرہ، ہاتھ اور پاؤں کے علاوہ تمام بدن کا چھپانا ضروری ہے۔ کتب فقہ میں مرد اور عورت کے جسم کے ان مخصوص حصوں کی تفصیل بیان کر دی گئی ہے جن کا ڈھانپنا نمازی کے لیے ازروئے شرع فرض قرار دیا گیا ہے اگر ستر پوری طرح ملحوظ نہ رکھا جائے تو نماز نہیں ہو گی۔

3۔ پابندیِ وقت

نماز کا تیسری شرط ’’نماز مقررہ اوقات کے اندر ادا کرنا‘‘ ہے جیسا کہ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

اِنَّ الصَّلٰوةَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کِتٰـبًا مَّوْقُوْتًاo

النساء، 4: 103

’’بے شک نماز مومنوں پر مقررہ وقت کے حساب سے فرض ہے۔‘‘

نماز ادا کرنے کی دو حدیں ہیں، ایک وقت شروع ہونے کی ابتدائی حد اور دوسری ختم ہونے کی آخری حد اگر ان دو حدود کے اندر نماز ادا کی جائے تو وہ ادا ہو جائے گی ورنہ نہیں مثلاً نماز فجر کو صبح صادق سے لے کر طلوع شمس سے پہلے تک کی حدود میں ادا کرنا ہے، ظہر کی نماز کا وقت سورج ڈھلنے کے بعد شروع ہوتا ہے اگر آپ نے اس سے قبل نماز ادا کر لی تو وہ ظہر کی نماز تصور نہیں ہو گی۔ اسی طرح نماز ظہر کی آخری حد اس وقت تک ہے جب تک ہر چیز کا سایہ اس کے اصل سایہ کے علاوہ دوگنا نہ ہو جائے۔ اس کے بعد چونکہ نماز عصر کا وقت شروع ہو جاتا ہے اس لیے اس کے بعد ظہر کی نماز ادا نہیں ہو سکتی۔ نماز عصر کی آخری حد غروب آفتاب سے قبل ہے۔ اسی طرح نماز مغرب کا وقت غروب آفتاب سے لے کر شفق (یعنی مغرب کی طرف سے آسمان کی سرخی اور سفیدی) کے غائب ہونے تک ہے، جس کے گزر جانے کے بعد عشاء کا وقت شروع ہو جاتا ہے جو صبح صادق ہونے سے پہلے تک رہتا ہے۔ نماز پنجگانہ کے اوقات کی مقررہ حدود کی پابندی ہر مسلمان پر فرض کر دی گئی ہے۔

4۔ اِستقبالِ قبلہ

چوتھی شرط نماز میں داخل ہونے سے پہلے اپنے آپ کو ’’قبلہ رخ‘‘ کھڑا کرنا ہے۔ حالت نماز میں کھڑے ہونے سے پہلے چہرے اور پورے جسم کا قبلہ رخ کر لینا ضروری ہے تاہم حالت سفر میں اگر سمت قبلہ کا تعین کرنا ممکن نہ ہو تو انسان کو مجبوری کی بنا پر اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے چنانچہ اس صورت میں کسی بھی سمت جس کی طرف اس کا گمان غالب ہو کہ اس سمت قبلہ ہوگا تو اس سمت کی طرف رخ کر کے کھڑا ہونے سے نماز ادا ہو جائے گی۔

5۔ نیت

نماز کی پانچویں شرط ’’نماز کی نیت‘‘ ہے۔ نیت دل کے ارادے کو کہتے ہیں۔ اس کو الفاظ میں بیان کرنا لازم نہیں کیونکہ نیت بہرحال دل کی کیفیت کا نام ہے۔ ہاں زبان سے کر لینا مستحب اور بہتر ہے۔ حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا:

إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ.

بخاری، الصحیح، کتاب بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی إلی رسول اللہ ﷺ، 1:3، رقم: 1

’’اعمال کا دار و مدار تو بس نیتوں پر ہے۔‘‘

نماز کے ان پانچ ظاہری شرائط کی پابندی کیے بغیر شرعی اعتبار سے نماز نہیں ہوتی۔

سوال نمبر106: نماز میں نیت کے ظاہری و باطنی آداب کیا ہیں؟

جواب: نماز میں نیت کا ظاہری ادب یہ ہے کہ نمازی جہاں کہی نماز ادا کرنا چاہے۔ اسے چاہیے کہ وہ اپنے پورے جسم کو قبلہ رخ کرلے اور فرض یا نفل جس نماز کا ارادہ رکھے دل سے اس کی نیت کرے زبان سے نیت کے الفاظ کہنا بہتر ہے خواہ کسی زبان میں ہو تاکہ دل اور زبان دونوں میں موافقت ہو جائے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا:

‘‘آدمی مومن نہیں ہوتا یہاں تک کہ اس کا دل زبان کے ساتھ اور زبان دل کے ساتھ برابر نہ ہو۔‘‘

منذری، الترغیب والترھیب، 1: 75، رقم: 223

نیت کے بغیر نماز عام حرکات و سکنات کا مجموعہ تو ہو سکتی ہے لیکن اسے نماز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ نیت اس قلبی کیفیت کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ جو باطنی ادب، مشاہدہ جمال محبوب اور اس کی حضوری کی تڑپ و لگن سے عبارت ہے اور یہی طالب حق کی آخری منزل ہے۔ یہی اضطراب و بے قراری اس منزل کی طرف عاشق کو سرگرم سفر رکھتی ہے جو اس کا منتہائے مقصود ہے۔

سوال نمبر 107: استقبالِ قبلہ کے ظاہری و باطنی آداب کیا ہیں؟

جواب: نماز میں داخل ہونے سے پہلے اپنے آپ کو قبلہ رخ کھڑا کر لینے کو استقبال قبلہ کہتے ہیں۔ حالت نماز میں کھڑا ہونے سے پہلے چہرے اور پورے جسم کو قبلہ رخ کر لینا ضروری ہے تاہم حالت سفر میں اگر سمت قبلہ کا تعین کرنا ممکن نہ ہو تو انسان کو مجبوری کی بناء پر اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے چنانچہ اس صورت میں کسی بھی سمت رخ کر کے کھڑا ہونے سے نماز ادا ہو جائے گی۔

قرآن حکیم میں استقبال قبلہ کے باطنی ادب کا ذکر یوں کیا ہے:

تَتَجَافٰی جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا.

السجدۃ، 32: 16

’’ان کے پہلو اُن کی خوابگاہوں سے جدا رہتے ہیں اور وہ اپنے رب کو خوف اور امید (کی مِلی جُلی کیفیت) سے پکارتے ہیں۔‘‘

نماز کے باطنی ادب کا تقاضا یہ ہے کہ ساری زندگی یاد محبوب کے لیے وقف ہو جائے اور قلبی توجہ کا تمام تر میلان اس کی ذات کی طرف رہے۔ یہ کیفیت ہو تو پھر کوئی لمحہ محبوب کی یاد سے خالی نہیں گزرتا اور عشق و محبت کی محویت و استغراق کا وہ عالم نصیب ہوتا ہے کہ دل میں یاد محبوب کے سوا اور کسی کی یاد نہیں رہتی۔

سوال نمبر 108: فرض، واجب، سنت اور نفل نمازوں کی نیت کیسے کی جائے؟

جواب: نیت دل کے ارادہ کا نام ہے صرف دل سے نماز کی نیت کر لینا کافی ہے لیکن اگر زبان سے کہہ لے تو بھی درست اور باعثِ ثواب ہے۔

  • فرض نماز کی نیت

میں نیت کرتا / کرتی ہوں چار رکعت فرض نماز ظہر کی، واسطے اللہ تعالیٰ کے، منہ طرف کعبہ شریف (اگر امام کے پیچھے ہوں تو پھر کہا جاے پیچھے اس امام کے) اللهُ اَکْبَر۔

  • سنت نماز کی نیت

میں نیت کرتا / کرتی ہوں چار رکعت سنت نماز عصر کی، واسطے اللہ تعالیٰ کے، منہ طرف کعبہ شریف کے اللهُ اَکْبَر۔ یہ سنتیں غیر موکدہ ہیں۔

  • نفل نماز کی نیت

میں نیت کرتا/کرتی ہوں دو رکعت نفل نماز عشاء کی، واسطے اللہ تعالیٰ کے، منہ طرف کعبہ شریف کے، اللهُ اَکْبَر۔

  • واجب نماز کی نیت

میں نیت کرتا/کرتی ہوں تین رکعت وتر نماز عشاء کی، واسطے اللہ تعالیٰ کے، منہ طرف کعبہ شریف کے، اللهُ اَکْبَر۔

سوال نمبر 109 : فرض کسے کہتے ہیں؟

جواب: فرض وہ حکمِ شرعی ہے جو دلیل قطعی (قرآنی حکم اور حدیث متواتر) سے ثابت ہو یعنی ایسی دلیل جس میں شبہ کی کوئی گنجائش نہ ہو جیسے نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ۔ یہ وہ بنیادی ارکان ہیں جن کا ادا کرنا ضروری ہے اور ادا کرنے والا ثواب کا مستحق ہوتا ہے۔ اگر کوئی مسلمان ان کی فرضیت کا انکار کرے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ ان کو بغیر عُذر ترک کرنے والا فاسق اور سزا کا حقدار ہوتا ہے۔

سوال نمبر 110 : واجب کسے کہتے ہیں؟

جواب: واجب وہ حکم شرعی ہے جو دلیلِ ظنی سے ثابت ہو، اور جسے ادا کرنے کا شرع نے لازمی مطالبہ کیا ہو اس کے بجا لانے پر ثواب اور چھوڑنے پر سزا ملتی ہے البتہ فرض کے انکار سے کفر لازم آتا ہے اور واجب کے انکار سے کفر لازم نہیں آتا۔

سوال نمبر 111 : سنت کسے کہتے ہیں؟

جواب: سنت حضور نبی اکرمﷺ کا ایسا طریقۂ جاریہ ہے جو آپﷺ کے قول یا فعل سے ثابت ہو جیسے وضو میں بِسم اللہ پڑھنا اور تمام اعضاء کو تین مرتبہ دھونا، اس کے کرنے پر اجر اور نہ کرنے پر ملامت ہے۔

سوال نمبر 112 : سنت کی کتنی اقسام ہیں؟

جواب: سنت کی دو اقسام ہیں:

  1. سنتِ مؤکدہ
  2. سنتِ غیر مؤکدہ

سوال نمبر 113 : سنتِ مؤکدہ سے کیا مراد ہے؟

جواب: سنتِ مؤکدہ وہ عمل ہے جسے حضور نبی اکرمﷺ نے ایک دو مرتبہ ترک کرنے کے علاوہ ہمیشہ بطورِ عبادت اپنایا ہو اور اس کی اقامت، تکمیلِ دین کی خاطر ہو جیسے اذان، اقامت، نماز باجماعت وغیرہ سنتِ مؤکدہ ہیں۔ یہ ایسے اعمال ہیں جن کو ادا کرنے کی حضور نبی اکرمﷺ نے تاکید فرمائی ہے۔ اس کے ادا کرنے پر اجر ملتا ہے اور بغیر عذر چھوڑ دینے کی عادت قابلِ ملامت و مذمت ہے۔

سوال نمبر 114 : سنتِ غیر مؤکدہ سے کیا مراد ہے؟

جواب: سنتِ غیر مؤکدہ سے مراد ایسے امور ہیں جن کی حضور نبی اکرمﷺ نے پابندی نہ کی ہو یعنی کبھی کیا ہو اور کبھی نہ کیا ہو جیسے عصر کے فرضوں سے پہلے چار رکعت، ہر ہفتے میں سوموار اور جمعرات کے روزے، وغیرہ۔ سنتِ غیر مؤکدہ کو سنتِ زائدہ بھی کہتے ہیں۔

سوال نمبر 115 : مستحب کسے کہتے ہیں؟

جواب: مستحب ایسا فعل ہے جس کے کرنے والے کو ثواب ہو گا اور نہ کرنے والے کو گناہ اور عذاب نہیں ہو گا۔ جیسے وضو کے بعد دو رکعت نفل پڑھنا مستحب ہے۔

سوال نمبر 116 : مباح کسے کہتے ہیں؟

جواب: وہ کام جو شرعاً حلال ہو نہ حرام۔ اس فعل کو اپنی مرضی سے کرنے یا نہ کرنے پر عتاب ہے نہ ثواب اور یہی مباح ہے۔ مثلاً لذیذ کھانے کھانا اور نفیس کپڑے پہننا۔

سوال نمبر 117 : حرام کسے کہتے ہیں؟

جواب: حرام وہ شے یا فعل ہے جس سے لازمی طور پر رک جانے کا مطالبہ کیا جائے یا یوں سمجھ لیں کہ جس طرح فرض کا کرنا ضروری ہے اسی طرح حرام کا چھوڑنا ضروری ہے۔ جیسے مردار، خون، خنزیر کا کھانا اور نا حق قتل، بدکاری، سود، شراب نوشی، والدین کی نافرمانی کرنا، غیبت کرنا اور جھوٹ بولنا وغیرہ سب حرام ہیں، ان سے بچنا ضروری ہے کیونکہ ان کی حرمت دلیلِ قطعی سے ثابت ہے۔ حرام کا چھوڑنا لازمی ہے اور اس کا مرتکب سزا کا مستحق ہوتا ہے جبکہ اس کا انکار کرنے والا کافر ہو جاتا ہے اور حرام جانتے ہوئے جو اس کا ارتکاب کرے وہ فاسق وفاجر ہے۔

سوال نمبر 118 : مکروہ کسے کہتے ہیں؟

جواب: مکروہ وہ شے یا فعل ہے جس کے ترک کرنے کا مطالبہ حتمی اور لازمی طور پر نہ کیا گیا ہو۔ مکروہ کی دو قسمیں ہیں:

  1. مکروهِ تحریمی
  2. مکروهِ تنزیہی

سوال نمبر 119 : مکروهِ تحریمی اور مکروهِ تنزیہی میں کیا فرق ہے؟

جواب: 1) مکروهِ تحریمی: وہ فعل ہے جس سے لازمی طور پر رک جانے کا مطالبہ ہو اور وہ مطالبہ دلیلِ ظنی سے ثابت ہو۔ (یہ واجب کے مقابل ہے اور اس کو اپنانے سے عبادت ناقص ہو جاتی ہے)۔ مثلاً نماز وتر کا چھوڑنا، نمازِ وتر چونکہ واجب ہے اور حضور نبی اکرمﷺ نے اپنی زندگی میں اس کو کبھی ترک نہ فرمایا اور اس کے چھوڑنے پر وعید سنائی ہے۔

أَلْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ یُوتِرْ فَلَیْسَ مِنَّا، اَلْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ یُوْتِرْ فَلَیْسَ مِنَّا، اَلْوِتْرُ حَقُّ فَمَنْ لَمْ یُوتِرْ فَلَیْسَ مِنَّا.

أبوداؤد، السنن، کتاب الصلاۃ، باب فیمن لم یوتر، 1:527، رقم: 1419

’’وتر حق ہے اور جو وتر ادا نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں ہے وتر حق ہے اور جو وتر ادا نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں ہے وتر حق ہے اور جو وتر ادا نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔‘‘

2) مکروهِ تنزیہی: وہ فعل ہے جس کو ترک کرنے کے مطالبہ میں شدت نہ پائی جائے مثلاً محرم الحرام کی صرف دسویں تاریخ کا روزہ رکھنا، عورت کا بلا اجازتِ خاوند نفلی روزہ رکھنا۔

سوال نمبر 120: تکبیر تحریمہ سے کیا مراد ہے؟

جواب: تکبیر تحریمہ سے مراد نماز کا آغاز کرتے وقت اللہ اکبر کہنا ہے۔ اس تکبیر کے کہنے سے نماز شروع ہو جاتی ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

مِفْتَاحُ الصَّلٰوةِ الطُّهُوْرُ، وَتَحْرِیْمُهُا التَّکْبِیْرُ، وَتَحْلِیْلُهَا التَّسْلِیْمُ.

ترمذی، الجامع الصحیح، ابواب الصلوۃ عن رسول اللہ ﷺ، باب ما جاء فی تحریم الصلاۃ وتحلیلھا، 1:278، رقم: 238

’’نماز کی کنجی وضو ہے، اس کی تحریم اللہ اکبر کہنا ہے (یعنی اس کا آغاز اللہ اکبر کہنے سے ہے) اور اس کی تحلیل (اختتام) سلام پھیرنا ہے۔‘‘

سوال نمبر 121: تکبیر تحریمہ کا ظاہری طریقہ اور باطنی ادب کیا ہے؟

جواب: تکبیر تحریمہ کا ظاہری طریقہ درج ذیل حدیث مبارکہ سے ثابت ہے:

حضرت مالک بن حویرث سے مروی ہے کہ

أَنَّہٗ رَایٰ نَبِیَّ اللهِ ﷺ. وَقَالَ حَتّٰی یُحَاذِیَ بِھِمَا فُرُوْعَ أُذْنَیْهِ.

مسلم، الصحیح، کتاب الصلوۃ، باب استحباب رفع الیدین، 1:293، رقم: 391

’’انہوں نے (بوقت تکبیر تحریمہ) حضور نبی اکرم ﷺ کو کانوں کی لو تک ہاتھ بلند کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘

2۔ عورت ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھائے۔ عبداللہ بن زیتون بیان کرتے ہیں:

رأیت أم الدرداء رضي الله عنها ترفع کفیھا حذو منکبیھا حین تفتتح الصلاة.

ابن ابی شیبۃ، المصنف، 1: 216، رقم: 2470

’’میں نے حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا کو نماز شروع کرتے وقت ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے ہوئے دیکھا۔‘‘

3۔ حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

إِذَا صَلَّیْتَ فَاجْعَلْ یَدَیْکَ حِذَاءَ أُذْنَیْکَ وَالْمَرْأَةُ تَجْعَلْ یَدَیْھَا حِذَاءَ ثَدْیَیْھَا.

ہیثمی، مجمع الزوائد، 2: 103

’’جب تم نماز پڑھو تو اپنے ہاتھ کانوں تک اٹھاؤ اور عورت اپنے ہاتھ سینے تک اٹھائے۔‘‘

باطنی ادب

تکبیر تحریمہ کا باطنی ادب یہ ہے کہ بندہ مادی چیزوں کی کشش و رعنائی سے اپنا دھیان ہٹا لے اور جھوٹی آرزؤں، تمناؤں کے سراب سے باہر نکل کر اپنا قلبی تعلق، محبوب حقیقی کی ذات سے اس حد تک استوار کرلے کہ دنیا کی محبت اور لذت کی کوئی رمق بھی اس کے دل میں باقی نہ رہے، پس اس باطنی ادب کا حق اس وقت تک ادا نہ ہوگا جب تک قرآن حکیم کے اس ارشاد کے مطابق بندے کی طبیعت کا میلان ما سوا سے کٹ کر سراسر ذات باری تعالیٰ کی طرف نہ ہو جائے۔

وَ اذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلًاo

المزمل، 73: 8

’’اور آپ اپنے رب کے نام کا ذِکر کرتے رہیں اور (اپنے قلب و باطن میں) ہر ایک سے ٹوٹ کر اُسی کے ہو رہیں۔‘‘

مندرجہ بالا آیت کریمہ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر اس قدر کثرت و تواتر کے ساتھ کیا جائے کہ وہ وظیفہ حیات بن جائے اور اسے ورد زبان کرنے سے تھکن، ماندگی اور بیزاری کے آثار ایک لمحہ کے لیے بھی طبیعت میں پیدا نہ ہوں بلکہ اس کی یاد بندے کے دل میں اس حد تک جاگزیں ہو جائے کہ پھر کبھی بھولے سے بھی غیر اللہ کا خیال اس کے دل میں نہ آسکے۔

حکایت ہے کہ کسی نے حضرت شیخ ذو النون مصریؒ سے نماز کی امامت کے لیے کہا، انہوں نے بہت پس وپیش کیا لیکن لوگوں کے بڑھتے ہوئے اصرار کو دیکھ کر مصلی پر کھڑے ہوگئے ابھی تکبیر تحریمہ کے لیے اللهُ اَکْبَرُ کہا ہی تھا کہ بے ہوش ہو کر گر پڑے اور کافی دیر تک اسی حالت میں پڑے رہے۔

گویا اس مرد حق نے ابھی زبان سے اللہ کی کبریائی کااقرار کیا ہی تھا کہ الوہی عظمت و جبروت کا نظارہ کر گیا، زبان سے اللہ کی عظمت و بزرگی کا اظہار کرنا تو آسان ہے لیکن لوح دل پر اس کی عظمت و کبریائی کا نقش کر لینا گویا جان سے گزر جانا ہے۔

پس تکبیر تحریمہ کے باطنی ادب میں ڈوب کر جب بندہ خود کو ربِ کائنات کے حضور پیش کرتا ہے تو اسے توکل و استغنا کی وہ دولت نصیب ہو جاتی ہے جس کی بدولت دنیا و ما فیھا کی ہر چیز اس کی نظر میں ہیچ اور بے وقعت ہو جاتی ہے اور غیر اللہ پر اس کا اعتماد جاتا رہتا ہے اور نتیجتاً اس کے دل سے دنیا کا ہر خوف نکل جاتا ہے۔

سوال نمبر 122: قیام کا ظاہری طریقہ اور باطنی ادب کیا ہے؟

جواب: قیام میں مرد ناف کے نیچے دایاں ہاتھ بائیں کے اوپر اس طرح رکھے کہ دائیں ہتھیلی بائیں ہتھیلی کی پشت پرہو اور چھوٹی انگلی اور انگوٹھے کا حلقہ بنا کر کلائی پکڑے اور باقی تین انگلیاں کلائی پر رکھے۔

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کا قول ہے:

کَانَ النَّاسُ یُؤْمَرُوْنَ أَنْ یَضَعَ الرُّجُلُ الْیَدَ الْیُمْنَی عَلَی ذِرَاعِهِ الْیُسْرَی فِي الصَّلَاةِ.

بخاری، الصحیح، کتاب صفۃ الصلاۃ، باب وضع الیمنی علی الیسری، 1:259، رقم: 707

’’لوگوں سے کہا جاتا تھا کہ آدمی نماز میں اپنے دائیں ہاتھ کو اپنی بائیں کلائی پر رکھے۔‘‘

جبکہ عورت قیام میں سینہ کے اوپر داہنے ہاتھ کی ہتھیلی بائیں ہاتھ کی پشت پر رکھے گی۔

باطنی ادب

قیام کا باطنی ادب مجاہدہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا:

وَقُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰـنِتِیْنَo

البقرۃ، 2: 238

’’اور اللہ کے حضور سراپا ادب و نیاز بن کر قیام کیا کرو۔‘‘

اس آیت میں اللہ تعالیٰ کا رؤئے سخن اپنے بندوں کی طرف ہے کہ میرے حضور سراپا عجز و نیاز اور پیکر ادب بن کر اس غلام کی طرح کھڑے ہو جاؤ جو اپنے آقا کے روبرو ادب و نیاز سے اپنی نگاہیں اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا۔

پس قیام کا باطنی ادب بندے کو یہ سکھاتا ہے کہ غلامی اور اطاعت صرف ایک ہی ذات کی ہونی چاہیے جو علیم و خبیر اور غالب و کار ساز ہے۔ غیر کی غلامی سے تن اور من کی دنیا اجڑ کر رہ جاتی ہے جب بندہ ایک عظیم و برتر شہنشاہ اور کائنات کے خالق و مالک کا تصور اپنے اوپر حاوی کر لیتا ہے تو اس کے دل میں وہ رقت اور سوز و گداز پیدا ہو جاتا ہے کہ آنکھیں پرنم ہو جاتی ہیں، خود سپردگی کی کیفیت دل میں گھر کر لیتی ہے۔ دنیا کا ہر خوف دل سے نکل جاتا ہے اور دھیان میں اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی کے سوا اور کسی تصور کی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی۔

سوال نمبر 123: قیام میں نظر کہاں ہونی چاہیے؟

جواب: قیام میں نظر سجدہ کی جگہ پر ہونی چاہیے۔

سوال نمبر 124: قرأت کا ظاہری و باطنی ادب کیا ہے؟

جواب: قرأت کے ظاہری ادب کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا ہے:

فَاقْرَئُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُراٰنِ.

المزمل، 73: 20

’’پس جتنا آسانی سے ہو سکے قرآن پڑھ لیا کرو۔‘‘

دورانِ نماز اللہ تعالیٰ نے اتنا قرآن حکیم پڑھنے کی رخصت دی ہے جتنا نمازی آسانی سے تلاوت کرسکے اور جس سے وہ طبیعت پر بوجھ اور اکتاہٹ محسوس نہ کرے۔ نماز میں قرأت کاظاہری طریقہ یہ ہے کہ نمازی قیام کے فوراً بعد ثناء یعنی سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ پڑھے کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

کَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَالَ: سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ، وَتَبَارَکَ اسْمُکَ، وَتَعَالٰی جَدُّکَ وَلَا إِلٰهَ غَیْرُکَ.

ترمذی، الجامع الصحیح، أبواب الصلوٰۃ، باب ما یَقول عند افتتاح الصلاۃ، 1: 283، رقم: 243

’’حضور نبی اکرم ﷺ جب نماز شروع فرماتے تو سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالٰی جَدُّکَ وَلَا إِلٰهَ غَیْرُکَ پڑھتے۔‘‘

اِس کے بعد تعوذ اور تسمیہ کے ساتھ سورۃ فاتحہ پڑھنے کے بعد کسی سورت کی کم اَز کم تین چھوٹی یا ایک بڑی آیت تلاوت کرے۔

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَّمْ یَقْرَأْ بِالْحَمْدِ وَسُوْرَۃٍ فِي فَرِیْضَۃٍ أَوْ غَیْرِھَا.

ترمذی، الجامع الصحیح، أبواب الصلاۃ، باب ما جاء فی تحریم الصلاۃ و تحلیلھا، 1: 278، رقم: 238

’’اس (واحد) شخص کی نماز نہیں ہوگی جس نے سورہ فاتحہ اور اس کے ساتھ کوئی اور سورہ نہ پڑھی خواہ وہ فرض نماز ہو یا اس کے علاوہ۔‘‘

نماز میں قرأت کا باطنی ادب دوامِ ذکر ہے اس سے مراد یہ ہے کہ ذکرِ الٰہی بندے کے رگ و پے میں اس طرح سما جائے کہ بندہ اس کی گہرائیوں میں ڈوب کر اپنے اوپر ایسی کیفیت طاری کرلے جیسے وہ خدا سے ہمکلام ہو رہا ہے کیونکہ قرآن لفظاً و معناً سراسر کلامِ الہٰی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے جبرائیلِ امین کے ذریعے اپنے محبوب ﷺ کے قلبِ انور پر نازل فرمایا۔ پس قرأت کا باطنی ادب محبوبِ حقیقی کے ذکرِ دوام کو دل میں جاگزیں کرنا اور اس تصور کو اتنا پختہ کرتے رہنا ہے کہ زندگی کا کوئی لمحہ بھی اس کی یاد سے خالی نہ ہو۔

سوال نمبر 125: نماز میں کم اَز کم قرأت کی مقدار کیا ہونی چاہیے؟

جواب: نماز میں امام کے لئے کم از کم ایک آیت پڑھنا فرض ہے اور سورۃ فاتحہ پڑھنا واجب ہے۔ فرض کی پہلی دو رکعتوں، نماز وتر، سنت اور نفل کی تمام رکعتوں میں سورۃ فاتحہ کے بعد کوئی سورت یا ایک بڑی آیت یا تین چھوٹی آیات پڑھنا بھی واجب ہے۔

سوال نمبر 126: اگر تنہا نماز پڑھ رہے ہوں تو قرأت اونچی آواز میں کرنا جائز ہے؟

جواب: جہری نمازوں (فجر، مغرب، عشاء) میں منفرد کو اختیار ہے کہ قرأت بلند آواز میں کرے یا آہستہ البتہ سری نمازوں (ظہر، عصر) میں آہستہ پڑھنا واجب ہے۔

سوال نمبر 127: رکوع میں کس قدر جھکنا چاہیے؟

جواب: رکوع کی حالت میں سر اور پیٹھ برابر اور ہموار رکھنا چاہیے۔ حضرت وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

رَأَیتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ یُصَلِّی فَکَانَ إِذَا رَکَعَ سَوَّی ظَھْرَهُ حَتَّی لَوْصُبَّ عَلَیْهِ الْمَاءُ لَاسْتَقَرَّ.

ابن ماجہ، السنن، کتاب اقامۃ الصّلاۃ والسنۃ فیھا، باب الرکوع فی الصلاۃ، 1: 471۔ 472، رقم: 872

’’میں نے حضور نبی اکرم ﷺکو نماز پڑھتے دیکھا جب آپ رکوع کرتے تو اپنی پشت ایسی سیدھی رکھتے کہ اگر اس پر پانی ڈالا جاتا تو وہیں رک جاتا۔‘‘

رکوع اس طرح کیا جائے کہ دونوں گھٹنوں کو دونوں ہاتھوں کی انگلیاں کھول کر مضبوط پکڑ لیں۔ اور کہنیاں پیٹ سے جدا رکھیں یہی طریقہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے منقول ہے۔

حضرت عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے کہا: کیا میں تمہارے سامنے اس طرح نماز نہ پڑھوں جس طرح میں نے حضور نبی اکرمﷺ کو پڑھتے دیکھا؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کہا:کیوں نہیں؟ حضرت عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور جب رکوع کیا تو:

وَضَعَ رَاحَتَیْهِ عَلَی رُکْبَتَیْهِ وَجَعَلَ أَصَابِعَهُ مِنْ وَرَاءِ رُکْبَتَیْهِ وَجَافَی إِبْطَیْهِ حَتَّی اسْتَقَرَّ کُلُّ شَیْئٍ مِنْهُ.

نسائی، السنن، کتاب التطبیق، باب مواضع أصابع الیدین فی الرکوع، 2: 134، رقم: 1037

’’انہوں نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو دونوں گھٹنوں پر رکھا اور انگلیاں گھٹنوں کے نیچے کردیں (یعنی گھٹنوں کو مضبوطی سے پکڑ لیا) نیز بغلوں کو کھول دیا (پیٹ کے ساتھ ملائے نہیں رکھا) یہاں تک کہ ہر عضو اپنی جگہ پر جم گیا۔‘‘

سوال نمبر 128: اگر کوئی شخص بڑھاپے یا بیماری کی وجہ سے رکوع میں جھک نہ سکے تو رکوع کیسے کرے؟

جواب: اگر کوئی شخص بڑھاپے یا بیماری کی وجہ سے رکوع کرنے سے معذور ہو تو اس پر واجب ہے کہ نیت کرے اور قرأت کرنے کے لیے کھڑا ہو اور رکوع صرف اشارہ سے ادا کرے پھر سجدہ کرلے۔ یہ امر حدیث مبارکہ سے ثابت ہے۔ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے اپنی ایک بیماری میں حضور نبی اکرمﷺ سے عرض کیا کہ وہ نماز کیسے پڑھے؟ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

صَلِّ قَائِمًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَی جَنْبٍ.

بخاری، الصحیح، کتاب تقصیر الصلاۃ، باب اذ لم یطق قاعدا صلی علی جنب، 1: 376، رقم: 1066

’’کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو بیٹھ کر، اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو پہلو کے بل۔‘‘

سوال نمبر 129: قومہ کسے کہتے ہیں اور اس کے ادا کرنے کا طریقہ کیا ہے؟

جواب: رکوع سے سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہتے ہوئے بغیر ہاتھ باندھے سیدھا کھڑے ہونے کو قومہ کہتے ہیں، قومہ میں ایک بار رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ پڑھا جاتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رکوع سے اٹھتے وقت حضور نبی اکرم ﷺ کا عمل مبارک یوں ہوتا:

یَقُوْلُ: ’’سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ‘‘ حِیْنَ یَرْفَعُ صُلْبَهُ مِنَ الرُّکُوْعِ. ثُمَّ یَقُوْلُ وَھُوَ قَائِمٌ: ’’رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ‘‘.

مسلم، الصحیح، کتاب الصلوۃ، باب إِثبات التکبیر فی کل خفض ورفع فی الصلاۃ، 1: 293، 294، رقم: 392

’’جب آپ ﷺ رکوع سے اپنی پیٹھ مبارک اٹھاتے تو سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہتے، پھر کھڑے ہو کر رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کہتے۔‘‘

حدیث مبارکہ کی روشنی میں’’ قومہ‘‘ کے ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جب نمازی رکوع سے اٹھے تو اپنے جسم کو سیدھا کرنے کے لیے جسم کے اوپر والے حصے کو حرکت دے جس جگہ پر جاکر وہ حرکت ختم ہو اور نمازی کاجسم بالکل سیدھا ہو جائے تو بس قومہ ادا ہو گیا۔ اگر کسی شخص نے اپنی کمر سیدھی ہی نہ کی اور اس کی ابھی یہ حرکت ختم نہ ہوئی تھی کہ فوراً سجدے میں چلا گیا تو اس صورت میں قومہ ادا نہیں ہوا۔ جب قومہ ادا نہیں ہوا تو نماز ناقص رہی، لہٰذا نماز میں سکون ضروری ہے۔

سوال نمبر 130: سجدہ کے ادا کرنے کا طریقہ اور باطنی ادب کیا ہے؟

جواب: سجدے کے ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ نمازی اللهُ اَکْبَر کہتے ہوئے دونوں ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھ کر سجد ے میں جائے پہلے گھٹنوں کو زمین پر رکھے، پھر ہاتھ کو، پھر ناک اور پیشانی کو، منہ دونوں ہاتھوں کے درمیان میں ہو اور انگلیاں ملی ہوئی قبلہ رو ہوں دونوں پاؤں انگلیوں کے بل پر کھڑے ہوں اور پاؤں کی انگلیاں قبلہ رخ ہوں۔ پیٹ زانوؤں سے الگ اور بازو بغل سے جدا ہوں۔ ران پنڈلی سے اور کہنیاں زمین سے علیحدہ رہیں۔

حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللهِﷺ إِذَا سَجَدَ یَضَعُ رُکْبَتَیْهِ قَبْلَ یَدَیْهِ، وَإِذَا نَھَضَ رَفَعَ یَدَیْهِ قَبْلَ رُکْبَتَیْهِ.

ترمذی، الجامع الصحیح، ابواب الصلاۃ، باب ما جاء فی وضع الرّکبتین قبل الیدین في السجود، 1: 306، رقم: 268

’’میں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپﷺ سجدہ فرماتے وقت ہاتھوں سے پہلے گھٹنوں کو زمین پر رکھتے اور اٹھتے وقت پہلے ہاتھ اٹھاتے۔‘‘

حضرت عبد اللہ بن مالک رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:

اَنَّ رَسُولَ اللہﷺ کَانَ، إِذَا صَلَّی فَرَّجَ بَیْنَ یَدَیْهِ حَتَّی یَبْدُوَ بَیَاضُ إِبْطَیْهِ.

مسلم، الصحیح، کتاب الصلاۃ، باب ما یجمع صفۃ الصلاۃ وما یفتتح بہ ویختم بہ، 1: 356، رقم: 495

’’حضور نبی اکرمﷺ جس وقت نماز پڑھتے تو (سجدے میں) اپنے ہاتھوں کو اس قدر کشادہ رکھتے کہ آپﷺ کے بغلوں کی سفیدی ظاہر ہوجاتی۔‘‘

سجدے میں کم از کم تین بار سُبْحَاَن رَبِّیَ الْاَعْلٰی پڑھتے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

فَإِذَا سَجَدَ فَلْیَقُلْ: سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی ثَـلَاثًا، وَذَلِکَ اَدْنَاهُ.

ابوداود، السنن، کتاب الصلاۃ، باب مقدار الرکوع والسجود، 1: 337، رقم: 886

’’جب کوئی سجدہ کرے تو چاہیے کہ تین مرتبہ سُبْحَانَ رَبِّی الْاَعْلٰی (پاک ہے میرا خدائے برتر) کہے اور یہ سب سے کم مقدار ہے۔‘‘

ایک رکعت میں دو سجدے کرے۔ اور سجدہ سات ہڈیوں پر ادا کیا جاتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضورنبی اکرمﷺ نے فرمایا:

أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَی سَبْعَةِ أَعْظُمٍ: اَلْجَبْھَةِ (وَأَشَارَ بِیَدِهِ عَلَی أَنْفِهِ) وَالْیَدَیْنِ والرِّجْلَیْنِ وَأَطْرَافِ الْقَدَمَیْنِ. وَلَا نَکْفِتَ الثِّیَابَ وَلَا الشَّعَرَ.

مسلم، الصحیح، کتاب الصلاۃ، باب أعضاء السجود والنھی عن کف الشعر والثوب و عضص الرأس فی الصلاۃ، 1:354، رقم: 490

’’مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کاحکم دیا گیا ہے: پیشانی پر (اور آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اپنی ناک کے اوپر اشارہ کیا) اور دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں قدموں کی انگلیوں پر، اور یہ حکم دیا گیا ہے کہ (دورانِ نماز) نہ بالوں کو سنواروں اور نہ کپڑوں کو موڑوں۔‘‘

جبکہ عورت کے لیے سجدہ کرنے کا حکم یہ ہے کہ وہ حالتِ سجدہ میں بازؤوں کو بغل سے، پیٹ کو رانوں سے، رانوں کو پنڈلی سے اور کہنیوں کو زمین سے ملا کر رکھے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

إِذَا جَلَسَتِ الْمَرْأَةُ فِی الصَّلَاةِ وَضَعَتْ فَخِذَھَا عَلَی فَخِذِھَا الْأُخْرَی وَإِذَا سَجَدَتُ الْصَقَتْ بَطْنَهَا فِي فَخِذَیْھَا، کَأَسْتَرِ مَا یَکُوْنُ لَھَا۔ وَإِنَّ اللهَ تَعَالَی یَنْظُرُ إِلَیْهَا وَیَقُوْلُ یَا مَلَائِکَتِی أَشْھِدُکُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهَا.

بیہقی، السنن الکبری، 2: 222، رقم: 3014

’’جب عورت نماز میں بیٹھے تو اپنی ایک ران دوسری ران پر رکھ لے اور جب سجدہ کرے تو اپنے پیٹ کو رانوں کے ساتھ چمٹائے جیسے بھی اس کے لیے سب سے زیادہ ستر کی صورت ممکن ہو۔ بے شک اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر کرم کرتا ہے اور فرماتا ہے: اے میرے ملائکہ! میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اسے بخش دیا ہے۔‘‘

یزید بن حبیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورنبی اکرم ﷺ دو عورتوں کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہی تھیں، آپﷺ نے فرمایا:

’’جب تم سجدہ کرو تو اپنے جسم کا کچھ حصہ زمین سے ملا لیا کرو کیونکہ اس میں عورت کا حکم مرد کی طرح نہیں ہے۔‘‘

بیہقی، السنن الکبری، 2:223، رقم: 3016

المغنی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے:

’’جب عورت نماز پڑھے تو سرین (کولہوں) کے بل بیٹھے اور اپنی دونوں رانوں کو ملائے رکھے۔‘‘

سجدہ کا باطنی ادب یہ ہے کہ بندہ اپنے جسم کے ساتوں اعضاء زمین پر بچھاکر اور اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں قبلہ رخ پھیلا کر اپنی ناک اور پیشانی زمین پر ٹیک دے اور اس حالت میں اپنے آپ کو اس کی مخلوق میں سب سے ادنیٰ اور ہیچ تصور کرے۔ وہ زمین پر گرا ہوا تذلل اور شکستگی کی انتہائی حالت میں اپنے جھوٹے وقار، عظمت اور برتری کی نفی کرکے بارگاهِ خداوندی میں تائب ہو کر یہ اقرار کرے کہ اے اللہ تو ہر ایک سے بلند و برتر ہے اور تیری مخلوق میں مجھ جیسا رُو سیاہ اور گنہگار کوئی نہیں، میرا دامن سیاہیوں اور لغزشوں سے داغ دار ہے۔ سُبْحَانَ رَبِّی الْاَعْلٰی کہہ کر وہ ذات باری تعالیٰ کو ہر نقص، عیب اور خامی سے پاک و منزہ سمجھتے ہوئے اس سے براهِ راست تعلق جوڑ لیتا ہے، جیسا کہ قرآن حکیم میں ارشاد ہوتا ہے:

وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْo

العلق، 96: 19۔ نوٹ: اس آیت کو پڑھ کر سجدۂ تلاوت ادا کریں۔

’’(اے حبیب مکرم!) آپ سربسجود رہئے اور ہم سے مزید قریب ہوتے جائیے۔‘‘

عام طور پر انسان اپنے چہرے، ناک، پیشانی اور سر کو اپنی عزت ، شان و شوکت اور بزرگی کی علامت تصور کرتا ہے۔ سر بلند ہونا انسان کی عزت و شوکت کا آئینہ دارسمجھا جاتا ہے لیکن نمازی کا اپنے رب کے حضور سر کو جھکانا اس کی عاجزی، فروتنی، خاکساری، نفی ذات کی وہ انتہائی حالت ہے جس سے بڑھ کر بارگاهِ خداوندی میں اور کسی حالت کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ پس سجدہ کے ذریعہ حاصل ہونے والی معرفتِ نفس اسے معرفتِ حق اور قرب و وصال ایزدی کی منزل تک پہنچادیتی ہے یہی سجدہ کا انتہا ئے مقصود اور باطنی ادب ہے۔

سوال نمبر 131: کیا سجدہ نرم چیز پر کیا جا سکتا ہے؟

جواب: اگر پیشانی جائے سجدہ پر جم گئی ہے یعنی اتنی دب کر جم گئی ہے کہ اب دبانے سے مزید نہیں دبتی تو جائز ہے، سجدہ ہوگیا ہے، کوئی حرج نہیں اور اگر ایسے نہیں ہوا تو سجدہ جائز نہیں ہے۔

سوال نمبر 132: اگر نماز میں ایک سجدہ رہ جائے تو کیا حکم ہے؟

جواب: نماز میں سجدہ کرنا فرض ہے ہر رکعت میں دو سجدے ہوتے ہیں اور اگر ایک بھی سجدہ رہ جائے تو نماز نہیں ہو گی اور سجدہ سہو سے بھی یہ کمی پوری نہیں کی جا سکتی بلکہ پھر سے پوری نماز پڑھنا فرض ہوجاتا ہے۔

سوال نمبر 133: سجدہ سہو کسے کہتے ہیں؟

جواب: جو چیزیں نماز میں واجب ہیں اگر ان میں سے کوئی واجب بھولے سے چھوٹ جائے یا فرض میں تاخیر ہو جائے تو اس کی کمی کو پورا کرنے کے لیے سجدہ سہو کرنا واجب ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا:

’’تم میں سے جب کوئی شخص نماز پڑھتا ہے تو شیطان آکر (ارکانِ نماز) اس پر خلط ملط اور مشتبہ کر دیتا ہے حتی کہ اسے یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعات پڑھیں جب تم میں سے کسی شخص کو یہ امر پیش آئے تو وہ بیٹھ کر دو سجدہ سہو کرے۔‘‘

مسلم، الصحیح، کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ، باب السہو فی الصلاۃ والسجود، 1: 398، رقم: 569

سوال نمبر 134: سجدہ سہو ادا کرنے کا طریقہ کیا ہے؟

جواب: سجدہ سہو کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ نمازی آخری رکعت میں تشہد، کے بعد دائیں طرف ایک سلام پھیرے اور پھر دو سجدے کرے پھر بیٹھ کر تشہد، درود اور دعا پڑھے اور پھر دونوں طرف سلام پھیر دے۔

سوال نمبر 135: اگر نماز میں بھول کر کئی واجبات چھوٹ گئے تو کیا ایک ہی مرتبہ سجدہ سہو کریں گے یا دو بار؟

جواب: اگر ایک نماز میں چند واجب ترک ہوجائیں تو ایک ہی دفعہ سجدہ سہو نماز کی ادائیگی کے لیے کافی ہوگا۔

سوال نمبر 136: سجدہ تلاوت کسے کہتے ہیں اس کا طریقہ کیا ہے؟

جواب: قرآن حکیم میں چودہ آیات ایسی ہیں جن کی تلاوت کرنے یا کسی سے سننے کے فوراً بعد سجدہ واجب ہو جاتا ہے اسے سجدۂ تلاوت کہتے ہیں۔ جیسا کہ حدیثِ مبارکہ سے ثابت ہے:

کَانَ النَّبِيُّﷺ یَقْرَأُ السُّوْرَةَ الَّتِیْ فِیْھَا السَّجْدَةُ، فَیَسْجُدُ وَنَسْجُدُ، حتَّی مَا یَجِدُ أَحَدُنَا مَکَانًا لِمَوْضِعِ جَبْھَتِهِ.

بخاری، الصحیح، ابواب سجود القرآن، باب من لم یجد موضعًا للسجود من الزَّحام،1: 366، رقم: 1029

مسلم، الصحیح، کتاب المساجد، باب سجود التلاوۃ، 1: 405، رقم: 575

’’حضور نبی اکرم ﷺ جب سجدہ تلاوت والی سورت کی تلاوت فرماتے تو سجدہ کرتے اور ہم بھی آپ کے ساتھ سجدہ کرتے حتی کے ہم میں سے بعض کو اپنی پیشانی رکھنے کے لیے جگہ نہیں ملتی تھی۔‘‘

نماز سے باہر سجدہ تلاوت کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ کھڑے ہو کر سجدہ تلاوت کی دل سے نیت کرے بعد ازاں ہاتھ اُٹھائے بغیر اللهُ اَکْبَر کہہ کر سجدہ میں چلا جائے اور کم از کم تین بار سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی کہے پھر اللهُ اَکْبَر کہتا ہوا کھڑا ہو جائے۔ اگر بیٹھنے کی حالت میں سجدۂ تلاوت کیا تب بھی ادا ہوجائے گا۔ سجدہ تلاوت سننے یا تلاوت کرنے کے بعد فوری ادا کرنا بہتر ہے لیکن تاخیر ہونے کی صورت میں بعد ازاں بھی ادا کیا جا سکتا ہے۔

سوال نمبر 137: سجدہ تلاوت میں کون سی دعا پڑھنا مسنون ہے؟

جواب: سجدہ تلاوت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی درج ذیل دعا پڑھنا مسنون ہے:

اَللّٰهُمَّ لَکَ سَجَدْتُ، وَبِکَ آمَنْتُ وَلَکَ أَسْلَمْتُ، أَنْتَ رَبِّي، سَجَدَ وَجْھِيَ لِلَّذِیْ شَقَّ سَمْعَہٗ وَبَصَرَهُ، تَبَارَکَ اللهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ.

ابن ماجہ، السنن، کتاب إقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیھا، باب سجود القرآن، 1:560، رقم: 1054

’’اے اللہ! میں نے تیرے لیے سجدہ کیا، میں تجھ پر ایمان لایا، میں نے تیرے لیے فرمانبرداری کی، تو میرا رب ہے، میرے چہرے نے اس ذات کو سجدہ کیا جس نے اس کو سماعت اور بصارت کا حسن بخشا، اللہ بڑی برکت والا سب سے بہتر پیدا فرمانے والا ہے۔‘‘

سوال نمبر 138: اگر آیتِ سجدہ کا صرف ترجمہ پڑھا جائے تو کیا پھر بھی سجدہ تلاوت کرنا واجب ہوگا؟

جواب: جی ہاں! آیت کی بجائے آیت کا ترجمہ پڑھنے اور سننے والے پر بھی سجدہ واجب ہو جاتا ہے مگر یہ سجدہ بتائے جانے پر واجب ہوگا۔ ریکارڈنگ سننے پر سجدہ واجب نہیں ہوتا البتہ براهِ راست نشر ہونے والی تلاوت سننے پر واجب ہو جاتا ہے۔ اِسی طرح بعض پرندے باتیں کرسکتے ہیں، اگر ان سے کوئی آیتِ سجدہ سنے تو سجدہ واجب نہیں ہوتا۔

سوال نمبر 139: جتنی مرتبہ آیت سجدہ پڑھی جائے کیا اتنی ہی مرتبہ سجدہ تلاوت کرنا ضروری ہے؟

جواب: ایک مجلس میں سجدہ کی ایک آیت کو بار بار پڑھا یا سنا جائے تو ایک ہی سجدہ واجب ہو گا۔ اگر ایک مجلس میں کئی آدمی آیتِ سجدہ تلاوت کریں تو ہر ایک کی تلاوت پر سجدہ واجب ہوگا۔

نووی، شرح صحیح مسلم، 2: 154

سوال نمبر 140: جلسہ کسے کہتے ہیں اور اس کے ادا کرنے کا طریقہ کیا ہے؟

جواب: دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے کو جلسہ کہتے ہیں۔ اس کے ادا کرنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ پہلا سجدہ ادا کرنے کے بعد کمر سیدھی کرکے اطمینان سے بیٹھ جائے اور پھر دوسرے سجد ے میں جائے (اتنی دیر بیٹھے جتنی دیر میں تین تسبیحات سبحان اللہ کی کہہ لے)۔ پھر دوسرا سجدہ کرے۔

اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے:

کَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا سَجَدَ فَرَفَعَ رَأسَہٗ لَمْ یَسْجُدْ حَتَّی یَسْتَوِيَ جَالِسًا وَکَانَ یَفْتَرِشُ رِجْلَهُ الیُسْرَی وَیَنْصِبُ رِجْلَهُ الْیُمْنٰی.

ابن ابی شیبہ، المصنف، 1: 254

’’حضور نبی اکرم ﷺ جب سجدہ کرتے اور سجدہ سے سراٹھاتے تو دوسرا سجدہ نہ فرماتے یہاں تک کہ پوری طرح بیٹھ نہ جاتے اور آپ ﷺ (جلسہ کی حالت میں) اپنا دایاں پاؤں کھڑا رکھتے تھے اور بایاں پاؤں بچھا دیتے تھے۔‘‘

جبکہ عورت کو چاہیے کہ وہ بائیں سرین (کولہے) پر بیٹھے اور اپنے دونوں پاؤں دائیں جانب نکالے۔ ابن جریح بیان کرتے ہیں:

قُلْتُ لِعَطَاءِ: تَجْلِسُ الْمَرْأةُ فِی مَثْنًا عَلَی شِقِّھَا الأیْسَرِ؟ قَالَ: نَعَمْ.

ابن ابی شیبہ، المصنف، باب فی المرأۃ کیف تجلس فی الصلاۃ، 1: 242، رقم: 2791

’’میں نے حضرت عطاء سے پوچھا کہ کیا عورت اپنے بائیں حصہ (سرین) پرگھٹنوں کو موڑ کر بیٹھے گی؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔‘‘

علاوہ ازیں دو سجدوں کے درمیان مختلف دعائیں بھی منقول ہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ دو سجدوں کے درمیان یہ دعا پڑھا کرتے تھے:

اللّٰھُمَّ اغْفِرْلِي وَارْحَمْنِيْ وَعَافِنِي وَاھْدِنِيْ وَارْزُقْنِي.

ابوداؤد، السنن، کتاب الصلاۃ، باب الدعاء بین السجدتین،1: 322، 850

’’اے اللہ! میری بخشش فرما، مجھ پر رحم فرما، مجھے عافیت عطا فرما، مجھے ہدایت عطا فرما اور مجھے رزق عطا فرما۔‘‘

سوال نمبر 141: قعدہ اخیرہ کا ظاہری طریقہ اور باطنی ادب کیا ہے؟

جواب: دو رکعت والی نماز ہو یا تین یا چار رکعت والی نماز قعدہ اخیرہ میں تشہد کے بعد دوردِ ابراہیمی پڑھیں اور اس کے بعد دعا ماثور پڑھ کر سلام پھیر لیں۔ قعدہ اخیرہ میں عورت کے بیٹھنے کا طریقہ جلسہ کی طرح ہوگا جو کہ گزشتہ سوال میں بیان کیا گیا ہے۔

تکبیر تحریمہ سے لے کر سجدہ کی ادائیگی تک کے سارے عمل میں انسان نماز کے ذریعے اپنا روحانی سفر طے کرتا ہے اور اس پر اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتوں، نعمتوں کے دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں لیکن جب نمازی قعدہ میں اپنے دونوں ہاتھوں کو رانوں پر رکھ کر تشہد کی حالت میں کہتا ہے:

التَّحِیَّاتُ لِلّٰهِ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّھَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَکَاتُهُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِیْنَ، أَشْھَدُ أَنْ لَّا اِلٰهَ إِلَّا اللهُ، وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ.

بخاری، الصحیح، کتاب العمل فی الصلاۃ، باب من سمی قوما أو سلّم فی الصلاۃ علی غیرہ مواجھۃ، وھو لا یعلم، 1: 403، رقم: 1144

نمازی صدق دل سے سب کچھ اللہ کے سپرد کردیتا ہے تو پھر قعدہ اخیر میں اسے یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ اے بندے! تجھے جو کچھ عطا ہوا اسی بابرکت ہستی محمد مصطفی ﷺ کے طفیل عطا کیا گیا۔ پس قعدہ اخیرہ کا باطنی ادب یہ ہوا کہ نمازی کو اس بات کا یقین ہو جائے کہ بارگاهِ خداوندی سے جوکچھ نصیب ہوتا ہے وہ حضور نبی اکرم ﷺ کے وسیلۂ جلیلہ سے ہوتا ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ کا فرمان اقدس ہے:

إِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَاللهُ یُعْطِيْ.

بخاری، الصحیح، کتاب العلم، باب من یرد اللہ بہ خیرا یفقہہ فی الدین، 1:39، رقم: 71

’’(اللہ کی عطاؤں اور نعمتوں کو) میں ہی تقسیم کرنے والا ہوں اور مجھے اللہ تعالیٰ عطا فرماتا ہے۔‘‘

سوال نمبر 142: تشہد میں شہادت کی انگلی سے اشارہ کرنے کا طریقہ کیا ہے؟

جواب: تشہد میں اَشْهَدُ اَن لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ - کی لَا پر انگلی اٹھائے اور لفظ اِلَّا پر رکھ دے۔ لاَ اِلٰہ پڑھتے وقت انگوٹھے اور بیچ کی انگلی کا حلقہ بنا کر اور چھوٹی انگلی اور اس کے پاس کی انگلی کو بند کر کے لفظ لَا پر شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھائے اور لفظ اِلاَّ اللهُ پڑھتے وقت شہادت کی انگلی کو نیچے رکھ دے۔

حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا:

قَدْ حَلَّقَ الْإِبْھَامَ وَالوُسْطَی وَرَفَعَ الَّتِی تَلِیْھِمَا یَدْعُو بِھَا فِی التَّشَھُّدِ.

مصباح الزجاجۃ، 1: 113

’’آپ ﷺ نے انگوٹھے اور بیچ کی انگلی سے حلقہ بنایا اور اس انگلی کو اٹھایا جو ان دونوں سے ملی ہوئی تھی (یعنی انگشتِ شہادت سے) اشارہ کرتے تھے۔‘‘

تشہد میں اللہ کی وحدانیت کا زبانی اقرار ہے اور انگشتِ شہادت سے اشارہ اس کا عملی اقرار ہے۔ حضورنبی اکرمﷺ نے فرمایا:

لَهِيَ أشَدُّ عَلَی الشَّیْطَانِ مِنَ الْحَدِیْدِ.

ہیثمی، مجمع الزوائد، 2: 140

’’یہ (انگشتِ شہادت سے اشارہ) شیطان پر تیز تلوار سے زیادہ سخت ہے۔‘‘

سوال نمبر 143: چار رکعات نماز سنتِ مؤکدہ و غیر مؤکدہ میں دو رکعات کے بعد قعدہ اولیٰ میں کب تک بیٹھنا چاہیے؟

جواب: چار سنتِ مؤکدہ میں دو رکعت کے بعد قعدہ اولیٰ میں تشہد تک پڑھنے کے بعد تکبیر کہہ کر تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو جائے اور تسمیہ (بسم اللہ الرحمان الرحیم)، سورہ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھ کر حسبِ سابق نماز کو مکمل کرے جبکہ چار رکعت سنتِ غیر مؤکدہ اور تمام نوافل کی صورت میں قعدہ اولیٰ میں مکمل التحیات مع درود شریف اور مکمل دعا پڑھ کر سلام پھیرے بغیر تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو اور اس میں پہلی رکعت کی طرح ثنا، تعوذ، تسمیہ اور سورۃ فاتحہ پڑھے پھر اس طرح حسبِ سابق نماز کو مکمل کرکے سلام پھیرے۔

سوال نمبر 144: خروج عن الصلوۃ کاظاہری طریقہ اورباطنی ادب کیا ہے؟

جواب: خروج عن الصلوۃ سے مراد نمازی کا کسی عمل کے ذریعے باہر آنا اور نماز ختم کرنا ہے۔ اس کا ظاہری طریقہ یہ ہے کہ نمازی پہلے دائیں جانب منہ پھیر کر کہے: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ، پھر بائیں جانب منہ پھیر کر کہے: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ۔ دونوں طرف سلام پھیرتے ہی نماز کا اِختتام ہوجاتا ہے۔ اس کا باطنی ادب یہ ہے کہ نمازی جب نماز سے فارغ ہو کر مسجد کی چار دیواری سے باہر دنیاوی زندگی کی طرف نکلتا ہے تو نماز کا باطنی ادب اس کو یہ احساس دلاتا رہتا ہے کہ اے بندے! ابھی تو اللہ کے گھر بیٹھ کر پوری امت کے لیے رحمت مانگ کر آیا ہے۔ اگر اس کے بعد بھی تو کلمہ گو مسلمان بھائی کو اپنے عمل سے تکلیف، دھوکا یا فریب دے گا تو تیری وہ نماز تیرے منہ پر مار دی جائے گی کہ جس کا اختتام تو نے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ کے ذریعے سلامتی کی دعاؤں پر کیاتھا۔ اس طرح تو زبان سے دعا اورعمل سے تکلیف دے رہا ہے۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا گویا نماز نمازی کی پوری زندگی کے جملہ امور کو اپنے دائرہ کار میں لا کر اسے اپنے احوال بہتری میں بدل دینے کا ادب سکھاتی ہے۔

سوال نمبر 145: نماز میں سلام پھیرنے کا طریقہ کیا ہے؟

جواب: نماز میں سلام پھیرنے کاطریقہ حدیثِ مبارکہ سے ثابت ہے۔ حضرت عامر بن سعد اپنے والد حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ حضورنبی اکرمﷺ کو دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرتے ہوئے دیکھتے تھے، یہاں تک کہ (رُخِ انور موڑنے کی وجہ سے) حضورنبی اکرم ﷺ کے رخسار مبارک کی سفیدی دیکھ لیتے۔‘‘

مسلم، الصحیح، کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ، باب السلام للتحلیل من الصلاۃ عند فراغھا، 1: 409، رقم: 582

ایک اور حدیث میں حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ حضورنبی اکرم ﷺ دائیں اور بائیں یوں سلام پھیرتے ہوئے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ۔ کہتے کہ حضور نبی اکرم ﷺ کے رخسار مبارک کی سفیدی نظر آنے لگتی۔

ابن ماجہ، السنن، کتاب اقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیھا، باب التسلیم، 1: 495، رقم: 916

سوال نمبر 146: فرضوں کے بعد پڑھی جانے والی مسنون دعا کون سی ہے؟

جواب: حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورنبی اکرم ﷺ جب نماز سے سلام پھیرتے تو تین مرتبہ استغفار پڑھتے، پھر یہ دعا پڑھتے:

اَللّٰھُمَّ! أَنْتَ السَّلاَمُ وَمِنْکَ السَّلَامُ. تَبَارَکْتَ ذَا الْجَلاَلِ وَالإِکْرَامِ.

مسلم، الصحیح، کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ، باب استحباب الذکر بعد الصلاۃ و بیان صفتہ، 1: 414، رقم: 591

’’اے اللہ! تو سلام ہے اور سلامتی تجھ سے ہے۔ اے ہمارے رب! تو برکت والا اور عزت و جلال والا ہے۔‘‘

سوال نمبر 147: نماز کے بعد کون سے اذکار کرنے چاہئیں؟

جواب: حضور نبی اکرم ﷺ نے نماز کے بعدمختلف مواقع پر مختلف اذکار کو اپنا معمول بنایا۔ درج ذیل اذکار میں سے حسبِ موقع جس کا جو دل چاہے پڑھ سکتا ہے:

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ ہر فرض نماز کے بعد یہ کلمہ پڑھتے تھے:

لَا إِلٰهَ اِلاَّ اللهُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ۔ لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ. اَللّٰھُمَّ! لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَیْتَ۔ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ. وَلَا یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ.

مسلم، الصحیح، کتاب المساجد ومواضع الصّلاۃ، باب استحباب الذکر بعدالصلاۃ و بیان صفتہ، 1: 414، 415، رقم: 593

’’اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اُسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے ستائش ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ تو جو چیز دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جس چیز کو تو روک لے اس کو کوئی دینے والا نہیں اور کسی کوشش کرنے والے کی کوشش تیرے مقابلے میں سود مند نہیں۔‘‘

حضرت عمرو بن میمون الاودی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنے صاحبزادوں کو ان کلمات کی ایسے تعلیم دیتے جیسے استاد بچوں کو لکھنا سکھاتا ہے اور فرماتے: بے شک حضور نبی اکرم ﷺ ہر نماز کے بعد ان کلمات کے ذریعے پناہ طلب کیا کرتے تھے:

اَللّٰھُمَّ إِنِّی اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوْذُ بِکَ أَنْ أَرُدَّ إِلَی أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْیَا، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ.

بخاری، الصحیح، کتاب الجھاد، باب ما یتعوذ من الجبن، 3: 1038، 1039، رقم: 2667

’’اے اللہ! میں بزدلی سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور میں ذلت (بڑھاپے) کی زندگی کی طرف لوٹائے جانے سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور دنیا کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور عذابِ قبر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔‘‘

ایک روایت میں ہے کہ حضورنبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’دو خصلتیں ایسی ہیں کہ جس مسلمان میں جمع ہو جائیں وہ جنت میں داخل ہوگا: جو شخص سوتے وقت 33 مرتبہ سُبْحَانَ اللهِ، 33 مرتبہ الْحَمْدُ لِلهِ، اور 34 مرتبہ اللهُ اَکْبَر کہے اور ہر نماز کے بعد یہ تینوں کلمات دس دس مرتبہ کہے۔‘‘

ترمذی، الجامع الصحیح، ابواب الصلاۃ، باب ما جاء في التسبیح فی أدبار الصلاۃ، 1: 435، رقم: 410

اسے تسبیحِ فاطمہ بھی کہتے ہیں کیونکہ حضور نبی اکرم ﷺ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بھی یہی پڑھنے کی تلقین فرمائی تھی۔ جن نمازوں کے بعد سنت ادا کی جاتی ہے مثلاً ظہر، مغرب، عشاء ان میں ان کلمات کو سنت سے فراغت کے بعد پڑھے، البتہ جن نمازوں کے بعد سنت نہیں جیسے فجر اور عصر ان میں فرض سے فراغت پاتے ہی پڑھے۔

سوال نمبر 148: کیا نماز کے بعد ذکر بالجہر کرنا جائز ہے؟

جواب: جی ہاں! نماز کے بعد ذکر بالجہر کرنا نہ صرف جائز ہے بلکہ افضل بھی ہے۔ امام بخاری اور امام مسلم نے باب الذکر بعد الصلاۃ (نماز کے بعد ذکر کرنے کا بیان) قائم کرکے یہ ثابت کر دیا ہے کہ نماز کے بعد ذکر کرنا نہ صرف جائز بلکہ مستحب اور مسنون بھی ہے۔ جہاں تک ذکر بالجہر (مُتَوَسَّط یعنی درمیانی آواز سے ذکر کرنے) کا سوال ہے تو اس کا جواب بھی امام بخاری اور امام مسلم نے اِسی باب کے ذیل میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی یہ حدیث نقل کرکے دے دیا ہے کہ ’’حضور نبی اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں فرض نماز کے بعد بآواز بلند ذکر معروف تھا۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ (بچپن میں اپنے گھر میں) جب میں اِس ذکر کی آواز سنتا تو جان لیتا کہ لوگ نماز سے فارغ ہوچکے ہیں۔‘‘

بخاری، الصحیح، کتاب صفۃ الصلاۃ، باب الذکر بعد الصلاۃ، 1: 288، رقم: 805

مسلم، الصحیح، کتاب المساجد، باب الذکر بعد الصلاۃ، 1: 410، رقم: 583

اِسی طرح ابو زبیر بیان کرتے ہیں:

کَانَ ابْنُ الزُّبَیْرِ رضی اللہ عنہ یَقُوْلُ فِي دُبُرِ کُلِّ صَلَاۃٍ حِیْنَ یُسَلِّمُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ، لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَيئٍ قَدِیْرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِیَّاهُ لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ وَلَوْ کَرِهَ الْکَافِرُوْنَ.

وَقَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللهِﷺ یُهَلِّلُ بِهِنَّ دُبُرَ کُلِّ صَلَاۃٍ.

مسلم، الصحیح، کتاب المساجد، باب استحباب الذکر بعد الصلاۃ وبیان صفتہ، 1: 415، رقم: 594

أبو داود، السنن، کتاب الوتر، باب ما یقول الرجل إذا سلم، 2: 82، رقم: 1506، 1507

نسائي، السنن، کتاب السہو، باب عدد التہلیل والذکر بعد التسلیم، 3: 70، رقم: 1340

’’حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ہر نماز میں سلام پھیرنے کے بعد کہا کرتے تھے: اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لئے بادشاہی ہے، اور اسی کے لئے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی غالب آنے والا اور قوت رکھنے والا نہیں اور ہم سوائے اس کے کسی کی عبادت نہیں کرتے اس کے لئے تمام نعمتیں ہیں اور اسی کے لیے فضل اور تمام اچھی تعریفیں ہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اسی کا دین خالص ہے اگرچہ کافروں کو یہ ناگوار گزرے۔‘‘

امام شافعی ’’المسند (: 44، 45)‘‘ میں اپنی سند سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

کَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ اِذَا سَلَّمَ مِنْ صَـلَاتِهِ یَقُوْلُ بِصَوْتِهِ الْاَعْلٰی: لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللهِ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَلَا نَعْبُدُ اِلَّا اِیَّاهُ لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصِینَ لَهُ الدِّینَ وَلَوْ کَرِهَ الْکَافِرُونَ.

’’حضور نبی اکرم ﷺ جب سلام پھیر کر نماز سے فارغ ہوتے تو بلند آواز سے پڑھتے: اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لئے بادشاہی ہے، اور اسی کے لئے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی غالب آنے والا اور قوت رکھنے والا نہیں اور ہم سوائے اس کے کسی کی عبادت نہیں کرتے اس کے لئے تمام نعمتیں ہیں اور اسی کے لیے فضل اور تمام اچھی تعریفیں ہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اسی کا دین خالص ہے اگرچہ کافروں کو یہ ناگوار گزرے۔‘‘

اس حدیث مبارکہ کے تحت ذکر بالجہر کے جواز میں علامہ طحطاوی فرماتے ہیں:

’’فرض نمازوں کے بعد ذکر بالجہر کرنا جائز ہے۔‘‘

طحطاوی، مراقی الفلاح: 174

علاوہ ازیں اِجتماعی طور پر ذکر بالجہر کرنا بھی حدیث مبارکہ سے ثابت ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا بندہ میرے متعلق جیسا خیال رکھتا ہے میں اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہوں۔ جب وہ میرا ذکر کرتا ہے میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ اگر وہ اپنے دل میں میرا ذکر (ذکر خفی) کرے تو میں بھی تنہا اس کا ذکر (ذکر خفی) کرتا ہوں، اور اگر وہ جماعت میں میرا ذکر (ذکر جلی) کرے تو میں اس کی جماعت سے بہتر جماعت میں اس کا ذکر (ذکر جلی) کرتا ہوں۔ اگر وہ ایک بالشت میرے نزدیک آئے تو میں ایک بازو کے برابر اس کے نزدیک ہو جاتا ہوں۔ اگر وہ ایک بازو کے برابر میرے نزدیک آئے تو میں دو بازؤوں کے برابر اس کے نزدیک ہو جاتا ہوں اور اگر وہ میری طرف چل کر آئے تو میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں۔‘‘

بخاری، الصحیح، کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالی: کل شیء ھالک إلا وجھہ، 6: 2694، رقم: 6970

مندرجہ بالا احادیث مبارکہ سے ذکر بالجہر کرنا ثابت ہے۔ لیکن یہ اَمر ذہن نشین رہے کہ ذکر بالجہر کی دو اقسام ہیں:

  1. ذکرِ مُتَوَسَّط
  2. ذکرِ مُفْرَط

ذکر متوسط یعنی درمیانی درجہ کی آواز جو دوسروں کے لیے باعثِ خلل نہ ہو یعنی ساتھ کوئی نماز پڑھ رہا ہو اس کی نماز میں خلل واقع نہ ہو اور مفرط سے مراد بہت ہی بلند آواز سے ذکر کرنا جو کہ سونے والوں اور نماز پڑھنے والوں کے لیے باعثِ تکلیف ہو۔

لہٰذا بہتر یہی ہے کہ نماز کے بعد ذکر بالجہر متوسط کرنا چاہیے اور اسی پر تمام علماء کرام کا اتفاق ہے۔ اِس لیے ذکر بالجہر متوسط جائز اور مستحب ہے تاکہ حدیث شریف پر بھی عمل ہو اور دوسروں کے لیے باعثِ زحمت بھی نہ ہو۔

سوال نمبر 149 : نمازِ وتر کی کتنی رکعات ہوتی ہیں اور اس کے پڑھنے کا کیا طریقہ ہے؟

جواب: وتر کی تین رکعات ہوتی ہیں۔ وتر کے معنی طاق کے ہیں اور تین رکعات طاق عدد کو ظاہر کرتی ہیں جس کی بنا پر نمازِ وتر کو وتر کہتے ہیں۔

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورنبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

وِتْرُ اللَّیْلِ ثَـلَاثٌ، کَوِتْرِ النَّھَارِ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ.

دار قطنی، السنن، 2: 27

’’دن کے وتروں یعنی نمازِ مغرب کی طرح رات کے وتروں کی بھی تین رکعات ہیں۔‘‘

صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں متفق علیہ حدیث ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ وتر کی تین رکعات ہیں۔ ابو سلمہ بن عبد الرحمان روایت کرتے ہیں:

أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رضی اللہ عنھا: کَیْفَ کَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللهِ ﷺ فِي رَمَضَانَ؟ فَقَالَتْ: مَا کَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ یَزِیدُ فِي رَمَضَانَ وَلَا فِي غَیْرِهِ عَلَی إِحْدَی عَشْرَةَ رَکْعَۃً، یُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ یُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ یُصَلِّي ثَلَاثًا.

بخاری، الصحیح، کتاب صلاۃ التراویح، باب قیام النبی ﷺ باللیل فی رمضان وغیرہ، 1: 385، رقم: 1096

مسلم، الصحیح، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا، باب صلاۃ اللیل وعدد رکعات النبی ﷺ، 1: 509، رقم: 738

’’انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رمضان المبارک میں رسول اللہ ﷺ کی نماز کیسی ہوتی تھی؟ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھا کرتے تھے۔ چار رکعتیں پڑھتے تو ان کو ادا کرنے کی خوبصورتی اور لمبائی کے متعلق کچھ نہ پوچھو۔ پھر چار رکعتیں پڑھتے تو ان کو ادا کرنے کی خوبصورتی اور لمبائی کے متعلق کچھ نہ پوچھو۔ پھر تین رکعتیں پڑھتے۔‘‘

اِس حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ نہیں فرمایا کہ پہلے چار رکعت پڑھتے، اس کے بعد پھر چار رکعت پڑھتے اور پھر اس کے بعد دو پڑھتے اور پھر ایک (وتر) پڑھتے۔ یہ بلافصل تین رکعت وتر کی سب سے قوی دلیل ہے۔

نام وَر تابعی اور سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پوتے حضرت قاسم بن محمد حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

صَلَاةُ اللَّیْلِ مَثْنَی مَثْنَی، فَإِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَنْصَرِفَ فَارْکَعْ رَکْعَۃً تُوتِرُ لَکَ مَا صَلَّیْتَ.

’’رات کی نماز کی دو دو رکعتیں ہیں۔ جب تم فارغ ہونا چاہو تو ایک رکعت اور پڑھ لو۔ یہ تمہاری پڑھی ہوئی نماز کو وتر بنا دے گی۔‘‘

اِس کے بعد سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پوتے حضرت قاسم بن محمد رضی اللہ عنہ اپنا قول یوں بیان کرتے ہیں:

وَرَأَیْنَا أُنَاسًا مُنْذُ أَدْرَکْنَا یُوتِرُونَ بِثَلَاثٍ.

بخاری، الصحیح، کتاب الوتر، باب ما جاء فی الوتر، 1: 337، رقم: 948

’’جب سے میں نے ہوش سنبھالا تو ہم نے لوگوں کو تین وتر پڑھتے ہوئے ہی دیکھا ہے۔‘‘

طریقہ

نمازِ عشاء کے فرض، سنتیں اور نوافل ادا کرنے کے بعد تین رکعت وتر واجب ادا کریں۔ نماز وتر کی نیت بھی عام نمازوں کی طرح ہے۔ وتر پڑھنے کا طریقہ تھوڑے سے فرق کے ساتھ وہی ہے جو نماز مغرب کا ہے۔ یعنی دو رکعت پر تشہد کے لیے بیٹھیں، اس کے بعد تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہو جائیں، اور اس میں سورہ فاتحہ پڑھیں اور سورۃ ملانے کے بعد اللهُ اَکْبَر کہہ کر دونوں ہاتھوں کو کانوں کی لَو تک اٹھا کر پھر باندھ لیں اور عورت اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھا کر سینے پر رکھے، اس کے بعد دعائے قنوت پڑھیں جو ان کلمات پر مشتمل ہے:

اَللّٰھُمَّ إِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ وَنَسْتَغْفِرُکَ، وَنُؤْمِنُ بِکَ وَنَتَوَکَلُّ عَلَیْکَ، وَنُثْنِی عَلَیْکَ الْخَیْرَ، وَنَشْکُرُکَ وَلَا نَکْفُرُکَ، وَنَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مَنْ یَفْجُرُکَ. اَللّٰھُمَّ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَلَکَ نُصَلِّی وَنَسْجُدُ وَاِلَیْکَ نَسْعٰی وَنَحْفِدُ، وَنَرْجُوْا رَحْمَتَکَ، وَنَخْشٰی عَذَابَکَ اِنَّ عَذَابَکَ بِالْکُفَّارِ مُلْحِقٌ.

ابن ابی شیبہ، المصنف، 2: 95، رقم: 6893

’’اے اللہ! ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں اور تجھ سے بخشش چاہتے ہیں، تجھ پر ایمان لاتے ہیں اور تجھ پر بھروسہ کرتے ہیں، ہم تیری اچھی تعریف کرتے ہیں، تیرا شکر کرتے ہیں اور تیری ناشکری نہیں کرتے، اور جو تیری نافرمانی کرے اُس سے مکمل طور پر علیحدگی اختیار کرتے ہیں۔ اے اللہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں، اور تیرے لیے ہی نماز پڑھتے، تجھے ہی سجدہ کرتے ہیں، تیری ہی طرف دوڑتے اور حاضری دیتے ہیں، ہم تیری رحمت کے امید وار ہیں اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ بے شک تیرا عذاب کافروں کو پہنچنے والا ہے۔‘‘

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضورنبی اکرم ﷺ وتر کی دو رکعتوں پر سلام نہیں پھیرتے تھے۔

سوال نمبر 150: اگر کسی کو دعائے قنوت یاد نہ ہو تو کیا پڑھے؟

جواب: اگر کسی کو دعائے قنوت یاد نہ ہو تو اسے چاہیے کہ وہ دعا کو یاد کرے اور جب تک دعائے قنوت یاد نہ ہو تو اس کی جگہ یہ پڑھ لے:

رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِo

البقرۃ، 2: 201

’’اے ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں (بھی) بھلائی عطا فرما اور آخرت میں (بھی) بھلائی سے نواز اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھ۔‘‘

اور اگر یہ دعا بھی نہ یاد ہو تو تین مرتبہ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلَنَا پڑھ لے۔

سوال نمبر151: سُترہ کسے کہتے ہیں، یہ کس چیز کا ہونا چاہیے؟

جواب: ایسی شے جو نمازی اپنے آگے رکھ کر نماز ادا کرے تاکہ دورانِ نماز اس کے آگے سے گزرنے والا گناہگار نہ ہو اسے سترہ کہتے ہیں۔

حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا:

’’تم میں سے کوئی شخص جب نماز پڑھے تو اپنے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز رکھ لے پھر اس کے آگے سے گزرنے والے کی پرواہ نہ کرے۔‘‘

مسلم، الصحیح، کتاب الصلٰوۃ، باب سترۃ المصلی، 1: 358، رقم:499

ایک اور حدیث پاک میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرمﷺ جب عید کی نماز ادا کرنے کے لیے تشریف لے جاتے تو نیزہ گاڑھنے کا حکم دیتے۔ آپ ﷺ کے سامنے نیزہ گاڑھ دیا جاتا، پھر لوگوں کو جماعت کراتے۔ آپ ﷺ سفر میں بھی اسی کا اہتمام فرماتے تھے، اس بناء پر حکام بھی نیزہ رکھتے ہیں۔

مسلم، الصحیح، کتاب الصلوٰۃ، باب سترۃ المصلیٰ، 1: 359، رقم: 501

سترہ زیادہ سے زیادہ تین ہاتھ اونچا کسی بھی چیز کا ہو اور کم از کم ایک ہاتھ اونچا ایک انگلی کے برابر موٹا ہونا چاہئے۔ اگر بہت زیادہ اونچا ہو تب بھی حرج نہیں۔

سوال نمبر 152: مرد اور عورت کی نماز میں فرق کیوں ہے؟

جواب: مرد اور عورت کی جسمانی ساخت میں جو فرق پایا جاتا ہے، شریعت کی رُو سے شرعی اَحکام و مسائل میں بھی ان کا پاس و لحاظ رکھا گیا ہے۔ طہارت کے مسائل ہوں یا حج کے، روزہ کے مسائل ہوں یا زکوٰۃ کے، عورت کے عورت ہونے کا کسی نہ کسی حکم سے اِظہار ہو جاتا ہے جس طرح نمازِ جمعہ و عیدین مردوں پر فرض ہے عورتوں پر نہیں۔

اِسی طرح نماز جیسی افضل عبادت میں بھی بعض مخصوص مواقع پر عورت کا طریقہ نماز مرد سے مختلف رکھا گیا تاکہ عورت کے پردہ کا لحاظ رکھا جائے۔ اس کے اعضائے نسوانی کا اعلان و اظہار نہ ہو مثلاً عورت نماز میں تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ کندھے تک اٹھاتی ہے جبکہ مرد کانوں کی لو تک، مردوں کو سجدہ میں پیٹ رانوں سے اور بازو بغل سے جدا رکھنے کا حکم ہے۔ جبکہ عورت کو سمٹ کر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ کہ وہ سجدہ کرے تو اپنے پیٹ کو اپنی دونوں رانوں سے چپکائے اس پر ہم تفصیلی دلائل کے ساتھ بحث گزشتہ صفحات میں کرچکے ہیں۔ مرد اور عورت کی نماز میں یہ بنیادی فرق (پردہ) کے اعتبار سے ہے۔

سوال نمبر153 : نماز جمعہ کا طریقہ کیا ہے؟

جواب: نماز جمعہ کی فرض، سنن اور نوافل سمیت چودہ رکعات ہوتی ہیں اس کے ادا کرنے کا طریقہ درج ذیل ہے:

خطبہ سے پہلے چار رکعت سنت پڑھیں، پھر خطبہ کے بعد دو فرض جماعت کے ساتھ، پھر چار سنت، پھر دو سنت اور پھر دو نفل ادا کریں۔

سوال نمبر 154: نمازِ تراویح کسے کہتے ہیں اور اس کے پڑھنے کا کیا طریقہ ہے؟

جواب: تراویح، ترویحہ کی جمع ہے جس کا معنی ہے: ایک دفعہ آرام کرنا جبکہ تراویح کے معنی ہے: متعدد بار آرام کرنا۔ نمازِ تراویح کی تعداد چونکہ بیس ہے اس لیے ہر چار رکعت کے بعد کچھ دیر ٹھہر کر اور سکون کرنے کے بعد نماز کا شروع کرنا مستحب ہے کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ ایسا کیا کرتے تھے اور اسی وجہ سے اس نماز کا نام تراویح رکھا گیا ہے۔

نماز تراویح کا پڑھنا مرد و عورت سب کے لئے سنت مؤکدہ ہے۔ اس کا چھوڑنا جائز نہیں اور تراویح کی جماعت سنت علی الکفایہ ہے۔ یعنی اگر تمام لوگ نہ پڑھیں تو گناہگار ہوں گے اور اگر کچھ لوگ ادا کر لیں تو گناہ نہیں۔

قیامِ رمضان کی بڑی فضیلت ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ لوگوں کو رمضان کی راتوں میں نماز پڑھنے کی ترغیب دیا کرتے تھے۔ آپﷺ نے فرمایا:

’’جس نے رمضان المبارک میں حصول ثواب کی نیت اور حالتِ ایمان کے ساتھ قیام کیا تو اس کے سابقہ (تمام) گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔‘‘

مسلم، الصحیح، کتاب صلاۃ المسافرین و قصرھا، باب الترغیب فی قیام رمضان وھو التراویح، 1:523، رقم: 759

نماز تراویح کا وقت عشاء کی نماز کے بعد وتر سے پہلے ہوتاہے اور رات کے آخری حصے میں پڑھنا افضل ہے۔

تسبیح تراویح

نمازِ تروایح میں ہر چار رکعت ادا کرنے کے بعد کچھ توقف کیا جاتا ہے، جس میں تسبیح تراویح، اَذکار اور صلوٰۃ و سلام پڑھا جاتا ہے۔ تسبیح تراویح یہ ہے:

سُبْحَانَ ذِی الْمُلْکِ وَالْمَلَکُوْتِ ط سُبْحَانَ ذِی الْعِزَّةِ وَالْعَظَمَةِ وَالْهَیْبَةِ وَالْقُدْرَةِ وَالْکِبْرِیَآءِ وَالْجَبَرُوْتِ ط سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْحَیِّ الَّذِی لَا یَنَامُ وَلَا یَمُوْتُ ط سُبُّوحٌ قُدُّوْسٌ رَبُّنَا وَرَبُّ الْمَلَائِکَةِ وَالرُّوْحِ ط اَللّٰهُمَّ اَجِرْنَا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیْرُ یَا مُجِیْرُ یَا مُجِیْرُ.

’’پاک ہے (وہ اللہ) زمین و آسمان کی بادشاہی والا۔ پاک ہے (وہ اللہ) عزت و بزرگی، ہیبت و قدرت اور عظمت و رُعب والا۔ پاک ہے بادشاهِ (حقیقی، جو) زندہ ہے، سوتا نہیں اور نہ مرے گا۔ بہت ہی پاک (اور) بہت ہی مقدس ہے ہمارا پروردگار اور فرشتوں اور روح کا پروردگار۔ اِلٰہی ہم کو دوزخ سے پناہ دے۔ اے پناہ دینے والے! اے پناہ دینے والے! اے پناہ دینے والے!‘‘

سوال نمبر 155: نمازِ تراویح کی کل کتنی رکعات ہیں؟

بعض لوگ کہتے ہیں کہ تراویح کی کل آٹھ رکعات ہیں، جب کہ صحیح قول کے مطابق تراویح کی کل بیس (20) رکعات ہیں۔

اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ نے مسجد میں نماز پڑھی تو لوگوں نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ پھر آپﷺ نے اگلی رات نماز پڑھی تو اور زیادہ لوگ جمع ہوگئے، پھر تیسری یا چوتھی رات بھی اکٹھے ہوئے لیکن رسول اللہﷺ ان کی طرف تشریف نہ لائے۔ جب صبح ہوئی تو فرمایا: میں نے دیکھا جو تم نے کیا اور مجھے تمہارے پاس (نماز پڑھانے کے لئے) آنے سے صرف اس اندیشہ نے روکا کہ یہ تم پر فرض کر دی جائے گی۔ یہ واقعہ رمضان المبارک کا ہے۔

بخاری، الصحیح، کتاب التہجد، باب: تحریض النبی ﷺ علی صلاۃ اللیل والنوافل من غیر إیجاب، 1: 380، رقم: 1077

بخاری، الصحیح، کتاب صلاۃ التروایح، باب فضل من قام رمضان، 2: 708، رقم: 1908

مسلم، الصحیح، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا، باب الترغیب في قیام رمضان وھو التراویح، 1: 524، رقم: 761

أبو داود، السنن، کتاب الصلاۃ، باب في قیام شھر رمضان، 2: 49، رقم: 1373

5۔ نسائي، السنن، کتاب قیام اللیل وتطوع النھار، باب قیام شھر رمضان، 3: 202، رقم: 1604

امام ابن خزیمہ اور امام ابن حبان نے حضرت عائشہ کی روایت میں ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے: حضور نبی اکرم ﷺ انہیں قیامِ رمضان (تراویح) کی رغبت دلایا کرتے تھے لیکن حکماً نہیں فرماتے تھے۔ چنانچہ (ترغیب کے لئے) فرماتے کہ جو شخص رمضان المبارک میں ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ قیام کرتا ہے تو اس کے سابقہ تمام گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔ پھر حضور نبی اکرم ﷺ کے وصال مبارک تک قیام رمضان کی یہی صورت برقرار رہی اور یہی صورت خلافتِ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور خلافتِ عمرص کے اوائل دور تک جاری رہی یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں جمع کر دیا اور وہ انہیں نمازِ (تراویح) پڑھایا کرتے تھے۔ لہٰذا یہ وہ ابتدائی زمانہ ہے جب لوگ نمازِ تراویح کے لئے (با جماعت) اکٹھے ہوتے تھے۔

ابن حبان، الصحیح، 1: 353، رقم: 141

ابن خزیمۃ، الصحیح، 3: 338، رقم: 2207

امام ابن حجر عسقلانی نے ’’التلخیص‘‘ میں بیان کیا ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو دو راتیں 20 رکعت نماز تراویح پڑھائی، جب تیسری رات لوگ پھر جمع ہوگئے تو آپ ﷺ ان کی طرف (حجرۂ مبارک سے باہر) تشریف نہیں لائے۔ پھر صبح آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے اندیشہ ہوا کہ (نمازِ تراویح) تم پر فرض کردی جائے گی لیکن تم اس کی طاقت نہ رکھوگے۔

عسقلاني، تلخیص الحبیر، 2: 21

حضرت عبد اللہ بن عباس رضي اللہ عنہماسے مروی ہے فرمایا کہ حضور نبی اکرم ﷺ رمضان المبارک میں وتر کے علاوہ بیس رکعت تراویح پڑھا کرتے تھے۔

طبراني، المعجم الأوسط، 1: 243، رقم: 798

طبراني، المعجم الأوسط، 5: 324، رقم: 5440

طبرانی، المعجم الکبیر، 11: 393، رقم: 12102

ابن أبي شیبۃ، المصنف، 2: 164، رقم: 7692

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں بیس (20) رکعت تراویح اور وتر پڑھتے تھے۔

بیہقی، السنن الکبری، 2: 496، رقم: 4393

سوال نمبر 156: نمازِ عیدین کا طریقہ کیا ہے؟

جواب: عیدالفطر اور عیدالاضحی کی نمازیں ہر اس شخص پر واجب ہیں جس پر جمعہ فرض ہے۔ عیدین دوگانہ یعنی دو رکعتوں والی نماز ہے۔ نمازِ عیدین کا طریقہ وہی ہے جو دیگر نمازوں کا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ نماز عیدین میں کچھ زائد تکبیریں کہی جاتی ہیں۔ امام تکبیر تحریمہ کے بعد ثنا پڑھے پھر ہاتھ اُٹھا کرتین تکبیریں کہے، تیسری تکبیر کے بعد ناف کے نیچے ہاتھ باندھ لیں پھر امام تعوذ تسمیہ کے بعد جہراً قرأت کرے۔ قرأت کے بعد حسبِ معمول رکوع و سجود کیے جائیں، پھر دوسری رکعت شروع ہوگی۔ امام قرأت کرے، قرأت کے بعد امام تین مرتبہ ہاتھ اُٹھا کر تکبیریں کہے گا مقتدی بھی اس کے ساتھ ایسا ہی کریں اور چوتھی مرتبہ امام ہاتھ اُٹھائے بغیر تکبیر رکوع کہے گا تو مقتدی بھی ایسا کریں، اسی طرح دو رکعت نماز مکمل کی جائے گی۔ نماز عیدین کا وقت آفتاب کے بلند ہوجانے کے بعد زوال سے پہلے پہلے ہے۔

سوال نمبر 157: حائضہ عورت کے لیے عیدگاہ میں جانے کا کیا حکم ہے؟

جواب: حائضہ عورت کا عید گاہ میں جانا جائز ہے۔ بشرطیکہ وہ مسجد کا حصہ نہ ہو اور الگ سے خواتین کے لیے جگہ ہو، جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے:

’’حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عید الفطر اور عید الاضحی کے موقع پر جوان، پردہ دار اور حائضہ عورتوں کو لے جایا کریں اور حائضہ عورتیں عید گاہ سے دور رہیں لیکن وہ کارِ خیر اور مسلمانوں کے ساتھ دعا میں شامل رہیں۔‘‘

مسلم، الصحیح، کتاب صلوۃ العیدین، باب ذکر اباحۃ خروج النساء، فی العیدین الی المصلی و شھود الخطبۃ، 2:606۔605، رقم: 890

سوال نمبر 158: نمازِ جنازہ پڑھنے کا طریقہ کیا ہے؟

جواب: نماز جنازہ فرض کفایہ ہے، اگر بعض لوگوں نے پڑھ لی تو سب سے فرض ساقط ہو جائے گا لیکن اگر کسی نے بھی نہ پڑھی تو سب گنہگار ہوں گے۔ اس کے ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اگر مرد کا جنازہ ہو تو امام سر کے بالمقابل کھڑا ہو اور اگر عورت کا جنازہ ہو تو جنازے کے وسط میں کھڑا ہو۔ اگر میت بالغ ہو تو اس کی دعائے مغفرت کا ارادہ کرے اور اگر میت نابالغ ہو تو اسے اپنا فرط، اَجر و ذخیر اور شفاعت کرنے والا اور مقبولِ شفاعت بنانے کا ارادہ کرے۔ اس کے بعد نماز جنازہ کا فریضہ ادا کرنے کی نیت اِس طرح کرے: چار تکبیریں نماز جنازہ فرضِ کفایہ، ثنا واسطے اللہ تعالیٰ کے، درود شریف واسطے حضور نبی اکرم ﷺ کے، دعا واسطے حاضر اس میت کے، منہ طرف کعبہ شریف کے (اور مقتدی یہ بھی کہے:) پیچھے اِس امام کے۔ پھر رفع یدین کے ساتھ تکبیر تحریمہ کرکے زیرِ ناف ہاتھ باندھ لے اور یہ ثنا پڑھے:

سُبْحَانَکَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِکَ، وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالٰی جَدُّکَ، وَجَلَّ ثَنَائُکَ وَلَا اِلٰهَ غَیْرُکَ.

دوسری تکبیر ہاتھ اٹھائے بغیر کہے اور یہ درود پاک پڑھے:

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ، کَمَا صَلَّیْتَ وَسَلَّمْتَ وَبَارَکْتَ وَرَحِمْتَ وَتَرَحَّمْتَ عَلَی إِبْرَاهِیْمَ وَعَلَی آلِ إِبْرَاهِیْمَ، إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ.

پھر ہاتھ اٹھائے بغیر تیسری تکبیر کہے اور میت اور تمام مسلمانوں کے لیے دعائے مغفرت کرے۔ بالغ مرد و عورت دونوں کی نمازِ جنازہ کے لیے یہ دعا پڑھے:

اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِحَیِّنَا وَمَیِّتِنَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا وَصَغِیْرِنَا وَکَبِیْرِنَا وَذَکَرِنَا وَاُنْثَانَا. اَللّٰهُمَّ مَنْ اَحْیَیْتَہٗ مِنَّا فَاَحْیِہٖ عَلَی الْاِسْلَامِ وَمَنْ تَوَفَّیْتَہٗ مِنَّا فَتَوَفَّہٗ عَلَی الإِیْمَانِ.

فتاویٰ عالمگیری، 1: 164

’’یا اللہ! تو ہمارے زندوں کو بخش اور ہمارے مردوں کو، اور ہمارے حاضر شخصوں کو اور ہمارے غائب لوگوں کو اور ہمارے چھوٹوں کو اور ہمارے بڑوں کو اور ہمارے مردوں کو اور ہماری عورتوں کو۔ یا اللہ! تو ہم میں سے جس کو زندہ رکھے تو اس کو اسلام پر زندہ رکھ اور جس کو ہم میں سے موت دے تو اس کو ایمان پر موت دے۔‘‘

اگر نابالغ لڑکے کا جنازہ ہو تو یہ دعا پڑھے:

اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ لَنَا فَرَطاً وَّاجْعَلْهُ لَنَا اَجْرًا وَّذُخْرًا وَاجْعَلْهُ لَنَا شَافِعًا وَّ مُشَفَّعًا.

فتاویٰ عالمگیری، 1: 164

’’اے اللہ! اس بچہ کو ہمارے لیے منزل پر آگے پہنچانے والا بنا، اسے ہمارے لیے باعثِ اجر اور آخرت کا ذخیرہ بنا، اور اسے ہمارے حق میں شفاعت کرنے والا اور مقبولِ شفاعت بنا۔‘‘

نابالغ لڑکی کا جنازہ ہو تو یہ دعا پڑھے:

اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهَا لَنَا فَرَطاً وَّ اجْعَلْهَا لَنَا اَجْرًا وَّ ذُخْرًا وَّ اجْعَلْهَا لَنَا شَافِعَۃً وَّ مُشَفَّعَۃً.

’’اے اللہ! اس بچی کو ہمارے لیے منزل پر آگے پہنچانے والا بنا، اسے ہمارے لیے باعثِ اجر اور آخرت کا ذخیرہ بنا، اور اسے ہمارے حق میں شفاعت کرنے والا اور مقبولِ شفاعت بنا۔‘‘

اگر کسی کو ان دعاؤں میں سے کوئی دعا یاد نہ ہو تو یہ دعا پڑھ لینی چاہیے:

اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلَنَا وَلِوَالِدَیْنَا وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ.

’’اے اللہ! تو ہمیں ہمارے والدین اور تمام مومن مردوں اور عورتوں کو بخش دے۔‘‘

اگر یہ دعا بھی یاد نہ ہو تو جو دعا یاد ہو وہی پڑھ سکتا ہے۔

پھر چوتھی تکبیر بغیر ہاتھ اٹھائے کہے اور بعد ازاں اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ کہتے ہوئے دائیں بائیں سلام پھیر دے۔

سوال نمبر 159: بعض لوگ نمازِ جنازہ میں جوتے نہیں اتارتے اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: اگر لوگوں کو اپنے جوتوں کا نجاست سے پاک ہونے کا یقین ہو تو مضائقہ نہیں نماز ادا ہو جائے گی، بصورت دیگر اتار کر پڑھنا چاہیے لیکن یہ فعل مستحب نہیں ہے کیونکہ جوتی پہن کر نماز پڑھنا نماز کے مطالب اور مقاصد میں داخل نہیں ہے، چونکہ جوتیاں بالعموم ایسی جگہ واقع ہوتی ہیں جہاں نجاست اور گندگی ہوتی ہے اور یہی ان کے بنانے کا مقصد ہے۔ اسی لیے نماز کی جگہ جوتیاں لانا مناسب نہیں اور یہی ادب کا تقاضا ہے۔ حضرت موسیٰ ں کو کوہ طور پر جوتے اتارنے کا حکم ہوا جس میں یہی راز مضمر تھا، ارشاد ہوتا ہے:

فَاخْلَعْ نَعْلَیْکَ.

طہ، 20: 12

’’سو تم اپنے جوتے اتار دو۔‘‘

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نماز کو وقار اور زینت کی ہیئت کے ساتھ پڑھنا چاہیے۔

سوال نمبر 160: خواتین کے لیے نمازِ جمعہ، عیدین اور جنازہ کے کیا اَحکام ہیں؟

خواتین کے لیے نمازِ جمعہ، عیدین اور نمازِ جنازہ کے احکام درج ذیل ہیں:

نماز جمعہ

نماز جمعہ مخصوص شرائط کے ساتھ مسلمانوں پر فرض ہے۔ ان میں ایک شرط جماعت ہے۔ فقہاء کرام نے بیان کیا ہے کہ امام کے علاوہ کم از کم دو مردوں کا ہونا ضروری ہے صرف عورتوں اور بچوں کی موجودگی میں نماز جمعہ نہ ہوگی۔ لہٰذا اگر خواتین کسی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے لئے جائیں تو جائز ہے۔ لیکن خواتین کا الگ سے جمع ہوکر نماز جمعہ ادا کرنا جائز نہیں۔ تاہم جن مساجد میں مرد حضرات کا باقاعدہ سے جمعہ ہوتا ہے وہاں الگ باپردہ جگہوں پر خواتین نماز جمعہ اور عیدین ادا کرسکتی ہیں۔ اسلام نے عورت پر نماز جمعہ اور عیدین واجب نہیں کیں۔ عورت کا اپنے گھر کی چار دیواری میں نماز ادا کرنا زیادہ افضل ہے ہاں اگر تعلیم و تربیت کے لئے جامع مسجد جانا مفید ہو تو اس صورت میں جائز ہے۔ حرمین شریفین کے علاوہ اکثر مسلم ممالک بالخصوص عرب ممالک انڈونیشیا، ملائیشیا، ہندوستان اور یورپ وغیرہ میں ایسے ہی اہتمام ہوتا ہے۔

نماز عیدین

خواتین کا کسی خاتون کی امامت میں علیحدہ نمازِ عید مکروہ ہے، اگر پڑھی تو ہوجائے گی۔ اس کا طریقہ کار درج ذیل ہے:

  1. امامت کرانے والی خاتون عام صف میں درمیان میں کھڑی ہو۔
  2. قرأت کی آواز غیر محرموں تک نہ پہنچے۔
  3. عورتوں کا عورتوں کے سامنے خطبہ پڑھنا درست ہے اس میں بھی آواز آہستہ ہو کہ کوئی غیر محرم نہ سنے۔

باقی احکامات عورت کے لیے وہی ہیں جو نماز جمعہ کے ضمن میں اوپر ذکر ہوچکے ہیں۔

نماز جنازہ

خواتین اگر نمازِ جنازہ میں شریک ہوجائیں تو ان کی نماز ہوجائے گی، اس کی ممانعت نہیں۔ البتہ پردہ کا خصوصی خیال رکھنا ضروری ہے۔ عام طور پر جناز گاہ آبادی سے ہٹ کر قبرستان کے قریب ہوتی ہے اور خواتین کے لیے الگ انتظام بھی نہیں ہوتا۔ اس لیے اختلاطِ مرد و زن کی صورت میں جائز نہیں۔

Copyrights © 2022 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved