Islamic Teachings Series (6): Fasting and Spiritual Retreat

روزہ

سوال نمبر 25: لغوی اور شرعی اعتبار سے روزہ سے کیا مراد ہے؟

جواب: روزہ کو عربی زبان میں صوم کہتے ہیں۔ صوم کا لغوی معنی رکنے کے ہیں شرع کی رو سے صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے اور عمل مباشرت سے رک جانے کا نام روزہ ہے۔ جیسا کہ قرآن حکیم سے ثابت ہے:

وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰی يَتَبَيَنَ لَکُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَی الَّيْلِ.

’’(روزہ رکھنے کے لئے سحری کے وقت) اور کھاتے پیتے رہا کرو یہاں تک کہ تم پر صبح کا سفید ڈورا (رات کے) سیاہ ڈورے سے (الگ ہو کر) نمایاں ہو جائے، پھر روزہ رات (کی آمد) تک پورا کرو۔‘‘

البقرة، 2: 187

سفید دھاگے سے مراد صبح صادق (دن کی سفیدی) ہے اور سیاہ دھاگے سے مراد صبح کاذب (رات کی تاریکی) ہے۔

سوال نمبر 26: قرآن و حدیث کی روشنی میں روزہ کی فرضیت و فضیلت کیا ہے؟

جواب: قرآنِ حکیم میں روزہ کی فرضیت کے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا:

يٰاَيُهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَيْکُمُ الصِّيَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَo

’’اے ایمان والو! تم پر اسی طرح روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ‘‘

البقرة، 2: 183

  • حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا۔

مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيْمَانًا وَّ اِحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِه.

’’جس نے بحالتِ ایمان ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔‘‘

بخاری، الصحيح، کتاب الصوم، باب صوم رمضان احتسابا من الايمان، 1: 22، رقم: 38

  • حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

اَلصَّوْمُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ کَجُنَّةِ أَحَدِکُمْ مِنَ الْقِتَالِ.

’’روزہ جہنم کی آگ سے ڈھال ہے جیسے تم میں سے کسی شخص کے پاس لڑائی کی ڈھال ہو۔‘‘

نسائی، السنن، کتاب الصيام، 2: 637، رقم: 2230، 2231

  • حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَی سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ إِلَی مَا شَاءَ اﷲُ، يَقُوْلُ اﷲُ تَعَالَی: إِلَّا الصَّوْمُ فَإِنَّهُ لِی، وَأَنَا أَجْزِی بِهِ.

’’آدم کے بیٹے کا نیک عمل دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک آگے جتنا اﷲ چاہے بڑھایا جاتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے: روزہ اس سے مستثنیٰ ہے کیونکہ وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔‘‘

ابن ماجه، السنن، کتاب الصيام، باب ما جاء فی فضل الصيام، 2: 305، رقم: 1638

مندرجہ بالا حدیث مبارکہ سے یہ چیز واضح ہوتی ہے کہ اعمال صالحہ کا ثواب صدقِ نیت اور اخلاص کی وجہ سے دس گنا سے بڑھ کر سات سو گنا تک بلکہ بعض دفعہ اس سے بھی زیادہ ہوتا ہے لیکن روزہ کا ثواب بے حد اور بے اندازہ ہے۔ یہ کسی ناپ تول اور حساب کتاب کا محتاج نہیں، اس کی مقدار اﷲ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ روزے کی اس قدر فضیلت کے درج ذیل اسباب ہیں:

  • پہلا سبب: روزہ لوگوں سے پوشیدہ ہوتا ہے اسے اﷲ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا جبکہ دوسری عبادتوں کا یہ حال نہیں ہے کیونکہ ان کا حال لوگوں کو معلوم ہو سکتا ہے۔ اس لحاظ سے روزہ خالص اﷲ تعالیٰ کے لئے ہی ہے۔ فَإِنَّهُ لِيْ سے اسی کی طرف اشارہ ہے۔
  • دوسرا سبب: روزے میں نفس کشی، مشقت اور جسم کو صبر و برداشت کی بھٹی سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس میں بھوک، پیاس اور دیگر خواہشاتِ نفسانی پر صبر کرنا پڑتا ہے جبکہ دوسری عبادتوں میں اس قدر مشقت اور نفس کشی نہیں ہے۔
  • تیسرا سبب: روزہ میں ریاکاری کا عمل دخل نہیں ہوتا جبکہ دوسری ظاہری عبادات مثلاً نماز، حج، زکوٰۃ وغیرہ میں ریاکاری کا شائبہ ہو سکتا ہے۔
  • چوتھا سبب: کھانے پینے سے استغناء اﷲ تعالیٰ کی صفات میں سے ہے۔ روزہ دار اگرچہ اﷲ تعالیٰ کی اس صفت سے متشابہ تو نہیں ہو سکتا لیکن وہ ایک لحاظ سے اپنے اندر یہ خلق پیدا کر کے مقرب الٰہی بن جاتا ہے۔
  • پانچواں سبب: روزہ کے ثواب کا علم اﷲ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں جبکہ باقی عبادات کے ثواب کو رب تعالیٰ نے مخلوق پر ظاہر کر دیا ہے۔
  • چھٹا سبب: روزہ ایسی عبادت ہے جسے اﷲ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا حتی کہ فرشتے بھی معلوم نہیں کر سکتے۔
  • ساتواں سبب: روزہ کی اضافت اﷲ ل کی طرف شرف اور عظمت کے لئے ہے جیسا کہ بیت اﷲ کی اضافت محض تعظیم و شرف کے باعث ہے ورنہ سارے گھر اﷲ کے ہیں۔
  • آٹھواں سبب: روزہ دار اپنے اندر ملائکہ کی صفات پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے اس لئے وہ اﷲ کو محبوب ہے۔
  • نواں سبب: جزائے صبر کی کوئی حد نہیں ہے اس لئے رمضان کے روزوں کی جزاء کو بے حد قرار دیتے ہوئے اﷲ تعالیٰ نے اس کو اپنی طرف منسوب کیا کہ اس کی جزاء میں ہوں۔

سوال نمبر 27: ارکان اسلام میں روزہ کون سا رکن ہے؟

جواب: ارکان سلام میں روزہ تیسرا رکن ہے جس کی پابندی شہادت توحید و رسالت اور نماز کے بعد ہے۔ روزہ کے بارے میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث مبارک میں ہے کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’جو رمضان میں حالت ایمان اور ثواب کی نیت سے روزہ رکھتا ہے تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔‘‘

بخاری، الصحيح، کتاب صلاة التراويح، باب فضل ليلة القدر، 2: 709، رقم: 1910

سوال نمبر 28: روزہ کون سی عبادت ہے؟

جواب: روزہ بدنی عبادت ہے اور تزکیہ نفس کا بہترین ذریعہ ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

لِکُلِّ شَيئٍ زَکَاةٌ وَ زَکَاةُ الْجَسَدِ الصَّوْمُ

’’ہر چیز کی زکوٰۃ ہے اور جسم کی زکوۃ روزہ ہے۔‘‘

ابن ماجه، کتاب الصيام، باب فی الصوم زکاة الجسد، 2: 361، رقم: 1745

روزہ ایک مخفی اور خاموش عبادت ہے جو نمود و نمائش سے پاک ہے روزہ دار کے بارے میں حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ صَامَ يَوْمًا فِی سَبِيْلِ اﷲِ بَعَّدَ اﷲُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِيْنَ خَرِيْفًا.

’’جس نے اﷲ تعالیٰ کے راستے میں ایک دن روزہ رکھا تو اﷲ تعالیٰ اس کے چہرے کو جہنم سے ستر سال (کی مسافت سے) دور کر دیتا ہے۔‘‘

بخاری، الصحيح، کتاب الجهاد والسير، باب فضل الصوم فی سبيل اﷲ، 3: 1044، رقم: 2685

سوال نمبر 29: روزہ کس سن ہجری میں فرض ہوا؟

جواب: روزے کی فرضیت کا حکم سن 2 ہجری میں تحویلِ قبلہ کے واقعہ سے کم و بیش دس پندرہ روز بعد نازل ہوا۔ آیتِ روزہ شعبان کے مہینے میں نازل ہوئی جس میں رمضان المبارک کو ماہِ صیام قرار دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًی لِّلنَّاسِ وَبَدِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰی وَالْفُرْقَانِ ج فَمَنْ شَهِدَ مِنْکُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ.

’’رمضان کا مہینہ (وہ ہے) جس میں قرآن اتارا گیا ہے جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور (جس میں) رہنمائی کرنے والی اور (حق و باطل میں) امتیاز کرنے والی واضح نشانیاں ہیں۔ پس تم میں سے جو کوئی اس مہینہ کو پالے تو وہ اس کے روزے ضرور رکھے۔‘‘

البقرة، 2: 185

ہجرت کے بعد روزے کو فرض کرنے کی حکمت یہ تھی کہ جب مسلمان توحید و رسالت، نماز اور ما قبل ہجرت نازل ہونے والے دیگر احکامِ قرآن پر عمل کرنے کے خوگر ہوجائیں تو پھر انہیں حکم روزہ دیا جائے۔ رمضان کے روزوں کی فرضیت سے قبل حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول مبارک تھا کہ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم عاشورا کا روزہ رکھتے تھے۔ پھر جب صیامِ رمضان المبارک کی فرضیت کا حکم آیا تو صومِ عاشورا کا حکم منسوخ ہو گیا جیسا کہ حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ’’حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوم عاشورا کا روزہ رکھا اور اس کے رکھنے کا حکم دیا۔ جب رمضان فرض ہو گیا تو اُسے چھوڑ دیا گیا۔

بخاری، الصحيح، کتاب الصوم، باب وجوب صوم رمضان، 2: 669، رقم: 1793

سوال نمبر 30: روزہ کن لوگوں پر فرض ہے؟

جواب: دین اسلام نے دنیا کے ہر خطے میں رہنے والے عاقل، بالغ مسلمان مرد و عورت پر ماہِ رمضان کے روزے فرض کئے ہیں۔ قرآن حکیم میں ارشاد ہوتا ہے:

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًی لِّلنَّاسِ وَبَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰی وَالْفُرْقَانِ ج فَمَنْ شَهِدَ مِنْکُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْه.

’’رمضان کا مہینہ (وہ ہے) جس میں قرآن اتارا گیا ہے جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور (جس میں) رہنمائی کرنے والی اور (حق و باطل میں) امتیاز کرنے والی واضح نشانیاں ہیں، پس تم میں سے جو کوئی اس مہینہ کو پالے تو وہ اس کے روزے ضرور رکھے۔‘‘

البقرة، 2: 185

فرض کی عدم ادائیگی قابلِ تعزیر ہے لیکن اسلام چونکہ بطور دین سہل العمل ہے۔ اس لئے اس میں جبر نہیں جیسا کہ قرآن حکیم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

لَا اِکْرَاهَ فِی الدِّيْنِ.

’’دین میں کوئی زبردستی نہیں۔‘‘

البقرة، 2:256

اس لئے سفر، بیماری اور خواتین کو حالتِ حمل وغیرہ میں روزہ رکھنے میں رعایت دی گئی ہے۔ اگر ان حالتوں میں روزہ نہ رکھا جائے تو ان کے ختم ہونے کی مدت کے بعد رمضان کے چھوڑے گئے روزوں کی قضا کرنا ضروری ہے۔

سوال نمبر 31: کیا روزہ پہلی امتوں پر بھی فرض تھا؟

جواب: جی ہاں! روزہ پہلی امتوں پر بھی فرض تھا جیسا کہ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔

يٰاَيُهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَيْکُمُ الصِّيَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَo

’’اے ایمان والو! تم پر اسی طرح روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ‘‘

البقرة، 2: 183

مذکورآیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ روزہ پہلی امتوں پر بھی فرض تھا۔ کتبِ حدیث و تاریخ اور تورات و انجیل کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قریشِ مکہ ایامِ جاہلیت میں دسویں محرم کو اس لئے روزہ رکھتے تھے کہ اس دن خانہ کعبہ پر نیا غلاف ڈالا جاتا تھا۔

بخاری، الصحيح، کتاب الحج، باب قول اﷲ: جعل اﷲ الکعبة البيت الحرام، 2: 578، رقم: 1515

مدینہ میں یہود اس دن اس لئے روزہ رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے قوم بنی اسرائیل کو اس دن فرعون سے نجات دی تھی۔

بخاری، الصحيح، کتاب الصوم، باب صيام يوم عاشورة، 2: 704، رقم: 1900

ان شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ شریعت محمدی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قبل اُمم میں بھی بحیثیت عبادت کے روزہ معروف اور جانا پہچانا جاتا تھا۔ انسائیکلو پیڈیا آف جیوز میں لکھا ہوا ہے:

’’یہودی اور عیسائی روزہ بطور کفارہ گناہ یا توبہ کی خاطر یا پھر ان سے بھی تنگ تر مقاصد کے لئے رکھتے تھے اور ان کا روزہ محض رسمی نوعیت کا ہوتا تھا۔ یا پھر قدیم تر ایام میں روزہ ماتم کے نشان کے طور پر رکھا جاتا تھا۔‘‘

یعنی ان لوگوں نے روزے کی اصل مقصدیت سے صرف نظر کرتے ہوئے اسے اپنے مخصوص مفادات کے ساتھ وابستہ کر لیا تھا مگر اسلام نے انسانیت کو روزے کے بامقصد اور تربیتی نظام سے آشنا کیا۔

یہ اسلام ہی ہے جس نے مسلمانوں کو روزے پر وسیع دائرہ ہائے کار اور بلند اغراض و مقاصد عطا کئے۔ زندگی کی وہ تمام تمنائیں اور خواہشات جو عام طور پر جائز ہیں روزہ میں ان پر بھی کچھ عرصہ کے لئے پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہر اطاعت گزار اُمتی ان پابندیوں کو دلی رغبت و مسرت کے ساتھ اپنے اوپر عائد کرلیتا ہے یہ جانتے ہوئے کہ جسم و روح دونوں کے لئے مفید ہے۔

علاوہ ازیں مختلف مذاہب میں روزہ رکھنے کے مکلف بھی مختلف طبقات ہیں۔ مثلاً پارسیوں کے ہاں صرف مذہبی پیشوا، ہندوؤں میں برہمن اور یونانیوں کے ہاں صرف عورتیں روزے رکھنے کی مکلف ہیں جبکہ ان کے اوقات روزہ میں بھی اختلاف اور افراط و تفریط پائی جاتی ہے۔ لیکن اسلام کے پلیٹ فارم پر دنیا کے ہر خطے میں رہنے والے عاقل، بالغ مسلمان مرد و عورت کے لئے ایک ہی وقت میں ماہ رمضان کے روزے فرض کیے گئے ہیں۔

سوال نمبر 32: روزہ کی کتنی اقسام ہیں؟

جواب: روزہ کی آٹھ اقسام ہیں جو درج ذیل ہیں:

  1. فرض معین
  2. فرض غیر معین
  3. واجب معین
  4. واجب غیرمعین
  5. سنت
  6. نفل
  7. مکروہ
  8. حرام

سوال نمبر 33: فرض معین اور فرض غیر معین روزے سے کیا مراد ہے؟

جواب: رمضان المبارک کے روزے فرض معین ہیں جو سال بھر میں ایک دفعہ ہر عاقل و بالغ مسلمان مرد و عورت پر فرض کئے گئے ہیں جیسا کہ قرآن حکیم میں اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

يٰاَيُهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَيْکُمُ الصِّيَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَo

’’اے ایمان والو! تم پر اسی طرح روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ‘‘

البقرة، 2: 183

رمضان المبارک کے روزے اگر کسی عذر کی وجہ سے یا بلاعذر چھوٹ جائیں تو ان کی قضا کے روزے فرض غیر معین کہلاتے ہیں۔

سوال نمبر 24: واجب معین اور واجب غیر معین روزے سے کیا مراد ہے؟

جواب: وہ روزے جن کے رکھنے کی کسی خاص تاریخ یا کسی خاص دن میں منت مانی جائے اور منت پوری ہونے کے بعد ان کو اسی دن یا اسی خاص تاریخ میں رکھا جائے واجب معین روزے کہلاتے ہیں مثلاً کسی نے منت مانی کہ اگر میں امتحان میں پاس ہو گیا تو اللہ کے لئے رجب کی پہلی تاریخ کا روزہ رکھوں گا پس منت پوری ہونے کے بعد اس پر رجب کی پہلی تاریخ کا روزہ رکھنا واجب معین ہے۔ جبکہ کفارے کے روزے اور نذرِ غیر معین کے روزے واجب غیر معین کہلاتے ہیں مثلاً کسی نے یہ منت مانی کہ اگر میں امتحان میں امتیازی حیثیت سے کامیاب ہو گیا تو اللہ تعالیٰ کے لئے تین روزے رکھوں گا۔ پس وہ ان کو منت پوری ہونے کے بعد کبھی بھی رکھ سکتا ہے۔

سوال نمبر 35: مسنون روزے سے کیا مرا د ہے؟

جواب: وہ روزے جو حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرض روزوں کے علاوہ رکھے اور امت کو ان کی ترغیب دی مسنون روزے کہلاتے ہیں۔ اس کی تفصیل حسب ذیل ہے:

  • محرم الحرام کی نویں اور دسویں کے روزے۔ یومِ عاشورہ کے روزے سے متعلق بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے۔ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عاشورہ کے روزے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا:

يُکَفَّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ.

’’یہ روزہ گزشتہ سال کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔‘‘

مسلم، الصحيح، کتاب الصيام، باب استحباب صيام ثلاثة ايام من کل شهر و صوم يوم عرفة و عاشوراء، 2: 819، رقم: 1162

  • عرفہ یعنی ذو الحجہ کی نویں تاریخ کا روزہ رکھنا مستحب ہے۔ یہ روزہ ان کے لئے مستحب ہے جو حالتِ حج میں نہ ہوں۔

حضرت ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرفہ کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

يُکَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ وَالْبَاقِيَةَ.

’’عرفہ کا روزہ گزشتہ اور آئندہ سال (کے گناہوں) کے لئے کفارہ ہے۔‘‘

  1. مسلم، الصحيح، کتاب الصيام، باب استحباب صيام ثلاثة أيام من کل شھر و صوم يوم عرفة و عاشوراء، 2: 819، رقم: 1162
  2. ترمذی، الجامع الصحيح، ابواب الصوم، باب ماجاء في فضل صوم عرفة، 2:116، رقم: 749

یاد رہے کہ حج کرنے والوں کا عرفہ کے دن روزہ رکھنا مکروہ تنزیہی ہے اس لئے روزے کی وجہ سے کمزوری کی بناء پر کہیں ان کی دعا و استغفار میں سستی نہ آجائے۔ جیسا کہ حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

’میں نے حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ حج کیا تو آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفہ کے دن روزہ نہ رکھا۔‘

ترمذی، الجامع الصحيح، ابواب الصوم، باب کراهية صوم يوم عرفة بعرفة، 2: 117، رقم: 751

ہاں اگر کسی حاجی پر روزے کی وجہ سے کمزوری و ضعف کا غلبہ نہ ہونے پائے تو فقہاء کرام نے اسے روزہ رکھنے کی اجازت دی ہے۔

کاسانی، بدائع الصنائع، 2: 79

  • ایام بیض کے تین روزے یعنی ہر اسلامی مہینے کی تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کو روزے رکھنا بھی مستحب ہے۔ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

صَوْمُ ثَـلَاثَةٍ مِنْ کُلِّ شَهْرٍ، وَرَمَضَانَ إِلَی رَمَضَانَ صَوْمُ الدَّهْرِ.

’’ہر ماہ تین دن کے روزے رکھنا اور ایک رمضان کے بعد دوسرے رمضان کے روزے رکھنا یہ تمام عمر کے روزوں کے مترادف ہے۔‘‘

مسلم، الصحيح، کتاب الصيام، باب استحباب صيام ثلاثة ايام من کل شهر، 2: 819، رقم: 1162

  • پندرھویں شعبان کا روزہ یعنی ماہ شعبان کی پندرہ کو روزہ رکھنے کی آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تلقین فرمائی۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’جس وقت شعبان کی نصف کی شب ہوتی ہے تو تم لوگ اس رات کو قیام کیا کرو اور دن کو روزہ رکھا کرو۔ پس بے شک اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کیا ہے کوئی استغفار کرنے والا میں اس کو معاف کر دوں کیا ہے کوئی رزق مانگنے والا میں اس کو رزق دے دوں کیا ہے کوئی سائل میں اس کو عطا کر دوں۔۔۔ یہاں تک کہ فجر ہو جاتی ہے۔‘‘

بيهقی، شعب الايمان، باب فی الصيام، ماجاء فی ليلة النصف من شعبان، 3: 379، رقم: 3822

سوال نمبر 36: نفلی روزہ سے کیا مراد ہے؟

جواب: نفلی روزوں سے مراد وہ روزے ہیں جو فرض اور واجب کے زمرے میں تو نہیں آتے لیکن ان کا رکھنا باعثِ ثواب ہے اور چھوڑنے پر کوئی عتاب و گناہ نہیں۔

  • شوال کے چھ روزے: حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ اَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ کَانَ کَصِيَامِ الدَّهْرِ.

’’جس شخص نے رمضان المبارک کے روزے رکھنے کے بعد پھر شوال کے چھ روزے رکھے تو گویا اس نے سال بھر کے روزے رکھے۔‘‘

مسلم، الصحيح، کتاب الصيام، باب استحباب صوم ستة ايام من شوال اتباعا الرمضان، 2: 822، رقم: 1164

  • پیر اور جمعرات کا روزہ: اس سلسلے میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

تُعْرَضُ الْاَعْمَالُ يَوْمَ الْاِثْنَيْنِ وَالْخَمِيْسِ، فَاُحِبُّ اَنْ يُعْرَضَ عَمَلِي وَاَنَا صَائِمٌ.

’’پیر اور جمعرات کو اعمال (بارگاہِ الٰہی میں) پیش کئے جاتے ہیں۔ میں پسند کرتا ہوں کہ میرا عمل روزے کی حالت میں پیش ہو۔‘‘

ترمذی، الجامع الصحيح، ابواب الصوم عن رسول اﷲ صلیٰ الله عليه وآله وسلم، باب ما جاء فی يوم الاثنين والخميس، 2: 114، رقم: 747

سوال نمبر 37: حرام روزے سے کیا مراد ہے؟

جواب: حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانچ دن کے روزوں سے منع فرمایا ہے۔ ان میں عیدالفطر، عیدالاضحی اور ایامِ تشریق کے تین دن شامل ہیں۔

  • عید الفطر اور عید الاضحی کے متعلق حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:

نَهَی رَسُوْلُ اﷲِ صلیٰ الله عليه وآله وسلم عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ: يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الأَضْحَی.

’’حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن روزے رکھنے سے منع فرمایا۔‘‘

ابوداؤد، السنن، کتاب الصيام، باب فی صوم العيدين، 2: 314، رقم: 2417

  • ایام تشریق یعنی ذوالحجہ کے گیارھویں، بارھویں اور تیرھویں تاریخ کے ایام کے بارے میں حضرت نبیثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’ایامِ تشریق کھانے پینے کے دن ہیں۔‘‘

مسلم، الصحيح، کتاب الصيام، باب تحريم صوم ايام التشريق، 2: 800، رقم: 1141

سوال نمبر 38: مکروہ روزے سے کیا مراد ہے؟

جواب: بعض ایام میں روزے رکھنے کو شریعت میں ناپسندیدگی و کراہت کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے۔ مثلًا:

  • ہفتے کے دن کا روزہ: حضرت عبداﷲ بن بسر رضی اﷲ عنہما اپنی ہمشیرہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’ہفتے کے دن کا روزہ نہ رکھو مگر جو تم پر فرض کیا گیا اور اگر تم میں سے کسی کو انگور کا چھلکا یا درخت کی لکڑی کے سوا کچھ نہ ملے تو (ہفتہ کا روزہ توڑنے کے لئے) اسے ہی چبا لے۔‘‘

ترمذی، الجامع الصحيح، ابواب الصوم، باب ما جاء فی صوم يوم السبت، 2: 112، رقم: 744

امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے اور اس دن میں کراہت کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص روزہ رکھنے کے لئے ہفتے کا دن مخصوص نہ کرے کیونکہ یہودی اس دن کی تعظیم کرتے ہیں۔

  • عاشورہ یعنی محرم کی دسویں تاریخ کا ایک روزہ جس کے ساتھ نویں یا گیارہویں تاریخ کا روزہ نہ ملایا جائے۔
  • جمعہ کے دن کا اکیلا روزہ رکھنا اس صورت میں منع ہے جب تک اس سے پہلے یا بعد میں کوئی اور روزہ نہ رکھا جائے۔ البتہ اگر کوئی شخص کسی خاص دن کا روزہ رکھتا چلا آ رہا ہے اور اسی دن جمعہ کا روز ہو تو پھر اس دن روزہ رکھنا جائز ہے۔ حدیث مبارکہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’تـم میں سے کوئی صرف جمعہ کا روزہ نہ رکھے مگر اس سے پہلے اور بعد کا روزہ بھی رکھے۔‘‘

ترمذی، الجامع الصحيح، ابواب الصوم، باب ما جاء فی کراهیة صوم یوم الجمعة وحده، 2:111، رقم: 743

  • نوروز کے دن کا روزہ مکروہ ہے بشرطیکہ یہ اس روز واقع نہ ہو جس روز کوئی شخص پہلے سے روزہ رکھتا چلا آ رہا ہو۔
  • عورت کا شوہر کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ رکھنا مکروہ ہے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

لَا تَصُوْمُ الْمَرْأَةُ وَزَوْجُهَا شَاهِدٌ يَوْمًا مِنْ غَيْرِ شَهْرِ رَمَضَانَ، إِلَّا بِإِذْنِهِ.

’’عورت کا خاوند اگر موجود ہو تو رمضان کے روزوں کے علاوہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی روزہ نہ رکھے۔‘‘

ترمذی، الجامع الصحيح، أبواب الصوم، باب ما جاء فی کراهية صوم المرأة إلا بإذن زوجها، 2: 142، رقم: 782

سوال نمبر 39: صومِ داؤدی کسے کہتے ہیں؟

جواب: سال بھر اس طرح روزے رکھنا کہ ایک دن روزہ سے رہے اور ایک دن بلا روزہ، صومِ داؤد کہلاتا ہے۔ یہ حضرت داؤد ں کا روزہ رکھنے کا معمول تھا جیسا کہ حدیث مبارکہ میں حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

إِنَّ أَحَبَّ الصِّيَامِ إِلَی اﷲِ تَعَالٰی صِيَامُ دَاوُدَ، وَکَانَ يَصُوْمُ يَوْماً وَيُفْطِرُ يَوْماً.

’’بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک صیامِ داؤد سب سے زیادہ پسند ہیں، وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن بغیر روزہ کے رہتے تھے۔‘‘

مسلم، الصحيح، کتاب الصيام، باب النهی عن صوم الدهر… وبيان تفضيل صوم يوم و إفطار يوم، 2: 816، رقم: 1159

سوال نمبر 40: سحری و افطاری کے وقت کون سی دعائیں پڑھنی چاہییں، کیا یہ حدیثِ نبوی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہیں؟

جواب: روزہ رکھتے وقت درج ذیل دعا پڑھنی چاہئے:

وَبِصَومِ غَدٍ نَّوَيْتُ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ.

’’میں نے کل کے ماہِ رمضان کے روزے کی نیت کی۔‘‘

یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ روزہ رکھنے کی دعا کسی حدیث مبارکہ میں منقول نہیں۔ اصل نیت فرض ہے جو دل کے ارادے کا نام ہے۔ نیت کا مطلب کسی چیز کا پختہ ارادہ کرنا ہے اور اصطلاح شرع میں نیت کا مطلب ہے کسی کام کے کرتے وقت اﷲ تعالیٰ کی اطاعت اور قرب حاصل کرنے کا ارادہ کرنا۔

نماز، روزہ، زکوۃ، حج وغیرہ جیسی عبادات میں نیت فرض ہے لیکن الفاظ فرض نہیں۔ البتہ آج کل ذہن منتشر ہوتے ہیں، لہٰذا ایک تو زبان سے کہہ لینے سے دل کا ارادہ و قصد ظاہر ہو جائے گا، دوسرا زبان سے بولا جانے والا ہر لفظ نیکیوں میں لکھا جائے گا کیونکہ رضائے الٰہی کی خاطر کیا جانے والا کام جو فی نفسہ خلاف شریعت نہ ہو، تو اسلام اس کو قبول کرتا ہے۔ امر مستحسن کے طور پر اس کام پر اجر و ثواب اور فوائد و برکات بھی متحقق ہوتے ہیں۔ لہٰذا روزہ رکھتے وقت مروجہ دعا کے الفاظ بطور نیت دہرانا بدعتِ حسنہ یعنی اچھی بدعت ہے۔

ملا علی قاری، مرقاة المفاتيح شرح مشکاة المصابيح، 2: 304

جب کہ روزہ افطار کرنے کی دعا مختلف الفاظ کے ساتھ کتبِ حدیث میں بیان ہوئی ہے، جن میں سے ایک حضرت معاذ بن زہرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ افطار کرتے وقت یہ دعا پڑھتے:

اَللَّهُمَّ لَکَ صُمْتُ وَعَلَی رِزْقِکَ اَفْطَرْتُ.

’’اے اﷲ! میں نے تیرے لئے روزہ رکھا اور تیرے ہی دیے ہوئے رزق پر افطار کیا۔‘‘

ابو داؤد، السنن، کتاب الصوم، باب القول عند الإفطار، 2: 294، رقم: 2358

بعض کتب حدیث میں یہ دعا مختلف الفاظ کے ساتھ آئی ہے، جیسے وَعَلَيْکَ تَوَکَّلْتُ (اور میں نے تیرے اوپر بھروسہ کیا) یا فَتَقَبَّلْ مِنِّی، اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ (پس تو (میرا روزہ) قبول فرمالے، بے شک تو خوب سننے والا جاننے والا ہے)، لیکن ملا علی قاری اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے مرقاۃ المفاتیح میں لکھتے ہیں کہ اگرچہ افطاری کی دعا میں وَبِکَ آمَنْتُ کے الفاظ کی کوئی اصل نہیں مگر یہ الفاظ درست ہیں اور دعائیہ کلمات میں اضافہ کرنا جائز ہے (جس طرح بعض لوگ حج کے موقع پر تلبیہ میں اضافہ کر لیتے ہیں)۔ لہٰذا اس بحث کی روشنی میں ہم اِفطار کے وقت درج ذیل مروجہ دعا پڑھ سکتے ہیں:

اَللَّهُمَّ اِنِّی لَکَ صُمْتُ وَبِکَ اٰمَنْتُ وَعَلَيْکَ تَوَکَلَّتُ وَعَلَی رِزْقِکَ اَفْطَرْتُ.

’’اے اﷲ! بے شک میں نے تیرے لیے روزہ رکھا اور تجھ پر ایمان لایا اور تجھ پر ہی بھروسہ کیا اور تیرے ہی عطا کیے ہوئے رزق سے میں نے افطار کیا۔‘‘

سوال نمبر 41: روزہ کی حالت میں غیبت کرنا، جھوٹ بولنا اور فحش کلامی کرنا کیسا ہے؟

جواب: شرع کی رو سے روزہ کی حالت میں غیبت، جھوٹ، فحش کلامی کسی طور بھی جائز نہیں، کیونکہ اس کی وجہ سے روزہ میں کراہت آتی ہے۔ روزہ فرض کرنے کا مقصد صرف روزہ دار کا بھوکا، پیاسا رہنا کافی نہیں ہے بلکہ دنیاوی لذتوں کی خواہشات اور برے اعمال مثلا جھوٹ بولنا، فحش کلامی کرنا اور غیبت سے بچنا بھی ضروری ہے۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث مبارکہ سے ثابت ہیں۔

  • حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ

’’اگر کوئی شخص جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا (روزہ رکھ کر) نہیں چھوڑتا تو اللہ تعالیٰ کو اسکی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا، پینا، چھوڑ دے۔‘‘

بخاری، الصحيح، کتاب الصوم، باب من لم يدع قول الزور والعمل به فی الصوم، 2: 673، رقم: 1804

  • حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو یہ حکم دیا کہ وہ ایک دن روزہ رکھیں اور جب تک میں اجازت نہ دوں اس وقت تک کوئی روزہ افطار نہ کرے۔ لوگوں نے روزہ رکھا۔ جب شام ہوئی تو ایک شخص حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر عرض کی:میں سارے دن روزے سے رہا ہوں، آپ مجھے افطار کی اجازت دیں، آپ نے اس کو افطار کی اجازت مرحمت فرمائی۔ پھر ایک شخص حاضر ہوا۔ اور اس نے عرض کیا آپ کے گھر کی دو کنیزیں صبح سے روزے سے ہیں، آپ انہیں بھی افطار کی اجازت دیں۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص سے اعراض کیا۔ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

ان کا روزہ نہیں ہے، ان لوگوں کا روزہ کیسے ہوسکتا ہے؟ جو سارا دن لوگوں کا گوشت کھاتے رہے ہوں، جاؤ انہیں جاکر کہو اگر وہ روزہ دار ہیں تو قے کریں، انہوں نے قے کی تو ہر ایک سے جما ہوا خون نکلا۔ اس شخص نے جاکر حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر دی، آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ مرجاتیں اور وہ جما ہوا خون ان میں باقی رہ جاتا تو دونوں کو دوزخ کی آگ کھاتی۔

طيالسی، المسند، 1: 282، رقم: 2107

  • اسی طرح حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ ل فرماتا ہے:

’’ابن آدم کا روزے کے سوا ہر عمل اس کے اپنے لئے ہے روزہ بالخصوص میرے لئے ہے۔ اس کی جزا میں ہی دوں گا اور روزہ ڈھال ہے، جب تم میں سے کسی شخص کا روزہ ہو، تو وہ بے ہودہ گوئی کرے نہ فحش گوئی کرے۔ اگر کوئی شخص اسے گالی دے یا اس سے جھگڑا کرے تو وہ کہہ دے کہ میں روزہ دار ہوں۔‘‘

بخاری، الصحيح، کتاب الصوم، باب هل يقول إنی صائم إذا شتم، 2: 673، رقم: 1805

پس مذکورہ بالا احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ روزہ کی حالت میں جھوٹ بولنا، غیبت کرنا اور فحش کلامی کرنا ممنوع ہے۔ ان امورِ رذیلہ سے اس لے ممانعت کی گئی کہ ان سے روزہ رکھنے کا مقصد ختم ہو جاتا ہے اور روزہ دار، روزہ کے برکات و ثمرات سے محروم رہتا ہے۔

سوال نمبر 42: روزے میں کار فرما حکمتیں کیا ہیں؟

جواب: روزہ نہ صرف روح کی غذا ہے بلکہ اس کے پس پردہ بے شمار دینی و دنیاوی حکمتیں اور ایسے رموز کار فرما ہیں جو صرف اﷲ تعالیٰ روزہ دار کو عطا کرتا ہے۔ اس لحاظ سے روزہ کی درج ذیل حکمتیں ہیں:

تقویٰ

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

يٰاَيُهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَيْکُمُ الصِّيَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَo

’’اے ایمان والو! تم پر اسی طرح روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ‘‘

البقرة، 2: 183

اہلِ ایمان پر امم سابقہ کی طرح روزے اس لئے فرض کئے گئے کہ وہ متقی اور پرہیزگار بن جائیں گویا روزے کا مقصد انسانی سیرت کے اندر تقویٰ کا جوہر پیدا کر کے اس کے قلب و باطن کو روحانیت و نورانیت سے جلا دینا ہے۔ روزے سے حاصل کردہ تقویٰ کو اگر بطریق احسن بروئے کار لایا جائے تو انسان کی باطنی کائنات میں ایسا ہمہ گیر انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے جس سے اس کی زندگی کے شب و روز یکسر بدل کر رہ جائیں۔

تقویٰ بادی النظر میں انسان کو حرام چیزوں سے اجتناب کی تعلیم دیتا ہے، لیکن اگر بنظرِ غائر قرآن و سنت کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ روزے کی بدولت حاصل شدہ تقویٰ حرام چیزوں سے تو درکنار ان حلال و طیب چیزوں کے قریب بھی بحالتِ روزہ پھٹکنے نہیں دیتا‘ جن سے مستفید ہونا عام زندگی میں بالکل جائز ہے۔ ہر سال ایک ماہ کے اس ضبط نفس کی لازمی تربیتی مشق (Refresher Course) کا اہتمام، اس مقصد کے حصول کے لئے ہے کہ انسان کے قلب و باطن میں سال کے باقی گیارہ مہینوں میں حرام و حلال کا فرق و امتیاز روا رکھنے کا جذبہ اس درجہ فروغ پا جائے کہ اس کی باقی زندگی ان ہی خطوط پر استوار ہو جائے۔ وہ ہر معاملے میں حکمِ خداوندی کے آگے سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے حرام چیزوں کے شائبے سے بھی بچ جائے۔

تربیتِ صبر و شکر

صبر کا تقاضا ہے کہ انسان کسی نعمت سے محرومی پر اپنی زبان کو شکوہ اور آہ و بکا سے آلودہ کئے بغیر خاموشی سے برداشت کرے۔ روزہ انسان کو تقویٰ کے اس مقامِ صبر سے بھی بلند تر مقامِ شکر پر فائز دیکھنے کا متمنی ہے۔ وہ اس کے اندر یہ جوہر پیدا کرنا چاہتا ہے کہ نعمت کے چھن جانے پر اور ہر قسم کی مصیبت، ابتلا اور آزمائش کا سامنا کرتے وقت اس کی طبیعت میں ملال اور پیشانی پر شکن کے آثار پیدا نہ ہونے پائیں‘ بلکہ وہ ہر تنگی و ترشی کا بہرحال خندہ پیشانی سے مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے اپنے پروردگار کا شکر ادا کرتا رہے۔

اس ضمن میں دو صاحب حال بزرگوں کے واقعہ کا تذکرہ خالی از فائدہ نہ ہو گا۔ طویل جدائی کے بعد جب وہ ملے اور ایک دوسرے کا حال پوچھا تو ایک نے کہا کہ اپنا حال تو یہ ہے کہ جب خدا تعالی کسی نعمت سے نوازتا ہے تو اس کا شکر ادا کرتے ہیں، وگرنہ صبر سے کام لیتے ہیں۔ دوسرے بزرگ نے کہا‘ یہ تو کوئی بات نہ ہوئی کہ ہمارے شہر کے کتوں کا بھی یہی حال ہے۔ وہ مالک کے در پر پڑے رہتے ہیں، اگر کچھ مل جائے تو دُم ہلا کر اس کے آگے پیچھے جاتے ہیں اور اگر کچھ نہ بھی ملے تو اسے چھوڑ کر کسی اور در پر نہیں جاتے۔ پھر فرمایا کہ اپنا حال یہ ہے کہ جب مولا سے کچھ ملتا ہے تو اس کے بندوں میں بانٹ دیتے ہیں اور کچھ نہ ملے تو ہر حال میں اس کا شکر ادا کرتے رہتے ہیں۔ اسی لئے اللہ تعالی نے آیاتِ صوم میں لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْن کے ذریعے شکر کی ضرورت و اہمیت کی طرف اشارہ کیا ہے۔

جذبہ ایثار

بحالتِ روزہ انسان بھوک اور پیاس کے کرب سے گزرتا ہے تو لامحالہ اس کے دل میں ایثار‘ بے نفسی اور قربانی کا جذبہ تقویت پکڑتا ہے اور وہ عملاً اس کیفیت سے گزر کر جس کا سامنا انسانی معاشرہ کے مفلوک الحال اور نانِ شبینہ سے محروم لوگ کرتے ہیں، کرب و تکلیف کے احساس سے آگاہ ہو جاتا ہے۔ فی الحقیقت روزے کے ذریعے اللہ رب العزت اپنے آسودہ حال بندوں کو ان شکستہ اور بے سر و سامان لوگوں کی زبوں حالی سے کماحقہُ آگاہ کرنا چاہتے ہیں، جو اپنے تن و جان کا رشتہ بمشکل برقرار رکھے ہوئے ہیں، تاکہ ان کے دل میں دکھی اور مضطرب انسانیت کی خدمت کا جذبہ فروغ پائے اور ایک ایسا اسلامی معاشرہ وجود میں آ سکے، جس کی اساس باہمی محبت و مروت‘ انسان دوستی اور دردمندی و غمخواری کی لافانی قدروں پر ہو۔ اس احساس کا بیدار ہو جانا روزے کی روح کا لازمی تقاضا ہے اور اس کا فقدان اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ روزے میں روح نام کی کوئی چیز باقی نہیں بقول علامہ اقبال:

روح چوں رفت از صلوٰۃ و از صیام
فرد ناہموار، ملت بے امام

’’جب نماز و روزہ سے روح نکل جاتی ہے تو فرد نالائق و ناشائستہ اور قوم بے امام ہو جاتی ہے۔‘‘

تزکیہ نفس

روزہ انسان کے نفس اور قلب و باطن کو ہر قسم کی آلودگی اور کثافت سے پاک و صاف کر دیتا ہے۔ انسانی جسم مادے سے مرکب ہے، جسے اپنی بقا کے لئے غذا اور دیگر مادی لوازمات فراہم کرنا پڑتے ہیں، جبکہ روح ایک لطیف چیز ہے، جس کی بالیدگی اور نشوونما مادی ضروریات اور دنیاوی لذات ترک کر دینے میں مضمر ہے۔ جسم اور روح کے تقاضے ایک دوسرے کے متضاد ہیں۔ روزہ جسم کو کھانے پینے اور بعض دیگر اُمور سے دور رکھ کر مادی قوتوں کو لگام دیتا ہے‘ جس سے روح لطیف تر اور قوی تر ہوتی چلی جاتی ہے۔ جوں جوں روزے کی بدولت بندہ خواہشاتِ نفسانی کے چنگل سے رستگاری حاصل کرتا ہے، اس کی روح غالب و توانا اور جسم مغلوب و نحیف ہو جاتا ہے۔ روح اور جسم کا تعلق پرندے اور قفس کا سا ہے، جیسے ہی قفسِ جسم کا کوئی گوشہ وا ہوتا ہے، روح کا پرندہ مائل بہ پرواز ہو کر، موقع پاتے ہی جسم کی بندشوں سے آزاد ہو جاتا ہے۔

مسلسل روزے کے عمل اور مجاہدے سے تزکیہء نفس کا عمل تیز تر ہونے لگتا ہے، جس کی وجہ سے روح کثافتوں سے پاک ہو کر پہلے سے کہیں لطیف تر اور قوی تر ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ بعض کاملین و عرفاء کی روحانی طاقت کائنات کی بے کرانیوں اور پہنائیوں پر حاوی ہو جاتی ہے۔

رضاے خداوندی کا حصول

روزے کا منتہاے مقصود یہی ہے کہ وہ بندے کو تمام روحانی مدارج طے کرانے کے بعد مقام رضا پر فائز دیکھنا چاہتا ہے۔ یہ مقام رضا کیا ہے؟ جو روزے کے توسط سے انسان کو نصیب ہو جاتا ہے، اس پر غور کریں تو اس کی اہمیت کا احساس اجاگر ہوتا ہے۔ رب کا اپنے بندے سے راضی ہو جانا اتنی بڑی نعمت ہے کہ اس کے مقابلے میں باقی سب نعمتیں ہیچ دکھائی دیتی ہیں۔ روزہ وہ منفرد عمل ہے جس کے اجر و جزا کا معاملہ رب اور بندے کے درمیان چھوڑ دیا گیا کہ اس کی رضا حد و حساب کے تعین سے ماوراء ہے۔

سوال نمبر 43: عام اور خاص لوگوں کے روزے میں کیا فرق ہے؟

جواب: جس طرح معاشرے میں معاشی حیثیت اور سماجی مقام کے اعتبار سے انسانی زندگی کے مختلف طبقات پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح دینی و روحانی مدارج و مقامات میں روزہ رکھنے کے لحاظ سے لوگوں کی دو اقسام ہیں:

  1. عام لوگوں کا روزہ
  2. خاص لوگوں کا روزہ

عام لوگوں کا روزہ

پہلی قسم عام لوگوں کی ہے جو محض رسماً روزہ رکھتے ہیں اور ان کا روزہ سحری و افطاری تک محدود ہوتا ہے وہ روزے کے آداب و شرائط کا مطلقاً لحاظ نہیں رکھتے چنانچہ اکثر و بیشتر حسب ارشاد نبوی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سوائے بھوکے اور پیاسے رہنے کے ان کے ہاتھ کچھ نہیں آتا۔ وہ لوگ جو روزہ رکھ کر احکام خداوندی کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہیں۔ وہ جھوٹ، غیبت، دھوکہ، فریب دہی اور دیگر افعال قبیحہ کے ارتکاب کو اپنا معمول بنائے رکھتے ہیں۔ روزے کے فیوض و برکات سے محروم رہتے ہیں اور نتیجہ خیزی کے اعتبار سے ان کی صلوٰۃ و صیام بے روح ہے۔ ایسا روزہ افراد ملت پر مثبت اور نفع بخش اثرات مرتب نہیں کرسکتا۔

خاص لوگوں کا روزہ

دوسری قسم خاص لوگوں کی ہے جو احکام خداوندی کی پاسداری کرتے ہیں اور صغیرہ و کبیرہ گناہوں سے اپنے دامن بچائے رکھتے ہیں۔ روزہ سے ان کے سیرت و کردار میں تقویٰ کا جوہر پیدا ہو جاتا ہے او ان کی زندگیاں لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْن کے فرمودہ ایزدی کی عملی تفسیر بن جاتی ہیں۔ تقویٰ کی بدولت ان کے شب و روز انقلاب آشنا ہو جاتے ہیں اور وہ ہر معاملے میں حلال و حرام کی تمیز کو اپنا شعار بنا لیتے ہیں۔

ایسا روزہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کے مطابق ان کے اور عذابِ دوزخ کے درمیان ڈھال بن جاتا ہے۔ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’روزہ دوزخ کی آگ سے یوں ڈھال ہے جس طرح لڑائی کے وقت تمہاری ڈھال ہوتی ہے۔‘‘

ابن ماجه، السنن، کتاب الصيام، باب ما جاء فی فضل الصيام، 2: 305، رقم: 1639

مندرجہ بالا بحث کی روشنی میں معلوم ہوا کہ عام اور خاص لوگوں کے روزے میں فرق یہ ہے کہ عام لوگوں کا روزہ صرف سحری و افطاری تک محدود ہوتا ہے۔ جبکہ خاص لوگوں کا روزہ ان کے مجاہدہ کی بناء پر ان کو مقامِ مشاہدہ پر فائز کردیتا ہے۔ کیونکہ ان کی طلب و آرزو کا محور اﷲ کی رضا کا حصول اور دیدارِ مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعمتوں سے بہرہ ور ہونے کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔

سوال نمبر 44: کیا روزہ کے اثرات ہر شخص پر یکساں ہوتے ہیں؟

جواب: روزہ کے اثرات ہر شخص پر روحانی اور جسمانی طور پر یکساں نہیں ہوتے۔ روزے کی فضیلت اور برکت اپنی جگہ مسلّم لیکن اس کی رحمتیں اور برکتیں ہر شخص کے حصے میں برابر آجائیں ممکن نہیں۔ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’کتنے روزہ دار ایسے ہیں جن کو اپنے روزوں سے بھوک پیاس کے سوا کچھ نہیں ملتا اور کتنے راتوں کو نماز پڑھنے والے ہیں جن کو نمازوں سے رت جگے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔‘‘

ابن خزيمة، الصحيح، 3: 242، رقم: 1997

جس نے اﷲ تعالیٰ کے بتائے ہوئے احکامات، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر چلتے ہوئے اپنی بندگی کو وفاداری بشرط استواری کے ساتھ نبھایا اور خود احتسابی سے غافل ہوئے بغیر روزہ رکھے ایسے شخص کے لئے خوشخبری ہے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’جس شخص نے حالتِ ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے داتے ہیں اور جو رمضان میں ایمان کی حالت اور ثواب کی نیت سے قیام کرتا ہے تو اس کے (بھی) سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں اور جو لیلۃ القدر میں ایمان کی حالت اور ثواب کی نیت سے قیام کرے اس کے گزشتہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔‘‘

بخاری، الصحيح، کتاب صلاة التراويح، باب فضل ليلة القدر، 2: 709، رقم: 1910

اسی طرح جسمانی طور پر بھی روزہ کے اثرات ہر شخص پر مختلف ہوتے ہیں مثلاً ایک شخص ائیرکنڈیشنڈ آفس میں کام کرتا ہے تو دوسرا شخص شدید گرمی اور چلچلاتی دھوپ میں محنت مزدوری کرتا ہے۔ دونوں کے کام کی نوعیت کے اعتبار سے انسانی جسم میں پانی، نمکیات وغیرہ کی کمی اور نقاہت کی کیفیت مختلف ہو گی۔ اسی اعتبار سے روزہ دار کو ان کے صبر و برداشت اور رضائے الٰہی کی کیفیات کے مطابق انہیں اجر و ثواب سے نوازا جائے گا۔

سوال نمبر45: روزہ کی حفاظت کیسے ممکن ہے؟

جواب: اگر روزہ کو پورے احکام و آداب کی مکمل رعایت کے ساتھ پورا کیا جائے تو بلاشبہ گناہوں سے محفوظ رہنا آسان ہو جاتا ہے۔ البتہ اگر کسی نے روزہ کے لوازم کا خیال نہ کیا اور گناہوں میں مشغول رہتے ہوئے روزہ کی نیت کی کھانے پینے، خواہش نفسانی سے باز رہا لیکن حرام کمانے اور غیبت کرنے سے باز نہ آیا تو اس سے فرض ادا ہو جائیگا، مگر روزہ کے برکات و ثمرات سے محرومی رہے گی۔

حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

اَلصَّوْمُ جُنَّةٌ مَا لَمْ يَخْرِقْهَا.

’’روزہ ڈھال ہے جب تک اس کو پھاڑ نہ ڈالے۔‘‘

نسائی، السنن، 1: 167، رقم: 2233

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ لَّمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّوْرِ وَالْعَمَلَ بِهِ، فَلَيْسَ ِﷲِ حَاجَةٌ فِی اَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَ شَرَابَهُ.

’’جو شخص روزہ رکھ کر جھوٹی بات اور غلط کام نہ چھوڑے تو اللہ کو کچھ حاجت نہیں کہ وہ (گناہوں کو چھوڑے بغیر) محض کھانا پینا چھوڑ دے۔‘‘

بخاری، الصحيح، کتاب الصوم، باب من لم يدع قول الزور و العمل به فی الصوم، 2: 673، الرقم: 1804

کھانا پینا اور جنسی تعلقات چھوڑنے ہی سے روزہ کامل نہیں ہوتابلکہ روزہ کی حالت میں فواحش، منکرات اور ہر طرح کے گناہوں سے بچنا بھی ضروری ہے لہٰذا مندرجہ بالا احادیث سے ثابت ہوا:

  1. روزہ دار روزہ رکھ کر جھوٹ، غیبت، چغلی اور بدکلامی سے پرہیز کرے۔
  2. آنکھ کو مذموم و مکروہ اور ہر اس چیز سے بچائے جو یادِ الٰہی سے غافل کرتی ہو۔
  3. کان کو ہر ناجائز آواز سننے سے بچائے۔ اگر کسی مجلس میں غیبت ہوتی ہو تو انہیں منع کرے ورنہ وہاں سے اُٹھ جائے حدیث میں ہے کہ غیبت کرنے والا اور سننے والا دونوں گناہ میں شریک ہیں۔
  4. بوقت افطار اتنا نہ کھائے کہ پیٹ تن جائے۔
  5. افطار کے بعد دل خوف اور امید کے درمیان رہے کیا معلوم کہ اسکا روزہ قبول ہوا یا نہیں لیکن اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔

پس اعضاء کو گناہوں سے بچانا ہی درحقیقت روزہ کی حفاظت ہے۔

سوال نمبر 46: کون سی دو خوشیاں ہیں جو روزہ دار کو نصیب ہوتی ہیں؟

جواب: دوسری عبادات کے مقابلے میں روزہ وہ واحد عبادت ہے جس کے رکھنے والے کو بیک وقت دو خوشیاں نصیب ہوتی ہیں۔ حدیثِ مبارکہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا: إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ، وَ إِذَا لَقِيَ رَبَّهُ فَرِحَ بِصَوْمِهِ.

’’روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں، جن سے اسے فرحت ہوتی ہے: ایک (فرحتِ افطار) جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور دوسری (فرحتِ دیدار کہ) جب وہ اپنے رب سے ملے گا تو اپنے روزہ کے باعث خوش ہو گا۔‘‘

بخاری الصحيح، کتاب الصوم، باب هل يقول إنی صائم إذا شتم، 2: 673، رقم: 1805

سوال نمبر 47: جنت کا کون سا دروازہ ہے جس میں سے صرف روزہ دار ہی داخل ہوں گے؟

جواب: جنت میں بعض مخصوص اعمالِ صالحہ کے اعتبار سے آٹھ دروازے ہیں جو شخص دنیا میں خلوص نیت سے ان میں جس عملِ صالح کا بھی خوگر ہوگا وہ جنت میں اسی عمل کے دروازے سے جائے گا۔ ریان جنت کا وہ دروازہ ہے جس میں سے صرف روزہ دار ہی داخل ہوں گے جیسا کہ حضرت سہل بن سعد رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَهُ الرَّيَانُ، يَدْخُلُ مِنْهُ الصَّائِمُوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، لَا يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ، يُقَالُ: أَيْنَ الصَّائِمُوْنَ؟ فَيَقُوْمُوْنَ، لَا يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ، فَإِذَا دَخَلُوْا أُغْلِقْ، فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ أَحَدٌ.

’’جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے۔ روزِ قیامت اس میں روزہ دار داخل ہوں گے ان کے سوا اس دروازے سے کوئی اور داخل نہیں ہو گا۔ کہا جائے گا: روزہ دار کہاں ہیں؟ پس وہ کھڑے ہوں گے، ان کے علاوہ اس میں سے کوئی اور داخل نہیں ہو سکے گا، جب وہ داخل ہو جائیں گے تو اس دروازے کو بند کر دیا جائے گا۔ پھر کوئی اور اس سے داخل نہیں ہو سکے گا۔‘‘

بخاری، الصحيح، کتاب الصوم، باب الريان للصائمين، 2: 671، رقم: 1797

ریان کی وجہ تسمیہ کے بارے میں محدّث ملا علی قاری فرماتے ہیں:

یا تو وہ بنفسہ ریان ہے کیونکہ اس کی طرف کثیر نہریں جاری ہیں اور اس کے قریب تازہ اور سر سبز و شاداب پھل پھول بکثرت ہیں۔ یا قیامت کے دن اس کے ذریعے سے لوگوں کی پیاس مٹے گی اور ترو تازگی و نظافت چہرے پر ہمیشہ رہے گی۔

ملا علی قاری، مرقاة المفاتيح فی مشکاة المصابيح، 4: 230

اس انعام کا حقدار صرف رمضان کے روزے رکھنے والا ہی نہیں بلکہ کثرت سے نفلی روزے رکھنے والا بھی ہو گا۔

سوال نمبر 48: روزے کے باطنی و روحانی فوائد کیا ہیں؟

جواب: روزے کے باطنی اور روحانی فوائد درج ذیل ہیں:

  1. روزہ ضعیف روح اور بیمار قلب کے لئے ایک ایسی مجرب دوا ہے جس کے استعمال سے خصوصاً روح میں تقویت و شادابی اور تروتازگی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس طرح بندے کی طبیعت نیکیوں کی طرف مائل ہونے لگتی اور برائیوں کے خلاف نفرت پیدا ہوتی ہے۔
  2. روزہ صائم کو اس قابل بنا دیتا ہے کہ وہ حدود اﷲ اور احکامِ الٰہی کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال کر ایک کامیاب دینی زندگی گزار سکے۔
  3. روزہ دین کے ہر معاملے میں صائم کے اندر صبر و ثبات کی خوبیاں پیدا کرتا ہے جو اسے دین پر قائم رکھتی ہیں اور اﷲ تعالیٰ کے حکم سے انحراف نہیں کرنے دیتیں۔
  4. روزہ کی وجہ سے تزکیہ نفس اور تصفیہ باطن جیسے پاکیزہ اوصاف پیدا ہوتے ہیں۔
  5. روزہ دار کو آخرت میں اس نعمت غیر مترقبہ سے نوازا جائے گا۔ جس کے حصول کے لئے شہید بار بار اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کی آرزو کرے گا۔ روزہ گناہوں اور آگ سے حفاظت کا سبب بنتا ہے۔
  6. روح اور باطن کو ہر قسم کی آلائشوں سے مزکّٰی اور مصفّی کرنے کے لئے روزے سے بہتر اور کوئی عمل نہیں۔
  7. اللہ تعالیٰ ہر مومن کی ایک نیکی کا اجر 10 گنا سے بڑھا کر 700 گنا تک عطا فرماتا ہے۔ روزے کی جزا خود باری تعالیٰ دیتے ہیں۔

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَی سَبْعِمِائَة ضِعْفٍ مَاشَاء اﷲُ، يَقُوْلُ اﷲُ: إِلاَّ الصّوْمَ فَإِنَّهُ لِی وَ أَنَا أَجْزِی بِهِ.

’’بنی آدم کو ہر نیکی کا اجر دس گنا سے سات سو گنا تک عطا کیا جاتا ہے، جتنا اﷲ چاہے۔اﷲتعالیٰ فرماتا ہے: سوائے روزہ کے، کیونکہ وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔‘‘

ابن ماجه، السنن، کتاب الصيام، باب ما جاء فی فضل الصيام، 2: 305، رقم: 1638

سوال نمبر 49: روزے کے طبی فوائد کیا ہیں؟

جواب: قرآن حکیم میں ہے:

وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَيْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَo

’’اور تمہارا روزہ رکھ لینا تمہارے لئے بہتر ہے اگر تمہیں سمجھ ہو‘‘

البقرة، 2: 184

اگر ہم اس آیتِ مبارکہ میں بیان حقائق کا طبی نکتہ نظر سے مطالعہ کریں تو یہ واضع ہو جاتا ہے کہ روزہ عبادت کے ساتھ ساتھ صحتِ انسانی کے لئے مفید چیز ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ روزے سے جسم میں کوئی نقص یا کمزوری واقع نہیں ہوتی بلکہ روزہ رکھنے سے صرف دو کھانوں کا درمیانی وقفہ ہی معمول سے کچھ زیادہ ہوتا ہے اور درحقیقت 24 گھنٹوں میں جسم کو مجموعی طور پر اتنے حرارے (Calories) اور مائع (پانی) کی مقدار مل جاتی ہے جتنی روزے کے علاوہ دنوں میں ملتی ہے۔ مزید برآں یہ بات مشاہدہ میں آئی ہے کہ لوگ رمضان میں پروٹین اور کاربوہائیڈریٹ عام دنوں کے مقابلے میں زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ اس حقیقت کے پیشِ نظر یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ مجموعی غذائیت (حرارے) عا م دنوں کے مقابلے میں جسم کو اکثر زیادہ تعداد میں ملتے ہیں اس کے علاوہ جسم فاضل مادوں کو بھی استعمال کرکے توانائی کی ضرورت پوری کرتا ہے۔ روزے سے مندرجہ ذیل طبی فوائد حاصل ہوتے ہیں:

  1. روزہ سارے نظامِ ہضم کو ایک ماہ کے لئے آرام مہیا کر دیتا ہے۔ درحقیقت اس کا حیران کن اثر بطور خاص جگر پر ہوتا ہے کیونکہ جگر کھانا ہضم کرنے کے علاوہ پندرہ مزید اعمال بھی سرانجام دیتا ہے جس کی وجہ سے اس پر تھکن طاری ہو جاتی ہے۔ دوسری طرف روزہ کے ذریعے جگر کو چار سے چھ گھنٹوں تک آرام مل جاتا ہے جو روزہ کے بغیر قطعی ناممکن ہے۔ کیونکہ بے حد معمولی خوراک یہاں تک کہ ایک گرام کے دسویں حصے کے برابر بھی اگر معدہ میں داخل ہو جائے تو پورا نظامِ انہضام اپنا کام شروع کر دیتا ہے اور جگر فوراً مصروفِ عمل ہو جاتا ہے۔ سائنسی نقطہ نظر سے ماہرینِ طب کا دعویٰ ہے کہ اس آرام کا وقفہ ایک سال میں ایک ماہ ضرور ہونا چاہیے۔
  2. روزہ کے دوران خون کی مقدار میں کمی ہو جاتی ہے یہ اثر دل کو نہایت فائدہ مند آرام مہیا کرتا ہے۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ خلیوں کے درمیان (Inter Celluler) مائع کی مقدار میں کمی کی وجہ سے خلیوں کا عمل بڑی حد تک سکون آشنا ہو جاتا ہے۔ لعاب دار جھلی کی بالائی سطح سے متعلق خلیے جنہیں (Epitheliead) کہتے ہیں اور جو جسم کی رطوبت کے متواتر اخراج کے ذمہ دار ہوتے ہیں ان کو بھی صرف روزے کے ذریعے ہی آرام اور سکون ملتا ہے۔ اسی طرح سے ٹشو یعنی پٹھوں پر دباؤ کم ہو جاتا ہے۔ پٹھوں پر یہ ڈائسٹالک دباؤ دل کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ روزے کے دوران ڈائسٹالک پریشر ہمیشہ کم سطح پر ہوتا ہے یعنی اس وقت دل آرام کی صورت میں ہوتا ہے۔ مزید برآں آج کا انسان ماڈرن زندگی کے مخصوص حالات کی بدولت شدید تناؤ یا ٹینشن کا شکار ہے۔ رمضان کے ایک ماہ کے روزے بطور خاص ڈائسٹالک پر یشر کو کم کرکے انسان کو بہت زیادہ فائدہ پہنچاتے ہیں۔
  3. پھیپھڑے براہِ راست خون صاف کرتے ہیں اس لئے ان پر بلاواسطہ روزے کے اثرات پڑتے ہیں۔ اگر پھیپھڑوں میں خون منجمد ہو جائے تو روزے کی وجہ سے بہت جلد یہ شکایت رفع ہو جاتی ہے اس کا سبب یہ ہے کہ نالیاں صاف ہو جاتی ہیں۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ روزہ کی حالت میں پھیپھڑے فضلات کو بڑی تیزی کے ساتھ خارج کرتے ہیں اس سے خون اچھی طرح صاف ہونے لگتا ہے اور خون کی صفائی سے تمام نظامِ جسمانی میں صحت کی لہر دوڑ جاتی ہے۔
  4. روزے کے دوران جب خون میں غذائی مادے کم ترین سطح پر ہوتے ہیں تو ہڈیوں کا گودہ حرکت پذیر ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں لاغر لوگ روزے رکھ کر آسانی سے اپنے اندر زیادہ خون پیدا کرسکتے ہیں۔ روزے کے دوران جگر کو ضروری آرام اتنا مواد مہیا کر دیتا ہے جس سے بآسانی اور زیادہ مقدار میں خون پیدا ہو سکے۔
  5. خون میں سرخ ذرات کی تعداد زیادہ اور سفید ذرات کی تعداد کم پائی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق روزے میں حرارتِ جسمانی گر جاتی ہے لیکن جب اصلی بھوک عود کر آتی ہے۔ تو حالتِ جسمانی اصلی حالت کی طرف مائل ہو جاتی ہے اسی طرح جب روزہ کھولا جاتا ہے اور غذا استعمال ہوتی ہے تو حرارتِ جسمانی میں کسی قدر اضافہ ہو جاتا ہے روزہ رکھنے کے بعد خون کی صفائی کا عمل جاری ہو جاتا ہے۔ قلت الام (یمینا) کی حالت میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ خون کے سرخ خلیات کی تعداد میں ترقی ہو جاتی ہے ایک مشاہدہ کے مطابق معلوم ہوا کہ صرف 12 دن کے روزوں کے تسلسل کی وجہ سے خون کے خلیات کی تعداد 5 لاکھ سے بڑھ کر 36 لاکھ تک پہنچ گئی۔

سوال نمبر 50: اجتماعی افطاری کرنے کے کیا فوائد ہیں؟

جواب: حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

طَعَامُ الرَّجُلِ يَکْفِيْ رَجُلَيْنِ. وَطَعَامُ رَجُلَيْنِ يَکْفِيْ اَرْبَعَةً. وَطَعَامُ اَرْبَعَةٍ يَکْفِيْ ثَمَانِيَةً.

’’ایک آدمی کا کھانا دو آدمیوں کے لئے کافی ہے۔ دو آدمیوں کا کھانا چار کے لئے کافی ہوتا ہے اور چار کا کھانا آٹھ کے لئے کافی ہے۔‘‘

مسلم، الصحيح، کتاب الاشربة، باب: فضيلة المواساة فی الطعام القليل، 3: 1630، رقم: 2059

اجتماعی افطاری میں یہ فلسفہ پنہاں ہے کہ اس سے شخصی و طبقاتی امتیاز ختم ہو جاتا ہے آپس میں پیار، محبت اور ایثار و قربانی کی فضا پیدا ہوتی ہے اور روزہ دار کی افطاری کروانے سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضا و خوشنودی حاصل ہوتی ہے جیسا کہ درج ذیل حدیث مبارکہ سے ثابت ہے:

حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’رمضان ایسا مہینہ ہے جس میں رزق بڑھا دیا جاتا ہے اور جو اس میں کسی روزہ دار کو افطار کروائے اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، اس کی گردن آگ سے آزاد کر دی جاتی ہے، اس کو بھی روزہ دار جتنا ثواب ملتا ہے اور اس سے روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔ صحابہ کرام نے عرض کیا: یا رسول اﷲ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم میں سے ہر ایک افطار نہیں کروا سکتا۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اﷲ تعالیٰ اس شخص کو بھی یہ ثواب عطا فرماتا ہے جو ایک گھونٹ دودھ، ایک کھجور یا ایک گھونٹ پانی سے بھی کسی کا روزہ افطار کرواتا ہے۔‘‘

ابن خزيمة، الصحيح، 3: 192، رقم: 1887

سوال نمبر 51: کھجور سے روزہ افطار کرنے میں کیا حکمت ہے؟

جواب: کھجور سے روزہ افطار کرنے میں یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ کھجور غذائیت سے بھرپور پھل ہے۔ اس سے جسمانی توانائی حاصل ہوتی ہے۔ روزے سے جسمانی توانائی میں کمی ہو جاتی ہے اور اس وقت ایسی غذا کی ضرورت ہوتی ہے جس کے کھانے سے جسم کی توانائی بحال ہو جائے۔ اس صورت میں کھجور توانائی اور شکر کی کمی کو پورا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ کھجور کا تذکرہ اﷲ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں متعدد مقامات پر مختلف حوالوں سے فرمایا ہے۔ اسی طرح احادیث میں بھی کھجور کی افادیت، غذائی اہمیت اور طبی فوائد بیان کئے گئے ہیں۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم (مغرب) کی نماز سے پہلے چند تر کھجوروں سے روزہ افطار فرماتے تھے۔ اگر تر کھجوریں بروقت میسر نہ ہوتیں تو خشک کھجوروں (چھوہاروں) سے افطار فرماتے تھے اور اگر خشک کھجوریں بھی نہ ہوتیں تو چند گھونٹ پانی پی لیتے تھے۔

ترمذی، السنن، ابواب الصوم، باب ما جاء ما يستحب عليه الإفطار، 2: 73، رقم: 696

آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس عمل کو اگر سائنسی نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جب ہم کھجور سے افطاری کرتے ہیں تو اس کی مٹھاس منہ کی لعاب دار جھلی میں فوری جذب ہو کر گلوکوز میں تبدیل ہو جاتی ہے جس سے جسم میں حرارت اور توانائی بحال ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس اگر تلی ہوئی یا مرغن چٹخارے دار چیزیں استعمال کی جائیں تو اس سے معدے میں حدت اور کثرتِ تیزابیت کے باعث سینے کی جلن اور بار بار پیاس لگتی ہے۔ جس سے Digestive Enzymes تحلیل ہو جاتے ہیں جو معدے کی دیواروں کو کمزور کرتے ہیں اور تبخیر کا سبب بنتے ہیں جبکہ کھجور سے افطاری کرنے کی صورت میں نہ تو معدے پر بوجھ پڑتا ہے اور نہ ہی معدے میں Hydrochlooric Acid کی زیادتی ہو کر تبخیر کی صورت پیدا ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں کھجور میں بے شمار طبی فوائد ہیں مثلًا بلغم اور سردی کے اثر سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے بچاتی ہے۔ ضعفِ دماغ رفع کرتی اور نسیان کو دور کرتی ہے۔ قلب کو تقویت و فرحت بخشتی اور بدن میں خون کی کمی یعنی  صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم nemia کو دور کرتی ہے۔ گردوں کو قوت دیتی، امراض تنفس میں بالعموم اور دمہ میں مفید و مؤثر ہے۔

عربوں میں ایک پرانی کہاوت ہے کہ سال میں جتنے دن ہوتے ہیں اتنے ہی کھجور کے استعمال اور فوائد ہیں۔

سوال نمبر 52: روزہ شوگر (Diabetes) کو کنٹرول کرنے میں کیا کردار ادا کرتا ہے؟

جواب: روزہ بیاطیس کے مرض یعنی شوگر کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے جبکہ عام لوگوں کو اندیشہ ہوتا ہے کہ اگر شوگر کا مریض روزہ رکھ لے تو اسے کہیں پریشان کن حالت سے دوچار نہ ہونا پڑے۔ بعض لوگ جسم میں پانی کی کمی یا شوگر لیول (Sugar Level) حد اعتدال سے گرنے کے احتمال کو اپنے ذہن پر سوار کر لیتے ہیں حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ البتہ شدتِ مرض کی صورت میں صورت حال مختلف ہوسکتی ہے شدتِ مرض کی حالت میں روزہ نہ رکھنے کی اللہ رب العزت نے اجازت دی ہے جیسا کہ قرآن حکیم میں ہے:

وَمَنْ کَانَ مَرِيْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَيَامٍ اُخَرَط يُرِيْدُ اﷲُ بِکُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ.

’’اور جو کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں (کے روزوں) سے گنتی پوری کرے، اﷲ تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لئے دشواری نہیں چاہتا۔‘‘

البقرة، 2: 185

ماہرینِ طب کی رائے میں ایسے اشخاص جو روزہ دار نہ ہوں، کا شوگر لیول اتار چڑھاؤ کا شکار رہتا ہے جبکہ روزہ دار مریض کا شوگر لیول نارمل رہتا ہے کیونکہ روزہ مریض اور معالج کے لئے کسی قسم کی مشکلات یا پریشانی پیدا نہیں کرتا۔ مزید برآں اگر رمضان المبارک کے علاوہ بھی یہ طریقہ اپنایا جائے تو اس سے نہ صرف شوگر لیول کنٹرول ہوگا بلکہ شوگر لیول میں عدم تنظیم کی بناء پر جو نقاہت و کمزوری ہوا کرتی ہے۔ اس سے بھی محفوظ رہے گا روزہ کے سبب شوگر میں مبتلا شخص کی قوتِ مدافعت بڑھتی ہے لہٰذا اس سے شوگر کے باعث ہونے والی دماغی سوزش، کالا موتیا، اندھا پن، جگر اور گردوں کی خرابی کے خدشات بھی بڑی حد تک معدوم ہو جاتے ہیں۔

سوال نمبر 53: کیا روزہ موٹاپے میں کمی کا باعث بنتا ہے؟

جواب: جی ہاں! روزہ موٹاپے میں کمی کا باعث بنتا ہے۔ بشرطیکہ اس حکم خداوندی کو یاد رکھا جائے۔

کُلُوْا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوْا.

’’کھاؤ اور پیؤ اور حد سے زیادہ خرچ نہ کرو۔‘‘

الاعراف، 8: 31

اس آیتِ قرآنی میں تلقین کی گئی ہے کہ کھانے پینے میں زیادتی نہ کرو موٹا شخص سحری اور افطاری کے اوقات میں اس بات پر عمل کرے تو یقینا موٹاپے پر قابو پا سکتا ہے۔ انسانی جسم میں اگر چربی یا روغنی خلیات مقدار اور جسامت میں بڑھ جائیں تو موٹاپا لاحق ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کے خون میں Fatty Acid اور مختلف قسم کے چربیلے اجزاء Cholestrol اور Triacylglycrel میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

ایسے لوگ خواہ غذا لیں یا نہ لیں ایک بار مرض آجائے تو اس سے نجات مشکل ہو جاتی ہے۔ بلکہ بسیار خوری دوسرے امراض کو دعوت دیتی ہے۔ اسی لئے موٹاپا کو ام الامراض کہا جاتا ہے لہٰذا شحمی خلیوں (Adipose Cells) کو کنٹرول میں رکھنا بہت ضروری ہے۔ اس کا بہترین ذریعہ روزہ ہے اور مسلسل روزے رکھنے کے لئے ماہ رمضان ایک ریفرشر کورس یعنی تربیت کا مہینہ ہے۔ جس میں جملہ معمولات زندگی میں یکسر تبدیلی آجاتی ہے۔ روزہ نہ صرف خواہشاتِ نفس بلکہ بھوک اور پیاس میں صبر کی بھی تلقین کرتا ہے۔ لہٰذا ماہِ صیام میں انسان اپنی خواہشات کو قابو میں رکھتے ہوئے غذائی معاملہ میں اپنے آپ کو ایک ایسے تربیتی مرحلے سے گزارتا ہے جس سے انسانی Lipostat میں ایک امید افزا مستقل تبدیلی رونما ہو جاتی ہے۔

سوال نمبر 54: روزہ کس طرح سرطان (Cancer) کی روک تھام میں مدد دیتا ہے؟

جواب: حال ہی میں کی گئی تحقیق کے مطابق روزہ سرطان (Cancer) کی روک تھام میں مدد دیتا ہے اور یہ جسم میں کینسر کے خلیوں کی افزائش کو روکتا ہے۔ روزے کی حالت میں جسم میں Glucose کی مقدار کم ہو جاتی ہے چونکہ جسم کو کسی بھی مشین کی طرح ایندھن (Fuel) کی ضرورت ہوتی ہے۔ گلوکوز کی کمی کے باعث جسم توانائی کے حصول کے لئے چربی کا استعمال کرتا ہے اس عمل میں Ketone Bodies بھی پیدا ہوتی ہے جو پروٹین کو چھوٹے چھوٹے ذرات میں توڑنے کا عمل روکتی ہے۔ کینسر کے خلیوں کو اپنی نشوونما کے لئے پروٹین کے چھوٹے ذرات کی ضرورت ہوتی ہے۔ روزے کی حالت میں ذرات کم پیدا ہوتے ہیں۔ اس لئے روزہ کی حالت میں کینسر سے تحفظ ملتا ہے۔

سوال نمبر55: کیا روزہ سگریٹ نوشی سے نجات کا ذریعہ ہے؟

جواب: جی ہاں! روزہ سگریٹ نوشی سے نجات کا ذریعہ ہے۔ ہر سلیم الفطرت آدمی اچھی اور بری چیز کو جانتا ہے لیکن بہت سے لوگوں کے ارادے کی کمزوری پرخطر لذت کوشی کا سبب بنتی ہے۔ روزہ آدمی کے اندر صبر اور قوتِ ارادہ پیدا کرتا ہے۔ جرمنی کے سکالر ’جیہاڈٹ‘ نے قوت ارادہ پر ایک کتاب لکھی ہے۔ اس میں اس نے روزے کو قوتِ ارادہ پیدا کرنے کے لئے ایک بنیادی عمل قرار دیا۔ اس نے کتابِ مذکور میں ان لوگوں کی مثال دی ہے جنہوں نے روزہ رکھنے کی وجہ سے سگریٹ نوشی چھوڑی۔ اس بات سے تو سب ہی لوگ آگاہ ہیں کہ عادی سگریٹ نوش روزے کی حالت میں دن بھر میں تقریباً تیرہ چودہ گھنٹے تک سگریٹ نہیں پیتا۔ اس طرح روزے دار کی طبیعت میں ایک ایسا ڈسپلن وجود پاتا ہے جس سے وہ سگریٹ نوشی سے ہمیشہ کے لئے نجات حاصل کر سکتا ہے۔

سوال نمبر 56: روزے سے ہمیں کیا سبق حاصل ہوتا ہے؟

جواب: روزہ سے ہمیں اطاعت الٰہی، تزکیہ نفس، اخوت اور ہمدردی کا سبق ملتا ہے مثلًا روزہ دار اﷲ تعالیٰ کے حکم سے حالتِ روزہ میں ایک خاص وقت پر کھانے پینے اور جائز خواہشات سے رک جاتا ہے۔ اپنی ایسی بنیادی ضروریات کو اطاعت الٰہی کی خاطر اپنے اوپر حرام کر لیتا ہے جن کو پورا کرنا دوسرے اوقات میں نہ صرف جائز بلکہ فرض ہوتا ہے۔ روزہ ہمارے اندر یہ بات راسخ کر دیتا ہے کہ اصل چیز اطاعتِ الٰہی ہے اور یہ کہ صرف حکم الٰہی ہی کسی چیز کے درست اور غلط ہونے کے لئے آخری سند ہے اور حق بندگی کا یہ سبق ہمیں روزہ سے حاصل ہوتا ہے۔ اسی طرح غریبوں کی تکلیفوں، ان کے فقر و فاقہ اور تنگ دستی کا احساس بھی حالتِ روزہ میں ہوتا ہے۔ جب روزہ دار خود سارا دن بھوکا

پیاسا رہتا ہے تو اس کے اندر ایسے لوگوں کے بارے میں ہمدردی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں جو مستقل فقر و فاقہ سے دو چار رہتے ہیں چنانچہ روزہ دار اپنی بساط کے مطابق ان کے دکھوں کا مداوا اور ان کی تکلیفوں کو دور کرنے میں تعاون کرتا ہے۔ اس لئے مومنوں کا وصف یہ بیان کیا گیا ہے کہ سب مسلمان نفس واحد کی طرح ہیں اگر اس کی آنکھ میں درت ہوتا ہے تو اس کا سارا جسم درد محسوس کرتا ہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved